Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 16 · Chapter 3

Book of Hajj

Hadith 1775–1808

34 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

1775

Sahih Ibn Hibban #1775

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى الْبُسْتَانِيُّ ، بِدِمَشْقَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَبَّرَ ، سَكَتَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ . فَقُلْتُ : بِأَبِي وَأُمِّي ، أَرَأَيْتَ سَكَتَاتِكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ ؟ أَخْبَرَنِي مَا تَقُولُ فِيهَا ؟ قَالَ : اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنْ خَطَايَايَ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تکبیر کہتے تھے، تو تکبیر اور قرأت کے درمیان کچھ دیر خاموش رہتے تھے۔ میں نے عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ تکبیر اور قرأت کے درمیان جو خاموش رہتے ہیں، اس کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ مجھے بتائیے کہ اس دوران آپ کیا پڑھتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(میں یہ پڑھتا ہوں): «اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ» ”اے اللہ! میرے اور میری خطاؤں کے درمیان اتنا فاصلہ کر دے جتنا تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ کیا ہے۔ اے اللہ! مجھے میری خطاؤں سے اس طرح صاف کر دے جس طرح سفید کپڑے کو میل سے صاف کیا جاتا ہے۔ اے اللہ! تو میری خطاؤں کو پانی، اولوں اور برف کے ذریعے دھو دے۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1775]

1776

Sahih Ibn Hibban #1776

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلاةِ سَكَتَ هُنَيْهَةً قَبْلَ أَنْ يَقْرَأَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِأَبِي وَأُمِّي ، أَرَأَيْتَ سُكُوتَكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ ، مَا هُوَ ؟ قَالَ : أَقُولُ :اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں تکبیر کہتے تھے، تو آپ قرأت کرنے سے پہلے کچھ دیر خاموش رہتے تھے، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ تکبیر اور قرأت کے درمیان جو خاموش ہوتے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں یہ پڑھتا ہوں: «اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ» ”اے اللہ! میرے اور میری خطاؤں کے درمیان اتنا فاصلہ کر دے جتنا تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ رکھا ہے۔ اے اللہ! مجھے خطاؤں سے پاک کر دے اس طرح جس طرح سفید کپڑے کو میل سے صاف کیا جاتا ہے۔ اے اللہ! میری خطاؤں کو پانی، اولوں اور برف کے ذریعے دھو دے۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1776]

1777

Sahih Ibn Hibban #1777

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَمْعَانَ ، مَوْلَى الزُّرَقِيِّينَ ، قَالَ : دَخَلَ عَلَيْنَا أَبُو هُرَيْرَةَ الْمَسْجِدَ ، فَقَالَ : ثَلاثٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ بِهِنَّ ، تَرَكَهُنَّ النَّاسُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ مَدًّا ، وَكَانَ يَقِفُ قَبْلَ الْقِرَاءَةِ هُنَيْهَةً يَسْأَلُ اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ ، وَكَانَ يُكَبِّرُ فِي الصَّلاةِ كُلَّمَا رَكَعَ وَسَجَدَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن سمعان بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس مسجد میں تشریف لائے، انہوں نے فرمایا: تین چیزیں ایسی ہیں جن پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عمل کیا کرتے تھے، لوگوں نے ان کو ترک کر دیا ہے؛ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تھے تو آپ دونوں ہاتھ بلند کر کے اٹھاتے تھے اور آپ قرأت کرنے سے پہلے کچھ دیر خاموش رہتے تھے جس میں آپ اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل مانگتے تھے اور آپ نماز کے دوران ہر دفعہ رکوع اور سجدے میں جاتے ہوئے تکبیر کہتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1777]

1778

Sahih Ibn Hibban #1778

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلاةِ سَكَتَ هُنَيْهَةً قَبْلَ أَنْ يَقْرَأَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، أَرَأَيْتَ سُكُوتَكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ ، مَا تَقُولُ ؟ قَالَ : اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں تکبیر کہتے تھے، تو آپ قرأت سے پہلے کچھ دیر خاموش رہتے تھے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ تکبیر اور قرأت کے درمیان کیا پڑھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(یہ پڑھتا ہوں) «اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ، كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ» ”اے اللہ! میرے اور میری خطاؤں کے درمیان فاصلہ کر دے جتنا تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ رکھا ہے۔ اے اللہ! مجھے خطاؤں سے اس طرح صاف کر دے جس طرح سفید کپڑے سے میل کو صاف کیا جاتا ہے، اے اللہ! میری خطاؤں کو برف، پانی اور اولوں کے ذریعے دھو دے۔“” [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1778]

1779

Sahih Ibn Hibban #1779

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَنَزِيِّ ، عَنِ ابْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلاةَ ، قَالَ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ : مِنْ هَمْزِهِ ، وَنَفْخِهِ ، وَنَفْثِهِ ". قَالَ عَمْرٌو : هَمْزُهُ : الْمُوتَةُ ، وَنَفْخُهُ : الْكِبْرُ ، وَنَفْثُهُ : الشِّعْرُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کا آغاز کرتے تھے، تو یہ پڑھتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ» ”اے اللہ! میں شیطان سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اس کے ٹہوکا دینے، پھونک مارنے اور پھونکنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ عمرو نامی راوی کہتے ہیں: اس کے ٹہوکا دینے سے مراد مرگی ہے اور پھونک مارنے سے مراد تکبر ہے اور اس کے پھونکنے سے مراد شعر کہنا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1779]

