Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 15 · Chapter 3

The Book of Fasting

Hadith 1660–1693

34 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

1660

Sahih Ibn Hibban #1660

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلَمْ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرِو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي عُشَّانَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : يَعْجَبُ رَبُّكَ مِنْ رَاعِي غَنْمٍ فِي رَأْسِ الشَّظِيَّةِ لِلْجَبَلِ ، يُؤَذِّنُ لِلصَّلاةِ ، وَيُصَلِّي ، فِيقُولُ اللَّهُ : انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي هَذَا يُؤَذِّنُ ، وَيُقِيمُ لِلصَّلاةِ ، يَخَافُ مِنِّي ، قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِي ، وَأَدْخَلْتُهُ الْجَنَّةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”تمہارا پروردگار بکریوں کے اس چرواہے پر بہت خوش ہوتا ہے جو پہاڑ کی چوٹی پر موجود ہوتا ہے، وہ نماز کے لیے اذان دیتا ہے اور نماز پڑھتا ہے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے اس بندے کی طرف دیکھو، اس نے اذان بھی دی ہے اور نماز بھی ادا کی ہے، یہ مجھ سے ڈرتا ہے، میں نے اپنے بندے کی مغفرت کر دی ہے اور میں اسے جنت میں داخل کروں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1660]

1661

Sahih Ibn Hibban #1661

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، قَالَ : إِنِّي أَرَاكَ تُحِبُّ الْغَنَمَ وَالْبَادِيَةَ ،فَإِذَا كُنْتَ فِي غَنَمِكَ وَبَادِيَتِكَ ، وَأَذَّنْتَ فِي الصَّلاةِ فَارْفَعْ صَوْتَكَ بِالنِّدَاءِ ، فَإِنَّهُ لا يَسْمَعُ مَدَى صَوْتِ الْمُؤَذِّنِ جِنٌّ وَلا إِنْسٌ وَلا شَيْءٌ ، إِلا شَهِدَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ : سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبدالرحمن بن عبداللہ رضی اللہ عنہما اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: میں نے دیکھا ہے، تم بھیڑ بکریوں میں رہنے اور دیہاتی زندگی کو پسند کرتے ہو (راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں) یا تم بھیڑ بکریوں میں اور ویرانے میں رہتے ہو، تو جب نماز کی اذان دو تو اپنی آواز کو اذان دیتے ہوئے بلند رکھو، کیونکہ ”مؤذن کی آواز جہاں تک جاتی ہے وہاں اسے جو بھی جن، انسان اور جو بھی چیز سنتی ہے، تو وہ قیامت کے دن اس مؤذن کے حق میں گواہی دے گی۔“ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1661]

1662

Sahih Ibn Hibban #1662

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمْةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ وَلَهُ ضُرَاطٌ ، فَإِذَا سَكَتَ أَقْبَلَ ، فَإِذَا ثُوِّبَ أَدْبَرَ وَلَهُ ضُرَاطٌ ، فَإِذَا سَكَتَ أَقْبَلَ يَخْطِرُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ حَتَّى يَظَلَّ الرَّجُلُ لا يَدْرِي كَمْ صَلَّى ، فَإِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَوَجَدَ ذَلِكَ ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب مؤذن اذان دیتا ہے، تو شیطان پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے اور اس کی ہوا خارج ہو رہی ہوتی ہے، جب مؤذن خاموش ہو جاتا ہے، تو وہ پھر آ جاتا ہے، پھر جب مؤذن اقامت کہتا ہے، تو وہ پھر پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے، اور اس کی ہوا خارج ہو رہی ہوتی ہے۔ جب مؤذن خاموش ہوتا ہے، تو شیطان آ جاتا ہے، اور آدمی کے دل میں مختلف طرح کے خیالات پیدا کرنا شروع کر دیتا ہے، یہاں تک کہ آدمی کو یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی نماز ادا کی ہے، جب کسی شخص کو نماز ادا کرتے ہوئے اس طرح کی صورت حال کا سامنا کرنا پڑے تو اسے قعدہ کے دوران دو مرتبہ سجدہ سہو کر لینا چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1662]

1663

Sahih Ibn Hibban #1663

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا نُودِيَ بِالصَّلاةِ ، أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ وَلَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لا يَسْمَعَ التَّأْذِينَ ، فَإِذَا قُضِيَ التَّأْذِينُ أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا ثُوِّبَ بِهَا أَدْبَرَ ، حَتَّى إِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ ، أَقْبَلَ حَتَّى يَخْطِرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ ، يَقُولُ : اذْكُرْ كَذَا ، اذْكُرْ كَذَا ، لَمْا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ مِنْ قَبْلُ ، حَتَّى يَظَلَّ الرَّجُلُ لا يَدْرِي كَمْ صَلَّى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے، تو شیطان پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے، اس کی ہوا خارج ہو رہی ہوتی ہے، وہ اتنی دور چلا جاتا ہے جہاں وہ اذان کی آواز نہ سن سکے، جب اذان مکمل ہوتی ہے، تو شیطان پھر آ جاتا ہے یہاں تک کہ جب اقامت کہی جاتی ہے تو وہ پھر چلا جاتا ہے یہاں تک کہ جب اقامت مکمل ہو جائے، تو وہ پھر آ جاتا ہے، اور آدمی کے دل میں مختلف طرح کے خیالات پیدا کرنا شروع کرتا ہے، وہ کہتا ہے: تم فلاں چیز کو یاد کرو، فلاں چیزوں کو یاد کرو، وہ ان چیزوں کو یاد کرواتا ہے، جو آدمی کو ویسے یاد نہیں آتی تھیں یہاں تک کہ آدمی کا یہ عالم ہو جاتا ہے، اسے یہ یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی نماز ادا کی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1663]

1664

Sahih Ibn Hibban #1664

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، بِالْمَوْصِلِ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفِيانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِنَّالشَّيْطَانَ إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ بِالصَّلاةِ ، ذَهَبَ حَتَّى يَكُونَ مَكَانُ الرَّوْحَاءِ " ، قَالَ سُلَيْمَانُ : فَسَأَلْتُهُ عَنِ الرَّوْحَاءِ ، فَقَالَ : " هِيَ مِنَ الْمَدِينَةِ عَلَى سَبْعَةٍ وَثَلاثِينَ مِيلا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”شیطان جب اذان سنتا ہے، تو وہ چلا جاتا ہے یہاں تک کہ «الرَّوْحَاءُ» پہنچ جاتا ہے۔“ سلیمان نامی راوی کہتے ہیں: میں نے اپنے استاد سے «الرَّوْحَاءُ» کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے فرمایا: یہ مدینہ منورہ سے 37 میل کے فاصلے پر ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1664]

