Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 11 · Chapter 3

The Book of Prayer

Hadith 1204–1237

34 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

1204

Sahih Ibn Hibban #1204

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرِ بْنِ عَتِيكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَتَوَضَّأُ بِمَكُّوكٍ ، وَيَغْتَسِلُ بِخَمْسِ مَكَاكِيٍّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک «مَكُّوك» (پانی) کے ذریعے وضو کر لیتے تھے اور پانچ «مَكُّوك» (پانی) کے ذریعے غسل کر لیتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1204]

1205

Sahih Ibn Hibban #1205

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ بْنِ عَمْرٍو ، يُحَدِّثُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ نُجَيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا ، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : لا تَدْخُلُ الَمْلائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ ، وَلا كَلْبٌ ، وَلا جُنُبٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن نجی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے نقل کرتے ہوئے سنا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر یا کتا یا جنبی شخص موجود ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1205]

1206

Sahih Ibn Hibban #1206

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِك ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ عَلَى نِسَائِهِ فِي لَيْلَةٍ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی رات میں اپنی تمام ازواج کے پاس تشریف لے جاتے تھے اور پھر ایک ہی مرتبہ غسل کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1206]

1207

Sahih Ibn Hibban #1207

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَيَطُوفُ عَلَى جَمِيعِ نِسَائِهِ فِي لَيْلَةٍ ، ثُمَّ يَغْتَسِلُ غُسْلا وَاحِدًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی رات میں اپنی تمام ازواج کے پاس تشریف لے جاتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی مرتبہ غسل کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1207]

1208

Sahih Ibn Hibban #1208

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ : كَانَيَدُورُ عَلَى نِسَائِهِ فِي سَاعَةٍ مِنَ اللَّيْلِ أَوِ النَّهَارِ ، وَهُنَّ إِحْدَى عَشْرَةَ " ، فَقُلْتُ لأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَكَانَ يُطِيقُ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّهُ أُعْطِيَ قُوَّةَ ثَلاثِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ رات یا دن میں کسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تمام ازواج کے پاس تشریف لے جایا کرتے تھے، ان ازواج کی تعداد گیارہ تھی۔ راوی کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میں اتنی طاقت تھی؟ تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بتایا: ہم لوگ تو یہ بات چیت کیا کرتے تھے کہ آپ کو تیس (30) مردوں جتنی قوت دی گئی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1208]

1209

Sahih Ibn Hibban #1209

أَخْبَرَنَا أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ فِي اللَّيْلَةِ الْوَاحِدَةِ ، وَلَهُ يَوْمَئِذٍ تِسْعُ نِسْوَةٍ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فِي خَبَرِ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَهُنَّ إِحْدَى عَشْرَةَ نِسْوَةٍ ، وَفِي خَبَرِ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَلَهُ يَوْمَئِذٍ تِسْعُ نِسْوَةٍ ، أَمَا خَبَرُ هِشَامٍ ، فَإِنَّ أَنَسًا حَكَى ذَلِكَ الْفِعْلَ مِنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَوَّلِ قُدُومِهِ الْمَدِينَةَ ، حَيْثُ كَانَتْ تَحْتَهُ إِحْدَى عَشْرَةَ امْرَأَةً ، وَخَبَرُ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ إِنَّمَا حَكَاهُ أَنَسٌ ، فِي آخِرِ قُدُومِهِ الْمَدِينَةَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَيْثُ كَانَ تَحْتَهُ تِسْعُ نِسْوَةٍ ، لأَنَّ هَذَا الْفِعْلَ كَانَ مِنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِرَارًا كَثِيرَةً لا مَرَّةً وَاحِدَةً"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی رات میں اپنی تمام ازواج کے پاس تشریف لے جایا کرتے تھے، اس وقت آپ کی نو ازواج تھیں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ہشام دستوائی نے قتادہ کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے کہ ”ان ازواج کی تعداد گیارہ تھی،“ جبکہ سعید نے قتادہ کے حوالے سے جو روایت نقل کی ہے اس میں یہ مذکور ہے کہ اس وقت آپ کی نو ازواج تھیں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ہشام دستوائی نے قتادہ کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے: ”ان ازواج کی تعداد گیارہ تھی،“ جبکہ سعید نے قتادہ کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے کہ ”اس وقت ان ازواج کی تعداد نو تھی،“ جہاں تک ہشام کی نقل کردہ روایت کا تعلق ہے، تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فعل کا ذکر اس زمانے کے حساب سے کیا ہے، جب آپ مدینہ منورہ تشریف لائے تھے، اس وقت آپ کی گیارہ ازواج تھیں جبکہ سعید نے قتادہ کے حوالے سے جو روایت نقل کی ہے اس میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے اس زمانے کا ذکر کیا ہے، جو مدینہ منورہ میں آپ کا آخری زمانہ ہے جب آپ کی نو ازواج تھیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فعل کئی مرتبہ کیا ہے، ایسا نہیں ہے کہ اسے صرف ایک مرتبہ کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1209]

