Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 16 · Chapter 1

Book of Hajj

Hadith 1694–1734

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

1694

Sahih Ibn Hibban #1694

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : ذَاقَ طَعْمَ الإِيمَانِ مَنْ رَضِيَ بِاللَّهِ رَبًّا ، وَبِالإِسْلامِ دِينًا ، وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيًّا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اس شخص نے ایمان کا ذائقہ چکھ لیا جو اللہ تعالیٰ کے پروردگار ہونے، اسلام کے دین ہونے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے سے راضی ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1694]

1695

Sahih Ibn Hibban #1695

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، بِبُسْتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ حُيَيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ رَجُلا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ الْمُؤَذِّنِينَ يَفْضُلُونَنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قُلْ كَمَا يَقُولُونَ ، فَإِذَا انْتَهَيْتَ فَسَلْ تُعْطَهْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! اذان دینے والے لوگ ہم پر فضیلت لے گئے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اسی طرح کہو، جس طرح وہ کہتے ہیں، تو جب تم (اذان کا) مکمل جواب دے دو گے تو تم جو مانگو گے وہ تمہیں دیا جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1695]

1696

Sahih Ibn Hibban #1696

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ السَّلُولِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الدُّعَاءُ بَيْنَ الأَذَانِ وَالإِقَامَةِ يُسْتَجَابُ ، فَادْعُوا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اذان اور اقامت کے درمیان کی جانے والی دعا مستجاب ہوتی ہے، تو تم لوگ (اس وقت میں) دعا مانگو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1696]

1697

Sahih Ibn Hibban #1697

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فُضِّلْنَا عَلَى النَّاسِ بِثَلاثٍ : جُعِلَتِ الأَرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدًا ، وَجُعِلَ تُرْبَتُهَا لَنَا طَهُورًا ، وَجُعِلَتْ صُفُوفُنَا كَصُفُوفِ الْمَلائِكَةِ ، وَأُوتِيتُ هَؤُلاءِ الآيَاتِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ مِنْ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ ، لَمْ يُعْطَهُ أَحَدٌ قَبْلِي ، وَلا يُعْطَى أَحَدٌ بَعْدِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ہمیں دوسرے لوگوں پر تین حوالے سے فضیلت دی گئی ہے: ہمارے لیے تمام روئے زمین کو مسجد بنا دیا گیا ہے، زمین کی مٹی کو ہمارے لیے طہارت کے حصول کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے، اور ہماری صفوں کو فرشتوں کی صفوں کی مانند قرار دیا گیا ہے، اور مجھے سورہ بقرہ کی یہ آخری آیات عرش کے نیچے موجود خزانے میں سے دی گئی ہیں، یہ مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں اور میرے بعد بھی کسی کو نہیں دی جائیں گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1697]

1698

Sahih Ibn Hibban #1698

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى عَبْدَانُ ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ الْعَسْكَرِيُّ ، وَأَبُو مُوسَى الزَّمِنُ ، قَالا : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُصَلَّى بَيْنَ الْقُبُورِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ ”قبروں کے درمیان نماز ادا کی جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1698]

1699

Sahih Ibn Hibban #1699

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى الأَنْصَارِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الأَرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدٌ ، إِلا الْحَمَّامَ وَالَمْقْبَرَةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تمام روئے زمین نماز ادا کرنے کی جگہ ہے سوائے حمام اور مقبرے کے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1699]

1700

Sahih Ibn Hibban #1700

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا لَمْ تَجِدُوا إِلا مَرَابِضَ الْغَنَمِ ، وَمَعَاطِنَ الإِبِلِ ، فَصَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ ، وَلا تُصَلُّوا فِي أَعْطَانِ الإِبِلِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب تمہیں (نماز ادا کرنے کے لیے) صرف بکریوں کا باڑا یا اونٹوں کا باڑا ملے، تو تم بکریوں کے باڑے میں نماز ادا کر لو، اونٹوں کے باڑے میں نماز ادا نہ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1700]

1701

Sahih Ibn Hibban #1701

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا لَمْ تَجِدُوا إِلا مَرَابِضَ الْغَنَمِ ، وَمَعَاطِنَ الإِبِلِ ، فَصَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ ، وَلا تُصَلُّوا فِي أَعْطَانِ الإِبِلِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب تمہیں (نماز ادا کرنے کے لئے) صرف بکریوں کا باڑا یا اونٹوں کا باڑا ملے، تو تم بکریوں کے باڑے میں نماز ادا کر لو، اونٹوں کے باڑے میں نماز ادا نہ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1701]

1702

Sahih Ibn Hibban #1702

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ ، وَلا تُصَلُّوا فِي مَعَاطِنِ الإِبِلِ ، فَإِنَّهَا خُلِقَتْ مِنَ الشَّيَاطِينِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَإِنَّهَا خُلِقَتْ مِنَ الشَّيَاطِينِ " أَرَادَ بِهِ أَنَّ مَعَهَا الشَّيَاطِينَ وَهَكَذَا قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَلْيَدْرَأْهُ مَا اسْتَطَاعَ ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ ، فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ " ، ثُمَّ قَالَ فِي خَبَرِ صَدَقَةَ بْنِ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : فَلْيُقَاتِلْهُ ، فَإِنَّ مَعَهُ الْقَرِينَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بکریوں کے باڑے میں نماز ادا کر لو، اونٹوں کے باڑے میں نماز ادا نہ کرو، کیونکہ ان کی تخلیق شیاطین سے ہوئی ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”ان کی تخلیق شیاطین سے ہوئی ہے“ اس سے آپ کی مراد یہ ہے کہ ان کے ساتھ شیاطین ہوتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ (درج ذیل) فرمان بھی اس نوعیت کا ہے: ”وہ جہاں تک ہو سکے اسے پرے کرنے کی کوشش کرے، اگر وہ (دوسرا شخص) نہیں مانتا تو وہ (نمازی) اس کے ساتھ جھگڑا کرے کیونکہ وہ (دوسرا شخص) شیطان ہو گا۔“ صدقہ بن یسار نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے جو روایت نقل کی ہے اس کے الفاظ یہ ہیں: ”پس وہ (نمازی) اس کے ساتھ جھگڑا کرے کیونکہ اس (آگے سے گزرنے والے) کے ساتھ قرین (یعنی شیطان) ہو گا۔“) [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1702]

