Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 12 · Chapter 2

The Book of Funerals and What Belongs to Them Before and After

Hadith 1278–1317

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

1278

Sahih Ibn Hibban #1278

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَكَمُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : قُرِئَ عَلَيْنَا كِتَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ بِأَرْضِ جُهَيْنَةَ : أَنْلا تَنْتَفِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ وَلا عَصَبٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عکیم جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہمارے سامنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خط پڑھ کر سنایا گیا، ہم اس وقت جہینہ کی سرزمین پر موجود تھے، (اس میں تحریر تھا): ”تم لوگ مردار کی کھال یا اس کے پٹھوں سے نفع حاصل نہ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1278]

1279

Sahih Ibn Hibban #1279

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَشْيَخَةٌ لَنَا مِنْ جُهَيْنَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَيْهِمْ : أَنْلا تَسْتَمْتِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِشَيْءٍ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَذِهِ اللَّفْظَةُ ، حَدَّثَنَا مَشْيَخَةٌ لَنَا مِنْ جُهَيْنَةَ ، أَوْهَمَتْ عَالِمًا مِنَ النَّاسِ أَنَّ الْخَبَرَ لَيْسَ بِمُتَّصِلٍ ، وَهَذَا مِمَّا نَقُولُ فِي كُتُبِنَا : إِنَّ الصَّحَابِيَّ قَدْ يَشْهَدُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَسْمَعُ مِنْهُ شَيْئًا ، ثُمَّ يَسْمَعُ ذَلِكَ الشَّيْءَ عَنْ مَنْ هُوَ أَعْظَمُ خَطَرًا مِنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَرَّةً يُخْبِرُ عَمَّا شَاهَدَ ، وَأُخْرَى يَرْوِي عَمَّنْ سَمِعَ ، أَلا تَرَى أَنَّ ابْنَ عُمَرَ شَهِدَ سُؤَالَ جِبْرِيلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الإِيمَانِ ، وَسَمِعَهُ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ؟ فَمَرَّةً أَخْبَرَ بِمَا شَاهَدَ ، وَمَرَّةً رَوَى عَنْ أَبِيهِ مَا سَمِعَ ، فَكَذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُكَيْمٍ شَهِدَ كِتَابَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَيْثُ قُرِئَ عَلَيْهِمْ فِي جُهَيْنَةَ ، وَسَمِعَ مَشَايِخَ جُهَيْنَةَ يَقُولُونَ ذَلِكَ ، فَأَدَّى مَرَّةً مَا شَهِدَ ، وَأُخْرَى مَا سَمِعَ ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونَ فِي الْخَبَرِ انْقِطَاعٌ ، وَمَعْنَى خَبَرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ : أَنْ لا تَنْتَفِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ ، وَلا عَصَبٍ يُرِيدُ بِهِ قَبْلَ الدِّبَاغِ ، وَالدَّلِيلُ عَلَى صِحَّتِهِ قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّمَا إِهَابٍ دُبِغَ فَقَدْ طَهُرَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جہینہ سے تعلق رکھنے والے ہمارے بزرگوں نے یہ بات ہمیں بتائی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو خط میں یہ تحریر کیا تھا: ”تم لوگ مردار کی کسی بھی چیز سے فائدہ حاصل نہ کرو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) روایت میں یہ الفاظ کہ ”جہینہ“ قبیلے سے تعلق رکھنے والے ہمارے بزرگوں نے یہ بات بتائی ہے، اس نے بہت سے لوگوں کو اس غلط فہمی کا شکار کیا ہے کہ یہ روایت متصل نہیں ہے، جبکہ ہم اپنی کتابوں میں یہ بات بیان کر چکے ہیں کہ بعض اوقات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں بھی آپ کی زبانی کوئی بات سنتے ہیں اور پھر وہ اسی بات کو ایسے شخص کے حوالے سے سن لیتے ہیں جو اس صحابی سے زیادہ مرتبے کا مالک ہوتا ہے اور اس کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنتے ہیں، تو بعض اوقات وہ ایسی روایت نقل کرتے ہیں جس میں وہ خود موجود تھے اور بعض اوقات وہ اس شخص کے حوالے سے روایت نقل کرتے ہیں جس سے انہوں نے سنا تھا، کیا آپ نے غور کیا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی اس وقت موجود تھے جب سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایمان کے بارے میں سوال کیا تھا؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ روایت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بھی سنی ہے، تو ایک مرتبہ انہوں نے وہ روایت بیان کی جس میں وہ خود موجود تھے اور ایک مرتبہ انہوں نے اسے اپنے والد کے حوالے سے سنی ہوئی روایت کے طور پر بیان کر دیا، اسی طرح عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس خط کے وقت موجود تھے، جہینہ قبیلے میں ان لوگوں کے سامنے اس خط کو پڑھا گیا تھا اور انہوں نے جہینہ قبیلے کے مشائخ کو بھی یہ بات ذکر کرتے ہوئے سنا، تو ایک مرتبہ انہوں نے وہ روایت نقل کر دی جس میں وہ موجود تھے اور ایک مرتبہ وہ کر دی جس کو انہوں نے سنا تھا، تو اب اس روایت میں کوئی انقطاع نہیں ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت کے یہ الفاظ ”تم مردار کی کھال یا پٹھے سے نفع حاصل نہ کرو“ اس سے یہ مراد ہے کہ تم دباغت سے پہلے ایسا نہ کرو، اس بات کے صحیح ہونے کی دلیل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے: ”جس بھی کھال کی دباغت کر لی جائے وہ پاک ہو جاتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1279]

1280

Sahih Ibn Hibban #1280

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مَاتَتْ شَاةٌ لَزَوْجَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَاهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَتْهُ ، فَقَالَ : أَلا انْتَفَعْتُمْ بِمَسْكِهَا " ؟ فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَسْكُ مَيْتَةٍ ؟ ! ، قَالَ : فَقَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قُلْ لا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً إِلَى آخِرِ الآيَةِ إِنَّكُمْ لَسْتُمْ تَأْكُلُونَهُ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَبَعَثَتْ إِلَيْهَا ، فَسُلِخَتْ ، فَجَعَلَتْ مِنْ مَسْكِهَا قِرْبَةً ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَرَأَيْتُهَا بَعْدَ سَنَةٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ محترمہ کی بکری مر گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ان کے ہاں تشریف لائے انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کی کھال سے نفع حاصل کیوں نہیں کرتے؟“ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا مردار کی کھال سے؟ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿قُل لَّا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَىٰ طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَن يَكُونَ مَيْتَةً﴾ [سورة الأنعام: 145] ”تم یہ فرما دو جو چیز میری طرف کی گئی ہے اس میں کوئی ایسی چیز نہیں پاتا جو کھانے والے کے لیے حرام ہو ماسوائے اس کے کہ وہ مردار ہو۔“ یہ آیت آخر تک تلاوت کی (پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:) ”لوگ اسے کھا نہیں رہے۔“ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: پھر اس خاتون نے اس کی کھال کو بھجوایا اس کی دباغت کی گئی اور اس کی کھال سے مشکیزہ بنا لیا گیا۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے ایک سال کے بعد بھی وہ مشکیزہ دیکھا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1280]

1281

Sahih Ibn Hibban #1281

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مَاتَتْ شَاةٌ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ ، فَقَالَتْ : يَا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاتَتْ فُلانَةٌ ، يَعْنِي الشَّاةَ ، قَالَ : فَهَلا أَخَذْتُمْ مَسْكَهَا ؟ " ، قَالَتْ : فَنَأْخُذُ مَسْكَ شَاةٍ مَاتَتْ ! ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا قَالَ : قُلْ لا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا إِلَى آخِرِ الآيَةِ ، لا بَأْسَ أَنْ تَدْبُغُوهُ فَتَنْتَفِعُوا بِهِ "، قَالَ : " فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا ، فَسَلَخَتْ مَسْكَهَا ، فَاتَّخَذَتْ مِنْهَا قِرْبَةً حَتَّى تَحَرَّقَتْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کی بکری مر گئی۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! فلاں (یعنی بکری) مر گئی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کی کھال کیوں نہیں حاصل کر لیتیں؟“ انہوں نے عرض کی: کیا ہم ایک ایسی بکری کی کھال حاصل کریں جو مر گئی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ﴿قُل لَّا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا﴾ [سورة الأنعام: 145] ”تم یہ فرما دو! جو چیز میری طرف وحی کی گئی ہے میں اس میں کوئی چیز حرام نہیں پاتا۔“ یہ آیت کے آخر تک ہے۔ (پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”اس میں کوئی حرج نہیں ہے، تم اس کی دباغت کر کے نفع حاصل کر لو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: پھر ہم نے اسے اس خاتون کی طرف بھجوایا تو انہوں نے اس کی کھال کی دباغت کی اور اس سے مشکیزہ بنا لیا یہاں تک کہ وہ جل گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1281]

1282

Sahih Ibn Hibban #1282

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمْ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلَمْ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَرَّ بِشَاةٍ مَيْتَةٍ ، قَالَ : هَلا اسْتَمْتَعْتُمْ بِجِلْدِهَا ؟ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا مَيْتَةٌ ، قَالَ : إِنَّمَا حُرِّمَ أَكْلُهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مردار بکری کے پاس سے گزرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ اس کی کھال سے فائدہ حاصل کیوں نہیں کرتے؟“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ مردار ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے کھانے کو حرام قرار دیا گیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1282]

1283

Sahih Ibn Hibban #1283

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الِمَنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُسْلَمْ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ مُنْذُ حِينٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ شَاةً لَهُمْ مَاتَتْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلا دَبَغْتُمْ إِهَابِهَا فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے مجھے یہ بات بتائی ہے، ان کی ایک بکری مر گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ اس کی کھال کی دباغت کر کے اس سے فائدہ حاصل کیوں نہیں کرتے؟“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1283]

