Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 13 · Chapter 3

Continuation of the Book of Prayer

Hadith 1432–1465

34 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

1432

Sahih Ibn Hibban #1432

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَاشِمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَلْقَمَةَ : هَلْ كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ شَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَيْلَةَ الْجِنِّ ؟ فَقَالَ عَلْقَمَةُ : أَنَا سَأَلْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ ، فَقُلْتُ : هَلْ شَهِدَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ ؟ فَقَالَ : لا ، كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَفَقَدْنَاهُ ، فَالْتَمَسْنَاهُ فِي الأَوْدِيَةِ وَالشِّعَابِ ، فَقُلْنَا : اسْتُطِيرَ أَوِ اغْتِيلَ ، قَالَ : فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ بَاتَ بِهَا قَوْمٌ ، فَلَمْا أَصْبَحْنَا إِذَا هُوَ جَاءَ مِنْ قِبَلِ حِرَاءَ ، قَالَ : فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَدْنَاكَ فَطَلَبْنَاكَ ، فَلَمْ نَجِدْكَ ، فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ بَاتَ بِهَا قَوْمٌ ، فَقَالَ :" أَتَانِي دَاعِي الْجِنِّ ، فَذَهَبْتُ مَعَهُ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ " ، قَالَ : فَانْطَلَقَ بِنَا ، فَأَرَانَا نِيرَانَهُمْ ، وَسَأَلُوهُ الزَّادَ ، فَقَالَ : " لَكُمْ كُلُّ عَظْمٍ ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، يَقَعُ فِي أَيْدِيكُمْ أَوْفَرَ مَا يَكُونُ لَحْمًا ، وَكُلُّ بَعْرٍ عَلَفٌ لِدَوَابِّكُمْ " ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَلا تَسْتَنْجُوا بِالْعَظْمِ ، وَلا بِالْبَعْرِ ، فَإِنَّهُ زَادُ إِخْوَانِكُمْ مِنَ الْجِنِّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام شعبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے علقمہ سے سوال کیا: کیا جنات سے ملاقات کی رات سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے؟ تو علقمہ نے بتایا: میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کیا تھا۔ میں نے دریافت کیا: کیا جنوں سے ملاقات کی رات آپ میں سے کوئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا؟ تو انہوں نے بتایا: جی نہیں، ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک رات موجود تھے، ہم نے آپ کو غیر موجود پایا، ہم نے گھاٹیوں اور نشیبی علاقوں میں آپ کو تلاش کیا، ہم نے یہ سوچا شاید آپ کو چپکے سے یا دھوکے کے ساتھ شہید کر دیا گیا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ہماری وہ رات ایسی تھی جیسے کسی قوم نے سب سے زیادہ بری رات بسر کی ہو۔ جب صبح کا وقت ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غارِ حرا کی طرف سے تشریف لائے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم نے آپ کو غیر موجود پایا، ہم نے آپ کو تلاش کیا آپ ہمیں نہیں ملے، تو ہم نے اس طرح رات بسر کی جس طرح کسی قوم نے انتہائی بری حالت میں بسر کی ہو گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس جنوں کی طرف سے ایک نمائندہ آیا تھا میں ان کے ساتھ چلا گیا۔ میں نے ان کے سامنے قرآن کی تلاوت کی۔“ راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ساتھ لے کر گئے اور آپ نے ہمیں ان کی آگ کے نشانات دکھائے۔ ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زادِ راہ کی درخواست کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر وہ ہڈی جس پر اللہ کا ذکر کر دیا جائے وہ تمہارے ہاتھوں میں جب آئے گی اس پر پہلے سے زیادہ گوشت لگا ہوا ہو گا، اور ہر مینگنی تمہارے جانوروں کا چارا ہو گی۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ہم سے) فرمایا: ”تم لوگ ہڈی یا مینگنی کے ذریعے استنجا نہ کرو کیونکہ یہ تمہارے جنات بھائیوں کی خوراک ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1432]

1433

Sahih Ibn Hibban #1433

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَطَّانُ ، بِتِنِّيسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِشْكَابَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، حَدَّثَنَا سُفِيانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْيَمَسَّ الرَّجُلُ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ ”آدمی اپنے دائیں ہاتھ سے اپنی شرم گاہ کو چھوئے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1433]

1434

Sahih Ibn Hibban #1434

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلَمْ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِذَا بَالَ أَحَدُكُمْ فَلا يَمْسَحْ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ ، وَلا يَسْتَنْجِي بِيَمِينِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن ابوقتادہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد (سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ) نے مجھے یہ بات بتائی ہے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب کوئی شخص پیشاب کرے، تو اپنے دائیں ہاتھ کے ذریعے اپنی شرم گاہ کو نہ چھوئے اور نہ ہی اپنے دائیں ہاتھ کے ذریعے استنجا کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1434]

1435

Sahih Ibn Hibban #1435

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ ، وَاللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الاسْتِنْجَاءِ بِالْيَمِينِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”دائیں ہاتھ سے استنجا کرنے“ سے منع کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1435]

1436

Sahih Ibn Hibban #1436

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، أَخْبَرَنَا سُفِيانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلالِ بْنِ يِسَافٍ ، عَنْ سَلَمْةَ بْنِ قَيْسٍ الأَشْجَعِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا تَوَضَّأْتَ فَاسْتَنْثِرْ ، وَإِذَا اسْتَجْمَرْتَ فَأَوْتِرْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سلمہ بن قیس اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب تم وضو کرو، تو ناک میں بھی پانی ڈالا کرو اور جب تم (استنجا کرتے ہوئے) پتھر استعمال کرو، تو طاق تعداد میں کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1436]

1437

Sahih Ibn Hibban #1437

أَخْبَرَنَا هَاشِمُ بْنُ يَحْيَى أَبُو السَّرِيِّ ، بِنَصِيبِينَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُوتِرْ ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ ، أَمَا تَرَى السَّمَاوَاتِ سَبْعًا ، وَالأَيَّامَ سَبْعًا ، وَالطَّوَافَ ؟ " ، وَذَكَرَ أَشْيَاءَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی شخص پتھر استعمال کرے، تو طاق تعداد میں کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ «إِنَّ اللهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ» ”طاق ہے، وہ طاق کو پسند کرتا ہے“، کیا تم نے دیکھا نہیں ہے؟ آسمان سات ہیں، دن سات ہیں، طواف (کے چکر) سات ہیں۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور بھی کچھ چیزوں کا تذکرہ فرمایا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1437]

