Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 14 · Chapter 3

The Book of Zakat

Hadith 1546–1579

34 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

1546

Sahih Ibn Hibban #1546

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ يَزِيدَ الْفَرَّاءُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : ثَلاثُ سَاعَاتٍ كَانَ يَنْهَانَا عَنْهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُصَلِّيَ فِيهِنَّ ، وَأَنْ نَقْبُرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا : حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَةً حَتَّى تَرْتَفِعَ ، وَحِينَ يَقُومُ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ حَتَّى تَمِيلَ الشَّمْسُ ، وَحِينَ تَصَوَّبُ الشَّمْسُ لِغُرُوبِهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”تین اوقات ایسے ہیں، جن میں نماز ادا کرنے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع کیا ہے، اور ان اوقات میں ہمیں اپنے مردوں کو دفنانے سے منع کیا ہے: اس وقت جب سورج طلوع ہو رہا ہو، یہاں تک کہ وہ بلند ہو جائے۔ اس وقت جب عین زوال کا وقت ہو یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے اور اس وقت جب سورج غروب ہونے کے قریب ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1546]

1547

Sahih Ibn Hibban #1547

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفِيانُ ، وَشُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلالِ بْنِ يِسَافٍ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ الأَجْدَعِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا تُصَلُّوا بَعْدَ الْعَصْرِ إِلا أَنْ تُصَلُّوا وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”عصر کی نماز کے بعد نماز ادا نہ کرو، البتہ تم اس وقت نماز ادا کر سکتے ہو جب سورج بلند ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1547]

1548

Sahih Ibn Hibban #1548

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا يَتَحَرَّى أَحَدُكُمْ ، فِيصَلِّي عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ ، وَلا عِنْدَ غُرُوبِهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کوئی بھی شخص سورج طلوع ہونے کے وقت یا اس کے غروب ہونے کے وقت نماز ادا کرنے کی کوشش نہ کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1548]

1549

Sahih Ibn Hibban #1549

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مُعَاذٍ التَّيْمِيِّ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عن النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : صَلاتَانِ لا صَلاةَ بَعْدَهُمَا : صَلاةُ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، وَصَلاةُ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”دو نمازیں ایسی ہیں، جن کے بعد کوئی نماز ادا نہیں کی جائے گی: عصر کی نماز یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے اور صبح کی نماز یہاں تک کہ سورج نکل آئے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1549]

1550

Sahih Ibn Hibban #1550

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْقُرَشِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ سَاعَاتِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سَاعَةٌ تَأْمُرُنِي أَنْ لا أُصَلِّيَ فِيهَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا صَلَّيْتَ الصُّبْحَ فَأَقْصِرْ عَنِ الصَّلاةِ حَتَّى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ ، فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ ، ثُمَّ الصَّلاةُ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ حَتَّى يَنْتَصِفَ النَّهَارُ ، فَإِذَا انْتَصَفَ النَّهَارُ فَأَقْصِرْ عَنِ الصَّلاةِ حَتَّى تَمِيلَ الشَّمْسُ ، فَإِنَّ حِينَئِذٍ تُسَعَّرُ جَهَنَّمُ ، وَشِدَّةُ الْحَرِّ مِنْ فِيحِ جَهَنَّمَ ، فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ فَالصَّلاةُ مَحْضُورَةٌ مَشْهُودَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ حَتَّى تُصَلِّيَ الْعَصْرَ ، فَإِذَا صَلَّيْتَ الْعَصْرَ فَأَقْصِرْ عَنِ الصَّلاةِ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ ، فَإِنَّهَا تَغِيبُ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ ، ثُمَّ الصَّلاةُ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ حَتَّى تُصَلِّيَ الصُّبْحَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! رات اور دن کی گھڑیوں میں سے کون سی گھڑی ایسی ہے، جس کے بارے میں آپ مجھے یہ حکم دیتے ہیں کہ میں ان میں نماز ادا نہ کروں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم صبح کی نماز ادا کر لو تو نماز ادا کرنے سے رک جاؤ یہاں تک کہ سورج بلند ہو جائے، کیونکہ یہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے، پھر اس کے بعد نماز میں (فرشتوں کی) حاضری بھی ہوتی ہے اور وہ قبول بھی ہوتی ہے، یہاں تک کہ نصف النہار ہو جائے؛ جب نصف النہار ہو جائے تو نماز ادا کرنے سے رک جاؤ یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے، یہ وہ وقت ہے جس میں جہنم کو بھڑکایا جاتا ہے اور گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا حصہ ہے۔ جب سورج ڈھل جائے تو نماز میں (فرشتوں کی) حاضری بھی ہوتی ہے اور وہ قبول بھی ہوتی ہے، یہاں تک کہ تم عصر کی نماز ادا کر لو؛ جب تم عصر کی نماز ادا کر لو تو نماز ادا کرنے سے رک جاؤ یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے، کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے، پھر اس کے بعد نماز میں (فرشتوں کی) حاضری بھی ہوتی ہے اور وہ قبول بھی ہوتی ہے، یہاں تک کہ تم صبح کی نماز ادا کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1550]