1665

Sahih Ibn Hibban #1665

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُعَاذِ بْنِ خُلَيْفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلا وَهُوَ فِي مَسِيرٍ لَهُ ، يَقُولُ :اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَلَى الْفِطْرَةِ " ، ثُمَّ قَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حُرِّمَ عَلَى النَّارِ "، فَابْتَدَرْنَاهُ فَإِذَا هُوَ صَاحِبُ مَاشِيَةٍ أَدْرَكَتْهُ الصَّلاةُ فَنَادَى بِهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کے دوران ایک شخص کو سنا جو «اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ» کہہ رہا تھا (یعنی وہ اذان دے رہا تھا) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ فطرت پر ہے۔“ پھر اس نے کہا: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جہنم پر حرام ہو گیا۔“ ہم لپک کر اس شخص کے پاس گئے تو وہ جانوروں کا چرواہا تھا جسے نماز کا وقت ہو گیا تھا، تو وہ اس کے لیے اذان دے رہا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1665]

1666

Sahih Ibn Hibban #1666

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، سَمِعْتُ أَبَا يَحْيَى ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْمُؤَذِّنُ يُغْفَرُ لَهُ مَدَى صَوْتِهِ ، وَيَشْهَدُ لَهُ كُلُّ رَطْبٍ وَيَابِسٍ ، وَشَاهِدُ الصَّلاةِ يُكْتَبُ لَهُ خَمْسٌ وَعِشْرِونَ حَسَنَةً ، وَيُكَفَّرُ عَنْهُ مَا بَيْنَهُمَا ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَبُو يَحْيَى هَذَا اسْمُهُ سَمْعَانُ مَوْلَى أَسْلَمْ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ وَالِدِ أُنَيْسٍ ، وَمُحَمَّدٍ ابْنِي أَبِي يَحْيَى الأَسْلَمْيِّ مِنْ جِلَّةِ التَّابِعِينَ ، وَابْنُ ابْنِهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى تَالِفٌ فِي الرِّوَايَاتِ ، وَمُوسَى بْنُ أَبِي عُثْمَانَ : مِنْ سَادَاتِ أَهْلِ الْكُوفَةِ وَعُبَّادِهِمْ ، وَاسْمُ أَبِيهِ عِمْرَانُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”مؤذن کی آواز جہاں تک جاتی ہے، اس کی اتنی مغفرت ہو جاتی ہے، اور ہر خشک و تر چیز اس کے حق میں گواہی دے گی، اور نماز میں شریک ہونے والے کے لیے پچیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور دو نمازوں کے درمیان کے اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابویحییٰ نامی راوی کا نام سمعان ہے، یہ اسلم نامی صاحب کے آزاد کردہ غلام ہیں، ان کا تعلق اہل مدینہ سے ہے، یہ انیس اور محمد بن ابویحییٰ اسلمی نامی راوی کے والد ہیں جو جلیل القدر تابعین میں سے ایک ہیں، ان کے پوتے ابراہیم بن محمد بن ابویحییٰ ہیں جو روایات میں ہلاکت کا شکار ہونے والا تھا، موسیٰ بن ابوعثمان نامی راوی اہل کوفہ کے اکابرین اور عبادت گزاروں میں سے ایک ہیں، ان کے والد کا نام عمران تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1666]

1667

Sahih Ibn Hibban #1667

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمْ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ خَالِدٍ الدُّؤَلِيِّ ، أَنَّ النَّضْرَ بْنَ سُفِيانَ الدُّؤَلِيَّ ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَلَعَاتِ النَّخْلِ ، فَقَامَ بِلالٌ يُنَادِي ، فَلَمْا سَكَتَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ قَالَ مِثْلَ مَا قَالَ هَذَا يَقِينًا دَخَلَ الْجَنَّةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کھجوروں کے جھنڈ کے پاس تھے۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر اذان دینے لگے، جب وہ خاموش ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص یقین کے ساتھ وہی کلمات کہے جو اس نے کہے ہیں، تو وہ شخص جنت میں داخل ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1667]

1668

Sahih Ibn Hibban #1668

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أُبْدِعَ بِي ، فَاحْمِلْنِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَيْسَ عِنْدِي " ، فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا أَدُلُّهُ عَلَى مَنْ يَحْمِلُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" مَنْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ ، فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ أُبْدِعَ بِي : يُرِيدُ قُطِعَ بِي عَنِ الرُّكُوبِ ، لأَنَّ رَوَاحِلِي كَلَّتْ وَعَرَجَتْ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے پاس سواری کا انتظام نہیں ہے، آپ مجھے سواری کے لیے کچھ دیجیے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ میرے پاس نہیں ہے۔“ ایک صاحب نے عرض کی: میں اس کی رہنمائی اس شخص کی طرف کر سکتا ہوں جو اس کو سواری کے لیے جانور دے دے گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص بھلائی کی طرف رہنمائی کرے اسے اس بھلائی پر عمل کرنے والے کے اجر کی مانند اجر ملتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) روایت کے الفاظ «أُبْدِعَ بِي» سے مراد یہ ہے کہ میرے لیے سفر کرنا ممکن نہیں رہا کیونکہ میرے جانور کمزور اور بیمار ہو گئے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1668]

1669

Sahih Ibn Hibban #1669

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ يُوسُفَ أَبُو حَمْزَةَ ، بِنَسَا ، حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا سُفِيانُ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفِيانَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْمُؤَذِّنُونَ أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”قیامت کے دن مؤذنوں کی گردنیں سب سے زیادہ لمبی ہوں گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1669]

