Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 12 · Chapter 1

The Book of Funerals and What Belongs to Them Before and After

Hadith 1238–1277

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

1238

Sahih Ibn Hibban #1238

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَلَمْةُ بْنُ شَبِيبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ ثُمَامَةَ الْحَنَفِي أُسِرَ ، فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُ إِلَيْهِ ، فِيقُولُ : وَمَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ ؟ " فِيقُولُ : إِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ ، وَإِنْ تَمُنَّ تَمُنَّ عَلَى شَاكِرٍ ، وَإِنْ تُرِدِ الْمَالَ تُعْطَ مَا شِئْتَ ، قَالَ : فَكَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّونَ الْفِدَاءَ ، وَيَقُولُونَ : مَا نَصْنَعُ بِقَتْلِ هَذَا ، فَمَرَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَأَسْلَمْ ، فَبَعَثَ بِهِ إِلَى حَائِطِ أَبِي طَلْحَةَ ،فَأَمَرَهُ أَنْ يَغْتَسِلَ ، فَاغْتَسَلَ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ " ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ حَسُنَ إِسْلامُ صَاحِبِكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ثمامہ حنفی کو قید کر لیا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملنے کے لیے آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”اے ثمامہ! تمہارے پاس کیا ہے؟“ اس نے کہا: اگر آپ قتل کر دیتے ہیں، تو پھر ایک خون والے شخص کو قتل کریں گے اور اگر آپ احسان کریں گے تو ایک شکر گزار شخص پر احسان کریں گے اور اگر آپ مال حاصل کرنا چاہتے ہیں، تو جو آپ چاہتے ہیں وہ آپ کو دے دیا جائے گا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے فدیہ لینے والی صورت کو پسند کیا، انہوں نے کہا: اس کو قتل کر کے ہمیں کیا ملے گا؟ پھر ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس سے گزرے تو اس نے اسلام قبول کر لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے باغ کی طرف بھیجا اور یہ ہدایت کی کہ وہ غسل کر لے، انہوں نے غسل کر کے دو رکعات نماز ادا کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہارے ساتھی کا اسلام عمدہ ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1238]

1239

Sahih Ibn Hibban #1239

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، خَيْلا قِبَلَ نَجْدٍ ، فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ يُقَالُ لَهُ : ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ سَيِّدُ أَهْلِ الْيَمَامَةِ ، فَرَبَطُوهُ بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ " ؟ قَالَ : عِنْدِي يَا مُحَمَّدُ خَيْرٌ ، إِنْ تَقْتُلْنِي تَقْتُلْ ذَا دَمٍ ، وَإِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ ، وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ ، تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ ، فَتَرَكَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى كَانَ الْغَدُ ، ثُمَّ قَالَ لَهُ : " مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ " ؟ قَالَ : مَا قُلْتُ لَكَ : إِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ ، وَإِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ ، وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ ، فَتَرَكَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَانَ بَعْدَ الْغَدِ ، فَقَالَ لَهُ : " مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ " ؟ فَقَالَ : عِنْدِي مَا قُلْتُ لَكَ ، إِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ ، وَإِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ ، وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" أَطْلِقُوا ثُمَامَةَ " فَانْطَلَقَ إِلَى نَخْلٍ قَرِيبٍ مِنَ الْمَسْجِدِ ، فَاغْتَسَلَ ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ ، فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، يَا مُحَمَّدُ وَاللَّهِ مَا كَانَ عَلَى الأَرْضِ وَجْهٌ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ وَجْهِكَ ، فَقَدْ أَصْبَحَ وَجْهُكَ أَحَبَّ الْوُجُوهِ كُلِّهَا إِلَيَّ ، وَاللَّهِ مَا كَانَ مِنْ دِينٍ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ دِينِكَ ، فَقَدْ أَصْبَحَ أَحَبَّ الدِّينِ كُلِّهِ إِلَيَّ ، وَاللَّهِ مَا كَانَ بَلَدٌ أَبْغَضَ عَلَيَّ مِنْ بَلَدِكَ ، فَقَدَ أَصْبَحَ بَلَدُكَ أَحَبَّ الْبِلادِ إِلَيَّ ، وَإِنَّ خَيْلَكَ أَخَذَتْنِي وَأَنَا أُرِيدُ الْعُمْرَةَ ، فَمَاذَا تَرَى ؟ فَبَشَّرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتَمِرَ ، فَلَمْا قَدِمَ مَكَّةَ ، قَالَ لَهُ قَائِلٌ : صَبَوْتَ ؟ قَالَ : لا ، وَلَكِنْ أَسْلَمْتُ مَعَ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلا وَاللَّهِ لا تَأْتِيكُمْ مِنَ الْيَمَامَةِ حَبَّةُ حِنْطَةٍ ، حَتَّى يَأْذَنَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " فِي هَذَا الْخَبَرِ دَلِيلٌ عَلَى إِبَاحَةِ التِّجَارَةِ إِلَى دُورِ الْحَرْبِ لأَهْلِ الْوَرَعِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی سمت میں ایک مہم روانہ کی، وہ لوگ بنو حنیفہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو پکڑ کر لے آئے جس کا نام ثمامہ بن اثال تھا، یہ اہل یمامہ کا سردار تھا۔ لوگوں نے اسے مسجد کے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے من میں کیا ہے، اے ثمامہ؟“ وہ بولا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے پاس بھلائی ہے، اگر آپ مجھے قتل کر دیتے ہیں تو آپ ایک خون والے شخص کو قتل کریں گے اور اگر آپ انعام کرتے ہیں تو آپ ایک شکر گزار شخص پر احسان کریں گے اور اگر آپ مال حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ مانگیں، جو مانگیں گے آپ کو دیا جائے گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا، یہاں تک کہ اگلا دن آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: ”اے ثمامہ! تمہارے ذہن میں کیا ہے؟“ وہ بولا: وہی ہے جو میں نے آپ کو کہا تھا کہ اگر آپ انعام کریں گے تو ایک شکر گزار پر کریں گے اور اگر قتل کرتے ہیں تو ایک خون والے شخص کو قتل کرتے ہیں اور اگر آپ مال حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ مانگیے، آپ جو مانگیں گے آپ کو مل جائے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسے چھوڑ دیا، پھر اگلا دن آ گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: ”اے ثمامہ! تمہارے ذہن میں کیا ہے؟“ وہ بولا: میرے ذہن میں وہی ہے جو میں آپ کو بتا چکا ہوں، اگر آپ انعام کریں گے تو شکر گزار شخص پر انعام کریں گے، اگر آپ قتل کریں گے تو ایک خون والے شخص کو قتل کریں گے اور اگر آپ مال حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ مانگیے، جو چاہیں وہ آپ کو دیا جائے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ثمامہ کو چھوڑ دو۔“ پھر وہ مسجد کے قریب کھجوروں کے باغ میں چلے گئے، انہوں نے وہاں غسل کیا پھر وہ مسجد میں آئے اور بولے: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور بے شک محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی قسم! روئے زمین پر کسی بھی شخص کا چہرہ میرے نزدیک آپ کے چہرے سے زیادہ ناپسندیدہ نہیں تھا لیکن اب میری یہ حالت ہے کہ آپ کا چہرہ میرے نزدیک تمام چہروں سے زیادہ محبوب ہے۔ اللہ کی قسم! آپ کے دین سے زیادہ ناپسندیدہ دین اور کوئی نہیں تھا لیکن اب میری یہ حالت ہے کہ آپ کا دین میرے نزدیک تمام ادیان سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ اللہ کی قسم! آپ کے شہر سے زیادہ ناپسندیدہ میرے نزدیک اور کوئی شہر نہیں تھا لیکن اب یہ حالت ہے کہ آپ کا شہر میرے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ آپ کے گھڑ سواروں نے مجھے پکڑ لیا، میں عمرے کے لیے جا رہا تھا اب آپ کی کیا رائے ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خوشخبری دی (مبارک باد دی) اور اسے عمرہ کرنے کی ہدایت کی۔ جب وہ مکہ آیا تو کسی نے اس سے کہا: تم بے دین ہو گئے ہو؟ اس نے جواب دیا: جی نہیں، بلکہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ اسلام قبول کیا ہے جو اللہ کے رسول ہیں، اللہ کی قسم! ثمامہ کی طرف سے تمہارے پاس گندم کا ایک دانہ بھی اس وقت تک نہیں آئے گا جب تک اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کی اجازت نہیں دیں گے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ پرہیزگار لوگ (مسلمان) حربیوں کے علاقے میں تجارت کر سکتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1239]