1780

Sahih Ibn Hibban #1780

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَنَزِيِّ ، عَنِ ابْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا دَخَلَ الصَّلاةَ ، قَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا - ثَلاثًا - سُبْحَانَ اللَّهِ بَكْرَةً وَأَصِيلا - ثَلاثًا - أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ : مِنْ نَفْخِهِ ، وَهَمْزِهِ ، وَنَفْثِهِ ". قَالَ عَمْرٌو : نَفْخُهُ : الْكِبْرُ ، وَهَمْزُهُ : الْمُوتَةُ ، وَنَفْثُهُ : الشِّعْرُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تھے تو یہ کہتے تھے: «اَللّٰهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا» ”اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے، وہ بڑائی والا ہے“ اور «وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ كَثِيرًا» ”ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے، جو زیادہ ہو“، یہ کلمات آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین مرتبہ کہتے تھے، پھر تین مرتبہ یہ کہتے تھے: «وَسُبْحَانَ اللّٰهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا» ”میں صبح اور شام اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتا ہوں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہتے تھے: «أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ» ”میں مردود شیطان سے اس کے پھونک مارنے سے، اس کے پھونکنے سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں“۔ عمرو نامی راوی کہتے ہیں: نفخ سے مراد تکبر ہے، ہمز سے مراد مرگی ہے اور نفث سے مراد شعر کہنا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1780]

1781

Sahih Ibn Hibban #1781

أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيُّ ، بِالْبَصْرَةِ ، أَبُو يَزِيدَ الْعَدْلُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ رَقَبَةَ بْنِ مَسْقَلَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كُلُّ الصَّلاةِ يُقْرَأُ فِيهَا " ، فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ وَمَا أَخْفَى مِنَّا أَخْفَيْنَا مِنْكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہر نماز میں قراءت کی جاتی ہے، تو جس نماز میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں قراءت سنا دیا کرتے تھے (یعنی بلند آواز میں قراءت کیا کرتے تھے) تو ہم اس میں تمہیں قراءت سنا دیتے ہیں اور جس نماز میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے مخفی رکھتے تھے (یعنی پست آواز میں قراءت کرتے تھے) ہم ان میں تم سے مخفی رکھتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1781]

1782

Sahih Ibn Hibban #1782

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا صَلاةَ لِمَنْ لا يَقْرَأُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا محمود بن ربیع، سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں، انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے بارے میں پتہ چلا ہے: ”اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو (نماز میں) سورۃ فاتحہ نہیں پڑھتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1782]

1783

Sahih Ibn Hibban #1783

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلاةِ ، فَلا يَبْصُقْ أَمَامَهُ ، لأَنَّهُ يُنَاجِي رَبَّهُ مَا دَامَ فِي صَلاتِهِ ، وَلا عَنْ يَمِينِهِ ، فَإِنَّ عَنْ يَمِينِهِ مَلَكًا ، وَلَكِنْ لِيَبْصُقْ عَنْ شِمَالِهِ ، أَوْ تَحْتَ رِجْلِهِ فَيَدْفِنُهُ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فِي هَذَا الْخَبَرِ بَيَانٌ وَاضِحٌ بِأَنَّ عَلَى الْمَأْمُومِ قِرَاءَةُ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِي صَلاتِهِ ، إِذِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَ أَنَّ الْمُصَلِّيَ يُنَاجِي رَبَّهُ ، وَالْمُنَاجَاةُ لا تَكُونُ إِلا بِنُطْقِ الْخَطَّابِ دُونَ التَّسْبِيحِ وَالتَّكْبِيرِ وَالسُّكُوتِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہو تو اپنے سامنے کی طرف نہ تھوکے کیونکہ وہ جب تک نماز پڑھ رہا ہوتا ہے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں مناجات کر رہا ہوتا ہے، وہ اپنے دائیں طرف بھی نہ تھوکے کیونکہ اس کی دائیں طرف ایک فرشتہ ہوتا ہے، وہ اپنے بائیں طرف یا پاؤں کے نیچے تھوکے اور اسے دفن کر دینا چاہیے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت اس بات کا واضح بیان ہے کہ مقتدی پر بھی نماز کے دوران سورہ فاتحہ پڑھنا فرض ہے، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی اطلاع دی ہے کہ نمازی اپنے پروردگار سے مناجات کر رہا ہوتا ہے، اور مناجات اس وقت ہو سکتی ہیں جب لفظی طور پر کسی کو مخاطب کیا جائے، تسبیح یا تکبیر پڑھنے یا خاموش رہنے پر (مناجات کا اطلاق نہیں ہوتا)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1783]

