Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 17 · Chapter 2

Book of Marriage

Hadith 1849–1888

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

1849

Sahih Ibn Hibban #1849

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، انْصَرَفَ مِنْ صَلاةٍ جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ ، فَقَالَ : هَلْ قَرَأَ أَحَدٌ مِنْكُمْ آنِفًا ؟ " . فَقَالَ رَجُلٌ : نَعَمْ ، أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّيأَقُولُ : مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ ؟ "فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ فِيمَا جَهَرَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : اسْمُ ابْنِ أُكَيْمَةَ : عَمْرُو بْنُ مُسْلِمِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ أُكَيْمَةَ ، وَهُمَا أَخَوَانِ : عَمْرُو بْنُ مُسْلِمٍ ، وَعُمَرُ بْنُ مُسْلِمٍ ، فَأَمَّا عَمْرُو بْنُ مُسْلِمٍ ، فَهُوَ تَابِعِيٌّ ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَسَمِعَ مِنْهُ الزُّهْرِيُّ . وَأَمَّا عُمَرُ بْنُ مُسْلِمٍ ، فَهُوَ مِنْ أَتْبَاعِ التَّابِعِينَ ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، وَرَوَى عَنْهُ مَالِكٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، وَهُمَا ثِقَتَانِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز سے فارغ ہوئے جس میں آپ نے بلند آواز میں قرأت کی تھی، پھر آپ نے دریافت فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی نے ابھی تلاوت کی ہے؟“ ایک شخص نے عرض کی: جی ہاں! یا رسول اللہ! میں نے کی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بھی سوچ رہا تھا کیا وجہ ہے، قرآن (کی تلاوت) کے حوالے سے مجھ سے مقابلہ کیا جا رہا ہے؟“ پھر لوگ ان نمازوں میں قرأت کرنے سے رک گئے جن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بلند آواز میں تلاوت کیا کرتے تھے، یہ اس وقت ہوا جب انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابن اکیمہ کا نام عمرو بن مسلم بن عمار بن اکیمہ ہے، یہ دو بھائی ہیں: عمرو بن مسلم اور عمر بن مسلم؛ جہاں تک عمرو بن مسلم کا تعلق ہے تو وہ تابعی ہیں، انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہے اور زہری نے ان سے سماع کیا ہے، جہاں تک عمر بن مسلم کا تعلق ہے تو وہ تبع تابعی ہیں، انہوں نے سعید بن مسیب سے سماع کیا ہے اور ان سے امام مالک اور محمد بن عمرو نے روایات نقل کی ہیں، یہ دونوں ”ثقہ“ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1849]

1850

Sahih Ibn Hibban #1850

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ يُونُسَ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، شَيْخٌ بِكُفْرِتُوثَا ، مِنْ دِيَارِ رَبِيعَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ زُرَيْقٍ الرَّسْعَنِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةً ، فَجَهَرَ فِيهَا فَقَرَأَ أُنَاسٌ مَعَهُ ، فَلَمَّا سَلَّمَ ، قَالَ : قَرَأَ مِنْكُمْ أَحَدٌ ؟ " . قَالُوا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " إِنِّيلأَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ ؟ ". قَالَ : فَاتَّعَظَ الْمُسْلِمُونَ بِذَلِكَ ، فَلَمْ يَكُونُوا يَقْرَءُونَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نماز پڑھائی، اس میں بلند آواز میں قراءت فرمائی۔ کچھ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں تلاوت کی۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی ایک نے ابھی تلاوت کی ہے؟“ تو لوگوں نے عرض کی: ”جی ہاں، یا رسول اللہ!“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بھی سوچ رہا تھا کہ کیا وجہ ہے، (قرآن کی تلاوت) میں میرے ساتھ مقابلہ کیا جا رہا ہے۔“ راوی کہتے ہیں: انہوں نے اس سے نصیحت حاصل کی اور (اس کے بعد لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں) تلاوت نہیں کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1850]

1851

Sahih Ibn Hibban #1851

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنا الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَنْ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةً ، فَجَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ ، فَلَمَّا سَلَّمَ ، قَالَ : هَلْ قَرَأَ مَعِي مِنْكُمْ أَحَدٌ آنِفًا ؟ " . قَالُوا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " إِنِّيأَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ ؟ ". قَالَ الزُّهْرِيُّ : فَانْتَهَى الْمُسْلِمُونَ ، فَلَمْ يَكُونُوا يَقْرَءُونَ مَعَهُ . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَذَا خَبَرٌ مَشْهُورٌ لِلزُّهْرِيِّ مِنْ رِوَايَةِ أَصْحَابِهِ ، عَنِ ابْنِ أُكَيْمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَوَهِمَ فِيهِ الأَوْزَاعِيُّ - إِذِ الْجَوَادُ يَعْثُرُ - فَقَالَ : عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، فَعَلِمَ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، أَنَّهُ وَهِمَ ، فَقَالَ : عَنْ مَنْ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ وَلَمْ يَذْكُرْ سَعِيدًا . وَأَمَّا قَوْلُ الزُّهْرِيِّ : فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ ، أَرَادَ بِهِ رَفْعَ الصَّوْتِ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، اتِّبَاعًا مِنْهُمْ لِزَجْرِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَفْعِ الصَّوْتِ وَالإِمَامُ يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ فِي قَوْلِهِ : مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ ؟"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز میں قرأت کی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو دریافت فرمایا: ”کیا ابھی تم میں سے کسی نے میرے ساتھ تلاوت کی ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں، یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بھی سوچ رہا تھا کہ کیا وجہ ہے، قرآن (کی تلاوت) میں میرے ساتھ مقابلہ کیا جا رہا ہے۔“ زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: مسلمان اس سے باز آ گئے اور وہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں تلاوت نہیں کیا کرتے تھے۔ امام ابو حاتم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: یہ روایت زہری سے منقول ہونے کے حوالے سے مشہور ہے جو ان کے اصحاب نے ابن اکیمہ کے حوالے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے، اس میں امام اوزاعی رحمہ اللہ کو وہم ہوا ہے کیونکہ گھوڑا بھی ٹھوکر کھا جاتا ہے، انہوں نے یہ کہا: یہ زہری کے حوالے سے سعید بن مسیب سے منقول ہے، ولید بن مسلم یہ بات جانتے تھے کہ انہیں وہم ہوا ہے، اس لیے انہوں نے یہ کہا: یہ اس شخص کے حوالے سے منقول ہے جس نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسے سنا ہے، انہوں نے سعید کا تذکرہ نہیں کیا، جہاں تک زہری کے اس قول کا تعلق ہے کہ ”لوگ قرأت کرنے سے باز آ گئے“ تو اس سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت کی پیروی کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بلند آواز میں تلاوت نہیں کی، جب امام بلند آواز میں قرأت کر رہا ہو، اس کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان میں ہے: ”کیا وجہ ہے کہ قرآن میں میرے ساتھ تنازع کیا جا رہا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1851]

1852

Sahih Ibn Hibban #1852

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا فَرَحُ بْنُ رَوَاحَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، صَلَّى بِأَصْحَابِهِ ، فَلَمَّا قَضَى صَلاتَهُ ، أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ بِوَجْهِهِ ، فَقَالَ : أَتَقْرَءُونَ فِي صَلاتِكُمْ خَلْفَ الإِمَامِ ، وَالإِمَامُ يَقْرَأُ ؟ " . فَسَكَتُوا ، قَالَهَا ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، فَقَالَ قَائِلٌ ، أَوْ قَائِلُونَ : إِنَّا لَنَفْعَلُ . قَالَ : " فَلا تَفْعَلُوا ، وَلْيَقْرَأْ أَحَدُكُمْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِي نَفْسِهِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ أَبُو قِلابَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَسَمِعَهُ مِنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، فَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو نماز پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف رخ کیا اور دریافت فرمایا: ”کیا تم لوگ اپنی نماز میں امام کے پیچھے تلاوت کرتے ہو جبکہ امام قرأت کر رہا ہو؟“ تو لوگ خاموش رہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی تو ایک صاحب نے (یا شاید لوگوں نے) عرض کی: جی ہاں، ہم ایسا کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ایسا نہ کرو، تم میں سے ہر شخص دل میں سورۃ فاتحہ پڑھ لے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوقلابہ نے یہ روایت محمد بن ابوعائشہ سے سنی ہے، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی سے منقول ہے، انہوں نے یہ روایت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بھی سنی ہے، تو یہ دونوں طرق محفوظ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1852]

1853

Sahih Ibn Hibban #1853

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَطَاءً ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : فِي كُلِّ صَلاةٍ قِرَاءَةٌ " ، فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ ، وَمَا أَخْفَى عَلَيْنَا أَخْفَيْنَا عَنْكُمْ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”ہر نماز میں قرأت ہوتی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جس میں ہمیں سنا دیتے تھے ہم تمہیں سنا دیتے ہیں اور جس میں آپ ہم سے پوشیدہ رکھتے تھے ہم تم سے پوشیدہ رکھتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1853]

1854

Sahih Ibn Hibban #1854

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ قَزَعَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ عَنْ صَلاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَيْسَ لَكَ فِي ذَلِكَ خَيْرٌ ، كَانَتِالصَّلاةُ تُقَامُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَخْرُجُ أَحَدُنَا إِلَى الْبَقِيعِ لِيَقْضُيَ حَاجَتَهُ ، ثُمَّ يَجِيءُ ، فَيَتَوَضَّأُ ، فَيَجِدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى مِنَ الظُّهْرِ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قزعہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے فرمایا: اس میں تمہارے لیے بھلائی نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نماز کی اقامت کہہ دی جاتی تھی، پھر ہم میں سے کوئی ایک شخص قضائے حاجت کرنے کے لیے بقیع (کے میدان) کی طرف چلا جاتا تھا، پھر وہ واپس آتا، وضو کر لیتا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ظہر کی نماز کی پہلی رکعت ہی میں پا لیتا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1854]

1855

Sahih Ibn Hibban #1855

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُطِيلُ فِي أَوَّلِ الرَّكْعَتَيْنِ مِنَ الْفَجْرِ وَالظُّهْرِ ". وَقَالَ : كُنَّا نَرَى أَنَّهُ يَفْعَلُ ذَلِكَ لِيَتَدَارَكَ النَّاسُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر اور ظہر کی پہلی دو رکعتیں طویل ادا کیا کرتے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا اس لیے کرتے تھے تاکہ لوگ (باجماعت نماز میں) شریک ہو جائیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1855]