1240

Sahih Ibn Hibban #1240

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفِيانُ ، عَنِ الأَغَرِّ بْنِ الصَّبَّاحِ ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ ، أَنَّهُ أَسْلَمْ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْيَغْتَسِلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

خلیفہ بن حصین، سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے جب اسلام قبول کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی کہ: ”وہ پانی اور بیری کے پتوں کے ذریعے غسل کریں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1240]

1241

Sahih Ibn Hibban #1241

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ الْقُطَيْعِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الْمَاءُ لا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1241]

1242

Sahih Ibn Hibban #1242

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ سُفِيانَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْتَسَلَتْ مِنْ جَنَابَةٍ ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَتَوَضَّأُ مِنْ فَضْلِهَا ، فَقَالَتْ لَهُ ، فَقَالَ : إِنَّالْمَاءَ لا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے ایک خاتون نے غسلِ جنابت کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ان کے بچائے ہوئے پانی سے وضو کرنے لگے، ان خاتون نے آپ کی خدمت میں عرض کی: (یہ ان کے غسل کا بچا ہوا پانی ہے) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1242]

1243

Sahih Ibn Hibban #1243

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمْةَ ، مِنْ آلِ بَنِي الأَزْرَقِ ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ ، وَهُوَ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا نَرْكَبُ الْبَحْرَ وَنَحْمِلُ مَعَنْا الْقَلِيلَ مِنَ الْمَاءِ ، فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِهِ عَطِشْنَا ، أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْمَاءِ الْبَحْرِ ؟ فَقَالَ : هُوَ الطُّهُورُ مَاؤُهُ ، الْحِلُّ مَيْتَتُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! ہم سمندری سفر پر جاتے ہیں، ہم اپنے ساتھ بہت تھوڑا سا پانی لے کر جاتے ہیں، اگر ہم اس کے ذریعے وضو کر لیتے ہیں، تو ہم پیاسے رہ جاتے ہیں، کیا ہم سمندری پانی کے ذریعے وضو کر لیا کریں؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس کا پانی پاک ہے، اور اس کا مردار حلال ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1243]

