Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 13 · Chapter 1

Continuation of the Book of Prayer

Hadith 1352–1391

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

1352

Sahih Ibn Hibban #1352

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمْ ، بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، وَعُمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ كَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، اسْتُحِيضَتْ سَبْعَ سِنِينَ ، فَاسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّهَذِهِ لَيْسَتْ بِحَيْضَةٍ ، وَلَكِنْ هَذَا عِرْقٌ ، فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي "، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ صَلاةٍ فِي مِرْكَنِ حُجْرَةِ أُخْتِهَا زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حَتَّى يَعْلُوَ حُمْرَةُ الدَّمِ الْمَاءَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا، سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں، انہیں سات سال تک استحاضہ کی شکایت رہی، انہوں نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ حیض نہیں ہے بلکہ کسی دوسری رگ کا مواد ہے، تم غسل کر کے نماز ادا کرتی رہو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ خاتون ہر نماز کے لیے غسل کیا کرتی تھیں، وہ پتھر کے بنے ہوئے ٹب میں بیٹھ جاتی تھیں اور وہ ان کی بہن سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کا تھا، یہاں تک کہ خون کی سرخی پانی پر غالب آ جاتی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1352]

1353

Sahih Ibn Hibban #1353

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلَمْ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، وَالأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، وَعُمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتِ : اسْتُحِيضَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ وَهِيَ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أُخْتُهَا زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ سَبْعَ سِنِينَ ، فَشَكَتْ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهَا : لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ ، وَلَكِنَّهُ عِرْقٌ ، فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي "، فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلاةٍ ، وَكَانَتْ تَقْعُدُ فِي مِرْكَنِ أُخْتِهَا ، فَكَانَتْ حُمْرَةُ الدَّمِ تَعْلُو الْمَاءَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کو استحاضہ کی شکایت ہو گئی۔ وہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں۔ ان کی بہن سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ تھیں)، اس خاتون کو سات سال تک استحاضہ کی شکایت رہی۔ انہوں نے اس بات کی شکایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ حیض نہیں، یہ کسی دوسری رگ کا مواد ہے، تم غسل کر کے نماز ادا کرتی رہو۔“ تو وہ خاتون ہر نماز کے لیے غسل کیا کرتی تھیں۔ وہ اپنی بہن کے ٹب میں بیٹھ جاتی تھیں اور خون کی سرخی پانی پر غالب آ جاتی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1353]

1354

Sahih Ibn Hibban #1354

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ الْخُلْقَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أُسْتَحَاضُ الشَّهْرَ وَالشَّهْرَيْنِ ؟ قَالَ : لَيْسَ ذَلِكَ بِحَيْضٍ ، وَلَكِنَّهُ عِرْقٌ ، فَإِذَا أَقْبَلَ الْحَيْضُ ، فَدَعِي الصَّلاةَ عَدَدَ أَيَّامِكِ الَّتِي كُنْتِ تَحِيضِينَ فِيهِ ، فَإِذَا أَدْبَرَتْ ، فَاغْتَسِلِي ، وَتَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلاةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابوحبیش نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں ایک دو ماہ تک استحاضہ کا شکار رہتی ہوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ حیض نہیں ہے بلکہ کسی دوسری رگ کا مواد ہے، جب حیض آ جائے، تو تم اپنے ان مخصوص ایام میں نماز کو ترک کر دو جن ایام میں تمہیں پہلے حیض آیا کرتا تھا اور جب وہ دن گزر جائیں تو تم غسل کر کے ہر نماز کے لیے وضو کر لیا کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1354]

1355

Sahih Ibn Hibban #1355

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ ، فِي عَقِبِ خَبَرِ أَبِي حَمْزَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُسْتَحَاضَةِ ، فَقَالَ : تَدَعُ الصَّلاةَ أَيَّامَهَا ، ثُمَّ تَغْتَسِلُ غُسْلا وَاحِدًا ، ثُمَّ تَتَوَضَّأُ عِنْدَ كُلِّ صَلاةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے استحاضہ کا شکار عورت کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اپنے مخصوص ایام میں نماز کو ترک کر دے گی، پھر ایک ہی مرتبہ غسل کرے گی اور پھر ہر نماز کے وقت وضو کر لیا کرے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1355]

1356

Sahih Ibn Hibban #1356

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ السُّدِّيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْبَهِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْجَارِيَةِ : نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ " ، أَرَادَ أَنْ يَبْسُطَهَا ، فِيصَلِّي عَلَيْهَا ، فَقُلْتُ : إِنَّهَا حَائِضٌ ، فَقَالَ : " إِنَّحَيْضَتَهَا لَيْسَتْ فِي يَدِهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنیز سے فرمایا: ”مجھے جائے نماز پکڑاؤ“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ یہ تھا کہ اس کو بچھا کر اس پر نماز ادا کریں، میں نے عرض کی: وہ حیض کی حالت میں ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا حیض اس کے ہاتھ میں نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1356]

1357

Sahih Ibn Hibban #1357

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، عَنْ سُفِيانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ مِنَ الْمَسْجِدِ " ، قُلْتُ : إِنِّي حَائِضٌ ، قَالَ " إِنَّحَيْضَتَكِ لَيْسَتْ فِي يَدِكِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے مسجد میں سے چٹائی پکڑا دو۔“ میں نے عرض کی: میں حیض کی حالت میں ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1357]