1703

Sahih Ibn Hibban #1703

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الأَسْلَمِيَّ ، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَاهُ حَمْزَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَلَى ظَهْرِ كُلِّ بَعِيرٍ شَيْطَانٌ ، فَإِذَا رَكِبْتُمُوهَا فَسَمُّوا اللَّهَ ، وَلا تَقْصُرُوا عَنْ حَاجَاتِكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ہر اونٹ کی پشت پر شیطان ہوتا ہے، جب تم اس پر سوار ہوتے ہو، تو اللہ کا نام لے لو اور اپنی حاجات میں کوئی کمی نہ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1703]

1704

Sahih Ibn Hibban #1704

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّهُ قَالَ : كُنْتُ أَسِيرُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بِطَرِيقِ مَكَّةَ ، فَلَمْا خَشِيتُ الصُّبْحَ نَزَلْتُ فَأَوْتَرْتُ ، فَقَالَ : أَلَيْسَ لَكَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسْوَةٌ ؟ فَقُلْتُ : بَلَى وَاللَّهِ ، قَالَ : فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ عَلَى الْبَعِيرِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : لَوْ كَانَ الزَّجْرُ عَنِ الصَّلاةِ فِي أَعْطَانِ الإِبِلِ لأَجَلِ أَنَّهَا خُلِقَتْ مِنَ الشَّيَاطِينِ لَمْ يُصَلِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْبَعِيرِ ، إِذْ مُحَالٌ أَنْ لا تَجُوزَ الصَّلاةُ فِي الْمَوَاضِعِ الَّتِي قَدْ يَكُونُ فِيهَا الشَّيْطَانُ ، ثُمَّ تَجُوزُ الصَّلاةُ عَلَى الشَّيْطَانِ نَفْسِهِ ، بَلْ مَعْنَى قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّهَا خُلِقَتْ مِنَ الشَّيَاطِينِ ، أَرَادَ بِهِ أَنَّ مَعَهَا الشَّيَاطِينُ عَلَى سَبِيلِ الْمُجَاوَرَةِ وَالْقُرْبِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن یسار بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ہمراہ مکہ کی طرف سفر کر رہا تھا، جب مجھے صبح صادق (قریب) ہونے کا اندیشہ ہوا تو میں سواری سے نیچے اترا اور میں نے وتر ادا کر لیے، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”تمہارے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے میں نمونہ نہیں ہے؟“ میں نے جواب دیا: جی ہاں! اللہ کی قسم! (نمونہ ہے)، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ پر ہی وتر ادا کر لیتے تھے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اونٹوں کے باڑے میں نماز ادا کرنے کی ممانعت کی بنیادی وجہ اگر یہ ہوتی کہ ”ان کی تخلیق شیاطین سے ہوئی ہے“، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ پر نماز ادا نہ کرتے، کیونکہ یہ بات محال ہے کہ ایسی جگہ پر نماز ادا کرنا جائز نہ ہو جہاں شیطان ہوتا ہے اور خود شیطان پر نماز ادا کرنا جائز ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ”ان کی تخلیق شیاطین سے ہوئی ہے“ کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی مراد یہ ہے: مجاورت اور قرب کے حوالے سے، ان کے ساتھ شیطان ہوتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1704]

1705

Sahih Ibn Hibban #1705

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْمَلِيحِ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : لا يَقْبَلُ اللَّهُ صَلاةً بِغَيْرِ طُهُورٍ ، وَلا صَدَقَةً مِنْ غُلُولٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوملیح اپنے والد رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ وضو کے بغیر نماز کو قبول نہیں کرتا اور خیانت کے مال میں سے صدقے کو قبول نہیں کرتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1705]

1706

Sahih Ibn Hibban #1706

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفِيانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفِيهِ ، وَصَلَّى الصَّلَوَاتِ كُلَّهَا بِوَضُوءٍ وَاحِدٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سلیمان بن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کرتے ہوئے اپنے موزوں پر مسح کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام نمازیں ایک ہی وضو کے ساتھ ادا کیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1706]

1707

Sahih Ibn Hibban #1707

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفِيانَ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلاةٍ ، فَلَمْا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ صَلَّى الصَّلَوَاتِ كُلَّهَا بِوَضُوءٍ وَاحِدٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن بریدہ اپنے والد (بریدہ رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کیا کرتے تھے، جب فتح مکہ کا دن آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی وضو کے ساتھ تمام نمازیں ادا کیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1707]

1708

Sahih Ibn Hibban #1708

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو قُدَيْدٍ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، وَقَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ ، قَالا : حَدَّثَنَا سُفِيانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَوَاتِ كُلَّهَا يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ بِوَضُوءٍ وَاحِدٍ ، وَمَسَحَ عَلَى خُفِيهِ " ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : إِنِّي رَأَيْتُكَ الْيَوْمَ صَنَعْتَ شَيْئًا لَمْ تَكُنْ تَصْنَعُهُ قَبْلَ الْيَوْمِ ، قَالَ : " عَمْدًا فَعَلْتُ يَا عُمَرُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سلیمان بن بریدہ اپنے والد (بریدہ رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن تمام نمازیں ایک ہی وضو کے ساتھ ادا کیں۔ آپ نے (وضو کرتے ہوئے) اپنے موزوں پر مسح کیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی: ”میں نے آج آپ کو ایک ایسا کام کرتے ہوئے دیکھا ہے، جو آپ آج سے پہلے نہیں کرتے تھے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمر! میں نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1708]

1709

Sahih Ibn Hibban #1709

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَااسْتَعَارَتْ قِلادَةً مِنْ أَسْمَاءَ فَهَلَكَتْ ، فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ فِي طَلَبِهَا ، وَأَدْرَكَتْهُمُ الصَّلاةُ ، فَصَلُّوا بِغَيْرِ وُضُوءٍ ، فَلَمَّا أَتَوَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَكَوْا ذَلِكَ إِلَيْهِ ، قَالَ : فَنَزَلَتْ آيَةُ التَّيَمُّمِ "، فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ : " جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا ، فَوَاللَّهِ مَا نَزَلَ بِكَ أَمْرٌ قَطُّ إِلا جَعَلَ اللَّهُ لَكَ مِنْهُ مَخْرَجًا ، وَجَعَلَ فِيهِ لِلْمُسْلِمِينَ بَرَكَةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: انہوں نے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے عارضی استعمال کے لیے ایک ہار لیا، وہ گم ہو گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب میں سے کچھ لوگوں کو اس کی تلاش میں بھیجا، ان لوگوں کو نماز کا وقت ہو گیا، انہوں نے وضو کے بغیر ہی نماز ادا کر لی، جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے اس بات کی شکایت آپ کے سامنے کی، تو تیمم کے حکم سے متعلق آیت نازل ہو گئی، اس پر سیدنا اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے کہا (یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا): اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا کرے، اللہ کی قسم! جب بھی آپ کو کسی مشکل کا سامنا کرنا پڑا تو اللہ تعالیٰ نے اس میں سے نکلنے کا راستہ بنا دیا اور مسلمانوں کے لیے اس میں برکت رکھ دی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1709]

