Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 17 · Chapter 1

Book of Marriage

Hadith 1809–1848

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

1809

Sahih Ibn Hibban #1809

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ السَّكْسَكِيِّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّي لا أُحْسِنُ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْئًا ، فَعَلِّمْنِي شَيْئًا يُجْزِئُنِي مِنْهُ . فَقَالَ : قُلْ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ " . قَالَ : هَذَا لِرَبِّي ، فَمَا لِي ؟ قَالَ : " قُلِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ، وَارْحَمْنِي ، وَارْزُقْنِي ، وَعَافِنِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: میں قرآن کی ٹھیک طور پر تلاوت نہیں کر سکتا، آپ مجھے کسی ایسی چیز کی تعلیم دیجیے جو اس کی جگہ میرے لیے کافی ہو۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہ پڑھو: «سُبْحَانَ اللّٰهِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ، وَاللّٰهُ أَكْبَرُ» ۔“ اس شخص نے عرض کی: یہ تو میرے پروردگار کی (تعریف کے طور پر اس کے) لیے ہوا، میرے لیے کیا ہو گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہ پڑھو: اے اللہ! تو میری مغفرت کر، تو مجھ پر رحم کر، مجھے رزق عطا کر اور تو مجھے عافیت نصیب کر۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1809]

1810

Sahih Ibn Hibban #1810

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ الأَصْفَهَانِيُّ بِالْكَرَخِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُمَيَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوَفَّقٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي لا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَتَعَلَّمَ الْقُرْآنَ ، فَعَلِّمْنِي مَا يُجْزِئُنِي مِنَ الْقُرْآنِ . قَالَ : قُلْ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، وَلا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ " . قَالَ : هَذَا لِلَّهِ ، فَمَا لِي ؟ قَالَ : " قُلْ : رَبِّ اغْفِرْ لِي ، وَارْحَمْنِي ، وَاهْدِنِي ، وَعَافِنِي ، وَارْزُقْنِي " . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ مَلأَ يَدَيْهِ خَيْرًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابنِ ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں قرآن کا علم حاصل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا، آپ مجھے ایسی چیز کی تعلیم دیں جو قرآن کی جگہ کافی ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہ پڑھو: «سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» “ اس شخص نے کہا: یہ تو اللہ کے لیے ہے، میرے لیے کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہ پڑھو: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَعَافِنِي وَارْزُقْنِي» ”اے میرے پروردگار! تو میری مغفرت کر دے، مجھ پر رحم کر، مجھے ہدایت نصیب کر، تو مجھے عافیت نصیب کر اور تو مجھے رزق عطا کر۔““ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس شخص نے اپنے دونوں ہاتھ بھلائی سے بھر لیے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1810]

1811

Sahih Ibn Hibban #1811

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ عُمَيْلَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّأَحَبَّ الْكَلامِ إِلَى اللَّهِ أَرْبَعٌ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ ترین چار کلمات ہیں: «سُبْحَانَ اللّٰهِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ، وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَاللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ پاک ہے، سب تعریف اللہ کے لیے ہے، اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے۔“” [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1811]

1812

Sahih Ibn Hibban #1812

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ : أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَيْرُ الْكَلامِ أَرْبَعٌ ، لا يَضُرُّكَ بِأَيِّهِنَّ بَدَأْتَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”کلام میں سب سے بہتر چار کلمات ہیں، تم ان میں سے جو بھی پہلے پڑھ لو گے تمہیں کوئی نقصان نہیں ہو گا۔ «سُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ، وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ» ۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1812]

1813

Sahih Ibn Hibban #1813

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا وَائِلٍ ، يُحَدِّثُ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى ابْنَ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ : إِنِّي قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ اللَّيْلَةَ كُلَّهُ فِي رَكْعَةٍ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : هَذَا كَهَذِّ الشِّعْرِ ، لَقَدْعَرَفْنَا النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرِنُ بِهِنَّ ، فَذَكَرَ عِشْرِينَ سُورَةً مِنَ الْمُفَصَّلِ ، سُورَتَيْنِ ، سُورَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابووائل بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا: میں نے گزشتہ رات ایک رکعت میں مفصل سورت کی تلاوت کی، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یہ تو شعر کو تیزی سے پڑھنے کی مانند ہو گیا، ہمیں یاد ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جیسی سورتیں ملا کر پڑھتے تھے۔“ پھر انہوں نے مفصل سے تعلق رکھنے والی بیس سورتوں کا تذکرہ کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہ دو، دو سورتیں ایک رکعت میں پڑھا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1813]