1551

Sahih Ibn Hibban #1551

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ يَزِيدَ الْفَرَّاءُ أَبُو الْحَسَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : ثَلاثُ سَاعَاتٍ كَانَ يَنْهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُصَلِّيَ فِيهِنَّ أَوْ نَقْبُرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا : حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَةً حَتَّى تَرْتَفِعَ ، وَحِينَ يَقُومُ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ حَتَّى تَمِيلَ الشَّمْسُ ، وَحِينَ تَصَوَّبُ الشَّمْسُ لِغُرُوبِهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”تین گھڑیاں ایسی ہیں، جن میں نماز ادا کرنے اور مردوں کو دفن کرنے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع کیا ہے: اس وقت جب سورج طلوع ہو رہا ہو یہاں تک کہ وہ بلند ہو جائے، اور اس وقت جب نصف النہار کا وقت ہو جائے یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے، اور اس وقت جب سورج غروب ہونے کے قریب ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1551]

1552

Sahih Ibn Hibban #1552

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، وَعُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفِيانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ،إِنْ كَانَ إِلَيْكُمْ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ ، فَلا أَعْرِفَنَّ أَحَدًا مِنْهُمْ أَنْ يَمْنَعَ مَنْ يُصَلِّي عِنْدَ الْبَيْتِ أَيَّ سَاعَةٍ شَاءَ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے عبدالمطلب کی اولاد! اگر (خانہ کعبہ کے امور کی نگرانی کا) معاملہ تمہارے سپرد ہو، تو میں تم میں سے کسی بھی شخص کو ایسی حالت میں نہ پاؤں کہ وہ بیت اللہ کے قریب کسی شخص کو نماز ادا کرنے سے منع کرے خواہ رات یا دن کی کوئی سی بھی گھڑی ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1552]

1553

Sahih Ibn Hibban #1553

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمْ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ ، عَنِ ابْنِ بَابَاهَ ، أَنَّهُ سَمِعَ جُبَيْرَ بْنَ مُطْعِمٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ ،لا تَمْنَعُوا أَحَدًا طَافَ بِهَذَا الْبَيْتِ وَصَلَّى أَيَّ سَاعَةٍ شَاءَ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اے بنو عبدِ مناف! تم رات یا دن کی کسی بھی گھڑی میں اس گھر کا طواف کرنے والے (اور اس کے قریب) نماز ادا کرنے والے (کسی بھی) شخص کو منع نہ کرنا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1553]

1554

Sahih Ibn Hibban #1554

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، بِالْمَوْصِلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَأَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالا : حَدَّثَنَا سُفِيانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، يَذْكُرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ ،لا تَمْنَعُنَّ أَحَدًا طَافَ بِهَذَا الْبَيْتِ وَصَلَّى أَيَّ سَاعَةٍ شَاءَ مِنْ لَيْلٍ وَنَهَارٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات ذکر کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے بنو عبدِ مناف! تم رات یا دن کی کسی بھی گھڑی میں اس گھر کا طواف کرنے والے کسی شخص اور (اس کے قریب) نماز ادا کرنے والے کسی بھی شخص کو ہرگز منع نہ کرنا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1554]

