Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 11 · Chapter 2

The Book of Prayer

Hadith 1164–1203

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

1164

Sahih Ibn Hibban #1164

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ ، سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ ؟ قَالَ : إِذَا أَنْزَلَتِ الْمَرْأَةُ ، فَلْتَغْتَسِلْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی خاتون کے بارے میں دریافت کیا جو خواب میں وہی چیز دیکھتی ہے جو مرد دیکھتا ہے (یعنی اس خاتون کو احتلام ہو جاتا ہے)، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب عورت کو انزال ہو جائے، تو اسے غسل کرنا چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1164]

1165

Sahih Ibn Hibban #1165

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ امْرَأَةُ أَبِي طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ اللَّهَ لا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ ، هَلْعَلَى الْمَرْأَةِ غُسْلٌ إِذَا هِيَ احْتَلَمَتْ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا (اپنی والدہ) سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتی ہیں کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی: یا رسول اللہ! بے شک اللہ تعالیٰ حق بات سے حیا نہیں کرتا، اگر عورت کو احتلام ہو جائے تو کیا اس پر غسل لازم ہوگا؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی ہاں! جبکہ وہ پانی (یعنی منی) کو دیکھے (یعنی جب اس کی منی خارج ہوئی ہو)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1165]

1166

Sahih Ibn Hibban #1166

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ الأَنْصَارِيَّةَ ، وَهِيَ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ اللَّهَ لا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ ، هَلْعَلَى الْمَرْأَةِ مِنْ غُسْلٍ إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ فِي النَّوْمِ مَا يَرَى الرَّجُلُ ، أَتَغْتَسِلُ أَمْ لا ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَغْتَسِلُ " . فَقَالَتْ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَأَقْبَلْتُ عَلَيْهَا ، فَقُلْتُ : أُفٍّ لَكِ ، وَهَلْ تَرَى ذَلِكَ الْمَرْأَةُ ؟ قَالَتْ : فَأَقْبَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : " تَرِبَتْ يَمِينُكِ فَمِنْ أَيْنَ يَكُونُ الشَّبَهُ ؟ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بن زبیر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ سیدہ ام سلیم انصاریہ رضی اللہ عنہا، جو سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! بے شک اللہ تعالیٰ حق بات بیان کرنے سے حیا نہیں فرماتا ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ﴾ [سورة الأحزاب: 53] ، کیا کسی عورت پر ایسی صورت میں غسل لازم ہو گا جب وہ نیند کے دوران پانی دیکھ لیتی ہے، جس طرح مرد دیکھتا ہے؟ (اس عورت کو احتلام ہو جاتا ہے) تو کیا وہ غسل کرے گی یا نہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ غسل کرے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ بیان کرتی ہیں: میں اس عورت کی طرف متوجہ ہوئی اور میں نے کہا: تم پر افسوس ہے! کیا کوئی عورت بھی اس طرح کا خواب دیکھتی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ بیان کرتی ہیں کہ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان زوجہ محترمہ کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا: ”تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں، پھر (بچے کی ماں) کے ساتھ مشابہت کس وجہ سے ہوتی ہے؟“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1166]

1167

Sahih Ibn Hibban #1167

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ امْرَأَةُ أَبِي طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ اللَّهَ لا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ ، هَلْعَلَى الْمَرْأَةِ مِنْ غُسْلٍ إِذَا هِيَ احْتَلَمَتْ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی صاحب زادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا اپنی والدہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتی ہیں کہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا، جو سیدنا ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کی اہلیہ ہیں، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! بے شک اللہ تعالیٰ حق بات سے حیا نہیں کرتا، اگر عورت کو احتلام ہو جائے تو کیا اس پر غسل لازم ہو گا؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی ہاں، جب کہ وہ پانی دیکھے۔“ (یعنی اس کی منی خارج ہوئی ہو) [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1167]

1168

Sahih Ibn Hibban #1168

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: «إِنَّمَا الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ» ”پانی (یعنی منی کے خروج کی وجہ سے) پانی (یعنی غسل) لازم ہوتا ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1168]

1169

Sahih Ibn Hibban #1169

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،الرَّجُلُ يَأْتِي الْمَرْأَةَ فَلا يُنْزِلُ ؟ قَالَ : يَغْسِلُ مَا مَسَّ الْمَرْأَةَ مِنْهُ ، وَيَتَوَضَّأُ وَيُصَلِّي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی ہے وہ کہتے ہیں میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ایک شخص اپنی بیوی کے پاس آتا ہے (یعنی اس کے ساتھ صحبت کرتا ہے) اور اس شخص کو انزال نہیں ہوتا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عورت کی جو رطوبت اسے لگی ہے وہ اسے دھو لے اور وضو کر کے نماز ادا کر لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1169]