1814

Sahih Ibn Hibban #1814

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاقَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمِّي ، يَقُولُ : إِنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ ، فَسَمِعَهُ : يَقْرَأُ فِي إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ مِنَ الصُّبْحِ : وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَهَا طَلْعٌ نَضِيدٌ "، قَالَ شُعْبَةُ : وَسَأَلْتُهُ مَرَّةً أُخْرَى ، فَقَالَ : " سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ بِ ق """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زیاد بن علاقہ بیان کرتے ہیں: میرے چچا رضی اللہ عنہ یہ بات بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں صبح کی نماز ادا کی تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو صبح کی نماز کی دو رکعت میں سے ایک رکعت میں یہ آیت تلاوت کرتے سنا: ﴿وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَّهَا طَلْعٌ نَّضِيدٌ﴾ [سورة ق: 10] ”اور لمبی کھجوریں جن کے خوشے تہہ در تہہ ہوتے ہیں۔“ شعبہ کہتے ہیں: میں نے اپنے استاد سے دوسری مرتبہ اس حدیث کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سورہ ق کی تلاوت کرتے سنا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1814]

1815

Sahih Ibn Hibban #1815

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمِنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ ابْنِ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنَا ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ سُفْيَانَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُسَيَّبِ الْعَابِدِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ الصُّبْحَ ، وَاسْتَفْتَحَ سُورَةَ الْمُؤْمِنِينَ ، حَتَّى إِذَا جَاءَ ذِكْرُ مُوسَى ، وَهَارُونَ ، أَوْ ذِكْرُ عِيسَى مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ يَشُكُّ أَخَذَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْلَةٌ ، فَرَكَعَ ". قَالَ : وَابْنُ السَّائِبِ حَاضِرٌ ذَلِكَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ میں صبح کی نماز پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ مومنون کی تلاوت سے آغاز کیا، جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور سیدنا ہارون علیہ السلام کا تذکرہ آیا یا شاید سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ آیا (یہاں شک محمد بن عباد نامی راوی کو ہے) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانسی آ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں چلے گئے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ ابن سائب رضی اللہ عنہما اس وقت وہاں موجود تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1815]

1816

Sahih Ibn Hibban #1816

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيَقْرَأُ فِي الصُّبْحِ بِ : ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ " ، قَالَ : " وَكَانَتْ صَلاتُهُ بَعْدُ تَخْفِيفًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز میں سورہ ق کی تلاوت کرتے تھے، راوی بیان کرتے ہیں کہ بعد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نسبتاً مختصر نماز ادا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1816]

1817

Sahih Ibn Hibban #1817

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالا : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَلَيَؤُمُّنَا فِي الْفَجْرِ بِالصَّافَّاتِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سالم بن عبداللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (بعض اوقات) فجر کی نماز میں ہماری امامت کرتے ہوئے سورۃ صافات کی تلاوت کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1817]

1818

Sahih Ibn Hibban #1818

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَافَى الْعَابِدُ ، بِصَيْدَا ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،أَمَّهُمْ بِالْمُعَوِّذَتَيْنِ فِي صَلاةِ الصُّبْحِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز میں ان کی امامت کرتے ہوئے معوذتین کی تلاوت کی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1818]

1819

Sahih Ibn Hibban #1819

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ سَرِيعٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، قَالَ : صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ ، فَسَمِعْتُهُيَقْرَأُ : فَلا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ الْجَوَارِ الْكُنَّسِ " ، وَكَانَ لا يَحْنِي رَجُلٌ مِنَّا ظَهْرَهُ حَتَّى يَسْتَتِمَّ سَاجِدًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں فجر کی نماز ادا کی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ آیت تلاوت کرتے سنا: ﴿فَلَا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ الْجَوارِ الْكُنَّسِ﴾ [سورة التكوير: 15-16] ، راوی بیان کرتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی بھی شخص اپنی پشت کو اس وقت تک نہیں جھکاتا تھا جب تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکمل طور پر سجدے میں نہیں چلے جاتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1819]