1284

Sahih Ibn Hibban #1284

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ شَاةً مَيْتَةً أُعْطِيَتْهَا مَوْلاةٌ لَمْيْمُونَةَ مِنَ الصَّدَقَةِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلا انْتَفَعْتُمْ بِجِلْدِهَا ؟ قَالُوا : إِنَّهَا مَيْتَةٌ ! ، قَالَ : إِنَّمَا حُرِّمَ أَكْلُهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسی بکری کو مردار پایا جو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی کنیز کو صدقے میں سے دی گئی تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ اس کی کھال سے نفع حاصل کیوں نہیں کرتے؟“ لوگوں نے عرض کی: یہ مردار ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے کھانے کو حرام قرار دیا گیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1284]

1285

Sahih Ibn Hibban #1285

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بَحْرٍ الْبَزَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفِيانُ ، قَالَ : سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، يُحَدِّثُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ ، قَالَتْ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ مِنَ الصَّدَقَةِ مَيْتَةٍ أُعْطِيَتْهَا مَوْلاةٌ لَمْيْمُونَةَ ، فَقَالَ : أَلا أَخَذُوا إِهَابِهَا فَدَبَغُوهَا ، فَانْتَفَعُوا بِهَا ؟ فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا مَيْتَةٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّمَا حُرِّمَ أَكْلُهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا یہ بات بیان کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صدقے کی ایک مردار بکری کے پاس سے گزرے جو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی کنیز کو دی گئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”انہوں نے اس کی کھال حاصل کر کے اور اس کی دباغت کر کے اس سے نفع حاصل کیوں نہیں کیا؟“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ مردار ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے کھانے کو حرام قرار دیا گیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1285]

1286

Sahih Ibn Hibban #1286

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ عَبَّادٍ الرُّوَاسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَنْ يُسْتَمْتَعَ بِجُلُودِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَتْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا حکم دیا ہے کہ ”مردار کی کھال کو دباغت کے بعد استعمال کر لیا جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1286]

1287

Sahih Ibn Hibban #1287

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمْ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَيُّمَا إِهَابٍ دُبِغَ فَقَدْ طَهُرَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس بھی کھال کی دباغت حاصل کر لی جائے، تو وہ پاک ہو جاتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1287]

1288

Sahih Ibn Hibban #1288

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، بِبُسْتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفِيانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ وَعْلَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : أَيُّمَا إِهَابٍ دُبِغَ فَقَدْ طَهُرَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس بھی کھال کی دباغت کر لی جائے وہ پاک ہو جاتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1288]

1289

Sahih Ibn Hibban #1289

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا سُفِيانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ ، قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِشَاةٍ مَيْتَةٍ ، فَقَالَ : أَلا أَخَذُوا إِهَابِهَا ، فَدَبَغُوهُ فَانْتَفَعُوا بِهِ ؟ فَقَالُوا : إِنَّهَا مَيْتَةٌ ، فَقَالَ : إِنَّمَا حُرِّمَ أَكْلُهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مردار بکری کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”لوگوں نے اس کی کھال حاصل کر کے اور اس کی دباغت کر کے اس سے نفع حاصل کیوں نہیں کیا؟“ لوگوں نے عرض کی کہ یہ مردار ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے کھانا حرام قرار دیا گیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1289]

1290

Sahih Ibn Hibban #1290

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، بِخَبَرٍ غَرِيبٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجُوزْجَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : دِبَاغُ جُلُودِ الْمَيْتَةِ طَهُورُهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”مردار کی کھال کی دباغت اسے پاک کر دیتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1290]

1291

Sahih Ibn Hibban #1291

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمْ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ فَرْقَدٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَالِكِ بْنِ حُذَافَةَ حَدَّثَهُ ، عَنْ أُمِّهِ الْعَالِيَةِ بِنْتِ سُبَيْعٍ ، أَنَّهَا قَالَتْ : كَانَ لِي غَنْمٌ بِأُحُدٍ ، فَوَقَعَ فِيهَا الْمَوْتُ ، فَدَخَلْتُ عَلَى مَيْمُونَةَ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهَا ، فَقَالَتْ لِي مَيْمُونَةُ : لَوْ أَخَذْتِ جُلُودَهَا فَانْتَفَعْتِ بِهَا ؟ قَالَتْ : فَقُلْتُ وَيَحِلُّ ذَلِكَ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رِجَالٍ مِنْ قُرَيْشٍ يَجُرُّونَ شَاةً لَهُمْ مِثْلَ الْحِمَارِ ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ أَخَذْتُمْ إِهَابِهَا ، قَالُوا : إِنَّهَا مَيْتَةٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يُطَهِّرُهَا الْمَاءُ وَالْقَرَظُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن مالک اپنی والدہ سیدہ عالیہ بنت سبیع رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میری بکریاں احد پہاڑ کے پاس موجود تھیں، ان میں سے ایک مر گئی تھی، میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی، میں نے ان کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے مجھے فرمایا: تم اس کی کھال لے کر نفع حاصل کر لو۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں (میں نے دریافت کیا:) کیا یہ جائز ہے؟ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: جی ہاں، ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے کچھ افراد کے پاس سے گزرے جو اپنی بکری کو یوں کھینچ رہے تھے جیسے گدھے کو کھینچا جاتا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم لوگ اس کی کھال کیوں نہیں حاصل کر لیتے؟“ لوگوں نے عرض کی: یہ مردار ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” «الْمَاءُ وَالْقَرَظُ» ”پانی اور قرظ کے پتے“ اسے پاک کر دیں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1291]

1292

Sahih Ibn Hibban #1292

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ أَنَّهُعَقَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعَقَلَ مَجَّةً مَجَّهَا مِنْ دَلْوٍ فِي بِئْرٍ فِي دَارِهِمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات یاد ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر میں موجود کنویں سے ڈول میں پانی لے کر اس کے ذریعے کلی کی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1292]

1293

Sahih Ibn Hibban #1293

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، وَسُفِيانَ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كُنْتُ أَضَعُ الإِنَاءَ عَلَى فِي وَأَنَا حَائِضٌ ، ثُمَّ أُنَاوِلُهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَفِيضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِي ، وَآخُذُ الْعَرْقَ وَأَنَا حَائِضٌ ، ثُمَّ أُنَاوِلُهُ فِيضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں حیض کی حالت میں برتن اپنے منہ کے ساتھ لگاتی تھی، پھر میں اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھا دیتی تھی، تو آپ اپنا منہ مبارک اسی جگہ پر رکھتے تھے جہاں میں نے منہ رکھا ہوتا تھا۔ میں حیض کی حالت میں ہڈی (والا گوشت) لے کر (اسے کھا کے) پھر اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھا دیتی تھی، تو آپ اپنا منہ اسی جگہ رکھتے تھے جہاں میں نے اپنا منہ رکھا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1293]

1294

Sahih Ibn Hibban #1294

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى ، بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ ، فَاغْسِلُوهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کتا کسی شخص کے برتن میں منہ ڈال دے، تو تم اسے سات مرتبہ دھو دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1294]

1295

Sahih Ibn Hibban #1295

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : طَهُورُ إِنَاءِ أَحَدِكُمْ إِذَا وَلَغَ فِيهِ الْكَلْبُ أَنْ يُغْسَلَ سَبْعَ مَرَّاتٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”کسی بھی شخص کے برتن کو پاک کرنے کا طریقہ، جب کہ کتے نے اس میں منہ ڈال دیا ہو، یہ ہے کہ اسے سات مرتبہ دھو لیا جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1295]

1296

Sahih Ibn Hibban #1296

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ خَلِيلٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، و أبي رزين ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيُهْرِقْهُ ، ثُمَّ لِيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کتا کسی شخص کے برتن میں منہ ڈال دے، تو وہ پانی کو بہا دے پھر اسے سات مرتبہ دھو لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1296]

1297

Sahih Ibn Hibban #1297

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : طَهُورُ إِنَاءِ أَحَدِكُمْ إِذَا وَلَغَ فِيهِ الْكَلْبُ ، أَنْ يُغْسَلَ سَبْعَ مَرَّاتٍ أُولاهُنَّ بِالتُّرَابِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”کسی شخص کے برتن کو پاک کرنے کا طریقہ جبکہ کتے نے اس میں منہ ڈال دیا ہو یہ ہے، اس کو سات مرتبہ دھو لیا جائے جس میں سے پہلی مرتبہ مٹی کے ساتھ دھویا جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1297]

1298

Sahih Ibn Hibban #1298

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُطَرِّفَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي الإِنَاءِ فَاغْسِلُوهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ ، وَعَفِّرُوا الثَّامِنَةَ بِالتُّرَابِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کتا کسی برتن میں منہ ڈال دے، تو اسے سات مرتبہ دھو لو اور آٹھویں مرتبہ اسے مٹی کے ذریعے مانجھ لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1298]

1299

Sahih Ibn Hibban #1299

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ حُمَيْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، وَكَانَتْ تَحْتَ ابْنِ أَبِي قَتَادَة ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ دَخَلَ عَلَيْهَا ، فَسَكَبَتْ لَهُ وُضُوءًا ، فَجَاءَتْ هِرَّةٌ تَشْرَبُ ، فَأَصْغَى أَبُو قَتَادَةَ الإِنَاءَ ، فَشَرِبَتْ ، قَالَتْ كَبْشَةُ : فَرَآنِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : أَتَعْجَبِينَ يَا ابْنَةَ أَخِي ؟ فَقُلْتُ : نَعَمْ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّهَالَيْسَتْ بِنَجَسٍ ، إِنَّمَا هِيَ مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ وَالطَّوَّافَاتِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ کبشہ بنت کعب رضی اللہ عنہا، جو سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کی اہلیہ ہیں، وہ بیان کرتی ہیں: سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ ان کے ہاں تشریف لائے، انہوں نے ان کے لیے وضو کا پانی رکھا، ایک بلی آئی اور اس میں سے پینے لگی، سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے برتن اس کی طرف کر دیا، اس بلی نے پانی پی لیا، سیدہ کبشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے میری طرف دیکھا، میں ان کی طرف غور سے دیکھ رہی تھی، تو انہوں نے دریافت کیا: اے میری بھتیجی! کیا تم حیران ہو رہی ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، تو انہوں نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”یہ (یعنی بلی) ناپاک نہیں ہے، یہ تمہارے ہاں گھر میں آنے جانے والے جانوروں میں سے ایک ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1299]