1856

Sahih Ibn Hibban #1856

أَخْبَرَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَنَدِيُّ ، بِمَكَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زِيَادٍ اللَّحْجِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو قُرَّةَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَخَفَّ النَّاسِ صَلاةً فِي تَمَامٍ ". يُرِيدُ أَخَفَّ النَّاسِ صَلاةً فِيمَا اعْتَادَهَا النَّاسُ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ ، عَلَى حَسْبِ عَادَةِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلاتِهِ . وَأَمَّا خَبَرُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : فَيَخْرُجُ أَحَدُنَا إِلَى الْبَقِيعِ لِيَقْضِيَ حَاجَتَهُ ، ثُمَّ يَجِيءُ فَيَتَوَضَّأُ ، فَيَجِدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى مِنَ الظُّهْرِ ، إِنَّمَا كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَتَلاحَقَ النَّاسُ فَيَشْهَدُوا الصَّلاةَ ، وَلا يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ ، إِنَّمَا كَانَ يَفْعَلُهُ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى فَقَطْ ، وَفِيهِ كَالدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْمُدْرِكَ لِلرُّكُوعِ مُدْرِكٌ لِلتَّكْبِيرَةِ الأُولَى"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکمل لیکن سب سے زیادہ مختصر نماز ادا کرتے تھے۔ اس سے ان کی مراد یہ ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس زمانے میں لوگوں کی عام عادت کے حوالے سے مختصر نماز ادا کرتے تھے، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عام عادت کے مطابق ہوتی تھی۔ جہاں تک سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت کا تعلق ہے وہ کہتے ہیں: ہم میں سے کوئی ایک شخص قضائے حاجت کے لیے بقیع کی طرف چلا جاتا اور پھر وہ آ کر وضو کرتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ظہر کی نماز کی پہلی رکعت میں پا لیتا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا اس لیے کرتے تھے تاکہ لوگ بھی آ کر نماز میں شامل ہو جائیں، آپ ہر رکعت میں ایسا نہیں کرتے تھے۔ آپ صرف پہلی رکعت میں ایسا کرتے تھے۔ اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے، رکوع کو پانے والا تکبیرِ اولیٰ کو پانے والا شمار ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1856]

1857

Sahih Ibn Hibban #1857

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَقْرَأُ بِنَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ ، وَيُطِيلُ فِي الأُولَى ، وَيُقَصِّرُ فِي الثَّانِيَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ظہر کی نماز پڑھاتے ہوئے پہلی دو رکعتوں میں تلاوت کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی رکعت کو طویل ادا کرتے تھے اور دوسری کو (نسبتاً) مختصر ادا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1857]

1858

Sahih Ibn Hibban #1858

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : كُنَّا نَحْزِرُ قِيَامَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ ، وَالْعَصْرِ ،فَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ قَدْرَ ثَلاثِينَ آيَةً ، وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُخْرَيَيْنِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ ، وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَى قَدْرِ الأُخْرَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ ، وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الأُخْرَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُ أَبِي سَعِيدٍ ، فَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ قَدْرَ ثَلاثِينَ آيَةً ، يُضَادُّ فِي الظَّاهِرِ قَوْلَ أَبِي قَتَادَةَ : وَيُطِيلُ فِي الأُولَى ، وَيُقَصِّرُ فِي الثَّانِيَةِ ، وَلَيْسَ بِحَمْدِ اللَّهِ وَمَنِّهِ كَذَلِكَ ، لأَنَّ الرَّكْعَةَ الأُولَى كَانَ يَقْرَأُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا ثَلاثِينَ آيَةً بِالتَّرْسِيلِ ، وَالتَّرْتِيلِ ، وَالتَّرْجِيعِ ، وَالرَّكْعَةَ الثَّانِيَةَ كَانَ يَقْرَأُ فِيهَا مِثْلَ قِرَاءَتِهِ فِي الأُولَى ، بِلا تَرْسِيلٍ وَلا تَرْجِيعٍ ، فَتَكُونُ الْقِرَاءَتَانِ وَاحِدَةٌ ، وَالأُولَى أَطْوَلُ مِنَ الثَّانِيَةِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہر اور عصر کی نماز میں قیام کا اندازہ لگاتے تھے، تو ہم نے یہ اندازہ لگایا کہ ظہر کی نماز کی پہلی دو رکعات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام 30 آیات کی تلاوت جتنا ہوتا تھا اور آخری دو رکعات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کے بارے میں ہم نے اندازہ لگایا کہ وہ اس سے نصف ہوتا تھا، اور عصر کی نماز کی پہلی دو رکعات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کے بارے میں ہم نے یہ اندازہ لگایا کہ وہ ظہر کی آخری دو رکعات جتنا ہوتا تھا اور عصر کی نماز کی آخری دو رکعات کے بارے میں ہم نے اندازہ لگایا کہ وہ اس سے نصف ہوتا تھا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا کہ ہم نے اندازہ لگایا، پہلی دو رکعات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام تیس آیات کی تلاوت جتنا ہوتا تھا، یہ روایت بظاہر سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے اس قول کے برخلاف ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہلی رکعت طویل ادا کرتے تھے اور دوسری رکعت مختصر ادا کرتے تھے، حالانکہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ! ایسا نہیں ہے؛ کیونکہ پہلی رکعت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تیس آیات ٹھہر ٹھہر کر ترتیل اور ترجیع کے ہمراہ پڑھتے تھے اور دوسری رکعت میں اتنی ہی آیات ترتیل اور ترجیع کے بغیر پڑھتے تھے، تو قرأت ایک جتنی ہوتی تھی لیکن پہلی رکعت دوسری سے طویل ہوتی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1858]

1859

Sahih Ibn Hibban #1859

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، إِذْ جَاءَهُ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ يَشْكُونَ سَعْدًا ، حَتَّى قَالُوا لَهُ : إِنَّهُ لا يُحْسِنُ الصَّلاةَ ، فَقَالَ : عَهْدِي بِهِ وَهُوَ حَسَنُ الصَّلاةِ . فَدَعَاهُ فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ : أَمَّا صَلاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدْ صَلَّيْتُ بِهِمْ ،أَرْكُدُ فِي الأُولَيَيْنِ ، وَأَحْذِفُ فِي الأُخْرَيَيْنِ ". فَقَالَ : ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ أَبَا إِسْحَاقَ . فَبَعَثَ مَعَهُ مَنْ يَسْأَلُ عَنْهُ بِالْكُوفَةِ ، فَطِيفَ بِهِ فِي مَسَاجِدِ الْكُوفَةِ ، فَلَمْ يُقَلْ لَهُ إِلا خَيْرٌ حَتَّى انْتَهَى إِلَى مَسْجِدِ بَنِي عَبْسٍ ، فَإِذَا رَجُلٌ يُدْعَى أَبَا سَعْدَةَ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ إِنَّهُ كَانَ لا يَنْفِرُ فِي السَّرِيَّةِ ، وَلا يَقْسِمُ بِالسَّوِيَّةِ ، وَلا يَعْدِلُ فِي الْقَضِيَّةِ . قَالَ : فَغَضِبَ سَعْدٌ ، وَقَالَ : اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ كَاذِبًا فَأَطِلْ عُمْرَهُ ، وَشَدِّدْ فَقْرَهُ ، وَاعْرِضْ عَلَيْهِ الْفِتَنَ . قَالَ : فَزَعَمَ ابْنُ عُمَيْرٍ أَنَّهُ رَآهُ قَدْ سَقَطَ حَاجِبَاهُ عَلَى عَيْنَيْهِ ، قَدِ افْتَقَرَ ، وَافْتُتِنَ ، فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا ، يُسْأَلُ كَيْفَ أَنْتَ أَبَا سَعْدَةَ ؟ فَيَقُولُ : شَيْخٌ كَبِيرٌ مَفْتُونٌ ، أُجِيبَتْ فِيَّ دَعْوَةُ سَعْدٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اسی دوران اہل کوفہ سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی شکایت کی، یہاں تک کہ انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ کہا کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ اچھی طرح نماز نہیں پڑھاتے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بولے کہ کچھ عرصہ پہلے تک تو وہ بہت عمدہ نماز ادا کیا کرتے تھے، انہوں نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان کو اس بارے میں بتایا تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ”جہاں تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا تعلق ہے، میں ان لوگوں کو وہ نماز (یعنی اس طریقے کے مطابق نماز) پڑھاتا ہوں، میں پہلی دو رکعتیں طویل ادا کرتا ہوں اور آخری دو رکعات نسبتاً مختصر ادا کرتا ہوں،“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے ابواسحاق! آپ کے بارے میں میرا یہی گمان تھا،“ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے ہمراہ ایک ایسے شخص کو بھیجا جو ان کے بارے میں کوفہ میں دریافت کرے، اس نے کوفہ کی تمام مساجد کا چکر لگایا اور ہر شخص نے ان کے بارے میں بھلائی کی بات کہی، یہاں تک کہ جب وہ بنو عبس کی مسجد کے قریب پہنچے تو وہاں ایک شخص تھا جس کا نام ابوسعدہ تھا، وہ بولا: اللہ جانتا ہے کہ یہ کسی جنگی مہم کے لیے نہیں نکلتے اور (مالِ غنیمت کو) برابری کی بنیاد پر تقسیم نہیں کرتے اور فیصلہ کرتے ہوئے انصاف سے کام نہیں لیتے، راوی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ غصے میں آ گئے اور بولے: «اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ عَبْدُكَ هَذَا كَاذِبًا، فَأَطِلْ عُمْرَهُ، وَأَطِلْ فَقْرَهُ، وَعَرِّضْهُ لِلْفِتَنِ» ”اے اللہ! اگر یہ شخص جھوٹا ہے، تو اس کی عمر کو لمبا کر دے اور اس کی غربت کو شدید کر دے اور اس پر آزمائش ڈال دے،“ راوی کہتے ہیں کہ عمیر نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے، انہوں نے اس شخص کو دیکھا کہ عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے اس کی بھنویں اس کی آنکھوں پر آ رہی تھیں، وہ انتہائی غریب تھا اور آزمائش میں مبتلا ہو گیا تھا لیکن اسے کوئی چیز نہیں ملتی تھی، اس سے دریافت کیا گیا: اے ابوسعدہ! تمہارا کیا حال ہے؟ تو وہ کہتا تھا: ایک عمر رسیدہ بوڑھا شخص جو آزمائش کا شکار ہے، میرے بارے میں سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی بددعا قبول ہو گئی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1859]