1820

Sahih Ibn Hibban #1820

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عَزْرَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَانَيَقْرَأُ فِي صَلاةِ الصُّبْحِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ : " الم تَنْزِيلُ " السَّجْدَةَ ، وَ " هَلْ أَتَى عَلَى الإِنْسَانِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورۃ ﴿الٓمّٓ تَنْزِيلُ﴾ [سورة السجدة: 1] اور سورۃ ﴿الدَّهْرِ﴾ [سورة الدهر: 1] کی تلاوت کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1820]

1821

Sahih Ibn Hibban #1821

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مُخَوَّلِ بْنِ رَاشِدٍ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَانَيَقْرَأُ فِي صَلاةِ الْفَجْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ " الم تَنْزِيلُ " السَّجْدَةَ ، وَ " هَلْ أَتَى عَلَى الإِنْسَانِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورۃ ﴿الم تَنْزِيلُ﴾ [سورة السجدة: 1] (سجدہ) اور سورۃ الدہر کی تلاوت کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1821]

1822

Sahih Ibn Hibban #1822

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو الْمِنْهَالِ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَانَيَقْرَأُ فِي صَلاةِ الْغَدَاةِ بِالسِّتِّينَ إِلَى الْمِئَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز میں ساٹھ سے لے کر سو آیات کی تلاوت کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1822]

1823

Sahih Ibn Hibban #1823

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي نَحْوًا مِنْ صَلاتِكُمْ ، كَانَيُخَفِّفُ الصَّلاةَ ، وَكَانَ يَقْرَأُ فِي صَلاةِ الْفَجْرِ بِالْوَاقِعَةِ وَنَحْوِهَا مِنَ السُّوَرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تم لوگوں کی نماز کی مانند نماز ادا کرتے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مختصر نماز ادا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز میں سورۃ الواقعہ اور اس جیسی سورتوں کی تلاوت کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1823]

1824

Sahih Ibn Hibban #1824

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَثَابِتٍ ، وَحُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُمْ كَانُوايَسْمَعُونَ مِنْهُ فِي الظُّهْرِ النَّغَمَةَ بِ : سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى ، وَ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ وہ لوگ ظہر کی نماز میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سورۃ الاعلیٰ اور سورۃ الغاشیہ کی تلاوت کی دھیمی آواز سن لیتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1824]

1825

Sahih Ibn Hibban #1825

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ ، عَنِ الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَقُومُ فِي صَلاةِ الظُّهْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ قَدْرَ قِرَاءَةِ ثَلاثِينَ آيَةً فِي كُلِّ رَكْعَةٍ ، وَفِي الرَّكْعَتَيْنِ الآخِرَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ قَدْرَ قِرَاءَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ آيَةً ، وَكَانَ يَقُومُ فِي الْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ قَدْرَ خَمْسَ عَشْرَةَ آيَةً ، وَفِي الآخِرَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ قَدْرَ نِصْفِ ذَلِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز کی ابتدائی دو رکعات میں قیام کے دوران ہر رکعت میں تقریباً تیس کے قریب آیات کی تلاوت کرتے تھے، اور آخری دو رکعات میں سے ایک رکعت میں پندرہ آیات کی تلاوت کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز کی پہلی دو رکعات میں سے ہر رکعت میں تقریباً پندرہ آیات کی تلاوت کرتے تھے اور آخری دو رکعت میں سے ہر ایک رکعت میں اس سے نصف مقدار جتنی تلاوت کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1825]

1826

Sahih Ibn Hibban #1826

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، قَالَ : قُلْنَا لِخَبَّابٍ : هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ؟ قَالَ : نَعَمْ " . قُلْنَا : بِمَ كُنْتُمْ تَعْرِفُونَ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " بِاضْطِرَابِ لِحْيَتِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابومعمر بیان کرتے ہیں: ہم نے سیدنا خباب رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی نماز میں قرأت کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں، ہم نے دریافت کیا: آپ کو یہ بات کیسے پتا چلتی تھی؟ انہوں نے جواب دیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی کی حرکت کی وجہ سے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1826]

1827

Sahih Ibn Hibban #1827

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَانَيَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ، بِ السَّمَاءِ وَالطَّارِقِ ، وَ السَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوجِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی نماز میں سورۃ طارق اور سورۃ بروج کی تلاوت کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1827]