1555

Sahih Ibn Hibban #1555

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ ، وَعَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ نَسِيَ صَلاةً ، فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص نماز کو بھول جائے، تو جب وہ اسے یاد آئے، تو اسے ادا کر لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1555]

1556

Sahih Ibn Hibban #1556

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ الْخَلالُ ، بِالْكَرَجِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : مَنْ نَسِيَ صَلاةً ، أَوْ نَامَ عَنْهَا ، فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص نماز کو بھول جائے یا اس کے وقت سویا رہ جائے، تو جب وہ اسے یاد آئے، تو اسے ادا کر لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1556]

1557

Sahih Ibn Hibban #1557

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمْ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، وَعَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، وَعَنِ الأَعْرَجِ ، يُحَدِّثُونَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصُّبْحِ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلاةَ ، وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلاةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص سورج نکلنے سے پہلے صبح کی نماز کی ایک رکعت کو پا لے اس نے نماز کو پا لیا اور جو شخص سورج غروب ہونے سے پہلے عصر کی ایک رکعت کو پا لے اس نے نماز کو پا لیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1557]

1558

Sahih Ibn Hibban #1558

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّهَاسَتَكُونُ أُمَرَاءُ يُسِيئُونَ الصَّلاةَ يَخْنُقُونَهَا إِلَى شَرَقِ الْمَوْتَى ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ ، فَلْيُصَلِّ الصَّلاةَ لِوَقْتِهَا ، وَلْيَجْعَلْ صَلاتَهُ مَعَهُمْ سُبْحَةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”عنقریب ایسے حکمران آئیں گے جو نماز کو خراب کریں گے، وہ اس کو اتنا تنگ (مؤخر) کریں گے جتنی مردے کی چھینک ہوتی ہے، تو تم میں سے جو شخص ان کو پائے وہ نماز کو اس کے مخصوص وقت میں ادا کر لے اور ان (حکمرانوں) کے ساتھ اپنی نماز کو نفل بنا لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1558]

1559

Sahih Ibn Hibban #1559

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ كَهْمَسِ بْنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلاةٌ لِمَنْ شَاءَ ، بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلاةٌ لِمَنْ شَاءَ "، وَكَانَ ابْنُ بُرَيْدَةَ يُصَلِّي قَبْلَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”دو اذانوں (یعنی اذان اور اقامت) کے درمیان نماز ادا کی جاتی ہے، یہ (حکم) اس شخص کے لیے ہے جو یہ چاہے، ہر دو اذانوں (یعنی اذان اور اقامت) کے درمیان نماز ادا کی جاتی ہے، یہ (حکم) اس کے لیے ہے جو چاہے۔“ ابن بریدہ رحمہ اللہ مغرب سے پہلے بھی دو رکعات ادا کیا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1559]

1560

Sahih Ibn Hibban #1560

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلاةٌ لِمَنْ شَاءَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”دو اذانوں (یعنی اذان اور اقامت) کے درمیان نماز ادا کی جائے گی، یہ (حکم) اس کے لیے ہے جو (نماز ادا کرنا) چاہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1560]

1561

Sahih Ibn Hibban #1561

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغَفَّلِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلاةٌ لِمَنْ شَاءَ "ثَلاثَ مَرَّاتٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دو اذانوں (یعنی اذان اور اقامت) کے درمیان نماز ادا کی جائے گی (یہ حکم اس شخص کے لیے ہے، جو یہ نماز ادا کرنا) چاہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1561]

