Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 13 · Chapter 2

Continuation of the Book of Prayer

Hadith 1392–1431

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

1392

Sahih Ibn Hibban #1392

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفِيانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِالْفَأْرَةِ تَمُوتُ فِي السَّمْنِ ، فَقَالَ : إِنْ كَانَ جَامِدًا فَأَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا وَكُلُوهُ ، وَإِنْ كَانَ ذَائِبًا فَلا تَقْرَبُوهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے چوہے کے بارے میں دریافت کیا گیا جو گھی میں مر جاتا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ گھی جما ہوا تھا، تو اس چوہے اور اس کے آس پاس والے گھی کو پھینک کر (باقی رہ جانے والے) گھی کو کھا لو اور اگر وہ گھی پگھلا ہوا تھا، تو پھر تم اسے استعمال نہ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1392]

1393

Sahih Ibn Hibban #1393

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِالْفَأْرَةِ تَقَعُ فِي السَّمْنِ ، فَقَالَ : إِنْ كَانَ جَامِدًا فَأَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا ، وَإِنْ كَانَ مَائِعًا فَلا تَقْرَبُوهُ "، يَعْنِي ذَائِبًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گھی میں گر جانے والے چوہے کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر وہ گھی جما ہوا تھا، تو تم اس چوہے اور اس کے ارد گرد کے گھی کو پھینک دو اور اگر وہ مائع تھا، تو تم اس کے قریب نہ جاؤ“ (راوی کہتے ہیں) یعنی اگر وہ پگھلا ہوا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1393]

1394

Sahih Ibn Hibban #1394

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِالْفَأْرَةِ تَقَعُ فِي السَّمْنِ ، فَتَمُوتُ ، قَالَ : إِنْ كَانَ جَامِدًا أَلْقَاهَا وَمَا حَوْلَهَا وَأَكَلَهُ ، وَإِنْ كَانَ مَائِعًا لَمْ يَقْرَبْهُ ". قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بُوذَوَيْهِ ، أَنَّ مَعْمَرًا ، كَانَ يَذْكُرُ أَيْضًا ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے چوہے کے بارے میں دریافت کیا گیا جو گھی میں گر کر مر جاتا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر وہ گھی جما ہوا تھا، تم اس چوہے، اور اس کے آس پاس والے گھی کو پھینک دو اور باقی رہ جانے والے گھی کو کھا لو اور اگر وہ مائع تھا، تو تم اس کے قریب نہ جاؤ۔“ امام عبدالرزاق بیان کرتے ہیں کہ عبدالرحمن بن بوزویہ نے مجھے یہ خبر دی ہے کہ معمر نامی راوی نے یہ بات بھی ذکر کی ہے کہ یہ روایت زہری کے حوالے سے عبیداللہ بن عبداللہ کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مانند منقول ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1394]

1395

Sahih Ibn Hibban #1395

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سُفِيانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ دِينَارٍ ، مَوْلَى أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ ، قَالَتْ : سألتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ دَمِالْحَيْضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ ، فَقَالَ : غْسِلِيهِ بِالْمَاءِ وَالسِّدْرِ وَحُكِّيهِ بِضِلَعٍ ". قال أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اغْسِلِيهِ بِالْمَاءِ " أَمْرُ فَرْضٍ ، وَذِكْرُ السِّدْرِ وَالْحَكِّ بِالضِّلَعِ أَمْرُ نَدْبٍ وَإِرْشَادٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حیض کے اس خون کے بارے میں دریافت کیا جو کپڑے پر لگ جاتا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم پانی اور بیری کے پتوں کے ذریعے اسے دھو لو اور ہڈی کے ذریعے اسے کھرچ لو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ ”تم اس کو پانی کے ذریعے دھو لو۔“ فرض حکم ہے، جبکہ بیری کے پتوں کا ذکر اور ہڈی کے ذریعے کھرچنے کا ذکر استحباب اور رہنمائی کے طور پر حکم ہے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1395]

1396

Sahih Ibn Hibban #1396

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ ، حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا سُفِيانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الِمَنْذِرِ ، عَنْ جَدَّتِهَا أَسْمَاءَ ، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ دَمِ الْحَيْضِ ، فَقَالَ : حتِيهِ ، ثُمَّ اقْرُصِيهِ بِالْمَاءِ ، ثُمَّ رُشِّيهِ ، وَصَلِّي فِيهِ ". قال أَبُو حَاتِمٍ : الأَمْرُ بِالْحَتِّ وَالرَّشِ أَمْرَ نَدْبٍ لا حَتْمٍ ، وَالأَمْرُ بِالْقَرْصِ بِالْمَاءِ مُقِرُّونَ بِشَرْطِهِ ، وَهُوَ إِزَالَةُ الْعَيْنِ ، فَإِزَالَةُ الْعَيْنِ فَرْضٌ ، وَالْقَرْصُ بِالْمَاءِ نَفْلٌ إِذَا قَدَرَ عَلَى إِزَالَتِهِ بِغَيْرِ قَرْصٍ ، وَالأَمْرُ بِالصَّلاةِ فِي ذَلِكَ الثَّوْبِ بَعْدَ غَسْلِهِ أَمْرُ إِبَاحَةٍ لا حَتْمٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں کہ ایک خاتون نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حیض کے خون کے بارے میں دریافت کیا (یعنی جو کپڑے پر لگ جاتا ہے) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اسے کھرچ کر پانی کے ذریعے مل دو، پھر اس پر پانی چھڑکو، پھر اس (کپڑے) میں نماز ادا کر لو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) کھرچنے اور پانی چھڑکنے کا حکم استحباب کے طور پر ہے، لازم نہیں ہے اور پانی کے ہمراہ اسے ملنے کا حکم اس کی شرط کے ساتھ ملا ہوا ہے اور وہ اس نجاست کے وجود کو زائل کرنا ہے، تو اس نجاست کے وجود کو زائل کرنا فرض ہو گا اور پانی کے ذریعے اسے ملنا نفل ہو گا، جب ملے بغیر اس نجاست کو زائل کرنا ممکن ہو اور اس کپڑے کو دھو لینے کے بعد اس کپڑے میں نماز ادا کرنے کا حکم اباحت کے طور پر ہے، لازم قرار دینے کے طور پر نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1396]