1170

Sahih Ibn Hibban #1170

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَّانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قُلْتُ : أَرَأَيْتَ أَحَدَنَاإِذَا جَامَعَ الْمَرْأَةَ فَأَكْسَلَ وَلَمْ يُمْنِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لِيَغْسِلْ ذَكَرَهُ وَأُنْثَيَيْهِ ، وَلْيَتَوَضَّأْ ثُمَّ لِيُصَلِّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ، سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں، سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اس مسئلے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کرتا ہے، اور اسے انزال نہیں ہوتا؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اسے چاہیے کہ اپنی شرم گاہ کو، اپنے خصیوں کو دھو لے اور وضو کر کے نماز ادا کر لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1170]

1171

Sahih Ibn Hibban #1171

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، بِحَرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا ، حَتَّى مَرَّ بِدَارِ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيْنَ فُلانٌ ؟ " فَدَعَاهُ ، فَخَرَجَ الرَّجُلُ مُسْتَعْجِلا ، يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَعَلَّنَا أَعْجَلْنَاكَ عَنْ حَاجَتِكَ " فَقَالَ الرَّجُلُ : أَجَلْ ، وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ أُعْجِلْتُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" إِذَا عَجِلَ أَحَدُكُمْ ، أَوْ أُقْحِطَ ، فَلا غُسْلَ عَلَيْهِ ، إِنَّمَا عَلَيْهِ أَنْ يَتَوَضَّأَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دن ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جا رہے تھے، آپ کا گزر ایک انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر کے پاس سے ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فلاں شخص کہاں ہے؟“ راوی کہتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلوایا، وہ شخص جلدی سے اندر سے باہر آیا، اس کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”شاید ہم نے تمہاری ضرورت کے حوالے سے تمہیں جلدی کرنے پر مجبور کیا ہے۔“ اس شخص نے عرض کی: جی ہاں! اللہ کی قسم! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے جلدی کرنی پڑی۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کسی کو جلدی سے کوئی کام کرنا ہو یا اسے (وقت کی تنگی ہو)، تو اس پر غسل لازم نہیں ہوتا، اس پر وضو کرنا لازم ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1171]

1172

Sahih Ibn Hibban #1172

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْبِسْطَامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَأَلَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ عَنِالرَّجُلِ يُجَامِعُ ، فَلا يُنْزِلُ ، فَقَالَ : لَيْسَ عَلَيْهِ غُسْلٌ " . ثُمَّ قَالَ عُثْمَانُ : سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : فَسَأَلْتُ بَعْدَ ذَلِكَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، وَالزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ ، وَطَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ ، فَقَالُوا مِثْلَ ذَلِكَ . قَالَ أَبُو سَلَمَةَ : وَحَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا أَيُّوبَ ، فَقَالَ : مِثْلَ ذَلِكَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا جو صحبت کرتا ہے اور اسے انزال نہیں ہوتا، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بتایا: ”ایسے شخص پر غسل لازم نہیں ہوتا۔“ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے یہ بات بتائی: ”میں نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ بعد میں، میں نے سیدنا علی بن ابی طالب، سیدنا زبیر بن عوام، سیدنا طلحہ بن عبیداللہ اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہم سے دریافت کیا، تو ان حضرات نے بھی اسی کی مانند جواب دیا۔ ابوسلمہ نامی راوی بیان کرتے ہیں کہ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے یہ بات بتائی ہے، انہوں نے سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اسی کی مانند بات بیان کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1172]

