Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 16 · Chapter 2

Book of Hajj

Hadith 1735–1774

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

1735

Sahih Ibn Hibban #1735

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمِ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُعَيْطِيُّ ، حَدَّثَنِي مَعْدَانُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيُّ ، قَالَ : لَقِيتُ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ لَهُ : حَدِّثْنِي بِحَدِيثٍ عَسَى اللَّهُ أَنْ يَنْفَعَنِي بِهِ ، فَقَالَ : عَلَيْكَ بِالسُّجُودِ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً ، إِلا رَفَعَ اللَّهُ لَهُ بِهَا دَرَجَةً ، وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً ". قَالَ مَعْدَانُ : ثُمَّ لَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ لِي مِثْلَ ذَلِكَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

معدان بن طلحہ یعمری بیان کرتے ہیں کہ میری ملاقات سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے ہوئی، جو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام تھے۔ میں نے ان سے کہا: مجھے کوئی حدیث بیان کریں، تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مجھے نفع عطا کرے، تو انہوں نے کہا: تم پر سجدے کرنا لازم ہے، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو بھی شخص اللہ تعالیٰ کے لیے ایک سجدہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے اور اس کی وجہ سے اس کا ایک گناہ ختم کرتا ہے۔“ معدان بیان کرتے ہیں کہ پھر میری ملاقات سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے ہوئی، میں نے ان سے یہ سوال کیا، تو انہوں نے بھی اس کی مانند جواب دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1735]

1736

Sahih Ibn Hibban #1736

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ مَلائِكَةٌ اللَّيْلِ وَمَلائِكَةُ النَّهَارِ ، فَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلاةِ الْفَجْرِ وَصَلاةِ الْعَصْرِ ، ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ الَّذِينَ بَاتُوا فِيكُمْ ، فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ ، وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ : كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي ؟ قَالُوا : تَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ ، وَأَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”رات اور دن کے فرشتے آگے پیچھے تمہارے درمیان آتے ہیں۔ وہ فجر اور عصر کی نماز میں اکٹھے ہوتے ہیں۔ پھر وہ فرشتے اوپر چلے جاتے ہیں جنہوں نے تمہارے ساتھ رات بسر کی ہوتی ہے۔ ان کا پروردگار ان سے سوال کرتا ہے حالانکہ وہ اس کے بارے میں زیادہ علم رکھتا ہے، تم نے میرے بندوں کو کس حالت میں چھوڑا ہے؟ تو وہ جواب دیتے ہیں: ہم نے انہیں اس حالت میں چھوڑا ہے، وہ نماز ادا کر رہے تھے۔ جب ہم ان کے پاس گئے تھے، تو وہ اس وقت بھی نماز ادا کر رہے تھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1736]

1737

Sahih Ibn Hibban #1737

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ الْفَقِيهُ ، بِمَنْبِجَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ مَلائِكَةٌ بِاللَّيْلِ ، وَمَلائِكَةٌ بِالنَّهَارِ ، وَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلاةِ الْفَجْرِ وَصَلاةِ الْعَصْرِ ، ثُمَّ يَعْرُجُ الَّذِينَ بَاتُوا فِيكُمْ ، فَيَسْأَلُهُمْ ، وَهُوَ أَعْلَمُ ، كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي ؟ فَيَقُولُونَ : تَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ ، وَأَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : فِي هَذَا الْخَبَرِ بَيَانٌ وَاضِحٌ بِأَنَّ مَلائِكَةَ اللَّيْلِ إِنَّمَا تَنْزِلُ وَالنَّاسُ فِي صَلاةِ الْعَصْرِ ، وَحِينَئِذٍ تَصْعَدُ مَلائِكَةُ النَّهَارِ ، ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ مَلائِكَةَ اللَّيْلِ تَنْزِلُ بَعْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”رات اور دن کے فرشتے آگے پیچھے تمہارے درمیان آتے ہیں۔ وہ فجر اور عصر کی نماز میں اکٹھے ہوتے ہیں، پھر جن فرشتوں نے تمہارے درمیان رات بسر کی ہوتی ہے وہ اوپر چلے جاتے ہیں، تو (اللہ تعالیٰ) ان سے سوال کرتا ہے، حالانکہ وہ زیادہ علم رکھتا ہے: تم نے میرے بندوں کو کس حالت میں چھوڑا ہے؟ تو وہ جواب دیتے ہیں: ہم نے انہیں اس حالت میں چھوڑا ہے وہ نماز ادا کر رہے تھے اور جب ہم ان کے پاس گئے تھے، تو وہ اس وقت بھی نماز ادا کر رہے تھے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس حدیث میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ رات کے فرشتے اس وقت نیچے اترتے ہیں جب لوگ عصر کی نماز ادا کر رہے ہوں، اور اسی وقت میں دن کے فرشتے اوپر چلے جاتے ہیں، یہ بات اس شخص کے موقف کے خلاف ہے جو اس بات کا قائل ہے: فرشتے سورج غروب ہونے کے بعد نیچے اترتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1737]

1738

Sahih Ibn Hibban #1738

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ ، بِالرَّقَّةِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا يَلِجُ النَّارَ أَحَدٌ صَلَّى قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ ، وَقَبْلَ غُرُوبِهَا ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أَبُو بَكْرٍ هَذَا هُوَ ابْنُ عُمَارَةَ بْنُ رُوَيْبَةَ الثَّقَفِيُّ ، لأَبِيهِ صُحْبَةٌ ، وَاسْمُ أَبِي بَكْرٍ : كُنْيَتُهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوبکر بن عمارہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”ایسا شخص جہنم میں داخل نہیں ہو گا، جو سورج نکلنے سے پہلے اور سورج غروب ہونے سے پہلے والی نماز ادا کرتا ہو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوبکر نامی راوی سیدنا عمارہ بن رویبہ رضی اللہ عنہ کا صاحبزادہ ہے، اس کے والد کو صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے، ابوبکر نامی راوی کی کنیت ہی اس کا نام ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1738]

