Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 15 · Chapter 1

The Book of Fasting

Hadith 1580–1619

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

1580

Sahih Ibn Hibban #1580

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِي ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : سِرْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ أَمْسَسْنَا الأَرْضَ ، فَنِمْنَا وَرَعَتْ رَكَائِبُنَا ، قَالَ : فَمَنْ يَحْرُسُنَا ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : أَنَا ، فَغَلَبَتْنِي عَيْنِي ، فَلَمْ يُوقِظْنِي إِلا وَقَدْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ ، وَلَمْ يَسْتَيْقِظْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِلا بِكَلامِنَا ، قَالَ : " فَأَمَرَ بِلالا فَأَذَّنَ ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى بِنَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم رات کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر کر رہے تھے، ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! اگر آپ ہمیں زمین کے ساتھ چھونے (یعنی رک کر آرام کرنے) کی اجازت دیں اور ہم سو جائیں تو ہمارے جانور بھی آرام کر لیں گے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”(یعنی ہمیں نماز کے لیے بیدار کون کرے گا؟)“ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: میں، پھر میری بھی آنکھ لگ گئی، میں اس وقت بیدار ہوا جب سورج نکل چکا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہماری بات چیت سن کر بیدار ہوئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اذان دی پھر انہوں نے اقامت کہی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1580]

1581

Sahih Ibn Hibban #1581

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، بِتُسْتَرَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، ثُمَّ طَلَعَتِ الشَّمْسُ ، فَلْيُصَلِّ إِلَيْهَا أُخْرَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص سورج نکلنے سے پہلے ایک رکعت پا لے اور پھر سورج نکل آئے، تو اسے اس کے ساتھ دوسری رکعت بھی ادا کر لینی چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1581]

1582

Sahih Ibn Hibban #1582

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَهَا ، وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْفَجْرِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَرَكْعَةً بَعْدَ مَا تَطْلُعُ الشَّمْسُ ، فَقَدْ أَدْرَكَهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص سورج غروب ہونے سے پہلے عصر کی ایک رکعت کو پا لے اس نے اس نماز کو پا لیا، اور جو شخص سورج نکلنے سے پہلے فجر کی ایک رکعت کو پا لے اور ایک رکعت سورج نکلنے کے بعد ادا کرے، تو اس نے اس (فجر کی نماز) کو پا لیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1582]

1583

Sahih Ibn Hibban #1583

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمْ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، وَعَنِ الأَعْرَجِ ، يحدثونه ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ الصُّبْحَ ، وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، فَقَدْ أَدْرَكَ الْعَصْرَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص صبح کی ایک رکعت کو سورج نکلنے سے پہلے پا لے اس نے صبح کی نماز کو پا لیا اور جو شخص سورج غروب ہونے سے پہلے عصر کی ایک رکعت کو پا لے اس نے عصر کی نماز کو پا لیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1583]

1584

Sahih Ibn Hibban #1584

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَهُ عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْعَصْرِ سَجْدَةً قَبْلَ أَنٌ تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، أَوْ مِنَ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، فَقَدْ أَدْرَكَهَا "، وَالسَّجْدَةُ إِنَّمَا هِيَ الرَّكْعَةُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص عصر کی ایک رکعت کو سورج غروب ہونے سے پہلے پا لے یا صبح کی ایک رکعت کو سورج نکلنے سے پہلے پا لے، اس نے اس نماز کو پا لیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1584]

1585

Sahih Ibn Hibban #1585

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَهَا ، وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْفَجْرِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَرَكْعَةً بَعْدَمَا تَطْلُعُ الشَّمْسُ ، فَقَدْ أَدْرَكَهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص عصر کی ایک رکعت کو سورج غروب ہونے سے پہلے پا لے اس نے اس (نماز) کو پا لیا اور جو شخص فجر کی ایک رکعت کو سورج نکلنے سے پہلے پا لے اور ایک رکعت سورج نکلنے کے بعد ادا کرے اس نے اس (فجر کی نماز) کو پا لیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1585]

1586

Sahih Ibn Hibban #1586

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمْةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، أَخْبَرَهُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا أَدْرَكَ أَحَدُكُمْ أَوَّلَ سَجْدَةٍ مِنَ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، فَلْيُتِمَّ صَلاتَهُ ، وَإِذَا أَدْرَكَ أَوَّلَ سَجْدَةٍ مِنْ صَلاةِ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، فَلْيُتِمَّ صَلاتَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب کوئی شخص سورج نکلنے سے پہلے فجر کی پہلی رکعت کو پا لے تو وہ اپنی نماز مکمل کرے اور جب کوئی شخص سورج غروب ہونے سے پہلے عصر کی پہلی رکعت کو پا لے تو وہ اپنی نماز مکمل کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1586]

1587

Sahih Ibn Hibban #1587

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ نَافِعًا يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ لا يُصَلِّي إِلا رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح صادق ہو جانے کے بعد صرف فجر کی دو رکعات سنت ادا کرتے تھے (یعنی اور کوئی نفلی نماز ادا نہیں کرتے تھے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1587]