1173

Sahih Ibn Hibban #1173

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : إِنَّمَا كَانَالْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ رُخْصَةً فِي أَوَّلِ الإِسْلامِ ، ثُمَّ نُهِيَ عَنْهَا ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : رَوَى هَذَا الْخَبَرَ مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، مِنْ حَدِيثِ غُنْدَرٍ ، فَقَالَ : أَخْبَرَنِي سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ ، وَرَوَاهُ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَنْ أَرْضَى ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ . وَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ الزُّهْرِيُّ سَمِعَ الْخَبَرَ ، مِنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ كَمَا ، قَالَهُ غُنْدَرٌ ، وَسَمِعَهُ عَنْ بَعْضِ مَنْ يَرْضَاهُ عَنْهُ ، فَرَوَاهُ مَرَّةً ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، وَأُخْرَى عَنِ الَّذِي رَضِيَهُ عَنْهُ ، وَقَدْ تَتَبَّعْتُ طُرُقَ هَذَا الْخَبَرِ عَلَى أَنْ أَجِدَ أَحَدًا . رَوَاهُ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا إِلا أَبَا حَازِمٍ ، وَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ الرَّجُلُ الَّذِي ، قَالَ الزُّهْرِيُّ حَدَّثَنِي مَنْ أَرْضَى ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، هُوَ أَبُو حَازِمٍ رَوَاهُ عَنْهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ” «الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ» (یعنی پانی کے نتیجہ میں پانی، منی کے خروج کی صورت میں غسل لازم ہونے کا حکم) ابتدائے اسلام میں رخصت تھی، پھر اس سے منع کر دیا گیا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت معمر نے زہری کے حوالے سے نقل کی ہے، جسے غندر نے نقل کیا ہے۔ وہ یہ کہتے ہیں: سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے مجھے حدیث بیان کی ہے۔ یہی روایت عمرو بن خالد نے زہری کے حوالے سے نقل کی ہے۔ اس میں وہ یہ کہتے ہیں: مجھے اس شخص نے وہ حدیث بیان کی ہے جس سے میں راضی ہوں اور اس نے سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے۔ تو اس بات کا امکان موجود ہے کہ زہری نے یہ روایت سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے خود سنی ہو جیسا کہ غندر نے یہ بات بیان کی ہے، اور زہری نے یہ روایت کسی ایسے شخص سے سنی ہو جس سے وہ راضی تھے اور اس شخص کے حوالے سے سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے سنی ہو۔ تو ایک مرتبہ انہوں نے سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اسے نقل کر دی ہو اور دوسری مرتبہ اس شخص کے حوالے سے سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے نقل کیا جس سے وہ راضی تھے۔ میں نے اس روایت کے طرق کی تحقیق کی کہ مجھے کوئی ایسا شخص مل جائے جس نے اس روایت کو سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کیا ہو، تو مجھے دنیا میں کوئی ایسا شخص نہیں ملا، صرف ابوحازم رحمہ اللہ ایسا شخص ہے، تو اس بات کا امکان موجود ہے کہ وہ شخص جس کے بارے میں زہری نے کہا تھا کہ مجھے اس شخص نے وہ حدیث بیان کی ہے جس سے میں راضی ہوں اور اس نے سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی ہے، تو وہ شخص ابوحازم رحمہ اللہ ہو جس نے سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1173]

1174

Sahih Ibn Hibban #1174

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَمَطَرٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا قَعَدَ بَيْنَ شُعَبِهَا الأَرْبَعِ ، ثُمَّ جَهَدَ ، فَعَلَيْهِ الْغُسْلُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی شخص عورت کے چار شعبوں کے درمیان بیٹھ جائے اور پھر وہ صحبت کرے، تو اس پر غسل لازم ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1174]

1175

Sahih Ibn Hibban #1175

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَثِيرٍ الْقَارِئُ الدِّمَشْقِيُّ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّهَا سُئِلَتْ عَنِالرَّجُلِ يُجَامِعُ فَلا يُنْزِلُ الْمَاءَ ، قَالَتْ : فَعَلْتُ ذَلِكَ أَنَا ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاغْتَسَلْنَا مِنْهُ جَمِيعًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے، ان سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا جو صحبت کرتا ہے لیکن اسے انزال نہیں ہوتا، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس طرح کیا کرتے تھے لیکن ہم دونوں اس صورت میں غسل کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1175]

1176

Sahih Ibn Hibban #1176

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ ، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ ، فَعَلْتُ أَنَا ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاغْتَسَلْنَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ”جب شرم گاہ شرم گاہ سے مل جاتی ہے، تو غسل لازم ہو جاتا ہے۔“ میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اس طرح کرتے تھے، تو ہم غسل کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1176]

1177

Sahih Ibn Hibban #1177

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ النُّعْمَانِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ ، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب شرم گاہ شرم گاہ سے مل جاتی ہے، تو غسل لازم ہو جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1177]

1178

Sahih Ibn Hibban #1178

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَمَطَرٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الأَرْبَعِ ، ثُمَّ جَهَدَهَا ، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ ". وَفِي حَدِيثِ مَطَرٍ : " وَإِنْ لَمْ يُنْزِلْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب مرد عورت کے چار شعبوں کے درمیان بیٹھ جائے اور اسے مشقت کا شکار کرے (یعنی اس کے ساتھ صحبت کرے) تو غسل لازم ہو جاتا ہے۔“ مطر نامی راوی کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”اگرچہ اسے انزال نہ ہوا ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1178]