1300

Sahih Ibn Hibban #1300

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ أَوْ بِذَاتِ الْجَيْشِ ، انْقَطَعَ عِقْدٌ لِي ، فَأَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْتِمَاسِهِ ، فَأَقَامَ مَعَهُ النَّاسُ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ ، فَجَاءَ نَاسٌ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ ، فَقَالُوا : أَلا تَرَى مَا صَنَعَتْ عَائِشَةُ ؟ أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِالنَّاسِ مَعَهُ ، وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعٌ رَأْسَهُ عَلَى فَخِذِي قَدْ نَامَ ، فَقَالَ : حَبَسْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسَ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ ؟ فَعَاتَبَنِي أَبُو بَكْرٍ ، وَقَالَ : مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ، وَجَعَلَ يَطْعُنُ بِيَدِهِ فِي خَاصِرَتِي ، فَلا يَمْنَعُنِي مِنَ التَّحَرُّكِ إِلا مَكَانُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَصْبَحَ ،" فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ التَّيَمُّمِ ، فَتَيَمَّمُوا ". قَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ وَهُوَ أَحَدُ النُّقَبَاءِ : مَا هَذَا بِأَوَّلِ بَرَكَتِكُمْ يَا آلَ أَبِي بَكْرٍ ! قَالَتْ عَائِشَةُ : " فَبَعَثْنَا الْبَعِيرَ الَّذِي كُنْتُ عَلَيْهِ فَوَجَدْنَا الْعِقْدَ تَحْتَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں کہ ہم ایک سفر پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے۔ جب ہم «بَيْدَاءَ» یا «ذَاتِ الْجَيْشِ» (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) کے مقام پر پہنچے تو میرا ہار گر گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاش میں وہاں ٹھہر گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لوگ بھی ٹھہر گئے، وہاں آس پاس پانی نہیں تھا اور لوگوں کے پاس بھی پانی نہیں تھا۔ کچھ لوگ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بولے: ”کیا آپ نے دیکھا ہے، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما نے کیا کیا ہے؟ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ کے ہمراہ لوگوں کو ٹھہرنے پر مجبور کر دیا ہے حالانکہ یہاں آس پاس پانی نہیں ہے، اور لوگوں کے پاس بھی پانی نہیں ہے۔“ تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما (کے پاس) آئے، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر میرے زانوں پر رکھ کر سو رہے تھے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اور لوگوں کو رکنے پر مجبور کیا ہے حالانکہ یہاں آس پاس پانی نہیں ہے، اور لوگوں کے پاس بھی پانی نہیں ہے۔“ (سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں) سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھ پر ناراضگی کا اظہار کیا اور جو اللہ کو منظور تھا وہ کہا، وہ اپنے ہاتھ کے ساتھ میرے پہلو پر مارتے رہے، لیکن میں نے حرکت اس لیے نہیں کی، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (میرے زانوں پر سر رکھ کر آرام فرما رہے تھے)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوئے رہے، یہاں تک کہ صبح کا وقت ہو گیا، تو اللہ تعالیٰ نے تیمم سے متعلق آیت نازل کر دی تو لوگوں نے تیمم کر لیا۔ اس وقت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ، جو نقیبوں میں سے ایک تھے، انہوں نے یہ کہا: ”اے ابوبکر کی آل! یہ آپ کی پہلی برکت نہیں ہے۔“ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں کہ جب ہم نے اس اونٹ کو اٹھایا جس پر میں سوار تھی، تو ہمیں اس کے نیچے سے ہار بھی مل گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1300]