1244

Sahih Ibn Hibban #1244

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي إِسْحَاقُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنِ ابْنِ مِقْسَمٍ يَعْنِي عُبَيْدَ اللَّهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْمَاءِ الْبَحْرِ ، فَقَالَ : هُوَ الطُّهُورُ مَاؤُهُ ، الْحِلُّ مَيْتَتُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سمندر کے پانی کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”اس کا پانی پاک ہے، اور اس کا مردار حلال ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1244]

1245

Sahih Ibn Hibban #1245

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُشْكَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ أَنَّ مَيْمُونَةَ ، وَرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اغْتَسَلا فِي قَصْعَةٍ فِيهَا أَثَرُ الْعَجِينِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی برتن میں (موجود پانی) سے غسل کیا تھا، جس میں آٹے کا نشان موجود تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1245]

1246

Sahih Ibn Hibban #1246

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ دَاءً ، وَفِي الآخَرِ شِفَاءً ، وَإِنَّهُ يَتَّقِي بِجَنَاحِهِ الَّذِي فِيهِ الدَّاءُ ، فَلْيَغْمِسْهُ كُلَّهُ ، ثُمَّ لِيَنْزِعْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب مکھی کسی برتن میں گر جائے، تو اس مکھی کے ایک پر میں بیماری ہوتی ہے اور دوسرے پر میں شفا ہوتی ہے، وہ اپنے اس پر کو بچا کے رکھتی ہے جس میں بیماری ہوتی ہے، تو آدمی کو چاہیے کہ مکمل طور پر اسے ڈبو کر باہر نکالے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1246]

1247

Sahih Ibn Hibban #1247

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمْةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَامْقُلُوهُ ، فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ دَاءً ، وَفِي الآخَرِ دَوَاءً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب مکھی کسی شخص کے برتن میں گر جائے، تو تم اسے پورا ڈبو دو کیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری ہوتی ہے، اور دوسرے میں دوا ہوتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1247]

1248

Sahih Ibn Hibban #1248

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي غَيْلانَ الثَّقَفِي ، بِبَغْدَادَ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : اغْتَسَلَ بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَفْنَةٍ ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ مِنْهَا أَوْ يَتَوَضَّأُ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّالْمَاءَ لا يُجْنِبُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ محترمہ نے برتن میں سے غسل کیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اس برتن میں سے غسل یا شاید وضو کرنے لگے تو اس خاتون نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں جنابت کی حالت میں تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پانی کو جنابت لاحق نہیں ہوتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1248]

1249

Sahih Ibn Hibban #1249

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَهُمْ أَنَّ أَبَاهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، حَدَّثَهُمْ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْمَاءِ وَمَا يَنُوبُهُ مِنَ الدَّوَابِّ وَالسِّبَاعِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يُنَجِّسْهُ شَيْءٌ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْمَاءُ لا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ لَفْظَةٌ أُطْلِقَتْ عَلَى الْعُمُومِ تُسْتَعْمَلُ فِي بَعْضِ الأَحْوَالِ ، وَهُوَ الْمِيَاهُ الْكَثِيرَةُ الَّتِي لا تَحْتَمِلُ النَّجَاسَةَ ، فَتَطْهُرُ فِيهَا ، وَتَخُصُّ هَذِهِ اللَّفْظَةَ الَّتِي أُطْلِقَتْ عَلَى الْعُمُومِ وُرُودُ سُنَّةٍ وَهُوَ قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يُنَجِّسْهُ شَيْءٌ ، وَيَخُصَّ هَذَيْنِ الْخَبَرَيْنِ الإِجْمَاعُ عَلَى أَنَّ الْمَاءَ قَلِيلا كَانَ أَوْ كَثِيرًا فَغَيَّرَ طَعْمَهُ أَوْ لَوْنَهُ أَوْ رِيحَهُ نَجَاسَةٌ وَقَعَتْ فِيهِ أَنَّ ذَلِكَ الْمَاءَ نَجِسٌ بِهَذَا الإِجْمَاعِ الَّذِي يَخُصُّ عُمُومَ تِلْكَ اللَّفْظَةِ الْمُطْلَقَةِ الَّتِي ذَكَرْنَاهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان لوگوں کو یہ بات بتائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس پانی کے بارے میں دریافت کیا گیا جس میں سے بعد میں جانور اور درندے بھی آ کر پی لیتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب پانی دو قلے ہو، تو کوئی چیز اسے ناپاک نہیں کرتی ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ہے“ یہاں الفاظ عمومی استعمال ہوئے ہیں، لیکن بعض حالتوں میں اس پر عمل کیا جائے گا اور پانی سے مراد وہ پانی ہے جو زیادہ ہو اور وہ نجاست کو نہ اٹھاتا ہو۔ یہاں استعمال ہونے والے عمومی الفاظ کو ایک اور حدیث خاص کر دیتی ہے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے: ”جب پانی دو قلے ہو تو اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ہے۔“ اور ان دونوں روایات کو وہ اجماع خاص کر دیتا ہے جو اس بات پر ہے کہ جب نجاست پانی میں گر کر اس کے ذائقے، رنگ یا بو کو تبدیل کر دے تو وہ پانی ناپاک ہو جائے گا۔ اس بات پر اجماع ہے جو ان مطلق الفاظ کے عموم کو خاص کر دیتا ہے جن کا ہم نے ذکر کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1249]

1250

Sahih Ibn Hibban #1250

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّهُنَهَى عَنْ أَنْ يُبَالَ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ ”ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کیا جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1250]