1210

Sahih Ibn Hibban #1210

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا مَسَّ أَحَدُكُمُ الْمَرْأَةَ ، فَأَرَادَ أَنْ يَعُودَ فَلْيَتَوَضَّأْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کوئی شخص عورت کو چھو لے (یعنی اس کے ساتھ صحبت کر لے) اور پھر وہ دوبارہ ایسا کرنا چاہے، تو اسے پہلے وضو کر لینا چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1210]

1211

Sahih Ibn Hibban #1211

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ السِّنْجِيُّ ، بِمَرْوَ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ هَاشِمٍ الْعَسْكَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسْلَمْ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يَعُودَ فَلْيَتَوَضَّأْ ، فَإِنَّهُ أَنْشَطُ لِلْعَوْدِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : تَفَرَّدَ بِهَذَهِ اللَّفْظَةِ الأَخِيرَةِ مُسْلَمْ بْنُ إِبْرَاهِيمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کرے، پھر وہ دوبارہ یہ عمل کرنا چاہے، تو اسے پہلے وضو کر لینا چاہیے۔ اس طرح دوبارہ کرنے میں زیادہ لذت ہوگی۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ان آخری الفاظ کو نقل کرنے میں مسلم بن ابراہیم نامی راوی منفرد ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1211]

1212

Sahih Ibn Hibban #1212

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، وَالْحَوْضِيُّ ، قَالا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : إِنَّ عُمَرَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ :تُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ مِنَ اللَّيْلِ ، فَكَيْفَ أَصْنَعُ ؟ قَالَ : اغْسِلْ ذَكَرَكَ ، ثُمَّ تَوَضَّأْ ، ثُمَّ ارْقُدْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: (بعض اوقات) مجھے رات کے وقت جنابت لاحق ہو جاتی ہے، تو میں کیا کروں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنی شرم گاہ کو دھو کر پھر وضو کر کے سو جاؤ۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1212]