1860

Sahih Ibn Hibban #1860

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيَّ ، أَخْبَرَهُ قَالَ : قُلْتُ : لأَنْظُرَنَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي ، فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ حِينَقَامَ ، فَكَبَّرَ ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا أُذُنَيْهِ ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى ظَهْرِ كَفِّهِ الْيُسْرَى ، وَالرُّسْغِ ، وَالسَّاعِدِ ، ثُمَّ لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ مِثْلَهَا ، ثُمَّ رَكَعَ ، فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَرَفَعَ يَدَيْهِ مِثْلَهَا ، ثُمَّ سَجَدَ ، فَجَعَلَ كَفَّيْهِ بِحِذَاءِ أُذُنَيْهِ ، ثُمَّ جَلَسَ فَافْتَرَشَ فَخِذَهُ الْيُسْرَى ، وَجَعَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ ، وَرُكْبَتِهِ الْيُسْرَى ، وَجَعَلَ حَدَّ مِرْفَقِهِ الأَيْمَنِ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى ، وَعَقَدَ ثِنْتَيْنِ مِنْ أَصَابِعِهِ ، وَحَلَّقَ حَلْقَةً ، ثُمَّ رَفَعَ إِصْبَعَهُ ، فَرَأَيْتُهُ يُحَرِّكُهَا يَدْعُو بِهَا ، ثُمَّ جِئْتُ بَعْدَ ذَلِكَ فِي زَمَانٍ فِيهِ بَرْدٌ ، فَرَأَيْتُ النَّاسَ عَلَيْهِمْ جُلُّ الثِّيَابِ تَتَحَرَّكُ أَيْدِيهِمْ تَحْتَ الثِّيَابِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا وائل بن حجر حضرمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سوچا کہ میں ضرور اس بات کا جائزہ لوں گا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نماز ادا کرتے ہیں۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جائزہ لیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور اپنے ہاتھ بلند کیے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کانوں کے برابر لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں دستِ مبارک اپنے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کی پشت، گٹے اور کلائی پر رکھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب رکوع میں جانے کا ارادہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اتنا ہی بلند کیا (جتنا آغاز میں کیا تھا)۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں چلے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور اتنا ہی دونوں ہاتھوں کو بلند کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں چلے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دونوں ہتھیلیاں کانوں کے مقابل رکھی تھیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بائیں زانو کو بچھا لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بایاں ہاتھ اپنے بائیں زانو اور دائیں گھٹنے پر رکھا اور اپنی دائیں کہنی کو دائیں زانو پر رکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو انگلیوں کو ملا کر ان کے ذریعے حلقہ بنایا اور پھر ایک انگلی کو بلند کیا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے حرکت دیتے ہوئے اس کے ہمراہ دعا مانگ رہے تھے۔ اس کے بعد ایک مرتبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سردیوں کے موسم میں حاضر ہوا تو میں نے دیکھا کہ لوگوں نے سردیوں کے کپڑے پہنے ہوئے ہیں اور وہ کپڑوں کے اندر ہی اپنے ہاتھوں کو حرکت دے رہے ہیں (یعنی چادروں کے اندر ہی رفع یدین کر رہے تھے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1860]

1861

Sahih Ibn Hibban #1861

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَإِذَا افْتَتَحَ الصَّلاةَ ، رَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ ، وَإِذَا كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا كَذَلِكَ أَيْضًا ، وَقَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ . وَكَانَ لا يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کا آغاز کرتے تھے، تو دونوں ہاتھ کندھوں تک بلند کرتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں جانے کے لیے تکبیر کہتے تھے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے سر اٹھاتے تھے، تو انہیں اس طرح سے بلند کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہتے تھے: «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ» ”اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو سن لیا جس نے اس کی حمد بیان کی“ «رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» ”اے ہمارے پروردگار! حمد تیرے لیے مخصوص ہے“ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدوں میں (یعنی دو سجدوں کے درمیان) ایسا نہیں کیا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1861]

1862

Sahih Ibn Hibban #1862

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، قَالَ : كُنْتُ غُلامًا لا أَعْقِلُ صَلاةَ أَبِي ، فَحَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، قَالَ : صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَانَإِذَا دَخَلَ فِي الصَّفِّ رَفَعَ يَدَيْهِ وَكَبَّرَ ، ثُمَّ الْتَحَفَ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِي ثَوْبِهِ ، فَأَخَذَ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ ، أَخْرَجَ يَدَيْهِ ، وَرَفَعَهُمَا ، وَكَبَّرَ ، ثُمَّ رَكَعَ ، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ، رَفَعَ يَدَيْهِ ، فَكَبَّرَ ، فَسَجَدَ ، ثُمَّ وَضَعَ وَجْهَهُ بَيْنَ كَفَّيْهِ ". قَالَ ابْنُ جُحَادَةَ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، فَقَالَ : هِيَ صَلاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَعَلَهُ مَنْ فَعَلَهُ ، وَتَرَكَهُ مَنْ تَرَكَهُ . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ مِنَ الثِّقَاتِ الْمُتْقِنِينَ وَأَهْلُ الْفَضْلِ فِي الدِّينِ ، إِلا أَنَّهُ وَهِمَ فِي اسْمِ هَذَا الرَّجُلِ ، إِذِ الْجَوَادُ يَعْثُرُ ، فَقَالَ : وَائِلُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، وَإِنَّمَا هُوَ عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز ادا کی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم صف میں داخل ہوئے (یعنی نماز پڑھنا شروع کی) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ بلند کیے اور تکبیر کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «اِلْتِحَاف» ”کپڑا لپیٹنا“ کے طور پر کپڑا لپیٹا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑا سا اپنا ہاتھ کپڑے کے اندر داخل کر لیا اور دائیں ہاتھ کے ذریعے بائیں ہاتھ کو پکڑ لیا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع میں جانے کا ارادہ کیا تو دونوں ہاتھ باہر نکال لیے اور ان کو بلند کیا اور تکبیر کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں چلے گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع سے سر اٹھایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ بلند کیے اور تکبیر کہتے ہوئے سجدے میں چلے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں کے درمیان رکھا۔ ابن جحادہ نامی راوی بیان کرتے ہیں: میں نے اس بات کا تذکرہ حسن بن ابو الحسن رحمہ اللہ سے کیا تو وہ بولے: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ہے، جس نے ایسا کرنا تھا اس نے ایسا کیا اور جس نے اس کو چھوڑنا تھا اس نے اسے چھوڑ دیا۔ امام ابوحاتم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: محمد بن جحادہ نامی راوی ثقہ اور متقن راویوں میں سے ایک ہیں، یہ دین داری کے حوالے سے اہل فضل ہیں، تاہم اس راوی کے نام کے بارے میں انہیں وہم ہوا کیونکہ گھوڑا بھی ٹھوکر کھا جاتا ہے؛ انہوں نے کہا: یہ وائل بن علقمہ ہے، حالانکہ وہ علقمہ بن وائل ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1862]

1863

Sahih Ibn Hibban #1863

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَإِذَا كَبَّرَ رَفَعَ يَدَيْهِ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلاةِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا أُذُنَيْهِ ، وَإِذَا رَكَعَ ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تھے تو آپ تکبیر کہتے ہوئے دونوں ہاتھ بلند کرتے تھے، یہاں تک کہ دونوں ہاتھ کانوں تک لے آتے تھے، اور جب آپ رکوع میں جاتے تھے اور جب آپ رکوع سے سر اٹھاتے تھے (تو بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1863]

1864

Sahih Ibn Hibban #1864

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاةَ ، رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ ، وَبَعْدَ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ، وَلا يَرْفَعُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سالم اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ نے نماز کا آغاز کیا، تو آپ نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کر لیے یہاں تک کہ انہیں دونوں کندھوں کے برابر لے آئے۔ جب آپ نے رکوع میں جانے کا ارادہ کیا اور جب آپ نے رکوع سے سر اٹھایا (تو بھی رفع یدین) کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدوں کے درمیان رفع یدین نہیں کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1864]

1865

Sahih Ibn Hibban #1865

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الْهَزَارِيُّ ، بِسَارِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ الْفَلاسُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ فِي عَشْرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدُهُمْ أَبُو قَتَادَةَ ، قَالَ : أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالُوا : مَا كُنْتَ أَقْدَمَنَا لَهُ صُحْبَةً ، وَلا أَكْثَرَنَا لَهُ تَبَعَةً ! قَالَ : بَلَى . قَالُوا : فَاعْرِضْ . قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاةِ ، اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، وَإِذَا رَكَعَ ، كَبَّرَ ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ رَكَعَ ، ثُمَّ يَعْتَدِلُ فِي صُلْبِهِ وَلَمْ يَنْصِبْ رَأْسَهُ وَلَمْ يُقَنِّعْهُ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، وَقَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ ، ثُمَّ اعْتَدَلَ ، ثُمَّ سَجَدَ وَاسْتَقْبَلَ بِأَطْرَافِ رِجْلَيْهِ الْقِبْلَةَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، فَثَنَى رِجْلَهُ الْيُسْرَى ، وَقَعَدَ وَاعْتَدَلَ حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلا ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ ، كَبَّرَ ، ثُمَّ قَامَ حَتَّى إِذَا كَانَتِ الرَّكْعَةُ الَّتِي تَنْقَضِي فِيهَا أَخَّرَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَقَعَدَ عَلَى رِجْلِهِ مُتَوَرِّكًا ، ثُمَّ سَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن عمرو بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ کو دس صحابہ کرام، جن میں سے ایک سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، ان کی موجودگی میں یہ کہتے ہوئے سنا: میں تم سب کے مقابلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں زیادہ علم رکھتا ہوں۔ لوگوں نے دریافت کیا: آپ نہ تو پرانے صحابی ہیں اور نہ ہم سے زیادہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکار ہیں۔ سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ نے کہا: ایسا ہی ہے۔ دیگر صحابہ کرام نے فرمایا: پھر آپ پیش کیجیے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نماز ادا کرتے تھے) تو سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تھے، تو آپ قبلہ کی طرف رخ کرتے تھے اور دونوں ہاتھ بلند کرتے تھے، یہاں تک کہ انہیں کندھوں تک اٹھا لیتے تھے۔ پھر آپ «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہتے، پھر آپ جب رکوع میں جاتے تو تکبیر کہتے تھے اور دونوں ہاتھ بلند کرتے تھے۔ پھر آپ اپنی پشت کو سیدھا کر لیتے اور سر کو اٹھاتے نہیں تھے اور بالکل جھکاتے بھی نہیں تھے۔ پھر آپ اپنا سر اٹھاتے تھے (یعنی رکوع سے اٹھتے تھے) اور یہ کہتے تھے: «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو سن لیا جس نے اس کی حمد بیان کی“، پھر آپ اپنے دونوں ہاتھ بلند کرتے، انہیں کندھوں کے برابر لے آتے تھے، پھر آپ سیدھے کھڑے ہو جاتے تھے، پھر آپ سجدے میں جاتے تھے اور اپنے پاؤں کی انگلیوں کے کنارے قبلہ کی طرف کر لیتے تھے، پھر آپ اپنا سر اٹھاتے تھے، «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہتے تھے اور اپنی بائیں ٹانگ کو بچھا لیتے تھے اور اس ٹانگ پر تورک کے طور پر بیٹھ جاتے تھے، پھر آپ سلام پھیر لیتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1865]

