Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 14 · Chapter 2

The Book of Zakat

Hadith 1506–1545

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

1506

Sahih Ibn Hibban #1506

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلاةِ ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فِيحِ جَهَنَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب گرمی شدید ہو، تو نماز کو ٹھنڈے وقت میں ادا کرو، کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا حصہ ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1506]

1507

Sahih Ibn Hibban #1507

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وأبي سلمة ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلاةِ ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فِيحِ جَهَنَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب گرمی شدید ہو، تو نماز کو ٹھنڈے وقت میں ادا کرو، کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا حصہ ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1507]

1508

Sahih Ibn Hibban #1508

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ بَيَانَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِالْهَاجِرَةِ ، فَقَالَ : أَبْرِدُوا بِالصَّلاةِ ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فِيحِ جَهَنَّمَ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : تَفَرَّدَ بِهِ إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ دوپہر کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: ”نماز کو ٹھنڈے وقت میں ادا کرو، کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا حصہ ہے“۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت کو نقل کرنے میں اسحاق ازرق نامی راوی منفرد ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1508]

1509

Sahih Ibn Hibban #1509

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو الْحَسَنِ ، قَالَ : سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ ، يَقُولُ : إِنَّهُ سَمِعَ أَبَا ذَرٍّ ، يَقُولُ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَأَرَادَ الْمُؤَذِّنُ أَنْ يُؤَذِّنَ بِالظُّهْرِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَبْرِدْ " ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُؤَذِّنَ ، فَقَالَ لَهُ : " أَبْرِدْ " مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاثًا ، حَتَّى رَأَيْنَا فِيءَ التُّلُولِ ، وَقَالَ : " إِنَّشِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فِيحِ جَهَنَّمَ ، فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلاةِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَبُو الْحَسَنِ عُبَيْدُ بْنُ الْحَسَنِ مُهَاجِرٌ كُوفِي"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زید بن وہب بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر کر رہے تھے۔ مؤذن نے ظہر کی نماز کے لیے اذان دینے کا ارادہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”ٹھنڈک ہو لینے دو۔“ پھر اس نے اذان دینے کا ارادہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”ٹھنڈک ہو لینے دو۔“ ایسا دو مرتبہ یا شاید تین مرتبہ ہوا یہاں تک کہ جب ہم نے ٹیلوں کے سائے دیکھ لیے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا حصہ ہے، تو جب گرمی شدید ہو، تو تم (ظہر کی) نماز ٹھنڈے وقت میں ادا کرو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوالحسن عبید بن حسن مہاجر کوفی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1509]

1510

Sahih Ibn Hibban #1510

وَذُكِرَ : أَنَّالنَّارَ اشْتَكَتْ إِلَى رَبِهَا ، فَأَذِنَ لَهَا بِنَفَسَيْنِ : نَفْسٍ فِي الشِّتَاءِ ، وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب گرمی ہو، تو تم (ظہر کی) نماز کو ٹھنڈے وقت میں ادا کرو، کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا حصہ ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ذکر کی کہ جہنم نے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں شکایت کی، تو اس کے پروردگار نے اسے دو مرتبہ سانس لینے کی اجازت دی: ”ایک سانس گرمی کے موسم میں ہوتی ہے، اور ایک سانس سردی کے موسم میں ہوتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1510]

1511

Sahih Ibn Hibban #1511

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ الْحَارِثِ الْمُحَارِبِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمْةَ بْنِ الأَكْوَعِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنَّانُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلَيْسَ لِلْحِيطَانِ فِيءٌ يُسْتَظَلُّ بِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں جمعہ کی نماز ادا کرتے تھے جبکہ دیواروں کا سایہ نہیں ہوتا تھا کہ اس کے سائے میں آیا جا سکے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1511]

1512

Sahih Ibn Hibban #1512

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ الْحَارِثِ الْمُحَارِبِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ إِيَاسَ بْنَ سَلَمْةَ بْنِ الأَكْوَعِ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنَّانُجَمِّعُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ نَرْجِعُ نَتَتَبَّعُ الْفِيءَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایاس بن سلمہ بن اکوع اپنے والد (سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں سورج ڈھل جانے کے بعد جمعہ کی نماز ادا کرتے تھے اور پھر واپس آتے ہوئے سایہ ڈھونڈا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1512]