1213

Sahih Ibn Hibban #1213

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ : ذَكَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُتُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ مِنَ اللَّيْلِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَوَضَّأْ وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ ، ثُمَّ نَمْ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَوَضَّأْ ، وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ أَمْرَ نَدْبٍ ، وَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ثُمَّ نَمْ ، أَمَرُ إِبَاحَةٍ ، وَلَيْسَ فِي قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْمَنِيَّ نَجِسٌ ، لأَنَّ الأَمْرَ بِغَسْلِ الذِّكْرِ إِنَّمَا أَمْرٌ لأَنَّ الْمَرْءَ قَلَمْا يَطَأُ إِلا وَيُلاقِي ذَكَرُهُ شَيْئًا نَجِسًا ، فَإِنْ تَعَرَّى عَنْ هَذَا ، فَلا يَكَادُ يَخْلُو مِنَ الْبَوْلِ قَبْلَ الاغْتِسَالِ ، فَمِنْ أَجْلِ مُلاقَاةِ النَّجَاسَةِ لِلذَّكَرِ أَمَرَ بِغَسْلِهِ ، لا أَنَّ الْمَنِيَّ نَجِسٌ ، لأَنَّ عَائِشَةَ كَانَتْ تَفْرُكُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ يُصَلِّي فِيهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا کہ بعض اوقات انہیں رات کے وقت جنابت لاحق ہو جاتی ہے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم وضو کرو، اپنی شرمگاہ کو دھو لو اور پھر سو جاؤ۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”تم وضو کر لو اور اپنی شرمگاہ کو دھو لو“ یہ حکم استحباب کے طور پر ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”پھر تم سو جاؤ“ یہ مباح قرار دینے کے لیے حکم ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان: ”تم اپنی شرمگاہ کو دھو لو“ میں اس بات کی دلیل موجود نہیں ہے کہ منی نجس ہوتی ہے کیونکہ شرمگاہ کو دھونے کا حکم اس لیے دیا گیا تھا کہ آدمی جب صحبت کرتا ہے تو اس کی شرمگاہ پر کوئی نجس چیز لگ جاتی ہے، اگر یہ نہ بھی ہو تو غسل کرنے سے پہلے عام طور پر آدمی کو پیشاب کرنا پڑتا ہے، تو اس نجاست کے لگنے کی وجہ سے بھی شرمگاہ کو دھونے کا حکم دیا گیا ہے، اس وجہ سے نہیں دیا گیا کہ منی نجس ہوتی ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے اسے کھرچ دیا کرتی تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کپڑے میں نماز ادا کر لیا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1213]

1214

Sahih Ibn Hibban #1214

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : ذَكَرَ عُمَرُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُتُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ مِنَ اللَّيْلِ ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ وَيَغْسِلَ ذَكَرَهُ ، ثُمَّ يَنَامَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا کہ انہیں رات کے وقت جنابت لاحق ہو جاتی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی کہ ”وہ وضو کریں اور اپنی شرم گاہ کو دھو لیں اور پھر سو جائیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1214]

1215

Sahih Ibn Hibban #1215

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :أَيَرْقُدُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ ؟ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ إِذَا تَوَضَّأَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: کیا ہم میں سے کوئی ایک شخص جنابت کی حالت میں سو سکتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں جب وہ وضو کر لے (تو سو سکتا ہے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1215]

1216

Sahih Ibn Hibban #1216

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفِيانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :أَيَنَامُ أحدنا وَهُوَ جُنُبٌ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، وَيَتَوَضَّأُ إِنْ شَاءَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: ”کیا کوئی شخص جنابت کی حالت میں سو سکتا ہے؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی ہاں! اگر وہ چاہے، تو وضو کر کے (سو) جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1216]

1217

Sahih Ibn Hibban #1217

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمْةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ ، تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلاةِ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب جنابت کی حالت میں سونا چاہتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سونے سے پہلے نماز کے وضو کی طرح وضو کر لیتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1217]

1218

Sahih Ibn Hibban #1218

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الدُّولابِيُّ ، مُنْذُ ثَمَانِينَ سَنَةً ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمْةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ ، لَمْ يَنَمْ حَتَّى يَتَوَضَّأَ ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ غَسَلَ يَدَيْهِ وَأَكَلَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب جنابت کی حالت میں سونے کا ارادہ کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک نہیں سوتے تھے جب تک وضو نہیں کر لیتے تھے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم (جنابت کی حالت) میں کچھ کھانے کا ارادہ کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ہاتھ دھو کر کھاتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1218]

1219

Sahih Ibn Hibban #1219

أَخْبَرَنَا الْقَطَّانُ ، بِالرَّقَّةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَلَى كُلِّ مُسْلَمْ فِي كُلِّ سَبْعَةِ أَيَّامٍ غُسْلٌ ، وَهُوَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ہر مسلمان پر سات دنوں میں ایک بار غسل کرنا لازم ہے، اور یہ جمعہ کا دن ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1219]