1866

Sahih Ibn Hibban #1866

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ السَّكُونِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، أَحَدُ بَنِي مَالِكٍ ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ كَانَ فِيهِ أَبُوهُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَفِي الْمَجْلِسِ أَبُو هُرَيْرَةَ ، وَأَبُو أُسَيْدٍ ، وَأَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ ، مِنَ الأَنْصَارِ ، وَأَنَّهُمْ تَذَاكَرُوا الصَّلاةَ ، فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ : أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالُوا : فَأَرِنَا . قَالَ : فَقَامَ يُصَلِّي وَهُمْ يَنْظُرُونَ فَبَدَأَ يُكَبِّرُ ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حِذَاءَ الْمَنْكِبَيْنِ ، ثُمَّ كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ أَيْضًا ، ثُمَّ أَمْكَنَ يَدَيْهِ مِنْ رُكْبَتِهِ غَيْرَ مُقَنِّعٍ وَلا مُصَوِّبٍ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَقَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، فَسَجَدَ ، فَانْتَصَبَ عَلَى كَفَّيْهِ وَرُكْبَتِهِ وَصُدُورِ قَدَمَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ ، ثُمَّ كَبَّرَ ، فَجَلَسَ ، وَتَوَرَّكَ إِحْدَى رِجْلَيْهِ ، وَنَصَبَ قَدَمَهُ الأُخْرَى ، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ الأُخْرَى ، فَكَبَّرَ ، فَقَامَ وَلَمْ يَتَوَرَّكْ ، ثُمَّ عَادَ فَرَكَعَ الرَّكْعَةَ الأُخْرَى ، وَكَبَّرَ كَذَلِكَ ، ثُمَّ جَلَسَ بَعْدَ الرَّكْعَتَيْنِ حَتَّى إِذَا هُوَ أَرَادَ أَنْ يَنْهَضَ لِلْقِيَامِ ، كَبَّرَ ، ثُمَّ رَكَعَ الرَّكْعَتَيْنِ الأَخِيرَتَيْنِ ، فَلَمَّا سَلَّمَ ، سَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ : سَلامٌ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ، وَسَلَّمَ عَنْ شِمَالِهِ : سَلامٌ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ". قَالَ الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ : وَحَدَّثَنِي عِيسَى أَنَّ مِمَّا حَدَّثَهُ أَيْضًا فِي الْمَجْلِسِ ، " فِي التَّشَهُّدِ : أَنْ يَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى ، وَيَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى ، ثُمَّ يُشِيرُ فِي الدُّعَاءِ بِإِصْبَعٍ وَاحِدَةٍ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، وَسَمِعَهُ مِنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، فَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عباس بن سہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ ایک محفل میں موجود تھے، وہاں ان کے والد بھی موجود تھے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، اس محفل میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ موجود تھے جن کا تعلق انصار سے تھا۔ ان حضرات نے نماز کا تذکرہ کیا، تو سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ بولے کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں آپ سب سے زیادہ علم رکھتا ہوں۔ لوگوں نے کہا کہ پھر آپ ہمیں دکھائیے۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر وہ نماز ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، دیگر حضرات دیکھ رہے تھے، انہوں نے شروع میں تکبیر کہی، دونوں ہاتھ کندھوں تک بلند کیے، پھر انہوں نے رکوع میں جانے کے لیے تکبیر کہی، پھر انہوں نے رفع یدین کیا۔ پھر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھ لیے، اپنے سر کو بالکل جھکایا بھی نہیں اور اوپر بھی نہیں کیا، پھر انہوں نے سر اٹھایا اور «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ پڑھا۔ پھر انہوں نے رفع یدین کیا۔ «اَللّٰهُ أَکْبَرُ» ”اللہ بہت بڑا ہے“ کہتے ہوئے سجدے میں چلے گئے۔ انہوں نے اپنی دونوں ہتھیلیاں، دونوں گھٹنے اور اپنے دونوں پاؤں کے کنارے زمین پر رکھے، وہ سجدے کی حالت میں تھے۔ پھر انہوں نے تکبیر کہی اور بیٹھ گئے۔ انہوں نے اپنی ایک ٹانگ کو «تَوَرُّک» کے طور پر بچھا لیا اور دوسرے پاؤں کو کھڑا کر لیا۔ پھر انہوں نے تکبیر کہتے ہوئے دوسرا سجدہ کیا، تکبیر کہی اور کھڑے ہو گئے لیکن انہوں نے «تَوَرُّک» نہیں کیا۔ پھر انہوں نے ایسا ہی کیا اور دوسری رکعت ادا کی۔ اس طرح تکبیر کہی اور دو رکعات ادا کرنے کے بعد بیٹھ گئے۔ پھر جب انہوں نے کھڑے ہونے کا ارادہ کیا، تو تکبیر کہی۔ پھر انہوں نے آخری دو رکعات بھی اسی طرح ادا کیں، پھر جب انہوں نے سلام پھیرا تو پہلے دائیں طرف سلام پھیرتے ہوئے «اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ» ”تم پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت ہو“ اور بائیں طرف سلام پھیرتے ہوئے «اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ» ”تم پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت ہو“ کہا۔ حسن بن حر نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے۔ عیسیٰ نامی راوی نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے، اس حدیث میں تشہد کے بارے میں یہ الفاظ بھی ہیں: انہوں نے اپنا بایاں ہاتھ اپنے بائیں زانو پر رکھا اور دایاں ہاتھ دائیں زانو پر رکھا اور پھر انہوں نے ایک انگلی کے ذریعے اشارہ کیا۔ امام ابوحاتم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: محمد بن عمرو نے یہ روایت سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے سنی ہے۔ انہوں نے یہ روایت عباس بن سہل کے حوالے سے ان کے والد رضی اللہ عنہ سے بھی سنی ہے۔ ان کے دونوں طرق محفوظ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1866]

1867

Sahih Ibn Hibban #1867

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ الْحَافِظُ ، بِتُسْتَرَ وَكَانَ أَسْوَدَ مِنْ رَأَيْتُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ ، فِي عَشْرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ أَبُو قَتَادَةَ ، فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ : أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالُوا : لِمَ ؟ فَوَاللَّهِ مَا كُنْتَ أَكْثَرَنَا لَهُ تَبَعَةً ، وَلا أَقْدَمَنَا لَهُ صُحْبَةً . قَالَ : بَلَى . قَالُوا : فَاعْرِضْ . قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاةِ ، كَبَّرَ ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ ، وَيُقِيمُ كُلَّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ ، ثُمَّ يَقْرَأُ ، ثُمَّ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ ، ثُمَّ يَرْكَعُ وَيَضَعُ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ مُعْتَدِلا لا يُصَوِّبُ رَأْسَهُ وَلا يَقْنَعْ بِهِ ، يَقُولُ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ . وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ حَتَّى يَقَرَّ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ ، ثُمَّ يَهْوِي إِلَى الأَرْضِ ، وَيُجَافِي يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيَثْنِي رِجْلَهُ ، فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا وَيَفْتَخُ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ إِذَا سَجَدَ ، ثُمَّ يَسْجُدُ ، ثُمَّ يُكَبِّرُ وَيَجْلِسُ عَلَى رِجْلِهِ الْيُسْرَى حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَصْنَعُ فِي الأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ إِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ ، رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ كَمَا صَنَعَ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلاةِ ، ثُمَّ يُصَلِّي بَقِيَّةَ صَلاتِهِ هَكَذَا ، حَتَّى إِذَا كَانَ فِي السَّجْدَةِ الَّتِي فِيهَا التَّسْلِيمُ أَخْرَجَ رِجْلَيْهِ وَجَلَسَ عَلَى شِقِّهِ الأَيْسَرِ مُتَوَرِّكًا ". فَقَالُوا : صَدَقْتَ هَكَذَا كَانَ يُصَلِّي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فِي أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ يُصَلِّيهَا الإِنْسَانُ سِتُّ مِائَةِ سُنَّةٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَخَرَجْنَاهَا بِفُصُولِهَا فِي كِتَابِ صِفَةِ الصَّلاةِ ، فَأَغْنَى ذَلِكَ عَنْ نَظْمِهَا فِي هَذَا النَّوْعِ مِنْ هَذَا الْكِتَابِ . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : عَبْدُ الْحَمِيدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَحَدُ الثِّقَاتِ الْمُتْقِنِينَ ، قَدْ سَبَرْتَ أَخْبَارَهُ ، فَلَمْ أَرَهُ انْفَرَدَ بِحَدِيثٍ مُنْكَرٍ لَمْ يُشَارِكْ فِيهِ ، وَقَدْ وَافَقَ فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَعِيسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ عَبْدَ الْحَمِيدِ بْنَ جَعْفَرٍ فِي هَذَا الْخَبَرِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دس صحابہ کرام، جن میں سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، ان کی موجودگی میں یہ کہتے ہوئے سنا، سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں زیادہ علم رکھتا ہوں۔“ ان حضرات نے دریافت کیا: ”وہ کیسے؟ اللہ کی قسم! آپ نہ تو ہم سے زیادہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکار ہیں اور نہ پرانے صحابی ہیں۔“ سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ نے کہا: ”جی ہاں۔“ دیگر صحابہ کرام نے کہا: ”پھر آپ پیش کیجیے“، تو سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تھے تو تکبیر کہتے تھے، پھر آپ دونوں ہاتھ بلند کرتے ہوئے کندھوں تک اٹھا لیتے تھے، پھر آپ اس طرح قیام کرتے تھے کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر ہوتی تھی، پھر آپ تلاوت کرتے تھے۔ پھر آپ دونوں ہاتھ بلند کرتے تھے یہاں تک کہ انہیں کندھوں کے برابر لے آتے تھے۔ پھر آپ رکوع میں چلے جاتے تھے اور اپنی دونوں ہتھیلیاں دونوں گھٹنوں پر رکھ لیتے، آپ اعتدال کی حالت میں رہتے، آپ اپنے سر کو اٹھاتے بھی نہیں تھے اور جھکاتے بھی نہیں تھے۔ پھر «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہتے ہوئے رفع یدین کرتے یہاں تک کہ دونوں ہاتھوں کو کندھوں کے برابر لے آتے تھے (اور اس طرح کھڑے ہوتے تھے کہ) ہر ہڈی اپنی جگہ پر آ جاتی تھی۔ پھر آپ زمین کی طرف آتے تھے۔ آپ اپنے دونوں بازو اپنے پہلوؤں سے دور رکھتے تھے، پھر آپ اپنا سر اٹھاتے تھے اور ایک ٹانگ کو بچھا لیتے تھے اور اس پر بیٹھ جاتے تھے۔ جب آپ سجدے میں جاتے تھے تو اپنے پاؤں کی انگلیوں کو کشادہ رکھتے تھے۔ پھر آپ سجدہ کرتے تھے۔ پھر آپ تکبیر کہتے تھے اور بائیں ٹانگ کے بل بیٹھ جاتے تھے، یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی مخصوص جگہ پر آ جاتی تھی۔ پھر آپ کھڑے ہوتے تھے اور دوسری رکعت میں بھی ایسے کرتے تھے۔ پھر آپ جب دو رکعات ادا کرنے کے بعد کھڑے ہوتے تھے، دونوں ہاتھ کندھوں تک بلند کرتے تھے، جس طرح نماز کے آغاز میں کیے تھے۔ پھر آپ بقیہ نماز بھی اس طرح ادا کرتے تھے، یہاں تک کہ جب آپ سجدہ کر لیتے تھے، اس کے بعد سلام پھیرنا ہوتا تھا تو آپ اپنے دونوں پاؤں نکال لیتے تھے اور بائیں پہلو کے بل تورک کے طور پر بیٹھ جاتے تھے۔“ تو دیگر صحابہ کرام نے کہا: ”آپ نے سچ کہا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح نماز ادا کرتے تھے۔“ امام ابوحاتم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ”چار رکعات میں چھ سو چیزیں سنت ہیں، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہیں، ہم نے انہیں ان کی فصول کے ہمراہ کتاب ”نماز کا طریقہ“ میں ذکر کیا ہے۔ اب اس کتاب میں اس نوع کی ترتیب کے ذریعے میں نے اس کتاب سے بے نیاز کر دیا ہے۔“ امام ابوحاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”عبدالحمید نامی راوی ثقہ اور متقن راویوں میں سے ایک ہیں۔ میں نے ان کے حالات کی تحقیق کی ہے، میں نے نہیں دیکھا کہ یہ کسی منکر روایت کو نقل کرنے میں منفرد ہوں جس میں ان کے ساتھ کوئی شریک نہ ہو۔ فلیح بن سلیمان اور عیسیٰ بن عبداللہ، محمد بن عمرو کے حوالے سے سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ سے یہ روایت نقل کرنے میں عبدالحمید کے موافق ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1867]