1513

Sahih Ibn Hibban #1513

أَخْبَرَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْجَنَدِيُّ بِمَكَّةَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ كُنَّانُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ ، ثُمَّ نَرْجِعُ فَنُرِيحُ نَوَاضِحَنَا فَقُلْتُ : أَيَّةُ سَاعَةٍ تِلْكَ ؟ قَالَ : زَوَالُ الشَّمْسِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے والد (امام محمد باقر رحمہ اللہ) کے حوالے سے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں جمعہ کی نماز ادا کرتے تھے، پھر ہم واپس آ کر اپنے پانی لانے والے اونٹوں کو آرام کرواتے تھے۔ (امام باقر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں) میں نے دریافت کیا: یہ کون سی گھڑی ہوتی تھی؟ تو انہوں نے بتایا: سورج ڈھلنے کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1513]

1514

Sahih Ibn Hibban #1514

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلالٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلالٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ ، عَنْ خَلادِ بْنِ خَلادٍ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : صَلَّيْنَا مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَوْمًا ، ثُمَّ دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، فَوَجَدْنَاهُ قَائِمًايُصَلِّي ، فَلَمْا انْصَرَفَ قُلْنَا : يَا أَبَا حَمْزَةَ ، أَيُّ صَلاةٍ صَلَّيْتَ ؟ قَالَ : الْعَصْرَ، فَقُلْنَا : إِنَّمَا انْصَرَفْنَا الآنَ مِنَ الظُّهْرِ ، صَلَّيْنَاهَا مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، فَقَالَ أَنَسٌ : إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي هَكَذَا ، فَلا أَتْرُكُهَا أَبَدًا "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

خلاد بن خلاد انصاری بیان کرتے ہیں کہ ہم نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی اقتدا میں ایک دن نماز ادا کی، پھر ہم سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہم نے انہیں کھڑے ہو کر نماز ادا کرتے ہوئے پایا، جب انہوں نے نماز مکمل کر لی تو ہم نے دریافت کیا: اے ابوحمزہ! یہ آپ نے کون سی نماز ادا کی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ”عصر کی۔“ ہم نے کہا: ہم تو ابھی ظہر کی نماز پڑھ کر آ رہے ہیں جو ہم نے عمر بن عبدالعزیز کی اقتدا میں ادا کی ہے، تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بتایا: ”میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے، وہ اس نماز کو اسی (وقت میں) طرح ادا کرتے تھے، میں تو اسے کبھی ترک نہیں کروں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1514]

1515

Sahih Ibn Hibban #1515

وَكُنَّانُصَلِّي الْمَغْرِبَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِينْصَرِفُ أَحَدُنَا وَإِنَّهُ لَيَنْظُرُ إِلَى مَوْقِعِ نَبْلِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں عصر کی نماز ادا کر لیتے تھے، پھر اس کے بعد اونٹ کو قربان کیا جاتا اور اسے دس حصوں میں تقسیم کیا جاتا اور پھر پکا دیا جاتا تھا، تو ہم سورج غروب ہونے سے پہلے وہ پکا ہوا گوشت کھا لیتے تھے اور ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں مغرب کی نماز ادا کرتے تھے اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد کوئی شخص اپنے تیر کے گرنے کی جگہ کو دیکھ سکتا تھا (یعنی اس وقت اتنی روشنی ہوتی تھی)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1515]

1516

Sahih Ibn Hibban #1516

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمْ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ مُوسَى بْنِ سَعْدٍ الأَنْصَارِيَّ ، حَدَّثَهُ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ ، فَلَمْا انْصَرَفَ أَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلَمْةَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّانُرِيدُ أَنْ نَنْحَرَ جَزُورًا لَنَا ، وَنَحْنُ نُحِبُّ أَنْ تَحْضُرَهُ ، قَالَ : نَعَمْ ، فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْنَا مَعَهُ ، فَوَجَدْنَا الْجَزُورَ لَمْ يُنْحَرْ ، فَنُحِرَتْ ، ثُمَّ قُطِعَتْ ، ثُمَّ طُبِخَ مِنْهَا ، ثُمَّ أَكَلْنَا قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو بنو سلمہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم اپنے اونٹ کو قربان کرنا چاہتے ہیں، ہم یہ چاہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہاں تشریف لائیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم بھی روانہ ہو گئے، تو ہم نے وہاں یہ صورت حال پائی کہ اونٹ ابھی قربان نہیں ہوا تھا، پھر اسے قربان کیا گیا، پھر اس کا گوشت کاٹا گیا، پھر اسے پکایا گیا اور سورج غروب ہونے سے پہلے ہم نے اسے کھا بھی لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1516]