1562

Sahih Ibn Hibban #1562

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلالِ بْنِ يِسَافٍ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ الأَجْدَعِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يُصَلَّى بَعْدَ الْعَصْرِ إِلا أَنْ تَكُونَ الشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”عصر کے بعد کوئی نماز ادا نہیں کی جائے گی البتہ اگر سورج بلند ہو (تو حکم مختلف ہے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1562]

1563

Sahih Ibn Hibban #1563

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، وَوَصِيفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ، بأنطاكية قَالا : حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ قَيْسِ بْنِ قَهْدٍ ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ ، وَلَمْ يَكُنْ رَكَعَ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ ، فَلَمْا سَلَمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ يَرْكَعُ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ ، فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا قیس بن قہد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں صبح کی نماز ادا کی، وہ فجر کی دو رکعات سنت نہیں ادا کر سکے تھے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو وہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے فجر کی دو رکعات سنت ادا کیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف دیکھتے رہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر انکار نہیں کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1563]

1564

Sahih Ibn Hibban #1564

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسْلَمْ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةً ، فَلَمْا قَضَى صَلاتَهُ إِذَا هُوَ بِرَجُلَيْنِ فِي مُؤَخَّرِ النَّاسِ ، فَجِيءَ بِهِمَا تَرْتَعِدُ فَرَائِصُهُمَا ، فَقَالَ لَهُمَا : مَا حَمَلَكُمَا عَلَى أَنْ لا تُصَلِّيَا مَعَنْا " ، قَالا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا ، ثُمَّ أَقْبَلْنَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" إِذَا صَلَّيْتُمَا فِي رِحَالِكُمَا ، ثُمَّ أَدْرَكْتُمَا الصَّلاةَ ، فَصَلِّيَا ، فَإِنَّهَا لَكُمَا نَافِلَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا یزید بن اسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو لوگوں کے پیچھے دو آدمی موجود تھے (جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز ادا نہیں کی تھی)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت ان دونوں کو لایا گیا تو ان کے جسم کانپ رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے دریافت کیا: ”کیا وجہ ہے، تم دونوں نے ہمارے ساتھ نماز ادا نہیں کی؟“ ان دونوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! ہم نے اپنی رہائشی جگہ پر نماز ادا کر لی تھی، پھر ہم یہاں آئے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم اپنی رہائشی جگہ پر نماز ادا کر چکے ہو اور پھر (امام کے ساتھ) نماز کو پاؤ تو نماز ادا کر لو یہ تمہارے لیے نفل ہو جائے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1564]

1565

Sahih Ibn Hibban #1565

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الدُّولابِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الأَسْوَدِ الْعَامِرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّتَهُ ، فَصَلَّيْتُ مَعَهُ صَلاةَ الصُّبْحِ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ مِنْ مِنًى ، فَلَمْا قَضَى صَلاتَهُ إِذَا رَجُلانِ فِي آخِرِ النَّاسِ لَمْ يُصَلِّيَا ، فَأُتِيَ بِهِمَا تَرْتَعِدُ فَرَائِصُهُمَا ، فَقَالَ لَهُمَا : مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَنْا ؟ " ، قَالا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كُنَّا قَدْ صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا ، قَالَ : " فَلا تَفْعَلا ،إِذَا صَلَّيْتُمَا فِي رِحَالِكُمَا ، ثُمَّ أَتَيْتُمَا مَسْجِدَ جَمَاعَةٍ ، فَصَلِّيَا مَعَهُمْ ، فَإِنَّهَا لَكُمَا نَافِلَةٌ "، قَالَ الشَّيْخُ : قَوْلُهُ فَلا تَفْعَلا لَفْظَةُ زَجْرٍ مُرَادُهَا ابْتِدَاءُ أَمْرٍ مُسْتَأْنَفٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جابر بن یزید عامری اپنے والد رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ آپ کے حج (یعنی حجۃ الوداع) میں شریک ہوا، میں نے آپ کی اقتدا میں صبح کی نماز منی میں موجود مسجدِ خیف میں ادا کی، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کر لی تو لوگوں کے پیچھے دو آدمی موجود تھے جنہوں نے (باجماعت) نماز ادا نہیں کی تھی، ان دونوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا تو وہ دونوں کانپ رہے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا وجہ ہے کہ تم دونوں نے ہمارے ساتھ نماز ادا نہیں کی؟“ ان دونوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم اپنی رہائشی جگہ پر نماز ادا کر چکے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ایسا نہ کرو، جب تم اپنی رہائشی جگہ پر نماز ادا کر چکے ہو اور پھر تم جماعت کے ساتھ والی مسجد میں آؤ تو ان لوگوں کے ساتھ بھی نماز ادا کر لو، یہ تمہارے لیے نفل ہو جائے گی۔“ شیخ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”تم ایسا نہ کرو“ یہ لفظ ممانعت کے ہیں لیکن اس سے مراد ابتدائی طور پر کوئی حکم دینا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1565]