1710

Sahih Ibn Hibban #1710

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّوَّافُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ سُفِيانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ زُرْعَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَدِّهِ جَرْهَدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَقَدْ كَشَفَ فَخِذَهُ ، فَقَالَ : غَطِّهَا ، فَإِنَّهَا عَوْرَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے، انہوں نے اس وقت اپنے زانوں سے کپڑا ہٹایا ہوا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے ڈھانپ لو، کیونکہ یہ پردے کی چیز ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1710]

1711

Sahih Ibn Hibban #1711

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمْةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ صَفِيةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا يَقْبَلُ اللَّهُ صَلاةَ حَائِضٍ إِلا بِخِمَارٍ ". حَدَّثَنَاهُ ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، بِإِسْنَادٍ مِثْلِهِ ، وَقَالَ : " صَلاةَ امْرَأَةٍ حَائِضٍ إِلا بِخِمَارٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”اللہ تعالیٰ بالغ عورت کی نماز چادر کے بغیر قبول نہیں کرتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1711]

1713

Sahih Ibn Hibban #1713

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ تَوْبَةَ الْعَنْبَرِيِّ ، سَمِعَ نَافِعًا ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ ، فَلْيَتَّزِرْ ، وَلْيَرْتَدِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی شخص نماز ادا کرنے لگے تو تہبند باندھ لے اور اسے موڑ لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1713]

1714

Sahih Ibn Hibban #1714

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُصَلِّي أَحَدُنَا فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ ؟ قَالَ : إِذَا وَسَّعَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ ، فَأَوْسِعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ ، جَمَعَ رَجُلٌ عَلَيْهِ ثِيَابَهُ ، صَلَّى رَجُلٌ فِي إِزَارٍ وَرِدَاءٍ ، فِي إِزَارٍ وَقَمِيصٍ ، فِي إِزَارٍ وَقَبَاءٍ ، فِي سَرَاوِيلَ وَقَمِيصٍ ، فِي سَرَاوِيلَ وَرِدَاءٍ ، فِي سَرَاوِيلَ وَقَبَاءٍ ، فِي تُبَّانٍ وَقَمِيصٍ ، فِي تُبَّانٍ وَقَبَاءٍ "، قَالَ : وَأَحْسَبُهُ ، قَالَ : فِي تُبَّانٍ ، وَرِدَاءٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: کیا کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز ادا کر سکتا ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اللہ تعالیٰ تمہیں گنجائش دے، تو تم اپنے آپ کو گنجائش دو کہ آدمی اپنے جسم پر دو طرح کے کپڑے اکٹھے کرے۔ آدمی تہبند اور چادر میں، یا تہبند اور قمیص میں، یا تہبند اور قبا میں، یا شلوار اور چادر میں، یا شلوار اور قبا میں، یا پاجامے اور قمیص میں، یا پاجامے اور قبا میں نماز ادا کرے۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ میرا خیال ہے انہوں نے یہ بھی فرمایا تھا: ”پاجامے اور چادر میں (نماز ادا کرے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1714]

1715

Sahih Ibn Hibban #1715

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ : بَيْنَمَا النَّاسُ بِقُبَاءَ فِي صَلاةِ الصُّبْحِ ، إِذْ جَاءَهُمْ آتٍ ، فَقَالَ لَهُمْ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَنْزَلَ عَلَيْهِ اللَّيْلَةَ قُرْآنٌ ، وَقَدْ أُمِرَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةَ ، فَاسْتَقْبِلُوهَا ، وَكَانَتْ وُجُوهُهُمْ إِلَى الشَّامِ ، فَاسْتَدَارُوا إِلَى الْكَعْبَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن دینار بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ بات بیان کی ہے کہ ایک مرتبہ لوگ قبا میں صبح کی نماز ادا کر رہے تھے، اسی دوران ایک شخص ان کے پاس آیا اور اس نے ان سے کہا: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر گزشتہ رات قرآن نازل ہوا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ آپ خانہ کعبہ کی طرف رخ کر لیں، تو تم لوگ بھی اس کی طرف رخ کر لو۔“ ان لوگوں کے چہرے اس وقت شام کی طرف تھے، تو وہ گھوم کر خانہ کعبہ کی طرف ہو گئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1715]