1739

Sahih Ibn Hibban #1739

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ الضُّبَعِيُّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ صَلَّى الْبَرْدَيْنِ ، دَخَلَ الْجَنَّةَ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أَبُو جَمْرَةَ هَذَا مِنْ ثِقَاتِ أَهْلِ الْبَصْرَةِ ، اسْمُهُ : نَصْرُ بْنُ عِمْرَانَ الضُّبَعِيُّ . وَأَبُو حَمْزَةَ : مِنْ مُتْقِنِي أَهْلِهَا ، اسْمُهُ : عِمْرَانُ بْنُ أَبِي عَطَاءٍ . سَمِعَا جَمِيعًا ابْنَ عَبَّاسٍ ، سَمِعَ شُعْبَةُ مِنْهُمَا ، وَكَانَا فِي زَمَنٍ وَاحِدٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوبکر بن عمارہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص دو ٹھنڈی نمازیں ادا کرے گا وہ جنت میں داخل ہو گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوجمرہ نامی راوی بصرہ سے تعلق رکھنے والے ”ثقہ“ راویوں میں سے ایک ہے، اس کا نام نصر بن عمران ضبیعی ہے۔ ابوحمزہ نامی راوی وہاں کے ”متقن“ راویوں میں سے ایک ہے، اس کا نام عمران بن ابوعطاء ہے، ان دونوں حضرات نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے احادیث کا سماع کیا ہے اور شعبہ نے ان دونوں سے سماع کیا ہے، یہ دونوں ایک ہی زمانے کے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1739]

1740

Sahih Ibn Hibban #1740

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ مَرْدَانِبَةَ ، حَدَّثَنَا رَقَبَةُ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَارَةَ بْنِ رُوَيْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لَنْ يَلِجَ النَّارَ مَنْ صَلَّى قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ ، وَقَبْلَ غُرُوبِهَا ". فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوبکر بن عمارہ بن رویبہ اپنے والد (رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”وہ شخص جہنم میں داخل نہیں ہو گا، جو سورج نکلنے سے پہلے اور سورج غروب ہونے سے پہلے کی نماز ادا کرتا ہو۔“ حاضرین میں سے ایک شخص نے عرض کی: کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی خود یہ حدیث سنی ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1740]

1741

Sahih Ibn Hibban #1741

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الأَسْوَدِ ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ اللَّيْثِيِّ ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَسْلَمْتُ وَعَلَّمَنِي الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ فِي مَوَاقِيتِهَا . قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : إِنَّ هَذِهِ سَاعَاتٌ أَشْتَغِلُ فِيهَا ، فَمُرْ لِي بِجَوَامِعَ . قَالَ : فَقَالَ : إِنْ شُغِلْتَ ،فَلا تُشْغَلْ عَنِ الْعَصْرَيْنِ " . قَالَ : قُلْتُ : وَمَا الْعَصْرَانِ ؟ قَالَ : " صَلاةُ الْغَدَاةِ ، وَصَلاةُ الْعَصْرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا فضالہ بن عبداللہ لیثی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے اسلام قبول کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مخصوص اوقات میں پانچ نمازیں ادا کرنے کی تعلیم دی۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے آپ سے دریافت کیا: یہ تو وہ اوقات ہیں جن میں، میں مشغول ہوتا ہوں۔ آپ مجھے کچھ جامع چیزوں کے بارے میں حکم دیں، تو راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم مشغول ہوتے ہو تو عصر کی دو نمازوں کے بارے میں مصروف نہ ہونا۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے دریافت کیا: عصر کی دو نمازیں کون سی ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”صبح کی نماز اور عصر کی نماز۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1741]

1742

Sahih Ibn Hibban #1742

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، بِفَمِ الصِّلْحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ شَاهِينٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَضَالَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَانَ فِيمَا عَلَّمَنَا ، قَالَ : حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ ، وَحَافِظُوا عَلَى الْعَصْرَيْنِ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا الْعَصْرَانِ ؟ قَالَ : " صَلاةٌ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ ، وَصَلاةٌ قَبْلَ غُرُوبِهَا ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : سَمِعَ دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ هَذَا الْخَبَرَ مِنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الأَسْوَدِ ، وَمِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَضَالَةَ ، عَنْ فَضَالَةَ ، وَأَدَّى كُلَّ خَبَرٍ بِلَفْظِهِ ، فَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ . وَالْعَرَبُ تَذْكُرُ فِي لُغَتِهَا أَشْيَاءَ عَلَى الْقِلَّةِ وَالْكَثْرَةِ ، وَتُطْلِقُ اسْمَ الْقَبْلِ عَلَى الشَّيْءِ الْيَسِيرِ ، وَعَلَى الْمُدَّةِ الطَّوِيلَةِ ، وَعَلَى الْمُدَّةِ الْكَبِيرَةِ ، كَقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَمَارَاتِ السَّاعَةِ : يَكُونُ مِنَ الْفِتَنِ قَبْلَ السَّاعَةِ كَذَا ، وَقَدْ كَانَ ذَلِكَ مُنْذُ سِنِينَ كَثِيرَةٍ ، وَهَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ اسْمَ الْقَبْلِ يَقَعُ عَلَى مَا ذَكَرْنَا ، لا أَنَّ الْقَبْلَ فِي اللُّغَةِ يَكُونُ مَقْرُونًا بِالشَّيْءِ حَتَّى لا يُصَلِّيَ الْغَدَاةَ إِلا قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ ، وَلا الْعَصْرَ إِلا قَبْلَ غُرُوبِهَا إِرَادَةَ إِصَابَةِ الْقَبْلِ فِيهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن فضالہ رحمہ اللہ اپنے والد (فضالہ رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تعلیم دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جو تعلیم دی اس میں یہ بات بھی تھی کہ عصر کی دو نمازوں سے مراد کیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سورج طلوع ہونے سے پہلے کی نماز اور اس کے غروب ہونے سے پہلے کی نماز۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) داؤد بن ابوہند نے یہ روایت ابوحرب بن ابواسود اور عبداللہ بن فضالہ سے سنی ہے، اس نے ان دونوں روایات کے الفاظ نقل کر دیے ہیں، اس کی دونوں سندیں محفوظ ہیں، عرب اپنی زبان میں قلت یا کثرت کی بنیاد پر اشیاء کا تذکرہ کرتے ہیں، وہ لفظ «قَبْلُ» کو تھوڑی چیز، طویل مدت، بڑی مدت کے لیے استعمال کرتے ہیں، جیسے قیامت کی نشانیوں کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ قیامت سے پہلے اس اس طرح کے فتنے ہوں گے، حالانکہ یہ فتنے (قیامت سے) کئی برس پہلے ہوں گے، یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ لفظ «قَبْلُ» اس مفہوم کے لیے استعمال ہوتا ہے جو ہم نے ذکر کیا ہے، ایسا نہیں ہے کہ لفظ «قَبْلُ» لغت میں کسی چیز کے ساتھ ملے ہونے کے طور پر استعمال ہوتا ہو، یہاں تک کہ (یہ حکم ہو کہ) صبح کی نماز صرف سورج طلوع ہونے سے پہلے ہی، اور عصر کی نماز سورج غروب ہونے سے پہلے ہی ادا کی جا سکتی ہو، جبکہ اس بارے میں، پورے طور پر ”پہلے ہونے“ کا مفہوم مراد لیا جائے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1742]