1438

Sahih Ibn Hibban #1438

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلانِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَأَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولانِ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيَسْتَنْثِرْ ، وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الاسْتِنْثَارُ هُوَ إِخْرَاجُ الْمَاءِ مِنَ الأَنْفِ ، وَالاسْتِنْشَاقُ : إِدْخَالُهُ فِيهِ ، فَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيَسْتَنْثِرْ " أَرَادَ فَلْيَسْتَنْشِقْ ، فَأَوْقَعَ اسْمَ الْبِدَايَةِ الَّذِي هُوَ الاسْتِنْشَاقُ عَلَى النِّهَايَةِ الَّذِي هُوَ الاسْتِنْثَارُ ، لأَنَّهُ لا يُوجَدُ الاسْتِنْثَارُ إِلا بِتَقَدُّمِ الاسْتِنْشَاقِ لَهُ ، وَالاسْتِجْمَارُ هُوَ الاسْتِطَابَةُ ، وَهُوَ إِزَالَةُ النَّجَاسَةِ عَنِ الْمَخْرَجَيْنِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص وضو کرے اسے ناک میں پانی ڈالنا چاہیے اور جو شخص پتھر استعمال کرے اسے طاق تعداد میں کرنے چاہئیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) لفظ «اِسْتِنْثَار» سے مراد ناک سے پانی کو باہر نکالنا ہے اور «اِسْتِنْشَاق» سے مراد ناک میں پانی کو داخل کرنا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”جو شخص وضو کرے اسے استنثار کرنا چاہیے“ اس سے مراد یہ ہے کہ اسے استنشاق کرنا چاہیے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں آغاز کے لفظ «اِسْتِنْشَاق» کو اختتام کے لیے استعمال کیا ہے، جو «اِسْتِنْثَار» ہے کیونکہ «اِسْتِنْثَار» صرف اس وقت پایا جاتا ہے، جب اس سے پہلے «اِسْتِنْشَاق» موجود ہو اور «اِسْتِجْمَار» سے مراد پاکیزگی حاصل کرنا یعنی دونوں مخرجوں سے نجاست کو زائل کرنا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1438]

1439

Sahih Ibn Hibban #1439

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَلْيَجْعَلِ الْمَاءَ فِي أَنْفِهِ ، ثُمَّ لِيَنْثِرْ ، وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی شخص وضو کرے تو اسے اپنی ناک میں پانی ڈال کر صاف کرنا چاہیے اور جو شخص پتھر استعمال کرے اسے طاق تعداد میں کرنا چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1439]

1440

Sahih Ibn Hibban #1440

وَكَانَيَأْمُرُ بِثَلاثَةِ أَحْجَارٍ ، وَيَنْهَى عَنِ الرَّوْثِ ، وَالرِّمَّةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں تمہارے لیے والد کی جگہ ہوں، جب کوئی شخص قضائے حاجت کے لیے جائے، تو وہ قبلہ کی طرف رخ یا پیٹھ نہ کرے اور اپنے دائیں ہاتھ کے ذریعے استنجا نہ کرے۔“ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تین پتھر استعمال کرنے کا حکم دیتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مینگنی اور بوسیدہ ہڈی (کے ذریعے استنجا کرنے) سے منع کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1440]

1441

Sahih Ibn Hibban #1441

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ طَلْحَةَ الْيَرْبُوعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَائِمًا الْعَشْرَ قَطُّ ، وَلا خَرَجَ مِنَ الْخَلاءِ إِلا مَسَّ مَاءً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے کبھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو (ذوالحج کے ابتدائی) دس دنوں میں روزہ رکھتے ہوئے نہیں دیکھا، آپ جب بھی قضائے حاجت کر کے تشریف لاتے تھے، تو پانی استعمال کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1441]

1442

Sahih Ibn Hibban #1442

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي مُعَاذٍ وَهُوَ عَطَاءُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مِنْ حَاجَتِهِ ، أَجِيءُ أَنَا وَغُلامٌ مِنَ الأَنْصَارِ ، بِإِدَاوَةٍ مِنْ مَاءٍ ، فِيسْتَنْجِي بِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کر کے باہر تشریف لائے، تو میں اور انصار سے تعلق رکھنے والا ایک لڑکا برتن میں پانی لے کر آئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ذریعے استنجا کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1442]

1443

Sahih Ibn Hibban #1443

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : مُرْنَ أَزْوَاجَكُنَّ أَنْيَسْتَطِيبُوا بِالْمَاءِ ، فَإِنِّي أَسْتَحْيِيهِمْ مِنْهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَفْعَلُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے (خواتین سے) فرمایا: تم اپنے شوہروں کو کہو کہ وہ پانی کے ذریعے استنجا کیا کریں، کیونکہ مجھے اس حوالے سے ان سے (بات کرتے ہوئے) شرم آتی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1443]

1444

Sahih Ibn Hibban #1444

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ : دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، فَسَمِعْتُهَا تَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا خَرَجَ مِنَ الْخَلاءِ قَالَ : غُفْرَانَكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یوسف بن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے ان کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء سے باہر تشریف لاتے تو یہ پڑھتے تھے: «غُفْرَانَكَ» ”(یعنی میں تجھ سے تیری مغفرت طلب کرتا ہوں)“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1444]

1445

Sahih Ibn Hibban #1445

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى خَتٌّ ، وَكَانَ كَخَيْرِ الرِّجَالِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمْةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ كُرَيْبًا ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ : فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَامَ ، فَبَالَ ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ، ثُمَّ نَامَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رات بسر کی، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ اٹھے، آپ نے پیشاب کیا، پھر آپ نے اپنے چہرے کو دھویا اور پھر سو گئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1445]

1446

Sahih Ibn Hibban #1446

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفِيانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ بْنَ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيَّ ، يُحَدِّثُ ، أَنَّ رَجُلا قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : أَلا تَغْزُو ؟ فَقَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : بُنِيَ الإِسْلامُ عَلَى خَمْسٍ : شَهَادَةِ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَإِقَامِ الصَّلاةِ ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ ، وَحَجِّ الْبَيْتِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عکرمہ بن خالد مخزوی بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ جنگوں میں حصہ کیوں نہیں لیتے؟ انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، نماز قائم کرنا، زکاۃ دینا، رمضان کے روزے رکھنا اور بیت اللہ کا حج کرنا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1446]