1828

Sahih Ibn Hibban #1828

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : كُنَّا نَحْزِرُقِيَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ ، فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ قَدْرَ ثَلاثِينَ آيَةً ، فِي كُلِّ رَكْعَةٍ ، قَدْرَ " الم تَنْزِيلُ " السَّجْدَةَ ، وَفِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُخْرَيَيْنِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ ، وَحَزَرْنَا قِرَاءَتَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ ، عَلَى قَدْرِ الأُخْرَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ ، وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُخْرَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ ، عَلَى قَدْرِ النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے (نماز میں) قیام کا اندازہ لگایا کرتے تھے، تو ظہر کی نماز میں ابتدائی دو رکعات میں تیس آیات کی تلاوت کی مقدار جتنا قیام ہوتا تھا، آپ ہر ایک رکعت میں سورہ ﴿الٓمّٓ ﴿١﴾ تَنْزِيلُ﴾ [سورة السجدة: 1-2] جتنی تلاوت کرتے تھے اور (ظہر کی نماز) میں آخری دو رکعات میں اس سے نصف تلاوت کرتے تھے۔ ہم نے عصر کی نماز کی ابتدائی دو رکعات میں آپ کی تلاوت کا اندازہ لگایا تو یہ ظہر کی آخری دو رکعات جتنی ہوتی تھی، اور ہم نے عصر کی آخری دو رکعات میں آپ کے قیام کا اندازہ لگایا تو یہ اس سے نصف ہوتا تھا، (جو آپ عصر کی پہلی دو رکعات میں قیام کرتے تھے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1828]

1829

Sahih Ibn Hibban #1829

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالا : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، وَأَبَانُ ، جميعا عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَانَيَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ ، وَيُسْمِعُنَا الآيَةَ أَحْيَانًا ، وَيَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن ابی قتادہ رحمہ اللہ اپنے والد سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی ابتدائی دو رکعات میں سورہ فاتحہ اور اس کے ساتھ کسی سورہ کی تلاوت کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات کوئی ایک آیت ہمیں سنا دیتے تھے (یعنی بلند آواز میں تلاوت کرتے تھے) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری دو رکعات میں صرف سورہ فاتحہ کی تلاوت کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1829]

1830

Sahih Ibn Hibban #1830

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، قَالَ : قُلْنَا لِخَبَّابٍ :بِأَيِّ شَيْءٍ كُنْتُمْ تَعْرِفُونَ قِرَاءَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ؟ قَالَ : بِاضْطِرَابِ لِحْيَتِهِ ". أَبُو مَعْمَرٍ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَخْبَرَةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابومعمر بیان کرتے ہیں، ہم لوگوں نے سیدنا خباب رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: آپ حضرات کس طرح ظہر اور عصر کی نماز میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت کا اندازہ لگاتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی کی حرکت کی وجہ سے۔ ابومعمر نامی راوی کا نام عبداللہ بن سخیرہ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1830]

1831

Sahih Ibn Hibban #1831

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَسُورَتَيْنِ مَعَهَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ مِنْ صَلاةِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ، وَيُسْمِعُنَا الآيَةَ أَحْيَانًا ، وَكَانَ يُطَوِّلُ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى مِنْ صَلاةِ الظُّهْرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن ابو قتادہ اپنے والد (سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ) سے یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی نماز کی پہلی دو رکعات میں سورہ فاتحہ اور اس کے ہمراہ دو سورتوں (یعنی ہر رکعت میں کسی دوسری سورۃ) کی تلاوت بھی کرتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات کوئی ایک آیت ہمیں سنا دیا کرتے تھے (یعنی بلند آواز میں تلاوت کرتے تھے)؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز کی پہلی رکعت طویل ادا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1831]

1832

Sahih Ibn Hibban #1832

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ ، بِمَنْبِجَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ بِنْتَ الْحَارِثِ ، سَمِعَتْهُ يَقْرَأُ : وَالْمُرْسَلاتِ عُرْفًا ، فَقَالَتْ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، ذَكَّرْتَنِي بِقِرَاءَتِكَ هَذِهِ السُّورَةَ ، إِنَّهَا لآخِرُ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَرَأَ بِهَا فِي الْمَغْرِبِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا نے انہیں سورۃ المرسلات کی تلاوت کرتے ہوئے سنا تو انہوں نے فرمایا: اے عبداللہ! تمہاری اس سورہ کی تلاوت نے مجھے یہ یاد دلا دیا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی آخری تلاوت اسی سورت کی سنی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مغرب کی نماز میں تلاوت کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1832]

1833

Sahih Ibn Hibban #1833

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهِبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عَقِيلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ : سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن جبیر اپنے والد (سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں سورۂ طور کی تلاوت کرتے سنا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1833]