1397

Sahih Ibn Hibban #1397

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلَمْ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الِمَنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّهَا قَالَتْ : سُئل رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِالثَّوْبِ يُصِيبُهُ الدَّمُ مِنَ الْحَيْضَةِ ، فَقَالَ : لِتَحُتَّهُ ، ثُمَّ تَقْرُصْهُ بِالْمَاءِ ، ثُمَّ لِتَنْضَحْهُ فَتُصَلِّيَ فِيهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے کپڑے کے بارے میں دریافت کیا گیا جس پر حیض کا خون لگ جاتا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس عورت کو چاہیے کہ وہ پانی کے ذریعے اسے دھو کر پھر اس پر پانی چھڑک دے اور اس (کپڑے) میں نماز ادا کر لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1397]

1398

Sahih Ibn Hibban #1398

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمْةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الِمَنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّ امْرَأَةً ، قَالَتْ : يَا رَسُولِ اللَّهِ ،مَا أَصْنَعُ بِمَا أَصَابَ ثَوْبِي مِنْ دَمِ الْحَيْضِ ؟ قَالَ : " حُتِّيهِ ، ثُمَّ اقْرُصِيهِ بِالْمَاءِ ، وَانْضَحِي مَا حَوْلَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں، ایک عورت نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے جس کپڑے پر حیض کا خون لگ جاتا ہے، میں اس کے ساتھ کیا کروں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے کھرچ کر پانی کے ذریعے دھو لو اور اس کے ارد گرد کی جگہ پر پانی چھڑک لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1398]

1399

Sahih Ibn Hibban #1399

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمْ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَامَ أَعْرَابِيٌّ فِي الْمَسْجِدِ فَبَالَ ، فَتَنَاوَلَهُ النَّاسُ ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : دَعُوهُ ، وَأَهْرِيقُوا عَلَى بَوْلِهِ دَلْوًا مِنْ مَاءٍ ، فَإِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ ، وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی مسجد میں کھڑا ہوا اور اس نے پیشاب کرنا شروع کیا، تو لوگ اس کی طرف بڑھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: ”اسے کرنے دو اور اس کے پیشاب پر پانی کا ایک ڈول بہا دینا، کیونکہ تمہیں آسانی کرنے کے لیے مبعوث کیا گیا ہے اور تنگی کرنے کے لیے نہیں بھیجا گیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1399]

1400

Sahih Ibn Hibban #1400

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَالَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَثَارَ إِلَيْهِ أُنَاسٌ لِيَقَعُوا بِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : دَعُوهُ وَأَهْرِيقُوا عَلَى بَوْلِهِ دَلْوًا مِنْ مَاءٍ ، أَوْ سَجْلا مِنْ مَاءٍ ، فَإِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ ، وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی مسجد میں پیشاب کرنے لگا، لوگ اس کی طرف لپکے تاکہ اس کی پٹائی کریں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اسے کرنے دو، اس کے پیشاب پر پانی کا ایک ڈول بہا دینا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) پانی کا ایک «سَجْلٍ» (ڈول) بہا دینا، تم لوگوں کو آسانی کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے، تمہیں تنگی کا شکار کرنے کے لیے نہیں بھیجا گیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1400]

1401

Sahih Ibn Hibban #1401

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ عَمِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدًا فِي الْمَسْجِدِ ، إِذْ دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ ، فَقَعَدَ يَبُولُ ، فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَهْ مَهْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تُزْرِمُوهُ " ، ثُمَّ دَعَاهُ ، فَقَالَ : " إِنَّ هَذِهِالْمَسَاجِدَ لا تَصْلُحُ لِشَيْءٍ مِنَ الْقَذَرِ وَالْخَلاءِ " ، وَكَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا هِيَ لِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ أَوْ ذِكْرِ اللَّهِ " ، ثُمَّ دَعَا بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَيْهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسحاق بن عبداللہ اپنے چچا سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے، اس دوران ایک دیہاتی اندر آیا اور بیٹھ کر پیشاب کرنے لگا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے کہا: رکو رکو، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اس کے پیشاب کرنے کے دوران اسے روکنے کی کوشش نہ کرو۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو بلوایا اور ارشاد فرمایا: ”ان مساجد کے اندر گندگی اور قضائے حاجت کرنا مناسب نہیں ہے“، یا جو بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہاں قرآن کی تلاوت کی جاتی ہے یا اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا ایک ڈول منگوایا اور اس پر بہا دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1401]