1251

Sahih Ibn Hibban #1251

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ مِنْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کوئی بھی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں ہرگز پیشاب نہ کرے کہ پھر وہ اس میں سے ہی وضو کر لے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1251]

1252

Sahih Ibn Hibban #1252

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمْ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ ، أَنَّ أَبَا السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَغْتَسِلُ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ ، وَهُوَ جُنُبٌ "، فَقَالُوا : كَيْفَ نَفْعَلُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ؟ قَالَ : يَتَنَاوَلُهً تَنَاوُلا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں غسل نہ کرے جبکہ وہ جنابت کی حالت میں ہو۔“ لوگوں نے عرض کی: اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ! پھر ہم کیا کریں؟ تو انہوں نے فرمایا: آدمی اس میں سے پانی حاصل کر لے (اور دوسری جگہ جا کر غسل کر لے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1252]

1253

Sahih Ibn Hibban #1253

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْمَاءِ وَمَا يَنُوبُهُ مِنَ السِّبَاعِ وَالدَّوَابِّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا كَانَ الَمْاءُ قُلَّتَيْنِ ، لَمْ يُنَجِّسْهُ شَيْءٌ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : هَذِهِ لَفْظَةُ إِخْبَارٍ مُرَادُهُ الإِعْلامُ عَمَّا سُئِلَ عَنْهُ ، يَعْنِي : لا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ مِمَّا سَأَلَنِي عَنْهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبیداللہ بن عبداللہ اپنے والد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے پانی کے بارے میں دریافت کیا گیا جس میں سے درندے اور جانور بھی آ کر پیتے ہوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب پانی دو قُلّے ہو جائے، تو اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ الفاظ اطلاع دینے کے ہیں، اس سے مراد اس چیز کے بارے میں اطلاع دینے کے ہیں جس کے بارے میں دریافت کیا گیا ہو، اس کا مطلب یہ ہے کہ جس چیز کے بارے میں سوال کیا گیا ہے، ان میں سے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1253]

1254

Sahih Ibn Hibban #1254

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ بِطَرَسُوسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفِيانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ الَّذِي لا يَجْرِي ، ثُمَّ يَغْتَسِلُ مِنْهُ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أُمَيَّةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ حَامِدَ بْنَ يَحْيَى ، يَقُولُ : سَمِعْتُ سُفِيانَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ أَرْبَعَةً وَنَسِيتُ وَاحِدًا ، يَعْنِي : أَرْبَعَةَ أَحَادِيثَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں جو بہتا نہ ہو اس میں ہرگز پیشاب نہ کرے کہ پھر وہ اس میں سے غسل کرلے گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) میں نے ابن ابی امیہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے حامد بن یحییٰ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے سفیان کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن ابی الزناد کو موسیٰ بن ابوعثمان کے حوالے سے چار روایات کو نقل کرتے ہوئے سنا ہے اور ان میں سے ایک میں بھول گیا ہوں۔ ان کی مراد چار احادیث ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1254]

1255

Sahih Ibn Hibban #1255

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بن المبارك ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغَفَّلِ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَبُولَ الرَّجُلُ فِي مُغْتَسَلِهِ ، فَإِنَّ عَامَّةَ الْوَسْوَاسِ يَكُونُ مِنْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ ”آدمی غسل کی جگہ پر پیشاب کرے، کیونکہ عام طور پر اس کی وجہ سے وسوسے پیدا ہوتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1255]

1256

Sahih Ibn Hibban #1256

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ مِنْهُ ، أَوْ يَشْرَبُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں ہرگز پیشاب نہ کرے کہ پھر وہ اس میں سے ہی وضو کر لے گا یا اسے پی لے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1256]

1257

Sahih Ibn Hibban #1257

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا يَبُولُ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ ، وَلا يَغْتَسِلُ فِيهِ مِنَ الْجَنَابَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کوئی بھی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں ہرگز پیشاب نہ کرے اور نہ ہی اس میں غسل جنابت کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1257]

1258

Sahih Ibn Hibban #1258

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَقِيَ الرَّجُلَ مِنْ أَصْحَابِهِ ، مَسَحَهُ وَدَعَا لَهُ ، قَالَ : فَرَأَيْتُهُ يَوْمًا بُكْرَةً فَحِدْتُ عَنْهُ ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ حِينَ ارْتَفَعَ النَّهَارُ ، فَقَالَ : إِنِّي رَأَيْتُكَ ، فَحِدْتَ عَنِّي " ، فَقُلْتُ : إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا ، فَخَشِيتُ أَنْ تَمَسَّنِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّالْمُسْلِمَ لا يَنْجُسُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے جب بھی کسی شخص کے ساتھ آپ کی ملاقات ہوتی تھی، تو آپ اس پر ہاتھ پھیرتے تھے اور اس کے لیے دعائے رحمت کرتے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ایک دن میں نے آپ کو صبح کے وقت دیکھا تو میں آپ کے سامنے آنے سے ہٹ گیا، پھر میں دن چڑھنے کے بعد آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا: ”میں نے تمہیں دیکھا تھا، تم میرے سامنے سے ہٹ گئے تھے۔“ میں نے عرض کی: میں اس وقت جنابت کی حالت میں تھا۔ مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ آپ مجھے مس نہ کر دیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کبھی نجس نہیں ہوتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1258]