1517

Sahih Ibn Hibban #1517

قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَدْ رَوَى عَمْرُو بْنُ يَحْيَى الْمَازِنِيُّ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ خَلادٍ ، رَجُلٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ قَالَ : صَلَّيْتُ الظُّهْرَ مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، فَوَجَدْتُهُيُصَلِّي الْعَصْرَ ، فَلَمْا انْصَرَفَ ، قُلْتُ : أَيُّ صَلاةٍ صَلَّيْتَ ؟ قَالَ : الْعَصْرَ، فَقُلْتُ : إِنَّمَا انْصَرَفْنَا الآنَ مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ مِنَ الظُّهْرِ ، قَالَ " إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي هَكَذَا فَلا أَتْرُكُهَا أَبَدًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی اقتدا میں ظہر کی نماز ادا کی، پھر ہم وہاں سے نکلے اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو ہم نے انہیں عصر کی نماز ادا کرتے ہوئے پایا، میں نے کہا: اے چچا! یہ کون سی نماز ہے، جو آپ نے ادا کی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ”یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ہے، وہ نماز جو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں ادا کیا کرتے تھے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عمرو بن یحییٰ مازنی نے خالد بن خلاد کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے جس کا تعلق بنو نجار سے ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی اقتدا میں ظہر کی نماز ادا کی، پھر میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے انہیں عصر کی نماز ادا کرتے ہوئے پایا۔ انہوں نے نماز مکمل کی تو میں نے کہا: کہ آپ نے کون سی نماز ادا کی ہے؟ تو انہوں نے کہا: کہ عصر کی۔ میں نے کہا: ہم تو ابھی عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی اقتدا میں ظہر کی نماز ادا کر کے آ رہے ہیں، تو انہوں نے کہا: ”میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح یہ نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے، تو میں اسے کبھی ترک نہیں کروں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1517]

1518

Sahih Ibn Hibban #1518

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ حَيَّةٌ ، ثُمَّ يَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي فِيأْتِيهَا وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز ادا کر لیتے تھے جبکہ سورج ابھی روشن اور چمکدار ہوتا تھا، پھر اس کے بعد کوئی شخص نواحی علاقے میں چلا جاتا اور وہاں پہنچ جاتا تو سورج ابھی بلند ہوتا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1518]

1519

Sahih Ibn Hibban #1519

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ ، وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ حَيَّةٌ ، فِيذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي ، فِيأْتِي الْعَوَالِي وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز ادا کر لیتے تھے جبکہ سورج ابھی بلند اور چمک دار ہوتا تھا، پھر کوئی شخص ”عوالی“ کی طرف جاتا، وہ ”عوالی“ پہنچ جاتا اور سورج ابھی بھی بلند ہوتا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1519]

1520

Sahih Ibn Hibban #1520

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلَمْ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرِو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي صَلاةَ الْعَصْرِ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ حَيَّةٌ ، فِيذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي فِيأْتِي الْعَوَالِي وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز ادا کر لیتے تھے جبکہ سورج ابھی بلند اور چمکدار ہوتا تھا، پھر کوئی شخص ”عوالی“ کی طرف جاتا تو وہ ”عوالی“ پہنچ جاتا تھا اور سورج ابھی بلند ہوتا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1520]

1521

Sahih Ibn Hibban #1521

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا ، لَمْ يَظْهَرِ الْفِيءُ فِي حُجْرَتِهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز ادا کر لیتے تھے جبکہ سورج (یعنی دھوپ) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں ہوتی تھی، اور ان کے حجرے میں سے سایہ بلند نہیں ہوا ہوتا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1521]

1522

Sahih Ibn Hibban #1522

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ حَيَّةٌ ، فِيذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي ، فِيأْتِي الْعَوَالِي وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز ادا کر لیتے تھے جبکہ سورج ابھی بلند اور چمک دار ہوتا تھا، پھر کوئی شخص عوالی جاتا اور وہ عوالی پہنچ جاتا تھا جبکہ سورج ابھی بلند ہی ہوتا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1522]