1301

Sahih Ibn Hibban #1301

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، وَإِنَّا سِرْنَا لَيْلَةً ، حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ وَقَعْنَا تِلْكَ الْوَقْعَةَ وَلا وَقْعَةَ أَحْلَى عِنْدَ الْمُسَافِرِ مِنْهَا ، فَمَا أَيْقَظَنَا إِلا حَرُّ الشَّمْسِ ، قَالَ : وَكَانَ أَوَّلُ مَنِ اسْتَيْقَظَ فُلانٌ ، ثُمَّ فُلانٌ ، ثُمَّ فُلانٌ ، وَكَانَ يُسَمِّيهِمْ أَبُو رَجَاءٍ وَنَسِيَهُمْ عَوْفٌ ، ثُمَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الرَّابِعُ ، قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَامَ لَمْ نُوقِظْهُ حَتَّى يَكُونَ هُوَ يَسْتَيْقِظُ ، لأَنَّا لا نَدْرِي مَا يَحْدُثُ لَهُ فِي نَوْمِهِ ، قَالَ : فَلَمْا اسْتَيْقَظَ عُمَرُ وَرَأَى مَا أَصَابَ النَّاسَ ، قَالَ : وَكَانَ رَجُلا أَجْوَفَ جَلِيدًا ، قَالَ : فَكَبَّرَ وَرَفَعَ صَوْتَهُ ، فَمَا زَالَ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ حَتَّى اسْتَيْقَظَ بِصَوْتِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْا اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، شَكَوَا الَّذِي أَصَابَهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا ضَيْرَ ، أَوْ لا يَضِيرُ ارْتَحِلُوا " ، فَسَارَ غَيْرَ بَعِيدٍ ، ثُمَّ نَزَلَ فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ ، وَنُودِيَ بِالصَّلاةِ ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ ، فَلَمْا انْفَتَلَ مِنْ صَلاتِهِ ، إِذَا هُوَ بِرَجُلٍ مُعْتَزِلٍ لَمْ يُصَلِّ مَعَ الْقَوْمِ ، قَالَ : مَا مَنَعَكَ يَا فُلانُ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ ؟ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ وَلا مَاءَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" عَلَيْكَ بِالصَّعِيدِ فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ ، ثُمَّ سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاشْتَكَى إِلَيْهِ النَّاسُ الْعَطَشَ ، قَالَ : فَنَزَلَ فَدَعَا فُلانًا وَكَانَ يُسَمِّيهِ أَبُو رَجَاءٍ وَنَسِيَهُ عَوْفٌ وَدَعَا عَلِيًّا ، فَقَالَ : اذْهَبَا فَابْغِيَا لَنَا الْمَاءَ ، فَلَقِيَا امْرَأَةً بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ أَوْ سَطِيحَتَيْنِ مِنْ مَاءٍ عَلَى بَعِيرٍ لَهَا ، فَقَالا لَهَا : أَيْنَ الْمَاءُ ؟ قَالَتْ : عَهْدِي بِالْمَاءِ أَمْسِ هَذِهِ السَّاعَةَ ، وَنَفَرُنَا خُلُوفٌ ، قَالَ : فَقَالا لَهَا : انْطَلِقِي إِذًا ، قَالَتْ : إِلَى أَيْنَ ؟ قَالا : إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : هَذَا الَّذِي يُقَالُ لَهُ الصَّابِي ؟ قَالا : هُوَ الَّذِي تَعْنِينَ ، فَانْطَلِقِي إِذًا ، فَجَاءَا بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَحَدَّثَاهُ الْحَدِيثَ ، قَالَ : فَاسْتَنْزَلُوهَا عَنْ بَعِيرِهَا ، وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِإِنَاءٍ ، فَأَفْرَغَ فِيهِ مِنْ أَفْوَاهِ الْمَزَادَتَيْنِ ، أَوِ السَّطِيحَتَيْنِ ، وَأَوْكَأَ أَفْوَاهَهُمَا وَأَطْلَقَ الْعَزَالِي ، وَنُودِيَ فِي النَّاسِ ، أَنِ اسْتَقُوا وَاسْقُوا ، قَالَ : فَسَقَى مَنْ شَاءَ وَاسْتَقَى مَنْ شَاءَ ، وَكَانَ آخِرُ ذَلِكَ أَنْ أُعْطِيَ الَّذِي أَصَابَتْهُ الْجَنَابَةُ إِنَاءً مِنْ مَاءٍ ، فَقَالَ : اذْهَبْ فَأَفْرِغْهُ عَلَيْكَ ، قَالَ : وَهِيَ قَائِمَةٌ تَنْظُرُ إِلَى مَا يَفْعَلُ بِمَائِهَا ، قَالَ : وَايْمُ اللَّهِ لَقَدْ أُقْلِعَ عَنْهَا حِينَ أُقْلِعَ ، وَإِنَّهُ لَيُخَيَّلُ لَنَا أَنَّهَا أَشَدُّ مَلْئًا مِنْهَا حِينَ ابْتُدِئَ فِيهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اجْمَعُوا لَهَا طَعَامًا " ، قَالَ : فَجَمَعَ لَهَا مِنْ بَيْنِ عَجْوَةٍ وَدَقِيقَةٍ وَسَوِيقَةٍ ، حَتَّى جَمَعُوا لَهَا طَعَامًا كَثِيرًا ، وَجَعَلُوهُ فِي ثَوْبٍ ، وَحَمَلُوهَا عَلَى بَعِيرِهَا ، وَوَضَعُوا الثَّوْبَ بَيْنَ يَدَيْهَا ، قَالَ : فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَعْلَمْينَ أَنَّا وَاللَّهِ مَا رُزِئْنَا مِنْ مَائِكَ شَيْئًا ، وَلَكِنَّ اللَّه هُوَ سَقَانَا " ، قَالَ : فَأَتَتْ أَهْلَهَا وَقَدِ احْتَبَسَتْ عَلَيْهِمْ ، فَقَالُوا : مَا حَبَسَكِ يَا فُلانَةُ ؟ قَالَتِ : الْعَجَبُ ، لَقِيَنِي رَجُلانِ ، فَذَهَبَا بِي إِلَى هَذَا الَّذِي يُقَالُ لَهُ : الصَّابِي ، فَفَعَلَ بِي كَذَا وَكَذَا ، الَّذِي قَدْ كَانَ ، فَوَاللَّهِ إِنَّهُ لأَسْحَرُ مَنْ بَيْنَ هَذِهِ إِلَى هَذِهِ ، أَوْ إِنَّهُ لِرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَقًّا ، قَالَ : فَكَانَ الْمُسْلِمُونَ بَعْدَ ذَلِكَ يُغِيرُونَ عَلَى مَنْ حَوْلَهَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَلا يُصِيبُونَ الصِّرْمَ الَّذِي هِيَ فِيهِ ، فَقَالَتْ لِقَوْمِهَا : وَاللَّهِ هَؤُلاءِ الْقَوْمُ يَدَعُونَكُمْ عَمْدًا ، فَهَلْ لَكُمْ فِي الإِسْلامِ ؟ فَأَطَاعُوهَا فَدَخَلُوا فِي الإِسْلامِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ ہم رات بھر سفر کرتے رہے، جب رات کا آخری حصہ ہوا تو ہمیں نیند نے آ لیا اور مسافر کے نزدیک نیند سے پیاری اور کوئی چیز نہیں ہوتی۔ ہمیں سورج کی تپش نے بیدار کیا۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: بیدار ہونے والوں میں سے سب سے پہلے فلاں شخص تھے، پھر فلاں صاحب تھے اور پھر فلاں صاحب تھے۔ ابورجاء نامی راوی نے ان کے نام بھی بیان کیے تھے لیکن عوف نامی راوی ان کے ناموں کو بھول گئے، پھر چوتھے بیدار ہونے والے فرد سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (سوئے) ہوتے تھے، تو ہم آپ کو بیدار نہیں کرتے تھے، یہاں تک کہ آپ خود ہی بیدار ہوتے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم یہ نہیں جان سکتے تھے کہ نیند کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا صورتحال پیش آ رہی ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے اور انہوں نے صورت حال کو دیکھا تو (راوی بیان کرتے ہیں:) وہ بلند آواز کے مالک ایک سخت مزاج شخص تھے۔ راوی کہتے ہیں انہوں نے بلند آواز میں تکبیر کہی اور مسلسل تکبیر کہتے رہے۔ ان کی تکبیر کی آواز بلند رہی، یہاں تک کہ ان کی آواز کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو گئے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے، تو لوگوں نے پیش آنے والی صورت حال کی شکایت آپ کی خدمت میں کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی نقصان نہیں ہے۔“ (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) ”تم لوگ روانہ ہو جاؤ۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑا آگے گئے، پھر آپ سواری سے نیچے اترے، پھر آپ نے پانی منگوایا، وضو کیا، نماز کے لیے اذان دی گئی۔ آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو ایک شخص الگ موجود تھا۔ اس نے لوگوں کے ساتھ نماز ادا نہیں کی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”اے فلاں! کیا وجہ ہے، تم نے لوگوں کے ساتھ نماز ادا نہیں کی؟“ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! مجھے جنابت لاحق ہو گئی تھی، اور (غسل کرنے کے لیے) پانی نہیں ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم پر مٹی کو استعمال کرنا لازم ہے، یہ تمہارے لیے کافی ہو گی۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے، لوگوں نے آپ کی خدمت میں پیاسے ہونے کی شکایت کی۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سواری سے نیچے اترے، آپ نے فلاں صاحب کو بلوایا (اس شخص کا نام ابورجاء نامی نے بیان کیا تھا لیکن عوف نامی راوی اسے بھول گئے) اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھی بلایا اور ارشاد فرمایا: ”تم دونوں جاؤ اور ہمارے لیے پانی تلاش کرو۔“ (یہ دونوں حضرات روانہ ہو گئے) ان دونوں حضرات کا سامنا ایک خاتون سے ہوا جو اپنے اونٹ پر دو مشکیزوں کے درمیان سوار تھی۔ ان دونوں حضرات نے اس خاتون سے دریافت کیا کہ پانی کہاں ہے۔ اس نے جواب دیا: گزشتہ کل اسی وقت میں پانی کے پاس تھی (یعنی ایک دن کے فاصلے پر ہے) اور ہمارے مرد قبیلے میں موجود نہیں تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ان دونوں حضرات نے اس خاتون سے کہا: پھر تم (ہمارے ساتھ) چلو۔ اس نے دریافت کیا: کہاں؟ ان دونوں حضرات نے جواب دیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف۔ اس نے دریافت کیا: کیا یہی وہ شخص ہے جسے بے دین کہا جاتا ہے؟ ان دونوں صاحبان نے فرمایا: وہ وہی ہیں، جو تم مراد لے رہی ہو۔ اب تم چل پڑو۔ پھر یہ دونوں اس خاتون کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو پورے واقعے کے بارے میں بتایا۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس خاتون کو اس کے اونٹ سے نیچے اتار لیا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن منگوایا اور مشکیزوں کے منہ سے اس میں پانی انڈیلا (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) آپ نے مشکیزے کے منہ کو بند رکھا اور اس کے نیچے کے سوراخ کو کھول دیا اور لوگوں میں یہ اعلان کر دیا گیا کہ: ”تم لوگ خود بھی پانی حاصل کرو اور (اپنے جانوروں وغیرہ کو) بھی پلاؤ۔“ راوی بیان کرتے ہیں، پھر جس نے چاہا اس نے پی لیا، جس نے چاہا اس نے (غسل وغیرہ کے لیے) حاصل کر لیا۔ سب سے آخر میں اس شخص کو پانی का برتن دیا گیا جسے جنابت لاحق ہوئی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم جاؤ اور اسے اپنے جسم پر انڈیل لو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: وہ عورت کھڑی دیکھتی رہی کہ اس کے پانی کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم! جب اس میں سے اتنا سارا پانی نکال لیا گیا، تو پھر بھی ہمیں یوں محسوس ہوا کہ شاید یہ مشکیزے پہلے سے زیادہ بھرے ہوئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس عورت کے لیے کھانے کا سامان جمع کرو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: تو اس عورت کے لیے عجوہ کھجوریں اور ستو جمع کر لیے گئے، یہاں تک کہ اس کے لیے بہت سا اناج جمع ہو گیا اور لوگوں نے اسے ایک کپڑے میں ڈال دیا۔ اسے اس کے اونٹ پر سوار کر دیا، اور وہ کپڑا اس کے آگے رکھ دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے فرمایا: ”تم یہ بات جانتی ہو؟ اللہ کی قسم! ہم نے تمہارے پانی میں کوئی کمی نہیں کی، لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں سیراب کر دیا ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: وہ عورت اپنے گھر والوں کے پاس آئی جبکہ وہ کچھ تاخیر سے گئی تھی، ان لوگوں نے دریافت کیا: اے فلاں! تم کہاں رہ گئی تھی؟ اس نے جواب دیا: بڑی حیرانگی کی بات ہے، مجھے دو لوگ ملے وہ مجھے ساتھ لے کر ان صاحب کے پاس چلے گئے جن کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ بے دین ہیں۔ انہوں نے میرے ساتھ اس طرح کا سلوک کیا یعنی اس چیز کے بارے میں بتایا جو ہو چکی تھی، اور کہا: اللہ کی قسم! وہ یہاں سے لے کر یہاں تک کے درمیانی حصے کے سب سے بڑے جادوگر ہیں یا پھر وہ واقعی اللہ کے رسول ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس کے بعد وہاں کے مسلمانوں نے آس پاس کے مشرکین پر حملے کیے، لیکن اس بستی پر حملہ نہیں کیا جہاں وہ عورت رہتی تھی۔ اس عورت نے اپنی قوم سے کہا: اللہ کی قسم! یہ لوگ جان بوجھ کر تمہیں چھوڑ رہے ہیں، تو کیا تم لوگ اسلام میں دلچسپی رکھتے ہو؟ تو ان لوگوں نے اس عورت کی بات مان لی اور اسلام میں داخل ہو گئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1301]