1447

Sahih Ibn Hibban #1447

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عِمْرَانَ الْجُرْجَانِيُّ ، بِحَلَبَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَمِ افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَى عِبَادِهِ مِنَ الصَّلاةِ ؟ قَالَ : خَمْسُ صَلَوَاتٍ " ، قَالَ : هَلْ قَبْلَهُنَّ أَوْ بَعْدَهُنَّ شَيْءٌ ؟ قَالَ : "افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَى عِبَادِهِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ " فَقَالَ : هَلْ قَبْلَهُنَّ أَوْ بَعْدَهُنَّ شَيْءٌ ؟ قَالَ : " افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَى عِبَادِهِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ " ، قَالَ : فَحَلَفَ الرَّجُلُ بِاللَّهِ لا يَزِيدُ عَلَيْهِنَّ ، وَلا يَنْقُصُ مِنْهُنَّ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ صَدَقَ دَخَلَ الْجَنَّةَ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ أَنَسٌ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَسَمِعَ الْقِصَّةَ بِطُولِهَا عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ ، وَسَمِعَ بَعْضَ الْقِصَّةِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، فَالطُّرُقُ الثَّلاثُ كُلُّهَا صِحَاحٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پانچ نمازیں“، اس نے دریافت کیا: ان سے پہلے یا ان کے بعد کوئی اور چیز (یعنی مزید کوئی نماز) بھی لازم ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں“، اس نے عرض کی: ان سے پہلے یا ان کے بعد کچھ اور بھی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں“، راوی بیان کرتے ہیں: تو اس شخص نے اللہ کے نام کی قسم اٹھائی کہ وہ ان پر کوئی اضافہ نہیں کرے گا اور ان میں کوئی کمی نہیں کرے گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر اس نے سچ کہا ہے، تو یہ جنت میں داخل ہو جائے گا“، (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے یہ روایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے کہ انہوں نے یہ واقعہ تفصیل کے ساتھ سیدنا مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ سے سنا ہے اور اس واقعہ کا کچھ حصہ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے سنا ہے، تو اس کے تینوں طرق مستند ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1447]

1448

Sahih Ibn Hibban #1448

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ كَانَ قَاعِدًا عَلَى بَابِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي إِمَارَتِهِ عَلَى الْمَدِينَةِ ، وَمَعَهُ عُرْوَةُ ، فَأَخَّرَ عُمَرُ الْعَصْرَ شَيْئًا ، فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ : أَمَا إِنَّ جِبْرِيلَ نَزَلَ فَصَلَّى أَمَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ عُمَرُ : أَعْلَمْ مَا تَقُولُ يَا عُرْوَةُ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ بَشِيرَ بْنَ أَبِي مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : نَزَلَ جِبْرِيلُ فَصَلَّى ، فَصَلَّيْتُ مَعَهُ ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ " ، فَحَسَبَ بِأَصَابِعِهِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن شہاب رحمہ اللہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے وہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے مدینہ منورہ کے گورنر ہونے کے زمانے میں ان کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے ساتھ عروہ رحمہ اللہ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے عصر کی نماز میں کچھ تاخیر کر دی تو عروہ رحمہ اللہ نے ان سے کہا: سیدنا جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے نماز ادا کی، تو عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے کہا: اے عروہ! آپ دھیان کریں کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں، تو عروہ رحمہ اللہ نے کہا: میں نے بشیر بن ابومسعود رحمہ اللہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔ میں نے سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے وہ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے انہوں نے نماز ادا کی میں نے ان کی اقتدا میں نماز ادا کی پھر میں نے ان کی اقتدا میں نماز ادا کی پھر میں نے ان کی اقتدا میں نماز ادا کی پھر میں نے ان کی اقتدا میں نماز ادا کی پھر میں نے ان کی اقتدا میں نماز ادا کی۔“ انہوں نے اپنی انگلیوں پر شمار کر کے پانچ نمازوں کے بارے میں بتایا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1448]

1449

Sahih Ibn Hibban #1449

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ مِنْ كِتَابِهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ كَانَ قَاعِدًا عَلَى الِمَنْبَرِ ، فَأَخَّرَ الصَّلاةَ شَيْئًا ، فَقَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ : أَمَا إِنَّ جِبْرِيلَ قَدْ أَخْبَرَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَقْتِ الصَّلاةِ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : اعْلَمْ مَا تَقُولُ ، فَقَالَ عُرْوَةُ : سَمِعْتُ بَشِيرَ بْنَ أَبِي مَسْعُودٍ يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيَّ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : نَزَلَ جِبْرِيلُ ، فَأَخْبَرَنِي بِوَقْتِ الصَّلاةِ ، فَصَلَّيْتُ مَعَهُ ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ " ، فَحَسَبَ بِأَصَابِعِهِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ ، " وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ ، وَرُبَّمَا أَخَّرَهَا حِينَ يَشْتَدُّ الْحَرُّ ، وَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَاءُ قَبْلَ أَنْ تَدْخُلَهَا الصُّفْرَةُ ، فِينْصَرِفُ الرَّجُلُ مِنَ الصَّلاةِ ، فِيأْتِي ذَا الْحُلَيْفَةِ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ ، وَيُصَلِّي الْمَغْرِبَ حِينَ تَسْقُطُ الشَّمْسُ ، وَيُصَلِّي الْعِشَاءَ حِينَ يَسْوَدُّ الأُفُقُ ، وَرُبَّمَا أَخَّرَهُ حَتَّى يَجْتَمِعَ النَّاسُ ، وَصَلَّى الصُّبْحَ مَرَّةً بِغَلَسٍ ، وَصَلَّى مَرَّةً أُخْرَى فَأَسْفَرَ بِهَا ، ثُمَّ كَانَتْ صَلاتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ بِالْغَلَسِ حَتَّى مَاتَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَمْ يَعُدْ إِلَى أَنْ يُسْفِرَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسامہ بن زید بیان کرتے ہیں کہ ابن شہاب نے انہیں بتایا کہ ایک مرتبہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ منبر پر بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے نماز میں کچھ تاخیر کر دی تو عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے یہ کہا: سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نمازوں کے اوقات کے بارے میں بتایا ہے، عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ان سے کہا: آپ غور کریں کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں! تو عروہ رحمہ اللہ نے کہا: میں نے بشیر بن ابومسعود کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جبرائیل نازل ہوئے، انہوں نے مجھے نماز کے وقت کے بارے میں بتایا، تو میں نے ان کے ہمراہ نماز ادا کی، پھر میں نے ان کے ہمراہ نماز ادا کی، پھر میں نے ان کے ہمراہ نماز ادا کی، پھر میں نے ان کے ہمراہ نماز ادا کی، پھر میں نے ان کے ہمراہ نماز ادا کی۔“ راوی نے اپنی انگلیوں پر حساب کر کے پانچ نمازوں کے بارے میں بتایا، (راوی بیان کرتے ہیں) میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے ظہر کی نماز اس وقت ادا کی جب سورج ڈھل گیا تھا، جب گرمی شدید ہوتی تھی تو آپ بعض اوقات اس نماز کو تاخیر سے بھی ادا کرتے تھے اور میں نے آپ کو دیکھا ہے، آپ عصر کی نماز اس وقت ادا کرتے تھے جب سورج بلند اور چمک دار ہوتا تھا، ابھی اس میں زردی شامل نہیں ہوئی ہوتی تھی، اور کوئی شخص نماز سے فارغ ہونے کے بعد سورج غروب ہونے سے پہلے ذوالحلیفہ جا سکتا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سورج غروب ہو جانے کے بعد مغرب کی نماز ادا کر لیتے تھے اور آپ عشاء کی نماز اس وقت ادا کرتے تھے جب افق سیاہ ہو جاتا تھا، بعض اوقات آپ اس نماز کو تاخیر سے ادا کرتے تھے، یہاں تک کہ لوگ اکٹھے ہو جاتے تھے، صبح کی نماز آپ کبھی اندھیرے میں ادا کر لیتے تھے اور کبھی روشنی میں ادا کرتے تھے، پھر اس کے بعد آپ صبح کی نماز اندھیرے میں ہی ادا کرنے لگے، یہاں تک کہ (اسی معمول کے مطابق) آپ کا انتقال ہو گیا، آپ نے دوبارہ روشنی میں یہ نماز ادا نہیں کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1449]