1358

Sahih Ibn Hibban #1358

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ " ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : " إِنِّي حَائِضٌ " ، قَالَ : " إِنَّهَا لَيْسَتْ فِي يَدِكِ "، فَنَاوَلْتُهُ . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ الأَعْمَشَ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْبَهِيِّ ، وَالْقَاسِمِ جَمِيعًا ، عَنْ عَائِشَةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”چٹائی پکڑا دو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: میں حیض کی حالت میں ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے“، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ (چٹائی) پکڑا دی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت اعمش نے ثابت بن عبید کے حوالے سے بہی اور قاسم دونوں کے حوالے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1358]

1359

Sahih Ibn Hibban #1359

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : كُنْتُ أُرَجِّلُ رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا حَائِضٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں میں کنگھی کر دیا کرتی تھی، میں اس وقت حیض کی حالت میں ہوتی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1359]

1360

Sahih Ibn Hibban #1360

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، بِبُسْتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مِسْعَرٌ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : إِنْكُنْتُ لأُوتَى بِالإِنَاءِ وَأَنَا حَائِضٌ ، فَأَشْرَبُ مِنْهُ ، ثُمَّ يَأْخُذُهُ فِيضَعُ فَمَهُ عَلَى مَوْضِعِ فِي ، فِيشْرَبُ ، وَأَتَعَرَّقُ الْعَرْقَ وَأَنَا حَائِضٌ ، وَيَأْخُذُهُ فِيضَعُ فَمَهُ مَوْضِعَ فِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: بعض اوقات میرے سامنے کوئی برتن آتا اور میں حیض کی حالت میں ہوتی تھی، میں اس میں سے پانی پی لیتی تھی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہ برتن لے کر اپنا منہ مبارک اس جگہ رکھتے تھے جہاں میں نے اپنا منہ رکھا ہوتا تھا اور پانی پی لیتے تھے۔ اسی طرح میں حیض کی حالت میں کوئی ہڈی چوستی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے لے کر اپنا منہ اسی جگہ رکھتے تھے جہاں میں نے اپنا منہ رکھا ہوتا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1360]

1361

Sahih Ibn Hibban #1361

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمَقْدَامُ بْنُ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : إِنْ كُنْتُلآتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالإِنَاءِ ، فَآخُذُهُ فَأَشْرَبُ مِنْهُ ، فِيأْخُذُ ، فِيضَعُ فَاهُ مَوْضِعَ فِي فِيشْرَبُ ، وَإِنْ كُنْتُ لآخُذُ الْعَرْقَ مِنَ اللَّحْمِ فَآكُلُهُ ، فِيضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِي فِيأْكُلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کوئی برتن لے کر آتی، میں اسے لے کر اس میں سے پانی پی لیتی تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے لے کر اپنا منہ اس جگہ رکھتے تھے جہاں میں نے اپنا منہ رکھا ہوتا تھا اور پانی پی لیتے تھے۔ اسی طرح میں گوشت والی کوئی ہڈی لیتی اور اسے کھا لیتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منہ اسی جگہ رکھتے تھے جہاں میں نے اپنا منہ رکھا ہوتا تھا اور آپ اسے کھا لیتے تھے، حالانکہ میں اس وقت حیض کی حالت میں ہوتی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1361]

1362

Sahih Ibn Hibban #1362

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْوَاسِطِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمْةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ الْيَهُودَ كَانُوا إِذَا حَاضَتْ بَيْنَهُمُ امْرَأَةٌ أَخْرَجُوهَا مِنَ الْبُيُوتِ ، وَلَمْ يَأْكُلُوا مَعَهَا وَلَمْ يُشَارِبُوهَا ، وَلَمْ يُجَامِعُوهَا فِي الْبُيُوتِ ، فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا : وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ ، قُلْ هُوَ أَذًى ، فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اصْنَعُوا كُلَّ شَيْءٍ إِلا النِّكَاحَ " ، فَقَالَتِ الْيَهُودُ : مَا نَرَى هَذَا الرَّجُلَ يَدَعُ شَيْئًا مِنْ أَمْرِنَا إِلا يُخَالِفُنَا ، فَجَاءَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ ، وَعَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ فَقَالا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْيَهُودُ تَقُولُ كَذَا وَكَذَا ، أَفَلا نَنْكِحُهُنَّ فِي الْمَحِيضِ ؟ قَالَ : فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ قَدْ وَجَدَ عَلَيْهِمَا ، فَخَرَجَا ، فَاسْتَقْبَلَتْهُ هَدْيَةٌ مِنْ لَبَنٍ ، فَبَعَثَ فِي أَثَرِهِمَا ، فَظَنَنَّا أَنَّهُ لَمْ يَجِدْ عَلَيْهِمَا ، فَسَقَاهُمَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہودیوں کا یہ معمول تھا کہ جب ان میں سے کسی عورت کو حیض آ جاتا تھا، تو وہ اسے اپنے گھر سے نکال دیتے تھے (یعنی اس کے ساتھ کھاتے پیتے نہیں تھے) اور گھروں میں اس کے ساتھ نہیں ٹھہرتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا گیا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ﴾ [سورة البقرة: 222] ”لوگ تم سے حیض کے بارے میں دریافت کرتے ہیں، تو فرما دو! وہ گندگی ہے تم لوگ حیض کے دوران عورتوں سے الگ رہو۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” «اصْنَعُوا كُلَّ شَيْءٍ إِلَّا النِّكَاحَ» تم نکاح (یعنی صحبت) کے علاوہ سب کچھ کر سکتے ہو۔“ اس پر یہودیوں نے کہا: ہم نے یہ بات نوٹ کی ہے، یہ صاحب ہمارے معاملے میں ہر بات پر مخالفت کرتے ہیں۔ سیدنا اسید بن حضیر اور عباد بن بشر رضی اللہ عنہما آئے۔ ان دونوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! یہودیوں نے یہ بات کہی ہے، تو کیا ہم حیض کے دوران بیویوں کے ساتھ صحبت بھی نہ کر لیا کریں؟“ راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا، یہاں تک کہ ہم نے یہ گمان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں پر سخت ناراض ہوئے ہیں۔ یہ دونوں صاحبان چلے گئے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ کے طور پر دودھ پیش کیا گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو بلوایا۔ اس سے ہمیں اندازہ ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان پر سخت ناراض نہیں ہوئے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو (وہ دودھ پلوا دیا)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1362]