1588

Sahih Ibn Hibban #1588

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ الْمُزَنِيَّ حَدَّثَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى قَبْلَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ قَالَ : صَلُّوا قَبْلَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ " ، ثُمَّ قَالَ عِنْدَ الثَّالِثَةِ : " لِمَنْ شَاءَ "، خَافَ أَنْ يَحْسِبِهَا النَّاسُ سُنَّةً"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبد اللہ مزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب سے پہلے دو رکعات ادا کرتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ مغرب سے پہلے دو رکعات ادا کیا کرو۔“ پھر تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”(یہ حکم اس شخص کے لیے ہے) جو ان دو رکعات کو (ادا کرنا چاہے)۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اندیشہ ہوا کہ لوگ اسے سنت شمار نہ کر لیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1588]

1589

Sahih Ibn Hibban #1589

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَامِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : إِنْ كَانَ الْمُؤَذِّنُ إِذَا أَذَّنَ ، قَامَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيبْتَدِرُونَ السَّوَارِيَ حَتَّى يَخْرُجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُمْ كَذَلِكَ يُصَلُّونَ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ ، وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَ الأَذَانِ وَالإِقَامَةِ شَيْءٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مؤذن اذان دے دیتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب اٹھ کر تیزی سے ستونوں کی طرف لپکتے تھے، یہاں تک کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے تھے، تو وہ لوگ اسی طرح مغرب سے پہلے والی دو رکعات ادا کر رہے ہوتے تھے حالانکہ اذان اور اقامت کے درمیان زیادہ وقفہ نہیں ہوتا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1589]

1590

Sahih Ibn Hibban #1590

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسْلَمْ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فِي السَّفَرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کے دوران ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کی نمازیں ایک ساتھ ادا کی ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1590]

1591

Sahih Ibn Hibban #1591

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، وَأَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، قَالا : حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ السَّدُوسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الطُّفِيلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ فِي سَفْرَةٍ سَافَرَهَا ، وَذَلِكَ فِي غَزْوَةٍ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ "، فَقُلْتُ لَهُ : فَمَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ ؟ قَالَ : أَرَادَ أَنْ لا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سفر کے دوران نمازیں ایک ساتھ ادا کیں، یہ سفر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا اور یہ ایک غزوے کی بات ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کی نمازیں ایک ساتھ ادا کی تھیں۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے دریافت کیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیوں کیا تھا؟ تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ چاہتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو حرج میں مبتلا نہ کریں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1591]

1592

Sahih Ibn Hibban #1592

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ عَقِيلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ ، أَخَّرَ الظُّهْرَ إِلَى وَقْتِ الْعَصْرِ ، ثُمَّ نَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا ، وَإِذَا زَاغَتْ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ ، صَلَّى ثُمَّ رَحَلَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سورج ڈھلنے سے پہلے روانہ ہونا ہوتا، تو آپ ظہر کی نماز کو عصر کے وقت تک مؤخر کر دیتے تھے، پھر آپ پڑاؤ کر کے دونوں نمازیں ایک ساتھ ادا کر لیتے تھے اور جب آپ کے روانہ ہونے سے پہلے سورج ڈھل جاتا تو آپ نماز ادا کرنے کے بعد روانہ ہوتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1592]

1593

Sahih Ibn Hibban #1593

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفِيلِ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ ، فَكَانَإِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ زَيْغِ الشَّمْسِ ، أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَجْمَعَهَا إِلَى الْعَصْرِ ، فِيصَلِّيَهُمَا جَمِيعًا ، وَإِذَا ارْتَحَلَ بَعْدَ زَيْغِ الشَّمْسِ صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ، ثُمَّ سَارَ ، وَكَانَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ الْمَغْرِبِ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الْعِشَاءِ ، وَإِذَا ارْتَحَلَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ عَجَّلَ الْعِشَاءَ فَصَلاهَا مَعَ الْمَغْرِبِ "، سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ الثَّقَفِي ، يَقُولُ : سَمِعْتُ قُتَيْبَةَ بْنَ سَعِيدٍ ، يَقُولُ : عَلَيْهِ عَلامَةُ سَبْعَةٍ مِنَ الْحُفَّاظِ ، كَتَبُوا عَنِّي هَذَا الحديث أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، وَالْحُمَيْدِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو خَيْثَمَةَ حَتَّى عَدَّ سَبْعَةً"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ تبوک کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ کرنا ہوتا، تو آپ ظہر کی نماز کو مؤخر کر دیتے تھے، یہاں تک کہ اسے عصر کے ساتھ ملا دیتے تھے اور ان دونوں نمازوں کو ایک ساتھ ادا کرتے تھے، اور جب آپ نے سورج ڈھلنے کے بعد کوچ کرنا ہوتا، تو آپ ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ ادا کرنے کے بعد پھر روانہ ہوتے تھے۔ اسی طرح جب آپ نے مغرب سے پہلے کوچ کرنا ہوتا، تو آپ مغرب کی نماز کو مؤخر کر دیتے تھے، یہاں تک کہ اسے عشاء کے ہمراہ ادا کرتے تھے، اور جب آپ نے مغرب کے بعد کوچ کرنا ہوتا تھا تو عشاء کی نماز کو جلدی ادا کر لیتے تھے اور اسے مغرب کے ہمراہ پڑھ لیتے تھے۔ میں نے سنا محمد بن اسحاق ثقفی کہتے ہیں میں نے قتیبہ بن سعید کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے اس پر سات حافظانِ حدیث کی علامت ہے جنہوں نے میرے حوالے سے اس حدیث کو نوٹ کیا ہے (وہ حضرات یہ ہیں) احمد بن حنبل، یحییٰ بن معین، حمیدی، ابوبکر بن ابوشیبہ، ابوخیثمہ، یہاں تک کہ انہوں نے سات افراد گنوائے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1593]