1868

Sahih Ibn Hibban #1868

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، بِحَرَّانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّهُ كَانَإِذَا دَخَلَ فِي الصَّلاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ ، وَإِذَا رَكَعَ ، وَإِذَا قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ . وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ رَفَعَهُمَا إِلَى مَنْكِبَيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سالم رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے تھے تو رفع یدین کرتے تھے، جب رکوع میں جاتے تھے تو رفع یدین کرتے تھے، جب «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہتے تھے (یعنی جب رکوع سے کھڑے ہو جاتے تھے) تو رفع یدین کرتے تھے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعات کے بعد کھڑے ہوتے تھے، تو بھی دونوں ہاتھ کندھوں تک بلند کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1868]

1869

Sahih Ibn Hibban #1869

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْغَزِّيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيِّ ، وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا مَعَ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ : أَنَا أَحْفَظُكُمْ لِصَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رَأَيْتُهُإِذَا كَبَّرَ جَعَلَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ ، وَإِذَا رَكَعَ أَمْكَنَ يَدَيْهِ مِنْ رُكْبَتَيْهِ ، ثُمَّ هَصَرَ ظَهْرَهُ ، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ اسْتَوَى ، فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَ يَدَيْهِ غَيْرَ مُفْتَرِشٍ وَلا قَابِضٍ ، وَاسْتَقْبَلَ بِأَطْرَافِ رِجْلَيْهِ إِلَى الْقِبْلَةِ ، وَإِذَا جَلَسَ فِي الرَّكْعَةِ الآخِرَةِ قَدَّمَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَجَلَسَ عَلَى مَقْعَدَتِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہمراہ بیٹھے تھے، تو سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں آپ سب سے زیادہ یاد رکھے ہوئے ہوں۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ تکبیر کہتے تھے، تو دونوں ہاتھ کندھوں تک بلند کرتے تھے، جب رکوع میں جاتے تو دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھ لیتے تھے۔ آپ اپنی پشت کو سیدھا رکھتے تھے۔ جب آپ سر اٹھاتے تھے، تو سیدھا کھڑے ہو جاتے تھے اور جب سجدے میں جاتے تو دونوں بازوؤں کو بچھاتے بھی نہیں تھے اور اٹھا کر بھی نہیں رکھتے تھے۔ آپ اپنے دونوں پاؤں کا رخ قبلہ کی طرف رکھتے تھے، جب آپ آخری رکعت میں بیٹھتے تھے، تو بائیں ٹانگ کو باہر نکال لیتے تھے اور تشریف گاہ پر بیٹھتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1869]

1870

Sahih Ibn Hibban #1870

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَوْدِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاةِ اسْتَقْبَلَ ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ . وَإِذَا رَكَعَ كَبَّرَ ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ رَكَعَ ، ثُمَّ عَدَلَ صُلْبَهُ ، وَلَمْ يُصَوِّبْ رَأْسَهُ وَلَمْ يُقَنِّعْهُ ، ثُمَّ قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ . وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ ، ثُمَّ اعْتَدَلَ حَتَّى رَجَعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلا ، ثُمَّ هَوَى إِلَى الأَرْضِ ، فَقَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ . وَسَجَدَ وَجَافَى عَضُدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ ، وَاسْتَقْبَلَ بِأَطْرَافِ أَصَابِعِ رِجْلَيْهِ الْقِبْلَةَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، وَقَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ . وَثَنَى رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَقَعَدَ عَلَيْهَا ، وَاعْتَدَلَ حَتَّى رَجَعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلا ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ . ثُمَّ عَادَ فَسَجَدَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَقَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ . ثُمَّ ثَنَّى رِجْلَهُ الْيُسْرَى ، ثُمَّ قَعَدَ عَلَيْهَا حَتَّى رَجَعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ ، ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ فِي الأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ ، حَتَّى إِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ ، كَبَّرَ وَصَنَعَ كَمَا صَنَعَ فِي ابْتِدَاءِ الصَّلاةِ ، حَتَّى إِذَا كَانَتِ السَّجْدَةُ الَّتِي تَكُونُ خَاتِمَةَ الصَّلاةِ ، رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْهُمَا ، وَأَخَّرَ رِجْلَهُ ، وَقَعَدَ مُتَوَرِّكًا عَلَى رِجْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن عمرو بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ کی طرف رخ کرتے تھے اور دونوں ہاتھ بلند کرتے تھے یہاں تک کہ انہیں کندھوں کے برابر لے آتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں جاتے تھے، تو تکبیر کہتے تھے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں جاتے تھے، تو رفع یدین کرتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پشت کو سیدھا کر لیتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر کو اٹھاتے بھی نہیں تھے اور جھکاتے بھی نہیں تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی پکار سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہتے تھے اور دونوں ہاتھ بلند کرتے ہوئے انہیں کندھوں کے برابر تک لے آتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے کھڑے ہو جاتے تھے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی مخصوص جگہ پر اعتدال کی حالت میں آ جاتی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمین کی طرف جھکتے تھے اور «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں جاتے تھے، تو اپنے دونوں بازو پہلو سے الگ رکھتے تھے اور اپنے پاؤں کی انگلیوں کے کناروں کا رخ قبلہ کی طرف رکھتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر اٹھاتے تھے اور «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بائیں ٹانگ کو بچھا کر اس پر تشریف فرما ہو جاتے تھے، یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی مخصوص جگہ پر اعتدال کی حالت میں آ جاتی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہتے ہوئے دوبارہ سجدے میں چلے جاتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر اٹھاتے تھے اور «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہتے تھے، پھر بائیں ٹانگ کو بچھا دیتے تھے اور اس پر تشریف فرما ہو جاتے تھے، یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی مخصوص جگہ پر آ جاتی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے تھے اور دوسری (رکعت) میں بھی اسی طرح کرتے تھے، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعات ادا کرنے کے بعد کھڑے ہوتے تھے، تو تکبیر کہنے کے بعد اسی طرح کرتے تھے جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے آغاز میں کیا تھا (یعنی رفع یدین کرتے تھے)، یہاں تک کہ جب وہ سجدہ آتا جس پر نماز ختم ہو رہی ہوتی (یعنی آخری سجدہ آتا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو سجدوں کے بعد اپنے سر کو اٹھاتے تھے اور اپنی ٹانگ کو پیچھے کر کے اپنی ٹانگ پر تورک کے طور پر بیٹھ جاتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1870]

1871

Sahih Ibn Hibban #1871

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيُّ ، قَالَ : اجْتَمَعَ أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ ، وَأَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ ، وَسَهْلُ بْنُ سَعْدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ ، فَذَكَرُوا صَلاةَ صَلاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ : أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَامَ فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ ، ثُمَّ رَكَعَ ، فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ كَالْقَابِضِ عَلَيْهِمَا فَوَتَرَ يَدَيْهِ فَنَحَّاهُمَا عَنْ جَنْبَيْهِ ، وَلَمْ يُصَوِّبْ رَأْسَهُ وَلَمْ يُقَنِّعْهُ ، ثُمَّ قَامَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَاسْتَوَى حَتَّى رَجَعَ كُلُّ عُضْوٍ إِلَى مَوْضِعِهِ ، ثُمَّ سَجَدَ أَمْكَنَ أَنْفَهُ وَجَبْهَتَهُ ، وَنَحَّى يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ ، وَوَضَعَ كَفَّيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ حَتَّى رَجَعَ كُلُّ عُضْوٍ فِي مَوْضِعِهِ حَتَّى فَرَغَ ، ثُمَّ جَلَسَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَأَقْبَلَ بِصَدْرِ الْيُمْنَى عَلَى قِبْلَتِهِ ، وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُمْنَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُمْنَى ، وَكَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى ، وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ السَّبَّابَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عباس بن سہل ساعدی بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ، سیدنا ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ، سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ اور سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ اکٹھے ہوئے۔ ان حضرات نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا تذکرہ کیا، تو سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں، میں آپ سب سے زیادہ علم رکھتا ہوں۔“ (پھر انہوں نے بیان کیا) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کھڑے ہوتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کہتے ہوئے رفع یدین کرتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں جانے کے لیے تکبیر کہتے تھے، پھر رفع یدین کرتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں چلے جاتے تھے اور اپنے دونوں ہاتھ گھٹنوں پر یوں رکھ لیتے تھے جس طرح انہیں پکڑے ہوئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں بازو سیدھے رکھتے تھے اور انہیں پہلو سے الگ رکھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر کو اٹھا کر بھی نہیں رکھتے تھے اور جھکا کر بھی نہیں رکھتے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو جاتے اور رفع یدین کرتے، یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر ایک عضو اپنی مخصوص جگہ پر آ جاتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں جاتے تو اپنی ناک اور پیشانی کو جما کر رکھتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں بازو اپنے پہلو سے الگ رکھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دونوں ہتھیلیاں اپنے کندھوں کے برابر رکھتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر اٹھاتے تھے یہاں تک کہ ہر عضو اپنی مخصوص جگہ پر آ جاتا، یہاں تک کہ جب آپ (نماز کی رکعات ادا کر کے) فارغ ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بائیں ٹانگ کو بچھا لیتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دائیں (پاؤں کی انگلیوں) کو قبلہ کی طرف رکھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دائیں ہتھیلی کو دائیں زانو پر رکھتے تھے اور بائیں ہتھیلی کو بائیں زانو پر رکھتے تھے اور اپنی شہادت کی انگلی کے ذریعے اشارہ کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1871]