1363

Sahih Ibn Hibban #1363

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمْةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمْةَ حَدَّثَتْهُ ، أَنَّ أُمَّ سَلَمْةَ حَدَّثَتْهَا ، قَالَتْ : بَيْنَمَا أَنَا مُضْطَجِعَةٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمِيلَةِ إِذْ حِضْتُ ، فَانْسَلَلْتُ ، فَأَخَذْتُ ثِيَابَ حِيضَتِي ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :أَنَفِسْتِ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، فَدَعَانِي ، فَاضْطَجَعْتُ مَعَهُ فِي الْخَمِيلَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ زینب بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا: ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک لحاف میں لیٹ گئی، اسی دوران مجھے حیض آ گیا، تو میں کھسک کر باہر آ گئی، میں نے اپنے حیض کے کپڑے پہن لیے اور (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آئی) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا: ”کیا تمہیں حیض آیا ہے؟“ میں نے جواب دیا: جی ہاں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور میں آ کر آپ کے ساتھ لیٹ گئی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1363]

1364

Sahih Ibn Hibban #1364

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَأْمُرُ إِحْدَانَا إِذَا كَانَتْ حَائِضًا أَنْ تَتَّزِرَ ، ثُمَّ يُبَاشِرُهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب ہم (ازواج) میں سے کسی ایک کو حیض آ جاتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے یہ ہدایت کرتے تھے کہ وہ ”تہبند کو مضبوطی سے باندھ لے“ اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس خاتون کے ساتھ مباشرت کر لیتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1364]

1365

Sahih Ibn Hibban #1365

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حَبِيبٍ مَوْلَى عُرْوَةَ ، عَنْ نُدْبَةَ ، مَوْلاةِ مَيْمُونَةَ ، عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَان يُبَاشِرُ الْمَرْأَةَ مِنْ نِسَائِهِ وَهِيَ حَائِضٌ ، إِذَا كَانَ عَلَيْهَا إِزَارٌ يَبْلُغُ أَنْصَافَ الْفَخِذَيْنِ ، أَوِ الرُّكْبَتَيْنِ فَتَحْتَجِزُ بِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج میں سے کسی خاتون کے ساتھ مباشرت کر لیتے تھے حالانکہ وہ خاتون اس وقت حیض کی حالت میں ہوتی تھی، اور اس خاتون نے تہبند باندھا ہوا ہوتا تھا، جو نصف زانوں تک (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) گھٹنوں تک ہوتا تھا، وہ خاتون اسے لنگوٹ کے طور پر باندھ لیتی تھیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1365]

1366

Sahih Ibn Hibban #1366

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيُّ ، عَنْ أُمِّهِ صَفِيةَ ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَيَّ وَأَنَا حَائِضٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی تلاوت کر لیتے تھے حالانکہ آپ نے میرے ساتھ ٹیک لگائی ہوتی تھی (اور اس وقت) میں حیض کی حالت میں ہوتی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1366]

1367

Sahih Ibn Hibban #1367

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ إِحْدَانَا إِذَا كَانَتْ حَائِضًا أَنْ تَتَّزِرَ ، ثُمَّ يُبَاشِرُهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے کسی ایک (زوجہ محترمہ) کو، جبکہ وہ حیض کی حالت میں ہوتیں، یہ ہدایت کرتے تھے کہ ”تہبند باندھ لیں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس خاتون کے ساتھ مباشرت کر لیتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1367]

1368

Sahih Ibn Hibban #1368

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُضَاجِعُ بَعْضَ نِسَائِهِ وَهِيَ حَائِضٌ أَمَرَهَا ، فَاتَّزَرَتْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی کسی زوجہ محترمہ کے ساتھ لیٹتے اور اس وقت وہ حیض کی حالت میں ہوتیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے یہ حکم دیتے تھے کہ ”وہ تہبند باندھ لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1368]