1743

Sahih Ibn Hibban #1743

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الأَنْمَاطِيُّ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ جُنْدُبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ صَلَّى الْغَدَاةَ ، فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ ، فَاتَّقِ اللَّهَ يَا ابْنَ آدَمَ أَنْ يَطْلُبَكَ اللَّهُ بِشَيْءٍ مِنْ ذِمَّتِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جندب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص صبح کی نماز ادا کرتا ہے وہ اللہ کے ذمہ میں ہوتا ہے، تو اے آدم کے بیٹے! تم اللہ سے اس حوالے سے ڈرو کہ وہ اپنے ذمہ میں سے کوئی چیز تم سے طلب کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1743]

1744

Sahih Ibn Hibban #1744

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ خَيْرِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ السَّبَائِيِّ ، عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ ، عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الْعَصْرِ ، فَقَالَ : إِنَّهَذِهِ الصَّلاةَ عُرِضَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، فَتَوَانَوْا فِيهَا وَتَرَكُوهَا ، فَمَنْ صَلاهَا مِنْهُمْ ضُعِّفَ لَهُ أَجْرُهَا مَرَّتَيْنِ ، وَلا صَلاةَ بَعْدَهَا حَتَّى يُرَى الشَّاهِدُ ". وَالشَّاهِدُ : النَّجْمُ . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الْعَرَبُ تُسَمِّي الثُّرَيَّا : النَّجْمَ ، وَلَمْ يُرِدْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَوْلِهِ هَذَا أَنَّ وَقْتَ صَلاةِ الْمَغْرِبِ لا تَدْخُلُ حَتَّى تُرَى الثُّرَيَّا ، لأَنَّ الثُّرَيَّا لا تَظْهَرُ إِلا عِنْدَ اسْوِدَادِ الأُفُقِ وَتَغْيِيرِ الأَثِيرِ ، وَلَكِنْ مَعْنَاهُ عِنْدِي : أَنَّ الشَّاهِدَ هُوَ أَوَّلُ مَا يَظْهَرُ مِنْ تَوَابِعِ الثُّرَيَّا ، لأَنَّ الثُّرَيَّا تَوَابِعُهَا الْكَفُّ الْخَضِيبُ ، وَالْكَفُّ الْجَذْمَاءُ ، وَالْمَأْبِضُ ، وَالْمِعْصَمُ ، وَالْمِرْفَقُ ، وَإِبْرَةُ الْمِرْفَقِ ، وَالْعَيُّوقُ ، وَرِجْلُ الْعَيُّوقِ ، وَالأَعْلامُ ، وَالضَّيِّقَةُ ، وَالْقِلاصُ ، وَلَيْسَ هَذِهِ الْكَوَاكِبُ بِالأَنْجُمِ الزُّهْرِ إِلا الْعُيُّوقَ ، فَإِنَّهُ كَوْكَبٌ أَحْمَرُ مُنِيرٌ مُنْفَرِدٌ فِي شِقِّ الشِّمَالِ ، عَلَى مَتْنِ الثُّرَيَّا يَظْهَرُ عِنْدَ غَيْبُوبَةِ الشَّمْسِ ، فَإِذَا كَانَ الإِنْسَانُ فِي بَصَرِهِ أَدْنَى حِدَّةٍ ، وَغَابَتِ الشَّمْسُ ، يَرَى الْعَيُّوقَ وَهُوَ الشَّاهِدُ الَّذِي تَحِلُّ صَلاةُ الْمَغْرِبِ عِنْدَ ظُهُورِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوبصرہ غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی اور ارشاد فرمایا: ”بے شک یہ نماز تم سے پہلے لوگوں کے سامنے بھی پیش کی گئی تھی، تو انہوں نے اس کے بارے میں کوتاہی کی اور اس کو ترک کر دیا۔ ان لوگوں میں سے جس نے اس نماز کو ادا کیا، اسے اس نماز کا دو گنا اجر دیا گیا اور اس نماز کے بعد کوئی نماز ادا نہیں کی جائے گی، یہاں تک کہ شاہد (ستارہ) نظر آ جائے۔“ (راوی کہتے ہیں:) شاہد سے مراد ستارہ ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اہل عرب ستارے کو ”ثریا“ کہتے ہیں، لیکن اس فرمان کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ مراد نہیں ہے کہ مغرب کا وقت اس وقت تک شروع نہیں ہوتا جب تک ”ثریا“ (ستارہ) نظر نہ آ جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ثریا اس وقت نمودار ہوتا ہے جب افق سیاہ ہو چکا ہو اور اثیر تبدیل ہو چکا ہو۔ میرے نزدیک اس کا معنی یہ ہے کہ ثریا کے تابع (ستاروں) میں سے پہلا نمودار ہونے والا ستارہ ”شاہد“ ہے، ثریا کے تابع ستارے یہ ہیں: کفِ خضیب، کفِ جذماء، مابض، معصم، مرفق، ابرہ مرفق، عیوق، رجلِ عیوق، اعلام، ضیقہ، قلاص؛ ان میں سے عیوق کے علاوہ کوئی بھی ستارہ چمکدار نہیں ہے، صرف وہ (یعنی عیوق) سرخ اور چمکدار ستارہ ہے جو شمال کی سمت میں ثریا کے متن پر منفرد طور پر نظر آتا ہے اور یہ سورج غروب ہونے پر نمودار ہوتا ہے۔ جب انسان کی بینائی میں معمولی سی تیزی ہو، تو سورج غروب ہونے پر انسان ”عیوق“ کو دیکھ سکتا ہے۔ یہ وہ ستارہ ہے جس کے نمودار ہونے پر ہی مغرب کی نماز ادا کرنا جائز ہوتا ہے (یعنی اس نماز کا وقت شروع ہوتا ہے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1744]