1259

Sahih Ibn Hibban #1259

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، بِبُسْتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَتَكِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا جُنُبٌ ، فَمَشَيْتُ مَعَهُ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِي ، فَانْسَلَلْتُ مِنْهُ ، فَانْطَلَقْتُ ، فَاغْتَسَلْتُ ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَيْهِ فَجَلَسْتُ مَعَهُ ، فَقَالَ : أَيْنَ كُنْتَ يَا أَبَا هِرٍّ ؟ " ، قُلْتُ : لَقِيتَنِي وَأَنَا جُنُبٌ ، فَكَرِهْتُ أَنْ أُجَالِسَكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّالْمُؤْمِنَ لا يَنْجُسُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجھ سے ملاقات ہوئی اور میں جنابت کی حالت میں تھا، میں آپ کے ساتھ چلتا رہا اور آپ نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا، پھر میں آپ کے پاس سے چلا گیا، میں واپس آیا اور میں نے غسل کیا، پھر میں واپس آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کے ساتھ بیٹھ گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ! تم کہاں چلے گئے تھے؟“ میں نے عرض کی: جب آپ سے میری ملاقات ہوئی تھی تو میں جنابت کی حالت میں تھا، مجھے اچھا نہیں لگا کہ میں ایسی حالت میں آپ کے ساتھ بیٹھا رہوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک مومن نجس نہیں ہوتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1259]

1260

Sahih Ibn Hibban #1260

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ ، بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ ، قَالَ : حَدّّثَنَا أبو دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعبة ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا حَاجِبٍ ، يُحَدِّثُ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ وُضُوءِ الْمَرْأَةِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَبُو حَاجِبٍ اسْمُهُ سَوَادَةُ بْنُ عَاصِمٍ الْقَيْزِيُّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ ”مرد، عورت کے وضو کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوحاجب نامی راوی کا نام سوادہ بن عاصم قیزی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1260]

1261

Sahih Ibn Hibban #1261

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : اغْتَسَلَ بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَفْنَةٍ ، فَأَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَوَضَّأَ مِنْهُ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا ، فَقَالَ : الْمَاءُ لا يُجْنِبُ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : لَمْ يَقُلْ فِي جَفْنَةٍ إِلا أَبُو الأَحْوَصِ ، فَإِنَّهُ قَالَ : فِي جَفْنَةٍ ، وَهَذِهِ اللَّفْظَةُ دَالَّةٌ عَلَى نَفِي إِيجَابِ الْوُضُوءِ مِنَ الْمُلامَسَةِ إِذَا كَانَتْ مَعَ ذَوَاتِ الْمَحَارِمِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ محترمہ نے ایک برتن میں (موجود پانی سے) غسل کیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے وضو کرنے کا ارادہ کیا، تو اس خاتون نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں جنابت کی حالت میں تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پانی جنبی نہیں ہوتا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ” «فِي جَفْنَةٍ» کے الفاظ صرف ابواحوص نامی راوی نے نقل کیے ہیں۔ انہوں نے یہ کہا ہے کہ «فِي جَفْنَةٍ» اور یہ الفاظ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ محرم خواتین کو چھو لینے سے وضو لازم نہیں ہوتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1261]

1262

Sahih Ibn Hibban #1262

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ ، يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كُنْتُأَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ مِنَ الْجَنَابَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل کر لیتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1262]

1263

Sahih Ibn Hibban #1263

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ أَبْصَرَالنَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ يَتَطَهَّرُونَ ، الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ ، كُلُّهُمْ يَتَطَهَّرُ مِنْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو دیکھا ہے، وہ یعنی مرد اور عورت (یعنی میاں بیوی) ایک ہی برتن سے وضو کر لیتے تھے اور وہ سب اسی سے طہارت حاصل کر لیتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1263]

1264

Sahih Ibn Hibban #1264

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كُنْتُأَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ مِنَ الْجَنَابَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل جنابت کر لیتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1264]

1265

Sahih Ibn Hibban #1265

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، كَانَ يَقُولُ : إِنَّالرِّجَالَ وَالنِّسَاءَ كَانُوا يَتَوَضَّئُونَ فِي زَمَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمِيعًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں مرد اور عورتیں (یعنی میاں بیوی) ایک ساتھ وضو کر لیتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1265]

1266

Sahih Ibn Hibban #1266

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الِمَنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : جَاءَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي وَأَنَا مَرِيضٌ لا أَعْقِلُ ،فَتَوَضَّأَ ، وَصَبَّ مِنْ وَضُوئِهِ عَلَيَّ ، فَعَقَلْتُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَنِ الْمِيرَاثُ ؟ فَإِنَّمَا يَرِثُنِي كَلالَةً ، فَنَزَلَتْ آيَةُ الْفَرَائِضِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فِي صَبِّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وُضُوءَهُ عَلَى جَابِرٍ بَيَانٌ وَاضِحٌ بِأَنَّ الْمَاءَ الْمُتَوَضَّأُ بِهِ طَاهِرٌ لَيْسَ لَهُ أَنْ يَتَيَمَّمَ ، لأَنَّهُ وَاجِدُ الْمَاءَ الطَّاهِرَ وَإِنَّمَا أَبَاحَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ التَّيَمُّمَ عِنْدَ عَدَمِ الْمَاءِ وَكَيْفَ التَّيَمُّمُ لِوَاجِدِ الْمَاءِ الطَّاهِرِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کرنے کے لیے میرے پاس تشریف لائے، میں اس وقت بیمار تھا اور مجھے ہوش نہیں تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے وضو کا بچا ہوا پانی مجھ پر چھڑک دیا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! (میری) میراث کس کے لیے ہوگی، کیونکہ میری میراث کی صورت کلالہ کی ہے، تو وراثت کے حکم سے متعلق آیت نازل ہوگئی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے وضو کے بچے ہوئے پانی کا سیدنا جابر رضی اللہ عنہ پر چھڑکنا اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ جس پانی سے وضو کیا گیا ہو وہ پانی پاک ہوتا ہے اور جس شخص کو یہ پانی میسر ہو اس کو تیمم کرنے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ وہ پاک پانی کو پانے والا شمار ہوگا اور اللہ تعالیٰ نے تیمم کو اس وقت مباح قرار دیا ہے، جب پانی دستیاب نہ ہو تو پاک پانی کو پانے والا شخص تیمم کیسے کر سکتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1266]