1872

Sahih Ibn Hibban #1872

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَلَيْهِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، قَالَ : أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ ، فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً فَظَنَّ أَنَّا قَدِ اشْتَقْنَا أَهْلِينَا ، سَأَلْنَا عَمَّنْ تَرَكْنَا مِنْ أَهْلِينَا ، فَأَخْبَرْنَاهُ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا رَفِيقًا ، فَقَالَ : ارْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ ، فَعَلِّمُوهُمْ ، وَمُرُوهُمْ ،وَصَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي ، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلاةُ ، فَلْيُؤَذِّنْ أَحَدُكُمْ ، وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم نوجوان اور ہم عمر لوگ تھے۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں بیس دن قیام کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اندازہ ہوا کہ ہمیں اپنے اہل خانہ (سے دور رہنے میں) دشواری ہو رہی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے دریافت فرمایا: ”تم نے اپنے پیچھے اہل خانہ کے لیے کیا چھوڑا ہے؟“ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بڑے مہربان اور نرم دل تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنے گھر والوں کی طرف واپس چلے جاؤ، تم انہیں تعلیم دو، تم انہیں حکم دو اور اس طرح نماز ادا کرو جس طرح تم نے مجھے نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے، جب نماز کا وقت ہو جائے، تو تم میں سے کوئی ایک شخص اذان دے اور جو شخص تم میں سے عمر میں بڑا ہو وہ تمہاری امامت کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1872]

1873

Sahih Ibn Hibban #1873

أَخْبَرَنَا شَبَّابُ بْنُ صَالِحٍ ، بِوَاسِطٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ : أَنَّهُ رَأَى مَالِكَ بْنَ الْحُوَيْرِثِ : إِذَا صَلَّى كَبَّرَ ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ، رَفَعَ يَدَيْهِ "، وَحَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ هَكَذَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوقلابہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کو دیکھا، جب انہوں نے نماز ادا کی تو تکبیر کہی اور رفع یدین کیا، جب انہوں نے رکوع میں جانے کا ارادہ کیا تو رفع یدین کیا، اور جب رکوع سے سر اٹھایا تو رفع یدین کیا، انہوں نے یہ بات بیان کی کہ ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس طرح کیا کرتے تھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1873]

1874

Sahih Ibn Hibban #1874

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا وَعَلْقَمَةُ عَلَى ابْنِ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ لَنَا : أَصَلَّى هَؤُلاءِ ؟ فَقُلْنَا : لا . قَالَ : فَقُومُوا فَصَلُّوا ، فَذَهَبْنَا لِنَقُومَ خَلْفَهُ ، فَجَعَلَ أَحَدَنَا عَنْ يَمِينِهِ ، وَالآخَرَ عَنْ شِمَالِهِ ، فَصَلَّى بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلا إِقَامَةٍ ، فَجَعَلَ إِذَا رَكَعَ شَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ فِي الصَّلاةِ ، فَجَعَلَهَا بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ ، فَلَمَّا صَلَّى ، قَالَ : هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي ، وَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّهَاسَتَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يُمِيتُونَ الصَّلاةَ يَخْنُقُونَهَا إِلَى شَرَقِ الْمَوْتَى ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ ، فَلْيُصَلِّ الصَّلاةَ لِوَقْتِهَا ، وَلْيَجْعَلْ صَلاتَهُ مَعَهُمْ سُبْحَةً ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَحِمَهُ اللَّهُ مِمَّنْ يُشَبِّكُ يَدَيْهِ فِي الرُّكُوعِ ، وَزَعَمَ أَنَّهُ كَذَلِكَ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ ، وَأَجْمَعَ الْمُسْلِمُونَ قَاطِبَةً مِنْ لَدُنِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى يَوْمِنَا هَذَا عَلَى أَنَّ الْفِعْلَ كَانَ فِي أَوَّلِ الإِسْلامِ ، ثُمَّ نَسَخَهُ الأَمْرُ بِوَضْعِ الْيَدَيْنِ لِلْمُصَلِّي فِي رُكُوعِهِ ، فَإِنْ جَازَ لابْنِ مَسْعُودٍ فِي فَضْلِهِ وَوَرَعِهِ ، وَكَثْرَةِ تَعَاهُدِهِ أَحْكَامَ الدِّينِ ، وَتَفَقُّدِهِ أَسْبَابَ الصَّلاةِ خَلْفَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ فِي الصَّفِّ الأَوَّلِ ، إِذْ كَانَ مِنْ أُولِي الأَحْلامِ وَالنُّهَى أَنْ يَخْفَى عَلَيْهِ مِثْلُ هَذَا الشَّيْءِ الْمُسْتَفِيضِ الَّذِي هُوَ مَنْسُوخٌ بِإِجْمَاعِ الْمُسْلِمِينَ ، أَوْ رَآهُ فَنَسِيَهُ ، جَازَ أَنْ يَكُونَ رَفْعُ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ عِنْدَ الرُّكُوعِ ، وَعِنْدَ رَفْعِ الرَّأْسِ مِنَ الرُّكُوعِ ، مِثْلَ التَّشْبِيكِ فِي الرُّكُوعِ أَنْ يَخْفَى عَلَيْهِ ذَلِكَ ، أَوْ يَنْسَاهُ بَعْدَ أَنْ رَآهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسود بیان کرتے ہیں: میں اور علقمہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے ہم سے دریافت کیا: کیا ان لوگوں نے نماز ادا کر لی ہے؟ ہم نے جواب دیا: جی نہیں، تو انہوں نے فرمایا: تم لوگ کھڑے ہو کر نماز ادا کرو۔ ہم اٹھ کر ان کے پیچھے کھڑے ہونے لگے، تو انہوں نے ہم دونوں میں سے ایک کو اپنے دائیں طرف کھڑا کر لیا اور دوسرے کو بائیں طرف کھڑا کر لیا، پھر انہوں نے اذان دیے بغیر اور اقامت کہے بغیر نماز ادا کی۔ نماز کے دوران جب وہ رکوع میں گئے، تو انہوں نے انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کیں اور انہیں اپنے دونوں گھٹنوں کے درمیان رکھ لیا، جب انہوں نے نماز ادا کر لی، تو یہ بات بیان کی کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا: ”اے لوگو! عنقریب تم پر ایسے حکمران مسلط ہوں گے، جو نماز کو فوت کر دیں گے وہ اس کا گلا یوں گھونٹیں گے جس طرح قریب المرگ شخص ہوتا ہے۔ تم میں سے جو شخص یہ صورت حال پائے وہ نماز کو اس کے مخصوص وقت میں ادا کر لے اور ان لوگوں کے ساتھ اپنی نماز کو نفل بنا لے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رکوع کے دوران انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کیا کرتے تھے اور وہ اس بات کے قائل تھے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے لے کر ہمارے آج کے دن تک تمام مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ فعل ابتدائے اسلام میں تھا اور پھر رکوع میں دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھنے کے حکم نے اسے منسوخ کر دیا۔ تو جب سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جیسی شخصیت کے تمام تر علم و فضل اور زہد و تقویٰ اور ان کے دینی احکام پر بکثرت عمل پیرا ہونے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ان کے پہلی صف میں نماز ادا کرنے، کیونکہ وہ سمجھدار اور تجربہ کار افراد میں سے ایک تھے، اس سب کے باوجود ان سے یہ چیز مخفی کیسے رہ سکتی ہے جو تمام مسلمانوں کے اتفاق کے ساتھ منسوخ ہے یا پھر انہوں نے اسے دیکھا اور وہ اسے بھول گئے تو یہ بات بھی ممکن ہے کہ رکوع کے دوران انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کرنے کی طرح رکوع کے وقت اور رکوع سے سر اٹھانے کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا رفع یدین کرنا، ان سے مخفی رہ گیا ہو یا انہوں نے اسے دیکھا ہو پھر وہ اسے بھول گئے ہوں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1874]

1875

Sahih Ibn Hibban #1875

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا وَعَلْقَمَةُ عَلَى ابْنِ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ لَنَا : قُومُوا فَصَلُّوا ، فَذَهَبْنَا لِنَقُومَ خَلْفَهُ ، فَأَقَامَ أَحَدَنَا عَنْ يَمِينِهِ ، وَالآخَرَ عَنْ شِمَالِهِ ، فَصَلَّى بِنَا بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلا إِقَامَةٍ ، فَجَعَلَ إِذَا رَكَعَ طَبَّقَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ، وَجَعَلَهَا بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ "، فَلَمَّا صَلَّى قَالَ : هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسود بیان کرتے ہیں کہ میں اور علقمہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو انہوں نے ہم سے فرمایا: ”تم لوگ اٹھو اور نماز ادا کر لو۔“ ہم اٹھ کر ان کے پیچھے کھڑے ہونے لگے، تو انہوں نے ہم میں سے ایک کو اپنے دائیں طرف کھڑا کر لیا اور دوسرے کو اپنے بائیں طرف کھڑا کر لیا۔ انہوں نے اذان دیے بغیر اور اقامت کہے بغیر ہمیں نماز پڑھائی، جب وہ رکوع میں گئے، تو انہوں نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کیں اور انہیں دونوں گھٹنوں کے درمیان رکھ لیا۔ جب انہوں نے نماز ادا کر لی، تو یہ بات بیان کی: ”میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1875]