1566

Sahih Ibn Hibban #1566

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا يَتَحَرَّ أَحَدُكُمْ فِيصَلِّي عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ ، وَلا عِنْدَ غُرُوبِهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کوئی بھی شخص یہ کوشش نہ کرے کہ وہ سورج طلوع ہونے کے قریب یا سورج غروب ہونے کے قریب نماز ادا کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1566]

1567

Sahih Ibn Hibban #1567

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا بَرَزَ حَاجِبُ الشَّمْسِ ، فَأَمْسِكُوا عَنِ الصَّلاةِ حَتَّى يَسْتَوِيَ ، فَإِذَا غَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَمْسِكُوا عَنِ الصَّلاةِ حَتَّى تَغِيبَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب سورج کا کنارہ ظاہر ہو جائے، تو نماز سے رک جاؤ یہاں تک کہ وہ برابر ہو جائے (یعنی پورا باہر نکل آئے) اور جب سورج کا کنارہ غائب (ہونے کے قریب) ہو، تو نماز ادا کرنے سے رک جاؤ، یہاں تک کہ وہ (مکمل طور پر) غروب ہو جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1567]

1568

Sahih Ibn Hibban #1568

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الصَّلاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ ، فَقَالَتْ : صَلِّ ، إِنَّمَا إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِالصَّلاةِ إِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مقدام بن شریح اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عصر کے بعد نماز ادا کرنے کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے فرمایا: تم نماز ادا کر لو، ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج طلوع ہوتے وقت نماز ادا کرنے سے منع کیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1568]

1569

Sahih Ibn Hibban #1569

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَحَرَّوْا بِصَلاتِكُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلا غُرُوبِهَا ، فَإِنَّهَا تَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم سورج کے طلوع ہونے کے وقت یا اس کے غروب ہونے کے وقت نماز ادا کرنے کی کوشش نہ کرو، کیونکہ یہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1569]

1570

Sahih Ibn Hibban #1570

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، وَمَسْرُوقٍ ، قَالا : نَشْهَدُ عَلَى عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ : مَا مِنْ يَوْمٍ يَأْتِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلا صَلَّى بَعْدَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسود اور مسروق بیان کرتے ہیں: ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں گواہی دے کر یہ بات بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی میرے پاس تشریف لاتے تھے، تو آپ عصر کے بعد دو رکعات ادا کیا کرتے تھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1570]

1571

Sahih Ibn Hibban #1571

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ خَلادٍ الْبَاهِلِيُّ أَبُو بَكْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الأَسْوَدَ ، وَمَسْرُوقًا ، قَالا : نَشْهَدُ عَلَى عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : مَا كَانَ يَوْمَهَا الَّذِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا ، إِلا صَلَّى بَعْدَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسود اور مسروق بیان کرتے ہیں: ہم لوگ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں گواہی دے کر یہ بات کہتے ہیں کہ انہوں نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: جب بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں ہوتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد دو رکعتیں ادا کیا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1571]