1594

Sahih Ibn Hibban #1594

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ ، حَتَّىإِذَا كَانَ بِالشِّعْبِ نَزَلَ فَبَالَ ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَلَمْ يُسْبِغِ الْوُضُوءَ ، فَقُلْتُ لَهُ : الصَّلاةَ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الصَّلاةُ أَمَامَكَ " ، فَرَكِبَ ، فَلَمْا جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ ، نَزَلَ فَتَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلاةُ ، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ أَنَاخَ كُلُّ إِنْسَانٍ بَعِيرَهُ فِي مَنْزِلِهِ ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الْعِشَاءُ ، فَصَلاهَا وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ عرفہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے یہاں تک کہ جب آپ گھاٹی میں پہنچے تو آپ سواری سے نیچے اترے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور وضو میں اسباغ نہیں کیا۔ میں نے آپ کی خدمت میں گزارش کی: ”نماز؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز آگے جا کے ہو گی۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے، جب آپ مزدلفہ آئے تو سواری سے نیچے اترے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کرتے ہوئے اس میں اسباغ کیا، پھر نماز کے لیے اقامت کہی گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز ادا کی، پھر ہر شخص نے اپنی رہائشی جگہ پر اونٹ کو باندھ دیا، پھر عشاء کی نماز کے لیے اقامت کہی گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نماز ادا کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان کوئی (نفل) نماز ادا نہیں کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1594]

1595

Sahih Ibn Hibban #1595

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي الطُّفِيلِ ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلِ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ تَبُوكَ ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ ، قَالَ : فَأَخَّرَ الصَّلاةَ يَوْمًا ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ، ثُمَّ دَخَلَ ، ثُمَّ خَرَجَ ، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّكُمْسَتَأْتُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ عَيْنَ تَبُوكَ ، وَإِنَّكُمْ لَنْ تَأْتُوهَا حَتَّى يَضْحَى النَّهَارُ ، فَمَنْ جَاءَهَا فَلا يَمَسَّ مِنْ مَائِهَا شَيْئًا حَتَّى آتِيَ " ، قَالَ : فَجِئْنَاهَا وَقَدْ سَبَقَ إِلَيْهَا رَجُلانِ ، وَالْعَيْنُ مِثْلُ الشِّرَاكِ تَبِضُّ بِشَيْءٍ مِنْ مَاءٍ ، فَسَأَلَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ مَسَسْتُمَا مِنْ مَائِهَا ؟ " قَالا : نَعَمْ ، فَسَبَّهُمَا ، وَقَالَ لَهُمَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ، ثُمَّ غَرَفُوا مِنَ الْعَيْنِ بِأَيْدِيهِمْ قَلِيلا قَلِيلا ، حَتَّى اجْتَمَعَ فِي شَيْءٍ ثُمَّ غَسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ، ثُمَّ أَعَادَهُ فِيهَا ، فَجَرَتِ الْعَيْنُ بِمَاءٍ كَثِيرٍ ، فَاسْتَقَى النَّاسُ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُوشِكُ بِكَ يَا مُعَاذُ إِنْ طَالَتْ بِكَ حَيَاةٌ أَنْ تَرَى مَا هَاهُنَا قَدْ مُلِئَ جِنَانًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ تبوک کے موقع پر وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی نمازیں جب کہ مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ساتھ ادا کیا کرتے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کو مؤخر کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر و عصر کی نمازیں ایک ساتھ ادا کیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ساتھ ادا کیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کل تم تبوک کے چشمے کے پاس پہنچ جاؤ گے اگر اللہ نے چاہا، تم اس کے پاس اس وقت پہنچو گے جب دن چڑھ چکا ہو گا، جو شخص وہاں پہنچے وہ میرے آنے سے پہلے اس کے پانی کو ہاتھ نہ لگائے۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ ہم وہاں پہنچ گئے، دو لوگ پہلے ہی وہاں تک پہنچ چکے تھے۔ وہ چشمہ تسمے کی مانند تھا، جس میں سے پانی کے قطرے پھوٹتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے دریافت کیا: ”کیا تم نے اس کے پانی کو ہاتھ لگایا ہے؟“ ان دونوں نے جواب دیا: جی ہاں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر ناراضگی کا اظہار کیا اور جو اللہ کو منظور تھا وہ ان دونوں کو کہا، پھر لوگوں نے اس چشمے میں سے اپنے ہاتھوں میں تھوڑا تھوڑا پانی لیا، یہاں تک کہ اسے کسی چیز میں جمع کیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پانی سے اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے، پھر وہ پانی دوبارہ اس چشمے میں ڈال دیا تو اس چشمے سے بہت زیادہ پانی پھوٹ پڑا، لوگوں نے اس سے پانی حاصل کیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے معاذ! اگر تمہاری زندگی رہی تو عنقریب ایسا وقت آئے گا کہ تم دیکھو گے کہ یہاں ہر طرف باغات ہوں گے (جو اس چشمے سے سیراب ہوتے ہوں گے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1595]