1670

Sahih Ibn Hibban #1670

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ أُنَيْسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الْمُؤَذِّنُونَ أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الْعَرَبُ تَصِفُ بَاذِلَ الشَّيْءِ الْكَثِيرِ بِطُولِ الْيَدِ ، وَمُتَأَمِّلَ الشَّيْءَ الْكَثِيرَ بِطُولِ الْعُنُقِ ، فَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُؤَذِّنُونَ أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُرِيدُ أَطْوَلُهُمْ أَعْنَاقًا لِتَأَمُّلِ الثَّوَابِ " كَمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنِسَائِهِ : " أَسْرَعُكُنَّ بِي لُحُوقًا أَطْوَلُكُنَّ يَدًا " ، فَكَانَتْ سَوْدَةُ أَوَّلُ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحِقَتْ بِهِ ، وَكَانَتْ أَكْثَرُهُنَّ صَدَقَةً ، وَلَيْسَ يُرِيدُ بِقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا ، أَنَّ الْمْؤَذِّنِينَ هُمْ أَكْثَرُ النَّاسِ تَأَمُّلا لِلثَّوَابِ فِي الْقِيَامَةِ ، وَهَذَا مِمَّا نَقُولُ فِي كُتُبِنَا : إِنَّ الْعَرَبَ تَذْكُرُ الشَّيْءَ فِي لُغَتِهَا بِذِكْرِ الْحَذْفِ عَنْهُ مَا عَلَيْهِ مُعَوِّلُهُ ، فَأَرَادَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَوْلِهِ : أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا ، أَيْ : مِنْ أَطْوَلِ النَّاسِ أَعْنَاقًا ، فَحَذَفَ مِنْ مِنَ الْخَبَرِ كَمَا قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْكِي عَنِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا : " أَحَبُّ عِبَادِي إِلَيَّ أَعْجَلُهُمْ فِطْرًا " ، أَيْ : مِنْ أَقْوَامٍ أُحِبُّهُمْ وَهَؤُلاءِ مِنْهُمْ ، وَهَذَا بَابٌ طَوِيلٌ سَنَذْكُرُهُ فِي مَوْضِعِهِ مِنْ هَذَا الْكِتَابِ فِي الْقِسْمِ الثَّالِثِ مِنْ أَقْسَامِ السُّنَنِ إِنْ قَضَى اللَّهُ ذَلِكَ وَشَاءَهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”قیامت کے دن مؤذنوں کی گردنیں سب سے زیادہ لمبی ہوں گی۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عرب زیادہ چیز خرچ کرنے والے کو ہاتھ لمبا ہونے اور زیادہ چیز کی امید رکھنے والے کو گردن لمبی ہونے سے تشبیہ دیتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ قیامت کے دن اذان دینے والے لوگ لمبی گردنوں والے ہوں گے اس سے مراد یہ ہے کہ انہیں زیادہ ثواب کی امید ہوگی۔ اس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی ازواج سے یہ فرمان ”تم میں مجھ سے سب سے جلدی وہ ملے گی، جس کے ہاتھ تم میں سے، سب سے زیادہ لمبے ہیں“، تو سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے ان سے مل گئی تھیں کیونکہ وہ زیادہ صدقہ کیا کرتی تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک فرمان سے یہ مراد ہرگز نہیں ہے کہ قیامت کے دن ثواب کی زیادہ امید صرف اذان دینے والوں کو ہوگی، یہ ان کلمات میں سے ایک ہے جن کے بارے میں ہم اپنی کتابوں میں یہ بات بیان کر چکے ہیں کہ عرب اپنے محاورے میں کسی چیز کا تذکرہ کرتے ہیں اور اس کے ہمراہ اس لفظ کو حذف کر دیتے ہیں جس پر اس کی بنیاد ہوتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ لمبی گردن والے ہوں گے اس سے مراد یہ ہے کہ لمبی گردن والے لوگوں میں سے ہوں گے۔ یہاں پر لفظ «مِنْ» محذوف ہے جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نقل کیا ہے: ”میرے بندوں میں سے میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ وہ ہیں جو جلدی افطار کرتے ہیں۔“ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ لوگ جن سے میں محبت رکھتا ہوں، یہ ان میں سے ہیں؛ یہ ایک طویل باب ہے جسے ہم اس کتاب میں اس کے مخصوص مقام پر ذکر کریں گے جو سنت کی اقسام میں سے تیسری قسم میں ہوگا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ دیا اور یہ چاہا)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1670]

1671

Sahih Ibn Hibban #1671

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمْةَ الْمُرَادِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي صَالِحٍ ، أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : الإِمَامُ ضَامِنٌ ، وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ ، فَأرَشْدَ اللَّهُ الأَئِمَّةَ ، وَعَفَا عَنِ الْمُؤَذِّنِينَ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ أَبُو صَالِحٍ السَّمَّانُ عَنْ عَائِشَةَ عَلَى حَسَبِ مَا ذَكَرْنَاهُ ، وَسَمِعَهُ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا فَمَرَّةً حَدَّثَ بِهِ عَنْ عَائِشَةَ ، وَأُخْرَى عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَتَارَةً وَقَفَهُ عَلَيْهِ ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ ، وَأَمَّا الأَعْمَشُ ، فَإِنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَوْقُوفًا ، وَسَمِعَهُ مِنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، مَرْفُوعًا ، وَقَدْ وَهِمَ مَنْ أَدْخَلَ بَيْنَ سُهَيْلٍ ، وَأَبِيهِ ، فِيهِ الأَعْمَشَ لأَنَّ الأَعْمَشَ سَمِعَهُ مِنْ سُهَيْلٍ ، لا أَنَّ سُهَيْلا سَمِعَهُ مِنَ الأَعْمَشِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”امام ضامن ہے اور مؤذن امین ہے، «اللَّهُمَّ أَرْشِدِ الْأَئِمَّةَ، وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِينَ» ”اللہ تعالیٰ ائمہ کی رہنمائی کرے اور مؤذنوں سے درگزر کرے۔““ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت ابوصالح سمان نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے سنی ہے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے اور انہوں نے یہ روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مرفوع حدیث کے طور پر بھی سنی ہے، تو ایک مرتبہ انہوں نے اسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نقل کر دیا ہے اور ایک مرتبہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کر دیا ہے اور ایک دفعہ موقوف روایت کے طور پر نقل کیا ہے، مرفوع حدیث کے طور پر نقل نہیں کیا اور جب اعمش نے یہ روایت ابوصالح کے حوالے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے موقوف روایت کے طور پر سنی تو انہوں نے یہ روایت ابوصالح کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مرفوع حدیث کے طور پر سنی، تو وہ شخص وہم کا شکار ہوا جس نے سہیل نامی راوی اور اس کے والد کے درمیان اعمش کو داخل کر دیا کیونکہ اعمش نے یہ روایت سہیل سے سنی ہے، ایسا نہیں ہے کہ سہیل نے یہ روایت اعمش سے سنی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1671]