1302

Sahih Ibn Hibban #1302

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو رَجَاءٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ ، قَالَ : كُنَّا فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى إِذَا كُنَّا فِي آخِرِ اللَّيْلِ ، وَقَعْنَا تِلْكَ الْوَقْعَةَ وَلا وَقْعَةَ أَحْلَى عِنْدَ الْمُسَافِرِ مِنْهَا ، فَمَا أَيْقَظَنَا إِلا حَرُّ الشَّمْسِ ، فَاسْتَيْقَظَ فُلانٌ وَفُلانٌ وَكَانَ يُسَمِّيهِمْ أَبُو رَجَاءٍ وَنَسِيَهُمْ عَوْفٌ ، ثُمَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ الرَّابِعُ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَامَ لَمْ يُوقَظْ حَتَّى يَكُونَ هُوَ يَسْتَيْقِظُ ، لأَنَّا لا نَدْرِي مَا يَحْدُثُ لَهُ فِي النَّوْمِ ، فَلَمْا اسْتَيْقَظَ عُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَرَأَى مَا أَصَابَ النَّاسَ ، وَكَانَ رَجُلا جَلِيدًا ، فَكَبَّرَ وَرَفَعَ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ ، فَمَا زَالَ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ حَتَّى اسْتَيْقَظَ بِصَوْتِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْا اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَكَوْا إِلَيْهِ الَّذِي أَصَابَهُمْ ، فَقَالَ : لا يَضِيرُ ، فَارْتَحِلُوا ، وَارْتَحَلَ ، فَسَارَ غَيْرَ بَعِيدٍ ، ثُمَّ نَزَلَ فَدَعَا بِالْوَضُوءِ فَتَوَضَّأَ ، فَنُودِيَ بِالصَّلاةِ فَصَلَّى بِالنَّاسِ ، فَلَمْا انْفَتَلَ مِنْ صَلاتِهِ ، فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ مُعْتَزِلٍ لَمْ يُصَلِّ مَعَ الْقَوْمِ ، فَقَالَ : مَا مَنَعَكَ يَا فُلانُ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ ؟ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ ، وَلا مَاءَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" عَلَيْكَ بِالصَّعِيدِ فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ " ، ثُمَّ سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَشَكَا النَّاسُ إِلَيْهِ الْعَطَشَ ، فَنَزَلَ فَدَعَا فُلانًا وَكَانَ يُسَمِّيهِ أَبُو رَجَاءٍ وَنَسِيَهُ عَوْفٌ ، وَدَعَا عَلِيًّا رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، وَقَالَ : اذْهَبَا فَأَتَيَا بِالْمَاءِ ، فَانْطَلَقَا امْرَأَةٌ بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ ، أَوْ سَطِيحَتَيْنِ مِنْ مَاءٍ عَلَى بَعِيرٍ لَهَا ، وَقَالا لَهَا : أَيْنَ الْمَاءُ ؟ فَقَالَتْ : عَهْدِي بِالْمَاءِ أَمْسِ هَذِهِ السَّاعَةَ ، وَنَفَرُنَا خُلُوفٌ ، قَالا لَهَا : انْطَلِقِي ، قَالَتْ : إِلَى أَيْنَ ؟ قَالا : إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : هَذَا الَّذِي يُقَالُ لَهُ : الصَّابِي ؟ قَالا : هُوَ الَّذِي تَعْنِينَ ، فَانْطَلِقِي ، وَجَاءَا بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاسْتَنْزَلُوهَا عَنْ بَعِيرِهَا ، وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ ، فَأَفْرَغَ فِيهِ مِنْ أَفْوَاهِ الْمَزَادَتَيْنِ ، أَوِ السَّطِيحَتَيْنِ ، وَأَوْكَأَ أَفْوَاهَهُمَا ، وَأَطْلَقَ الْعَزَالِي ، وَنُودِيَ فِي النَّاسِ : أَنِ اسْتَقُوا وَاسْقُوا ، قَالَ : فَسَقَى مَنْ شَاءَ ، وَاسْتَسْقَى مَنْ شَاءَ ، وَكَانَ آخِرُ ذَلِكَ أَنْ أَعْطَى الَّذِي أَصَابَتْهُ الْجَنَابَةُ إِنَاءً مِنْ مَاءٍ ، فَقَالَ : " اذْهَبْ فَأَفْرِغْهُ عَلَيْكَ " ، قَالَ : وَهِيَ قَائِمَةٌ تَنْظُرُ إِلَى مَا يَفْعَلُ بِمَائِهَا ، قَالَ : وَايْمُ اللَّهِ ، لَقَدْ أُقْلِعَ عَنْهَا حِينَ أُقْلِعَ ، وَإِنَّهُ لَيُخَيَّلُ إِلَيْنَا أَنَّهَا أَشَدُّ مَلْئًا مِنْهَا حِينَ ابْتُدِئَ فِيهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اجْمَعُوا لَهَا طَعَامًا ، فَجَمَعَ لَهَا مِنْ تَمْرٍ وَعَجْوَةٍ وَدَقِيقَةٍ وَسَوِيقَةٍ ، حَتَّى جَمَعُوا لَهَا طَعَامًا كَثِيرًا ، وَجَعَلُوهُ فِي ثَوْبٍ وَحَمَلُوهَا عَلَى بَعِيرِهَا ، وَوَضَعُوا الثَّوْبَ الَّذِي فِيهِ الطَّعَامُ بَيْنَ يَدَيْهَا ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَعْلَمْينَ وَاللَّهِ مَا رَزَأْنَا مِنْ مَائِكِ شَيْئًا ، وَلَكِنَّ اللَّهَ هُوَ الَّذِي سَقَانَا ، فَأَتَتْ أَهْلَهَا وَقَدِ احْتَبَسَتْ عَنْهُمْ ، قَالُوا : مَا حَبَسَكِ يَا فُلانَةُ ؟ قَالَتِ : الْعَجَبُ ، لَقِيَنِي رَجُلانِ ، فَذَهَبَا بِي إِلَى هَذَا الَّذِي يُقَالُ لَهُ : الصَّابِي ، فَفَعَلَ بِي كَذَا وَكَذَا الَّذِي قَدْ كَانَ وَاللَّهِ إِنَّهُ لأَسْحَرُ مَنْ بَيْنَ هَذِهِ وَهَذِهِ ، وَقَالَتْ : بِأُصْبُعَيْهَا السَّبَّابَةُ الْوُسْطَى ، فَرَفَعَتْهُمَا إِلَى السَّمَاءِ وَالأَرْضِ ، أَوْ إِنَّهُ لَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا ، فَكَانَ الْمُسْلِمُونَ بَعْدُ يُغِيرُونَ عَلَى مَنْ حَوْلَهَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، وَلا يُصِيبُونَ الصِّرْمَ الَّذِي هِيَ فِيهِمْ ، قَالَتْ يَوْمًا لِقَوْمِهَا : مَا أَرَى هَؤُلاءِ الْقَوْمُ يَدَعُونَكُمْ إِلا عَمْدًا ، فَهَلْ لَكُمْ فِي الإِسْلامِ ؟ فَأَطَاعُوهَا فَدَخَلُوا فِي الإِسْلامِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ عِمْرَانُ بْنُ تَيْمٍ ، مَاتَ وَهُوَ ابْنُ مِائَةٍ وَعِشْرِينَ سَنَةً"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ جب رات کا آخری حصہ آیا تو ہمیں نیند آ گئی اور مسافر کے نزدیک نیند سے زیادہ پیاری کوئی اور چیز نہیں ہوتی۔ ہمیں سورج کی تپش نے بیدار کیا، فلاں، فلاں اور فلاں بیدار ہوئے—ابورجاء نامی راوی نے ان کا نام بیان کیا تھا لیکن عوف نامی راوی ان کا نام بھول گئے—پھر چوتھے بیدار ہونے والے شخص سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سویا کرتے تھے، تو آپ کو بیدار نہیں کیا جاتا تھا، یہاں تک کہ آپ خود ہی بیدار ہوتے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم یہ نہیں جان سکتے تھے کہ نیند کے دوران آپ کے ساتھ کیا صورت حال پیش آ رہی ہے۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے اور انہوں نے وہ چیز دیکھی جو لوگوں کو پیش آئی ہے، وہ بلند آواز کے مالک تھے۔ انہوں نے تکبیر کہی اور تکبیر کہتے ہوئے آواز کو بلند کیا۔ وہ مسلسل تکبیر کہتے رہے اور بلند آواز میں تکبیر کہتے رہے یہاں تک کہ ان کی آواز کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو گئے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے، تو لوگوں نے پیش آنے والی صورت حال کی شکایت آپ کے سامنے کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں تم لوگ روانہ ہو جاؤ۔“ پھر آپ روانہ ہوئے، تھوڑا آگے جانے کے بعد آپ سواری سے اترے، پھر آپ نے وضو کے لیے پانی منگوایا، وضو کیا اور نماز کے لیے اذان دی گئی۔ آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب آپ لوگوں کو نماز پڑھا کر فارغ ہوئے، تو ایک شخص الگ موجود تھا، جس نے لوگوں کے ساتھ نماز ادا نہیں کی تھی۔ آپ نے دریافت کیا: ”اے فلاں! کیا بات ہے، تم نے لوگوں کے ساتھ نماز نہیں ادا کی؟“ اس نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے جنابت لاحق ہو گئی تھی، اور پانی موجود نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پر مٹی استعمال کرنا لازم ہے، وہ تمہارے لیے کفایت کرے گی۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے، لوگوں نے آپ کی خدمت میں پیاسے ہونے کی شکایت کی، تو آپ سواری سے نیچے اترے اور فلاں کو بلایا—رجاء نامی راوی نے ان کا نام بیان کیا تھا لیکن عوف نامی راوی اسے بھول گئے—راوی بیان کرتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھی بلایا اور فرمایا: ”تم دونوں جاؤ اور پانی لے کر آؤ۔“ دونوں حضرات رضی اللہ عنہما روانہ ہوئے، ان کا سامنا ایک عورت سے ہوا جو اپنے اونٹ پر دو مشکیزوں کے درمیان سوار تھی (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے)۔ ان دونوں حضرات رضی اللہ عنہما نے اس سے دریافت کیا: پانی کہاں ہے؟ اس نے جواب دیا: گزشتہ دن اسی وقت میں پانی کے پاس موجود تھی، ہمارے قبیلے کے مرد موجود نہیں ہیں (اس لیے میں اتنی دور سے پانی لے کر آئی ہوں)۔ ان دونوں حضرات رضی اللہ عنہما نے اس سے کہا: تم چلو! اس نے دریافت کیا: کہاں؟ ان دونوں حضرات رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: اللہ کے رسول کی طرف۔ اس نے دریافت کیا: کیا یہ وہی صاحب ہیں، جن کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ بے دین ہیں؟ ان دونوں حضرات رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: یہ وہی ہیں، جو تم مراد لے رہی ہو، تم چلو۔ یہ دونوں حضرات رضی اللہ عنہما اس عورت کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ لوگوں نے اس عورت کو اس کے اونٹ سے نیچے اتارا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن منگوایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزوں کے منہ سے پانی انڈیلا (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے منہ کو بند کر دیا اور ان کے نیچے والے سوراخ کھول دیے۔ لوگوں میں اعلان کر دیا گیا کہ وہ پانی حاصل کر لیں اور (جانوروں وغیرہ کو بھی) پانی پلائیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر جس نے چاہا اس نے پلایا اور جس نے چاہا پانی پی لیا، سب سے آخر میں اس شخص کو پانی دیا گیا جسے جنابت لاحق ہوئی تھی۔ پانی کا برتن دیا گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جاؤ اور اسے اپنے اوپر بہا لو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: وہ عورت کھڑی دیکھتی رہی کہ اس کے پانی کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم! اس میں سے جتنا بھی پانی نکلا، اس کے بعد بھی ہمیں یوں محسوس ہوا تھا شاید وہ مشکیزے پہلے سے زیادہ بھرے ہوئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس عورت کے لیے کھانے کا سامان اکٹھا کرو۔“ تو اس عورت کے لیے عجوہ کھجوریں، آٹا اور ستو اکٹھے کیے گئے، یہاں تک کہ لوگوں نے اس کے لیے بہت سا اناج اکٹھا کر لیا۔ لوگوں نے اسے ایک کپڑے میں رکھا اور اس عورت کو اس کے اونٹ پر سوار کر کے وہ تھیلا اس کے آگے رکھ دیا جس میں اناج موجود تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے فرمایا: ”تم یہ بات جانتی ہو، اللہ کی قسم! ہم نے تمہارے پانی میں کوئی کمی نہیں کی لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں سیراب کیا ہے۔“ پھر وہ عورت اپنے اہل خانہ کے پاس آئی، وہ تاخیر سے ان کے پاس پہنچی تھی، تو ان لوگوں نے دریافت کیا: اے فلانہ! تمہیں کس چیز نے روک لیا تھا؟ وہ بولی: بڑی حیران کن بات ہے، مجھے دو آدمی ملے، وہ مجھے ساتھ لے گئے اور ان صاحب کے پاس لے گئے جنہیں بے دین کہا جاتا ہے، پھر انہوں نے میرے ساتھ اس اس طرح کا سلوک کیا، یعنی جو کچھ ہوا تھا (اس کو اس نے بیان کیا)۔ اللہ کی قسم! یہاں سے لے کر یہاں تک کے درمیان موجود اس جگہ میں وہ سب سے بڑے جادوگر ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس عورت نے اپنی شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کو پہلے آسمان کی طرف اٹھایا، پھر زمین کی طرف کیا (اور یہ بات کہی) یا پھر وہ واقعی اللہ کے سچے رسول ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس کے بعد مسلمانوں نے اس کے آس پاس کے علاقوں میں موجود مشرکین پر حملے کیے لیکن اس بستی پر حملہ نہیں کیا جہاں وہ عورت رہتی تھی۔ ایک دن اس عورت نے اپنی قوم سے کہا: میرا یہ خیال ہے کہ یہ لوگ تم لوگوں کو جان بوجھ کر چھوڑ رہے ہیں، تو کیا تم لوگ اسلام میں دلچسپی رکھتے ہو؟ تو لوگوں نے اس کی بات مان لی اور اسلام میں داخل ہو گئے۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابورجاء عطاردی کا نام عمران بن تیم ہے، ان کا انتقال 120 سال کی عمر میں ہوا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1302]