1220

Sahih Ibn Hibban #1220

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ اللَّخْمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : عَلَى كُلِّ مُحْتَلَمْ رَوَاحُ الْجُمُعَةِ ، وَعَلَى مَنْ رَاحَ الْغُسْلُ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : فِي هَذَا الْخَبَرِ إِتْيَانُ الْجُمُعَةِ فَرْضٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلَمْ ، وَالْعِلَّةُ فِيهِ أَنَّ الاحْتِلامَ بُلُوغٌ ، فَمَتَى بَلَغَ الصَّبِيُّ وَأَدْرَكَ ، بِأَنْ يَأْتِيَ عَلَيْهِ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً كَانَ بَالِغًا ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ مُحْتَلَمْا ، وَنَظِيرُ هَذَا قَوْلُ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا : وَإِذَا بَلَغَ الأَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْيَسْتَأْذِنُوا كَمَا اسْتَأْذَنَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ ، فَأَمَرَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا فِي هَذِهِ الآيَةِ بِالاسْتِئْذَانِ مَنْ بَلَغَ الْحُلَمْ ، إِذِ الْحُلَمْ بُلُوغٌ ، وَقَدْ يَبْلُغُ الطِّفْلُ دُونَ أَنْ يَحْتَلَمْ ، وَيَكُونُ مُخَاطَبًا بِالاسْتِئْذَانِ كَمَا يَكُونُ مُخَاطَبًا عِنْدَ الاحْتِلامِ بِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ہر بالغ شخص کو جمعہ کے لیے جانا لازم ہے، اور جو شخص (جمعہ ادا کرنے کے لیے) جائے اس پر غسل کرنا لازم ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) (اس روایت میں یہ بات مذکور ہے کہ ہر بالغ شخص پر جمعے کی نماز کے لیے آنا فرض ہے، اس میں علت یہ ہے کہ احتلام ہونا بالغ ہونے کا نشان ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جب بچہ بالغ ہو جائے یا عمر کے اعتبار سے پندرہ سال کا ہو جائے، تو وہ بالغ شمار ہو گا، اگرچہ اسے احتلام نہ ہوا ہو۔ اس کے نزدیک اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ﴿وَإِذَا بَلَغَ الْأَطْفَالُ مِنكُمُ الْحُلُمَ فَلْيَسْتَأْذِنُوا كَمَا اسْتَأْذَنَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ﴾ [سورة النور: 59] ”اور جب تمہارے بچے بالغ ہو جائیں، تو وہ اجازت طلب کریں گے جس طرح ان لوگوں نے اجازت لی جن کا ذکر پہلے ہوا ہے“۔ تو اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اجازت لینے کا حکم اس شخص کو دیا ہے، جو بالغ ہو جاتا ہے کیونکہ یہاں لفظ «الْحُلُمِ» سے مراد بالغ ہونا ہے اور بعض اوقات بچہ احتلام کے بغیر بالغ ہو جاتا ہے اور وہ اجازت لینے کے حکم کا مخاطب بن جاتا ہے جس طرح احتلام کے ہمراہ اس حکم کا مخاطب بنتا ہے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1220]

1221

Sahih Ibn Hibban #1221

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنَا أَخِي ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلالٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمْةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّفِطْرَةَ الإِسْلامِ الْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَالاسْتِنَانُ ، وَأَخْذُ الشَّارِبِ ، وَإِعْفَاءُ اللِّحَى ، فَإِنَّ الْمَجُوسَ تُعْفِي شَوَارِبِهَا ، وَتُحْفِي لِحَاهَا ، فَخَالِفُوهُمْ ، حُدُّوا شَوَارِبَكُمْ ، وَاعْفُوا لِحَاكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بے شک اسلام کے فطری احکام میں جمعہ کے دن غسل کرنا، مسواک کرنا، مونچھیں چھوٹی رکھنا اور داڑھی بڑی رکھنا شامل ہے، کیونکہ مجوسی اپنی مونچھیں بڑھاتے ہیں اور داڑھی چھوٹی رکھتے ہیں، تو تم لوگ ان کی مخالفت کرو، تم لوگ اپنی مونچھیں چھوٹی رکھو اور داڑھی بڑھاؤ۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1221]