1672

Sahih Ibn Hibban #1672

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الإِمَامُ ضَامِنٌ ، وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ ، فَأَرْشَدَ اللَّهُ الأَئِمَّةَ ، وَغَفَرَ لِلْمُؤَذِّنِينَ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الْفَرْقُ بَيْنَ الْعَفْوِ وَالْغُفْرَانِ ، أَنَّ الْعَفْوَ قَدْ يَكُونُ مِنَ الرَّبِّ جَلَّ وَعَلا لَمْنِ اسْتَوْجَبَ النَّارَ مِنْ عِبَادِهِ ، قَبْلَ تَعْذِيبِهِ إِيَّاهُمْ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْهُ ، وَقَدْ يَكُونُ ذَلِكَ بَعْدَ تَعْذِيبِهِ إِيَّاهُمُ الشَّيْءَ الْيَسِيرَ ، ثُمَّ يَتَفَضَّلُ عَلَيْهِمْ جَلَّ وَعَلا بِالْعَفْوِ ، إِمَّا مِنْ حَيْثُ يُرِيدُ أَنْ يَتَفَضَّلَ ، وَإِمَّا بِشَفَاعَةِ شَافِعٍ ، وَالْغُفْرَانُ هُوَ الرِّضَا نَفْسُهُ ، وَلا يَكُونُ الْغُفْرَانُ مِنْهُ جَلَّ وَعَلا لَمْنِ اسْتَوْجَبَ النِّيرَانَ بِفَضْلِهِ ، إِلا وَهُوَ يَتَفَضَّلُ عَلَيْهِمْ بِأَنْ لا يُدْخِلَهُمْ إِيَّاهَا بِحَيْلِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: «اَلْإِمَامُ ضَامِنٌ، وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ، اَللّٰهُمَّ أَرْشِدِ الْأَئِمَّةَ، وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِيْنَ» ”امام ضامن ہے، اور مؤذن امین ہے، اے اللہ! ائمہ کی رہنمائی فرما اور مؤذنوں کی مغفرت فرما۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عفو اور غفران میں فرق ہے؛ عفو پروردگار کی طرف سے ایسے شخص کے لیے بھی ہوتا ہے کہ اس کے جس بندے پر جہنم لازم ہو چکی ہو، تو یہ اسے عذاب دینے سے پہلے بھی ہو سکتا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے بچا کر رکھے۔ اور بعض اوقات یہ اسے عذاب دینے کے کچھ عرصہ بعد بھی ہو سکتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر فضل کرے گا کہ انہیں معاف کر دے گا، یا تو یہ اپنے فضل کی وجہ سے کرے گا یا کسی شفاعت کرنے والے کی وجہ سے کرے گا، اور غفران سے مراد اس کی ذات کا راضی ہونا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس شخص کے لیے مغفرت ہوگی جس پر جہنم لازم ہو چکی ہو اور یہ اس کے فضل کی وجہ سے ہی ہوگی؛ ماسوائے اس کے کہ وہ ان پر اپنا فضل کرتے ہوئے اپنی قوت کے ساتھ انہیں اس میں داخل ہی نہ کرے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1672]

1673

Sahih Ibn Hibban #1673

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : كَانَالأَذَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، فَلَمْا كَانَ عُثْمَانُ كَثُرَ النَّاسُ فَأَمَرْنَا مُنَادِيًا يُنَادِي عَلَى الزَّوْرَاءِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے زمانہ اقدس میں اذان کے کلمات دو دو مرتبہ کہے جاتے تھے (یعنی جمعہ کے دن ایک اذان ہوتی تھی اور ایک اقامت ہوتی تھی)، یہاں تک کہ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا عہد حکومت آیا اور لوگ زیادہ ہو گئے، تو انہوں نے مؤذن کو یہ ہدایت کی کہ وہ «الزَّوْرَاءُ» ”زوراء“ کے مقام پر (جمعے کے دن) دوسری اذان دیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1673]

1674

Sahih Ibn Hibban #1674

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ مُسْلِمٍ أَبِي الْمُثَنَّى ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : إِنَّمَا كَانَالأَذَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتَيْنِ ، وَالإِقَامَةُ مَرَّةً ، غَيْرَ أَنَّهُ يَقُولُ : قَدْ قَامَتِ الصَّلاةُ ، قَدْ قَامَتِ الصَّلاةُ ، فَإِذَا سَمِعْنَا الإِقَامَةَ تَوَضَّأْنَا ، ثُمَّ جِئْنَا إِلَى الصَّلاةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اذان کے کلمات دو مرتبہ ہوتے تھے اور اقامت ایک مرتبہ ہوتی تھی، تاہم «قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ» کو دو مرتبہ کہا جاتا تھا۔ جب ہم اقامت سنتے تھے، تو ہم وضو کر لیتے تھے اور نماز کے لیے آ جاتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1674]

1675

Sahih Ibn Hibban #1675

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : أُمِرَ بِلالٌ أَنْيَشْفَعَ الأَذَانَ ، وَيُوتِرُ الإِقَامَةَ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : مَا رَوَى هَذَا عَنِ ابْنِ كَثِيرٍ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ ثِقَةٌ ، غَيْرُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ الرَّازِيُّ ، وَأَبِي خَلِيفَةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ ”اذان کے کلمات جفت اور اقامت کے کلمات طاق تعداد میں کہیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابن کثیر کے حوالے سے شعبہ سے منقول اس روایت کو کسی بھی ثقہ راوی نے نقل نہیں کیا، صرف محمد بن ایوب رازی اور ابوخلیفہ نے نقل کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1675]

1676

Sahih Ibn Hibban #1676

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِلالا أَنْيَشْفَعَ الأَذَانَ وَيُوتِرَ الإِقَامَةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا تھا ”کہ وہ اذان کے کلمات جفت تعداد میں اور اقامت کے کلمات طاق تعداد میں کہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1676]

1677

Sahih Ibn Hibban #1677

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ عَدِيٍّ ، بِنَسَا ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْجُعْفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا آدَمُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْمُثَنَّى ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : كَانَالأَذَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثْنَى مَثْنَى ، وَالإِقَامَةُ وَاحِدَةٌ ، غَيْرَ أَنَّهُ يَقُولُ : قَدْ قَامَتِ الصَّلاةُ مَرَّتَيْنِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَبُو جَعْفَرٍ هَذَا هُوَ إِمَامُ مَسْجِدِ الأَنْصَارِ بِالْكُوفَةِ ، اسْمُهُ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلَمْ بْنِ مِهْرَانَ بْنِ الْمُثَنَّى وَأَبُو الْمُثَنَّى اسْمُهُ مُسْلِمُ بْنُ الْمُثَنَّى"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں اذان دو، دو کلمات پر مبنی ہوتی تھی، اور اقامت ایک کلمے پر مبنی ہوتی تھی، تاہم «قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ» ”نماز کھڑی ہو گئی“ کو دو مرتبہ کہا جاتا تھا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوجعفر نامی راوی کوفہ میں انصار کی مسجد کا امام تھا، اس کا نام محمد بن مسلم بن مہران بن مثنی ہے، جبکہ ابومثنی نامی راوی کا نام مسلم بن مثنی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1677]