1834

Sahih Ibn Hibban #1834

أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَدِمْتُ فِي فِدَاءِ أَهْلِ بَدْرٍ ، فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَيُصَلِّي بِالنَّاسِ الْمَغْرِبَ وَهُوَ يَقْرَأُ : " وَالطُّورِ . وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن جبیر اپنے والد (سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں اہل بدر کے فدیہ کے سلسلے میں آیا، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا اس وقت آپ لوگوں کو مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے اور آپ سورہ ﴿الطُّور﴾ [سورة الطور] کی تلاوت کر رہے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1834]

1835

Sahih Ibn Hibban #1835

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَرَأَ بِهِمْ فِي الْمَغْرِبِ بِ الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو مغرب کی نماز پڑھاتے ہوئے اس آیت ﴿الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ﴾ [سورة محمد: 1] کی تلاوت کی: ”وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستے سے روک دیا“ (یعنی سورہ محمد کی تلاوت کی)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1835]

1836

Sahih Ibn Hibban #1836

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ مَرْوَانَ يَقْرَأُ بِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ، وَ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ ، فَقَالَ زَيْدٌ : فَحَلَفْتُ بِاللَّهِ ، لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَقْرَأُ فِيهَا بِأَطْوَلِ الطَّوِيلَتَيْنِ المص """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بن زبیر سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ جب انہوں نے مروان کو سورۃ الاخلاص اور سورۃ الکوثر کی تلاوت کرتے سنا تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اللہ کے نام کی قسم اٹھا کر یہ بات کہتا ہوں کہ ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز میں دو طویل سورتوں میں سے زیادہ طویل سورت کی تلاوت کرتے تھے یعنی ﴿المص﴾ [سورة الأعراف: 1] کی (تلاوت کرتے تھے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1836]

1837

Sahih Ibn Hibban #1837

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَشْبَهَ صَلاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فُلانٍ ، أَمِيرٌ كَانَ بِالْمَدِينَةِ ، قَالَ سُلَيْمَانُ : فَصَلَّيْتُ أَنَا وَرَاءَهُ ، فَكَانَيُطِيلُ فِي الأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ ، وَيُخَفِّفُ الأُخْرَيَيْنِ ، وَيُخَفِّفُ الْعَصْرَ ، وَيَقْرَأُ فِي الأُولَيَيْنِ مِنَ الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ ، وَفِي الْعِشَاءِ بِوَسَطِ الْمُفَصَّلِ ، وَفِي الصُّبْحِ بِطِوَالِ الْمُفَصَّلِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سلیمان بن یسار یہ بات بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا کہ میں نے فلاں شخص کے مقابلے میں کسی شخص کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے مشابہ نماز ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا، انہوں نے یہ بات مدینہ منورہ کے گورنر کے بارے میں کہی تھی۔ سلیمان نامی راوی کہتے ہیں: میں نے بھی اس شخص کے پیچھے نماز ادا کی تھی، تو وہ ظہر کی ابتدائی دو رکعات میں طویل قرأت کرتے تھے اور آخری دو رکعات نسبتاً مختصر ادا کرتے تھے، وہ عصر کی نماز کو مختصر ادا کرتے تھے اور مغرب کی نماز کی ابتدائی دو رکعات میں قصارِ مفصل تلاوت کرتے تھے اور عشاء کی نماز میں اوساطِ مفصل کی تلاوت کرتے تھے جبکہ فجر کی نماز میں طوالِ مفصل کی تلاوت کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1837]

1838

Sahih Ibn Hibban #1838

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّهُ كَانَفِي سَفَرٍ ، فَقَرَأَ فِي الْعِشَاءِ فِي إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ بِ التِّينِ وَالزَّيْتُونِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں دو رکعت میں سے ایک رکعت میں سورہ ﴿وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ﴾ [سورة التين: 1] کی تلاوت کی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1838]

1839

Sahih Ibn Hibban #1839

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَمَرَ مُعَاذًا أَنْ يَقْرَأَ فِي صَلاةِ الْعِشَاءِ وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا ، وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى ، وَ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى ، وَالضُّحَى ، وَنَحْوَهَا مِنَ السُّوَرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یہ ہدایت کی: ”عشاء کی نماز میں سورہ شمس، سورہ لیل، سورہ اعلیٰ اور سورہ ضحی جیسی سورتوں کی تلاوت کریں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1839]