1267

Sahih Ibn Hibban #1267

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ عُمَرَ ، فَقَالَ : إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ ، فَقَالَ لا تُصَلِّ ، فَقَالَ عَمَّارٌ : أَمَا تَذْكُرُ إِذْ كُنْتُ أَنَا وَأَنْتَ فِي سَرِيَّةٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّمَا كَانَيَكْفِيكَ وَضَرَبَ بِيَدِهِ الأَرْضَ ضَرْبَةً ، فَنَفَخَ فِي كَفِيهِ ، وَمَسَحَ وَجْهَهُ وَكَفِيهِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فِي تَعْلِيمِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّيَمُّمَ ، وَالاكْتِفَاءُ فِيهِ بِضَرْبَةٍ وَاحِدَةٍ لِلْوَجْهِ وَالْكَفِينِ أَبْيَنُ الْبَيَانِ بِأَنَّ الْمُؤَدَّى بِهِ الْفَرْضُ مَرَّةً جَائِزٌ أَنْ يُؤَدَّى بِهِ الْفَرْضُ ثَانِيًا ، وَذَاكَ أَنَّ الْمُتَيَمِّمَ عَلَيْهِ الْفَرْضُ أَنْ يُيَمِّمَ وَجْهَهُ وَكَفِيهِ جَمِيعًا ، فَلَمْا أَجَاز صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدَاءَ الْفَرْضِ فِي التَّيَمُّمِ لِكَفِيهِ ، بِفَضْلِ مَا أَدَّى بِهِ فَرَضَ وَجْهِهِ صَحَّ ، أَنَّ التُّرَابَ الْمُؤَدَّى بِهِ الْفَرْضُ بِعُضْوٍ وَاحِدٍ جَائِزٌ ، أَنْ يُؤَدَّى بِهِ فَرَضُ الْعُضْوِ الثَّانِي بِهِ مَرَّةً أُخْرَى ، وَلَمْا صَحَّ ذَلِكَ فِي التَّيَمُّمِ ، صَحَّ ذَلِكَ فِي الْوُضُوءِ سَوَاءً"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن ابزی بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا، اس نے کہا: میں جنابت کا شکار ہو جاتا ہوں، مجھے پانی نہیں ملتا (تو مجھے کیا کرنا چاہیے) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نماز نہ پڑھو (جب تک پانی نہیں مل جاتا) سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ کو یہ بات یاد نہیں ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں، میں اور آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنگی مہم میں شریک ہوئے تھے (تو میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہو گیا تھا) اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہارے لیے اتنا ہی کافی تھا“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک زمین پر مارا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلیوں پر پھونک ماری اور اپنے چہرے اور دونوں بازوؤں پر مسح کر لیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تیمم کی تعلیم دیتے ہوئے چہرے اور دونوں ہاتھوں کے لیے ایک ہی ضرب پر اکتفاء کرنا اس بات کا واضح بیان ہے کہ ایک مرتبہ میں جس کے ذریعے فرض کو ادا کیا گیا ہو اس کے ذریعے دوسرے فرض کو ادا کرنا جائز ہے۔ اس کی صورت یوں ہے کہ تیمم کرنے والے شخص پر یہ بات لازم ہے کہ وہ چہرے اور دونوں ہاتھوں کا مسح کرے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیمم میں دونوں ہاتھوں کے لیے اس چیز کو جائز قرار دیا ہے، جو اس کی ہتھیلی پر چہرے کے فرض کو ادا کرنے کے بعد بچا رہنے والا (غبار ہے) تو یہ بات درست ہو گی کہ وہ مٹی جس کے ذریعے ایک ضرب کے فرض کو ادا کیا گیا ہے، یہ بات جائز ہے کہ اس کے ذریعے دوسری مرتبہ میں دوسرے عضو کے فرض کو ادا کیا جائے، تو جب یہ بات تیمم میں درست ہو گی تو وضو میں بھی درست ہو گی)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1267]

1268

Sahih Ibn Hibban #1268

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قُبَّةٍ حَمْرَاءَ ، وَرَأَيْتُ بِلالا أَخْرَجَ وَضُوءَهُ ، فَرَأَيْتُ النَّاسَ يَبْتَدِرُونَ وَضُوءَهُ يَتَمَسَّحُونَ ، قَالَ : ثُمَّ أَخْرَجَ بِلالٌ عَنْزَةً فَرَكَزَهَا ، ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ سِيَرَاءَ ،فَصَلَّى إِلَيْهَا وَالنَّاسُ وَالدَّوَابُّ يَمُرُّونَ بَيْنَ يَدَيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عون بن ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک سرخ خیمے میں دیکھا، میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بچا ہوا پانی لے کر باہر آئے۔ میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ وضو کے بچے ہوئے پانی کی طرف تیزی سے لپکے اور وہ اسے (اپنے جسم) پر ملنے لگے، پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ ایک نیزہ لے کر باہر آئے۔ انہوں نے اسے گاڑ دیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سرخ رنگ کے سیرانی حلے میں باہر تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نیزے کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی جبکہ اس کے دوسری طرف سے لوگ اور جانور گزر رہے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1268]