1402

Sahih Ibn Hibban #1402

ثُمَّ تَنَحَّى الأَعْرَابِيُّ ، فَبَالَ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ الأَعْرَابِيُّ بَعْدَ أَنْ فَقِهَ فِي الإِسْلامِ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ : إِنَّ هَذَاالْمَسْجِدَ إِنَّمَا هُوَ لِذِكْرِ اللَّهِ وَالصَّلاةِ ، وَلا يُبَالُ فِيهِ " ، ثُمَّ دَعَا بِسَجْلٍ مِنْ مَاءٍ فَأَفْرَغَهُ عَلَيْهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی مسجد میں داخل ہوا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسجد میں تشریف فرما تھے۔ اس دیہاتی نے کہا: اے اللہ! تو میری اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مغفرت کر دے اور ہمارے ساتھ کسی اور کی مغفرت نہ کرنا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم نے ایک کھلی چیز کو تنگ کر دیا ہے“، پھر وہ دیہاتی ایک طرف ہٹا اور مسجد کے ایک کونے میں پیشاب کرنے لگا، بعد میں جب اس دیہاتی کو اسلامی تعلیمات کا علم حاصل ہو گیا، تو اس نے یہ کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے یہ فرمایا تھا: ”یہ مساجد اللہ کا ذکر کرنے اور نماز ادا کرنے کے لیے ہیں، ان میں پیشاب نہ کیا جائے“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا ایک ڈول منگوا کر اس کے پیشاب پر بہا دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1402]

1403

Sahih Ibn Hibban #1403

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خَلِيلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا وَطِئَ أَحَدُكُمْ بِنَعْلِهِ فِي الأَذَى ، فَإِنَّ التُّرَابَ لَهَا طَهُورٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی شخص اپنے جوتے کے ذریعے گندگی کو روند دے، تو مٹی اس (جوتے پر لگنے والی گندگی) کو صاف کر دیتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1403]

1404

Sahih Ibn Hibban #1404

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا وَطِئَ أَحَدُكُمُ الأَذَى بِخُفِيهِ فَطَهُورُهُمَا التُّرَابُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی شخص اپنے موزوں کے ذریعے گندگی کو روند دے، تو مٹی انہیں صاف کر دیتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1404]

1405

Sahih Ibn Hibban #1405

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، بِبُسْتَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخَلاءَ ، فَأَتَيْتُهُ بِمَاءٍ فِيهِ تُورٍ أَوْ رَكْوَةٍ ، فَاسْتَنْجَى بِهِ ، وَمَسَحَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى الأَرْضِ ، فَغَسَلَهَا ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِإِنَاءٍ فَتَوَضَّأَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، میں ایک پیالے یا برتن میں پانی لے کر آپ کے پاس آیا، آپ نے اس کے ذریعے استنجا کیا، پھر آپ نے اپنا بایاں ہاتھ زمین پر پھیرا اور اسے دھو لیا، پھر میں برتن میں (پانی لے کر) آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے وضو کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1405]

1406

Sahih Ibn Hibban #1406

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْقَاسِمِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّ هَذِهِالْحُشُوشَ مُحْتَضَرَةٌ ، فَإِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَدْخُلَ فَلْيَقُلْ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : الْحَدِيثُ مَشْهُورٌ عَنْ شُعْبَةَ وَسَعِيدٍ جَمِيعًا وَهُوَ مَا تَفَرَّدَ بِهِ قَتَادَةُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”(قضائے حاجت کے مقام پر) شیاطین حاضر ہوتے ہیں، تو جب کوئی شخص (قضائے حاجت کی جگہ) داخل ہونے لگے تو اسے یہ پڑھ لینا چاہیے: «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ» ”میں مذکر شیاطین اور مؤنث شیاطین سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔““ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) شعبہ اور سعید دونوں کے حوالے سے یہ روایت مشہور ہے اور یہ وہ روایت ہے جسے نقل کرنے میں قتادہ منفرد ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1406]

1407

Sahih Ibn Hibban #1407

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمْةَ ، وَهُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ كَانَإِذَا دَخَلَ الْخَلاءَ ، قَالَ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ : جَمْعُ الذُّكُورِ وَالإِنَاثِ مِنَ الشَّيَاطِينِ ، يُقَالُ لِلْوَاحِدِ مِنْ ذُكْرَانِ الشَّيَاطِينِ خَبِيثٌ ، وَالاثْنَيْنِ خَبِيثَانِ ، وَالثَّلاثُ خَبَائِثِ ، وَكَانَ يَعُوذُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذُكْرَانٍ الشَّيَاطِينِ وَإِنَاثِهِمْ ، حَيْثُ قَالَ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء میں تشریف لے جاتے تھے، تو یہ پڑھتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ» ”اے اللہ! میں مذکر شیاطین اور مؤنث شیاطین سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) (الخبث اور الخبائث یہ مذکر اور مؤنث شیاطین کی جمع ہیں۔ ایک مذکر شیطان کے لیے لفظ خبیث استعمال ہوتا ہے اور دو کے لیے خبیثان استعمال ہوتا ہے اور تین کے لیے خبائث استعمال ہوتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مذکر اور مؤنث دونوں طرح کے شیاطین سے پناہ مانگتے تھے اور یہ کہتے تھے: ”اے اللہ! میں مذکر اور مؤنث شیاطین سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“) [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1407]