1716

Sahih Ibn Hibban #1716

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : لَمْا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ ،صَلَّى نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا ، أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا ، وَكَانَ يُحِبُّ أَنْ يُوَجَّهَ إِلَى الْكَعْبَةِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا : قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ ، فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا ، فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ، فَمَرَّ رَجُلٌ عَلَى قَوْمٍ مِنَ الأَنْصَارِ وَهُمْ رُكُوعٌ ، فَقَالَ : هُوَ يَشْهَدُ أَنَّهُ قَدْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَّهُ وَجَّهَ إِلَى الْكَعْبَةِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : صَلَّى الْمُسْلِمُونَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ بَعْدَ قَدُومِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ سَبْعَةَ عَشْرًا شَهْرًا وَثَلاثَةَ أَيَّامٍ سَوَاءً ، وَذَلِكَ أَنَّ قُدُومَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ كَانَ يَوْمَ الاثْنَيْنِ ، لاثْنَتَيْ عَشْرَةَ لَيْلَةً خَلَتْ مِنْ رَبِيعٍ الأَوَّلِ ، وَأَمَرَهُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا بِاسْتِقْبَالِ الْكَعْبَةِ يَوْمَ الثُّلاثَاءِ ، لِلْنِصْفِ مِنْ شَعْبَانَ ، فَذَلِكَ مَا وَصَفْتُ عَلَى صِحَّةِ مَا ذَكَرْتُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے، تو آپ نے سولہ ماہ تک یا شاید سترہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز ادا کی۔ آپ اس بات کے خواہش مند تھے کہ آپ کا رخ خانہ کعبہ کی طرف کر دیا جائے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ﴾ [سورة البقرة: 144] ”ہم آسمان میں تمہارے چہرے کا اوپر کی طرف اٹھنا دیکھ رہے ہیں، ہم تمہیں عنقریب اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے، جس سے تم راضی ہو گے، تو تم اپنے چہرے کو مسجد حرام کی سمت میں پھیر لو۔“ پھر ایک شخص انصار کے پاس سے گزرا جو رکوع کی حالت میں تھے، اس شخص نے گواہی دے کر یہ بات کہی کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز ادا کی ہے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ خانہ کعبہ کی طرف کر دیا گیا ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ منورہ تشریف آوری کے بعد مسلمانوں نے سترہ ماہ تین دن تک بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز ادا کی تھی کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ۱۲ ربیع الاول کو پیر کے دن مدینہ منورہ تشریف لائے تھے اور اللہ تعالیٰ نے منگل کے دن ۱۵ شعبان المعظم کو خانہ کعبہ کی طرف رخ کرنے کا حکم دیا تو یوں ہماری ذکر کردہ بات درست شمار ہو گی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1716]

1717

Sahih Ibn Hibban #1717

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمْا وُجِّهَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْكَعْبَةِ ، قَالُوا : كَيْفَ بِمَنْ مَاتَ مِنْ إِخْوَانِنَا وَهُمْ يُصَلُّونَ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا : وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ خانہ کعبہ کی طرف کر دیا گیا، تو لوگوں نے عرض کی: ہمارے ان بھائیوں کا کیا ہو گا، جن کا انتقال ایسی حالت میں ہوا ہے، وہ بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے رہے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ﴾ [سورة البقرة: 143] ”اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں ہے، وہ تمہارے ایمان (یعنی اعمال) کو ضائع کر دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1717]

1718

Sahih Ibn Hibban #1718

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَبَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلاثٍ : اسْمَعْ وَأَطِعْ وَلَوْ لِعَبْدٍ مُجَدَّعِ الأَطْرَافِ ، وَإِذَا صَنَعْتَ مَرَقَةً فَأَكْثِرْ مَاءَهَا ، ثُمَّ انْظُرْ إِلَى أَهْلِ بَيْتٍ مِنْ جِيرَانِكَ فَأَصِبْهُمْ مِنْهُ بِمَعْرُوفٍ ، وَصَلِّ الصَّلاةَ لِوَقْتِهَا ، فَإِنْ وَجَدْتَ الإِمَامَ قَدْ صَلَّى فَقَدْ أَحْرَزْتَ صَلاتَكَ ، وَإِلا فَهِيَ نَافِلَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میرے خلیل (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) نے مجھے تین چیزوں کی تلقین کی تھی: ”تم (حاکم کی) اطاعت و فرمانبرداری کرنا، اگرچہ وہ کوئی ناک کان کٹا غلام ہو۔ جب تم شوربا بناؤ تو اس میں پانی زیادہ کر لینا، پھر اپنے پڑوسیوں میں سے کسی گھر کا جائزہ لینا اور اس (شوربے) میں سے مناسب طور پر انہیں دے دینا۔ نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا، جب تم امام کو ایسی حالت میں پاؤ کہ وہ نماز ادا کر چکا ہو، تو تم نے اپنی نماز کی حفاظت کر لی، ورنہ وہ (امام کے ہمراہ دوبارہ ادا کرنے کی صورت میں تمہاری دوسری نماز) نفل ہو جائے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1718]

1719

Sahih Ibn Hibban #1719

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْقُرَشِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صَلِّ الصَّلاةَ لِوَقْتِهَا ، فَإِنْ أَتَيْتَ الْقَوْمَ وَقَدْ صَلُّوا كُنْتَ قَدْ أَحْرَزْتَ صَلاتَكَ ، وَإِنْ لَمْ يَكُونُوا صَلُّوا صَلَّيْتَ مَعَهُمْ ، وَكَانَتْ لَكَ نَافِلَةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تم نماز کو اس کے وقت پر ادا کر لو، پھر جب لوگوں کے پاس آؤ اور وہ نماز ادا کر چکے ہوں، تو تم نے اپنی نماز کی حفاظت کر لی تھی، اور اگر انہوں نے ابھی نماز ادا نہیں کی، تو تم ان کے ساتھ نماز ادا کرو، یہ تمہارے لیے نفل ہو جائے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1719]

1720

Sahih Ibn Hibban #1720

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ السِّجِسْتَانِيُّ ، بِدِمَشْقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُنْذِرِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَاعَتَانِ تُفْتَحُ فِيهِمَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ : عِنْدَ حُضُورِ الصَّلاةِ ، وَعِنْدَ الصَّفِّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دو گھڑیاں ایسی ہیں جن میں آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، نماز میں حاضری کے وقت اور اللہ کی راہ میں (جہاد کرتے ہوئے) صف بناتے وقت۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1720]

1721

Sahih Ibn Hibban #1721

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ دَرَّاجٍ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا رَأَيْتُمُ الرَّجُلَ يَعْتَادُ الْمَسْجِدَ ، فَاشْهَدُوا عَلَيْهِ بِالإِيمَانِ ، قَالَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا : إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : دَرَّاجٌ هَذَا مِنْ أَهْلِ مِصْرَ ، اسْمُهُ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ السَّمْحِ ، وَكُنْيَتُهُ : أَبُو السَّمْحِ ، وَأَبُو الْهَيْثَمِ هَذَا اسْمُهُ سُلَيْمَانُ بْنُ عَمْرٍو الْعُتْوَارِيُّ مِنْ ثِقَاتِ أَهْلِ فِلَسْطِينَ ، وَقَوْلُهُ : " عَلَيْهِ " بِمَعْنَى " لَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب تم کسی شخص کو باقاعدگی سے مسجد کی طرف آتے ہوئے دیکھو تو اس کے ایمان کے بارے میں گواہی دو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ﴾ [سورة التوبة: 18] ”بیشک اللہ تعالیٰ کی مسجد کو وہ شخص آباد کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو۔“”(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) دراج نامی راوی مصر سے تعلق رکھتا ہے، اس کا نام عبدالرحمن بن سمح ہے اور اس کی کنیت ابوالسمح ہے، اور ابوہیثم نامی راوی کا نام سلیمان بن عمرو عتواری ہے، یہ فلسطین سے تعلق رکھنے والے ثقہ راویوں میں سے ایک ہے۔ روایت کے الفاظ میں لفظ «عَلَيْهِ» لفظ «لَهُ» کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1721]