1303

Sahih Ibn Hibban #1303

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الِمَنْهَالِ الضَّرِيرُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَزْرَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ التَّيَمُّمِ فَأَمَرَنِي بِالْوَجْهِ وَالْكَفِينِ ضَرْبَةً وَاحِدَةً "، وَكَانَ قَتَادَةُ بِهِ يُفْتِي"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تیمم کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ نے مجھے ”چہرے اور دونوں بازوؤں کے لیے ایک ضرب (زمین پر) مارنے“ کی ہدایت کی۔ قتادہ اس کے مطابق فتویٰ دیتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1303]

1304

Sahih Ibn Hibban #1304

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَيَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ L5079، وَأَبِي مُوسَى ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرَّجُلُ يُجْنِبُ فَلا يَجِدُ الْمَاءَ أَيُصَلِّي ؟ فَقَالَ : لا ، فَقَالَ : أَمَا تَذْكُرُ قَوْلَ عَمَّارٍ لِعُمَرَ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَا وَأَنْتَ فَأَجْنَبْتُ فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : " كَانَيَكْفِيكَ هَكَذَا : وَضَرَبَ بِيَدِهِ الأَرْضَ ، فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَكَفِيهِ "، فَقَالَ : لَمْ أَرَ عُمَرَ قَنَعَ بِذَلِكَ ، قَالَ : فَمَا تَصْنَعُ بِهَذِهِ الآيَةِ : فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا ، فَقَالَ : أَمَا إِنَّا لَوْ رَخَّصْنَا لَهُمْ فِي هَذَا ، لَكَانَ أَحَدُهُمْ إِذَا وَجَدَ بَرْدَ الْمَاءِ تَيَمَّمَ بِالصَّعِيدِ ، زَادَ يَعْلَى : قَالَ الأَعْمَشُ : فَقُلْتُ لِشَقِيقٍ فَلَمْ يَكُنْ هَذَا إِلا لِهَذَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شقیق بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن مسعود اور سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابوعبدالرحمن! ایک شخص کو جنابت لاحق ہو جاتی ہے اور اسے پانی نہیں ملتا، تو کیا وہ نماز ادا کرے گا؟ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: جی نہیں۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا آپ کو یہ بات یاد نہیں ہے کہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا تھا کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور آپ کو کسی جگہ بھیجا تھا، تو مجھے جنابت لاحق ہو گئی تھی، تو میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہو گیا، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے اس طرح کر لینا کافی تھا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے اور انہیں اپنے چہرے اور دونوں بازوؤں پر پھیر لیا۔ تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو نہیں دیکھا کہ انہوں نے اس بیان پر قناعت کی ہو۔ تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پھر آپ اس آیت ﴿فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا﴾ [سورة المائدة: 6] کے بارے میں کیا کہیں گے: ”اور تمہیں پانی نہیں ملتا تو تم پاک مٹی سے تیمم کر لو۔“؟ تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر ہم اس بارے میں لوگوں کو رخصت دینا شروع کر دیں تو ان میں سے کسی ایک شخص کو پانی ٹھنڈا لگے گا تو وہ مٹی کے ذریعے تیمم کر لیا کرے گا۔ یعلیٰ نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے، اعمش نے یہ بات بیان کی ہے، میں نے شقیق سے کہا: یہ حکم صرف اس کے لیے ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1304]

1305

Sahih Ibn Hibban #1305

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمْةَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو مُوسَى لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ : لَوْ أَنَّ جُنُبًا لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ شَهْرًا لَمْ يُصَلِّ ؟ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لا ، قَالَ أَبُو مُوسَى : أَمَا تَذْكُرُ حِينَ قَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ لِعُمَرَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، أَلا تَتَّقِي اللَّهَ ، أَلا تَذْكُرُ حِينَ بَعَثَنِي وَإِيَّاكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الإِبِلِ ، فَأَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ ، فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ ، فَلَمْا رَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّمَا كَانَيَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ هَكَذَا : وَضَرَبَ بِيَدِهِ إِلَى الأَرْضِ ، وَمَسَحَ وَجْهَهُ وَكَفِيهِ "، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لا جَرَمَ مَا رَأَيْتُ عُمَرَ قَنَعَ بِذَلِكَ ، قَالَ أَبُو مُوسَى : فَكَيْفَ بِهَذِهِ الآيَةِ فِي سُورَةِ النِّسَاءِ ، فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : إِنَّا لَوْ رَخَّصْنَا لَهُمْ فِي ذَلِكَ يُوشِكُ إِذَا بَرَدَ عَلَى جِلْدِ أَحَدِهِمُ الْمَاءُ أَنْ يَتَيَمَّمَ ، قَالَ الأَعْمَشُ : فَقُلْتُ لِشَقِيقٍ : أَمَا كَانَ لِعَبْدِ اللَّهِ غَيْرُ ذَلِكَ ؟ قَالَ : لا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شقیق بن سلمہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اگر کسی جنبی کو ایک مہینے تک پانی نہیں ملتا تو کیا وہ نماز ادا نہیں کرے گا؟“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نہیں۔“ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا آپ کو یہ بات یاد نہیں ہے، سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ کہا تھا کہ اے امیر المؤمنین! کیا آپ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں ہیں؟ کیا آپ کو یہ بات یاد نہیں ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور آپ کو (اونٹوں) کے باڑے میں بھیجا تھا، تو مجھے جنابت لاحق ہو گئی تھی، تو میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہو گیا، جب میں واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَصْنَعَ هَكَذَا» ”تمہارے لیے یہ کافی تھا کہ تم اس طرح کر لو۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک زمین پر مارا اور اپنے چہرے اور بازوؤں پر پھیر لیا۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ بات طے ہے، میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا تھا کہ انہوں نے اس پر قناعت نہیں کی تھی۔“ تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”پھر آپ سورۃ النساء میں موجود اس آیت ﴿فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا﴾ [سورة النساء: 43] ”اور تمہیں پانی نہیں ملتا تو تم پاک مٹی کے ذریعے تیمم کر لو“ کے بارے میں کیا کہیں گے؟“ اس پر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر ہم لوگوں کو اس بارے میں رخصت دینا شروع کر دیں تو عنقریب ایسا وقت آ جائے گا کہ جب ان میں سے کسی ایک کو پانی ٹھنڈا لگے گا، تو وہ تیمم کر لیا کرے گا۔“ اعمش نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے کہ میں نے شقیق سے کہا: ”کیا سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ (کی اس مسئلے کے بارے میں) کوئی اور دلیل بھی ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”جی نہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1305]

1306

Sahih Ibn Hibban #1306

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ : إِنِّي أَجْنَبْتُ ، فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ ، فَقَالَ عُمَرُ : لا تُصَلِّ ، فَقَالَ عَمَّارٌ : أَمَا تَذْكُرُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ أَنْتَ وَأَنَا فِي سَرِيَّةٍ ، فَأَجْنَبْنَا ، فَلَمْ نَجْدِ الْمَاءَ ، فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ ، وَأَمَّا أَنَا ، فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ ، فَصَلَّيْتُ ، فَلَمْا أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : إِنَّمَا كَانَيَكْفِيكَ : وَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى الأَرْضِ ، ثُمَّ نَفَخَ فِيهِمَا ، وَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفِيهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: مجھے جنابت لاحق ہوگئی ہے اور مجھے پانی نہیں ملا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نماز نہ پڑھو۔ اس پر سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المؤمنین! کیا آپ کو یہ بات یاد نہیں ہے کہ میں اور آپ ایک جنگ میں تھے اور ہمیں جنابت لاحق ہوگئی اور پانی نہیں ملا، آپ نے تو نماز ادا نہیں کی اور میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہو گیا تھا اور میں نے نماز ادا کر لی تھی۔ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہیں اتنا کافی تھا۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک زمین پر مارا، اس پر پھونک ماری اور ان دونوں ہاتھوں کو اپنے چہرے اور بازوؤں پر پھیر لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1306]