1596

Sahih Ibn Hibban #1596

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا ، فِي غَيْرِ خَوْفٍ وَلا سَفَرٍ ". قَالَ مَالِكٌ : أَرَى ذَلِكَ فِي مَطَرٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ ادا کی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ساتھ ادا کی تھیں اور یہ کسی خوف کے بغیر اور سفر کے علاوہ تھا۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرا یہ خیال ہے، یہ بارش کے موسم میں ہوا ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1596]

1597

Sahih Ibn Hibban #1597

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِالْمَدِينَةِ سَبْعًا وَثَمَانِيًا الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ ، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں سات اور آٹھ رکعات یعنی ظہر اور عصر کی نمازیں (ایک ساتھ) اور مغرب و عشاء کی نمازیں ایک ساتھ ادا کی ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1597]

1598

Sahih Ibn Hibban #1598

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،أَيُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ أَوَّلُ ؟ فَقَالَ : الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ ثُمَّ الْمَسْجِدُ الأَقْصَى " ، قَالَ : قُلْتُ : كَمْ كَانَ بَيْنَهُمَا ؟ قَالَ : " كَانَ بَيْنَهُمَا أَرْبَعُونَ سَنَةً ، وَحَيْثُ مَا أَدْرَكَتْكَ الصَّلاةُ فَصَلِّ ، فَثَمَّ مَسْجِدٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کون سی مسجد سب سے پہلے بنائی گئی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مسجدِ حرام، پھر مسجدِ اقصیٰ۔“ راوی بیان کرتے ہیں، میں نے دریافت کیا: ان دونوں کے درمیان کتنا عرصہ تھا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دونوں کے درمیان چالیس برس کا عرصہ تھا، ویسے تمہیں جہاں بھی نماز کا وقت ہو جائے تم نماز ادا کر لو، وہی (جگہ) مسجد ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1598]

1599

Sahih Ibn Hibban #1599

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيُّ ، بِالْبَصْرَةِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَجُلا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّ الْبِقَاعِ شَرٌّ ؟ قَالَ : لا أَدْرِي حَتَّى أَسْأَلَ جِبْرِيلَ " ، فَسَأَلَ جِبْرِيلَ ، فَقَالَ : " لا أَدْرِي حَتَّى أَسْأَلَ مِيكَائِيلَ " ، فَجَاءَ ، فَقَالَ :" خَيْرُ الْبِقَاعِ الْمَسَاجِدُ ، وَشَرُّهَا الأَسْوَاقُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: زمین کا کون سا حصہ برا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے نہیں معلوم، میں اس بارے میں جبرائیل سے دریافت کرتا ہوں۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جبرائیل علیہ السلام سے دریافت کیا، تو انہوں نے بتایا: مجھے نہیں معلوم، میں اس بارے میں سیدنا میکائیل سے دریافت کرتا ہوں؛ پھر وہ آئے اور انہوں نے بتایا: ”زمین کا سب سے بہتر حصہ مساجد ہیں اور سب سے برا حصہ بازار ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1599]

1600

Sahih Ibn Hibban #1600

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْهَيْثَمِ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ ، مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَحَبُّ الْبِلادِ إِلَى اللَّهِ مَسَاجِدُهَا ، وَأَبْغَضُ الْبِلادِ إِلَى اللَّهِ أَسْوَاقُهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ جگہ مساجد ہیں اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ جگہ بازار ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1600]