1408

Sahih Ibn Hibban #1408

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّضْرَ بْنَ أَنَسٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّ هَذِهِالْحُشُوشَ مُحْتَضَرَةٌ ، فَإِذَا دَخَلَهَا أَحَدُكُمْ ، فَلْيَقُلْ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ ، وَالْخَبَائِثِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : الْخُبُثُ جَمْعُ الذُّكُورِ مِنَ الشَّيَاطِينِ ، وَالْخَبَائِثُ جَمْعُ الإِنَاثِ مِنْهُمْ ، يُقَالُ خَبِيثٌ وَخَبِيثَانِ ، وَخُبُثٌ وَخَبِيثَةٌ ، وَخَبِيثَتَانِ وَخَبَائِثُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”قضائے حاجت کے مقام پر شیاطین آ جاتے ہیں، تو جب کوئی شخص وہاں جائے، تو اسے یہ پڑھ لینا چاہیے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ» ”اے اللہ! میں مذکر شیاطین اور مؤنث شیاطین سے تیری پناہ مانگتا ہوں“۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) خبث مذکر شیاطین کی جمع ہے اور خبائث مؤنث شیاطین کی جمع ہے، یہ کہا جاتا ہے کہ: [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1408]

1409

Sahih Ibn Hibban #1409

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، وَعُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الطُّفَاوِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ امْرَأَةً جَسِيمَةً ، وَكَانَتْ إِذَا خَرَجَتْ لِحَاجَتِهَا بِاللَّيْلِ أَشْرَفَتْ عَلَى النِّسَاءِ ، فَرَآهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ : انْظُرِي كَيْفَ تَخْرُجِينَ ، فَإِنَّكِ وَاللَّهِ مَا تَخْفِينَ عَلَيْنَا إِذَا خَرَجْتِ ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ سَوْدَةُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِهِ عَرْقٌ ، فَمَا رَدَّ الْعَرْقَ مِنْ يَدِهِ حَتَّى فَرَغَ الْوَحْيُ ، فَقَالَ : إِنَّاللَّهَ قَدْ جَعَلَ لَكُنَّ رُخْصَةً أَنْ تَخْرُجْنَ لِحَوَائِجِكُنَّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا بھاری جسم والی خاتون تھیں، وہ جب رات کے وقت قضائے حاجت کے لیے جاتی تھیں تو خواتین کے درمیان نمایاں ہوتی تھیں۔ ایک مرتبہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا اور بولے: آپ اس بات کا جائزہ لیں کہ آپ کیسی حالت میں باہر آئی ہیں، اللہ کی قسم! جب آپ باہر آتی ہیں تو ہم سے پوشیدہ نہیں رہتی ہیں۔ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک میں ایک بوٹی تھی، ابھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے دستِ مبارک سے واپس نہیں رکھا تھا یہاں تک کہ وحی مکمل ہو گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تم خواتین کے لیے یہ رخصت دی ہے، تم قضائے حاجت کے لیے گھر سے باہر نکل سکتی ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1409]

1410

Sahih Ibn Hibban #1410

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ السَّلامِ مَكْحُولٌ ، بِبَيْرُوتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سَيْفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ حُصَيْنٍ الْحِمْيَرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعْدِ الْخَيْرِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ ، مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ ، وَمَنْ أَتَى الْغَائِطَ فَلْيَسْتَتِرْ ، وَإِنْ لَمْ يَجِدْ إِلا كَثِيبًا مِنْ رَمْلٍ ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَلْعَبُ بِمَقَاعِدِ بَنِي آدَمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(استنجا کرتے ہوئے) جو شخص پتھر استعمال کرتا ہے اسے طاق تعداد میں استعمال کرنے چاہییں، اگر وہ ایسا کرتا ہے تو اچھی بات ہے، اور جو شخص قضائے حاجت کے لیے جائے اسے پردہ کر لینا چاہیے، اگر اسے پردہ کرنے کے لیے صرف ریت کا ٹیلہ ملتا ہے (تو اس سے ہی پردہ کرنا چاہیے)، کیونکہ شیطان اولادِ آدم کی شرم گاہوں سے کھیلتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1410]

1411

Sahih Ibn Hibban #1411

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَحَبُّ مَا اسْتَتَرَ بِهِ هَدَفٌ أَوْ حَائِشُ نَخْلٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو پسند کرتے تھے کہ آپ کسی ٹیلے یا کھجوروں کے جھنڈ کی اوٹ میں قضائے حاجت کریں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1411]

1412

Sahih Ibn Hibban #1412

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي يَعْقُوبَ ، يُحَدِّثُ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ : رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَغْلَتَهُ ، وَأَرْدَفَنِي خَلْفَهُ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَبَرَّزَ كَانَ أَحَبَّ مَا تَبَرَّزَ إِلَيْهِ هَدَفٌ يَسْتَتِرُ بِهِ ، أَوْ حَائِشُ نَخْلٍ ، قَالَ : فَدَخَلَ حَائِطًا لِرَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر پر سوار ہوئے اور آپ نے مجھے بھی اپنے پیچھے بٹھا لیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کے لیے تشریف لے جاتے تو آپ کو یہ بات پسند تھی کہ آپ کسی ٹیلے کی اوٹ میں قضائے حاجت کریں، یا کھجوروں کے جھنڈ کی اوٹ میں کریں۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری کے باغ میں تشریف لے گئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1412]