1523

Sahih Ibn Hibban #1523

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمْةَ بْنِ الأَكْوَعِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَتَوَارَتْ بِالْحِجَابِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز اس وقت ادا کرتے تھے جب سورج غروب ہو جاتا اور پردے کے پیچھے چھپ جاتا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1523]

1524

Sahih Ibn Hibban #1524

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ، كَانَ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى قَوْمِهِ فِيؤُمُّهُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں مغرب کی نماز ادا کرتے تھے، پھر وہ اپنی قوم کی طرف واپس جا کر ان لوگوں کی امامت کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1524]

1525

Sahih Ibn Hibban #1525

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ الْحَافِظُ ، بِتُسْتَرَ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ ، حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، فَسَأَلَهُ عَنْ وَقْتِ الصَّلاةِ ، فَقَالَ :صَلِّ مَعَنْا هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ ، فَلَمْا زَالَتِ الشَّمْسُ صَلَّى الظُّهْرَ ، قَالَ : وَصَلَّى الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَاءُ حَيَّةٌ ، وَصَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ ، وَصَلَّى الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ ، وَصَلَّى الْفَجْرَ بِغَلَسٍ ، قَالَ : فَلَمْا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَمَرَ بِلالا فَأَذَّنَ لِلظُّهْرِ ، فَأَنْعَمَ أَنْ يُبْرِدَ بِهَا ، وَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ ، أَخَّرَهَا فَوْقَ الَّذِي كَانَ أَوَّلَ مَرَّةٍ ، وَأَمَرَهُ فَأَقَامَ لِلَمْغْرِبِ قَبْلَ مَغِيبِ الشَّفَقِ ، وَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ بَعْدَمَا ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ ، وَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ بِهَا ، ثُمَّ قَالَ : أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلاةِ ؟ قَالَ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : وَقْتُ صَلاتِكُمْ بَيْنَ مَا رَأَيْتُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سلیمان بن بریدہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے وقت کے بارے میں دریافت کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم ہمارے ساتھ ان دو اوقات میں نماز ادا کرو۔“ پس جب سورج ڈھل گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز ادا کی۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز اس وقت ادا کی جبکہ سورج ابھی بلند، چمک دار اور روشن تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج غروب ہو جانے کے بعد مغرب کی نماز ادا کی، شفق غروب ہو جانے کے بعد عشاء کی نماز ادا کی اور فجر کی نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اندھیرے میں ادا کی۔ راوی بیان کرتے ہیں: اگلے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے ظہر کی نماز کی اقامت کہی اور (اسے) ٹھنڈے وقت میں ادا کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت عصر کے لیے اقامت اس وقت کہی جب سورج چمک دار تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نماز کو اس سے ذرا تاخیر سے ادا کیا تھا جس وقت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے گزشتہ روز ادا کیا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت مغرب کی نماز کے لیے اس وقت اقامت کہی جب شفق غروب ہونے والی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت انہوں نے عشاء کی نماز کے لیے اقامت ایک تہائی رات گزر جانے کے بعد کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت انہوں نے فجر کے لیے اقامت روشنی ہو جانے پر کہی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”نماز کے وقت کے بارے میں دریافت کرنے والا شخص کہاں ہے؟“ اس نے عرض کی: ”میں ہوں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری نمازوں کا وقت ان کے درمیان ہے، جو تم نے دیکھا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1525]

1526

Sahih Ibn Hibban #1526

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الِمَنْتَشِرِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : أَنَا أَعْلَمْ النَّاسِ بِوَقْتِ هَذِهِ الصَّلاةِ يَعْنِي الْعِشَاءَ ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّيهَا لِسُقُوطِ الْقَمَرِ لِثَالِثَةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اس نماز (راوی کہتے ہیں یعنی عشاء کی نماز) کے وقت کے بارے میں لوگوں سے زیادہ علم رکھتا ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کو اس وقت ادا کرتے تھے جب تیسری رات کا چاند غروب ہو جاتا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1526]

1527

Sahih Ibn Hibban #1527

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤَخِّرُ الْعِشَاءَ الآخِرَةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز تاخیر سے ادا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1527]