1745

Sahih Ibn Hibban #1745

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعُمَرِيُّ بِالْمَوْصِلِ ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ : شَغَلُونَا عَنْ صَلاةِ الْوُسْطَى ، مَلأَ اللَّهُ بُيُوتَهُمْ وَبُطُونَهُمْ نَارًا " . وَهِيَ الْعَصْرُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ خندق کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ان لوگوں نے ہمیں درمیانی نماز ادا کرنے نہیں دی، اللہ تعالیٰ ان کے گھروں اور پیٹوں کو آگ سے بھر دے۔“ (راوی کہتے ہیں) یہ عصر کی نماز تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1745]

1746

Sahih Ibn Hibban #1746

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْجَرَّاحُ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُوَرِّقٍ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صَلاةُ الْوُسْطَى : صَلاةُ الْعَصْرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”درمیانی نماز سے مراد عصر کی نماز ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1746]

1747

Sahih Ibn Hibban #1747

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِلالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ، وَأَقَامَ الصَّلاةَ ، وَصَامَ رَمَضَانَ ، كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ ، هَاجَرَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَوْ جَلَسَ حَيْثُ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہو، نماز قائم کرے اور رمضان کے روزے رکھے، اللہ تعالیٰ پر یہ بات لازم ہے کہ وہ اسے جنت میں داخل کرے، خواہ اس نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی ہو یا وہیں بیٹھا رہا ہو جہاں اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1747]

1748

Sahih Ibn Hibban #1748

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ ابْنَ أَبِي هِلالٍ ، حَدَّثَهُ عَنْ نُعَيْمٍ الْمُجْمِرٍ ، أَنَّ صُهَيْبًا مَوْلَى الْعُتْوَارِيِّينَ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَأَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يُخْبِرَانِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، ثُمَّ قَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ " ، ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ سَكَتَ ، فَأَكَبَّ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا يَبْكِي حُزْنًا لِيَمِينِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ :" مَا مِنْ عَبْدٍ يُؤَدِّي الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ ، وَيَصُومُ رَمَضَانَ ، وَيَجْتَنِبُ الْكَبَائِرَ السَّبْعَ ، إِلا فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى إِنَّهَا لَتَصْطَفِقُ ، ثُمَّ تَلا : إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

صہیب بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہما کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ» ”اس ذات کی قسم! جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے۔“ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔ پھر ہم میں سے ہر ایک شخص سر جھکا کر رونے لگا، یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قسم اٹھانے پر غمگین ہونے کی وجہ سے تھا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو بھی بندہ نمازیں ادا کرے، رمضان کے روزے رکھے اور سات کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرے، اس کے لیے قیامت کے دن جنت کے آٹھ دروازے کھول دیے جائیں گے۔“ یہاں تک کہ وہ تیار ہو جاتی ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ﴾ [سورة النساء: 31] ”اگر تم ان کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرو جن سے تمہیں منع کیا گیا ہے تو ہم تمہاری برائیوں کو ختم کر دیں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1748]

1749

Sahih Ibn Hibban #1749

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِلالُ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صَلاةُ الرَّجُلِ فِي جَمَاعَةٍ تَزِيدُ عَلَى صَلاتِهِ وَحْدَهُ بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً ، فَإِنْ صَلاهَا بِأَرْضِ قِيٍّ ، فَأَتَمَّ وُضُوءَهَا ، وَرُكُوعَهَا ، وَسُجُودَهَا ، تُكْتَبُ صَلاتُهُ بِخَمْسِينَ دَرَجَةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”آدمی کا جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا اس کے تنہا نماز ادا کرنے سے پچیس گنا زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی ویرانے میں نماز ادا کرے، وضو کو مکمل کرے، رکوع اور سجود مکمل کرے تو اسے پچیس نمازوں کا ثواب ملے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1749]

1750

Sahih Ibn Hibban #1750

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ صَلاةَ الْعِشَاءِ ، حَتَّى إِذَا كَانَ شَطْرُ اللَّيْلِ ، ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ : إِنَّالنَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَنَامُوا ، وَإِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا فِي صَلاةٍ مُذِ انْتَظَرْتُمْ ". قَالَ أَنَسٌ : فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز مؤخر کر دی یہاں تک کہ نصف رات ہو گئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”لوگ نماز ادا کر کے سو بھی چکے ہیں اور تم لوگ جب سے انتظار کر رہے تھے، مسلسل نماز ہی کی حالت میں شمار ہو رہے تھے۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کی چمک کا منظر آج بھی میری نگاہ میں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1750]

1751

Sahih Ibn Hibban #1751

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عُقْبَةَ ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ مَيْمُونٍ حَدَّثَهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَنْ كَانَ فِي مَسْجِدٍ يَنْتَظِرُ الصَّلاةَ ، فَهُوَ فِي الصَّلاةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص مسجد میں رہ کر نماز کا انتظار کرتا ہے، وہ نماز کی حالت میں شمار ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1751]

1752

Sahih Ibn Hibban #1752

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عُقْبَةَ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ مَيْمُونٍ قَاضِي مِصْرَ ، حَدَّثَنِي سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ السَّاعِدِيُّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنِ انْتَظَرَ الصَّلاةَ ، فَهُوَ فِي الصَّلاةِ مَا لَمْ يُحْدِثْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص نماز کا انتظار کرتا ہے وہ نماز کی حالت میں شمار ہوتا ہے، جب تک وہ بے وضو نہ ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1752]

1753

Sahih Ibn Hibban #1753

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّالْمَلائِكَةَ تُصَلِّي عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مُصَلاهُ الَّذِي صَلَّى فِيهِ مَا لَمْ يُحْدِثْ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بے شک فرشتے کسی شخص کے لیے اس وقت تک دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں جب تک وہ شخص اپنی اس جائے نماز پر موجود رہتا ہے جہاں اس نے نماز ادا کی تھی، جب تک وہ بے وضو نہیں ہوتا (وہ فرشتے یہ دعا کرتے ہیں) اے اللہ! تو اس کی مغفرت کر دے، اے اللہ! تو اس پر رحم کر۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1753]