1369

Sahih Ibn Hibban #1369

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، حَدَّثَنِي وَاصِلٌ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا جُنُبٌ ، فَأَهْوَى إِلَيَّ ، فَقُلْتُ : إِنِّي جُنُبٌ ، فَقَالَ : إِنَّالْمُسْلِمَ لا يَنْجُسُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجھ سے ملاقات ہوئی، میں اس وقت جنابت کی حالت میں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف ہاتھ بڑھایا تو میں نے عرض کی: میں جنابت کی حالت میں ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مسلمان نجس نہیں ہوتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1369]

1370

Sahih Ibn Hibban #1370

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا لَقِيَ الرَّجُلُ مِنْ أَصْحَابِهِ مَسَحَهُ وَدَعَا لَهُ ، قَالَ : فَرَأَيْتُهُ يَوْمًا بُكْرَةً ، فَحِدْتُ عَنْهُ ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ حِينَ ارْتَفَعَ النَّهَارُ ، فَقَالَ : إِنِّي رَأَيْتُكَ فَحِدْتَ عَنِّي " ، فَقُلْتُ : إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا ، فَخَشِيتُ أَنْ تَمَسَّنِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّالْمُسْلِمَ لا يَنْجُسُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنے اصحاب میں سے جب بھی کسی شخص کے ساتھ ملاقات ہوتی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر ہاتھ پھیرتے تھے اور اسے دعا دیا کرتے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے صبح کے وقت دیکھا تو ایک طرف ہٹ گیا، پھر دن چڑھ جانے کے بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے تمہیں دیکھا تھا کہ تم (مجھے دیکھ کر) ایک طرف ہٹ گئے تھے“، میں نے عرض کی: میں اس وقت جنابت کی حالت میں تھا، مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسی حالت میں مجھے مس نہ کر لیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مسلمان نجس نہیں ہوتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1370]

1371

Sahih Ibn Hibban #1371

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ الْفَزَارِيَّ ، يُحَدِّثُ عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْرِ ، ثُمَّ أَمَرَ بِالْبُدْنِ ، فَنُحِرَتْ وَالْحَلاقُ جَالِسٌ عِنْدَهُ ، فَسَوَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَوْمَئِذٍ شَعْرَهُ بِيَدِهِ ، ثُمَّ قَبَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى شَقِّ جَانِبِهِ الأَيْمَنِ عَلَى شَعْرِهِ " ، ثُمَّ قَالَ لِلْحَلاقِ : " احْلِقْ " فَحَلَقَ ، فَقَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَعْرَهُ يَوْمَئِذٍ بَيْنَ مَنْ حَضَرَهُ مِنَ النَّاسِ الشَّعَرَةَ وَالشَّعَرَتَيْنِ ، ثُمَّ قَبَضَ بِيَدِهِ عَلَى جَانِبِ شِقِّهِ الأَيْسَرِ عَلَى شَعْرِهِ " ، ثُمَّ قَالَ لِلْحَلاقِ : " احْلِقْ " ، فَحَلَقَ ، فَدَعَا أَبَا طَلْحَةَ الأَنْصَارِيَّ ، فَدَفَعَهُ إِلَيْهِ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " فِي قِسْمَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَعْرَهُ بَيْنَ أَصْحَابِهِ أَبْيَنُ الْبَيَانِ بِأَنَّ شَعْرَ الإِنْسَانِ طَاهِرٌ ، إِذِ الصَّحَابَةُ إِنَّمَا أَخَذُوا شَعْرَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَتَبَرَّكُوا بِهِ ، فَبَيْنَ شَادٍ فِي حُجْزَتِهِ ، وَمُمْسِكٍ فِي تِكَّتِهِ ، وَآخِذٍ فِي جَيْبِهِ ، يُصَلُّونَ فِيهَا ، وَيَسْعَوْنَ لِحَوَائِجِهِمْ وَهِيَ مَعَهُمْ ، وَحَتَّى إِنَّ عَامَّةً مِنْهُمْ أَوْصَوْا أَنْ تُجْعَلَ تِلْكَ الشَّعَرَةُ فِي أَكْفَانِهِمْ وَلَوْ كَانَ نَجِسًا لَمْ يَقْسِمْ عَلَيْهِمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّيْءَ النَّجِسَ وَهُوَ يَعْلَمْ أَنَّهُمْ يَتَبَرَّكُونَ بِهِ عَلَى حَسَبِ مَا وَصَفْنَا ، فَلَمْا صَحَّ ذَلِكَ مِنَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَحَّ ذَلِكَ مِنْ أُمَّتِهِ ، إِذْ مُحَالٌ أَنْ يَكُونَ مِنْهُ شَيْءٌ طَاهِرٌ ، وَمِنْ أُمَّتِهِ ذَلِكَ الشَّيْءُ بِعَيْنِهِ نَجِسًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن سیرین، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ قربانی کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ کو کنکریاں ماریں، پھر آپ کے حکم کے تحت قربانی کے اونٹوں کو نحر کر دیا گیا۔ سر مونڈنے والا شخص آپ کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دستِ مبارک کے ذریعے اپنے بال سیدھے کیے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بالوں کے دائیں طرف والے حصے کو اپنی مٹھی میں لیا اور حجام سے کہا: ”تم مونڈ دو“ اس نے انہیں مونڈ دیا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بال اس دن اپنے پاس موجود افراد میں ایک ایک، دو دو کر کے تقسیم کر دیے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بائیں طرف والے بال مٹھی میں لیے اور حجام سے کہا: ”انہیں مونڈ دو“ تو اس نے وہ مونڈ دیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کو بلایا اور وہ انہیں دے دیے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے اصحاب کے درمیان اپنے بال تقسیم کرنا اس بات کا واضح بیان ہے کہ انسان کا بال پاک ہوتا ہے کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک حاصل کیے تھے تاکہ اس کے ذریعے برکت حاصل کریں، تو کسی نے اسے اپنے تہبند میں رکھ لیا، کسی نے اسے اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا، کسی نے گریبان میں رکھ لیا اور وہ لوگ ان کے سمیت نماز ادا کرتے تھے اور وہ اپنی ضروریات پوری کیا کرتے تھے اور موئے مبارک ان کے ساتھ ہوتے تھے۔ یہاں تک کہ ان میں سے زیادہ تر نے وصیت کی کہ ان موئے مبارک کو ان کے کفن میں رکھا جائے۔ اگر یہ بال ناپاک ہوتے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ ناپاک چیز لوگوں میں تقسیم نہ کرتے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا علم بھی تھا کہ وہ اس طرح سے برکت حاصل کریں گے جس طریقے کا ہم نے ذکر کیا ہے، تو جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات مستند طور پر ثابت ہے، تو آپ کی امت کے حوالے سے بھی یہ بات مستند ہو گی کیونکہ یہ بات ناممکن ہے کہ ایک چیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود سے پاک ہو اور آپ کی امت کی طرف سے وہی چیز بعینہ ناپاک ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1371]