1678

Sahih Ibn Hibban #1678

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ خَالِدًا الْحَذَّاءَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَ أَنَّهُمُ الْتَمَسُوا شَيْئًا يُؤَذِّنُونَ بِهِ عَلَمْا لِلصَّلاةِ ، فَأُمِرَ بِلالٌ أَنْ يَشْفَعَ الأَذَانَ وَيُوتِرَ الإِقَامَةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: لوگوں نے اس چیز کو تلاش کیا جس کے ذریعے وہ لوگوں کو اطلاع دیں اور وہ چیز نماز کے لیے مخصوص نشان ہو، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا گیا کہ ”وہ اذان کے کلمات جفت تعداد میں اور اقامت کے کلمات طاق تعداد میں کہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1678]

1679

Sahih Ibn Hibban #1679

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : لَمْا أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاقُوسِ لِيُضْرَبَ بِهِ ، لِيَجْتَمِعَ النَّاسُ إِلَى الصَّلاةِ ، أَطَافَ بِي مِنَ اللَّيْلِ ، وَأَنَا نَائِمٌ رَجُلٌ عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ ، وَفِي يَدَهِ نَاقُوسٌ يَحْمِلُهُ ، فَقُلْتُ : يَا عَبْدَ اللَّهِ أَتَبِيعُ النَّاقُوسَ ؟ قَالَ : فَمَا تَصْنَعُ بِهِ ؟ قُلْتُ : أَدْعُو بِهِ إِلَى الصَّلاةِ ، قَالَ : أَفَلا أَدُلُّكَ عَلَى خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ ؟ قُلْتُ : بَلَى ، قَالَ : إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تُؤَذِّنَ تَقُولُ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، ثُمَّ اسْتَأْخَرَ غَيْرَ بَعِيدٍ ، ثُمَّ قَالَ : تَقُولُ إِذَا أَقَمْتَ الصَّلاةَ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ ، قَدْ قَامَتِ الصَّلاةُ ، قَدْ قَامَتِ الصَّلاةُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، فَلَمْا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : إِنَّهَالَرُؤْيَا حَقٍّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، قُمْ فَأَلْقِ عَلَى بِلالٍ مَا رَأَيْتَ ، فَلْيُؤَذِّنْ ، فَإِنَّهُ أَنْدَى صَوْتًا " ، فَقُمْتُ مَعَ بِلالٍ فَجَعَلْتُ أُلْقِي عَلَيْهِ ، وَيُؤَذِّنُ بِذَلِكَ ، فَسَمِعَ عُمَرُ صَوْتَهُ ، وَهُوَ فِي بَيْتِهِ عَلَى الزَّوْرَاءِ فَقَامَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ ، يَقُولُ : وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِالْحَقِّ لأُرِيتُ مِثْلَ مَا رَأَى ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَلِلَّهِ الْحَمْدُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ناقوس کے بارے میں حکم دیا کہ اسے بجایا جائے تاکہ لوگ نماز کے لیے اکٹھے ہو جائیں، تو رات کے وقت جب میں سویا ہوا تھا، میرے پاس ایک شخص آیا جس نے دو سبز چادریں پہنی ہوئی تھیں۔ اس کے ہاتھ میں ایک ناقوس تھا جو اس نے اٹھایا ہوا تھا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے بندے! کیا تم اس ناقوس کو فروخت کرو گے؟ اس نے دریافت کیا: تم اس کا کیا کرو گے؟ میں نے جواب دیا: میں اس کے ذریعے نماز کی طرف دعوت دوں گا۔ اس نے دریافت کیا: میں تمہاری رہنمائی اس سے زیادہ بہتر چیز کی طرف نہ کروں؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں! وہ بولا: جب تم اعلان کرنے کا ارادہ کرو، تو تم یہ کہو: «اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے“، «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“، «أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں“، «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» ”آؤ نماز کی طرف، آؤ نماز کی طرف“، «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» ”آؤ کامیابی کی طرف، آؤ کامیابی کی طرف“، «اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے“، «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“۔ پھر وہ کچھ پیچھے ہٹا اور بولا: جب تم نماز قائم کرنے لگو (یعنی اقامت کہو)، تو تم یہ کہو: «اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے“، «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“، «أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں“، «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» ”آؤ نماز کی طرف“، «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» ”آؤ کامیابی کی طرف“، «قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ» ”یقیناً نماز قائم ہو گئی، یقیناً نماز قائم ہو گئی“، «اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے“، «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“۔ (سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں) جب صبح ہوئی تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ کو اس بارے میں بتایا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اللہ نے چاہا تو یہ خواب حقیقت ثابت ہو گا۔ تم اٹھو اور بلال کو وہ کلمات سکھاؤ جو تم نے (خواب میں) دیکھے ہیں، تو وہ (ان کے مطابق) اذان دے، کیونکہ اس کی آواز زیادہ بلند ہے۔“ تو میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھڑا ہو گیا اور میں انہیں وہ کلمات بتاتا رہا اور وہ اس کے مطابق اذان دیتے رہے۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی آواز سنی تو وہ اس وقت ”زوراء“ کے مقام پر اپنے گھر میں موجود تھے، وہ اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے آئے اور بولے: اس ذات کی قسم! جس نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے، مجھے بھی اس طرح کا خواب دکھایا گیا تھا، جس طرح کا اس نے دیکھا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «فَلِلَّهِ الْحَمْدُ» ”اس پر ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1679]