1601

Sahih Ibn Hibban #1601

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنِي عَمِّي ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَخْبَرَ أَنَّ الْمَسْجِدَ كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَبْنِيًّا مِنْ لَبِنٍ ، وَسَقْفُهُ الْجَرِيدُ ، وَعُمُدُهُ خَشَبُ النَّخْلِ ، فَلَمْ يَزِدْ فِيهِ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَزَادَ فِيهِ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَبَنَاهُ عَلَى بُنْيَانِهِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِاللَّبِنِ ، وَالْجَرِيدِ ، وَأَعَادَ عُمُدَهُ خَشَبًا ، ثُمَّ غَيَّرَهُ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَزَادَ فِيهِ زِيَادَةً كَبِيرَةً ، وَبَنَى جِدَارَهُ بِالْحِجَارَةِ الِمَنْقُوشَةِ ، وَجَعَلَ عُمُدَهُ مِنْ حِجَارَةٍ مَنْقُوشَةٍ ، وَسَقَّفَهُ بِالسَّاجِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں مسجد کچی اینٹوں سے بنائی گئی تھی اور اس کی چھت پر کھجور کی شاخیں رکھی گئی تھیں، اس کے ستون کھجور کے درخت کے تھے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس میں کوئی اضافہ نہیں کیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس میں توسیع کی، انہوں نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کی بنیادوں کے مطابق دوبارہ کچی اینٹوں اور شاخوں کے ذریعے تعمیر کیا، انہوں نے دوبارہ اس کے ستون لکڑی کے بنائے، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس میں تبدیلی کی اور اس میں انہوں نے بہت زیادہ توسیع کی، انہوں نے اس کی دیواریں منقش پتھروں سے بنوائیں اور اس کے ستون منقش پتھروں سے بنوائے اور اس کی چھت ساج کی لکڑی سے بنوائی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1601]

1602

Sahih Ibn Hibban #1602

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُلازِمُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : خَرَجْنَا سِتَّةُ وَفْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسَةٌ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ ، وَالسَّادِسُ رَجُلٌ مِنْ ضُبَيْعَةَ بْنِ رَبِيعَةَ ، حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَايَعْنَاهُ ، وَصَلَّيْنَا مَعَهُ ، وَأَخْبَرْنَاهُ أَنَّ بِأَرْضِنَا بِيعَةً لَنَا ، وَاسْتَوْهَبْنَاهُ مِنْ فَضْلِ طَهُورِهِ ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهُ ، وَتَمَضْمَضَ ثُمَّ صَبَّهُ لَنَا فِي إِدَاوَةٍ ، ثُمَّ قَالَ : اذْهَبُوا بِهَذَا الْمَاءِ ، فَإِذَا قَدِمْتُمْ بَلَدَكُمْ فَاكْسِرُوا بِيعَتَكُمْ ، ثُمَّ انْضَحُوا مَكَانَهَا مِنْ هَذَا الْمَاءِ ، وَاتَّخِذُوا مَكَانَهَا مَسْجِدًا " ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْبَلَدُ بَعِيدٌ ، وَالْمَاءُ يَنْشَفُ ، قَالَ : " فَأَمِدُّوهُ مِنَ الْمَاءِ ، فَإِنَّهُ لا يَزِيدُهُ إِلا طِيبًا "، فَخَرَجْنَا فَتَشَاحَحْنَا عَلَى حَمْلِ الإِدَاوَةِ ، أَيُّنَا يَحْمِلُهَا ، فَجَعَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ ، لِكُلِّ رَجُلٍ مِنَّا يَوْمًا وَلَيْلَةً ، فَخَرَجْنَا بِهَا حَتَّى قَدِمْنَا بَلَدَنَا ، فَعَمِلْنَا الَّذِي أَمَرَنَا ، وَرَاهِبُ ذَلِكَ الْقَوْمِ رَجُلٌ مِنْ طَيِّئٍ فَنَادَيْنَاهُ بِالصَّلاةِ فَقَالَ الرَّاهِبُ : دَعْوَةُ حَقٍّ ثُمَّ هَرَبَ فَلَمْ يُرَ بَعْدُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قیس بن طلق اپنے والد رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ہم چھ آدمی وفد کی شکل میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، پانچ کا تعلق بنو حنیفہ سے تھا اور چھٹا شخص ضبیعہ بن ربیعہ قبیلے سے تعلق رکھتا تھا۔ جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہم نے آپ کے دستِ اقدس پر اسلام قبول کر لیا۔ ہم نے آپ کی اقتدا میں نماز ادا کی۔ ہم نے آپ کو بتایا کہ ہمارے علاقے میں ایک گرجا گھر ہے۔ ہم نے آپ سے آپ کے وضو کے بچے ہوئے پانی کو عنایت کرنے کی درخواست کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا اور اس سے وضو کیا، آپ نے کلی کی، پھر آپ نے ہمارے لیے ایک برتن میں پانی انڈیل دیا، پھر آپ نے ارشاد فرمایا: ”اس پانی کو لے جاؤ، جب تم اپنے علاقے میں پہنچو تو اس گرجے کو توڑ دینا اور اس کی جگہ اس پانی کو چھڑک دینا اور اس کی جگہ مسجد بنا لینا۔“ ہم نے عرض کی: ہمارا علاقہ بہت دور ہے، یہ پانی خشک ہو جائے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس میں اور پانی ملاتے رہنا، کیونکہ اس نتیجے میں اس کی پاکیزگی میں اضافہ ہی ہو گا۔“ راوی کہتے ہیں: ہم روانہ ہوئے، ہم نے اس بارے میں اختلاف کیا کہ پانی کا وہ برتن کون اٹھائے گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں سے ہر ایک شخص کے لیے ایک دن اور ایک رات کی باری مقرر کر دی۔ ہم اسے ساتھ لے کر روانہ ہوئے یہاں تک کہ ہم اپنے علاقے میں آئے، پھر ہم نے وہ کام کیا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تھا، اس قوم کا راہب طی قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص تھا، جب ہم نے نماز کے لیے اذان دی تو اس راہب نے کہا: یہ حق کی دعوت ہے، پھر وہ بھاگ گیا، اس کے بعد وہ کبھی نظر نہیں آیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1602]