1572

Sahih Ibn Hibban #1572

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، بِتُسْتَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي عِمْرَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : أَيُضْرَبُ عَلَيْهِمَا ؟ !مَا دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ إِلا صَلاهُمَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: کیا ان دو رکعات کی وجہ سے پٹائی کی جائے گی؟ جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی میرے ہاں تشریف لایا کرتے تھے، تو آپ ان دو رکعات کو ادا کیا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1572]

1573

Sahih Ibn Hibban #1573

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ الدِّمَشْقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ فِي بَيْتِي حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے گھر میں عصر کے بعد دو رکعات ادا کرنے کو کبھی ترک نہیں کیا، یہاں تک کہ آپ دنیا سے رخصت ہو گئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1573]

1574

Sahih Ibn Hibban #1574

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمْةَ ، قَالَتْ : لَمْا شُغِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ ، صَلاهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کے بعد والی دو رکعات کسی مصروفیت کی وجہ سے ادا نہیں کر پاتے تھے، تو آپ انہیں عصر کے بعد ادا کر لیتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1574]

1575

Sahih Ibn Hibban #1575

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الشَّعْثَاءِ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِمَالٍ بَعْدَ الظُّهْرِ ، فَقَسَمَهُ حَتَّى صَلَّى الْعَصْرَ ، ثُمَّ دَخَلَ مَنْزِلَ عَائِشَةَ ، فَصَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ ، وَقَالَ : شَغَلَنِي هَذَا الْمَالُ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ ، فَلَمْ أُصَلِّهِمَا حَتَّى كَانَ الآنَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ظہر کے بعد کچھ مال لایا گیا، آپ نے اسے تقسیم کرنا شروع کیا، یہاں تک کہ آپ نے عصر کی نماز ادا کر لی، پھر آپ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے اور آپ نے عصر کے بعد دو رکعات ادا کیں۔ آپ نے ارشاد فرمایا: ”اس مال نے مجھے ظہر کے بعد کی دو رکعات ادا نہیں کرنے دیں، میں انہیں ادا نہیں کر پایا تھا، یہاں تک کہ یہ وقت ہو گیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1575]

1576

Sahih Ibn Hibban #1576

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمْ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الأَزْهَرِ ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أرسلوه إلى عائشة ، فقالوا : اقرأ عليها السلام منا جميعا وسلها عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ ، فَإِنَّا أُخْبِرْنَا أَنَّكِ تُصَلِّيهَا ، وَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهَا ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَكُنْتُ أَضْرِبُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ النَّاسَ عَلَيْهَا ، قَالَ كُرَيْبٌ : فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا وَبَلَّغْتُهَا مَا أَرْسَلُونِي بِهِ إِلَى عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ : سَلْ أُمَّ سَلَمْةَ فَخَرَجْتُ إِلَيْهِمْ ، فَأَخْبَرْتُهُمْ بِقَوْلِهَا ، فَرَدُّونِي إِلَى أُمِّ سَلَمْةَ بِمِثْلِ مَا أَرْسَلُونِي بِهِ إِلَى عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمْةَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْهَا ، ثُمَّ رَأَيْتُهُ يُصَلِّيهَا ، أَمَّا حِينَ صَلاهَا ، فَإِنَّهُ حِينَ صَلَّى الْعَصْرَ دَخَلَ وَعِنْدِي نِسْوَةٌ مِنْ بَنِي حَرَامٍ مِنَ الأَنْصَارِ ، فَصَلاهَا ، فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ الْجَارِيَةَ ، فَقُلْتُ : قَوْمِي بِجَنْبِهِ ، فَقُولِي لَهُ : تَقُولُ أُمُّ سَلَمْةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي سَمِعْتُكَ تَنْهَى عَنْ هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ ، فَأَرَاكَ تُصَلِّيهِمَا ، فَإِنْ أَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخِرِي عَنْهُ ، فَقَالَتِ الْجَارِيَةُ : فَأَشَارَ بِيَدِهِ ، فَاسْتَأْخَرْتُ عَنْهُ ، ثُمَّ قَالَ : يَا بِنْتَ أَبِي أُمَيَّةَ ، سَأَلْتِ عَنِالرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ ، أَتَانِي نَاسٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ بِالإِسْلامِ مِنْ قَوْمِهِمْ ، فَشَغَلُونِي عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ ، وَهُمَا هَاتَانِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