1840

Sahih Ibn Hibban #1840

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، وأبي الزبير ، سمعا جابر بن عبد الله ، يزيد أحدهما على صاحبه ، قَالَ : كَانَ مُعَاذٌ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى قَوْمِهِ فَيُصَلِّي بِهِمْ ، فَأَخَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلاةَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَرَجَعَ مُعَاذٌ فَأَمَّهُمْ فَقَرَأَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ ، انْحَرَفَ إِلَى نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ ، فَصَلَّى وَحْدَهُ ، فَقَالُوا : نَافَقْتَ . قَالَ : لا ، وَلآتِيَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلأُخْبِرَنَّهُ . فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ مُعَاذًا يُصَلِّي مَعَكَ ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّنَا ، وَإِنَّكَ أَخَّرْتَ الصَّلاةَ الْبَارِحَةَ ، فَجَاءَ فَأَمَّنَا ، فَقَرَأَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ ، وَإِنِّي أَخَّرْتَ عَنْهُ ، فَصَلَّيْتُ وَحْدِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَإِنَّا نَحْنُ أَصْحَابُ نَوَاضِحَ ، وَإِنَّا نَعْمَلُ بِأَيْدِينَا . فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا مُعَاذُ ، أَفَتَّانٌ أَنْتَ ؟اقْرَأْ بِهِمْ سُورَةَ : وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى ، وَ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى ، وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوجِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرو بن دینار اور ابوزبیر سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ حدیث نقل کرتے ہیں، ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی کے مقابلے میں زیادہ الفاظ نقل کیے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز ادا کرتے تھے، پھر وہ اپنے محلے میں جا کر لوگوں کو نماز پڑھایا کرتے تھے، ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز ذرا تاخیر سے ادا کی (سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز ادا کی)، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ واپس گئے اور ان لوگوں کو نماز پڑھانے لگے، انہوں نے سورۃ البقرہ کی تلاوت شروع کر دی، وہاں موجود لوگوں میں سے ایک شخص نے جب یہ بات دیکھی تو وہ مسجد کے کونے میں گیا اور وہاں تنہا نماز ادا کی (اور چلا گیا)، ان لوگوں نے اس سے کہا: ”تم منافق ہو گئے ہو“، تو اس نے کہا: ”جی نہیں! میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو اس بارے میں بتاؤں گا“، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: ”یا رسول اللہ! سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ آپ کی اقتدا میں نماز ادا کرتے ہیں پھر وہ واپس آ کر ہماری امامت کرتے ہیں، گزشتہ رات آپ نے نماز تاخیر سے ادا کی تھی، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے ہمیں نماز پڑھانا شروع کی تو انہوں نے سورۃ البقرہ کی تلاوت شروع کر دی، میں پیچھے ہٹا اور تنہا نماز ادا کر لی، یا رسول اللہ! ہم اونٹوں کے ذریعے پانی بھر کر لانے والے اور اپنے ہاتھوں کے ذریعے خود کام کرنے والے لوگ ہیں“، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! کیا تم آزمائش کا شکار کرنا چاہتے ہو؟ تم ان لوگوں کو (نماز پڑھاتے ہوئے) سورۃ الیل، سورۃ الاعلیٰ اور سورۃ البروج کی تلاوت کیا کرو“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1840]

1841

Sahih Ibn Hibban #1841

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ عَاصِمٍ ، بِبُخَارَى ، حَدَّثَنَا أَبُو قِلابَةَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : وَلا أَعْلَمُ إِلا جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :يَقْرَأُ فِي صَلاةِ الْمَغْرِبِ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ بِ : قُلْ يَأَيُّهَا الْكَافِرُونَ ، وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ، وَيَقْرَأُ فِي الْعِشَاءِ الآخِرَةِ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ الْجُمُعَةَ ، وَالْمُنَافِقِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شبِ جمعہ میں مغرب کی نماز میں سورہ کافرون اور سورہ اخلاص کی، جبکہ عشاء کی نماز میں سورۃ جمعہ اور سورۃ منافقین کی تلاوت کیا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1841]