1450

Sahih Ibn Hibban #1450

قَالَ عُرْوَةُ : وَلَقَدْ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا قَبْلَ أَنْ تَظْهَرَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن شہاب بیان کرتے ہیں کہ ایک دن عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اپنے عہدِ خلافت میں (یا گورنری کے زمانے میں) ایک نماز میں تاخیر کر دی، عروہ بن زبیر رحمہ اللہ ان کے پاس آئے اور انہوں نے بتایا کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ایک دن ایک نماز کو تاخیر سے ادا کیا، وہ اس وقت کوفہ میں (گورنر تھے) تو سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور بولے: ”اے مغیرہ! یہ آپ نے کیا کیا ہے؟ کیا آپ یہ بات نہیں جانتے کہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے، تو انہوں نے نماز ادا کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نماز ادا کی، پھر انہوں نے نماز ادا کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نماز ادا کی، پھر انہوں نے نماز ادا کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نماز ادا کی، پھر انہوں نے نماز ادا کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نماز ادا کی، پھر انہوں نے نماز ادا کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نماز ادا کی، پھر انہوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی بات کا حکم دیا گیا ہے۔“ تو عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے کہا: ”اے عروہ! آپ غور کریں کہ آپ کیا بیان کر رہے ہیں، کیا سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نماز کا وقت قائم کریں گے؟“ تو عروہ رحمہ اللہ نے کہا کہ بشیر بن ابومسعود رحمہ اللہ نے اپنے والد کے حوالے سے اسی طرح حدیث بیان کی ہے۔ عروہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے یہ بات بتائی کہ ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز ادا کر لیتے تھے جبکہ دھوپ ابھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں ہی ہوتی تھی اور بلند نہیں ہوئی ہوتی تھی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1450]

1451

Sahih Ibn Hibban #1451

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدٍ ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : إِنَّا نَجْدُ صَلاةَ الْحَضَرِ ، وَصَلاةَ الْخَوْفِ فِي الْقُرْآنِ ، وَلا نَجْدُ صَلاةَ السَّفَرِ فِي الْقُرْآنِ ؟ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ : يَا ابْنَ أَخِي ، إِنَّاللَّهَ بَعَثَ إِلَيْنَا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلا نَعْلَمْ شَيْئًا ، فَإِنَّمَا نَفْعَلُ كَمَا رَأَيْنَاهُ يَفْعَلُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امیہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: حضر کی نماز اور خوف کے عالم والی نماز کا ذکر ہم قرآن میں پاتے ہیں، لیکن ہمیں سفر کی نماز کا ذکر قرآن میں نہیں ملتا، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا: اے میرے بھتیجے! بے شک اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہماری طرف مبعوث فرمایا، ہمیں کسی چیز کا علم نہیں تھا، ہم اسی طرح کرتے ہیں جس طرح ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1451]

1452

Sahih Ibn Hibban #1452

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفِيانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الأَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ هِلالٍ ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ زَهْدَمٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ بِطَبَرِسْتَانَ ، فَقَالَ : أَيُّكُمْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الْخَوْفِ ؟ فَقَالَ حُذَيْفَةُ : أَنَا ، قَالَ : فَقَامَ حُذَيْفَةُ فَصَفَّ النَّاسَ خَلْفَهُ صِفِينَ : صَفًّا خَلْفَهُ ، وَصَفًّا مُوَازِيًا لِلْعَدُوِّ ، فَصَلَّى بِالَّذِينَ خَلْفَهُ رَكْعَةً ، ثُمَّ انْصَرَفَ هَؤُلاءِ مَكَانَ هَؤُلاءِ ، وَجَاءَ أُولَئِكَ ، فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ، وَلَمْ يَقْضُوا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ثعلبہ بن زہدم بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ سعید بن العاص کے ساتھ طبرستان میں موجود تھے، انہوں نے دریافت کیا: آپ لوگوں میں سے کس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نمازِ خوف ادا کی ہے؟ تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: میں نے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، انہوں نے اپنے پیچھے لوگوں کی دو صفیں بنا لیں، ایک ان کے پیچھے کھڑی ہو گئی اور دوسری صف دشمن کے مدمقابل کھڑی ہو گئی۔ انہوں نے اپنے پیچھے موجود لوگوں کو ایک رکعت نماز پڑھائی، پھر یہ لوگ جا کر ان کی جگہ کھڑے ہو گئے اور وہ لوگ آ گئے، تو انہوں نے انہیں بھی ایک رکعت نماز پڑھائی۔ ان لوگوں نے نماز کی قضا نہیں کی (نماز مکمل نہیں کی یعنی صرف ایک ہی رکعت پڑھی)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1452]