1754

Sahih Ibn Hibban #1754

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا نُودِيَ لِلصَّلاةِ ، أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ لَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لا يَسْمَعَ النِّدَاءَ ، فَإِذَا قُضِيَ النِّدَاءُ أَقْبَلَ ، حَتَّى إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلاةِ أَدْبَرَ ، حَتَّى إِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ ، حَتَّى يَخْطِرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ ، يَقُولُ : اذْكُرْ كَذَا ، اذْكُرْ لِمَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرْ ، حَتَّى يُصَلِّيَ الرَّجُلُ لا يَدْرِي كَمْ صَلَّى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے، تو شیطان پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے اور اس کی ہوا خارج ہو رہی ہوتی ہے (وہ اتنی دور چلا جاتا ہے) یہاں تک کہ اسے اذان کی آواز نہیں آتی۔ جب اذان مکمل ہو جاتی ہے، تو پھر وہ آ جاتا ہے، پھر جب نماز کے لیے اقامت کہی جاتی ہے، وہ پھر پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ جب اقامت مکمل ہو جاتی ہے، تو وہ پھر آ جاتا ہے اور آدمی کے ذہن میں خیالات پیدا کرنا شروع کر دیتا ہے اور وہ یہ کہتا ہے: تم فلاں چیز کو یاد کرو، تم اس چیز کو یاد کرو، وہ چیز جو ویسے اسے یاد نہیں آتی تھی۔ یہاں تک کہ جب آدمی نماز ادا کر رہا ہوتا ہے (تو بعض اوقات ایسا ہوتا ہے) کہ اسے پتا نہیں چلتا کہ اس نے کتنی نماز ادا کی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1754]

1755

Sahih Ibn Hibban #1755

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاةُ ، فَلا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي ، وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبد اللہ بن ابی قتادہ اپنے والد (سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب نماز کے لیے اقامت کہی جائے، تو تم اس وقت تک کھڑے نہ ہو جب تک مجھے دیکھ نہ لو، اور تم پر «السَّكِينَةُ» ”یعنی اطمینان اور سکون“ اختیار کرنا لازم ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1755]

1756

Sahih Ibn Hibban #1756

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَمِّي عُمَارَةُ بْنُ ثَوْبَانَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَيْرُكُمُ أُلْيَنُكُمْ مَنَاكِبَ فِي الصَّلاةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم میں سے سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جو نماز کے دوران سب سے نرم کندھوں کے مالک ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1756]

1757

Sahih Ibn Hibban #1757

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَرْحَبِيُّ ، عَنْ عُبَيْدَةَ بْنِ الأَسْوَدِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ الْوَلِيدِ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ثَلاثَةٌ لا يَقْبَلُ اللَّهُ لَهُمْ صَلاةً : إِمَامُ قَوْمٍ وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ ، وَامْرَأَةٌ بَاتَتْ وَزَوْجُهَا عَلَيْهَا غَضْبَانُ ، وَأَخَوَانِ مُتَصَارِمَانِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تین لوگ ایسے ہیں جن کی نماز کو اللہ تعالیٰ قبول نہیں کرتا: لوگوں کا وہ امام جسے لوگ ناپسند کرتے ہوں، وہ عورت جو ایسی حالت میں رات بسر کرے جس کا شوہر اس سے ناراض ہو اور دو ایسے بھائی جو ایک دوسرے سے جھگڑا کیے ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1757]

1758

Sahih Ibn Hibban #1758

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّالصَّلاةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : طُولُ الْقُنُوتِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کون سی نماز سب سے زیادہ فضیلت رکھتی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”طویل قنوت والی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1758]

1759

Sahih Ibn Hibban #1759

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، ، أَنَّهُ قَالَ : مَا صَلَّيْتُ مَعَ أَحَدٍ أَوْجَزَ صَلاةٍ وَلا أَكْمَلَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے ایسے کسی شخص کے پیچھے نماز ادا نہیں کی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مختصر اور مکمل نماز ادا کرتا ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1759]

1760

Sahih Ibn Hibban #1760

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ بِالنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ ، فَإِنَّ فِيهِمُ السَّقِيمَ وَالضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ ، وَإِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ لِنَفْسِهِ فَلْيُطَوِّلْ مَا شَاءَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی شخص لوگوں کو نماز پڑھائے، تو انہیں مختصر نماز پڑھائے کیونکہ لوگوں میں بیمار، ضعیف، عمر رسیدہ لوگ بھی ہوتے ہیں۔ جب کوئی شخص تنہا نماز ادا کرے تو وہ جتنی چاہے طویل نماز ادا کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1760]

1761

Sahih Ibn Hibban #1761

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلامٍ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، وَثَابِتٌ ، وَحُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي فِيهِمْ ، فَجَاءَ رَجُلٌ وَقَدْ حَفَزَهُ النَّفَسُ ، فَقَالَ :الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاتَهُ قَالَ : أَيُّكُمُ الْمُتَكَلِّمُ بِالْكَلِمَاتِ ؟ " . فَأَرَمَّ الْقَوْمُ ، فَقَالَ : " أَيُّكُمُ الْمُتَكَلِّمُ بِالْكَلِمَاتِ ؟ فَإِنَّهُ لَمْ يَقُلْ بَأْسًا " فَقَالَ الرَّجُلُ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، جِئْتُ وَقَدْ حَفَزَنِي النَّفَسُ فَقُلْتُهُنَّ ، فَقَالَ : " لَقَدْ رَأَيْتُ اثْنَيْ عَشَرَ مَلَكًا ابْتَدَرَهَا أَيُّهُمْ يَرْفَعُهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا رہے تھے، اسی دوران ایک شخص آیا جس کا سانس پھولا ہوا تھا، اس نے یہ کہا: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ» ”ہر طرح کی حمد اللہ کے لیے مخصوص ہے، ایسی حمد جو زیادہ ہو، پاکیزہ ہو، اس میں برکت رکھی گئی ہو“۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز مکمل کر لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”ان کلمات کو بولنے والا شخص کون ہے؟“ تو لوگ خاموش رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”ان کلمات کو کہنے والا شخص کون ہے؟ اس نے کوئی بری بات نہیں کی ہے“، اس شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں ہوں، میں آیا تھا تو میرا سانس پھول رہا تھا، تو میں نے یہ کلمات کہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے بارہ فرشتوں کو دیکھا کہ وہ ان کی طرف لپکے کہ کون ان کو اوپر لے جاتا ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1761]