1269

Sahih Ibn Hibban #1269

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : اغْتَسَلَ بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَفْنَةٍ ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ ، أَوْ يَغْتَسِلُ مِنْ فَضْلِهَا ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّالْمَاءَ لا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ محترمہ نے ایک ٹب میں (پانی) سے غسل کیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اس کے بچے ہوئے پانی سے وضو یا شاید غسل کرنے لگے، خاتون نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں جنبی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پانی کو کوئی چیز نجس نہیں کرتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1269]

1270

Sahih Ibn Hibban #1270

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الِمَنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَبِلَبَنٍ وَهُوَ بِالنَّقِيعِ غَيْرِ مُخَمَّرٍ ، فَقَالَ : أَلا خَمَّرْتَهُ وَلَوْ تَعْرِضُ عَلَيْهِ عُودًا ". قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ : إِنَّمَا كُنَّا نُؤْمَرُ بِالأَسْقِيَةِ أَنْ تُوكَأَ لَيْلا وَبِالأَبْوَابِ أَنْ تُغْلَقَ لَيْلاً"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں دودھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جو ڈھانپا ہوا نہیں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ”نقیع“ (کے مقام) پر موجود تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم نے اسے ڈھانپ کیوں نہیں دیا؟ خواہ اس پر ایک لکڑی ہی رکھ دیتے۔“ سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہمیں برتنوں کے بارے میں اس بات کا حکم دیا گیا تھا کہ رات کے وقت ان کا منہ بند کر دیا کریں اور دروازوں کے بارے میں یہ حکم دیا تھا کہ رات کے وقت انہیں بند کر دیا کریں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1270]

1271

Sahih Ibn Hibban #1271

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَغْلِقُوا الأَبْوَابَ ، وَأَوْكُوا السِّقَاءَ ، وَخَمِّرُوا الإِنَاءَ ، وَأَطْفِئُوا الْمِصْبَاحَ ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لا يَفْتَحُ غَلَقًا ، وَلا يَحُلُّ وِكَاءً ، وَلا يَكْشِفُ إِنَاءً ، وَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ تُضْرِمُ عَلَى النَّاسِ بَيْتَهُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”(رات کو سوتے وقت) دروازے بند کر دو، مشکیزوں کا منہ بند کر دو، برتنوں کو ڈھانپ دو، چراغ بجھا دو، کیونکہ شیطان بند دروازوں کو کھولتا نہیں ہے، بند منہ والے مشکیزوں کو کھولتا نہیں ہے، برتن پر سے چیز کو ہٹاتا نہیں ہے، اور چوہا بعض اوقات لوگوں کے گھر کو آگ لگا دیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1271]

1272

Sahih Ibn Hibban #1272

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَغْلِقْ بَابَكَ ، وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لا يَفْتَحُ بَابًا مُغْلَقًا ، وَأَطْفِئْ مِصْبَاحَكَ ، وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ ، وَأَوْكِ سِقَاءَكَ ، وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ ، وَخَمِّرْ إِنَاءَكَ ، وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ ، وَلَوْ بِعُودٍ يُعْرَضُ عَلَيْهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ کا نام لے کر دروازوں کو بند کر دو، کیونکہ شیطان بند دروازوں کو کھولتا نہیں ہے۔ اللہ کا نام لے کر اپنے چراغ کو بجھا دو اور اللہ کا نام لے کر اپنے مشکیزوں کا منہ بند کر دو۔ اللہ کا نام لے کر اپنے برتن کو ڈھانپ دو خواہ اس پر کوئی لکڑی ہی رکھ دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1272]

1273

Sahih Ibn Hibban #1273

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى عَبْدَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْبَعٍ ، وَنَهَانَا عَنْ خَمْسٍ ،إِذَا رَقَدْتَ فَأَغْلِقْ بَابَكَ ، وَأَوْكِ سِقَاءَكَ ، وَخَمِّرْ إِنَاءَكَ ، وَأَطْفِئْ مِصْبَاحَكَ ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لا يَفْتَحُ بَابًا ، وَلا يَحُلُّ وِكَاءً ، وَلا يَكْشِفُ غِطَاءً ، وَإِنَّ الْفَأْرَةَ الْفُوَيْسِقَةَ تُحْرِقُ عَلَى أَهْلِ الْبَيْتِ بَيْتَهُمْ ، وَلا تَأْكُلْ بِشِمَالِكَ ، وَلا تَشْرَبْ بِشِمَالِكَ ، وَلا تَمْشِ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ ، وَلا تَشْتَمِلِ الصَّمَّاءَ ، وَلا تَحْتَبِ فِي الدَّارِ مُفْضِيًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں چار باتوں کا حکم دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ باتوں سے منع کیا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا): ”جب تم سونے لگو تو اپنے دروازے کو بند کر دو، اپنے مشکیزے کا منہ بند کر دو، اپنے برتن کو ڈھانپ دو اور اپنے چراغ کو بجھا دو، کیونکہ شیطان بند دروازے کو کھولتا نہیں ہے، بند منہ والے مشکیزے کو کھولتا نہیں ہے، برتن پر پڑی ہوئی چیز کو ہٹاتا نہیں ہے، اور چوہا بعض اوقات گھر والوں سمیت گھر کو آگ لگا دیتا ہے، اور تم اپنے بائیں ہاتھ کے ذریعے نہ کھاؤ، اپنے بائیں ہاتھ کے ذریعے نہ پیو، صرف ایک جوتا پہن کر نہ چلو، «اِشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ» (کے طور پر کپڑے کو نہ پہنو) اور گھر میں «اِحْتِبَاء» کے طور پر اس طرح کپڑا نہ پہنو کہ شرم گاہ ظاہر ہوتی ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1273]