1680

Sahih Ibn Hibban #1680

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَيْرِيزٍ ، أَخْبَرَهُ وَكَانَ يَتِيمًا فِي حِجْرِ أَبِي مَحْذُورَةَ حِينَ جَهَّزَهُ إِلَى الشَّامِ ، قَالَ : قُلْتُ لأَبِي مَحْذُورَةَ : إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَخْرُجَ إِلَى الشَّامِ ، وَإِنِّي أَسْأَلُ عَنْ تَأْذِينِكَ ، فَأَخْبِرْنِي ، قَالَ : خَرَجْتُ فِي نَفَرٍ ، فَكُنَّا فِي بَعْضِ طَرِيقِ حُنَيْنٍ ، مَقْفَلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حُنَيْنٍ ، فَلَقِيَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ ، فَأَذَّنَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلاةِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَمِعْنَا الصَّوْتَ وَنَحْنُ مُتَنَكِّبُونَ عَنِ الطَّرِيقِ ، فَصَرَخْنَا نَسْتِهْزِئُ ، نَحْكِيهِ ، فَسَمِعَ الصَّوْتَ ، فَقَالَ : أَيُّكُمْ يَعْرِفُ هَذَا الَّذِي أَسْمَعُ الصَّوْتَ ؟ " ، قَالَ : فَجِيءَ بِنَا ، فَوَقَفْنَا بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ : " أَيُّكُمْ صَاحِبُ الصَّوْتِ ؟ " ، قَالَ : فَأَشَارَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ إِلَيَّ ، قَالَ : فَأَرْسَلَهُمْ وَحَبَسَنِي عِنْدَهُ ، وَلا شَيْءَ أَكْرَهُ إِلَيَّ مِمَّا يَأْمُرُنِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَنِي بِالأَذَانِ ، وَأَلْقَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ نَفْسُهُ الأَذَانَ ، فَقَالَ :" قُلِ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ " ، ثُمَّ قَالَ لِي : " ارْجِعْ وَامْدُدْ صَوْتَكَ " ، قَالَ : " أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ " ، فَلَمْا فَرَغَ مِنَ التَّأْذِينِ دَعَانِي فَأَعْطَانِي صُرَّةً فِيهَا شَيْءٌ مِنْ فِضَّةٍ ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ فِيهِ وَبَارِكْ عَلَيْهِ " ، قَالَ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مُرْنِي بِالتَّأْذِينِ ، قَالَ : " قَدْ أَمَرْتُكَ بِهِ "، قَالَ : فَعَادَ كُلُّ شَيْءٍ مِنَ الْكَرَاهِيَةِ فِي الْقَلْبِ إِلَى الْمَحَبَّةِ ، فَقَدِمْتُ عَلَى عَتَّابِ بْنِ أُسَيْدٍ عَامَلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكُنْتُ أُأَذِّنُ بِمَكَّةَ عَنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : وَأَخْبَرَنِي غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِي خَبَرَ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ هَذَا عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ محیریز رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ وہ سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کے زیرِ پرورش تھے، جب یہ شام جانے لگے تو یہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے کہا: میں شام جانے لگا ہوں، مجھ سے اذان کے واقعے کے بارے میں دریافت کیا جائے گا، تو آپ مجھے اس بارے میں بتائیے، تو سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ نے بتایا: ہم کچھ لوگ روانہ ہوئے، ہم حنین کے راستے میں کسی جگہ پر تھے، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حنین سے واپس تشریف لا رہے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سامنا راستے میں ہم سے ہوا، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن نے نماز کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اذان دی، ہم نے اس کی آواز سنی، ہم راستے سے ایک طرف ہٹ چکے تھے، تو ہم نے اس کا مذاق اڑانے کے لیے ان کلمات کو بلند آواز میں دہرانا شروع کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آواز سن لی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم میں سے کون اس شخص کو جانتا ہے، جس کی آواز کو میں نے سنا ہے؟“ راوی بیان کرتے ہیں: پھر ہمیں لا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا کر دیا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم میں سے کس کی وہ آواز تھی؟“ راوی بیان کرتے ہیں: سب لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا۔ راوی کہتے ہیں: پھر ان سب کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوڑ دیا، اور مجھے اپنے پاس روک لیا۔ میرے نزدیک اس سے زیادہ ناپسندیدہ چیز اور کوئی نہیں تھی جس کا حکم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اذان دینے کا حکم دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بذاتِ خود مجھے اذان کے کلمات سکھائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہ کہو: «اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے“، «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“، «أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں“۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تم اس میں ترجیع کرو اور اپنی آواز کو بلند کرو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمات کہے: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“، «أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں“، «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» ”آؤ نماز کی طرف، آؤ نماز کی طرف“، «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» ”آؤ کامیابی کی طرف، آؤ کامیابی کی طرف“، «اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے“، «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“۔ جب وہ اذان دے کر فارغ ہوئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور مجھے ایک تھیلی دی جس میں تھوڑی سی چاندی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: «اللَّهُمَّ بَارِكْ فِيهِ وَبَارِكْ عَلَيْهِ» ”اے اللہ! اس میں برکت دے اور اس پر برکت دے۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے اذان دینے کا حکم دیجیے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم تمہیں حکم دیتے ہیں۔“ راوی کہتے ہیں: تو میرے دل میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جتنی بھی ناپسندیدگی تھی وہ سب محبت میں تبدیل ہو گئی، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کردہ گورنر سیدنا عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت میں نے مکہ میں اذان دینا شروع کر دی۔ ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں: میرے خاندان کے کئی افراد نے ابن محیریز رحمہ اللہ کے حوالے سے یہ روایت سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مجھے سنائی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1680]

1681

Sahih Ibn Hibban #1681

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ عَامِرٍ الأَحْوَلِ ، أَنَّ مَكْحُولا ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَيْرِيزٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ مَحْذُورَةَ حَدَّثَهُ ، قَالَ : عَلَمْنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الأَذَانَ تِسْعَ عَشْرَةَ كَلَمْةً ، وَالإِقَامَةَ سَبْعَ عَشْرَةَ كَلَمْةً ،الأَذَانُ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ " ، وَالإِقَامَةُ : " اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ ، قَدْ قَامَتِ الصَّلاةُ ، قَدْ قَامَتِ الصَّلاةُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اذان کے 19 کلمات اور اقامت کے 17 کلمات تعلیم دیے تھے: ” «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ «أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں“ «أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں“ «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» ”آؤ نماز کی طرف“ «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» ”آؤ نماز کی طرف“ «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» ”آؤ کامیابی کی طرف“ «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» ”آؤ کامیابی کی طرف“ «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“۔“ اقامت کے کلمات یہ ہیں: ” «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ «أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں“ «أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں“ «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» ”آؤ نماز کی طرف“ «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» ”آؤ نماز کی طرف“ «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» ”آؤ کامیابی کی طرف“ «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» ”آؤ کامیابی کی طرف“ «قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ» ”یقیناً نماز کھڑی ہو گئی“ «قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ» ”یقیناً نماز کھڑی ہو گئی“ «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1681]