1222

Sahih Ibn Hibban #1222

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زُهَيْرٍ أَبُو يَعْلَى ، بِالأُبُلَّةِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مُسْلَمْ صَاحِبُ الْحِنَّاءِ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : دَخَلَ عَلَيَّ أَبُو قَتَادَةَ ، وَأَنَا أَغْتَسِلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، فَقَالَ : أَغُسْلُكَ هَذَا مِنْ جَنَابَةٍ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : أَعِدْ غُسْلا آخَرَ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، لَمْ يَزَلْ طَاهِرًا إِلَى الْجُمُعَةِ الأُخْرَى ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَمْ يَزَلْ طَاهِرًا إِلَى الْجُمُعَةِ الأُخْرَى ، يُرِيدُ بِهِ مِنَ الذُّنُوبِ ، لأَنَّ مَنْ حَضَرَ الْجُمُعَةَ بِشَرَائِطِهَا غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الأُخْرَى"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن ابی قتادہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ میرے ہاں تشریف لائے، میں نے جمعہ کے دن غسل کیا، تو انہوں نے دریافت کیا: کیا تم نے یہ غسلِ جنابت کیا ہے؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں! انہوں نے فرمایا: تم دوبارہ غسل کرو، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص جمعہ کے دن غسل کرتا ہے وہ آئندہ جمعہ تک طہارت کی حالت میں رہتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”وہ شخص اگلے جمعے تک پاک رہتا ہے“ اس سے آپ کی مراد یہ ہے کہ وہ گناہوں سے پاک رہتا ہے کیونکہ جو شخص شرائط کے ہمراہ جمعے کی نماز میں شریک ہوتا ہے، اس کی اس جمعے اور اگلے جمعے کے درمیانی گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1222]

1223

Sahih Ibn Hibban #1223

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا جِئْتُمُ الْجُمُعَةَ فَاغْتَسِلُوا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن دینار بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم جمعہ کے لیے آؤ تو غسل کر لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1223]

1224

Sahih Ibn Hibban #1224

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى ، بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ الْكَاهِلِيُّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ أَتَى الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص جمعہ کے لیے آئے اسے غسل کر لینا چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1224]

1225

Sahih Ibn Hibban #1225

أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْمَقْبُرِيُّ ، الْخَطِيبُ بِوَاسِطَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيُّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ رَاحَ إِلَى الْجُمُعَةِ فَلْيَغْتَسِلْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص جمعہ کے لیے آئے اسے غسل کر لینا چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1225]

1226

Sahih Ibn Hibban #1226

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ وَاقِدٍ الْعُمَرِيُّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَتَى الْجُمُعَةَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ فَلْيَغْتَسِلْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”مردوں اور خواتین میں جو جمعہ کے لیے آئے اسے غسل کر لینا چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1226]

1227

Sahih Ibn Hibban #1227

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ وَاقِدٍ الْعُمَرِيُّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى كُلِّ حَالِمٍ مِنَ الرِّجَالِ ، وَعَلَى كُلِّ بَالِغٍ مِنَ النِّسَاءِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جمعہ کے دن غسل کرنا ہر بالغ شخص پر اور خواتین میں سے ہر بالغ عورت پر لازم ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1227]

1228

Sahih Ibn Hibban #1228

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : غُسْلُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلَمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جمعہ کے دن غسل کرنا ہر بالغ شخص پر لازم ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1228]

1229

Sahih Ibn Hibban #1229

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : غُسْلُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلَمْ ، كَغُسْلِ يَوْمِ الْجَنَابَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جمعہ کے دن غسل کرنا ہر بالغ شخص پر لازم ہے۔ (یہ غسل) غسل جنابت کی مانند ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1229]