1453

Sahih Ibn Hibban #1453

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، أَخْبَرَنَا سُفِيانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفِيانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَيْسَ بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ الْكُفْرِ إِلا تَرْكُ الصَّلاةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بندے اور کفر کے درمیان فرق صرف نماز کو ترک کرنا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1453]

1454

Sahih Ibn Hibban #1454

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّالْعَهْدَ الَّذِي بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمُ الصَّلاةُ ، فَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ كَفَرَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بے شک ہمارے اور ان (کفار) کے درمیان بنیادی چیز نماز ہے، جو شخص اسے ترک کر دے وہ کفر کا مرتکب ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1454]

1455

Sahih Ibn Hibban #1455

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : أَخْبَرَ ابْنُ عُمَرَ بِوَجَعِ امْرَأَتِهِ فِي السَّفَرِ ،فَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ ، فَقِيلَ : الصَّلاةَ ، فَسَكَتَ ، وَأَخَّرَهَا بَعْدَ ذَهَابِ الشَّفَقِ حَتَّى ذَهَبَ هَوِيٌّ مِنَ اللَّيْلِ ، ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ "، ثُمَّ قَالَ : هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ ، أَوْ حَزَبَهُ أَمَرٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو سفر کے دوران اپنی بیوی کی بیماری کے بارے میں بتایا گیا، تو انہوں نے مغرب کی نماز کو مؤخر کر دیا۔ ان سے کہا گیا: نماز کا وقت ہو گیا ہے، تو وہ خاموش رہے۔ انہوں نے اس نماز کو شفق رخصت ہو جانے کے بعد تک مؤخر کیا یہاں تک کہ رات کا کچھ حصہ گزر گیا، پھر وہ سواری سے نیچے اترے اور انہوں نے مغرب اور عشاء کی نماز ایک ساتھ ادا کی، پھر یہ بات بتائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کیا کرتے تھے جب آپ کو تیزی سے سفر کرنا مطلوب ہوتا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1455]

1456

Sahih Ibn Hibban #1456

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَحْرٍ الْقَرَاطِيسِيُّ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا أَرَادَ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنَ الصَّلاتَيْنِ فِي السَّفَرِ ، أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَدْخُلَ أَوَّلُ وَقْتِ الْعَصْرِ ، ثُمَّ يَجْمَعُ بَيْنَهُمَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کے دوران دو نمازیں ایک ساتھ ادا کرنے کا ارادہ کرتے تھے، تو آپ ظہر کی نماز کو مؤخر کر دیتے تھے، یہاں تک کہ عصر کا ابتدائی وقت داخل ہو جاتا تھا، تو آپ ان دونوں نمازوں کو ایک ساتھ ادا کر لیتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1456]