1762

Sahih Ibn Hibban #1762

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الزُّهْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ : كَانَبَيْنَ مُصَلَّى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ الْجِدَارِ مَمَرُّ الشَّاةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے نماز اور دیوار کے درمیان ایک بکری کے گزرنے کی جگہ تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1762]

1763

Sahih Ibn Hibban #1763

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، وَابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالا : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ ، أَنَّهُ كَانَ يَأْتِي مَعَ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ، إِلَى سُبْحَةِ الضُّحَى ، فَيَعْمِدُ إِلَى الأُسْطُوَانَةِ دُونَ الْمُصْحَفِ ، فَيُصَلِّي قَرِيبًا مِنْهَا " ، فَأَقُولُ لَهُ : أَلا تُصَلِّي هَا هُنَا ؟ وَأُشِيرُ لَهُ إِلَى بَعْضِ نَوَاحِي الْمَسْجِدِ ، فَيَقُولُ : إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَتَحَرَّى هَذَا الْمَقَامَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یزید بن ابوعبید بیان کرتے ہیں کہ وہ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کے ہمراہ چاشت کی نماز ادا کرنے آتے تھے۔ سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ اس ستون کی طرف جانے کی کوشش کرتے تھے جو مصحف سے پہلے ہے، وہ اس کے قریب نماز ادا کیا کرتے تھے۔ میں ان سے یہ کہتا تھا کہ کیا آپ یہاں نماز ادا نہیں کریں گے؟ میں مسجد کے کسی دوسرے گوشے کی طرف اشارہ کر کے کہتا، تو وہ یہ فرماتے تھے: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اہتمام کے ساتھ اس جگہ نماز ادا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1763]

1764

Sahih Ibn Hibban #1764

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ ، بِجُرْجَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَاعَتَانِ لا تُرَدُّ عَلَى دَاعٍ دَعْوَتُهُ : حِينَ تُقَامُ الصَّلاةُ ، وَفِي الصَّفِّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”دو گھڑیاں ایسی ہیں جن میں دعا کرنے والے کی دعا قبول ہوتی ہے: جب نماز قائم کی جائے اور جب اللہ کی راہ میں صف (بنائی جائے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1764]

1765

Sahih Ibn Hibban #1765

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلادٍ الْبَاهِلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ : قُلْتُ لابْنِ عَبَّاسٍ : عَجِبْتُ مِنْ شَيْخٍصَلَّى بِنَا الظُّهْرَ فَكَبَّرَ ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً ؟ قَالَ : تِلْكَ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عکرمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: مجھے ایک عمر رسیدہ شخص پر حیرانگی ہو رہی ہے جس نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھاتے ہوئے 22 تکبیریں کہیں، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: یہ سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1765]

1766

Sahih Ibn Hibban #1766

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ : كَانَيُصَلِّي بِهِمْ كَانَ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ خَفْضٍ وَرَفْعٍ "، فَإِذَا انْصَرَفَ قَالَ : إِنِّي لأَشْبَهُكُمْ صَلاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوسلمہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو نماز پڑھائی، وہ ہر مرتبہ جھکتے ہوئے اور اٹھتے ہوئے تکبیر کہتے تھے، پھر جب انہوں نے نماز مکمل کی تو انہوں نے فرمایا: ”میں تم سب کے مقابلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے زیادہ مشابہت رکھتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1766]

1767

Sahih Ibn Hibban #1767

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حِينَ اسْتَخْلَفَهُ مَرْوَانُ عَلَى الْمَدِينَةِ ، كَانَ : إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاةِ الْمَكْتُوبَةِ كَبَّرَ ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ ، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ، قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدِ . ثُمَّ يُكَبِّرِ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا ، ثُمَّ يُكَبِّرِ حِينَ يَقُومِ بَيْنَ الثِّنْتَيْنِ بَعْدَ التَّشَهُّدِ ، ثُمَّ يَفْعَلُ مِثْلَ ذَلِكَ حَتَّى يَقْضِيَ صَلاتَهُ "، فَإِذَا قَضَى صَلاتَهُ وَسَلَّمَ ، أَقْبَلَ عَلَى أَهْلِ الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لأَشْبَهُكُمْ صَلاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ سَالِمٌ : وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ مِثْلَ ذَلِكَ ، غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ يَخْفِضُ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوسلمہ بیان کرتے ہیں جب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو مروان نے مدینہ میں اپنا نائب مقرر کیا، تو جب وہ فرض نماز ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، تو انہوں نے تکبیر کہی اور جب رکوع میں جانے لگے تو انہوں نے تکبیر کہی اور جب رکوع سے سر اٹھایا تو «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی پکار سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہا، اور پھر جب وہ سجدے میں جانے کے لیے جھکے تو انہوں نے تکبیر کہی، وہ تشہد کے بعد دو رکعت ادا کرنے کے بعد کھڑے ہوئے، تو انہوں نے تکبیر کہی، انہوں نے اسی طرح کیا یہاں تک کہ اپنی نماز کو مکمل کر لیا۔ جب انہوں نے اپنی نماز کو مکمل کر کے سلام پھیرا تو انہوں نے اہل مسجد کی طرف رخ پھیرا اور کہا: ”اس ذات کی قسم! جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، میں تم سب کے مقابلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے زیادہ مشابہت رکھتا ہوں۔“ سالم بیان کرتے ہیں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی اسی طرح کیا کرتے تھے، البتہ وہ تکبیر کہتے ہوئے اپنی آواز کو پست رکھتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1767]