1528

Sahih Ibn Hibban #1528

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَسَنٍ ، قَالَ : سَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ صَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : كَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ ، وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ ، وَالْمَغْرِبَ حِينَ تَغِيبُ الشَّمْسُ ، وَالْعِشَاءَ رُبَّمَا عَجَّلَهَا وَرُبَّمَا أَخَّرَهَا ، وَكَانَ النَّاسُ إِذَا جَاءُوا عَجَّلَهَا ، وَإِذَا لَمْ يَجِيئُوا أَخَّرَهَا ، وَكَانُوا يُصَلُّونَ الصُّبْحَ بِغَلَسٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن عمرو بیان کرتے ہیں: ہم نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے بتایا: آپ ظہر کی نماز سورج ڈھل جانے کے بعد ادا کرتے تھے اور عصر کی نماز اس وقت ادا کرتے تھے جب سورج ابھی روشن ہوتا تھا اور مغرب کی نماز اس وقت ادا کرتے تھے جب سورج غروب ہو جاتا تھا اور عشاء کی نماز کو آپ بعض اوقات جلدی ادا کر لیتے تھے اور بعض اوقات تاخیر سے ادا کرتے تھے، جب لوگ پہلے آ جاتے تھے، تو آپ اسے جلدی ادا کر لیتے تھے اور جب لوگ (پہلے) نہیں آتے تھے، تو آپ اسے تاخیر سے ادا کرتے تھے، جبکہ آپ صبح کی نماز اندھیرے میں ادا کیا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1528]

1529

Sahih Ibn Hibban #1529

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَصْحَابِهِ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَهُمْ يَنْتَظِرُونَ الْعِشَاءَ ، فَقَالَ : صَلَّى النَّاسُ وَرَقَدُوا وَأَنْتُمْ تَنْتَظِرُونَهَا ، أَمَا إِنَّكُمْ فِي صَلاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُوهَا " ، ثُمَّ قَالَ : " لَوْلا ضَعْفُ الضَّعِيفِ ، أَوْ كِبَرُ الْكَبِيرِ لأَخَّرْتُ هَذِهِ الصَّلاةَ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے پاس تشریف لائے، وہ لوگ اس وقت عشاء کا انتظار کر رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں نے نماز ادا کر بھی لی ہے اور وہ سو بھی گئے ہیں اور تم لوگ اس کا انتظار کر رہے ہو، تم جب سے اس کا انتظار کر رہے ہو، اس وقت سے نماز کی حالت میں شمار ہو گے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر کمزور شخص کی کمزوری (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) عمر رسیدہ شخص کی عمر کا خیال نہ ہوتا، تو میں اس نماز کو نصف رات تک مؤخر کرتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1529]

1530

Sahih Ibn Hibban #1530

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : أَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الْعِشَاءِ ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ وَالنَّاسُ يَنْتَظِرُونَ الصَّلاةَ ، فَقَالَ : أَمَا إِنَّهُلَيْسَ مِنْ أَهْلِ الأَدْيَانِ أَحَدٌ يَذْكُرُ اللَّهَ هَذِهِ السَّاعَةَ غَيْرُكُمْ " ، ثُمَّ نَزَلَتْ عَلَيْهِ : لَيْسُوا سَوَاءً مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ ، أُمَّةٌ قَائِمَةٌ يَتْلُونَ آيَاتِ اللَّهِ إِلَى يَسْجُدُونَ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز ادا کرنے میں تاخیر کر دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کی طرف تشریف لائے، لوگ نماز کا انتظار کر رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس وقت تمہارے علاوہ کسی بھی دین کا ماننے والا کوئی بھی شخص اللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں کر رہا۔“ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿لَيْسُوا سَوَاءً ۗ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ أُمَّةٌ قَائِمَةٌ يَتْلُونَ آيَاتِ اللَّهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَهُمْ يَسْجُدُونَ﴾ ”وہ لوگ برابر نہیں ہیں۔ اہل کتاب سے تعلق رکھنے والی ایک امت ایسی ہے جو قیام کی حالت میں اللہ کی آیات کی تلاوت کرتے ہیں“ [سورة آل عمران: 113] یہ آیت یہاں تک ”وہ سجدہ کرتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1530]

1531

Sahih Ibn Hibban #1531

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَوْلا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي ، لأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ مَعَ الْوُضُوءِ ، وَلأَخَّرْتُ الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ أَوْ شَطْرِ اللَّيْلِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اگر مجھے اپنی امت کے مشقت میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا، تو میں انہیں وضو کے ہمراہ مسواک کرنے کا حکم دیتا اور میں عشاء کی نماز کو ایک تہائی رات تک (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) نصف رات تک مؤخر کرتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1531]