1722

Sahih Ibn Hibban #1722

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ رَجُلا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَهُ عَنْأَفْضَلِ الأَعْمَالِ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الصَّلاةُ " . قَالَ : ثُمَّ مَهْ ؟ قَالَ : " ثُمَّ الصَّلاةُ " . قَالَ : ثُمَّ مَهْ ؟ قَالَ : " ثُمَّ الصَّلاةُ " ثَلاثَ مَرَّاتٍ . قَالَ : ثُمَّ مَهْ ؟ قَالَ : " ثُمَّ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " . قَالَ : فَإِنَّ لِي وَالِدَيْنِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " آمُرُكَ بِوَالِدَيْكَ خَيْرًا " . فَقَالَ : وَالَّذِي بَعَثَكَ نَبِيًّا ، لأُجَاهِدَنَّ وَلأَتْرُكَنَّهُمَا . قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَأَنْتَ أَعْلَمُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے افضل عمل کے بارے میں دریافت کیا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نماز۔“ اس نے دریافت کیا: پھر کون سا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر نماز۔“ اس نے دریافت کیا: پھر کون سا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر نماز۔“ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔ اس نے دریافت کیا: پھر کون سا؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔“ اس نے عرض کی: میرے ماں باپ ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں ماں باپ کے ساتھ بھلائی کی ہدایت کرتا ہوں۔“ اس نے عرض کی: اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو نبی بنا کر مبعوث کیا ہے، میں جہاد میں ضرور حصہ لوں گا اور میں ان ماں باپ کو چھوڑ دوں گا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم زیادہ بہتر جانتے ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1722]

1723

Sahih Ibn Hibban #1723

يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ : إِنَّهُلا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ لَحْمٌ نَبَتَ مِنْ سُحْتٍ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ " ، يُرِيدُ : لَيْسَ مِثْلِي وَلَسْتُ مِثْلَهُ فِي ذَلِكَ الْفِعْلِ وَالْعَمَلِ ، وَهَذِهِ لَفْظَةٌ مُسْتَعْمَلَةٌ لأَهْلِ الْحِجَازِ . وَقَوْلُهُ : " لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ لَحْمٌ نَبَتَ مِنْ سُحْتٍ " ، يُرِيدُ بِهِ جَنَّةً دُونَ جَنَّةٍ ، لأَنَّهَا جِنَانٌ كَثِيرَةٌ ، وَهَذَا كَقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ وَلَدُ الزِّنَى ، وَلا يَدْخُلُ الْعَاقُّ الْجَنَّةَ ، وَلا مَنَّانٌ " ، يُرِيدُ جَنَّةً دُونَ جَنَّةٍ ، وَهَذَا بَابٌ طَوِيلٌ سَنَذْكُرُهُ فِيمَا بَعْدُ مِنْ هَذَا الْكِتَابِ ، إِنْ قَضَى اللَّهُ ذَلِكَ وَشَاءَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے کعب بن عجرہ! میں بیوقوفوں کی حکومت سے تمہیں اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں۔ عنقریب ایسے حکمران آئیں گے، جو شخص ان کے پاس جائے گا اور ان کے ظلم میں ان کی مدد کرے گا اور ان کے جھوٹ میں ان کی تصدیق کرے گا، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہو گا اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہو گا اور وہ حوض پر میرے پاس نہیں آ سکے گا، اور جو شخص ان کے پاس نہیں جائے گا اور ان کے ظلم میں ان کی مدد نہیں کرے گا اور ان کے جھوٹ میں ان کی تصدیق نہیں کرے گا، اس کا مجھ سے تعلق ہو گا اور میرا اس سے تعلق ہو گا اور وہ عنقریب حوض پر میرے پاس آئے گا۔ اے کعب بن عجرہ! نماز قربت کے حصول کا ذریعہ ہے، روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہوں کو بجھا دیتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھا دیتا ہے۔ لوگ دو طرح کی حالت میں نکلتے ہیں، آدمی اپنی ذات کا سودا کرتا ہے، تو یا تو اپنی گردن کو آزاد کروا لیتا ہے یا غلام بنوا لیتا ہے۔ اے کعب بن عجرہ! ایسا گوشت جنت میں داخل نہیں ہو گا، جس کی نشو و نما حرام سے ہوتی ہو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں اور میرا اس سے تعلق نہیں“ اس سے آپ کی مراد یہ ہے کہ اس فعل اور اس عمل کے حوالے سے وہ میری مثل نہیں ہے اور میں اس کی مثل نہیں ہوں۔ یہ وہ الفاظ ہیں جو اہل حجاز کے محاورے کے مطابق ہیں۔ آپ کا یہ فرمان ”جنت میں ایسا گوشت داخل نہیں ہو گا جس کی نشو و نما حرام سے ہوئی ہو“ اس سے آپ کی مراد ”مخصوص جنت“ ہے جو دوسری قسم کی جنت کے علاوہ ہو گی، اس کی وجہ یہ ہے کہ جنت کئی قسم کی ہے۔ اس کی مثال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی مانند ہو گی: ”زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بچہ جنت میں داخل نہیں ہو گا، (والدین کا) نافرمان جنت میں داخل نہیں ہو گا، احسان جتانے والا جنت میں داخل نہیں ہو گا۔“ اس سے مراد ایک (قسم کی) جنت کی بجائے (دوسری قسم کی) جنت ہے۔ یہ ایک طویل باب ہے، اگر اللہ تعالیٰ نے فیصلہ دیا اور چاہا تو ہم اس کتاب (یعنی باب) کے بعد (آگے آنے والے کسی باب میں) اس کا ذکر کریں گے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1723]