کریب بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، عبدالرحمن بن ازہر رضی اللہ عنہ اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما نے انہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا اور یہ کہا کہ تم انہیں ہماری طرف سے سلام کہنا اور ان سے عصر کے بعد کی دو رکعات کے بارے میں دریافت کرنا اور یہ بھی بتانا کہ ہمیں یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ آپ یہ دو رکعات ادا کرتی ہیں، جبکہ ہم تک یہ روایت پہنچی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منع فرمایا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ لوگوں کو ان دو رکعات کے ادا کرنے پر مارا کرتا تھا۔ کریب بیان کرتے ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان حضرات نے جو پیغام دے کر مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف بھیجا تھا وہ ان تک پہنچا دیا، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تم سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے (اس بارے میں) دریافت کرو۔ میں واپس ان حضرات کے پاس آیا اور انہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے جواب کے بارے میں بتایا تو ان حضرات نے مجھے اسی پیغام کے ہمراہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی طرف بھیج دیا جو پیغام انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف بھیجا تھا۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے منع کرتے ہوئے سنا ہے، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ رکعات ادا کرتے ہوئے بھی دیکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ رکعات جس وقت ادا کی تھیں اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز ادا کرنے کے بعد (میرے ہاں) تشریف لائے تھے، اس وقت میرے پاس انصار کے قبیلے بنو حرام سے تعلق رکھنے والی کچھ خواتین موجود تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دو رکعات ادا کیں تو میں نے ایک لڑکی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجا اور میں نے اسے یہ ہدایت کی کہ تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں کھڑی ہو جانا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گزارش کرنا کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا یہ عرض کر رہی ہیں: اے اللہ کے رسول! میں نے تو آپ کو ان دو رکعات کو ادا کرنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے اور اب میں دیکھ رہی ہوں کہ آپ انہیں ادا کر رہے ہیں، اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں ہاتھ کے ذریعے اشارہ کر دیں تو تم پیچھے ہٹ جانا۔ لڑکی نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دستِ اقدس کے ذریعے اشارہ کیا تھا اس لیے میں پیچھے ہٹ گئی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات بتائی: ”اے ابوامیہ کی صاحبزادی! تم نے عصر کے بعد کی دو رکعات کے بارے میں دریافت کیا ہے، میرے پاس عبدالقیس قبیلے سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ اپنی قوم کی طرف سے اسلام کے حوالے سے آئے تھے، انہوں نے مجھے ظہر کے بعد کی دو رکعات ادا نہیں کرنے دیں، یہ وہی دو رکعات ہیں“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1576]

1577

Sahih Ibn Hibban #1577

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَرَوِيُّ ، وَابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالا : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ ، عَنْ أَبِي سَلَمْةَ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنِ السَّجْدَتَيْنِ اللَّتَيْنِ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهِمَا بَعْدَ الْعَصْرِ فِي بَيْتِهَا ، فَقَالَتْ : كَانَيُصَلِّيهِمَا بَعْدَ الظُّهْرِ ، وَإِنَّهُ شُغِلَ عَنْهُمَا فَصَلاهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ ، ثُمَّ أَثْبَتَهُمَا ، وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلاةً أَثْبَتَهَا ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ هَاجَكَ مِنَ الْعُبَّادِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوسلمہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دو رکعات کے بارے میں دریافت کیا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد ان کے گھر میں ادا کی تھیں تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کے بعد یہ رکعات ادا کیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ کسی مصروفیت کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ادا نہیں کر سکے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد انہیں ادا کیا تھا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں باقاعدگی سے ادا کرنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نماز ادا کرتے تو اسے باقاعدگی سے ادا کیا کرتے تھے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عبداللہ بن محمد بن ہاجک عبادت گزار لوگوں میں سے ایک تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1577]