1532

Sahih Ibn Hibban #1532

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَطَاءٍ : أَيُّ حِينٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ أُصَلِّيَ الْعَتَمَةَ إِمَّا إِمَامًا أَوْ خِلْوًا ، فَقَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ : أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَتَمَةَ حِينَ رَقَدَ النَّاسُ ، وَاسْتَيْقَظُوا ، وَرَقَدُوا وَاسْتَيْقَظُوا ، فَقَالَ عُمَرُ : الصَّلاةَ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ الآنَ يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى رَأْسِهِ ، فَقَالَ : لَوْلا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي ، لأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُصَلُّوا هَكَذَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن جریج کہتے ہیں، میں نے عطا سے دریافت کیا: آپ کے نزدیک کون سا وقت زیادہ پسندیدہ ہے جس میں میں عشاء کی نماز ادا کروں، خواہ میں امام ہوں یا تنہا نماز ادا کر رہا ہوں؟ انہوں نے فرمایا: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز ادا کرنے میں تاخیر کر دی، یہاں تک کہ لوگ سو گئے، پھر وہ بیدار ہوئے، پھر سو گئے، پھر بیدار ہوئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: نماز! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، یہ منظر آج بھی میری نگاہ میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اپنے سر پر رکھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر مجھے اپنی امت کی مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا، تو میں ان لوگوں کو یہ حکم دیتا کہ وہ اس نماز کو اس وقت میں ادا کریں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1532]

1533

Sahih Ibn Hibban #1533

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، بِبُسْتَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفِيانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ بِالْعَشَاءِ ، فَجَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الصَّلاةَ فَقَدْ رَقَدَ النِّسَاءُ وَالْوِلْدَانُ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ مَاءً وَهُوَ يَقُولُ : لَوْلا أَنْ أَشُقَّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ ، لأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُصَلُّوا هَذِهِ الصَّلاةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز ادا کرنے میں تاخیر کر دی، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ (حجرہ مبارک کے قریب) آئے اور بولے: نماز (کا وقت ہو گیا ہے)، خواتین اور بچے سو چکے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، آپ نے ارشاد فرمایا: ”اگر مجھے اہل ایمان کے مشقت میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا، تو میں انہیں یہ حکم دیتا کہ وہ یہ نماز (یعنی اس وقت میں یہ نماز) ادا کریں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1533]

1534

Sahih Ibn Hibban #1534

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤَخِّرُ الْعِشَاءَ الآخِرَةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز کو تاخیر سے ادا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1534]

1535

Sahih Ibn Hibban #1535

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ اللَّخْمِيُّ ، بِعَسْقَلانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي بِصَلاةِ الْعِشَاءِ ، وَهِيَ الَّتِي تُدْعَى الْعَتَمَةَ ، فَلَمْ يَخْرُجْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لأَهْلِ الْمَسْجِدِ حِينَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ : مَا يَنْتَظِرُهَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ غَيْرُكُمْ " ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَفْشُوَ الإِسْلامُ فِي النَّاسِ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَذَكَرُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " وَمَا كَانَ لَكُمْ أَنْ تَبْدُرُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الصَّلاةِ "، وَذَلِكَ حِينَ صَاحَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز ادا کرنے میں تاخیر کر دی۔ یہ وہ نماز ہے جسے «العَتَمَةُ» ”عتمہ“ کہا جاتا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (مسجد میں) تشریف نہیں لائے یہاں تک کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے (بلند آواز میں کہا:) خواتین اور بچے سو چکے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ نے تشریف لانے کے بعد اہل مسجد سے فرمایا: ”اس وقت تمہارے علاوہ روئے زمین پر اور کوئی شخص اس کا انتظار نہیں کر رہا۔“ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں) یہ لوگوں کے درمیان اسلام کے پھیل جانے سے پہلے کی بات ہے۔ ابن شہاب بیان کرتے ہیں: راویوں نے یہ بات ذکر کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی: ”تمہارے لیے یہ بات مناسب نہیں ہے کہ تم نماز کے حوالے سے اللہ کے رسول سے آگے نکلنے کی کوشش کرو۔“ یہ بات آپ نے اس وقت ارشاد فرمائی تھی جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بلند آواز میں (آپ کی خدمت میں گزارش کی تھی)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1535]