1372

Sahih Ibn Hibban #1372

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، بِحَرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ زَيْدٍ الْخَطَّابِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ ، عَنْ سُفِيانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَى بِالصِّبْيَانِ فِيحَنِّكُهُمْ ، فَأُتِيَ بِصَبِيٍّ ، فَبَالَ عَلَيْهِ ، فَأَتْبَعَهُ الْمَاءَ ، وَلَمْ يَغْسِلْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بچوں کو لایا جاتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں گھٹی دیتے تھے۔ ایک بچے کو لایا گیا تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پیشاب کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر پانی چھڑک دیا اور اس جگہ کو دھویا نہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1372]

1373

Sahih Ibn Hibban #1373

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفِيانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ الأَسَدِيَّةِ ، قَالَتْ : دَخَلْتُ بِابْنٍ لِي لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَالَ عَلَيْهِ ،فَدَعَا بِمَاءٍ ، فَرَشَّهُ عَلَيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام قیس بنت محصن اسدیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں اپنے بچے کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی جو کچھ کھاتا نہیں تھا۔ اس نے آپ پر پیشاب کر دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر اس پر چھڑک دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1373]

1374

Sahih Ibn Hibban #1374

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمْ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ أُمَّ قَيْسٍ بِنْتَ مِحْصَنٍ الأَسَدِيَّةَ ، أُخْتُ عُكَّاشَةَ بْنِ مِحْصَنٍ ، وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الَّتِي بَايَعَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لِي لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ ، فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَجْلَسَهُ فِي حِجْرِهِ ، فَبَالَ عَلَى ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاءً ، فَنَضَحَهُ وَلَمْ يَغْسِلْهُ ". قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : " فَمَضَتِ السُّنَّةُ بِأَنْ لا يُغْسَلَ مِنْ بَوْلِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَأْكُلَ الطَّعَامَ ، فَإِذَا أَكَلَ الطَّعَامَ غُسِلَ مِنْ بَوْلِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام قیس بنت محصن اسدیہ رضی اللہ عنہا جو سیدنا عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں اور ان مہاجر خواتین میں سے ایک ہیں، جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر بیعت کی تھی، وہ بیان کرتی ہیں: میں اپنے بچے کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی جو کچھ کھاتا نہیں تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پکڑا اور گود میں بٹھا لیا۔ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں پر پیشاب کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی لیا اور اس جگہ پر چھڑک دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دھویا نہیں۔ ابن شہاب کہتے ہیں: اس کے بعد یہ رواج چل پڑا کہ بچے کے پیشاب کو دھویا نہیں جاتا جب تک وہ کچھ کھانے کے قابل نہیں ہو جاتا، جب وہ کھانے لگے گا، تو اس کے پیشاب کو دھویا جائے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1374]

1375

Sahih Ibn Hibban #1375

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي بَوْلِ الرَّضِيعِ يُنْضَحُ بَوْلُ الْغُلامِ ، وَيُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِيَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پیتے بچے کے پیشاب کے بارے میں یہ فرمایا ہے: ”لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑک دیا جائے گا، اور لڑکی کے پیشاب کو دھویا جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1375]

1376

Sahih Ibn Hibban #1376

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ سُفِيانَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَأَنِّيأَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الْمِسْكِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں موجود مشک کی چمک کا منظر آج بھی میری نگاہ میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت احرام باندھے ہوئے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1376]