1603

Sahih Ibn Hibban #1603

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، بِبُسْتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : لَمْا بُنِيَتِ الْكَعْبَةُ ، ذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْعَبَّاسُ يَنْقُلانِ الْحِجَارَةَ ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ضَعْ إِزَارَكَ عَلَى عَاتِقِكَ مِنَ الْحِجَارَةِ ، قَالَ : فَفَعَلَ ، فَخَرَّ إِلَى الأَرْضِ ، وَطَمَحَتْ عَيْنَاهُ إِلَى السَّمَاءِ ، ثُمَّ قَامَ ، فَقَالَ : إِزَارِي إِزَارِي ، فَشَدَّ عَلَيْهِ إِزَارَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرو بن دینار بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ جب خانہ کعبہ کی تعمیر کی گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ پتھر منتقل کر رہے تھے۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ اپنا تہبند اپنے کندھے پر رکھ لیں تاکہ پتھر سے بچاؤ ہو جائے۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر گر گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں آسمان کی طرف چڑھ گئیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا تہبند، میرا تہبند۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا تہبند باندھ لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1603]

1604

Sahih Ibn Hibban #1604

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : اخْتَلَفَ رَجُلانِ فِيالْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا : هُوَ مَسْجِدُ الْمَدِينَةِ ، وَقَالَ الآخَرُ : هُوَ مَسْجِدُ قُبَاءَ ، فَأَتَوَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : هُوَ مَسْجِدِي هَذَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دو آدمیوں کے درمیان اس مسجد کے بارے میں اختلاف ہو گیا جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے ﴿لَمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَىٰ﴾ [سورة التوبة: 108] ، ان میں سے ایک کا کہنا تھا اس سے مراد مدینہ منورہ کی مسجد (یعنی مسجد نبوی) ہے، دوسرے کا کہنا تھا اس سے مراد مسجدِ قبا ہے، وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس سے مراد میری یہ مسجد ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1604]

1605

Sahih Ibn Hibban #1605

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : اخْتَلَفَ رَجُلانِ فِيالْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا : هُوَ مَسْجِدُ الْمَدِينَةِ ، وَقَالَ الآخَرُ : هُوَ مَسْجِدُ قُبَاءَ ، فَأَتَوَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : هُوَ مَسْجِدِي هَذَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دو آدمیوں کے درمیان اس مسجد کے بارے میں اختلاف ہو گیا ﴿جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے﴾ [سورة التوبة: 108] ، ان میں سے ایک کا یہ کہنا تھا کہ (اس سے مراد) مدینہ منورہ کی مسجد (یعنی مسجد نبوی) ہے، اور دوسرے کا یہ کہنا تھا کہ مسجدِ قبا ہے، وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس سے مراد میری یہ مسجد ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1605]

1606

Sahih Ibn Hibban #1606

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : تَمَارَى رَجُلانِ فِيالْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى ، فَقَالَ رَجُلٌ : هُوَ مَسْجِدُ قُبَاءَ ، وَقَالَ آخِرُ : هُوَ مَسْجِدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هُوَ مَسْجِدِي هَذَا ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : الطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دو آدمیوں کے درمیان اس مسجد کے بارے میں بحث ہو گئی ﴿جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے﴾ [سورة التوبة: 108] ، ایک شخص نے یہ کہا کہ اس سے مراد مسجدِ قبا ہے، دوسرے شخص نے کہا کہ اس سے مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس سے مراد میری یہ مسجد ہے۔“ (امام ابوحاتم فرماتے ہیں:) اس کے دونوں طرق محفوظ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1606]