1230

Sahih Ibn Hibban #1230

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بَيْنَا هُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، إِذْ دَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَادَاهُ عُمَرُ :أَيُّ سَاعَةٍ هَذِهِ ؟ قَالَ : إِنِّي شُغِلْتُ الْيَوْمَ ، فَلَمْ أَنْقَلِبْ إِلَى أَهْلِي حَتَّى سَمِعْتُ النِّدَاءَ ، فَلَمْ أَزِدْ عَلَى أَنْ تَوَضَّأْتُ ، قَالَ عُمَرُ : وَالْوُضُوءُ أَيْضًا ، وَقَدْ عَلَمْتَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَأْمُرُ بِالْغُسْلِ ! ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فِي هَذَا الْخَبَرِ دَلِيلٌ صَحِيحٌ عَلَى نَفِي إِيجَابِ الْغُسْلِ لِلْجُمُعَةِ عَلَى مَنْ يَشْهَدُهَا ، لأَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ كَانَ يَخْطُبُ إِذْ دَخَلَ الْمَسْجِدَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ مَا زَادَ عَلَى أَنْ تَوَضَّأَ ، ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ ، فَلَمْ يَأْمُرْهُ عُمَرُ وَلا أَحَدٌ مِنَ الصَّحَابَةِ بِالرُّجُوعِ وَالاغْتِسَالِ لِلْجُمُعَةِ ، ثُمَّ الْعَوْدِ إِلَيْهَا ، فَفِي إِجْمَاعِهِمْ عَلَى مَا وَصَفْنَا أَبْيَنُ الْبَيَانِ بِأَنَّ الأَمْرَ كَانَ مِنَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالاغْتِسَالِ لِلْجُمُعَةِ أَمْرُ نَدْبٍ لا حَتْمٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سالم بن عبداللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے، اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب اندر آئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے بلند آواز میں دریافت کیا: یہ کون سا وقت ہے؟ انہوں نے جواب دیا: میں آج مصروف تھا، میں اپنے گھر اس وقت گیا جب میں نے اذان کی آواز سنی، پھر میں نے وضو کے علاوہ کچھ نہیں کیا (یعنی فوراً یہاں آ گیا ہوں)۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بولے: (صرف) وضو کرنا بھی (غلطی) ہے، جبکہ آپ یہ بات جانتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (جمعہ کے) دن (غسل) کرنے کا حکم دیتے تھے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں اس بات کی صحیح دلیل موجود ہے کہ جو شخص جمعہ میں شرکت کے لیے آتا ہے اس پر غسل کرنا واجب نہیں ہے، کیونکہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ خطبہ دے رہے تھے، اسی دوران سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ مسجد میں آئے اور انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ بتایا کہ انہوں نے صرف وضو کیا ہے اور وہ مسجد میں آ گئے ہیں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور کسی صحابی نے بھی انہیں جمعہ کے لیے غسل کر کے آنے کو نہیں کہا؛ تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اس بات پر اجماع کر لینا جس کا ہم نے ذکر کیا ہے، اس بات کا واضح بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جمعہ کے لیے غسل کرنے کا حکم دینا استحباب کے طور پر ہے، لازمی طور پر نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1230]

1231

Sahih Ibn Hibban #1231

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ تَوَضَّأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ فَدَنَا وَأَنْصَتَ ، وَاسْتَمَعَ ، غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا بَيْنَهُ ، وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الأُخْرَى ، وَزِيَادَةَ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص جمعہ کے روز وضو کرے، اچھی طرح وضو کرے، پھر جمعہ کے لیے آئے (امام کے قریب ہو) اور خاموش رہے اور غور سے (خطبہ) سنے، اللہ تعالیٰ اس شخص کے اس جمعے اور اس سے آئندہ جمعے تک کے اور مزید تین دن کے گناہ معاف کر دیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1231]

1232

Sahih Ibn Hibban #1232

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ الْغَازِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّلِلَّهِ حَقًّا عَلَى كُلِّ مُسْلَمْ أَنْ يَغْتَسِلَ كُلَّ سَبْعَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا ، فَإِنْ كَانَ لَهُ طِيبٌ مَسَّهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ہر مسلمان پر اللہ تعالیٰ کا یہ حق ہے، وہ مسلمان ہفتے میں ایک دن غسل کرے اور اگر اس کے پاس خوشبو موجود ہو تو وہ بھی لگائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1232]