1457

Sahih Ibn Hibban #1457

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمْ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ : أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُبَّةٍ مِنْ شَعْرٍ ، فَضُرِبَتْ لَهُ بِنَمِرَةَ ، فَسَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلا تَشُكُّ قُرَيْشٌ إِلا أَنَّهُ وَاقِفٌ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ كَمَا كَانَتْ قُرَيْشٌ تَصْنَعُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَأَجَازَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى عَرَفَةَ ، فَوَجَدَ الْقُبَّةَ قَدْ ضُرِبَتْ لَهُ بِنَمِرَةَ ، فَنَزَلَ بِهَا حَتَّى إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ ، أَمَرَ بِالْقَصْوَاءِ ، فَرُحِلَتْ لَهُ ، فَأَتَى بَطْنَ الْوَادِي ، فَخَطَبَ النَّاسُ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّدِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ حَرَامٌ عَلَيْكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا ، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا ، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا ، أَلا كُلُّ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ تَحْتَ قَدَمَيَّ مَوْضُوعٌ ، وَدِمَاءُ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعَةٌ ، وَأَنَّ أَوَّلَ دَمٍ أَضَعُ مِنْ دِمَائِنَا دَمُ ابْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ كَانَ مُسْتَرْضَعًا فِي بَنِي لَيْثٍ فَقَتَلَتْهُ هُذَيْلٌ ، فَاتَّقُوا اللَّهَ فِي النِّسَاءِ ، فَإِنَّكُمْ أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانِ اللَّهِ ، وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلَمْةِ اللَّهِ ، وَلَكُمْ عَلَيْهِنَّ أَنْ لا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ أَحَدًا تَكْرَهُونَهُ ، فَإِنْ فَعَلْنَ ذَلِكَ فَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ ، وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ، وَقَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ إِنِ اعْتَصَمْتُمْ بِهِ ، كِتَابَ اللَّهِ ، وَأَنْتُمْ تُسْأَلُونَ عَنِّي ، فَمَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ ؟ " ، قَالُوا : نَشْهَدُ أَنْ قَدْ بَلَّغْتَ ، فَأَدَّيْتَ ، وَنَصَحْتَ ، فَقَالَ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ يَرْفَعُهَا إِلَى السَّمَاءِ وَيَنْكُتُهَا إِلَى النَّاسِ : " اللَّهُمَّ اشْهَدْ " ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ أَذَّنَ ، ثُمَّ أَقَامَ ، فَصَلَّى الظُّهْرَ ، ثُمَّ أَقَامَ ، فَصَلَّى الْعَصْرَ ، وَلَمْ يُصَلِّي بَيْنَهُمَا شَيْئًا. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : لَمْا جَازَ تَقْدِيمُ صَلاةِ الْعَصْرِ عَنْ وَقْتِهَا ، وَلَمْ يَسْتَحِقَّ فَاعِلُهُ أَنْ يَكُونَ كَافِرًا ، كَانَ مِنْ أَخَّرَ الصَّلاةَ عَنْ وَقْتِهَا ، ثُمَّ أَدَّاهَا بَعْدَ وَقْتِهَا أَوْلَى أَنْ لا يَكُونَ كَافِرًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے والد (امام محمد باقر رحمہ اللہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ہم لوگ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوتے تو انہوں نے بتایا (حجۃ الوداع کے موقع پر) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت بالوں سے بنا ہوا خیمہ لگا دیا گیا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نمرہ میں لگایا گیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے۔ قریش کو اس بارے میں کوئی شک نہیں تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشعرِ حرام کے قریب وقوف کریں گے، جس طرح قریش زمانہ جاہلیت میں کیا کرتے تھے، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے آگے بڑھ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ تشریف لے آئے۔ وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا کہ وادی نمرہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خیمہ لگا دیا گیا ہے۔ وہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ کیا یہاں تک کہ جب سورج ڈھل گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت آپ کی اونٹنی قصواء پر پالان رکھ دیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وادی کے نشیبی حصے میں تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے خطاب کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہاری جانیں اور تمہارے مال ایک دوسرے کے لیے اسی طرح قابلِ احترام ہیں جس طرح یہ دن، اس مہینے میں اور اس شہر میں قابلِ احترام ہے۔ خبردار! زمانہ جاہلیت سے تعلق رکھنے والی ہر چیز میرے دونوں پاؤں کے نیچے رکھی گئی ہے، اور زمانہ جاہلیت کا ہر خون معاف ہو گیا ہے۔ سب سے پہلا خون جو میں معاف کرتا ہوں وہ ربیعہ بن حارث کے صاحب زادے کا ہے، جو بنو لیث میں دودھ پیتے بچے تھے اور ہذیل قبیلے کے لوگوں نے انہیں مار دیا تھا۔ تم لوگ خواتین کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا، کیونکہ تم نے اللہ کی امان میں انہیں حاصل کیا ہے، اور اللہ تعالیٰ کے کلمے کے مطابق ان کی شرم گاہوں کو حلال کیا ہے۔ تمہارا ان پر یہ حق ہے کہ وہ تمہارے بچھونے پر کسی ایسے شخص کو نہ آنے دیں جسے تم ناپسند کرتے ہو، اگر وہ ایسا کرتی ہیں، تو تم زیادتی کیے بغیر ان کی پٹائی کرو اور ان کا تم پر یہ حق ہے کہ تم انہیں رزق اور لباس مناسب طور پر فراہم کرو۔ میں تمہارے درمیان وہ چیز چھوڑ کر جا رہا ہوں کہ اگر تم اسے مضبوطی سے تھام لو تو اس کے بعد کبھی گمراہ نہیں ہو گے، وہ اللہ کی کتاب ہے۔ جب تم سے میرے بارے میں دریافت کیا جائے گا، تو تم کیا جواب دو گے؟“ لوگوں نے کہا: ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں، آپ نے تبلیغ کر دی ہے، (فریضہ رسالت کو) ادا کر دیا ہے اور آپ نے خیر خواہی کی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت کی انگلی کو آسمان کی طرف بلند کیا اور پھر اسے لوگوں کی طرف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: «اللَّهُمَّ اشْهَدْ» ”اے اللہ! تو گواہ ہو جا۔“ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی پھر اذان ہوئی، اقامت کہی گئی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی پھر اقامت کہی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان کوئی (نفل) نماز ادا نہیں کی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) جب عصر کی نماز کو اپنے مخصوص وقت سے پہلے ادا کرنا جائز ہے اور ایسا کرنے والا شخص اس بات کا مستحق نہیں ہوتا کہ اسے کافر قرار دیا جائے، تو جو شخص نماز کو اپنے وقت سے مؤخر کر دیتا ہے پھر اس کا وقت گزر جانے کے بعد ادا کرتا ہے، تو وہ اس بات کا زیادہ مستحق ہوتا ہے کہ وہ کافر نہ ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1457]

1458

Sahih Ibn Hibban #1458

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفِيلِ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ ، فَكَانَإِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ زَيْغِ الشَّمْسِ ، أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَجْمَعَهَا إِلَى الْعَصْرِ ، فِيصَلِّيهِمَا جَمِيعًا ، وَإِذَا ارْتَحَلَ بَعْدَ زَيْغِ الشَّمْسِ صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ، ثُمَّ سَارَ ، وَكَانَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ الْمَغْرِبِ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الْعِشَاءِ ، وَإِذَا ارْتَحَلَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ عَجَّلَ الْعِشَاءَ وَصَلاهَا مَعَ الْمَغْرِبِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک کے لیے روانہ ہوئے؛ جب آپ سورج ڈھلنے سے پہلے روانہ ہو جاتے تھے، تو آپ ظہر کی نماز کو مؤخر کر دیتے تھے، یہاں تک کہ اسے عصر کے ساتھ جمع کر دیتے تھے اور وہ دونوں نمازیں ایک ساتھ ادا کر لیتے تھے؛ اور جب آپ سورج ڈھلنے کے بعد روانہ ہوتے تھے، تو آپ ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ ادا کرتے تھے، پھر روانہ ہوتے تھے؛ جب آپ مغرب سے پہلے روانہ ہو جاتے تھے، تو آپ مغرب کی نماز کو مؤخر کر دیتے تھے، یہاں تک کہ اسے عشاء کے ہمراہ ادا کرتے تھے؛ اور جب آپ مغرب کے بعد روانہ ہوتے تھے، تو آپ عشاء کی نماز کو جلدی ادا کرتے تھے اور اسے مغرب کے ساتھ پڑھ لیتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1458]