1607

Sahih Ibn Hibban #1607

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا يُوَطِّنُ الرَّجُلُ الْمَسْجِدَ لِلصَّلاةِ ، أَوْ لِذِكْرِ اللَّهِ ، إِلا تَبَشْبَشَ اللَّهُ بِهِ ، كَمَا يَتَبَشْبَشُ أَهْلُ الْغَائِبِ ، إِذَا قَدِمَ عَلَيْهِمْ غَائِبُهُمْ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الْعَرَبُ إِذَا أَرَادَتْ وَصْفَ شَيْئَيْنِ مُتَبَايِنَيْنِ عَلَى سَبِيلِ التَّشْبِيهِ أَطَلَقَتْهُمَا مَعًا بِلَفْظِ أَحَدِهِمَا ، وَإِنْ كَانَ مَعْنَاهُمَا فِي الْحَقِيقَةِ غَيْرَ سِيَّيْنِ كَمَا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ " كَانَ طَعَامُنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الأَسْوَدَانِ : التَّمْرُ وَالَمْاءُ " . فَأَطْلَقَهُمَا جَمِيعًا بِلَفْظِ أَحَدِهِمَا عِنْدَ التَّثْنِيَةِ ، وَهَذَا كَمَا قِيلَ : عَدْلُ الْعُمَرَيْنِ ، فَأُطْلِقَا مَعًا بِلَفْظِ أَحَدِهِمَا ، فَتَبَشْبَشَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا لِعَبْدِهِ الْمَوْطِنَ الْمَكَانَ فِي الْمَسْجِدِ لِلصَّلاةِ وَالْخَيْرِ ، إِنَّمَا هُوَ نَظَرَهُ إِلَيْهِ بِالرَّأْفَةِ وَالرَّحْمَةِ وَالْمَحَبَّةِ لِذَلِكَ الْفِعْلِ مِنْهُ وَهَذَا كَقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَحْكِي عَنِ اللَّهِ تَعَالَى : " مَنْ تَقَرَّبَ مِنِّي شِبْرًا ، تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا " ، يُرِيدُ بِهِ : مَنْ تَقَرَّبَ مِنِّي شِبْرًا بِالطَّاعَةِ وَوَسَائِلِ الْخَيْرِ ، تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا بِالرَّأْفَةِ وَالرَّحْمَةِ ، وَلِهَذَا نَظَائِرُ كَثِيرَةٌ سَنَذْكُرُهَا فِي مَوْضِعَهَا مِنْ هَذَا الْكِتَابِ إِنْ يَسَّرَ اللَّهُ ذَلِكَ وَسَهَّلَهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص نماز ادا کرنے کے لیے یا اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کے لیے مسجد کو وطن بنا لیتا ہے (یعنی وہاں ٹھہرا رہتا ہے) تو اللہ تعالیٰ اس شخص پر اتنا خوش ہوتا ہے جتنا خوش کسی غائب شخص کے واپس آنے پر اس کے اہل خانہ ہوتے ہیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عرب جب ایک دوسرے سے مختلف چیزوں کی تشبیہ کے طور پر صفت بیان کرنے کا ارادہ کرتے ہیں، تو ان دونوں میں سے کسی ایک کے لفظ کے ہمراہ ان دونوں کو استعمال کر لیتے ہیں اگرچہ حقیقت کے اعتبار سے ان دونوں کا معنی ایک دوسرے سے مختلف ہو جیسا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ کہا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہماری خوراک دو سیاہ چیزیں ہوتی تھیں: کھجور اور پانی، تو یہاں انہوں نے ان دونوں کے لیے ان دونوں میں سے ایک لفظ استعمال کیا ہے، جبکہ وہ دو چیزیں ہیں اور یہ اسی طرح ہوگا، جس طرح یہ دو عمروں کے برابر ہے، تو یہاں ان دونوں میں سے ایک کے لفظ کے ذریعے ان دونوں کو استعمال کیا گیا ہے، تو آدمی کا نماز اور بھلائی کے لیے مسجد میں اپنی جگہ کو مقرر کر لینے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا بندے سے خوش ہونا، اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مہربانی، رحمت اور محبت کے ذریعے اس کی طرف نظر کرتا ہے، جو اس کے فعل کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اس کی مثال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے مانند ہے، جو آپ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان کے طور پر نقل کیا ہے: ”جو شخص ایک بالشت میرے قریب ہوتا ہے میں ایک ذراع اس کے قریب ہوتا ہوں۔“ اس سے مراد یہ ہے کہ جو شخص ایک بالشت اطاعت اور بھلائی کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا ہے، تو میں مہربانی اور رحمت کے ہمراہ ایک ذراع اس کے قریب ہوتا ہوں، اس کی مثالیں بہت زیادہ ہیں جنہیں ہم عنقریب اس کے مخصوص مقام سے متعلق باب میں نقل کریں گے، اگر اللہ تعالیٰ نے اس کو آسان کیا اور اسے سہل فرمایا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1607]

1608

Sahih Ibn Hibban #1608

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي الْوَلِيدِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَنَّهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ بَنَى مَسْجِدًا يَذْكُرُ فِيهِ اسْمَ اللَّهِ ، بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص مسجد تعمیر کرتا ہے، جس میں اللہ کا نام ذکر کیا جائے، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنا دیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1608]

1609

Sahih Ibn Hibban #1609

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمْ الْمَقْدِسِيُّ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بُكَيْرًا ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ اللَّهِ الْخَوْلانِيَّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَنْ بَنَى مَسْجِدًا ، بَنَى اللَّهُ لَهُ مِثْلَهُ فِي الْجَنَّةِ ". قَالَ بُكَيْرٌ : حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ : يَبْتَغِي بِهِ وَجْهَ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص مسجد بناتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس (مسجد) کی مانند جنت میں گھر بنا دیتا ہے۔“ بکیر نامی راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: ”اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے (مسجد بناتا ہے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1609]

1610

Sahih Ibn Hibban #1610

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا قُطْبَةُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا وَلَوْ كَمَفْحَصِ قَطَاةٍ ، بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے مسجد بناتا ہے، اگرچہ وہ «قَطَاةٍ» ”قطاۃ“ کے گھونسلے جتنی ہو، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنا دیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1610]