1377

Sahih Ibn Hibban #1377

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ مُصَحِّحٍ الْعَسْقَلانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلَمْ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، وَكِلاهُمَا ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَأَنِّيأَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الْمِسْكِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُلَبِّي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں موجود مشک کی چمک کا منظر گویا آج بھی میری نگاہ میں ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تلبیہ پڑھ رہے تھے (یعنی آپ حالتِ احرام میں تھے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1377]

1378

Sahih Ibn Hibban #1378

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا فِياضُ بْنُ زُهَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خُلَيْدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الْمِسْكُ هُوَ أَطْيَبُ الطِّيبِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مشک سب سے زیادہ پاکیزہ خوشبو ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1378]

1379

Sahih Ibn Hibban #1379

أَخْبَرَنَا شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ ، بِوَاسِطَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، وَالأَسْوَدِ ، أَنَّ رَجُلا نَزَلَ بِعَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، فَأَصْبَحَ يَغْسِلُ ثَوْبَهُ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : إِنَّمَا كَانَيُجْزِيكَ إِنْ رَأَيْتَهُ أَنْ تَغْسِلَ مَكَانَهُ ، وَإِنْ لَمْ تَرَهُ نَضَحْتَ حَوْلَهُ ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَفْرُكُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرْكًا ، فِيصَلِّي فِيهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علقمہ اور اسود رحمہما اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں مہمان کے طور پر ٹھہرا۔ صبح کے وقت اس نے اپنے کپڑے (یعنی بچھونے) کو دھو لیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تمہارے لیے یہ بھی جائز تھا کہ اگر تمہیں نجاست نظر آئی ہے، تو تم صرف اس کی جگہ کو دھو دو اور اگر وہ تمہیں نظر نہیں آ رہی تو تم اس کے آس پاس کی جگہ پر پانی چھڑک دو۔ مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے (منی کو) کھرچ دیتی تھی، اور آپ اس کپڑے میں نماز ادا کر لیتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1379]

1380

Sahih Ibn Hibban #1380

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلانَ ، بِأَذَنَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لُوَيْنٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : لَقَدْ رَأَيْتُنِيأَفْرُكُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فِيهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی کو کھرچ دیتی تھی اور آپ اس کپڑے میں نماز ادا کر لیا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1380]

1381

Sahih Ibn Hibban #1381

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ الْجَزَرِيُّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كُنْتُأَغْسِلُ الْجَنَابَةَ مِنْ ثَوْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيخْرُجُ إِلَى الصَّلاةِ ، وَإِنَّ بُقْعَ الْمَاءِ لَفِي ثَوْبَهِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " كَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَغْسِلُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ رَطْبًا ، لأَنَّ فِيهِ اسْتِطَابَةً لِلنَّفَسِ ، وَتَفْرِكُهُ إِذَا كَانَ يَابِسًا ، فِيصَلِّي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ ، هَكَذَا نَقُولُ وَنَخْتَارُ : إِنَّ الرَّطْبَ مِنْهُ يُغْسَلُ لِطِيبِ النَّفْسِ ، لا أَنَّهُ نَجِسٌ ، وَإِنَّ الْيَابِسَ مِنْهُ يُكْتَفَى مِنْهُ بِالْفَرْكِ اتِّبَاعًا لِلسُّنَّةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے جنابت کو دھو دیتی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے تشریف لے جاتے تھے حالانکہ پانی کا نشان آپ کے کپڑے پر موجود ہوتا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1381]

1382

Sahih Ibn Hibban #1382

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، بِبُسْتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، قَالا : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : كُنْتُأَغْسِلُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيخْرُجُ إِلَى الصَّلاةِ ، وَإِنَّهُ لِيُرَى أَثَرُ الْبُقَعِ فِي ثَوْبِهِ "، قَالَ الْحُلْوَانِيُّ فِي حَدِيثِهِ : حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ ، قَالَ : أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے جنابت (یعنی منی) کو دھو دیتی تھی، آپ نماز کے لیے تشریف لے جاتے تھے، تو پانی کا نشان آپ کے کپڑے پر موجود ہوتا تھا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی کو اس وقت دھوتی تھیں جب وہ تر ہوتی تھی کیونکہ اس صورت میں آدمی کو زیادہ پاکیزگی محسوس ہوتی ہے اور جب وہ خشک ہوتی تھی، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اسے کھرچ دیتی تھیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کپڑے میں نماز ادا کر لیتے تھے۔ ہم بھی اس کے مطابق فتویٰ دیتے ہیں اور ہم اس قول کو اختیار کرتے ہیں کہ جب منی تر ہو گی، ذہن کے اطمینان کے لیے اس کو دھو لیں گے اس وجہ سے نہیں کہ وہ ناپاک ہے اور جب منی خشک ہو تو سنت کی پیروی کرتے ہوئے اسے کھرچنے پر اکتفا کیا جائے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1382]