1784

Sahih Ibn Hibban #1784

فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : قَالَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا :قَسَمْتُ الصَّلاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ ، فَنِصْفُهَا لِي ، وَنِصْفُهَا لِعَبْدِي ، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ " ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْرَءُوا ، يَقُولُ الْعَبْدُ : الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، يَقُولُ اللَّهُ : حَمِدَنِي عَبْدِي ، يَقُولُ الْعَبْدُ : الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، يَقُولُ اللَّهُ : أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي ، يَقُولُ الْعَبْدُ : مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ ، يَقُولُ اللَّهُ : مَجَّدَنِي عَبْدِي ، وَهَذِهِ الآيَةُ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي ، يَقُولُ الْعَبْدُ : إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ، فَهَذِهِ الآيَةُ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي ، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ ، يَقُولُ الْعَبْدُ : اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ . صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ . غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ ، فَهَؤُلاءِ لِعَبْدِي ، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص ایسی نماز ادا کرتا ہے جس میں سورۃ فاتحہ کی تلاوت نہیں کرتا، وہ نماز نامکمل ہوتی ہے، وہ نامکمل ہوتی ہے، وہ پوری نہیں ہوتی۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) میں نے کہا: اے ابوہریرہ! میں بعض اوقات امام کے پیچھے ہوتا ہوں، تو انہوں نے میری کلائی چبھوتے ہوئے فرمایا: اے فارسی! تم اسے اپنے دل میں پڑھ لیا کرو، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے نماز (سورۃ فاتحہ) کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کر لیا ہے؛ اس کا نصف حصہ میرے لیے ہے اور اس کا نصف حصہ میرے بندے کے لیے، اور میرا بندہ جو مانگے گا وہ اسے ملے گا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تم لوگ تلاوت کیا کرو؛ جب بندہ کہتا ہے ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ [سورة الفاتحة: 2] ”تمام جہانوں کے پروردگار اللہ کے لیے ہر طرح کی حمد مخصوص ہے“ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری حمد بیان کی ہے؛ اور جب بندہ کہتا ہے ﴿الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ﴾ [سورة الفاتحة: 3] ”وہ بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے“ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری ثنا بیان کی ہے؛ اور جب بندہ کہتا ہے ﴿مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ﴾ [سورة الفاتحة: 4] ”وہ روزِ جزا کا مالک ہے“ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی ہے؛ یہ آیت میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے؛ اور جب بندہ کہتا ہے ﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾ [سورة الفاتحة: 5] ”بیشک ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور ہم تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں“ تو یہ آیت میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے، اور اس نے جو مانگا ہے وہ اسے ملے گا؛ پھر جب بندہ کہتا ہے ﴿اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ * صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ [سورة الفاتحة: 6-7] ”تو ہمیں صراطِ مستقیم پر ثابت قدم رکھ، ان لوگوں کے راستے پر جن پر تو نے انعام کیا، نہ کہ ان لوگوں کے راستے پر جن پر غضب کیا گیا اور جو گمراہ ہوئے“ تو اللہ فرماتا ہے: یہ چیزیں میرے بندے کو ملیں گی اور میرے بندے نے جو مانگا ہے وہ اسے ملے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1784]

1785

Sahih Ibn Hibban #1785

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ الْيَشْكُرِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مَكْحُولٌ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ وَكَانَ يَسْكُنُ إِيلِيَاءَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الصُّبْحِ ، فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ : إِنِّي لأَرَاكُمْتَقْرَءُونَ وَرَاءَ إِمَامِكُمْ " . قَالَ : قُلْنَا : أَجَلْ ، يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا . قَالَ : " فَلا تَفْعَلُوا إِلا بِأُمِّ الْكِتَابِ ، فَإِنَّهُ لا صَلاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے قراءت کرنا مشکل ہوا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا خیال ہے تم اپنے امام کے پیچھے بھی قراءت کرتے ہو۔“ راوی کہتے ہیں کہ ہم نے کہا: جی ہاں، یا رسول اللہ! ایسا ہی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ ایسا نہ کرو، تم سورۃ فاتحہ پڑھ لیا کرو، اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو اس کی تلاوت نہیں کرتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1785]

1786

Sahih Ibn Hibban #1786

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا صَلاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَصَاعِدًا ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَبَرِ مَكْحُولٍ : فَلا تَفْعَلُوا إِلا بِأُمِّ الْكِتَابِ ، لَفْظَةُ زَجَرَ مُرَادٌ بِهَا ابْتِدَاءُ أَمْرٍ مُسْتَأْنَفٍ ، وَقَوْلُهُ : فَصَاعِدًا ، تَفَرَّدَ بِهِ مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، دُونَ أَصْحَابِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ: ”اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو سورۃ فاتحہ اور مزید (کسی سورۃ) کی تلاوت نہیں کرتا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) مکحول کے حوالے سے منقول روایت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”تم ایسا نہ کرو، (البتہ سورہ فاتحہ کا حکم مختلف ہے)“ یہ الفاظ ممانعت کے ہیں، لیکن مراد ابتداء میں نئے سرے سے حکم دینا ہے۔ روایت کے لفظ «فَصَاعِدًا» کو زہری کے حوالے سے روایت کرنے میں معمر منفرد ہے، زہری کے دیگر شاگردوں نے یہ لفظ نقل نہیں کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1786]