1413

Sahih Ibn Hibban #1413

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا دَخَلَ الْخَلاءَ وَضَعَ خَاتَمَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کے لیے تشریف لے جاتے تھے تو اپنی انگوٹھی اتار دیتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1413]

1414

Sahih Ibn Hibban #1414

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ التِّرْمِذِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ثُمَامَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَنَقْشُ خَاتَمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلاثَةَ أَسْطُرٍ : مُحَمَّدٌ سَطْرٌ ، وَرَسُولُ سَطْرٌ ، وَاللَّهِ سَطْرٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی پر نقش بنا ہوا تھا جو تین سطروں میں تھا؛ لفظ «مُحَمَّدٌ» ایک سطر میں، لفظ «رَسُولُ» ایک سطر میں اور لفظ «اللّٰهِ» ایک سطر میں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1414]

1415

Sahih Ibn Hibban #1415

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : اتَّقُوا اللَّعَّانَيْنِ " ، قَالُوا : وَمَا اللَّعَّانَانِ ؟ قَالَ : " الَّذِي يَتَخَلَّى فِي طُرُقِ النَّاسِ وَأَفْنِيَتِهِمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بہت زیادہ لعنت کرنے والی دو چیزوں سے بچو۔“ لوگوں نے عرض کی: بہت زیادہ لعنت کرنے والی دو چیزیں کیا ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ کہ کوئی شخص لوگوں کے راستے میں، یا ان کے (گھروں کی) عمارت کے پاس قضائے حاجت کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1415]

1416

Sahih Ibn Hibban #1416

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الْغَائِطَ ، فَلا يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ ، وَلا يَسْتَدْبِرْهَا بِغَائِطٍ وَلا بَوْلٍ ، وَلَكِنْ شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا "، قَالَ أَبُو أَيُّوبَ : " فَلَمْا قَدِمْنَا الشَّامَ وَجَدْنَا مَرَاحِيضَ قَدْ بُنِيَتْ نَحْوَ الْقِبْلَةِ ، فَكُنَّا نَنْحَرِفُ عَنْهَا وَنَسْتَغْفِرُ اللَّهَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب کوئی شخص قضائے حاجت کے لیے آئے، تو وہ پاخانہ یا پیشاب کرتے ہوئے قبلہ کی طرف رخ یا پیٹھ نہ کرے بلکہ (مدینہ منورہ کے حساب سے) مشرق یا مغرب کی طرف رخ کرے۔“ سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب ہم شام آئے، تو وہاں ہمیں ایسے بیت الخلا ملے جو قبلہ کی سمت میں بنائے ہوئے تھے، تو ہم لوگ ان میں تھوڑا مڑ کر بیٹھا کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کیا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1416]

1417

Sahih Ibn Hibban #1417

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، وَالنُّعْمَانِ بْنِ رَاشِدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ بِبَوْلٍ ، وَلا غَائِطٍ ، وَلا تَسْتَدْبِرُوهَا ، وَلَكِنْ شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا "، قَالَ أَبُو أَيُّوبَ : فَقَدِمْنَا الشَّامَ ، فَإِذَا مَرَاحِيضُ قَدْ صُنِعَتْ نَحْوَ الْقِبْلَةِ ، وَقَالَ النُّعْمَانُ : فَإِذَا مَرَافِيقُ قَدْ صُنِعَتْ نَحْوَ الْقِبْلَةِ ، قَالَ أَبُو أَيُّوبَ : فَنَنْحَرِفُ وَنَسْتَغْفِرُ اللَّهَ . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلَهُ : شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا لَفْظَةُ أَمْرٍ تُسْتَعْمَلُ عَلَى عُمُومَةٍ فِي بَعْضِ الأَعْمَالِ ، وَقَدْ يَخُصُّهُ خَبَرُ ابْنِ عُمَرَ بِأَنَّ هَذَا الأَمْرَ قُصِدَ بِهِ الصَّحَارِي دُونَ الْكُنُفِ وَالْمَوَاضِعِ الْمَسْتُورَةِ ، وَالتَّخْصِيصُ الثَّانِي الَّذِي هُوَ مِنَ الإِجْمَاعِ أَنَّ مَنْ كَانَتْ قِبْلَتُهُ فِي الْمَشْرِقِ أَوْ فِي الْمَغْرِبِ عَلَيْهِ أَنْ لا يَسْتَقْبِلَهَا وَلا يَسْتَدْبِرَهَا بِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ ، لأَنَّهَا قِبْلَتُهُ ، وَإِنَّمَا أُمِرَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ أَوْ يَسْتَدْبِرَ ضِدَّ الْقِبْلَةِ عِنْدَ الْحَاجَةِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”پیشاب یا پاخانہ کرتے ہوئے قبلہ کی طرف رخ یا پیٹھ نہ کرو بلکہ (مدینہ منورہ کے حساب سے) مشرق یا مغرب کی طرف رخ کرو۔“ سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب ہم شام آئے، تو وہاں ایسے بیت الخلاء تھے جو قبلہ کی سمت میں بنے ہوئے تھے۔ نعمان نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں وہ ایسے بیت الخلاء تھے جو قبلہ کی سمت میں بنے ہوئے تھے سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، تو ہم (قبلہ سے) دوسری طرف منہ موڑ لیتے تھے اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کیا کرتے تھے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”تم مشرق یا مغرب کی طرف رخ کرو“ اس میں لفظی طور پر حکم دیا گیا ہے اور بعض اعمال میں اس کے عموم پر عمل کیا جائے گا، جبکہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے منقول روایت اس کے حکم کو مخصوص کر دیتی ہے کہ یہ حکم صحرا سے تعلق رکھتا ہے۔ بیت الخلاء یا پوشیدہ مقامات اس حکم میں داخل نہیں ہیں اور دوسری تخصیص وہ ہے، جو اجماع سے ثابت ہوتی ہے کہ جس شخص کا قبلہ مشرق یا مغرب کی سمت ہو اس شخص پر لازم ہے کہ وہ پاخانہ یا پیشاب کرتے ہوئے اس طرف رخ یا پیٹھ نہ کرے کیونکہ وہ اس کا قبلہ ہے اور آدمی کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ قضائے حاجت کرتے وقت قبلہ کی بجائے کسی دوسری طرف رخ یا پیٹھ کرے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1417]