1842

Sahih Ibn Hibban #1842

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، وَذَكَرَ ابْنَ سَلْمٍ آخَرَ مَعَهُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَسْلَمَ بْنِ عِمْرَانَ ، ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ : تَبِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ رَاكِبٌ ، فَجَعَلْتُ يَدِي عَلَى قَدَمِهِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَقْرِئْنِي إِمَّا مِنْ سُورَةِ هُودٍ ، وَإِمَّا مِنْ سُورَةِ يُوسُفَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا عُقْبَةُ بْنَ عَامِرٍ ، إِنَّكَلَنْ تَقْرَأَ سُورَةً أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ ، وَلا أَبْلَغَ عِنْدَهُ مِنْ أَنْ تَقْرَأَ : قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ، فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لا تَفُوتَكَ فِي صَلاةٍ فَافْعَلْ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَسْلَمُ بْنُ عِمْرَانَ ، كُنْيَتُهُ : أَبُو عِمْرَانَ ، مِنْ أَهْلِ مِصْرَ ، مِنْ جُمْلَةِ تَابِعِيهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سوار تھے، میں نے اپنا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم شریف پر رکھا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے تلاوت سکھا دیجیے یا سورہ ہود کی یا سورۃ یوسف کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے عقبہ بن عامر! تم ایسی کسی سورت کی تلاوت نہیں کرو گے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک سورۃ الفلق سے زیادہ محبوب اور اس کی بارگاہ میں زیادہ پہنچنے والی ہو۔ اگر تم سے ہو سکے تو تم ہر نماز میں اسے پڑھا کرو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اسلم بن عمران کی کنیت ابوعمران ہے، یہ اہل مصر میں سے ہیں اور وہاں کے تابعین میں سے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1842]

1843

Sahih Ibn Hibban #1843

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ أُكَيْمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، ، أَنَّهُ قَالَ : صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةً ، فَجَهَرَ فِيهَا ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، اسْتَقْبَلَ النَّاسَ ، فَقَالَ : هَلْ قَرَأَ آنِفًا مِنْكُمْ أَحَدٌ ؟ " . قَالُوا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ :" لأَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ ؟ ! """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں بلند آواز میں قرأت کی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو لوگوں کی طرف رخ کیا اور ارشاد فرمایا: ”کیا ابھی تم میں سے کسی نے تلاوت کی؟“ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں، یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بھی سوچ رہا تھا کہ کیا وجہ ہے، قرآن (کی تلاوت میں) میرے لیے رکاوٹ آ رہی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1843]

1844

Sahih Ibn Hibban #1844

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ أَبِي زُمَيْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِأَصْحَابِهِ ، فَلَمَّا قَضَى صَلاتَهُ ، أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ بِوَجْهِهِ ، فَقَالَ : أَتَقْرَءُونَ فِي صَلاتِكُمْ خَلْفَ الإِمَامِ ، وَالإِمَامُ يَقْرَأُ ؟ " . فَسَكَتُوا ، فَقَالَهَا ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، فَقَالَ قَائِلٌ ، أَوْ قَائِلُونَ : إِنَّا لَنَفْعَلُ . قَالَ : " فَلا تَفْعَلُوا ، وَلْيَقْرَأْ أَحَدُكُمْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِي نَفْسِهِ ". قَوْلُهُ : " فَلا تَفْعَلُوا " ، لَفْظَةُ زَجْرٍ مُرَادُهَا ابْتِدَاءُ أَمْرٍ مُسْتَأْنَفٍ ، إِذِ الْعَرَبَ تَفْعَلُ ذَلِكَ فِي لُغَتِهَا كَثِيرًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو نماز پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف رخ کیا اور ارشاد فرمایا: ”کیا تم لوگ اپنے امام کے پیچھے قرأت کرتے ہو جب امام تلاوت کر رہا ہو؟“ لوگ خاموش رہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہ بات ارشاد فرمائی تو ایک صاحب نے عرض کی، یا شاید لوگوں نے عرض کی: ہم ایسا کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ ایسا نہ کرو، تم میں سے کوئی ایک (یعنی ہر ایک) اپنے دل میں سورہ فاتحہ کی تلاوت کر لیا کرے۔“ روایت کے یہ الفاظ: ”تم ایسا نہ کرو“ یہ الفاظ ممانعت کے ہیں، لیکن اس سے مراد ابتدائی طور پر نئے سرے سے کوئی حکم دینا ہے، کیونکہ عرب اپنے محاورے میں اکثر ایسا کرتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1844]