1536

Sahih Ibn Hibban #1536

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : مَكَثْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعِشَاءِ الآخِرَةِ ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ ، أَوْ بَعْدَهُ ، فَقَالَ حِينَ خَرَجَ : إِنَّكُمْتَنْتَظِرُونَ صَلاةً ، مَا يَنْتَظِرُهَا أَهْلُ دِينٍ غَيْرُكُمْ ، وَلَوْلا أَنْ تَثْقُلَ عَلَى أُمَّتِي لَصَلَّيْتُ بِهِمْ هَذِهِ الصَّلاةَ هَذِهِ السَّاعَةَ " ، قَالَ : ثُمَّ أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ فَأَقَامَ ، ثُمَّ صَلَّى"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک دن ہم عشا کی نماز کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرتے رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ہمارے پاس تشریف لائے جب ایک تہائی رات گزر چکی تھی یا شاید اس کے کچھ بعد کی بات ہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ نماز کا انتظار کر رہے ہو، تمہارے علاوہ کسی بھی دین کے ماننے والے اس کا انتظار نہیں کر رہے، اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ یہ بات میری امت کے لیے مشکل ہوگی تو میں انہیں یہ نماز اس گھڑی میں پڑھاتا۔“ راوی بیان کرتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مؤذن کو حکم دیا، انہوں نے اقامت کہی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1536]

1537

Sahih Ibn Hibban #1537

قَالَ أَنَسٌ : فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَىوَبِيصِ خَاتَمِهِ مِنْ فِضَّةٍ، قَالَ : وَرَفَعَ أَنَسٌ يَدَهُ الْيُسْرَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ثابت بیان کرتے ہیں: لوگوں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی تھی؟ تو انہوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت عشاء کی نماز ادا کرنے میں تاخیر کر دی، یہاں تک کہ نصف رات گزر گئی تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”لوگ نماز ادا کر چکے ہیں اور تم لوگ جب سے نماز کا انتظار کر رہے ہو، اس وقت سے نماز ہی کی حالت میں شمار ہو گے۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چاندی کی انگوٹھی کی چمک کا منظر گویا کہ آج بھی میری نگاہ میں ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے اپنا بایاں ہاتھ اٹھا کر یہ بات کہی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1537]

1538

Sahih Ibn Hibban #1538

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْلا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لأَخَّرْتُ الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اگر مجھے اپنی امت کے مشقت میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا، تو میں عشاء کی نماز کو ایک تہائی رات تک مؤخر کرتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1538]

1539

Sahih Ibn Hibban #1539

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، بِحَرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَوْلا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي ، لأَخَّرْتُ الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ أَوْ شَطْرِ اللَّيْلِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اگر مجھے اپنی امت کے مشقت میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا، تو میں عشاء کو ایک تہائی رات تک (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) نصف رات تک مؤخر کرتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1539]

1540

Sahih Ibn Hibban #1540

أَخْبَرَنَا الْقَطَّانُ ، بِالرَّقَّةِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَابُورَ الرُّومِيُّ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَوْلا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ مَعَ الْوُضُوءِ ، وَلأَخَّرْتُ الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ أَوْ نِصْفِ اللَّيْلِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اگر مجھے اپنی امت کے مشقت میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا، تو میں انہیں وضو کے ہمراہ مسواک کرنے کا حکم دیتا اور عشاء کی نماز کو ایک تہائی رات تک (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں) نصف رات تک مؤخر کرتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1540]

1541

Sahih Ibn Hibban #1541

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلادٍ الْبَاهِلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفِيانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي لَبِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمْةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لا تَغْلِبَنَّكُمُ الأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلاتِكُمُ الْعِشَاءِ ، يُسَمُّونَهَا الْعَتَمَةَ لإِعْتَامِ الإِبِلِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”دیہاتی لوگ تمہاری نمازِ عشاء کے نام کے حوالے سے تم پر غالب نہ آ جائیں، وہ لوگ اسے «الْعَتَمَةُ» ”عتمہ“ کہتے ہیں، کیونکہ وہ اونٹوں (کی دیکھ بھال کے حوالے سے) تاخیر کرتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1541]