1418

Sahih Ibn Hibban #1418

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : رَقِيتُ فَوْقَ بَيْتِ حَفْصَةَ ، فَإِذَا أَنَا بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَجَالِسًا عَلَى مَقْعَدَتِهِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ ، مُسْتَدْبِرَ الشَّامِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی چھت پر چڑھا تو وہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء میں قبلہ کی طرف رخ کر کے اور شام کی طرف پیٹھ کر کے قضائے حاجت کر رہے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1418]

1419

Sahih Ibn Hibban #1419

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا غَوْثُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ زِيَادٍ الْمِصْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيِّ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ ، فَدَعَا بِطَسْتٍ ، وَقَالَ لِلْجَارِيَةِ : اسْتُرِينِي ، فَسَتَرَتْهُ ، فَبَالَ فِيهِ ، ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى أَنْ يَبُولَ أَحَدُكُمْ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

غوث بن سلیمان اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ہم جمعہ کے دن سیدنا عبداللہ بن حارث زبیدی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے ایک طشت منگوایا، انہوں نے کنیز سے فرمایا: ”تم میرے لیے پردہ کر دو۔“ اس نے ان کے لیے پردہ کر دیا۔ انہوں نے اس طشت میں پیشاب کیا اور پھر یہ بات بیان کی: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”آپ نے اس بات سے منع کیا ہے، کوئی شخص قبلہ کی طرف رخ کر کے پیشاب کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1419]

1420

Sahih Ibn Hibban #1420

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَنْهَانَا أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ ، أَوْ نَسْتَدْبِرَهَا بِفُرُوجِنَا إِذَا أَهْرَقْنَا الْمَاءَ " ، قَالَ : " ثُمَّ رَأَيْتُهُ قَبْلَ مَوْتِهِ بِعَامٍ يَبُولُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس بات سے منع کیا کرتے تھے کہ ”جب ہم پانی انڈیلیں تو اپنی شرم گاہوں کے ہمراہ قبلہ کی طرف رخ کریں، یا پیشاب کریں (یعنی قضائے حاجت کرتے ہوئے ایسا کریں)“۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال سے ایک سال پہلے آپ کو قبلہ کی طرف رخ کر کے پیشاب کرتے ہوئے دیکھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1420]

1421

Sahih Ibn Hibban #1421

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حِبَّانَ ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : إِنَّ نَاسًا يَقُولُونَ : إِذَا قَعَدْتَ لِحَاجَتِكَ فَلا تَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ ، وَلا بَيْتَ الْمَقْدِسِ ، لَقَدِ ارْتَقَيْتُ عَلَى ظَهْرِ بَيْتِنَا ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَعَلَى لَبِنَتَيْنِ مُسْتَقْبِلَ بَيْتَ الْمَقْدِسِ لِحَاجَتِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، لوگ یہ کہتے ہیں کہ جب تم قضائے حاجت کے لیے بیٹھو تو قبلہ کی طرف رخ نہ کرو یا بیت المقدس کی طرف رخ نہ کرو، حالانکہ میں ایک مرتبہ اپنے گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت المقدس کی طرف رخ کر کے قضائے حاجت کرتے ہوئے دیکھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1421]

1422

Sahih Ibn Hibban #1422

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سِنَانٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ هِلالٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا يَقْعُدِ الرَّجُلانِ عَلَى الْغَائِطِ يَتَحَدَّثَانِ ، يَرَى كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَوْرَةَ صَاحِبِهِ ، فَإِنَّ اللَّهَ يَمْقُتُ عَلَى ذَلِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”دو آدمی اس طرح بیٹھ کر قضائے حاجت نہ کریں کہ وہ آپس میں بات چیت کر رہے ہوں اور ان میں سے ایک دوسرے کی شرم گاہ کو دیکھ رہا ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ اس بات پر ناراض ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1422]