1876

Sahih Ibn Hibban #1876

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ ، فِي عَشْرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَحَدُهُمْ أَبُو قَتَادَةَ ، قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ : أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالُوا لَهُ : وَلِمَ ؟ فَوَاللَّهِ مَا كُنْتَ أَكْثَرَنَا لَهُ تَبَعَةً ، وَلا أَقْدَمَنَا لَهُ صُحْبَةً . قَالَ : بَلَى . قَالُوا : فَاعْرِضْ . قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاةِ كَبَّرَ ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ ، وَيَقِرَّ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلا ، ثُمَّ يَقْرَأُ ، ثُمَّ يُكَبِّرُ ، وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ ، وَيَرْكَعُ ، وَيَضَعُ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ ، ثُمَّ يَعْتَدِلُ فَلا يُصَوِّبُ رَأْسَهُ وَلا يَرْفَعُهُ ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ ، وَيَقُولُ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ مُعْتَدِلا ، ثُمَّ يَقُولُ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، ثُمَّ يَهْوِي إِلَى الأَرْضِ ، وَيُجَافِي يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ ، فَيَثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى ، فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا وَيَفْتَحُ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ إِذَا سَجَدَ ، ثُمَّ يَعُودُ فَيَسْجُدُ ، وَيَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيَقُولُ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، وَيَثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى ، فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا حَتَّى يَعُودَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلا ، ثُمَّ يَصْنَعُ فِي الرَّكْعَةِ الأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ ، وَإِذَا قَامَ مِنَ الثِّنْتَيْنِ كَبَّرَ ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ ، كَمَا صَنَعَ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلاةِ ، ثُمَّ صَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ فِي بَقِيَّةِ صَلاتِهِ ، حَتَّى إِذَا كَانَتْ قَعْدَةُ السَّجْدَةِ الَّتِي فِيهَا التَّسْلِيمُ ، أَخَّرَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى ، وَقَعَدَ مُتَوَرِّكًا عَلَى شِقِّهِ الأَيْسَرِ ". قَالُوا جَمِيعًا : هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن عمرو بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کو دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی موجودگی میں، جن میں سے ایک سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، یہ بیان کرتے ہوئے سنا، سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں آپ سب سے زیادہ علم رکھتا ہوں۔“ ان حضرات نے ان سے کہا: ”وہ کیوں؟ اللہ کی قسم! آپ نہ تو ہم سے زیادہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکار ہیں اور نہ ہم سے زیادہ پرانے صحابی ہیں۔“ سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ نے کہا: ”جی ہاں!“ ان حضرات نے کہا: ”پھر آپ پیش کیجئے!“ تو سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ نے بتایا: ”جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کہتے تھے اور دونوں ہاتھ کندھوں تک بلند کر لیتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ہر ہڈی کو اس کی مخصوص جگہ پر اعتدال کی حالت میں رکھتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تلاوت کرتے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کہتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رفع یدین کرتے ہوئے دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے تھے اور رکوع میں چلے جاتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دونوں ہتھیلیاں دونوں گھٹنوں پر رکھتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اعتدال کی حالت میں رہتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر کو نہ تو جھکاتے تھے اور نہ ہی اٹھاتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر اٹھاتے تھے اور «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ پڑھتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ہاتھ کندھوں تک اعتدال کی حالت میں بلند کرتے تھے، پھر تکبیر کہتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمین کی طرف جھک جاتے تھے اور دونوں بازو پہلو سے دور رکھتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر اٹھاتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بائیں ٹانگ کو بچھا لیتے تھے اور اس پر تشریف فرما ہو جاتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں جاتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پاؤں کی انگلیوں کو کشادہ رکھتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ سجدے میں چلے جاتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر اٹھاتے تھے اور تکبیر کہتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بائیں ٹانگ کو بچھا کر اس پر تشریف فرما ہو جاتے تھے، یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی مخصوص جگہ پر اعتدال کی حالت میں آ جاتی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری رکعت بھی اسی طرح ادا کرتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعات ادا کرنے کے بعد کھڑے ہوتے تھے، تو تکبیر کہتے تھے اور دونوں ہاتھ کندھوں تک بلند کرتے تھے جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے آغاز میں کیا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بقیہ نماز اسی طریقے سے ادا کرتے تھے، یہاں تک کہ جب اس سجدے کے بعد والا قعدہ آتا جس میں سلام پھیرنا ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بائیں ٹانگ کو پیچھے کر لیتے تھے اور بائیں پہلو کے بل تورک کے طور پر تشریف فرما ہو جاتے تھے۔“ ان حضرات (یعنی دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) نے فرمایا: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح نماز ادا کیا کرتے تھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1876]

1877

Sahih Ibn Hibban #1877

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، وَعُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّهُ كَانَيَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلاةِ ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ، وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ رَفَعَ يَدَيْهِ فِي ذَلِكَ كُلِّهِ حَذْوَ الْمَنْكِبَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: ”جب آپ نماز شروع کرتے تھے، تو آپ رفع یدین کرتے تھے، جب آپ رکوع میں جانے کا ارادہ کرتے تھے، جب رکوع سے سر اٹھاتے تھے اور جب دو رکعات ادا کرنے کے بعد کھڑے ہوتے تھے، تو آپ ان تمام مقامات پر دونوں ہاتھ کندھوں تک بلند کیا کرتے تھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1877]

1878

Sahih Ibn Hibban #1878

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَوْدُودٍ بِحَرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنِ الْمُسَيِّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِذَا النَّاسُ رَافِعُوا أَيْدِيهِمْ فِي الصَّلاةِ ، فَقَالَ : مَا لِي أَرَاكُمْ رَافِعِي أَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ ؟اسْكُنُوا فِي الصَّلاةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، اس دوران کچھ لوگوں نے نماز کے دوران رفع یدین کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں دیکھ رہا ہوں، تم اپنے ہاتھ یوں بلند کر رہے ہو، جس طرح وہ سرکش گھوڑوں کی دمیں ہوتی ہیں، تم لوگ نماز کے دوران سکون کی حالت میں رہا کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1878]

1879

Sahih Ibn Hibban #1879

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْمُسَيِّبَ بْنَ رَافِعٍ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَأَبْصَرَ قَوْمًا قَدْ رَفَعُوا أَيْدِيهِمْ ، فَقَالَ : قَدْ رَفَعُوهَا كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ ،اسْكُنُوا فِي الصَّلاةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں، آپ مسجد میں تشریف لائے، تو آپ نے کچھ لوگوں کو رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”ان لوگوں نے ہاتھ یوں اٹھائے ہیں جس طرح وہ سرکش گھوڑوں کی دمیں ہوتی ہیں، تم لوگ نماز کے دوران سکون کی حالت میں رہا کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1879]

1880

Sahih Ibn Hibban #1880

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ ، قَالا : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْقِبْطِيَّةِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُلْنَا بِأَيْدِينَا : السَّلامُ عَلَيْكُمْ يَمِينًا وَشِمَالا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا لِي أَرَى أَيْدِيَكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ ، إِنَّمَايَكْفِي أَحَدَكُمْ أَنْ يَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى فَخِذِهِ ثُمَّ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز ادا کرتے تھے، تو ہم اپنے ہاتھ کے ذریعے (اشارہ کرتے ہوئے) دائیں طرف اور بائیں طرف «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ» ”تم پر سلامتی ہو“ کہتے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا وجہ ہے، میں دیکھ رہا ہوں، تمہارے ہاتھ سرکش گھوڑوں کی دم کی مانند ہیں، تم میں سے ہر ایک کے لیے اتنا کافی ہے، وہ اپنے دونوں ہاتھ اپنے زانوں پر رکھے اور پھر دائیں طرف اور بائیں طرف سلام پھیر دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1880]

1881

Sahih Ibn Hibban #1881

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْقِبْطِيَّةِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : كُنَّا إِذَا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رَفَعَ أَحَدُنَا يَدَهُ يُمْنَةً وَيُسْرَةً ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا لِي أَرَاكُمْ رَافِعِي أَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ ، أَوَلايَكْفِي أَحَدَكُمْ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ ، ثُمَّ يُسَلِّمُ عَلَى مَنْ عَنْ يَمِينِهِ ، وَمَنْ عَنْ يَسَارِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم پہلے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز ادا کیا کرتے تھے، تو ہم میں سے کوئی ایک شخص دائیں طرف اور بائیں طرف (سلام پھیرتے ہوئے) اپنا ہاتھ بلند کرتا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا وجہ ہے، میں تمہیں یوں ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھتا ہوں، جس طرح وہ سرکش گھوڑوں کی دمیں ہوتی ہیں؟ کیا تم میں سے کسی ایک کے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ وہ اپنا ہاتھ اپنے زانو پر رکھے اور پھر اپنے دائیں طرف موجود شخص اور بائیں طرف موجود شخص کو سلام کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1881]

1882

Sahih Ibn Hibban #1882

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُصْعَبَ بْنَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، يَقُولُ : صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ أَبِي ، فَطَبَّقْتُ بَيْنَ كَفَّيَّ ، ثُمَّ وَضَعْتُهُمَا بَيْنَ فَخِذِيَّ ، فَنَهَانِي عَنْ ذَلِكَ ، وَقَالَ : كُنَّا نَفْعَلُ هَذَا ، فَنُهِينَا عَنْهُ ،وَأُمِرْنَا أَنْ نَضَعَ عَلَى الرُّكَبِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مصعب بن سعد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے والد (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) کے پہلو میں نماز ادا کی، میں نے اپنی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان «التَّطْبِيقُ» ”تطبیق“ دی، پھر میں نے انہیں اپنے دونوں زانوں کے درمیان رکھ لیا تو میرے والد نے مجھے اس سے منع کیا اور فرمایا: ”ہم پہلے ایسا کیا کرتے تھے، پھر ہمیں اس سے منع کر دیا گیا اور ہمیں یہ حکم دیا گیا کہ ہم (اپنے ہاتھ) گھٹنوں پر رکھیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1882]

1883

Sahih Ibn Hibban #1883

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ : كُنْتُ إِذَا صَلَّيْتُ ، طَبَّقَتْ ، وَوَضَعْتُ يَدَيَّ بَيْنَ رُكْبَتَيَّ ، فَرَآنِي أَبِي سَعْدٌ ، فَقَالَ : كُنَّا نَفْعَلُ هَذَا ، فَنُهِينَا عَنْهُ ،وَأُمِرْنَا بِالرُّكَبِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مصعب بن سعد بن ابی وقاص رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں جب نماز ادا کرتا تھا تو میں «التَّطْبِیقُ» ”تطبیق“ کیا کرتا تھا اور اپنے دونوں ہاتھ دونوں گھٹنوں کے درمیان رکھا کرتا تھا۔ میرے والد سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے مجھے (ایسا کرتے ہوئے) دیکھا تو ارشاد فرمایا: پہلے ہم اس طرح کیا کرتے تھے، پھر ہمیں اس سے منع کر دیا گیا، اور ہمیں گھٹنوں (پر ہاتھ رکھنے کا) حکم دیا گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1883]

1884

Sahih Ibn Hibban #1884

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : كَانَرُكُوعُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَفْعُهُ رَأْسَهُ بَعْدَ الرُّكُوعِ ، وَسُجُودُهُ ، وَجُلُوسُهُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ ، قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا رکوع، آپ کا رکوع کے بعد سر کو اٹھانا، آپ کا سجدہ کرنا اور آپ کا دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا تقریباً ایک جتنا ہوتا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1884]

1885

Sahih Ibn Hibban #1885

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ : قَالَ لَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : إِنِّي لا آلُو أَنْ أُصَلِّيَ بِكُمْ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِنَا ، قَالَ ثَابِتٌ : رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَصْنَعُ شَيْئًا لا أَرَاكُمْ تَصْنَعُونَهُ ، كَانَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَامَ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ : لَقَدْ نَسِيَ ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ الأُولَى ، قَعَدَ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ : لَقَدْ نَسِيَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ثابت بیان کرتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ہم سے فرمایا: ”میں اس حوالے سے کوئی کوتاہی نہیں کروں گا، میں تمہیں اسی طرح نماز پڑھاؤں جس طرح میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیں نماز پڑھاتے ہوئے دیکھا ہے“۔ ثابت بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے، وہ کچھ ایسا کیا کرتے تھے جو میں تمہیں کرتے ہوئے نہیں دیکھتا؛ جب وہ رکوع سے سر اٹھانے کے بعد کھڑے ہوتے تھے، تو کہنے والا یہ کہہ سکتا تھا کہ شاید یہ (سجدے میں جانا) بھول گئے ہیں، اور جب وہ پہلے سجدے سے سر اٹھا کر بیٹھتے تھے، تو کہنے والا یہ کہہ سکتا تھا کہ یہ (دوسرے سجدے میں جانا) بھول گئے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1885]