1578

Sahih Ibn Hibban #1578

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلَمْ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمْةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خُذُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ ، فَإِنَّ اللَّهَ لا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا "، وَكَانَ أَحَبُّ الأَعْمَالِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدْوَمَهَا ، وَإِنْ قَلَّ ، كَانَ إِذَا صَلَّى صَلاةً دَاوَمَ عَلَيْهَا ، يَقُولُ أَبُو سَلَمْةَ : " قَالَ اللَّهُ : الَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلاتِهِمْ دَائِمُونَ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَإِنَّ اللَّهَ لا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا " مِنَ الأَلْفَاظِ الَّتِي لا يُحِيطُ عِلَمْ الْمُخَاطَبِ بِهَا فِي نَفْسِ الْقَصْدِ إِلا بِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اتنا عمل اختیار کرو جتنی تم طاقت رکھتے ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فضل تم سے اس وقت تک منقطع نہیں ہوتا جب تک تم اکتاہٹ کا شکار نہیں ہو جاتے۔“ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک پسندیدہ ترین عمل وہ تھا جو باقاعدگی سے کیا جائے اگرچہ وہ تھوڑا ہو، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نماز ادا کرتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے باقاعدگی سے ادا کیا کرتے تھے۔ ابوسلمہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ﴿الَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَاتِهِمْ دَائِمُونَ﴾ [سورة المعارج: 23] ”وہ لوگ جو اپنی نمازوں کے حوالے سے باقاعدگی رکھتے ہیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان «إِنَّ اللهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا» ”بیشک اللہ تعالیٰ تھکتا نہیں یہاں تک کہ تم تھک جاتے ہو“ یہ ان الفاظ میں سے ہے کہ مخاطب شخص کا علم وہاں تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا جو ان الفاظ کے ذریعے مقصود ہے (یعنی اللہ تعالیٰ کی شان کے مطابق اس کی صفت کیا ہے یہ آدمی نہیں جان سکتا)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1578]

1579

Sahih Ibn Hibban #1579

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ : لَوْ عَرَّسْتَ بِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : أَخَافُ أَنْ تَنَامُوا عَنِ الصَّلاةِ " ، فَقَالَ بِلالٌ : أَنَا أُوقِظُكُمْ ، فَاسْتَنَدَ إِلَى رَاحِلَتِهِ ، وَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ ، فَقَالَ : " يَا بِلالُ ، أَيْنَ مَا قُلْتَ ؟ " ، قَالَ : أُلْقِيَتْ عَلَيَّ نَوْمَةٌ مَا نِمْتُ مِثْلَهَا قَطُّ ، قَالَ : " قُمْ فَأَذِّنِ النَّاسَ بِالصَّلاةِ " ، فَلَمْا طَلَعَتِ الشَّمْسُ وَابْيَضَّتْ ، قَامَ فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن ابی قتادہ اپنے والد (ابوقتادہ رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر کر رہے تھے۔ لوگوں میں سے کسی نے کہا: یا رسول اللہ! اگر آپ ہمیں پڑاؤ کی اجازت دیں (تو مہربانی ہو گی)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے یہ اندیشہ ہے، تم لوگ نماز کے وقت سوئے رہ جاؤ گے۔“ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کی: میں آپ لوگوں کو بیدار کر دوں گا، پھر وہ اپنی سواری کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بیدار ہوئے جب سورج کا کنارہ نکل چکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بلال! تم نے جو کہا تھا وہ کہاں گیا؟“ انہوں نے عرض کی: مجھ پر بھی نیند طاری ہو گئی تھی، اور یہ ایسی نیند تھی کہ اس طرح کی نیند مجھے کبھی نہیں آئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اٹھو اور لوگوں کے درمیان نماز کا اعلان کرو۔“ جب سورج نکل آیا، روشن ہو گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو نماز پڑھائی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1579]