1423

Sahih Ibn Hibban #1423

أَخْبَرَنَا أَبُو جَابِرِ زَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، بِالْمَوْصِلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْجَوْهَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الْفَرَّاءُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَبُلْ قَائِمًا ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أَخَافُ أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ نَافِعٍ هَذَا الْخَبَرَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم کھڑے ہو کر پیشاب نہ کرو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) مجھے یہ اندیشہ ہے کہ یہ روایت ابن جریج نے نافع سے نہیں سنی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1423]

1424

Sahih Ibn Hibban #1424

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، بِنَسَا ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ ، فَبَالَ قَائِمًا ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفِيهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچرے کے ڈھیر پر تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کر لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1424]

1425

Sahih Ibn Hibban #1425

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، بِبُسْتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ ، فَبَالَ قَائِمًا ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ ، وَمَسَحَ عَلَى خُفِيهِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : عَدَمُ السَّبَبِ فِي هَذَا الْفِعْلِ هُوَ عَدَمُ الإِمْكَانِ ، وَذَاكَ أَنَّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى السُّبَاطَةَ وَهِيَ الْمَزْبَلَةُ ، فَأَرَادَ أَنْ يَبُولَ ، فَلَمْ يَتَهَيَّأْ لَهُ الإِمْكَانُ ، لأَنَّ الْمَرْءَ إِذَا قَعَدَ يَبُولُ عَلَى شَيْءٍ مُرْتَفِعٍ عَنْهُ رُبَّمَا تَفَشَّى الْبَوْلُ ، فَرَجَعَ إِلَيْهِ ، فَمَنْ أَجْلِ عَدَمِ إِمْكَانِهِ مِنَ الْقُعُودِ لِحَاجَةٍ بَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ کچرے کے ڈھیر پر تشریف لائے، آپ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا، پھر آپ نے پانی منگوایا اور وضو کرتے ہوئے موزوں پر مسح کر لیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس فعل میں سبب کا نہ ہونا، امکان کا نہ ہونا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچرے کے ڈھیر پر تشریف لائے جو گندگی تھی، آپ نے پیشاب کرنے کا ارادہ کیا لیکن (وہاں بیٹھ کر پیشاب کرنا) بھی ممکن نہیں تھا کیونکہ جب آدمی کسی ایسی جگہ بیٹھ کر پیشاب کرتا ہے، جو کچھ بلند ہو تو پیشاب پھیلنے کا اندیشہ ہوتا ہے اور آدمی کی طرف واپس آ سکتا ہے، تو قضائے حاجت کے لیے بیٹھنے کے لیے ممکن نہ ہونے کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1425]

1426

Sahih Ibn Hibban #1426

حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِي ، بِبَغْدَادَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي حُكَيْمَةُ بِنْتُ أُمَيْمَةَ ، عَنْ أُمِّهَا أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبُولُ فِي قَدَحٍ مِنْ عِيدَانٍ ، ثُمَّ يُوضَعُ تَحْتَ سَرِيرِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حکیمہ بنت امیمہ اپنی والدہ سیدہ امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لکڑی سے بنے ہوئے پیالے میں پیشاب کیا کرتے تھے اور اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چارپائی کے نیچے رکھ دیا جاتا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1426]

1427

Sahih Ibn Hibban #1427

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ ، فَبَالَ قَائِمًا ، فَدَنَوْتُ مِنْهُ حَتَّى صِرْتُ عِنْدَ عَقِبِهِ وَصَبَبْتُ عَلَيْهِ الْمَاءَ ، فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفِيهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچرے کے ڈھیر پر تشریف لائے، آپ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا، میں آپ کے قریب ہوا یہاں تک کہ آپ کے پیچھے آ کر کھڑا ہو گیا، میں نے آپ پر پانی انڈیلا تو آپ نے وضو کیا اور موزوں پر مسح کر لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1427]

1428

Sahih Ibn Hibban #1428

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، بِحَرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَانْتَهَى إِلَى سُبَاطَةِ قَوْمٍ ، فَبَالَ قَائِمًا ، فَتَنَحَّيْتُ ، فَدَعَانِي ، فَقَالَ : ادْنُ ، فَدَنَوْتُ حَتَّى قُمْتُ عِنْدَ عَقِبِهِ ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفِيهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلتا ہوا جا رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچرے کے ڈھیر پر تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں کھڑے ہو کر پیشاب کیا، میں ایک طرف ہٹنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا: ”قریب ہو جاؤ“، میں قریب ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے آ کر کھڑا ہو گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کرتے ہوئے موزوں پر مسح کر لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1428]