1383

Sahih Ibn Hibban #1383

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمْ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلالٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قِيلَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : حَدِّثْنَا مِنْ شَأْنِ الْعُسْرَةِ ، قَالَ : خَرَجْنَا إِلَى تَبُوكَ فِي قَيْظٍ شَدِيدٍ ، فَنَزَلْنَا مَنْزِلا ، أَصَابَنَا فِيهِ عَطَشٌ ، حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّ رِقَابَنَا سَتَنْقَطِعُ ، حَتَّى إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَذْهَبُ يَلْتَمِسُ الْمَاءَ ، فَلا يَرْجِعُ حَتَّى نَظُنَّ أَنَّ رَقَبَتَهُ سَتَنْقَطِعُ ، حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَنْحَرُ بَعِيرَهُ فِيعْصِرُ فَرْثَهُ فِيشْرَبُهُ ، وَيَجْعَلُ مَا بَقِيَ عَلَى كَبِدِهِ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ عَوَّدَكَ اللَّهُ فِي الدُّعَاءِ خَيْرًا ، فَادْعُ لَنَا ، فَقَالَ : أَتُحِبُّ ذَلِكَ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ :" فَرَفَعَ يَدَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يُرْجِعْهُمَا حَتَّى أَظَلَّتْ سَحَابَةٌ ، فَسَكَبَتْ ، فَمَلئُوا مَا مَعَهُمْ ، ثُمَّ ذَهَبْنَا نَنْظُرُ ، فَلَمْ نَجِدْهَا جَاوَزَتِ الْعَسْكَرَ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : " فِي وَضْعِ الْقَوْمِ عَلَى أَكْبَادِهِمْ مَا عَصَرُوا مِنْ فَرْثِ الإِبِلِ وَتَرْكِ أَمْرِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهُمْ بَعْدَ ذَلِكَ بِغَسْلِ مَا أَصَابَ ذَلِكَ مِنْ أَبْدَانِهِمْ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ أَرْوَاثَ مَا يُؤْكَلُ لُحُومُهَا طَاهِرَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے یہ کہا گیا کہ آپ ہمیں غزوہ تبوک کے بارے میں کچھ بتائیے، تو انہوں نے بتایا کہ ہم شدید گرمی کے موسم میں تبوک کی طرف روانہ ہوئے، ہم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا، وہاں ہمیں پیاس لاحق ہو گئی یہاں تک کہ ہمیں یوں محسوس ہوا جیسے ہماری گردنیں کٹ جائیں گی (یعنی ہم پیاس کی شدت سے مر جائیں گے)، یہاں تک کہ یہ عالم ہو گیا کہ ایک شخص پانی کی تلاش میں جاتا اور وہ واپس نہ آتا تو ہم یہ گمان کرتے کہ شاید وہ مر گیا ہے، ایک شخص اپنے اونٹ کو قربان کرتا، وہ اس کے گوبر کو نچوڑ کر اسے پیتا تھا اور باقی بچ جانے والے حصے کو اپنے جگر پر رکھ لیتا تھا۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا میں بھلائی رکھی ہے، تو آپ ہمارے لیے دعا کیجئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تم یہ چاہتے ہو؟“ انہوں نے عرض کی: جی ہاں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کر دیے، ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ واپس نہیں آئے تھے کہ بادل نے سایہ کر دیا اور بارش شروع ہو گئی۔ لوگوں نے اپنے پاس موجود سب چیزیں بھر لیں، پھر اس کے بعد ہم نے اس بات کا جائزہ لیا تو لشکر سے آگے کہیں بارش نہیں ہوئی تھی (یعنی صرف لشکر کے اوپر بارش ہوئی تھی)۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) لوگوں کا اونٹ کے گوبر کا نچوڑے ہوئے پانی کو اپنے جگر پر رکھ لینا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان لوگوں کو اپنے جسم پر لگی ہوئی اس چیز کو دھونے کا حکم نہ دینا اس بات کی دلیل ہے کہ جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہے ان کا گوبر پاک ہوتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1383]

1384

Sahih Ibn Hibban #1384

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، بِبُسْتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا لَمْ تَجِدُوا إِلا مَرَابِضَ الْغَنَمِ ، وَمَعَاطِنَ الإِبِلِ فَصَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ ، وَلا تُصَلُّوا فِي مَعَاطِنِ الإِبِلِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تمہیں (نماز ادا کرنے کے لیے) صرف بکریوں کا باڑا اور اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ ملے، تو تم بکریوں کے باڑے میں نماز ادا کر لو، لیکن اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ پر نماز ادا نہ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1384]

1385

Sahih Ibn Hibban #1385

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ ". أَبُو التَّيَّاحِ يَزِيدُ بْنُ حُمَيْدٍ الضُّبَعِيُّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بکریوں کے باڑے میں نماز ادا کر لیا کرتے تھے۔ امام ابوحاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابوتیاح یزید بن حمید ضبعی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1385]