1682

Sahih Ibn Hibban #1682

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَلَمْنِي سُنَّةَ الأَذَانِ ، قَالَ : فَمَسَحَ مُقَدَّمَ رَأْسِي وَقَالَ : تَقُولُ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ " ، وَرَفَعَ بِهَا صَوْتَهُ ، ثُمَّ تَقُولُ : " أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، وَاخْفِضْ بِهَا صَوْتَكَ ، ثُمَّ تَرْفَعُ صَوْتَكَ بِالشَّهَادَةِ ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، مَرَّتَيْنِ ، وَحَيَّ عَلَى الصَّلاةِ ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ ، فَإِنْ كَانَتْ صَلاةَ الصُّبْحِ قُلْتَ : الصَّلاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ ، الصَّلاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن عبدالملک اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا (سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ مجھے اذان کا طریقہ تعلیم دیجیے“، راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر کے آگے والے حصے پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: ”تم یہ کہو: «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ بہت بڑا ہے“، «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ بہت بڑا ہے“، «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ بہت بڑا ہے“، «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ بہت بڑا ہے“، تم اس میں اپنی آواز کو بلند کرو، پھر تم یہ کہو: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“، «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“، «أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں“، «أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں“، اس میں تم اپنی آواز کو پست کرو، پھر تم شہادت کے کلمات (کہتے ہوئے) اپنی آواز کو بلند کرو: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“، «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“، «أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں“، «مَرَّتَيْنِ» ”دو مرتبہ“، «وَحَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» ”اور آؤ نماز کی طرف“، «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» ”آؤ نماز کی طرف“، «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» ”آؤ کامیابی کی طرف“، «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» ”آؤ کامیابی کی طرف“، اگر صبح کی اذان ہو، تو تم یہ کہو: «الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ» ”نماز نیند سے بہتر ہے“، «الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ» ”نماز نیند سے بہتر ہے“، «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ بہت بڑا ہے“، «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ بہت بڑا ہے“، «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1682]

1683

Sahih Ibn Hibban #1683

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ الْعَسْكَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ ، قَالَ : وَأَنَا وَأَنَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مؤذن کو (اذان دیتے ہوئے) سنتے تھے، تو آپ یہ فرماتے تھے: ”میں بھی (یہ اعتراف کرتا ہوں جو تم کہہ رہے ہو)“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1683]

1684

Sahih Ibn Hibban #1684

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ مُعَاوِيَةَ ، إِذْ سَمِعَ الْمُنَادِي ، يَقُولُ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، فَلَمَّا ، قَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، قَالَ مُعَاوِيَةُ : وَأَنَا أَشْهَدُ ، فَلَمَّا ، قَالَ : أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : وَأَنَا أَشْهَدُ "، ثُمَّ قَالَ مُعَاوِيَةُ : هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عیسیٰ بن طلحہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، انہوں نے مؤذن کو «اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے“ کہتے ہوئے سنا تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی «اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا؛ جب مؤذن نے «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ کہا تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں“، جب مؤذن نے «أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں“ کہا تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں“، پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے بتایا: ”میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح (اذان کا جواب دیتے ہوئے) سنا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1684]

1685

Sahih Ibn Hibban #1685

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الزُّرَقِيُّ ، بِطَرَسُوسَ وَابْنُ بُجَيْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، وَقَالَ أَحَدُكُمُ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، ثُمَّ قَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، قَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، قَالَ : أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، قَالَ : أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، ثُمَّ قَالَ : حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ ، قَالَ : لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ ، ثُمَّ قَالَ : حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ ، قَالَ : لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، قَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، ثُمَّ قَالَ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، قَالَ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، دَخَلَ الْجَنَّةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حفص بن عاصم اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب مؤذن «اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر، اللہ اکبر“ کہے، تو تم میں سے کوئی ایک شخص بھی (یعنی اذان کو سننے والا شخص) «اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر، اللہ اکبر“ کہے، جب وہ «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» ”اشہد ان لا الہ الا اللہ“ کہے، تو (سنے والا) «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» ”اشہد ان لا الہ الا اللہ“ کہے، پھر وہ «أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ» ”اشہد ان محمد رسول اللہ“ کہے گا، تو (سننے والا) «أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ» ”اشہد ان محمد رسول اللہ“ کہے، پھر وہ «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» ”حی علی الصلوۃ“ کہے گا، تو (سننے والا) «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ» ”لا حول ولا قوۃ الا باللہ“ پڑھے، پھر وہ «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» ”حی علی الفلاح“ کہے گا، تو (سننے والا) «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ» ”لا حول ولا قوۃ الا باللہ“ پڑھے، پھر وہ «اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر، اللہ اکبر“ کہے گا، تو (سننے والا) «اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر، اللہ اکبر“ کہے، پھر وہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» ”لا الہ الا اللہ“ کہے گا، تو سننے والا «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» ”لا الہ الا اللہ“ کہے، تو وہ (اذان کا جواب دینے والا شخص) جنت میں داخل ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1685]

1686

Sahih Ibn Hibban #1686

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ ، فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب تم مؤذن کو سنو تو اس کی مانند کلمات کہو جو (کلمات) وہ کہتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1686]

1687

Sahih Ibn Hibban #1687

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ ،فَقَالَ الْمُؤَذِّنُ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ " ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، فَقَالَ : حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ ، فَقَالَ : حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ ، فَقَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ "، ثُمَّ قَالَ : هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن عمرو اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا، مؤذن نے «اللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر، اللہ اکبر“ کہا تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی «اللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر، اللہ اکبر“ کہا، مؤذن نے «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اشہد ان لا الہ الا اللہ“ کہا تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اشہد ان لا الہ الا اللہ“ کہا، مؤذن نے «أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ» ”اشہد ان محمدا رسول اللہ“ کہا تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی «أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ» ”اشہد ان محمدا رسول اللہ“ کہا، مؤذن نے «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» ”حی علی الصلوۃ“ کہا تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ» ”لا حول ولا قوۃ الا باللہ“ کہا، مؤذن نے «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» ”حی علی الفلاح“ کہا تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ» ”لا حول ولا قوۃ الا باللہ“ کہا، مؤذن نے «اللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ اکبر، اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ“ کہا تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی «اللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ اکبر، اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ“ کہا، پھر انہوں نے یہ بات بھی بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح فرماتے تھے (یعنی اذان کا جواب دیتے تھے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1687]