1542

Sahih Ibn Hibban #1542

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الشَّطَوِيُّ ، بِبَغْدَادَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمْةَ يَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ الْمَخْزُومِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَأَلَ صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ أَمْرٍ أَنْتَ بِهِ عَالِمٌ ، وَأَنَا بِهِ جَاهِلٌ ، قَالَ : مَا هُوَ ؟ " ، قَالَ : هَلْ مِنْ سَاعَاتِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سَاعَةٌ تُكْرَهُ فِيهَا الصَّلاةُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ،إِذَا صَلَّيْتَ الصُّبْحَ ، فَدَعِ الصَّلاةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ لِقَرْنِ الشَّيْطَانِ ، ثُمَّ صَلِّ وَالصَّلاةُ مُتَقَبَّلَةٌ حَتَّى تَسْتَوِيَ الشَّمْسُ عَلَى رَأْسِكَ كَالرُّمْحِ ، فَإِذَا كَانَتْ عَلَى رَأْسِكَ كَالرُّمْحِ فَدَعِ الصَّلاةَ ، فَإِنَّهَا السَّاعَةُ الَّتِي تُسْجَرُ فِيهَا جَهَنَّمَ ، وَيُغَمُّ فِيهَا زَوَايَاهَا حَتَّى تَزِيغَ ، فَإِذَا زَاغَتْ فَالصَّلاةُ مَحْضُورَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ حَتَّى تُصَلِّيَ الْعَصْرَ ، ثُمَّ دَعِ الصَّلاةَ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! میں آپ سے ایک ایسی چیز کے بارے میں سوال کرنا چاہتا ہوں جس کے بارے میں آپ جانتے ہیں اور میں اس سے ناواقف ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”وہ کیا چیز ہے؟“ انہوں نے عرض کی: کیا رات اور دن کے اوقات میں کوئی گھڑی ایسی ہے، جس میں نماز ادا کرنا مکروہ ہو؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ”جی ہاں، جب تم صبح کی نماز ادا کر لو تو نماز کو ترک کر دو یہاں تک کہ سورج شیطان کے سینگ سے طلوع ہو جائے، پھر تم نماز ادا کر سکتے ہو اور نماز قبول کی جائے گی یہاں تک کہ سورج تمہارے سر کے اوپر نیزے کی طرح بالکل برابر ہو جائے، جب وہ تمہارے سر پر نیزے کی طرح ہو جائے، تو تم نماز کو ترک کر دو، کیونکہ یہ ایک ایسی گھڑی ہے، جس میں جہنم کو بھڑکایا جاتا ہے، اور اس کے گوشوں کو ملایا جاتا ہے، یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے، جب وہ ڈھل جائے، تو نماز میں (فرشتوں کی) حاضری بھی ہوتی ہے، اور وہ قبول بھی ہوتی ہے، یہاں تک کہ جب تم عصر کی نماز ادا کر لو تو پھر نماز ادا کرنے سے رک جاؤ یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1542]

1543

Sahih Ibn Hibban #1543

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الصَّلاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، وَعَنِ الصَّلاةِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”عصر کی نماز کے بعد سورج غروب ہونے تک اور صبح کی نماز کے بعد سورج نکلنے تک نماز ادا کرنے سے منع کیا ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1543]

1544

Sahih Ibn Hibban #1544

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حِبَّانَ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الصَّلاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، وَعَنِ الصَّلاةِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”عصر کی نماز کے بعد سورج غروب ہونے تک اور صبح کی نماز کے بعد سورج نکلنے تک نماز ادا کرنے سے“ منع کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1544]

1545

Sahih Ibn Hibban #1545

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَلا تُصَلُّوا حَتَّى يَبْرُزَ ، ثُمَّ صَلُّوا ، فَإِذَا غَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ ، فَلا تُصَلُّوا حَتَّى تَغْرُبَ ، ثُمَّ صَلُّوا ، وَلا تَحَيَّنُوا بِصَلاتِكُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ ، وَلا غُرُوبِهَا ، وَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب سورج کا کنارہ نکل آئے، تو تم نماز ادا نہ کرو یہاں تک کہ وہ ظاہر ہو جائے، پھر تم نماز ادا کرو۔ پھر جب سورج کا کنارہ ڈوب جائے، تم نماز ادا نہ کرو یہاں تک کہ وہ مکمل غروب ہو جائے، تو پھر تم نماز ادا کرو اور تم اپنی نماز کے لیے سورج کے طلوع ہونے یا سورج کے غروب ہونے کے وقت کو متعین نہ کرو (یعنی اس وقت میں نماز ادا نہ کرو) کیونکہ یہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1545]