1787

Sahih Ibn Hibban #1787

أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْقَطَّانُ ، بِوَاسِطٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، وَبُنْدَارٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلادٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمِّهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ ، وَأَخْبَرَنَا جَعْفَرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلادٍ الزُّرَقِيِّ ، أَحْسَبُهُ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيِّ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَصَلَّى قَرِيبًا مِنْهُ ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيْهِ ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَعِدْ صَلاتَكَ ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ " . قَالَ : فَرَجَعَ ، فَصَلَّى نَحْوًا مِمَّا صَلَّى ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعِدْ صَلاتَكَ ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ أَصْنَعُ ؟ فَقَالَ :" إِذَا اسْتَقْبَلْتَ الْقِبْلَةَ ، فَكَبِّرْ ، ثُمَّ اقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ ، ثُمَّ اقْرَأْ بِمَا شِئْتَ ، فَإِذَا رَكَعْتَ ، فَاجْعَلْ رَاحَتَيْكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ ، وَامْدُدْ ظَهْرَكَ ، فَإِذَا رَفَعْتَ رَأْسَكَ ، فَأَقِمْ صُلْبَكَ حَتَّى تَرْجِعَ الْعِظَامُ إِلَى مَفَاصِلِهَا ، فَإِذَا سَجَدْتَ ، فَمَكِّنْ سُجُودَكَ ، فَإِذَا رَفَعْتَ رَأْسَكَ ، فَاجْلِسْ عَلَى فَخِذِكَ الْيُسْرَى ، ثُمَّ اصْنَعْ ذَلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ ". قَالَ جَعْفَرٌ : لَفْظُ الْخَبَرِ لِمُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا رفاعہ بن رافع زرقی رضی اللہ عنہ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص آیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسجد میں تھے، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب نماز ادا کی۔ پھر وہ (نماز پڑھنے کے بعد) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، پھر اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”تم اپنی نماز کو دوبارہ ادا کرو کیونکہ تم نے نماز ادا نہیں کی۔“ راوی کہتے ہیں کہ وہ شخص دوبارہ گیا، اس نے پہلے کی طرح نماز ادا کی۔ پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنی نماز کو دہراؤ کیونکہ تم نے اپنی نماز ادا نہیں کی۔“ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں کیا کروں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم قبلہ کی طرف رخ کرو تو تکبیر کہو، پھر تم سورۃ فاتحہ کی تلاوت کرو، پھر تم جو چاہو اس کی قرأت کرو۔ پھر جب تم رکوع میں جاؤ تو اپنی دونوں ہتھیلیاں اپنے گھٹنوں پر رکھو اور اپنی پشت کو سیدھا رکھو، جب تم اپنا سر اٹھاؤ تو اپنی پشت کو قائم کرو، یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنے مخصوص جوڑ پر آ جائے۔ جب تم سجدے میں جاؤ تو جما کر سجدہ کرو اور جب تم اپنے سر کو اٹھاؤ تو اپنے بائیں زانو کے بل بیٹھ جاؤ، پھر تم ہر رکعت میں ایسے کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1787]

1788

Sahih Ibn Hibban #1788

أَخْبَرَنَا أَبُو قُرَيْشٍ مُحَمَّدُ بْنُ جُمُعَةَ الأَصَمُّ الْحَافِظُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كُلُّ صَلاةٍ لا يُقْرَأُ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ، فَهِيَ خِدَاجٌ ، كُلُّ صَلاةٍ لا يُقْرَأُ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ، فَهِيَ خِدَاجٌ ، كُلُّ صَلاةٍ لا يُقْرَأُ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ، فَهِيَ خِدَاجٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ہر وہ نماز جس میں سورۃ فاتحہ کی تلاوت نہیں کی جاتی وہ نامکمل ہوتی ہے، ہر وہ نماز جس میں سورۃ فاتحہ کی تلاوت نہیں کی جاتی وہ نامکمل ہوتی ہے، ہر وہ نماز جس میں سورۃ فاتحہ کی تلاوت نہیں کی جاتی وہ نامکمل ہوتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1788]

1789

Sahih Ibn Hibban #1789

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تُجْزِئُ صَلاةٌ لا يُقْرَأُ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ " . قُلْتُ : وَإِنْ كُنْتُ خَلْفَ الإِمَامِ ؟ قَالَ : فَأَخَذَ بِيَدِي ، وَقَالَ : " اقْرَأْ فِي نَفْسِكَ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : لَمْ يَقُلْ فِي خَبَرِ الْعَلاءِ هَذَا : " لا تُجْزِئُ صَلاةٌ " ، إِلا شُعْبَةُ ، وَلا عَنْهُ إِلا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ . وَقَالَ : هَذِهِ الأَخْبَارُ مِمَّا ذَكَرْنَا فِي كِتَابِ شَرَائِطِ الأَخْبَارِ ، أَنَّ خِطَابَ الْكِتَابِ قَدْ يَسْتَقِلَّ بِنَفْسِهِ فِي حَالَةٍ دُونَ حَالَةٍ حَتَّى يُسْتَعْمَلَ عَلَى عُمُومِ مَا وَرَدَ الْخَطَّابُ فِيهِ ، وَقَدْ لا يَسْتَقِلَّ فِي بَعْضِ الأَحْوَالِ حَتَّى يُسْتَعْمَلَ عَلَى كَيْفِيَّةِ اللَّفْظِ الْمُجْمَلِ الَّذِي هُوَ مُطْلَقُ الْخِطَابِ فِي الْكِتَابِ ، دُونَ أَنْ تُبَيِّنَهَا السُّنَنُ ، وَسُنَنُ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّهَا مُسْتَقِلَّةٌ بِأَنْفُسِهَا ، لا حَاجَةَ بِهَا إِلَى الْكِتَابِ ، الْمُبَيِّنَةُ لِمُجْمَلِ الْكِتَابِ ، وَالْمُفُسِّرَةُ لِمُبْهَمِهِ ، قَالَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا : وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ ، فَأَخْبَرَ جَلَّ وَعَلا أَنَّ الْمُفَسِّرَ لِقَوْلِهِ : أَقِيمُوا الصَّلاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ ، وَمَا أَشَبْهَهَا مِنْ مُجْمَلِ الأَلْفَاظِ فِي الْكِتَابِ رَسُولُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمُحَالٌ أَنْ يَكُونَ الشَّيْءُ الْمُفَسَّرُ لَهُ الْحَاجَةُ إِلَى الشَّيْءِ الْمُجْمَلِ ، وَإِنَّمَا الْحَاجَةُ تَكُونُ لِلْمُجْمَلِ إِلَى الْمُفَسَّرِ ، ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ السُّنَنَ يَجِبُ عَرْضُهَا عَلَى الْكِتَابِ ، فَأَتَى بِمَا لا يُوَافِقُهُ الْخَبَرُ ، وَيَدْفَعُ صِحَّتَهُ النَّظَرُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”وہ نماز جائز نہیں ہوتی جس میں سورۃ فاتحہ کی تلاوت نہ کی جائے۔“ (راوی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ) سے کہا: اگر میں امام کے پیچھے ہوں؟ انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور بولے: تم اپنے دل میں (سورۃ فاتحہ) پڑھ لو۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) علاء کی نقل کردہ اس روایت میں ”نماز درست نہیں ہوتی“ کے الفاظ صرف شعبہ نے نقل کیے ہیں، اور ان سے صرف وہب بن جریر اور محمد بن کثیر نے نقل کیے ہیں۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ اس نوعیت کی روایات ہیں جن کے بارے میں ہم نے کتاب ”شرائط الاخبار“ میں یہ بات ذکر کی ہے کہ کتاب اللہ کا حکم بعض اوقات ایک حالت میں مستقل ہوتا ہے جبکہ دوسری حالت میں مستقل نہیں ہوتا، یہاں تک کہ اس کو اس کے عموم پر استعمال کیا جاتا ہے جس بارے میں حکم آیا ہے، اور بعض حالتوں میں یہ مستقل نہیں بھی ہوتا، یہاں تک کہ اسے مجمل لفظ پر محمول کیا جاتا ہے جو کتاب اللہ میں مطلق خطاب ہوتا ہے، الا یہ کہ سنت اس کی وضاحت کر دے، تاہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتیں اپنے وجود کے اعتبار سے مستقل ہیں، ان (کی وضاحت کے لیے) کتاب اللہ کی ضرورت نہیں ہے؛ سنتیں کتاب اللہ کے مجمل حکم بیان کرتی ہیں اور اس کے مبہم حکم کی وضاحت کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ﴿وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ﴾ [سورة النحل: 44] ”اور ہم نے تمہاری طرف ذکر نازل کیا ہے، تاکہ تم لوگوں کے لیے اس بات کی وضاحت کرو جو ان کی طرف نازل کیا گیا ہے۔“ تو یہاں اللہ تعالیٰ نے اس بات کی اطلاع دی ہے کہ اس کے اس فرمان ﴿وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ﴾ [سورة البقرة: 43] ”اور تم نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو“ اور کتاب اللہ میں موجود اس جیسے مجمل الفاظ والے احکام کی وضاحت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کرنی ہے، تو یہ بات ناممکن ہے کہ ایک چیز تفسیر بیان کرنے والی ہو اور اسے کسی مجمل چیز کی ضرورت ہو، کیونکہ ضرورت تو مجمل چیز کو وضاحت کرنے والی چیز کی ہوتی ہے، یہ بات اس شخص کے موقف کے خلاف ہے جو اس بات کا قائل ہے کہ یہ بات لازم ہے کہ سنت کو کتاب اللہ پر پیش کیا جائے، تو اس شخص نے (اپنے اصول کی بنیاد پر) وہ چیز پیش کی جس کی خبر موافقت نہیں کرتی، اور غور و فکر اس کے صحیح ہونے کو رد کرتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1789]