1688

Sahih Ibn Hibban #1688

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّيْرَفِي ، بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُجَمِّعُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : جَلَسْتُ إِلَى أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ،فَجَاءَ الْمُؤَذِّنُ ، فَقَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، فَقَالَ أَبُو أُمَامَةَ مِثْلَ ذَلِكَ ، فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، فَقَالَ أَبُو أُمَامَةَ مِثْلَ ذَلِكَ ، فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، فَقَالَ أَبُو أُمَامَةَ مِثْلَ ذَلِكَ "، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ ، فَقَالَ : هَكَذَا حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مجمع بن یحییٰ بیان کرتے ہیں کہ میں ابوامامہ بن سہل کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک مؤذن آیا اور اس نے «اللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا، تو سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے بھی اسی کی مانند کہا، پھر جب مؤذن نے «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ کہا، تو سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے بھی اسی کی مانند کہا، پھر مؤذن نے «أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں“ کہا، تو سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے بھی اسی کی مانند کہا، پھر وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور بولے: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اسی طرح مجھے حدیث بیان کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1688]

1689

Sahih Ibn Hibban #1689

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ : اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ ، وَالصَّلاةِ الْقَائِمَةِ ، آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ ، وَابْعَثْهُ الْمَقَامَ الْمَحْمُودَ الَّذِي وَعَدْتَهُ ، إِلا حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اذان سن کر یہ کلمات پڑھے: «اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ، وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ، آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ، وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ» ”اے اللہ! اس مکمل دعوت اور اس کے نتیجے میں کھڑی ہونے والی نماز کے پروردگار! تو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو وسیلہ اور فضیلت عطا فرما اور انہیں اس مقامِ محمود پر فائز کر دے جس کا تو نے ان کے ساتھ وعدہ کیا ہے“ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں) تو اس شخص کے لیے قیامت کے دن میری شفاعت لازم ہو جائے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1689]

1690

Sahih Ibn Hibban #1690

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ نُفِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ ، ثُمَّ صَلُّوا عَلَيَّ ، فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلاةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرًا ، ثُمَّ سَلُوا لِيَ الْوَسِيلَةَ ، فَإِنَّهَا مَرْتَبَةٌ فِي الْجَنَّةِ ، لا تَنْبَغِي إِلا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ ، وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ ، فَمَنْ سَأَلَ اللَّهَ لِيَ الْوَسِيلَةَ حَلَّتْ عَلَيْهِ الشَّفَاعَةُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب تم مؤذن کو سنو تو اس کی مانند کلمات کہو جو وہ کہتا ہے، پھر تم مجھ پر درود بھیجو، کیونکہ جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل کرتا ہے، پھر تم میرے لیے وسیلے کی دعا مانگو، یہ جنت میں ایک مرتبہ (مقام) ہے جو اللہ کے بندوں میں سے صرف کسی ایک بندے کو ملے گا، اور مجھے یہ امید ہے کہ وہ ایک بندہ میں ہوں گا، چنانچہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلے کی دعا کرے گا، اس کے لیے میری شفاعت لازم ہو جائے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1690]

1691

Sahih Ibn Hibban #1691

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُولُوا كَمَا يَقُولُ ، وَصَلُّوا عَلَيَّ ، فَإِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ يُصَلِّي عَلَيَّ صَلاةً ، إِلا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرًا ، وَسَلُوا لِيَ الْوَسِيلَةَ ، فَإِنَّ الْوَسِيلَةَ مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ ، وَلا تَنْبَغِي أَنْ تَكُونَ إِلا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ ، وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ ، وَمَنْ سَأَلَهَا لِي ، حَلَّتْ لَهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب تم مؤذن کو سنو تو تم اس کی مانند کلمات کہو جو وہ کہتا ہے، اور پھر تم مجھ پر درود بھیجو، جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ رحمتیں نازل کرتا ہے، اور تم میرے لیے وسیلے کی دعا مانگو، کیونکہ وسیلہ جنت میں ایک مقام ہے، جو اللہ کے بندوں میں سے صرف کسی ایک بندے کو ملے گا، اور مجھے یہ امید ہے کہ وہ ایک بندہ میں ہوں گا، جو شخص میرے لیے وہ مانگے گا، تو اس کے لیے قیامت کے دن میری شفاعت لازم ہو جائے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1691]

1692

Sahih Ibn Hibban #1692

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، أَخْبَرَنِي كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ نُفِيرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ ، وَصَلُّوا عَلَيَّ ، فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلاةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرًا ، ثُمَّ سَلُوا لِيَ الْوَسِيلَةَ ، فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ ، لا تَنْبَغِي أَنْ تَكُونَ إِلا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ ، وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ ، فَمَنْ سَأَلَ اللَّهَ لِيَ الْوَسِيلَةَ ، حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب تم مؤذن کو سنو تو اس کی مانند کلمات کہو جو وہ کہتا ہے، اور مجھ پر درود بھیجو، کیونکہ جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ رحمت نازل کرتا ہے، پھر تم میرے لیے وسیلے کی دعا مانگو، کیونکہ یہ جنت میں ایک مقام ہے، جو اللہ کے بندوں میں سے کسی ایک بندے کو ملے گا، اور مجھے یہ امید ہے، وہ ایک بندہ ”میں“ ہوں گا؛ جو شخص اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلے کا سوال کرے گا، اس شخص کے لیے میری شفاعت لازم ہو جائے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1692]

1693

Sahih Ibn Hibban #1693

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، بِبُسْتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ الْحُكَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ : وَأَنَا أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا ، وَبِالإِسْلامِ دِينًا ، وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولا ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عامر بن سعد بن ابی وقاص اپنے والد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں کہ ”جو شخص مؤذن (کی اذان) کو سن کر یہ کہے: «وَأَنَا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، رَضِيتُ بِاللهِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا» ”میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہی ایک معبود ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ میں اللہ تعالیٰ کے پروردگار ہونے، اسلام کے دین ہونے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے سے راضی ہوں (یعنی ان پر ایمان رکھتا ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں) تو اس شخص کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے“۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1693]