1724

Sahih Ibn Hibban #1724

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ ، بِمَنْبِجَ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ ، ثَائِرَ الرَّأْسِ ، يُسْمَعُ دَوِيُّ صَوْتِهِ وَلا يُفْقَهُ مَا يَقُولُ ، حَتَّى دَنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُ عَنِ الإِسْلامِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ " . قَالَ : هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُنَّ ؟ قَالَ : " لا ، إِلا أَنْ تَطَوَّعَ " . قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَصِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ " . قَالَ : هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُ ؟ قَالَ : " لا ، إِلا أَنْ تَطَوَّعَ " . قَالَ : وَذَكَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّكَاةَ ، فَقَالَ : هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا ؟ قَالَ : " لا ، إِلا أَنْ تَطَوَّعَ " . قَالَ : فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ وَهُوَ يَقُولُ : وَاللَّهِ لا أَزِيدُ عَلَى هَذَا وَلا أَنْقُصُ مِنْهُ شَيْئًا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ نجد سے تعلق رکھتا تھا، اس کے بال بکھرے ہوئے تھے، اس کی آواز کی بھنبھناہٹ سنائی دیتی تھی لیکن وہ کیا کہہ رہا ہے یہ سمجھ میں نہیں آتا تھا، یہاں تک کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہو گیا، وہ اسلام کے بارے میں دریافت کر رہا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”دن اور رات میں پانچ نمازیں (ادا کرنی ہیں)۔“ اس نے دریافت کیا کہ کیا ان (کے علاوہ کوئی اور نماز) بھی مجھ پر لازم ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی نہیں! البتہ تم نفل (نماز ادا کر لو تو یہ مناسب ہے)۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان کے مہینے کے روزے رکھنا (لازم ہیں)۔“ اس نے دریافت کیا کہ ان کے علاوہ (کوئی اور روزہ رکھنا) مجھ پر لازم ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی نہیں! البتہ اگر تم نفل (روزہ رکھ لو) تو یہ بہتر ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سامنے زکاۃ کا تذکرہ کیا تو اس نے یہی دریافت کیا کہ اس کے علاوہ کوئی اور ادائیگی بھی مجھ پر لازم ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی نہیں! البتہ اگر تم نفلی طور پر (صدقہ دو تو یہ بہتر ہے)۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر وہ شخص یہ کہتے ہوئے چل دیا: اللہ کی قسم! میں اس میں کوئی اضافہ نہیں کروں گا اور نہ ہی کسی چیز کی کمی کروں گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر یہ سچ کہہ رہا ہے تو یہ کامیاب ہو گیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1724]

1725

Sahih Ibn Hibban #1725

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ عَدِيٍّ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْمَكْتُوبَاتِ كَمَثَلِ نَهْرٍ جَارٍ عَلَى بَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”فرض نمازوں کی مثال اس طرح ہے جس طرح کسی شخص کے دروازے پر نہر بہتی ہو اور وہ روزانہ اس میں پانچ مرتبہ غسل کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1725]

1726

Sahih Ibn Hibban #1726

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، بِتُسْتَرَ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهْرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ ، مَا تَقُولُونَ ، هَلْ يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ شَيْئًا ؟ " . قَالُوا : لا يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ . قَالَ : " ذَلِكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ ، يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”تمہارا کیا خیال ہے؟ اگر تم میں سے کسی ایک کے دروازے پر نہر بہتی ہو اور وہ اس میں روزانہ پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو تو تم اس بارے میں کیا کہتے ہو؟ کیا (یہ عمل) اس کے میل میں سے کوئی بھی چیز باقی رہنے دے گا؟“ لوگوں نے عرض کی: اس کے میل میں سے کوئی بھی چیز باقی نہیں رہے گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ پانچ نمازوں کی مثال ہے جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ گناہوں کو مٹا دے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1726]

1727

Sahih Ibn Hibban #1727

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي وَاثِلَةُ بْنُ الأَسْقَعِ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ . قَالَ : فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، ثُمَّ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ . فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلاةُ ، فَلَمَّا سَلَّمَ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّيأَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ تَوَضَّأْتَ حِينَ أَقْبَلْتَ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " صَلَّيْتَ مَعَنَا ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " فَاذْهَبْ ، فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ غَفَرَ لَكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں نے قابلِ حد جرم کا ارتکاب کیا ہے آپ مجھ پر حد قائم کریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ موڑ لیا۔ پھر نماز قائم کی گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا۔ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے قابلِ حد جرم کا ارتکاب کیا ہے مجھ پر اسے قائم کریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا جب تم آئے تھے، تو تم نے وضو کیا تھا؟“ اس نے عرض کی: جی ہاں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم نے ہمارے ساتھ نماز ادا کی ہے؟“ اس نے کہا: جی ہاں! [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1727]

1728

Sahih Ibn Hibban #1728

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، وَالأَسْوَدِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّيأَخَذْتُ امْرَأَةً فِي الْبُسْتَانِ ، فَأَصَبْتُ مِنْهَا كُلَّ شَيْءٍ إِلا أَنِّي لَمْ أَنْكِحْهَا ، فَافْعَلْ بِي مَا شِئْتَ ، فَلَمْ يَقُلْ لَهُ شَيْئًا ، ثُمَّ دَعَاهُ ، فَقَرَأَ عَلَيْهِ هَذِهِ الآيَةَ : " أَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : الْعَرَبُ تَذْكُرُ الشَّيْءَ إِذَا احْتَوَى اسْمُهُ عَلَى أَجْزَاءٍ وَشُعُبٍ ، فَتَذْكُرُ جُزْءًا مِنْ تِلْكَ الأَجْزَاءِ بِاسْمِ ذَلِكَ الشَّيْءِ نَفْسِهِ ، فَلَمَّا كَانَتِ الْمَحْظُورَاتُ كُلُّهَا مِمَّا نُهِيَ الْمَرْءُ عَنِ ارْتِكَابِهَا ، وَاشْتَمَلَ عَلَيْهَا كُلَّهَا اسْمُ الْمَعْصِيَةِ ، وَكَانَ الزِّنَى مِنْهَا يُوجِبُ الْحَدَّ عَلَى مُرْتَكِبِهَا ، وَلَهَا أَسَبَابٌ يُتَسَلَّقُ مِنْهَا إِلَيْهِ ، أُطْلِقَ اسْمُ كُلِّيَّتِهِ عَلَى سَبَبِهِ الَّذِي هُوَ الْقُبْلَةُ وَاللَّمْسُ دُونَ الْجِمَاعِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: میں نے ایک باغ میں ایک عورت کو پکڑ لیا اور میں نے اس کے ساتھ صحبت کرنے کے علاوہ ہر عمل کیا، اب آپ جو چاہیں میرے ساتھ سلوک کریں۔ (راوی بیان کرتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کچھ نہیں فرمایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور اس کے سامنے تلاوت کیا: ﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ ۚ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ﴾ [سورة هود: 114] ”دن کے دونوں کناروں میں اور رات کے کچھ حصے میں نماز قائم کرو، بیشک نیکیاں گناہوں کو ختم کر دیتی ہیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عرب بعض اوقات کسی چیز کا تذکرہ کرتے ہیں جس کا نام کئی اجزاء اور شعبوں پر مشتمل ہوتا ہے، پھر عرب ان اجزاء میں سے کسی ایک جزء کا ذکر اس پوری چیز کے نام سے کر دیتے ہیں؛ محظورات کی تمام اقسام کے ارتکاب سے بندوں کو منع کیا گیا ہے اور ان سب پر لفظ ”معصیت“ کا اطلاق ہوتا ہے، ان میں سے ایک زنا ہے جو اپنے مرتکب پر حد کو واجب کر دیتا ہے، اس کے کچھ اسباب ہیں جو اس کی طرف لے جاتے ہیں، تو یہاں ایک سبب کا اطلاق پورے فعل پر کر دیا گیا ہے اور وہ سبب بوسہ لینا اور چھونا ہے، صحبت کرنا مراد نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1728]