1790

Sahih Ibn Hibban #1790

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : أَمَرَنَا نَبِيُّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْنَقْرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ، وَمَا تَيَسَّرَ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الأَمْرُ بِقِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِي الصَّلاةِ أَمْرُ فَرْضٍ ، قَامَتِ الدَّلالَةُ مِنْ أَخْبَارٍ أُخَرَ عَلَى صِحَّةِ فَرْضِيَّتِهِ ، ذَكَرْنَاهَا فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كُتُبِنَا وَالأَمْرُ بِقِرَاءَةِ مَا تَيَسَّرَ غَيْرِ فَرْضٍ ، دَلَّ الإِجْمَاعُ عَلَى ذَلِكَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیا کہ ”ہم سورہ فاتحہ کی تلاوت کریں اور جو (قرآن کا حصہ) آسان ہو اس کی تلاوت کریں“۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نماز کے دوران سورہ فاتحہ پڑھنے کا حکم ہونا، فرض کا حکم ہے، اس کی فرضیت کے درست ہونے پر دیگر روایات سے دلائل قائم ہیں جو ہم نے اپنی کتابوں میں دیگر مقامات پر ذکر کیے ہیں، اور ”جو میسر ہو اس کی تلاوت“ کا حکم فرض نہیں ہے، اجماع اس بات پر دلالت کرتا ہے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1790]

1791

Sahih Ibn Hibban #1791

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مَيْمُونٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اخْرُجْ ، فَنَادِ فِي النَّاسِ : أَنْلا صَلاةَ إِلا بِقِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَمَا زَادَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم جاؤ اور لوگوں میں اعلان کر دو کہ اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو سورۃ فاتحہ اور اس کے علاوہ مزید (کسی سورۃ کی) تلاوت نہیں کرتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1791]

1792

Sahih Ibn Hibban #1792

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ ، فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ : تَقْرَءُونَ خَلْفِي ؟ " قُلْنَا : نَعَمْ ، قَالَ : "فَلا تَفْعَلُوا إِلا بِأُمِّ الْكِتَابِ ، فَإِنَّهُ لا صَلاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی تو آپ کے لیے قراءت کرنے میں دشواری ہوئی، جب آپ نے سلام پھیرا تو آپ نے فرمایا: ”تم لوگ میرے پیچھے قراءت کرتے ہو؟“ ہم نے کہا: جی ہاں، تو آپ نے فرمایا: ”تم ایسا نہ کرو، صرف سورۃ فاتحہ پڑھ لیا کرو کیونکہ اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو سورۃ فاتحہ کی تلاوت نہیں کرتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1792]

1793

Sahih Ibn Hibban #1793

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا صَلاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَصَاعِدًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو سورۃ فاتحہ اور مزید (کسی دوسری سورت کی) تلاوت نہیں کرتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1793]