1611

Sahih Ibn Hibban #1611

أَخْبَرَنَا الْخَلِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَزَّارُ ابْنُ ابْنَةِ تَمِيمِ بْنِ الْمُنْتَصِرِ ، بِوَاسِطَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ النَّشَائِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ أَخِيهِ يَعْلَى بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا وَلَوْ كَمَفْحَصِ قَطَاةٍ ، بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے مسجد بناتا ہے، اگرچہ وہ «قَطَاة» کے گھونسلے جتنی ہو، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنا دیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1611]

1612

Sahih Ibn Hibban #1612

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الأَنْصَارِيِّ ، أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ كَانَ يَؤُمُّ قَوْمَهُ وَهُوَ أَعْمَى ، وَأَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّهَا تَكُونُ الظُّلَمْةُ وَالْمَطَرُ وَالسَّيْلُ ، وَأَنَا رَجُلٌ ضَرِيرُ الْبَصَرِ ، فَصَلِّ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي بَيْتِي مَكَانًا أَتَّخِذُهُ مُصَلًّى ، قَالَ : فَجَاءَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ ؟ " فَأَشَارَ لَهُ إِلَى الْمَكَانِ مِنَ الْبَيْتِ ، فَصَلَّى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا محمود بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ اپنی قوم کی امامت کیا کرتے تھے، وہ نابینا تھے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: بعض اوقات تاریکی زیادہ ہوتی ہے یا بارش ہوئی ہوتی ہے یا راستے میں پانی آ جاتا ہے، تو میں ایک نابینا شخص ہوں۔ یا رسول اللہ! آپ میرے گھر میں کسی جگہ نماز ادا کر لیجئے میں اس جگہ کو جائے نماز بنا لوں گا۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کون سی جگہ کے بارے میں تم یہ چاہتے ہو کہ میں وہاں نماز ادا کروں؟“ تو انہوں نے اپنے گھر کے ایک حصے کی طرف اشارہ کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں نماز ادا کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1612]

1613

Sahih Ibn Hibban #1613

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمْةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْيَتَبَاهَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ ”لوگ ایک دوسرے کے مقابلے میں فخر کا اظہار کرنے کے لیے مساجد بنائیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1613]

1614

Sahih Ibn Hibban #1614

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمْةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَبَاهَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک لوگ مساجد کی تعمیر کے حوالے سے ایک دوسرے کے مقابلے میں فخر نہیں کریں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1614]

1615

Sahih Ibn Hibban #1615

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفِيانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ سُفِيانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ أَبِي فَزَارَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا أُمِرْتُ بِتَشْيِيدِ الْمَسَاجِدِ "، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَتُزَخْرِفُنَّهَا كَمَا زَخَرَفْتَهَا الْيَهُودُ ، وَالنَّصَارَى ، أَبُو فَزَارَةَ رَاشِدُ بْنُ كَيْسَانَ مِنْ ثِقَاتِ الْكُوفِيينَ وَأَثْبَاتِهِمْ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”مجھے مساجد کو آراستہ کرنے کا حکم نہیں دیا گیا ہے۔“ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”تم لوگ ان مساجد کو اسی طرح آراستہ کرو گے جس طرح یہودیوں اور عیسائیوں نے (اپنی عبادت گاہوں کو) آراستہ کیا۔“ ابوفزارہ نامی راوی راشد بن کیسان ہے، اور یہ کوفہ سے تعلق رکھنے والے ”ثقہ“ اور ثبت راویوں میں سے ایک ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1615]

1616

Sahih Ibn Hibban #1616

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّخَيْرَ مَا رُكِبَتْ إِلَيْهِ الرَّوَاحِلُ مَسْجِدِي هَذَا ، وَالْبَيْتُ الْعَتِيقُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بیشک جن چیزوں کی طرف سوار ہو کر سفر کیا جاتا ہے ان میں سب سے بہتر میری یہ مسجد (یعنی مسجد نبوی) ہے اور بیتِ عتیق (یعنی مسجد حرام) ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1616]

1617

Sahih Ibn Hibban #1617

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفِيانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَزَعَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلا إِلَى ثَلاثَةِ مَسَاجِدَ : الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ ، وَالْمَسْجِدُ الأَقْصَى ، وَمَسْجِدِي هَذَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”صرف تین مساجد کی طرف سفر کیا جائے: مسجدِ حرام، مسجدِ اقصیٰ اور میری یہ مسجد۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1617]

1618

Sahih Ibn Hibban #1618

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْتِي قُبَاءَ رَاكِبًا ، وَمَاشِيًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو کر اور پیدل قبا آیا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1618]

1619

Sahih Ibn Hibban #1619

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلا إِلَى ثَلاثَةِ مَسَاجِدَ ، مَسْجِدِ الْحَرَامِ ، وَمَسْجِدِي هَذَا ، وَالْمَسْجِدِ الأَقْصَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”صرف تین مساجد کی طرف سفر کیا جائے: مسجد حرام، میری یہ مسجد اور مسجد اقصیٰ۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1619]