1729

Sahih Ibn Hibban #1729

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، بِالصُّغْدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَنَّهُأَصَابَ مِنَ امْرَأَةٍ قُبْلَةً ، كَأَنَّهُ يَسْأَلُ عَنْ كَفَّارَتِهَا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا : أَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ قَالَ : فَقَالَ الرَّجُلُ : أَلِي هَذِهِ ؟ قَالَ : هِيَ لِمَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ أُمَّتِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے اس بات کا تذکرہ کیا کہ اس نے ایک عورت کا بوسہ لیا ہے، وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا کفارہ دریافت کرنا چاہتا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ﴾ [سورة هود: 114] ”دن کے دونوں کناروں میں اور رات کے کچھ حصے میں نماز قائم کرو، بے شک نیکیاں گناہوں کو ختم کر دیتی ہیں، یہ بات نصیحت حاصل کرنے والوں کے لیے نصیحت ہے“۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس شخص نے دریافت کیا کہ کیا یہ حکم صرف میرے لیے ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ میری امت کے ہر اس شخص کے لیے ہے جو اس پر عمل کرے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1729]

1730

Sahih Ibn Hibban #1730

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، وَالأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّيلَقِيتُ امْرَأَةً فِي الْبُسْتَانِ ، فَضَمَمْتُهَا إِلَيَّ ، وَقَبَّلْتُهَا ، وَبَاشَرْتُهَا ، وَفَعَلْتُ بِهَا كُلَّ شَيْءٍ ، إِلا أَنِّي لَمْ أُجَامِعْهَا . فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا : أَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ . قَالَ : فَدَعَاهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَرَأَهَا عَلَيْهِ ، فَقَالُ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَهُ خَاصَّةً ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَلْ لِلنَّاسِ كَافَّةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں ایک باغ میں ایک عورت کو ملا، اسے اپنے ساتھ چمٹا لیا، میں نے اس کا بوسہ لیا، میں نے اس کے ساتھ مباشرت کی، میں نے اس کے ساتھ ہر کام کیا لیکن میں نے اس کے ساتھ صحبت نہیں کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَّ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ﴾ [سورة هود: 114] ”دن کے دونوں کناروں میں اور رات کے کچھ حصے میں نماز قائم کرو، بیشک نیکیاں گناہوں کو ختم کر دیتی ہیں، تو یہ بات نصیحت حاصل کرنے والوں کے لیے نصیحت ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو بلایا اور اس کے سامنے اسے تلاوت فرمایا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا یہ حکم اس کے لیے خاص ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(جی نہیں) بلکہ تمام لوگوں کے لیے ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1730]

1731

Sahih Ibn Hibban #1731

أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْقَطَّانُ ، بِوَاسِطٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، عَنِ الْمُخْدَجِيِّ وَهُوَ أَبُو رُفَيْعٍ ، أَنَّهُ قَالَ لِعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ : يَا أَبَا الْوَلِيدِ ، إِنَّ أَبَا مُحَمَّدٍ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ كَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ ، يَزْعُمُ أَنَّ الْوِتْرَ حَقٌّ . قَالَ : كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَنْ جَاءَ بِالصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ قَدْ أَكْمَلَهُنَّ ، لَمْ يَنْقُصْ مِنْ حَقِّهِنَّ شَيْئًا ، كَانَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ أَنْ لا يُعَذِّبَهُ ، وَمَنْ جَاءَ بِهِنَّ وَقَدِ انْتَقَصَ مِنْ حَقِّهِنَّ شَيْئًا ، فَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ ، إِنْ شَاءَ رَحِمَهُ ، وَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أَبُو مُحَمَّدٍ هَذَا : اسْمُهُ مَسْعُودُ بْنُ زَيْدِ بْنِ سُبَيْعٍ الأَنْصَارِيُّ ، مِنْ بَنِي دِينَارِ بْنِ النَّجَّارِ ، لَهُ صُحْبَةٌ ، سَكَنَ الشَّامَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابورافع بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے یہ کہا: اے ابو ولید! سیدنا ابو محمد—جو انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب اور صحابی تھے—وہ اس بات کے قائل ہیں کہ وتر لازم ہیں۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے کہا: ابو محمد نے غلط کہا ہے، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص پانچ نمازیں ادا کرتا ہے اور انہیں مکمل ادا کرتا ہے اور ان کے حق میں کوئی کمی نہیں کرتا، تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس شخص کے لیے یہ عہد ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے کوئی عذاب نہیں دے گا، اور جو شخص انہیں ادا کرتا ہے، لیکن ان کے حق میں سے کسی چیز کی کمی کرتا ہے، تو ایسے شخص کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کوئی عہد نہیں ہے۔ اگر وہ چاہے گا، تو اس پر رحم کرے گا اور اگر چاہے گا، تو اس کو عذاب دے گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابو محمد نامی راوی کا نام مسعود بن زید بن سبیع انصاری ہے، یہ بنو دینار بن نجار سے تعلق رکھتے ہیں، یہ صحابی ہیں، انہوں نے شام میں سکونت اختیار کی تھی)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1731]