1794

Sahih Ibn Hibban #1794

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تُجْزِئُ صَلاةٌ لا يُقْرَأُ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ " . قُلْتُ : فَإِنْ كُنْتُ خَلْفَ الإِمَامِ ؟ قَالَ : فَأَخَذَ بِيَدِي ، وَقَالَ : " اقْرَأْ فِي نَفْسِكِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”وہ نماز درست نہیں ہوتی جس میں سورہ فاتحہ کی تلاوت نہ کی جائے۔“ راوی کہتے ہیں (میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا:) اگر میں امام کے پیچھے ہوں، تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: تم اپنے دل میں (اس کی) تلاوت کر لیا کرو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1794]

1795

Sahih Ibn Hibban #1795

فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى :قَسَمْتُ الصَّلاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ ، فَنِصْفُهَا لِي ، وَنِصْفُهَا لِعَبْدِي ، وَلِعَبْدِي مَا شَاءَ ، يَقُومُ عَبْدِي فَيَقُولُ : الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، يَقُولُ اللَّهُ : حَمِدَنِي عَبْدِي ، فَيَقُولُ : الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، فَيَقُولُ اللَّهُ : أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي ، فَيَقُولُ : مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ ، فَيَقُولُ : مَجَّدَنِي عَبْدِي ، فَهَذَا بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي ، إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ إِلَى آخِرِ السُّورَةِ ، فَهَؤُلاءِ لِعَبْدِي ، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص نماز ادا کرے اور اس میں سورہ فاتحہ کی تلاوت نہ کرے تو وہ نماز نامکمل ہوتی ہے۔“ (راوی کہتے ہیں)، میں نے کہا: اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ! میں بعض اوقات امام کے پیچھے ہوتا ہوں، تو انہوں نے کہا: اے فارسی کے بیٹے! تم اسے دل میں پڑھ لیا کرو، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے نماز (یعنی سورۃ فاتحہ) کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے، اس کا نصف حصہ میرے لیے اور نصف حصہ میرے بندے کے لیے ہے، اور میرا بندہ جو چاہے گا وہ اسے ملے گا۔ میرا بندہ کھڑا ہو کر یہ کہتا ہے: ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ [سورة الفاتحة: 2] ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے مخصوص ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے“۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «حَمِدَنِي عَبْدِي» ”میرے بندے نے میری حمد بیان کی ہے“۔ بندہ کہتا ہے: ﴿الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ﴾ [سورة الفاتحة: 3] ”وہ بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے“۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي» ”میرے بندے نے میری تعریف بیان کی ہے“۔ بندہ کہتا ہے: ﴿مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ﴾ [سورة الفاتحة: 4] ”وہ روزِ جزا کا مالک ہے“۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «مَجَّدَنِي عَبْدِي» ”میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی ہے“۔ یہ (یعنی اگلی آیت) میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے: ﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾ [سورة الفاتحة: 5] ”ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں“، اس کے بعد سورۃ کے آخر تک ہے۔ تو یہ سب کچھ میرے بندے کو ملے گا۔ میرے بندے نے جو مانگا ہے، وہ اسے ملے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1795]

1796

Sahih Ibn Hibban #1796

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْلِهِ : وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا ، قَالَ : نَزَلَتْ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُخْتَفِي بِمَكَّةَ ، فَكَانَإِذَا صَلَّى بِأَصْحَابِهِ ، رَفَعَ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ إِذَا سَمِعُوا ، سَبُّوا الْقُرْآنَ ، وَمَنْ أَنْزَلَهُ ، وَمَنْ جَاءَ بِهِ ، فَقَالَ اللَّهُ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ ، أَيْ : بِقِرَاءَتِكَ ، فَيَسْمَعَ الْمُشْرِكُونَ ، فَيَسُبُّوا الْقُرْآنَ ، وَلا تُخَافِتْ بِهَا عَنْ أَصْحَابِكَ فَلا تُسْمِعُهُمْ ، وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذَٰلِكَ سَبِيلًا﴾ [سورة الإسراء: 110] کے بارے میں بیان کرتے ہیں (ارشاد باری تعالیٰ ہے): ”تم اپنی نماز کو بلند آواز میں بھی نہ کرو اور پست آواز میں بھی نہ رکھو۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں پوشیدہ طور پر وقت گزار رہے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کو نماز پڑھاتے تھے، تو بلند آواز میں قرآن پاک کی تلاوت کرتے تھے۔ مشرکین جب سنتے تھے، تو وہ قرآن کو، اس کو نازل کرنے والے کو اور جو اس کو لے کر آیا اسے برا کہتے تھے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکم دیا: ﴿وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ﴾ [سورة الإسراء: 110] ”تم اپنی نماز کو بلند آواز میں نہ کرو“ یعنی قرأت کو بلند نہ کرو کہ مشرکین اس کو سن لیں اور قرآن کو برا کہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَلَا تُخَافِتْ بِهَا﴾ [سورة الإسراء: 110] ”اور تم اسے پست بھی نہ رکھو“ اس سے مراد تم اپنے ساتھیوں سے اسے پست بھی نہ رکھو کہ انہیں سنا بھی نہ سکو۔ (ارشاد باری تعالیٰ ہے): ﴿وَابْتَغِ بَيْنَ ذَٰلِكَ سَبِيلًا﴾ [سورة الإسراء: 110] ”اور تم اس کے درمیان کا راستہ تلاش کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1796]

