Sahih Ibn Hibban #1238
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَلَمْةُ بْنُ شَبِيبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ ثُمَامَةَ الْحَنَفِي أُسِرَ ، فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُ إِلَيْهِ ، فِيقُولُ : وَمَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ ؟ " فِيقُولُ : إِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ ، وَإِنْ تَمُنَّ تَمُنَّ عَلَى شَاكِرٍ ، وَإِنْ تُرِدِ الْمَالَ تُعْطَ مَا شِئْتَ ، قَالَ : فَكَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّونَ الْفِدَاءَ ، وَيَقُولُونَ : مَا نَصْنَعُ بِقَتْلِ هَذَا ، فَمَرَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَأَسْلَمْ ، فَبَعَثَ بِهِ إِلَى حَائِطِ أَبِي طَلْحَةَ ،فَأَمَرَهُ أَنْ يَغْتَسِلَ ، فَاغْتَسَلَ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ " ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ حَسُنَ إِسْلامُ صَاحِبِكُمْ """
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ثمامہ حنفی کو قید کر لیا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملنے کے لیے آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”اے ثمامہ! تمہارے پاس کیا ہے؟“ اس نے کہا: اگر آپ قتل کر دیتے ہیں، تو پھر ایک خون والے شخص کو قتل کریں گے اور اگر آپ احسان کریں گے تو ایک شکر گزار شخص پر احسان کریں گے اور اگر آپ مال حاصل کرنا چاہتے ہیں، تو جو آپ چاہتے ہیں وہ آپ کو دے دیا جائے گا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے فدیہ لینے والی صورت کو پسند کیا، انہوں نے کہا: اس کو قتل کر کے ہمیں کیا ملے گا؟ پھر ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس سے گزرے تو اس نے اسلام قبول کر لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے باغ کی طرف بھیجا اور یہ ہدایت کی کہ وہ غسل کر لے، انہوں نے غسل کر کے دو رکعات نماز ادا کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہارے ساتھی کا اسلام عمدہ ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1238]