1768

Sahih Ibn Hibban #1768

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَفْتَتِحُ الصَّلاةَ بِالتَّكْبِيرِ ، وَالْقِرَاءَةِ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، وَكَانَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَكَعَ لَمْ يُشْخِصْ بَصَرَهُ ، وَلَمْ يُصَوِّبْهُ ، وَلَكِنْ بَيْنَ ذَلِكَ ، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ، لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَائِمًا ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ جَالِسًا ، وَكَانَ يُوتِرُ رِجْلَهُ الْيُسْرَى ، وَيَنْصِبُ رِجْلَهُ الْيُمْنَى ، وَكَانَ يَقُولُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ التَّحِيَّةَ ، وَكَانَ يَنْهَى عَنْ عَقِبِ الشَّيْطَانِ ، وَكَانَ يَنْهَى أَنْ يَفْرِشَ أَحَدُنَا ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ السَّبُعِ ، وَكَانَ يَخْتِمُ الصَّلاةَ بِالتَّسْلِيمِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر اور ﴿سُورَةُ الْفَاتِحَةِ﴾ [سورة الفاتحة: 1] کی قرأت کے ذریعے نماز کا آغاز کرتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے، تو اپنے سر مبارک کو نہ تو بالکل جھکا کر رکھتے تھے اور نہ ہی بلند رکھتے تھے بلکہ ان دونوں کے درمیان کی صورت اختیار کرتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے سر اٹھاتے، تو اس وقت تک سجدے میں نہیں جاتے تھے جب تک کہ پہلے سیدھے کھڑے نہ ہو جاتے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے سے سر اٹھاتے تھے تو دوسری مرتبہ سجدے میں اس وقت تک نہیں جاتے تھے جب تک بالکل سیدھے ہو کر بیٹھ نہ جاتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بائیں پاؤں کو بچھا لیتے تھے اور دائیں پاؤں کو کھڑا کر لیتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر دو رکعت کے بعد تشہد پڑھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم «عَقِبِ الشَّيْطَانِ» ”شیطان کی طرح ایڑیوں پر بیٹھنے“ سے منع فرماتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات سے بھی منع فرماتے تھے کہ کوئی شخص درندوں کی طرح اپنی کلائیاں بچھائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سلام کے ساتھ نماز کو ختم کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1768]

1769

Sahih Ibn Hibban #1769

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَمْعَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيَنْشُرُ أَصَابِعَهُ فِي الصَّلاةِ نَشْرًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے دوران اپنی انگلیوں کو کھلا رکھتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1769]

1770

Sahih Ibn Hibban #1770

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ يُحَدِّثُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّا مَعْشَرَ الأَنْبِيَاءِ أُمِرْنَا أَنْ نُؤَخِّرَ سُحُورَنَا ، وَنُعَجِّلَ فِطْرَنَا ، وَأَنْ نُمْسِكَ بِأَيْمَانِنَا عَلَى شَمَائِلِنَا فِي صَلاتِنَا ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، وَطَلْحَةَ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ہم انبیاء کے گروہ کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہم اپنی سحری کو مؤخر کریں، افطاری جلدی کریں اور نماز کے دوران اپنے دائیں ہاتھوں کے ذریعے بائیں ہاتھوں کو پکڑ لیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابن وہب نے یہ روایت عمر بن حارث اور طلحہ بن عمرو سے سنی ہے، جو عطاء بن ابی رباح سے منقول ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1770]

1771

Sahih Ibn Hibban #1771

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا ابْتَدَأَ الصَّلاةَ الْمَكْتُوبَةَ ، قَالَ : وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، إِنَّ صَلاتِي ، وَنُسُكِي ، وَمَحْيَايَ ، وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، لا شَرِيكَ لَهُ ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ ، ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي ، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا ، إِنَّهُ لا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا أَنْتَ ، وَاهْدِنِي لأَحْسَنِ الأَخْلاقِ ، لا يَهْدِينِي لأَحْسَنِهَا إِلا أَنْتَ ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا ، لا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلا أَنْتَ ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ ، وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ ، وَالْمَهْدِيُّ مَنْ هَدَيْتَ ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب فرض نماز کا آغاز کرتے تھے تو آپ یہ پڑھتے تھے: ” ﴿إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ﴾ [سورة الأنعام: 79] ”میں نے سیدھے راستے پر چلتے ہوئے اور مسلمان ہوتے ہوئے اپنا رخ اس ذات کی طرف کیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور میں مشرک نہیں ہوں۔“ ﴿إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ * لَا شَرِيكَ لَهُ ۖ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ﴾ [سورة الأنعام: 162-163] ”بیشک میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ کے لیے ہے، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں۔“ «اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» ”اے اللہ! تو بادشاہ ہے، تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، تو ہر عیب سے پاک ہے اور حمد تیرے لیے مخصوص ہے، تو میرا پروردگار ہے اور میں تیرا بندہ ہوں۔ میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے، میں اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہوں۔ تو میرے تمام گناہوں کی مغفرت کر دے۔ گناہوں کی مغفرت صرف تو ہی کرتا ہے اور اچھے اخلاق کی طرف تو میری رہنمائی کر دے کیونکہ اچھے اخلاق کی طرف صرف تو ہی رہنمائی کر سکتا ہے اور برے اخلاق کو مجھ سے دور کر دے، برے اخلاق کو صرف تو ہی مجھ سے دور کر سکتا ہے۔ میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں۔ سعادت تیری طرف سے ہی حاصل ہو سکتی ہے اور بھلائی تیرے دستِ قدرت میں ہے، وہ شخص ہدایت یافتہ ہے جسے تو ہدایت عطا کرے، میں تیری مدد سے ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں، تو برکت والا اور بلند و برتر ہے۔ میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں۔“” [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1771]