1459

Sahih Ibn Hibban #1459

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : عَرَّسْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَلَمْ نَسْتَيْقِظْ حَتَّى آذَتْنَا الشَّمْسُ ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ليَأْخُذْ كُلُّ رَجُلٍ مِنْكُمْ رَاحِلَتَهُ ، ثُمَّ يَتَنَحَّى عَنْ هَذَا الِمَنْزِلِ ، ثُمَّ دَعَا بِالْمَاءِ فَتَوَضَّأَ ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلاةُ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : فِي تَأْخِيرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلاةَ عَنِ الْوَقْتِ الَّذِي أَثْبَتَهُ إِلَى أَنْ خَرَجَ مِنَ الْوَادِي دَلِيلٌ صَحِيحٌ ، عَلَى أَنَّ تَارِكَ الصَّلاةِ إِلَى أَنْ يَخْرُجَ وَقْتُهَا لا يَكُونُ كَافِرًا ، إِذْ لَوْ كَانَ كَذَلِكَ لأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَدَاءِ الصَّلاةِ فِي وَقْتِ انْتِبَاهِهِمْ مِنْ مَنَامِهِمْ ، وَلَمْ يَأْمُرْهُمْ بِالتَّنَحِّي عَنِ الِمَنْزِلِ الَّذِي نَامُوا فِيهِ ، وَالْفَرْضُ لازِمٌ لَهُمْ قَدْ جَازَ وَقْتُهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رات کے وقت پڑاؤ کیا، ہم لوگ بیدار نہیں ہو سکے، یہاں تک کہ سورج نے ہمیں بیدار کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں ہر شخص اپنی سواری کو پکڑ لے اور پھر اس پڑاؤ کی جگہ سے کچھ ہٹ جائے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر وضو کیا، پھر دو رکعت نماز ادا کی، پھر نماز قائم کی گئی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے لیے جو وقت مقرر کیا تھا، آپ کا اس نماز کو تاخیر سے ادا کرنا یہاں تک کہ آپ کا اس وادی سے باہر چلے جانا اس بات کی صحیح دلیل ہے کہ نماز اتنی دیر تک ترک کرنے والا شخص کہ اس کا وقت رخصت ہو جائے، تو وہ کافر نہیں ہو گا کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کو ہدایت کرتے کہ وہ نماز کو اس وقت ادا کر لیں، جب نیند سے بیدار ہوئے تھے اور آپ انہیں یہ ہدایت نہ کرتے کہ اس جگہ سے کچھ ہٹ جائیں جہاں وہ سوئے رہ گئے تھے اور فرض ان کے لیے اس وقت لازم تھا جب ان کا وقت بھی جائز ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1459]

1460

Sahih Ibn Hibban #1460

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَيْسَ فِي النَّوْمِ تَفْرِيطٌ ، إِنَّمَا التَّفْرِيطُ عَلَى مَنْ لَمْ يُصَلِّ الصَّلاةَ حَتَّى يَجِيءَ وَقْتُ صَلاةٍ أُخْرَى ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : فِي إِطْلاقِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّفْرِيطَ عَلَى مَنْ لَمْ يُصَلِّ الصَّلاةَ حَتَّى دَخَلَ وَقْتُ صَلاةٍ أُخْرَى بَيَانٌ وَاضِحٌ أَنَّهُ لَمْ يَكْفُرْ بِفِعْلِهِ ذَلِكَ ، إِذْ لَوْ كَانَ كَذَلِكَ ، لَمْ يُطْلِقْ عَلَيْهِ اسْمُ التَّأْخِيرِ وَالتَّقْصِيرِ دُونَ إِطْلاقِ الْكُفْرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”نیند میں «تَفْرِيطٌ» ”کوتاہی“ نہیں ہے، «تَفْرِيطٌ» اس شخص کے لیے ہے جو اس وقت تک نماز ادا نہیں کرتا جب تک دوسری نماز کا وقت نہیں آ جاتا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں لفظ «تَفْرِيطٌ» اس شخص کے لیے استعمال کیا ہے، جو نماز کو ادا نہیں کرتا یہاں تک کہ اگلی نماز کا وقت ہو جاتا ہے، تو یہ اس بات کا واضح بیان ہے کہ ایسا کرنے والا شخص کافر نہیں ہو گا؛ کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس فعل کے لیے کفر کا لفظ استعمال کرنے کی بجائے تاخیر یا کوتاہی کا لفظ استعمال نہ کرتے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1460]

1461

Sahih Ibn Hibban #1461

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ عَرَّسْنَا ، فَغَلَبَتْنَا أَعْيُنُنَا ، وَمَا أَيْقَظَنَا إِلا حَرُّ الشَّمْسِ ، فَكَانَ الرَّجُلُ يَقُومُ إِلَى وَضُوئِهِ دَهِشًا ، فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَوَضَّئُوا ، ثُمَّ أَمَرَ بِلالا فَأَذَّنَ ، ثُمَّ صَلُّوا رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ ، ثُمَّ أَمَرَهُ ، فَأَقَامَ فَصَلَّى الْفَجْرَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَرَّطْنَا ، أَفَلا نُعِيدُهَا لِوَقْتِهَا مِنَ الْغَدِ ؟ فَقَالَ : يَنْهَاكُمْ رَبُّكُمْ عَنِ الرِّبَا ، وَيَقْبَلُهُ مِنْكُمْ ؟ إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر کر رہے تھے، جب رات کا آخری حصہ آیا تو ہم نے پڑاؤ کر لیا، ہماری آنکھ لگ گئی، ہمیں سورج کی تپش نے بیدار کیا، ہر شخص خوف زدہ ہو کر وضو کے لیے اٹھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ہدایت کی، انہوں نے وضو کر لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اذان دی، پھر ان لوگوں نے فجر کی دو رکعات ادا کیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اقامت کہی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھائی۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم سے کوتاہی ہوئی ہے، کیا ہم اس نماز کو کل اس کے وقت میں دوبارہ ادا نہ کریں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہارا پروردگار تمہیں سود سے منع کرتا ہے، تو کیا وہ خود تم سے اسے قبول کر لے گا؟ کوتاہی جاگنے کے عالم میں ہوتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1461]