1307

Sahih Ibn Hibban #1307

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، بِبُسْتَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي مُوسَى ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرَّجُلُ يُجْنِبُ ، فَلا يَجِدُ الْمَاءَ يُصَلِّي ؟ فَقَالَ : تَسْمَعُ قَوْلَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ لِعُمَرَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَنَا أَنَا وَأَنْتَ ، فَأَجْنَبْتُ ، فَتَمَعَّكْتُ بِالصَّعِيدِ ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : إِنَّمَايَكْفِيكَ هَذَا : وَمَسَحَ وَجْهَهُ وَكَفِيهِ وَاحِدَةً "، فَقَالَ : إِنِّي لَمْ أَرَ عُمَرَ قَنَعَ بِذَلِكَ ، فَقَالَ : كَيْفَ تَصْنَعُونَ بِهَذِهِ الآيَةِ ؟ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا ، قَالَ : لَوْ رَخَّصْنَا لَهُمْ فِي هَذِهِ كَانَ أَحَدُهُمْ إِذَا وَجَدَ الْمَاءَ الْبَارِدَ يَمْسَحُ بِالصَّعِيدِ ، قَالَ الأَعْمَشُ : فَقُلْتُ لِشَقِيقٍ : مَا كَرِهَهُ إِلا لِهَذَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شقیق بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن مسعود اور سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما کے ساتھ موجود تھا، تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عبدالرحمن! ایک شخص کو جنابت لاحق ہو گئی اور اسے پانی نہیں ملتا تو کیا وہ نماز ادا کرے گا؟ پھر سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا آپ نے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کا قول سنا تھا جو انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور آپ کو ایک مہم پر روانہ کیا تھا۔ میں جنابت کا شکار ہو گیا۔ میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہو گیا، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو آپ نے فرمایا: ”تمہارے لیے اس طرح کر لینا کافی تھا“ پھر آپ نے اپنے چہرے اور دونوں بازوؤں کا ایک مرتبہ مسح کیا۔ اس پر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو نہیں دیکھا کہ انہوں نے اس بات پر قناعت کی ہو، تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر آپ اس آیت ﴿فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا﴾ [سورة المائدة: 6] ”اور تمہیں پانی نہیں ملتا تم پاک مٹی کے ذریعے تیمم کر لو“ کے بارے میں کیا کہیں گے؟ تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر ہم لوگوں کو اس بارے میں رخصت دینا شروع کر دیں تو ان میں سے کسی ایک کو اگر پانی ٹھنڈا لگے گا، تو وہ مٹی سے مسح کر لیا کرے گا۔ اعمش نامی راوی کہتے ہیں: میں نے شقیق سے کہا: کیا وہ (سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ) اس وجہ سے اسے ناپسند کرتے تھے؟ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1307]

1308

Sahih Ibn Hibban #1308

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الِمَنْهَالِ الضَّرِيرُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَزْرَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ التَّيَمُّمِ ، فَأَمَرَنِي بِالْوَجْهِ وَالْكَفِينِ ضَرْبَةً وَاحِدَةً "، وَكَانَ قَتَادَةُ بِهِ يُفْتِي"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تیمم کے بارے میں دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ”چہرے اور دونوں بازوؤں کے لیے ایک ضرب (زمین پر) لگانے“ کا حکم دیا۔ قتادہ رحمہ اللہ اس کے مطابق فتویٰ دیتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1308]

1309

Sahih Ibn Hibban #1309

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، وَعُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ : إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ ، فَقَالَ عُمَرُ : لا تُصَلِّ ، فَقَالَ عَمَّارٌ : أَمَا تَذْكُرُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ أَنَا وَأَنْتَ فِي سَرِيَّةٍ فَأَجْنَبْنَا ، فَلَمْ نَجْدِ الْمَاءَ ، فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ ، وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ فَصَلَّيْتُ ، فَلَمْا أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : إِنَّمَايَكْفِيكَ : وَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى الأَرْضِ ، ثُمَّ نَفَخَ فِيهِمَا ، وَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفِيهِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : اللَّفْظُ لَمْحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ رَحِمَهُ اللَّهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: مجھے جنابت لاحق ہو گئی ہے، مجھے پانی نہیں ملا تو انہوں نے فرمایا: تم نماز نہ پڑھو، تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المؤمنین! کیا آپ کو یہ بات یاد نہیں ہے، جب میں اور آپ ایک مہم میں شریک تھے، ہمیں جنابت لاحق ہو گئی اور ہمیں پانی نہیں ملا، تو آپ نے نماز ادا نہیں کی اور میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ ہو کر نماز پڑھ لی، جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے یہ کافی تھا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک زمین پر مارا، دونوں ہاتھوں پر پھونک ماری، پھر ان دونوں کو چہرے اور دونوں بازوؤں پر پھیر لیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) روایت کے الفاظ محمد بن اسحاق (یعنی امام امام ابن خزیمہ) کے نقل کردہ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1309]

1310

Sahih Ibn Hibban #1310

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ابْنُ أَخِي جُوَيْرِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمَّارٍ ، قَالَ : تَيَمَّمْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَنَاكِبِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : كَانَ هَذَا حَيْثُ نَزَلَ آيَةُ التَّيَمُّمِ قَبْلَ تَعْلِيمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّارًا كَيْفِيةَ التَّيَمُّمِ ، ثُمَّ عَلَمْهُ ضَرْبَةً وَاحِدَةً لِلْوَجْهِ وَالْكَفِينِ ، لَمْا سَأَلَ عَمَّارٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ التَّيَمُّمِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کندھوں تک تیمم کیا ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ اس وقت کی بات ہے، جب تیمم کے حکم کے حوالے سے آیت نازل ہو گئی تھی لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابھی سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو تیمم کا طریقہ تعلیم نہیں دیا تھا۔ پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تعلیم دیتے ہوئے بتایا، ”چہرے اور دونوں ہاتھوں کے لیے ایک ہی مرتبہ ضرب لگائی جائے گی۔“ اس وقت جب سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تیمم کے بارے میں سوال کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1310]

1311

Sahih Ibn Hibban #1311

أَخْبَرَنَا شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : اجْتَمَعَتْ غَنِيمَةٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا أَبَا ذَرٍّ ، ابْدُ فِيهَا ، قَالَ : فَبَدَوْتُ فِيهَا إِلَى الرَّبَذَةِ ، فَكَانَتْ تُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ ، فَأَمْكُثُ الْخَمْسَ وَالسِّتَّ ، فَدَخَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَبُو ذَرٍّ : فَسَكَتُّ ، ثُمَّ قَالَ : أَبُو ذَرٍّ ، ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ ، فَأَخْبَرْتُهُ ، فَدَعَا بِجَارِيَةٍ سَوْدَاءَ ، فَجَاءَتْ بِعُسٍّ مِنْ مَاءٍ ، فَسَتَرَتْنِي ، وَاسْتَتَرْتُ بِالرَّاحِلَةِ ، فَاغْتَسَلْتُ ، فَكَأَنَّهَا أَلْقَتْ عَنِّي جَبَلا ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الصَّعِيدُ الطَّيِّبُ وَضُوءُ الْمُسْلِمِ ، وَلَوْ إِلَى عَشْرِ سِنِينَ ، فَإِذَا وَجَدْتَ الْمَاءَ فَأَمْسِسْهُ جِلْدَكَ ، فَإِنَّ ذَلِكَ خَيْرٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ بکریاں اکٹھی ہو گئیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے ابوذر! تم ان کے ہمراہ دیہات میں رہو۔“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں انہیں لے کر ربذہ کے مقام پر آ گیا، پھر مجھے جنابت لاحق ہو گئی اور میں پانچ یا چھ دن تک اسی حالت میں رہا، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوذر!“ میں خاموش رہا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر! تمہاری ماں تم پر روئے!“ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سیاہ فام کنیز کو بلوایا، وہ پانی کا ایک برتن لے کر آئی اور اس نے میرے لیے پردہ تان دیا، میں سواری کی اوٹ میں ہو گیا اور میں نے غسل کیا تو مجھے یوں محسوس ہوا کہ میں نے اپنے اوپر سے پہاڑ اتار دیا ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پاک مٹی مسلمان کے لیے طہارت کا ذریعہ ہے، اگرچہ اسے دس سال تک (پانی) نہ ملے، پھر جب تمہیں پانی مل جائے تو اسے اپنی جلد سے مس کرو (یعنی غسل کر لو)، یہ زیادہ بہتر ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1311]