1429

Sahih Ibn Hibban #1429

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : كَانَ أَبُو مُوسَى يُشَدِّدُ فِي الْبَوْلِ ، وَيَقُولُ : إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَ إِذَا أَصَابَ جِلْدَ أَحَدِهِمْ بَوْلٌ ، قَرَضَهُ بِالْمِقْرَاضِ ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ : لَوَدِدْتُ أَنَّ صَاحِبَكُمْ لا يُشَدِّدُ هَذَا التَّشْدِيدَ ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَتَمَاشَى ، فَأَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ خَلْفَ حَائِطٍ ، فَقَامَ كَمَا يَقُومُ أَحَدُكُمْ ، فَبَالَ ، قَالَ : فَاسْتَتَرْتُ مِنْهُ ، فَأَشَارَ إِلَيَّ ، فَجِئْتُ ، فَقُمْتُ عِنْدَ عَقِبِهِ حَتَّى فَرَغَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابووائل بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ پیشاب کے معاملے میں نہایت سختی کیا کرتے تھے۔ وہ یہ کہا کرتے تھے: بنی اسرائیل میں سے اگر کسی شخص کی کھال پر پیشاب لگ جاتا تھا تو وہ قینچی کے ذریعے اسے کاٹ دیا کرتا تھا۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میری یہ خواہش تھی کہ تمہارے صاحب (یعنی سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) اس معاملے میں اتنی سختی نہ کرتے، کیونکہ مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے، میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکٹھے چلتے ہوئے جا رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ کے پیچھے کچرے کے ڈھیر پر تشریف لائے اور آپ اسی طرح کھڑے ہوئے جس طرح تم میں سے کوئی ایک شخص کھڑا ہوتا ہے۔ آپ نے پیشاب کیا، راوی بیان کرتے ہیں: میں نے آپ کے لئے پردہ کیا، تو آپ نے میری طرف اشارہ کیا۔ میں آگے آیا اور پیچھے آ کر کھڑا ہو گیا، یہاں تک کہ آپ اس سے فارغ ہو گئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1429]

1430

Sahih Ibn Hibban #1430

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبُولُ قَائِمًا فَكَذِّبْهُ ، أَنَا رَأَيْتُهُيَبُولُ قَاعِدًا ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَذَا خَبَرٌ قَدْ يُوهِمُ غَيْرَ الْمُتَبَحِّرِ فِي صِنَاعَةِ الْحَدِيثِ أَنَّهُ مُضَادٌّ لِخَبَرِ حُذَيْفَةَ الَّذِي ذَكرْنَاهُ ، لَيْسَ كَذَلِكَ ، لأَنَّ حُذَيْفَةَ رَأَى الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبُولُ قَائِمًا عِنْدَ سُبَاطَةِ قَوْمٍ خَلْفَ حَائِطٍ ، وَهِيَ فِي نَاحِيَةِ الْمَدِينَةِ ، وَقَدْ أَبَنَّا السَّبَبَ فِي فِعْلِهِ ذَلِكَ ، وَعَائِشَةُ لَمْ تَكُنْ مَعَهُ فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ ، إِنَّمَا كَانَتْ تَرَاهُ فِي الْبُيُوتِ يَبُولُ قَاعِدًا ، فَحَكَتْ مَا رَأَتْ ، وَأَخْبَرَ حُذَيْفَةُ بِمَا عَايَنَ ، وَقَوْلُ عَائِشَةَ فَكَذِّبْهُ ، أَرَادَتْ : فَخَطِّئْهُ ، إِذِ الْعَرَبُ تُسَمِّي الْخَطَأَ كَذِبًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جو شخص تمہیں یہ بات بتائے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر پیشاب کیا کرتے تھے، تو تم اسے جھوٹا قرار دو کیونکہ میں نے آپ کو ہمیشہ بیٹھ کر پیشاب کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت نے اس شخص کو غلط فہمی کا شکار کیا جو علم حدیث میں مہارت نہیں رکھتا اور وہ یہ سمجھا کہ یہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول اس روایت کی متضاد ہے جس کا ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیوار کے پاس کچرے کے ڈھیر کے پاس پیشاب کرتے ہوئے دیکھا تھا اور یہ مدینہ منورہ کے کنارے کی بات ہے اور ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فعل کا سبب بیان کر دیا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں تھیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گھر میں بیٹھ کر پیشاب کرتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے وہ چیز بیان کی ہے جو انہوں نے دیکھی ہے، مگر سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے وہ بات بیان کی ہے جو انہوں نے دیکھی ہے، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ فرمان کہ ”تم اسے جھوٹا قرار دو“ اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ تم اسے غلط قرار دو کیونکہ بعض اوقات عرب غلطی کے لیے لفظ «كَذِب» استعمال کرتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1430]

1431

Sahih Ibn Hibban #1431

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي أَنَا لَكُمْ مِثْلُ الْوَالِدِ ، أُعَلَمْكُمْ ،إِذَا أَتَيْتُمُ الْغَائِطَ فَلا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ ، وَلا تَسْتَدْبِرُوهَا ، وَلا يَسْتَنْجِ أَحَدُكُمْ بِيَمِينِهِ ، وَكَانَ يَأْمُرُ بِثَلاثَةِ أَحْجَارٍ ، وَيَنْهَى عَنِ الرَّوْثَةِ وَالرِّمَّةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”میں تمہارے لیے باپ کی جگہ ہوں، میں تمہاری تعلیم و تربیت کرتا ہوں، جب تم قضائے حاجت کے لیے آؤ تو قبلہ کی طرف رخ یا پیٹھ نہ کرو اور کوئی شخص دائیں ہاتھ کے ذریعے استنجا نہ کرے۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تین پتھروں کے ذریعے استنجا کرنے کا حکم دیا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مینگنی اور ہڈی سے استنجا کرنے سے منع کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1431]