1233

Sahih Ibn Hibban #1233

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمْ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلالٍ ، وَبُكَيْرَ بْنَ الأَشَجِّ ، حَدَّثَاهُ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ الِمَنْكَدِرِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : الْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى كُلِّ مُحْتَلَمْ ، وَالسِّوَاكُ ، وَأَنْ يَمَسَّ مِنَ الطِّيبِ مَا قَدَرَ عَلَيْهِ ". اللَّفْظُ لِسَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلالٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن ابوسعید خدری اپنے والد (سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جمعہ کے دن غسل کرنا ہر بالغ شخص پر لازم ہے، اور مسواک کرنا اور اگر اسے میسر ہو، تو خوشبو لگانا (بھی لازم ہے)۔“ روایت کے یہ الفاظ سعید بن ابوہلال نامی راوی کے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1233]

1234

Sahih Ibn Hibban #1234

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ دِينَار ، يُحَدِّثُ عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلَمْ أَنْ يَغْتَسِلَ كُلَّ سَبْعَةِ أَيَّامٍ ، وَأَنْ يَمَسَّ طِيبًا إِنْ وَجَدَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ہر مسلمان پر یہ بات لازم ہے، وہ ہفتے میں ایک بار غسل کرے اور اگر اسے دستیاب ہو، تو خوشبو لگائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1234]

1235

Sahih Ibn Hibban #1235

أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ أَخِيهِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَنَحْنُ عِنْدَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،وَلَوْ أَصَابَتْنَا مَطْرَةٌ ، لَشَمَمْتَ مِنَّا رِيحَ الضَّأْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوبردہ بن ابوموسیٰ اشعری رحمہ اللہ اپنے والد سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوتے تھے اور اگر ہم پر بارش ہو جاتی، تو ہمارے اندر سے تمہیں بھیڑوں کی سی بو آتی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1235]

1236

Sahih Ibn Hibban #1236

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حِسَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَالنَّاسُ مُهَّانَ أَنْفُسِهِمْ ، فَكَانُوا يَرُوحُونَ إِلَى الْجُمُعَةِ بِهَيْئَتِهِمْ ، فَقِيلَ لَهُمْ : لَوِ اغْتَسَلْتُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ پہلے لوگ اپنے کام کاج خود ہی کیا کرتے تھے، پھر وہ اسی حالت میں جمعہ کے لیے آ جایا کرتے تھے (جس کی وجہ سے بدبو پھیل جاتی تھی)، تو ان سے یہ کہا گیا: ”اگر تم غسل کر لو (تو یہ مناسب ہو گا)“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1236]

1237

Sahih Ibn Hibban #1237

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ محمد بْنِ سلَمْ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيرْ حَدَّثَهُ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : كَانَ النَّاسُ يَنْتَابُونَ الْجُمُعَةَ مِنْ مَنَازِلِهِمْ مِنَ الْعَوَالِي ، فِيأْتُونَ فِي الْعَبَاءِ ، وَيُصِيبُهُمُ الْغُبَارُ وَالْعَرَقُ ، فِيخْرُجُ مِنْهُمُ الرِّيحُ ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْسَانٌ مِنْهُمْ وَهُوَ عِنْدِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ أَنَّكُمْ تَطَهَّرْتُمْ لِيَوْمِكُمْ هَذَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ لوگ نواحی علاقوں سے اپنے گھروں سے جمعہ کی نماز کے لیے آیا کرتے تھے، وہ لوگ عبا پہن کر آتے تھے، انہیں غبار اور پسینہ لاحق ہوتا تھا جس کی وجہ سے ان کے جسم سے بو آتی تھی۔ ان میں سے ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں موجود تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم اپنے اس دن کے لیے اچھی طرح طہارت حاصل کر لو (یعنی غسل کر لو تو یہ مناسب ہو گا)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1237]