1797

Sahih Ibn Hibban #1797

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلالٍ ، عَنْ نُعَيْمٍ الْمُجْمِرِ ، قَالَ : صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ :" بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، ثُمَّ قَرَأَ بِأُمِّ الْكِتَابِ ، حَتَّى إِذَا بَلَغَ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ قَالَ : آمِينَ ، وَقَالَ النَّاسُ : آمِينَ ، فَلَمَّا رَكَعَ ، قَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ ، قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، ثُمَّ سَجَدَ ، فَلَمَّا رَفَعَ ، قَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، فَلَمَّا سَجَدَ ، قَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، فَلَمَّا رَفَعَ ، قَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، ثُمَّ اسْتَقْبَلَ قَائِمًا مَعَ التَّكْبِيرِ ، فَلَمَّا قَامَ مِنَ الثِّنْتَيْنِ ، قَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ، فَلَمَّا سَلَّمَ ، قَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنِّي لأَشْبَهُكُمْ صَلاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نعیم مجمر بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے «بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ» ”اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان، ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے“ پڑھی، پھر سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کی یہاں تک کہ جب انہوں نے ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ [سورة الفاتحة: 7] پڑھ لیا تو «آمِينَ» ”آمین“ کہا اور لوگوں نے بھی «آمِينَ» ”آمین“ کہا؛ جب وہ رکوع میں گئے تو انہوں نے «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہا، جب انہوں نے اپنا سر اٹھایا تو «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی پکار سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہا، پھر انہوں نے «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہا، پھر جب وہ سجدے میں گئے تو انہوں نے «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہا اور پھر سر اٹھایا تو «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہا، پھر وہ تکبیر کہتے ہوئے سیدھے کھڑے ہو گئے۔ جب وہ دو رکعت ادا کرنے کے بعد کھڑے ہوئے تو انہوں نے «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہا، پھر انہوں نے سلام پھیرا تو یہ کہا: ”اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے! میں تم میں سے سب کے مقابلے میں زیادہ بہتر طور پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے مشابہت رکھتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1797]

1798

Sahih Ibn Hibban #1798

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَافَى ، بِصَيْدَا ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ أَبِي خَيْرَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، وَسَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، وَعُثْمَانَ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ : كَانُوايَفْتَتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم قرأت کا آغاز ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ [سورة الفاتحة: 2] سے کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1798]

1799

Sahih Ibn Hibban #1799

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي غَيْلانَ الثَّقَفِيُّ ، وَالصُّوفِيُّ ، وَغَيْرُهُمَا ، قَالُوا : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، وَشَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، وَعُثْمَانَ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ ، فَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا يَجْهَرْ بِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز ادا کی ہے، میں نے ان میں سے کسی ایک کو بھی بلند آواز میں «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» ”اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان، بہت رحم کرنے والا ہے“ پڑھتے نہیں سنا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1799]

1800

Sahih Ibn Hibban #1800

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَثَابِتٍ ، وَحُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، وَعُثْمَانَ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ ، كَانُوايَفْتَتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ قرأت کا آغاز ﴿الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ [سورة الفاتحة: 2] ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے“ سے کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1800]

1801

Sahih Ibn Hibban #1801

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، وَشُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ ، قَالا : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلالٍ ، عَنْ نُعَيْمٍ الْمُجْمِرِ ، قَالَ : صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَقَرَأَ : بِ" بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، ثُمَّ قَرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ حَتَّى بَلَغَ : وَلا الضَّالِّينَ ، قَالَ : آمِينَ ، وَقَالَ النَّاسُ : آمِينَ . وَيَقُولُ كُلَّمَا سَجَدَ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، وَإِذَا قَامَ مِنَ الْجُلُوسِ ، قَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ "، وَيَقُولُ إِذَا سَلَّمَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنِّي لأَشْبَهُكُمْ صَلاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نعیم مجمر بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز ادا کی تو انہوں نے «بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» پڑھی، پھر انہوں نے سورہ فاتحہ پڑھی، یہاں تک کہ جب «وَلَا الضَّالِّينَ» تک پہنچے تو انہوں نے «آمِيْن» کہا، تو لوگوں نے بھی «آمِيْن» کہا۔ وہ جب بھی سجدے میں جاتے تھے تو «اللهُ أَكْبَرُ» کہتے تھے اور جب (تشہد کے لیے) بیٹھنے کے بعد کھڑے ہوتے تھے تو «اللهُ أَكْبَرُ» کہتے تھے۔ جب انہوں نے سلام پھیر لیا تو انہوں نے کہا: ”اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے! میں تم سب کے مقابلے میں زیادہ بہتر طور پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے مشابہت رکھتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1801]

1802

Sahih Ibn Hibban #1802

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلابَةِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : وَكَانَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ، رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا ،لا يَجْهَرُونَ بِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بلند آواز میں «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» نہیں پڑھتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1802]

1803

Sahih Ibn Hibban #1803

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، بِفَمِ الصِّلْحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّرَقُّفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمَالَمْ يَكُونُوا يَجْهَرُونَ بِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، وَكَانُوا يَجْهَرُونَ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بلند آواز میں «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» ”اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان اور ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے“ نہیں پڑھتے تھے، یہ حضرات بلند آواز میں «الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ» ”سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے“ پڑھتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1803]