1732

Sahih Ibn Hibban #1732

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ بْنِ مَرْزُوقٍ ، بِفَمِ الصِّلْحِ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ الأَنْصَارِيُّ ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، فَقَالَ : يَا أَبَا الْوَلِيدِ ، إِنِّي سَمِعْتُ أَبَا مُحَمَّدٍ الأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ : الْوِتْرُ وَاجِبٌ . فَقَالَ عُبَادَةُ : كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ ، سمعت رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : خَمْسُ صَلَوَاتٍ افْتَرَضَهُنَّ اللَّهُ عَلَى عِبَادِهِ ، فَمَنْ جَاءَ بِهِنَّ وَقَدْ أَكْمَلَهُنَّ وَلَمْ يَنْتَقِصْهُنَّ اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ ، كَانَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ ، وَمَنْ جَاءَ بِهِنَّ وَقَدِ انْتَقَصَهُنَّ اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ لَمْ يَكُنْ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ ، إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ ، وَإِنْ شَاءَ رَحِمَهُ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُ عُبَادَةَ : كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ ، يُرِيدُ بِهِ أَخْطَأَ . وَكَذَلِكَ قَوْلُ عَائِشَةَ ، حَيْثُ قَالَتْ لأَبِي هُرَيْرَةَ . وَهَذِهِ لَفْظَةٌ مُسْتَعْمَلَةٌ لأَهْلِ الْحِجَازِ إِذَا أَخْطَأَ أَحَدُهُمْ يُقَالُ لَهُ : كَذَبَ ، وَاللَّهُ جَلَّ وَعَلا نَزَّهَ أَقْدَارَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ إِلْزَاقِ الْقَدْحِ بِهِمْ ، حَيْثُ قَالَ : يَوْمَ لا يُخْزِي اللَّهُ النَّبِيَّ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ نُورُهُمْ . . . فَمَنْ أَخْبَرَ اللَّهُ جَلَّ وَعَزَّ أَنَّهُ لا يُخْزِيهِ فِي الْقِيَامَةِ فَبِالْحَرِيِّ أَنْ لا يُجْرَحَ . وَالرَّجُلُ الَّذِي سَأَلَ عُبَادَةَ هَذَا : هُوَ أَبُو رُفَيْعٍ الْمُخْدَجِيُّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن محیریز بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: اے ابو ولید! میں نے سیدنا ابومحمد انصاری رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ وتر واجب ہیں۔ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ابومحمد نے غلط کہا ہے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”پانچ نمازیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض کیا ہے، جو شخص انہیں ادا کرے گا اور مکمل کرے گا اور ان کے حق کو کم سمجھتے ہوئے ان میں کمی نہیں کرے گا، تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ عہد ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا، اور جو شخص انہیں ادا کرے گا (لیکن) ان کے حق کو کم سمجھتے ہوئے ان میں کمی کرے گا، تو اس شخص کے لیے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کوئی عہد نہیں ہے، اور اگر وہ چاہے گا تو وہ عذاب دے گا اور اگر چاہے گا تو اس پر رحم کرے گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا ”ابومحمد نے جھوٹ کہا ہے“ اس سے مراد انہوں نے غلط کہا ہے۔ اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ یہ محاورہ ہے کہ جب کوئی شخص غلط بات کہے تو اس کے بارے میں کہا جاتا ہے ”اس نے جھوٹ کہا ہے“۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو اس چیز سے محفوظ رکھا ہے کہ ان میں کوئی قابلِ اعتراض چیز ہو۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿يَوْمَ لَا يُخْزِي اللَّهُ النَّبِيَّ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ﴾ [سورة التحريم: 8] ”اس دن اللہ تعالیٰ نبی اور اس کے ساتھ موجود اہل ایمان کو رسوا نہیں کرے گا، ان کا نور...“ تو جب اللہ تعالیٰ نے اس بات کی اطلاع دی کہ وہ قیامت کے دن انہیں رسوا نہیں کرے گا تو وہ اس بات کے زیادہ لائق ہیں کہ ان پر جرح نہ کی جائے۔) سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ سے سوال کرنے والا شخص ابورفیع مخدجی تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1732]

1733

Sahih Ibn Hibban #1733

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ ، وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ ، كَفَّارَاتٌ لَمَّا بَيْنَهُنَّ ، مَا لَمْ يَغْشَ الْكَبَائِرَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”پانچ نمازیں اور ایک جمعہ دوسرے جمعے تک (درمیان میں) کیے جانے والے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں جب تک کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہ کیا جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1733]

1734

Sahih Ibn Hibban #1734

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ صَالِحٍ ، يُحَدِّثُ عَنِ الْعَلاءِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْطَاةَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، رَأَى فَتًى وَهُوَ يُصَلِّي قَدْ أَطَالَ صَلاتَهُ ، وَأَطْنَبَ فِيهَا ، فَقَالَ : مَنْ يُعْرَفُ هَذَا ؟ فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا . فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَوْ كُنْتُ أَعْرِفُهُ ، لأَمَرْتُهُ أَنْ يُطِيلَ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ ، فإني سمعت النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِنَّالْعَبْدَ إِذَا قَامَ يُصَلِّي ، أُتِيَ بِذُنُوبِهِ ، فَوَضَعَتْ عَلَى رَأْسِهِ ، أَوْ عَاتِقِهِ ، فَكُلَّمَا رَكَعَ أَوْ سَجَدَ ، تَسَاقَطَتْ عَنْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا، اس نے طویل نماز ادا کی تھی اور اس کو خوب کھینچا تھا، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما نے دریافت کیا کہ کون شخص اسے جانتا ہے، تو ایک صاحب نے جواب دیا: میں، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اگر میں اسے جانتا ہوتا تو میں اسے ہدایت کرتا کہ یہ رکوع اور سجدہ طویل کرے کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”بندہ جب کھڑا ہو کر نماز ادا کرتا ہے، تو اس کے گناہ لائے جاتے ہیں اور وہ اس کے سر یا کندھے پر رکھ دیے جاتے ہیں اور جب وہ رکوع یا سجدہ میں جاتا ہے، تو وہ اس سے گر جاتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1734]