1886

Sahih Ibn Hibban #1886

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَحَدٍ قَطُّ أَخَفَّ صَلاةً مِنْ صَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلا أَتَمَّ ، وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ وَرَاءَهُ ، فَيُخَفِّفُ مَخَافَةَ أَنْ تُفْتَنَ أُمُّهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شریک بن ابونمر بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: میں نے کسی ایسے شخص کے پیچھے نماز ادا نہیں کی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مختصر اور آپ سے زیادہ مکمل نماز ادا کرتا ہو۔ بعض اوقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پیچھے کسی بچے کے رونے کی آواز سنتے تھے، تو آپ نماز کو مختصر کر دیتے تھے، اس اندیشے کے تحت کہ کہیں اس بچے کی والدہ آزمائش کا شکار نہ ہو جائے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1886]

1887

Sahih Ibn Hibban #1887

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ السِّنْجِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْهَيَّاجِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَرْحَبِيُّ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدَةُ بْنُ الأَسْوَدِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ الْوَلِيدِ ، عَنْ سِنَانِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَلِمَاتٌ أَسْأَلُ عَنْهُنَّ . قَالَ : اجْلِسْ " . وَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ ثَقِيفٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَلِمَاتٌ أَسْأَلُ عَنْهُنَّ . فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَبَقَكَ الأَنْصَارِيُّ " . فَقَالَ الأَنْصَارِيُّ : إِنَّهُ رَجُلٌ غَرِيبٌ ، وَإِنَّ لِلْغَرِيبِ حَقًّا ، فَابْدَأْ بِهِ . فَأَقْبَلَ عَلَى الثَّقَفِيِّ ، فَقَالَ : " إِنْ شِئْتَ أَجَبْتُكَ عَمَّا كُنْتَ تَسْأَلُ ، وَإِنْ شِئْتَ سَأَلْتَنِي وَأُخْبِرْكَ " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بَلْ أَجِبْنِي عَمَّا كُنْتُ أَسْأَلُكَ . قَالَ : " جِئْتَ تَسْأَلُنِي عَنِ الرُّكُوعِ ، وَالسُّجُودِ ، وَالصَّلاةِ ، وَالصَّوْمِ " . فَقَالَ : لا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، مَا أَخْطَأْتَ مِمَّا كَانَ فِي نَفْسِي شَيْئًا . قَالَ :" فَإِذَا رَكَعْتَ ، فَضَعْ رَاحَتَيْكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ ، ثُمَّ فَرِّجْ بَيْنَ أَصَابِعِكَ ، ثُمَّ أَمْكُثْ حَتَّى يَأْخُذَ كُلُّ عُضْوٍ مَأْخَذَهُ ، وَإِذَا سَجَدْتَ ، فَمَكِّنْ جَبْهَتَكَ ، وَلا تَنْقُرُ نَقْرًا ، وَصَلِّ أَوَّلَ النَّهَارِ وَآخِرَهُ " . فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، فَإِنْ أَنَا صَلَّيْتُ بَيْنَهُمَا ؟ قَالَ : " فَأَنْتَ إِذًا مُصَلٍّ ، وَصُمْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ، ثَلاثَ عَشْرَةَ ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ " . فَقَامَ الثَّقَفِيُّ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الأَنْصَارِيِّ ، فَقَالَ : " إِنْ شِئْتَ أَخْبَرْتُكَ عَمَّا جِئْتَ تَسْأَلُ ، وَإِنْ شِئْتَ سَأَلْتَنِي فَأُخْبِرْكَ " . فَقَالَ : لا يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي عَمَّا جِئْتُ أَسْأَلُكَ . قَالَ : " جِئْتَ تَسْأَلُنِي عَنِ الْحَاجِّ مَا لَهُ حِينَ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ ؟ وَمَا لَهُ حِينَ يَقُومُ بِعَرَفَاتٍ ؟ وَمَا لَهُ حِينَ يَرْمِي الْجِمَارَ ؟ وَمَا لَهُ حِينَ يَحْلِقُ رَأْسَهُ ؟ وَمَا لَهُ حِينَ يَقْضِي آخِرَ طَوَافٍ بِالْبَيْتِ ؟ " . فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، مَا أَخْطَأْتَ مِمَّا كَانَ فِي نَفْسِي شَيْئًا . قَالَ : " فَإِنَّ لَهُ حِينَ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ أَنَّ رَاحِلَتَهُ لا تَخْطُو خُطْوَةً إِلا كُتِبَ لَهُ بِهَا حَسَنَةٌ ، أَوْ حُطَّتْ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ ، فَإِذَا وَقَفَ بِعَرَفَةَ ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْزِلُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا ، فَيَقُولُ : انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي شُعْثًا غُبْرًا ، اشْهَدُوا أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ ذُنُوبَهُمْ ، وَإِنْ كَانَ عَدَدَ قَطْرِ السَّمَاءِ وَرَمْلِ عَالِجٍ . وَإِذَا رَمَى الْجِمَارَ لا يَدْرِي أَحَدٌ لَهُ مَا لَهُ حَتَّى يُوَفَّاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَإِذَا حَلَقَ رَأْسَهُ فَلَهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ سَقَطَتْ مِنْ رَأْسِهِ نُورٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَإِذَا قَضَى آخِرَ طَوَافِهِ بِالْبَيْتِ خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کچھ کلمات ہیں، جن کے بارے میں، میں دریافت کرنا چاہتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بیٹھ جاؤ۔“ پھر ثقیف قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آیا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کچھ کلمات ہیں، جن کے بارے میں، میں جاننا چاہتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصاری شخص تم سے سبقت لے گیا ہے۔“ انصاری نے کہا: یہ شخص مسافر ہے اور مسافر کا حق ہوتا ہے آپ اس سے آغاز کیجیے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ثقفی شخص کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا: ”اگر تم چاہو تو میں تمہیں اس چیز کے بارے میں بتا دیتا ہوں، جس کے بارے میں تم دریافت کرنا چاہتے تھے اور اگر تم چاہو تو تم مجھ سے پوچھ لو میں تمہیں بتا دیتا ہوں۔“ اس شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ مجھے اس چیز کے بارے میں بتائیے جس کے بارے میں، میں آپ سے دریافت کرنا چاہتا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم مجھ سے رکوع و سجود، نماز اور روزے کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے آئے تھے؟“ تو اس نے کہا: جی ہاں! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے، میرے ذہن میں جو تھا آپ نے اس کے بارے میں کوئی غلطی نہیں کی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم رکوع میں جاؤ تو اپنی دونوں ہتھیلیاں اپنے گھٹنوں پر رکھ لو، تم اپنی انگلیوں کے درمیان کشادگی رکھو اور تم اتنی دیر وہاں ٹھہرے رہو کہ ہر عضو اپنی جگہ پر آ جائے۔ جب تم سجدے میں جاؤ تو اپنی پیشانی کو جما کر رکھو، تم ٹھونگ نہ مارو، تم دن کے ابتدائی حصے اور اس کے آخری حصے میں نماز ادا کرو۔“ اس نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! اگر میں ان دونوں کے درمیان میں نماز ادا کر لیتا ہوں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پھر تم نمازی ہو گئے۔ تم ہر مہینے میں تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کو روزے رکھو۔“ تو وہ ثقفی شخص کھڑا ہوا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس انصاری کی طرف متوجہ ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم چاہو تو میں تمہیں اس چیز کے بارے میں بتا دیتا ہوں، جس کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے تم آئے ہو اور اگر تم چاہو تو تم مجھ سے سوال کرو اور میں تمہیں خبر دوں گا۔“ اس نے عرض کی: جی نہیں! اے اللہ کے نبی! آپ مجھے اس چیز کے بارے میں بتا دیجیے جس کے بارے میں، میں آپ سے دریافت کرنا چاہتا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مجھ سے حاجی کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے آئے تھے، جب وہ اپنے گھر سے نکلتا ہے، تو اس کے کیا احکام ہوتے ہیں، جب وہ عرفات میں قیام کرتا ہے، تو اس کے کیا احکام ہوتے ہیں، جب وہ جمرات کو کنکریاں مارتا ہے، تو اس کے کیا احکام ہوتے ہیں، جب وہ اپنے سر کو منڈواتا ہے، تو اس کے کیا احکام ہوتے ہیں اور جب وہ آخر میں بیت اللہ کا طواف کرتا ہے، تو اس کے کیا احکام ہوتے ہیں۔“ اس شخص نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے، جو چیز میرے ذہن میں تھی اس کے بارے میں آپ نے کوئی غلطی نہیں کی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس شخص کے لیے حکم یہ ہے، جب وہ اپنے گھر سے نکلتا ہے، تو اس کی سواری جو بھی قدم اٹھاتی ہے اس کے بدلے میں اس شخص کو نیکی ملتی ہے یا اس کے کسی گناہ کو مٹا دیا جاتا ہے، جب وہ حاجی عرفہ میں وقوف کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا کی طرف نزول کرتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے: ”میرے ان بکھرے ہوئے بالوں اور غبار آلود (اجسام) والے بندوں کو دیکھو، تم لوگ گواہ ہو جاؤ، میں نے ان کے گناہوں کی مغفرت کر دی ہے۔“ اگرچہ وہ آسمان (یعنی بارش) کے قطروں کے برابر ہوں اور ریت کے ذروں کے برابر ہوں، جب حاجی جمرات کو کنکریاں مارتا ہے تو کوئی شخص یہ نہیں جان سکتا کہ اسے کیا اجر و ثواب ملے گا، یہاں تک کہ قیامت کے دن اس کا اجر و ثواب مکمل طور پر اسے دیا جائے گا، جب وہ اپنے سر کو منڈواتا ہے، تو اس کے سر سے گرنے والے ہر ایک بال کے عوض میں قیامت کے دن اسے نور نصیب ہوگا اور جب وہ بیت اللہ کا آخری طواف کرتا ہے، تو وہ اپنے گناہوں سے یوں باہر آ جاتا ہے جیسے اس دن تھا جب اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1887]

1888

Sahih Ibn Hibban #1888

أَخْبَرَنَا الْقَطَّانُ ، بِالرَّقَّةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ أَبِي الْعِشْرِينَ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَسْوَأُ النَّاسِ سَرَقَةً الَّذِي يَسْرِقُ صَلاتَهُ " . قَالَ : وَكَيْفَ يَسْرِقُ صَلاتَهُ ؟ قَالَ : " لا يُتِمُّ رُكُوعَهَا ، وَلا سُجُودَهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”لوگوں میں سب سے برا چور وہ ہے، جو اپنی نماز کی چوری کرتا ہے۔“ انہوں نے عرض کی: وہ اپنی نماز کی کیسے چوری کرتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ اس کے رکوع اور اس کے سجود کو مکمل ادا نہیں کرتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1888]