1462

Sahih Ibn Hibban #1462

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ النَّهْدِيُّ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَادَى فِيهِمْ يَوْمَ انْصَرَفَ عَنْهُمُ الأَحْزَابُ : أَلالا يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ الظُّهْرَ إِلا فِي بَنِي قُرَيْظَةَ " ، فَأَبْطَأَ نَاسٌ ، فَتَخَوَّفُوا فَوْتَ وَقْتِ الصَّلاةِ فَصَلُّوا ، وَقَالَ آخَرُونَ : لا نُصَلِّي إِلا حَيْثُ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنْ فَاتَ الْوَقْتُ ، فَمَا عَنَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحِدًا مِنَ الْفَرِيقَيْنِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : لَوْ كَانَ تَأْخِيرُ الْمَرْءِ لِلصَّلاةِ عَنْ وَقْتِهَا إِلَى أَنْ يَدْخُلَ وَقْتُ الصَّلاةِ الأُخْرَى يَلْزَمُهُ بِذَلِكَ اسْمُ الْكُفْرِ ، لَمْا أَمَرَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّتَهُ بِالشَّيْءِ الَّذِي يَكْفُرُونَ بِفِعْلِهِ ، وَلَعَنَّفَ فَاعِلَ ذَلِكَ ، فَلَمْا لَمْ يُعَنِّفْ فَاعِلَهُ دَلَّ ذَلِكَ عَلَى أَنَّهُ لَمْ يَكْفُرْ كُفْرًا يُشْبِهُ الارْتِدَادِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: (غزوہ احزاب کے موقع پر جب دشمن) کے لشکر واپس چلے گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز میں حکم دیا: ”خبردار! کوئی بھی شخص ظہر کی نماز بنو قریظہ (کے علاقے) میں پہنچنے سے پہلے ہرگز ادا نہ کرے۔“ کچھ لوگوں کو جانے میں تاخیر ہو گئی، انہیں نماز کا وقت فوت ہو جانے کا اندیشہ ہوا تو انہوں نے نماز ادا کر لی، دوسرے لوگوں نے یہ کہا: ہم اسی طرح نماز ادا کریں گے جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے، اگرچہ نماز کا وقت رخصت ہو جائے۔ (راوی بیان کرتے ہیں) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں فریقوں میں سے کسی پر بھی ناراضگی کا اظہار نہیں کیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) (آدمی کا نماز میں اتنی تاخیر کر دینا کہ اگلی نماز کا وقت شروع ہو جائے۔ اگر ایسا کرنے کے نتیجے میں اس پر کفر کا اطلاق لازم ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو کسی ایسی چیز کی تعلیم نہ دیتے جس کو کرنے کی وجہ سے وہ لوگ کافر ہو جاتے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے مرتکب شخص پر شدید انکار کا اظہار کرتے۔ آپ کا اس پر شدید انکار کا اظہار نہ کرنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ایسا شخص اس طرح سے کافر نہیں ہوتا جو مرتد ہونے سے مشابہت رکھتا ہے۔) [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1462]

1463

Sahih Ibn Hibban #1463

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ عَمْرٍو ، بِالْفُسْطَاطِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلاءِ الزُّبَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ عَمِّهِ ، عَنْ بُرَيْدَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : بَكِّرُوا بِالصَّلاةِ فِي يَوْمِ الْغَيْمِ ، فَإِنَّهُ مَنْ تَرَكَ الصَّلاةَ فَقَدْ كَفَرَ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَطْلَقَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَ الْكُفْرِ عَلَى تَارِكِ الصَّلاةِ ، إِذْ تَرْكُ الصَّلاةِ أَوَّلُ بِدَايَةِ الْكُفْرِ ، لأَنَّ الْمَرْءَ إِذَا تَرَكَ الصَّلاةَ وَاعْتَادَهُ ارْتَقَى مِنْهُ إِلَى تَرْكِ غَيْرِهَا مِنَ الْفَرَائِضِ ، وَإِذَا اعْتَادَ تَرْكَ الْفَرَائِضِ أَدَّاهُ ذَلِكَ إِلَى الْجَحْدِ ، فَأَطْلَقَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَ النِّهَايَةِ الَّتِي هِيَ آخِرُ شُعَبِ الْكُفْرِ عَلَى الْبِدَايَةِ الَّتِي هِيَ أَوَّلُ شُعَبِهَا وَهِيَ تَرْكُ الصَّلاةِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بادل والے (یعنی ابر آلود) دن میں نماز کو جلدی ادا کر لیا کرو، کیونکہ جو شخص نماز کو ترک کر دے اس نے کفر کیا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کو ترک کرنے والے پر کفر کا اطلاق کیا ہے کیونکہ نماز کو ترک کرنا کفر کے آغاز کا ابتدائی حصہ ہے کیونکہ جب کوئی شخص نماز کو ترک کرتا ہے اور اس کی عادت بنا لیتا ہے، تو وہ دیگر فرائض کو ترک کرنے کے راستے پر چل پڑتا ہے اور جب وہ فرائض ترک کرنے کی عادت بنا لیتا ہے، تو یہ چیز اسے انکار کی طرف لے جاتی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اختتامی نام کو جو کفر کے شعبوں میں سے آخری حصہ ہے اسے ابتدا کے لیے استعمال کیا ہے، جو اس کا پہلا شعبہ ہے اور وہ نماز کو ترک کرنا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1463]

1464

Sahih Ibn Hibban #1464

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمْةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الْمِرَاءُ فِي الْقُرْآنِ كُفْرٌ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : إِذَا مَارَى الْمَرْءُ فِي الْقُرْآنِ أَدَّاهُ ذَلِكَ إِنْ لَمْ يَعْصِمْهُ اللَّهُ إِلَى أَنْ يَرْتَابَ فِي الآيِ الْمُتَشَابِهِ مِنْهُ ، وَإِذَا ارْتَابَ فِي بَعْضِهِ أَدَّاهُ ذَلِكَ إِلَى الْجَحْدِ ، فَأَطْلَقَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَ الْكُفْرِ الَّذِي هُوَ الْجَحْدُ عَلَى بِدَايَةِ سَبَبِهِ الَّذِي هُوَ الْمِرَاءُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”قرآن کے بارے میں بحث و مباحثہ کرنا کفر ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) جب کوئی شخص قرآن کے بارے میں بحث کرنا شروع کرتا ہے، تو یہ چیز اسے اس چیز کی طرف لے جاتی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ اسے نہ بچائے، تو وہ شخص متشابہ آیات کے بارے میں شکوک کا شکار ہو جاتا ہے اور جب وہ قرآن کے بعض حصے کے بارے میں شک کا شکار ہوتا ہے تو یہ چیز انکار کی طرف لے جاتی ہے، اس لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کفر، جو درحقیقت انکار ہے، اس کا اطلاق اس کے سبب کے آغاز پر کیا ہے اور وہ (قرآن کے بارے میں) بحث کرنا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1464]

1465

Sahih Ibn Hibban #1465

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرِ بْنِ يُوسُفَ ، بِدِمَشْقَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَتْنِي كَرِيمَةُ بِنْتُ الْحَسْحَاسِ الْمُزَنِيَّةُ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ وَهُوَ فِي بَيْتِ أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ثَلاثٌ مِنَ الْكُفْرِ بِاللَّهِ : شَقُّ الْجَيْبِ ، وَالنِّيَاحَةُ ، وَالطَّعْنُ فِي النَّسَبِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا کے گھر میں موجود تھے، انہوں نے یہ بات بتائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے: ”تین چیزیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنے کے مترادف ہیں: (نوحہ کرتے ہوئے) گریبان کو پھاڑنا، نوحہ کرنا اور کسی کے نسب پر طعن کرنا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1465]