1845

Sahih Ibn Hibban #1845

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنَّ رَجُلا قَرَأَ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي الظُّهْرِ ، أَوِ الْعَصْرِ ، فَقَالَ : أَيُّكُمْ قَرَأَ بِ : سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى ؟ " . فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : أَنَا . فَقَالَ : " قَدْ عَرَفْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے شاید ظہر یا عصر کی نماز میں تلاوت کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کس نے سورۂ اعلیٰ کی تلاوت کی ہے؟“ حاضرین میں سے ایک شخص نے کہا: میں نے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں جان گیا تھا کہ تم میں سے کوئی ایک شخص میرے لیے رکاوٹ ڈال رہا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1845]

1846

Sahih Ibn Hibban #1846

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : قَرَأَ رَجُلٌ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ ، أَوِ الْعَصْرِ - شَكَّ أَبُو عَوَانَةَ - فَقَالَ : أَيُّكُمْ قَرَأَ : سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى ؟ " . فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : أَنَا . فَقَالَ : " قَدْ عَرَفْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے شاید ظہر یا عصر کی نماز میں تلاوت کی، یہ شک ابوعوانہ نامی راوی کو ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تم میں سے کس شخص نے ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1] کی تلاوت کی ہے؟“ حاضرین میں سے ایک شخص نے عرض کی: میں نے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ تم میں سے کوئی ایک شخص میرے لیے (تلاوت میں) رکاوٹ ڈال رہا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1846]

1847

Sahih Ibn Hibban #1847

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى يُحَدِّثُ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، صَلَّى الظُّهْرَ ،فَجَعَلَ رَجُلٌ يَقْرَأُ خَلْفَهُ بِ : سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ : أَيُّكُمُ الَّذِي قَرَأَ ؟ أَوْ أَيُّكُمُ الْقَارِئُ ؟ " . فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ : " قَدْ عَرَفْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز ادا کی، ایک شخص نے آپ کے پیچھے سورہ اعلی کی تلاوت شروع کر دی، جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے دریافت کیا: ”تم میں سے وہ کون شخص ہے جس نے تلاوت کی ہے؟“ یا شاید یہ فرمایا: ”تم میں سے کون تلاوت کرنے والا ہے؟“ ایک شخص نے عرض کی: میں ہوں، یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اندازہ ہو گیا تھا تم میں سے کوئی ایک میرے لیے رکاوٹ پیدا کر رہا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1847]

1848

Sahih Ibn Hibban #1848

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَزَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَكْحُولٌ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، وَكَانَ يَسْكُنُ إِيلِيَاءَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الصُّبْحِ فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : إِنِّي لأَرَاكُمْ تَقْرَءُونَ وَرَاءَ إِمَامِكُمْ " . قَالَ : قُلْنَا : أَجَلْ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذًّا . قَالَ : "فَلا تَفْعَلُوا إِلا بِأُمِّ الْكِتَابِ ، فَإِنَّهُ لا صَلاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا ". قَالَ الشَّيْخُ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَلا تَفْعَلُوا " ، لَفْظَةُ زَجْرٍ مُرَادُهَا ابْتِدَاءُ أَمْرٍ مُسْتَأْنَفٍ ، إِذِ الْعَرَبُ فِي لُغَتِهَا إِذَا أَرَادَتِ الأَمْرَ بِالشَّيْءِ عَلَى سَبِيلِ التَّأْكِيدِ ، تُقَدِّمُهُ لَفْظَةَ زَجْرٍ ، ثُمَّ تُعْقِبُهُ الأَمْرَ الَّذِي تُرِيدُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے قرأت کرنا دشوار ہوا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”میرا خیال ہے تم لوگ اپنے امام کے پیچھے تلاوت کرتے ہو۔“ راوی بیان کرتا ہے ہم نے عرض کی: جی ہاں! اللہ کی قسم! یا رسول اللہ! ہم تیزی سے تلاوت کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ ایسا نہ کرو، صرف سورۃ فاتحہ پڑھ لیا کرو کیونکہ ایسے شخص کی نماز نہیں ہوتی جو اس کی تلاوت نہیں کرتا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”تم ایسا نہ کرو“ یہ الفاظ ممانعت کے ہیں، اس سے مراد ابتدائی طور پر ازسرنو کوئی حکم دینا ہے، کیونکہ عرب اپنے محاورے میں جب تاکید کے طور پر کسی چیز کا حکم دینے کا ارادہ کرتے ہیں، تو پہلے ممانعت کے الفاظ ذکر کرتے ہیں اور پھر اس کے بعد وہ حکم ہوتا ہے جو وہ مراد لیتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1848]