1772

Sahih Ibn Hibban #1772

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الأَنْمَاطِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا ابْتَدَأَ الصَّلاةَ الْمَكْتُوبَةَ ، قَالَ : وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا ، وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، إِنَّ صَلاتِي ، وَنُسُكِي ، وَمَحْيَايَ ، وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، لا شَرِيكَ لَهُ ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ ، ظَلَمْتُ نَفْسِي ، وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي ، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا ، لا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا أَنْتَ ، وَاهْدِنِي لأَحْسَنِ الأَخْلاقِ ، لا يَهْدِي لأَحْسَنِهَا إِلا أَنْتَ ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا ، لا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلا أَنْتَ ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ ، وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ ، وَالْمَهْدِيُّ مَنْ هَدَيْتَ ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب فرض نماز کا آغاز کرتے تھے تو آپ یہ پڑھتے تھے: «وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا، وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي، وَنُسُكِي، وَمَحْيَايَ، وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ، اللهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ، وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» ”میں سیدھے راستے پر گامزن رہتے ہوئے اپنا رخ اس ذات کی طرف کرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ﴿إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا ۖ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ﴾ [سورة الأنعام: 79] اور میں مشرک نہیں ہوں۔ بے شک میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے، جس کا کوئی شریک نہیں ہے اور مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں ﴿قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ * لَا شَرِيكَ لَهُ ۖ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ﴾ [سورة الأنعام: 162-163] ۔ اے اللہ! تو بادشاہ ہے۔ تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں۔ تو ہر عیب سے پاک ہے۔ حمد تیرے لیے مخصوص ہے، تو میرا پروردگار ہے، میں تیرا بندہ ہوں، میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے۔ میں اپنے ذنب کا اعتراف کرتا ہوں، تو میرے تمام ذنوب کی مغفرت کر دے۔ ذنوب کی مغفرت صرف تو ہی کر سکتا ہے، تو اچھے اخلاق کی طرف میری رہنمائی کر، اچھے اخلاق کی طرف تو ہی رہنمائی کر سکتا ہے، تو برے اخلاق کو مجھ سے دور کر دے۔ برے اخلاق کو صرف تو ہی دور کر سکتا ہے، میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں، سعادت تجھ سے حاصل ہوتی ہے۔ بھلائی تیرے دستِ قدرت میں ہے۔ ہدایت یافتہ وہ ہے جسے تو ہدایت عطا کرے۔ میں تیری مدد سے ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں۔ تو برکت والا اور بلند و برتر ہے۔ میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1772]

1773

Sahih Ibn Hibban #1773

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَمِّهِ الْمَاجِشُونَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلاةَ كَبَّرَ ، ثُمَّ يَقُولُ : وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا ، وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، إِنَّ صَلاتِي ، وَنُسُكِي ، وَمَحْيَايَ ، وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، لا شَرِيكَ لَهُ ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ ، أَنْتَ رَبِّي ، وَأَنَا عَبْدُكَ ، ظَلَمْتُ نَفْسِي ، وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي ، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا ، لا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا أَنْتَ ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ ، وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ ، وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ " ، أَرَادَ بِهِ : وَالشَّرُّ لَيْسَ مِمَّا يُتَقَرَّبُ بِهِ إِلَيْكَ ، فَأَضْمَرَ فِيهِ مَا يُتَقَرَّبُ بِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کا آغاز کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کہتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھتے تھے: ” «وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ» ﴿إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا ۖ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ﴾ [سورة الأنعام: 79] ”میں نے سیدھے راستے پر گامزن رہتے ہوئے اپنا رخ اس ذات کی طرف کر لیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں مشرک نہیں ہوں“، ﴿إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ * لَا شَرِيكَ لَهُ ۖ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ﴾ [سورة الأنعام: 162-163] ”بے شک میری نماز، میری ذات، میری موت، میری قربانی، میری زندگی اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں“، «اللهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي، وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ، وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» ”اے اللہ! تو بادشاہ ہے، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، حمد تیرے لیے مخصوص ہے، تو میرا پروردگار ہے اور میں تیرا بندہ ہوں، میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے، میں اپنے ذنب کا اعتراف کرتا ہوں، تو میرے ذنوب کی مغفرت کر دے، ذنوب کی مغفرت صرف تو ہی کرتا ہے، میں حاضر ہوں اور سعادت تجھ سے حاصل ہو سکتی ہے، تمام بھلائی تیرے دست قدرت میں ہے اور برائی تیری طرف نہیں جا سکتی اور میں تیری مدد سے ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں، تو برکت والا ہے اور بلند و برتر ہے، میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں“۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”برائی تیری طرف نہیں جا سکتی“ اس سے مراد یہ ہے: برائی ایسی چیز نہیں ہے جس کے ذریعے تیرا قرب حاصل کیا جائے۔ تو یہاں ”جس کے ذریعے قرب حاصل کیا جائے“ محذوف ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1773]

1774

Sahih Ibn Hibban #1774

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الأَنْمَاطِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَإِذَا ابْتَدَأَ الصَّلاةَ الْمَكْتُوبَةَ ، قَالَ : وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا ، وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، إِنَّ صَلاتِي ، وَنُسُكِي ، وَمَحْيَايَ ، وَمَمَاتِي ، لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، لا شَرِيكَ لَهُ ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ ، ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي ، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا ، لا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا أَنْتَ ، وَاهْدِنِي لأَحْسَنِ الأَخْلاقِ ، لا يَهْدِي لأَحْسَنِهَا إِلا أَنْتَ ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا ، لا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلا أَنْتَ ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ ، وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ ، وَالْمَهْدِيُّ مَنْ هَدَيْتَ ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب فرض نماز ادا کرتے تھے، تو یہ پڑھتے تھے: ” ﴿إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا ۖ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ﴾ [سورة الأنعام: 79] ”میں نے سیدھے راستے پر گامزن رہتے ہوئے اپنا رخ اس ذات کی طرف کر لیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور میں مشرک نہیں ہوں“، ﴿إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ * لَا شَرِيكَ لَهُ ۖ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ﴾ [سورة الأنعام: 162-163] ”بیشک میری نماز، میری زندگی، میری موت، میری قربانی اللہ کے لیے ہے، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں مسلمان ہوں“، «اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي، وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ، وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» ”اے اللہ! ہم تیرے لیے مخصوص ہیں، تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، تو پاک ہے اور حمد تیرے لیے مخصوص ہے، تو میرا پروردگار ہے اور میں تیرا بندہ ہوں، میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے، میں اپنے ذنب کا اعتراف کرتا ہوں، تو میرے تمام ذنوب کی مغفرت کر دے، ذنوب کی مغفرت صرف تو ہی کر سکتا ہے، اچھے اخلاق کی طرف صرف تو ہی رہنمائی کر سکتا ہے، تو برے اخلاق کو مجھ سے دور کر دے، بے شک برے اخلاق کو صرف تو ہی مجھ سے دور کر سکتا ہے، میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں، سعادت تجھ سے ہی حاصل ہو سکتی ہے اور بھلائی تیرے دستِ قدرت میں ہے، ہدایت یافتہ وہ ہے جسے تو ہدایت عطا کرے، میں تیری مدد سے ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں، تو برکت والا اور بلند و برتر ہے اور میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں“۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1774]