1312

Sahih Ibn Hibban #1312

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّيْرَفِي ، غُلامُ طَالُوتَ بْنِ عَبَّاد بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ ، قَالَ : اجْتَمَعَتْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَمٌ مِنْ غَنَمِ الصَّدَقَةِ ، فَقَالَ : ابْدُ يَا أَبَا ذَرٍّ " ، قَالَ : فَبَدَوْتُ فِيهَا إِلَى الرَّبَذَةِ ، قَالَ : فَكَانَ يَأْتِي عَلَيَّ الْخَمْسُ وَالسِّتُّ وَأَنَا جُنُبٌ ، فَوَجَدْتُ فِي نَفْسِي ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى الْحُجْرَةِ ، فَلَمْا رَآنِي ، قَالَ : " مَا لَكَ يَا أَبَا ذَرٍّ ؟ " قَالَ : فَجَلَسْتُ ، قَالَ : " مَا لَكَ يَا أَبَا ذَرٍّ ، ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ ؟ " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ جُنُبٌ ، قَالَ : فَأَمَرَ جَارِيَةً سَوْدَاءَ ، فَجَاءَتْ بِعُسٍّ فِيهِ مَاءٌ ، فَاسْتَتَرْتُ بِالْبَعِيرِ وَبِالثَّوْبِ ، فَاغْتَسَلْتُ ، فَكَأَنَّمَا وَضَعَ عَنِّي جَبَلا ، فَقَالَ : " ادْنُ فَإِنَّالصَّعِيدَ الطَّيِّبَ وَضُوءُ الْمُسْلِمِ ، وَلَوْ عَشْرَ حِجَجٍ ، فَإِذَا وَجَدَ الْمَاءَ فَلْيُمِسَّ بَشَرَتَهُ الْمَاءَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صدقے کی بکریوں میں سے کچھ بکریاں اکٹھی ہو گئیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر! تم بدویت کی زندگی بسر کرو۔“ راوی کہتے ہیں کہ میں انہیں لے کر ربذہ کے مقام پر آ گیا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ میں پانچ یا چھ دن تک جنابت کی حالت میں رہا، مجھے بہت الجھن محسوس ہوتی تھی۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت آپ حجرے کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ جب آپ نے مجھے ملاحظہ کیا، تو دریافت کیا: ”اے ابوذر! تجھے کیا ہوا ہے؟“ راوی بیان کرتے ہیں کہ میں بیٹھ گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”اے ابوذر! کیا ہوا ہے؟ تیری ماں تجھے روئے۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! مجھے جنابت لاحق ہو گئی ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سیاہ کنیز کو حکم دیا، وہ پانی کا برتن لے کر آئی۔ میں نے اونٹ کی اوٹ میں کپڑے کا پردہ کیا اور غسل کر لیا، تو مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں نے اپنے اوپر سے پہاڑ اتار دیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگے آ جاؤ! پاک مٹی مسلمان کے لیے طہارت کے حصول کا ذریعہ ہے، اگرچہ دس سال گزر جائیں، پھر جب وہ پانی پا لے تو اسے اپنی جلد پر پانی لگا لینا چاہیے۔ (یعنی غسل کر لینا چاہیے)“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1312]

1313

Sahih Ibn Hibban #1313

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السِّكِّينِ ، بِوَاسِطَ ، وَكَانَ يَحْفَظُ الْحَدِيثَ ، وَيُذَاكِرُ بِهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسْتَامِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفِيانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، وَخَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الصَّعِيدُ الطَّيِّبُ وَضُوءُ الْمُسْلِمِ ، وَإِنْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ عَشْرَ سِنِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”پاک مٹی مسلمان کے لیے طہارت کے حصول کا ذریعہ ہے، اگرچہ اسے دس سال تک پانی نہ ملے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1313]

1314

Sahih Ibn Hibban #1314

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الْوَلِيدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، أَنَّ عَطَاءً عَمَّهُ ، حَدَّثَهُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَجُلا أَجْنَبَ فِي شِتَاءٍ ، فَسَأَلَ ، فَأُمِرَ بِالْغُسْلِ فَمَاتَ ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا لَهُمْ قَتَلُوهُ ؟ قَتَلَهُمُ اللَّهُ ثَلاثًا قَدْجَعَلَ اللَّهُ الصَّعِيدَ ، أَوِ التَّيَمُّمَ طَهُورًا "، قَالَ : شَكَّ ابْنُ عَبَّاسٍ ثُمَّ أَثْبَتَهُ بَعْدُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی سردی کے موسم میں جنابت کا شکار ہو گیا، اس نے مسئلہ دریافت کیا تو اسے غسل کرنے کی ہدایت کی گئی (غسل کرنے کی وجہ سے اس کا انتقال ہو گیا)، اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”لوگوں نے اس کو کیوں مروا دیا، اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو برباد کرے!“ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی (اور پھر فرمایا): ”اللہ تعالیٰ نے مٹی کو (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) تیمم کو طہارت کے حصول کا ذریعہ بنایا ہے۔“ روایت کے الفاظ میں یہ شک سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو ہے، اس کے بعد انہوں نے اسے شک کے بغیر ذکر کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1314]

1315

Sahih Ibn Hibban #1315

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمْ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ كَانَ عَلَى سَرِيَّةٍ ، وَأَنَّهُ أَصَابَهُمْ بَرْدٌ شَدِيدٌ لَمْ يَرَوْا مِثْلَهُ ، فَخَرَجَ لِصَلاةِ الصُّبْحِ ، قَالَ : وَاللَّهِ لَقَدِ احْتَلَمْتُ الْبَارِحَةَ ، فَغَسَلَ مَغَابَتَهُ ، وَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلاةِ ، ثُمَّ صَلَّى بِهِمْ ، فَلَمْا قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سَأَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ ، فَقَالَ : كَيْفَ وَجَدْتُمْ عَمْرًا وَأَصْحَابَهُ ؟ " ، فَأَثْنَوْا عَلَيْهِ خَيْرًا ، وَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، صَلَّى بِنَا وَهُوَ جُنُبٌ ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَمْرٍو فَسَأَلَهُ ، فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ وَبِالَّذِي لَقِيَ مِنَ الْبَرْدِ ، وَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ اللَّهَ قَالَ : وَلا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ ، وَلَوِ اغْتَسَلْتُ مُتُّ ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَمْرٍو"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوقیس، جو سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں، بیان کرتے ہیں: سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بھی ایک مہم پر تھے۔ لوگوں کو اتنی شدید سردی کا سامنا کرنا پڑا کہ اس طرح کی سردی انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ صبح کی نماز کے لیے تشریف لائے اور فرمایا: گزشتہ رات مجھے احتلام ہو گیا تھا، تو انہوں نے اپنی شرم گاہ کو دھویا اور نماز کے وضو کی طرح وضو کر کے لوگوں کو نماز پڑھا دی۔ جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے دریافت کیا: ”تم نے عمرو اور اس کے ساتھیوں کو کیسا پایا؟“ تو لوگوں نے ان کی تعریف کی اور یہ بات کہی: یا رسول اللہ! انہوں نے جنابت کی حالت میں ہمیں نماز پڑھا دی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور ان سے دریافت کیا، تو سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا اور جس سردی کا سامنا کرنا پڑا اس کے بارے میں بتایا: انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ﴿وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ﴾ [سورة النساء: 29] ”تم اپنے آپ کو قتل نہ کرو“ اگر میں غسل کر لیتا تو میں مر جاتا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی اس بات پر ہنس پڑے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1315]

1316

Sahih Ibn Hibban #1316

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ مِنَ الْغَائِطِ ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ عِنْدَ بِئْرِ جَمَلٍ ، فَسَلَمْ عَلَيْهِ ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْحَائِطِ ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى الْحَائِطِ ، ثُمَّ مَسَحَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ، ثُمَّ رَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرَّجُلِ السَّلامَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کر کے تشریف لائے، بئر جمل کے قریب آپ کا سامنا ایک شخص سے ہوا، اس نے آپ کو سلام کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سلام کا جواب نہیں دیا۔ آپ دیوار کے پاس تشریف لائے، آپ نے اپنا دستِ مبارک دیوار پر رکھا، پھر آپ نے اپنے چہرے اور دونوں بازوؤں پر ہاتھ پھیرا (یعنی تیمم کیا اور) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے سلام کا جواب دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1316]

1317

Sahih Ibn Hibban #1317

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ ، بِمَنْبِجَ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ أَوْ بِذَاتِ الْجَيْشِ ، انْقَطَعَ عِقْدٌ لِي ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْتِمَاسِهِ ، وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ ، وَلَيْسَ هُمْ عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ ، فَجَاءَ أُنَاسٌ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، فَقَالُوا : أَلا تَرَى مَا صَنَعَتْ عَائِشَةُ ؟ أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِالنَّاسِ ، وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ ، وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ ، فَعَاتَبَنِي أَبُو بَكْرٍ ، وَقَالَ : مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ، وَجَعَلَ يَطْعُنُ بِيَدِهِ فِي خَاصِرَتِي ، فَلا يَمْنَعُنِي مِنَ التَّحَرُّكِ إِلا مَكَانُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى أَصْبَحَ عَلَى غَيْرِ مَاءٍ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ التَّيَمُّمِ فَتَيَمَّمُوا ". قَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ وَهُوَ أَحَدُ النُّقَبَاءِ : مَا هَذَا بِأَوَّلِ بَرَكَتِكُمْ يَا آلَ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَبَعَثْنَا الْبَعِيرَ الَّذِي كُنْتُ عَلَيْهِ فَوَجَدْنَا الْعِقْدَ تَحْتَهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں شریک تھے، ہم ”بیداء“ یا شاید ”ذات الجیش“ کے مقام پر پہنچے تو ہار گر گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہار کی تلاش میں وہاں پڑاؤ کر لیا اور لوگ بھی آپ کے ساتھ وہاں رک گئے۔ وہاں آس پاس پانی نہیں تھا اور لوگوں کے پاس بھی پانی نہیں تھا۔ کچھ لوگ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بولے: کیا آپ نے یہ ملاحظہ فرمایا ہے کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کیا کیا ہے؟ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور لوگوں کو یہاں رکنے پر مجبور کر دیا ہے حالانکہ یہاں آس پاس پانی نہیں ہے اور لوگوں کے پاس بھی پانی نہیں ہے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر) ناراضگی کا اظہار کیا اور جو اللہ کو منظور تھا وہ کہا، وہ اپنا ہاتھ میرے پہلو پر مارتے رہے، لیکن میں نے حرکت اس لیے نہیں کی تھی کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (میری گود) میں سر رکھ کر سو رہے تھے۔ پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو صبح کا وقت ہو گیا تھا اور پانی موجود نہیں تھا، تو اللہ تعالیٰ نے تیمم کے حکم سے متعلق آیت نازل کر دی تو لوگوں نے تیمم کیا۔ اس پر سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ، جو نقباء میں سے ایک ہیں، انہوں نے یہ کہا: اے آلِ ابوبکر! یہ آپ کی پہلی برکت نہیں ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جس اونٹ پر میں سوار تھی جب ہم نے اس کو اٹھایا تو اس کے نیچے سے ہمیں ہار مل گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1317]