1274

Sahih Ibn Hibban #1274

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ مَعْقِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : أَوْكُوا الأَسْقِيَةَ ، وَغَلِّقُوا الأَبْوَابَ إِذَا رَقَدْتُمْ بِاللَّيْلِ ، وَخَمِّرُوا الطَّعَامَ وَالشَّرَابَ ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْتِي ، فَإِنْ لَمْ يَجِدِ الْبَابَ مُغْلَقًا دَخَلَ ، وَإِنْ لَمْ يَجِدِ السِّقَاءَ مُوكًى شَرِبَ مِنْهُ ، وَإِنْ وَجَدَ الْبَابَ مُغْلَقًا وَالسِّقَاءَ مُوكًى لَمْ يَحْلِلْ وِكَاءً وَلَمْ يَفْتَحْ بَابًا مُغْلَقًا ، وَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ لإِنَائِهِ الَّذِي فِيهِ شَرَابُهُ مَا يُخَمِّرُهُ ، فَلْيَعْرِضْ عَلَيْهِ عُودًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ ارشاد فرماتے تھے: ”مشکیزوں کا منہ بند کر دو جب تم رات کے وقت سونے لگو، اور کھانے پینے کی چیزوں کو ڈھانپ دو، کیونکہ شیطان آتا ہے، اگر اسے دروازہ بند نہیں ملتا تو وہ اندر آ جاتا ہے، اور اگر اسے مشکیزے کا منہ بند نہیں ملتا تو وہ اس میں سے پی لیتا ہے، لیکن اگر اسے دروازہ بند ملتا ہے اور مشکیزے کا منہ بند ملتا ہے، تو وہ مشکیزے کے بند منہ کو کھول نہیں سکتا اور بند دروازے کو کھول نہیں سکتا اور اگر کسی شخص کو اپنے اس برتن جس میں اس کا مشروب موجود ہے اسے ڈھانپنے کے لیے کوئی چیز نہیں ملتی، تو وہ اس پر لکڑی ہی رکھ دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1274]

1275

Sahih Ibn Hibban #1275

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ فِطْرِ بْنِ خَلِيفَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : غَلَّقُوا أَبْوَابَكُمْ ، وَأَوْكُوا أَسْقِيَتَكُمْ ، وَخَمِّرُوا آنِيَتَكُمْ ، وَأَطْفِئُوا سُرُجَكُمْ ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لا يَفْتَحُ غَلَقًا ، وَلا يَحُلُّ وِكَاءً ، وَلا يَكْشِفُ غِطَاءً ، وَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ رُبَّمَا أَضْرَمَتْ عَلَى أَهْلِ الْبَيْتِ بَيْتَهُمْ ، وَكُفُّوا فَوَاشِيَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ عِنْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ إِلَى أَنْ تَذْهَبَ فَجْوَةُ الْعِشَاءِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ فرمایا: ”تم اپنے دروازے بند کر دو اور اپنے مشکیزے کے منہ بند کر دو اور اپنے برتنوں کو ڈھانپ دو اور اپنے چراغوں کو بجھا دو، کیونکہ شیطان (بند دروازوں) کو کھولتا نہیں ہے، اور بند مشکیزے کو کھولتا نہیں ہے، اور ڈھانپی ہوئی چیز کو ہٹاتا نہیں ہے، اور چوہا بعض اوقات گھر والوں سمیت گھر کو آگ لگا دیتا ہے، تم اپنے مویشیوں اور گھر والوں کو سورج غروب ہونے کے قریب گھر میں روکے رکھو یہاں تک کہ رات کا ابتدائی حصہ گزر جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1275]

1276

Sahih Ibn Hibban #1276

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمْةَ ، عَنْ حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كُفُوا فَوَاشِيَكُمْ حَتَّى تَذْهَبَ فَزْعَةُ الْعِشَاءِ ، فَإِنَّهَا سَاعَةٌ يَحْتِرَقُ فِيهَا الشَّيْطَانُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم اپنے مویشیوں کو (گھر میں) بند کر کے رکھو یہاں تک کہ رات کا ابتدائی حصہ گزر جائے، کیونکہ یہ ایک ایسی گھڑی ہے، جس میں شیطان آگ لگاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1276]

1277

Sahih Ibn Hibban #1277

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْكَبِيرِ بْنُ عُمَرَ الْخَطَّابِيُّ ، بِالْبَصْرَةِ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْكَرْمَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ تَغْلِبَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ ، قَالَ : كَتَبَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِشَهْرٍ : أَنْلا تَنْتَفِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ وَلا عَصَبٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے وصال سے ایک مہینہ پہلے ہمیں یہ خط لکھا تھا جس میں یہ تحریر تھا: ”تم لوگ مردار کی کھال اور اس کے پٹھوں سے نفع حاصل نہ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1277]