1386

Sahih Ibn Hibban #1386

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمْةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَدِمَ أَعْرَابٌ مِنْ عُرَيْنَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاجْتَوَوَا الْمَدِينَةَ ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا ، فَشَرِبُوا حَتَّى صَحُّوا ، فَقَتَلُوا رُعَاتَهَا وَاسْتَاقُوا الإِبِلَ ، فَبَعَثَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَلَبِهِمْ ، فَأُتِيَ بِهِمْ ، فَقَطَعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ ". قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ لأَنَسٍ : وَهُوَ يُحَدِّثُهُ بِكُفْرٍ أَوْ بِذَنْبٍ ؟ قَالَ : بِكُفْرٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عرینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے کچھ دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ مدینہ منورہ کی آب و ہوا انہیں موافق نہیں آئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی کہ ”وہ اونٹوں کا دودھ اور ان کا پیشاب پئیں“، ان لوگوں نے وہ پیا تو وہ صحت مند ہو گئے۔ انہوں نے اونٹوں کے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹوں کو ہانک کر لے گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاش میں لوگ روانہ کیے، انہیں پکڑ کر لایا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ اور پاؤں کٹوا دیے اور ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھروا دیں۔ عبدالملک نامی راوی نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: کیا ان کے کفر کی وجہ سے ایسا کیا گیا تھا یا ان کے گناہ (قتل) کی وجہ سے؟ تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ان کے کفر کی وجہ سے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1386]

1387

Sahih Ibn Hibban #1387

أَخْبَرَنَا الْخَلِيلُ بْنُ أَحْمَدَ ابْنُ بِنْتِ تَمِيمِ بْنِ الِمَنْتَصِرِ ، بِوَاسِطَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ السُّكَّرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَمَرَ الْعُرَنِيِّينَ أَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِ الإِبِلِ وَأَلْبَانِهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو یہ حکم دیا تھا کہ ”وہ اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پئیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1387]

1388

Sahih Ibn Hibban #1388

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ ، بِالأُبُلَّةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّيْمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ وَفْدَ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاجْتَوَوَا الْمَدِينَةَ ، فَبَعَثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لِقَاحِهِ ، فَقَالَ : اشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا ، وَأَبْوَالِهَا " ، فَشَرِبُوا ، حَتَّى صَحُّوا ، وَسَمِنُوا ، فَقَتَلُوا رَاعِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَاسْتَاقُوا الذَّوْدَ ، وَارْتَدُّوا ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آثَارِهِمْ ، فَجِيءَ بِهِمْ ، " فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ ، وَتَرَكَهُمْ فِي الرَّمْضَاءِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عرینہ قبیلے کا وفد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، مدینہ منورہ کی آب و ہوا انہیں موافق نہیں آئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے اونٹوں کی طرف بھیج دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم ان کا دودھ اور ان کا پیشاب پیو۔“ ان لوگوں نے وہ پیا تو وہ صحت مند ہو گئے اور موٹے تازے ہو گئے۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹ ہانک کر لے گئے۔ وہ لوگ مرتد ہو گئے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے لوگ روانہ کیے۔ انہیں پکڑ کر لایا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں کٹوا دیے، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھروا دیں اور انہیں تپتے ہوئے پتھروں پر پھینکوا دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1388]

1389

Sahih Ibn Hibban #1389

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمْةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ سُوَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ بِأَرْضِنَاأَعْنَابًا نَعْتَصِرُهَا ، وَنَشْرَبُ مِنْهَا ، قَالَ : لا تَشْرَبْ " ، قُلْتُ : أَفَنَشْفِي بِهَا الْمَرْضَى ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّمَا ذَلِكَ دَاءٌ ، وَلَيْسَ بِشِفَاءٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا طارق بن سوید حضرمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہمارے علاقے میں انگور ہوتے ہیں، ہم انہیں نچوڑ کر اسے پی لیتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اسے نہ پیو۔“ میں نے عرض کی: کیا ہم اس کے ذریعے اپنے بیماروں کو دوا دے سکتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ بیماری ہے، شفا نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1389]

1390

Sahih Ibn Hibban #1390

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلْقَمَةَ بْنَ وَائِلٍ ، يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ وَائِلِ بْنِ حُجْر ، أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ طَارِقٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَمْرِ ، وَقَالَ : إِنَّا نَصْنَعُهَا ، فَنَهَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهَا دَوَاءٌ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّهَا لَيْسَتْ بِدَوَاءٍ ، وَلَكِنَّهَا دَاءٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، سیدنا سوید بن طارق رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شراب کے بارے میں دریافت کیا، انہوں نے عرض کی: ہم اسے تیار کرتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سے منع کر دیا۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ دوا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ دوا نہیں بلکہ یہ بیماری ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1390]

1391

Sahih Ibn Hibban #1391

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ مُخَارِقٍ ، قَالَ : قَالَتْ أُمُّ سَلَمْةَ : اشْتَكَتِ ابْنَةٌ لِي ، فَنَبَذْتُ لَهَا فِي كُوزٍ ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ يَغْلِي ، فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ " فَقَالَتْ : إِنَّ ابْنَتِي اشْتَكَتْ فَنَبَذْنَا لَهَا هَذَا ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّاللَّهَ لَمْ يَجْعَلْ شِفَاءَكُمْ فِي حَرَامٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میری ایک بیٹی بیمار ہو گئی، میں نے اس کے لیے ایک کوزے میں نبیذ تیار کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، تو اس میں جوش آ چکا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”یہ کیا ہے؟“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: میری ایک بیٹی بیمار ہے، ہم نے اس کے لیے نبیذ تیار کی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے حرام میں تمہارے لیے شفا نہیں رکھی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1391]