1804

Sahih Ibn Hibban #1804

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : إِذَا قَالَ الإِمَامُ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ ، فَقُولُوا : آمِينَ ، فَإِنَّ الْمَلائِكَةَ تَقُولُ : آمِينَ ، وَالإِمَامَ يَقُولُ : آمِينَ ، فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلائِكَةِ ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : مَعْنَى قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلائِكَةِ " ، أَنَّ الْمَلائِكَةَ تَقُولُ : آمِينَ ، مِنْ غَيْرِ عِلَّةٍ : مِنْ رِيَاءٍ ، وَسُمْعَةٍ ، أَوْ إِعْجَابٍ ، بَلْ تَأْمِينُهَا يَكُونُ خَالِصًا لِلَّهِ ، فَإِذَا أَمَّنَ الْقَارِئُ لِلَّهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونَ فِيهِ عِلَّةٌ : مِنْ إِعْجَابٍ ، أَوْ رِيَاءٍ ، أَوْ سُمْعَةٍ ، كَانَ مُوَافِقًا تَأْمِينُهُ فِي الإِخْلاصِ تَأْمِينَ الْمَلائِكَةِ ، غُفِرَ لَهُ حِينَئِذٍ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے: ”جب امام ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ [سورة الفاتحة: 7] کہے، تو تم آمین کہو کیونکہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں اور امام بھی آمین کہتا ہے۔ جس شخص کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے ساتھ ہو تو اس کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان ”تو جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو“ اس کا مطلب یہ ہے، فرشتے ریاکاری، شہرت، خود پسندی وغیرہ جیسی کسی علت کے بغیر آمین کہتے ہیں۔ ان کا آمین کہنا، خالص طور پر صرف اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے حصول کے لیے ہوتا ہے۔ تو جب قرأت کرنے والا شخص، اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے، خود پسندی، ریا کاری، شہرت وغیرہ جیسی کسی علت کے بغیر آمین کہے گا، تو اخلاص کے حوالے سے اس کا آمین کہنا، فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو گا۔ تو اس صورت میں اس شخص کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو جائے گی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1804]

1805

Sahih Ibn Hibban #1805

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُجْرًا أَبَا الْعَنْبَسِ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَوَضَعَ الْيَدَ الْيُمْنَى عَلَى الْيَدِ الْيُسْرَى ، فَلَمَّا قَالَ : " وَلا الضَّالِّينَ " ، قَالَ : آمِينَ ، وَسَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز ادا کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں دستِ مبارک بائیں دستِ مبارک پر رکھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ﴿وَلَا الضَّالِّينَ﴾ [سورة الفاتحة: 7] کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «آمِينَ» ”آمین“ کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (نماز کے آخر میں) اپنے دائیں طرف اور بائیں طرف (یعنی دو مرتبہ) سلام پھیرا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1805]

1806

Sahih Ibn Hibban #1806

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، بِالْفُسْطَاطِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلاءِ الزُّبَيْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وأبي سلمة ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ أُمِّ الْقُرْآنِ ، رَفَعَ صَوْتَهُ ، وَقَالَ : " آمِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سورہ فاتحہ کی تلاوت سے فارغ ہوتے تو بلند آواز میں ” «آمِيْنَ» آمین“ کہتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1806]

1807

Sahih Ibn Hibban #1807

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ : سَكْتَتَانِ حَفِظْتُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، فَقَالَ : حَفِظْنَا سَكْتَةً ، فَكَتَبْنَا إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، بِالْمَدِينَةِ ، فَكَتَبَ إِلَيَّ : أَنَّ سَمُرَةَ قَدْ حَفِظَ ، قَالَ سَعِيدٌ : فَقُلْنَا لِقَتَادَةَ : وَمَا هَاتَانِالسَّكْتَتَانِ ؟ قَالَ : " إِذَا دَخَلَ فِي صَلاتِهِ ، وَإِذَا فَرَغَ مِنَ الْقِرَاءَةِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : الْحَسَنُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ سَمُرَةَ شَيْئًا ، وَسَمِعَ مِنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ هَذَا الْخَبَرَ ، وَاعْتِمَادُنَا فِيهِ عَلَى عِمْرَانَ دُونَ سَمُرَةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دو موقعوں پر خاموش رہنا یاد ہے، (راوی کہتے ہیں) میں نے اس بات کا تذکرہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے کیا تو انہوں نے کہا کہ مجھے تو صرف ایک مرتبہ خاموش رہنا یاد ہے، پھر ہم نے اس بارے میں سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ میں خط لکھا، تو انہوں نے جواب دیا کہ سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ کو یہ بات صحیح طور پر یاد ہے۔ سعید نامی راوی بیان کرتے ہیں کہ ہم نے قتادہ سے کہا: یہ دو موقعوں پر خاموشی کون سی تھی؟ انہوں نے کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے تھے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم قراءت کر کے فارغ ہوتے تھے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) حسن نے سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے کسی چیز کا سماع نہیں کیا ہے، انہوں نے یہ روایت سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے سنی ہے، اور اس بارے میں ہمارا اعتماد سیدنا عمران رضی اللہ عنہ (سے منقول روایت) پر ہے، سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ (سے منقول روایت) پر نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1807]

1808

Sahih Ibn Hibban #1808

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ، وَيَزِيدَ أبي خالد ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ السَّكْسَكِيِّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ، أَنَّ رَجُلا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَلِّمْنِي شَيْئًا يُجْزِئُنِي عَنِ الْقُرْآنِ ؟ قَالَ : قُلْ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ " قَالَ سُفْيَانُ : أُرَاهُ قَالَ : وَلا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : يَزِيدُ أَبُو خَالِدٍ : هُوَ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّالانِيُّ أَبُو خَالِدٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ مجھے کسی ایسی چیز کی تعلیم دیجیے جو میرے لیے قرآن کی تلاوت کی جگہ کافی ہو۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہ کہو: «سُبْحَانَ اللّٰهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ پاک ہے، سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے“۔“ سفیان نامی راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: «وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ» ”اور اللہ کی توفیق کے بغیر نہ گناہوں سے بچنے کی ہمت ہے اور نہ نیکی کرنے کی طاقت“۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یزید ابو خالد نامی راوی، یزید بن عبدالرحمن دالانی ابو خالد ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1808]