1179

Sahih Ibn Hibban #1179

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الْجَمَّالُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُطَرِّفٍ أَبِي غَسَّانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أُبَيٌّ ، أَنَّ الْفُتْيَا الَّتِي كَانُوا يُفْتُونَ أَنَّالْمَاءَ مِنَ الْمَاءِ ، كَانَ رُخْصَةً رَخَّصَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي أَوَّلِ الزَّمَانِ ، أَوْ بَدْءِ الإِسْلامِ ، ثُمَّ أَمَرَ بِالاغْتِسَالِ بَعْدُ . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ أَدَّى نَسْخَ هَذَا الْفِعْلِ عَلَى مَا أَخْبَرَ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ عَنْهُ ، ثُمَّ نَسِيَهُ ، وَأَفْتَى بِالْفِعْلِ الأَوَّلِ الَّذِي هُوَ مَنْسُوخٌ ، عَلَى مَا أَخْبَرَ عَنْهُ زَيْدُ بْنُ خَالِدٍ الْجُهَنِيُّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ لوگ جو یہ مسئلہ بیان کرتے ہیں: «الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ» ”پانی کے نتیجے میں پانی (یعنی منی کے خروج کی صورت میں ہی) غسل لازم ہوتا ہے“، تو یہ ایک رخصت تھی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتدائی زمانے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اسلام کی ابتدا میں عطا کی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد غسل کرنے کا حکم دیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس بات کا امکان موجود ہے کہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے اس فعل کے منسوخ ہونے کا پہلے ذکر کیا ہو، جیسا کہ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے ان کے حوالے سے یہ بات بیان کی ہے، پھر وہ اس بات کو بھول گئے ہوں اور انہوں نے یہ فتویٰ دیا ہو کہ اس فعل کے حوالے سے جو پہلا حکم تھا اسے منسوخ کر دیا گیا، جیسا کہ زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے ان کے حوالے سے یہ بات بیان کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1179]

1180

Sahih Ibn Hibban #1180

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَوْزَجَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ جَبَلَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِمْرَانَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : سَأَلْتُ عُرْوَةَ عَنِ الَّذِي يُجَامِعُ وَلا يُنْزِلُ ؟ قَالَ : عَلَى النَّاسِ أَنْ يَأْخُذُوا بِالآخِرِ ، وَالآخِرُ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيَفْعَلُ ذَلِكَ وَلا يَغْتَسِلُ ، وَذَلِكَ قَبْلَ فَتْحِ مَكَّةَ ، ثُمَّ اغْتَسَلَ بَعْدَ ذَلِكَ ، وَأَمَرَ النَّاسَ بِالْغُسْلِ ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : الْحُسَيْنُ هَذَا هُوَ الْحُسَيْنُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ بِشْرِ بْنِ الْمُحْتَفِزِ ، مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ ، سَكَنْ مَرْوَ ، ثِقَةٌ مِنَ الثِّقَاتِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زہری بیان کرتے ہیں: میں نے عروہ سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا جو صحبت کرتا ہے لیکن اسے انزال نہیں ہوتا، تو عروہ نے بتایا لوگوں پر یہ بات لازم ہے، وہ آخری حکم کو (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول آخری معاملے کو اختیار کریں۔ (عروہ نے یہ بات بتائی) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کیا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل نہیں کرتے تھے، لیکن یہ فتح مکہ سے پہلے کی بات ہے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس صورت میں غسل کرنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بھی غسل کرنے کا حکم دیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) حسین نامی راوی حسین بن عثمان بن بشر بن محتفز ہیں۔ ان کا تعلق بصرہ سے ہے۔ انہوں نے مرو میں رہائش اختیار کی تھی۔ یہ ثقہ راویوں میں سے ایک ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1180]

1181

Sahih Ibn Hibban #1181

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا سُئِلَتْ عَنِالرَّجُلِ يُجَامِعُ ، فَلا يُنْزِلُ ، قَالَتْ : فَعَلْتُ أَنَا ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاغْتَسَلْنَا مِنْهُ جَمِيعًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ان سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا جو مباشرت کرتا ہے، لیکن اسے انزال نہیں ہوتا، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس طرح کرتے تھے، تو ہم ایسی صورت میں غسل کیا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1181]

1182

Sahih Ibn Hibban #1182

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الأَرْبَعِ ، ثُمَّ جَهَدَ ، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب مرد عورت کے چار شعبوں کے درمیان بیٹھ کر اسے مشقت کا شکار کرے (یعنی اس کے ساتھ صحبت کر لے) تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1182]

1183

Sahih Ibn Hibban #1183

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو قُدَامَةَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا الْتَقَى الْخِتَانَانِ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب شرم گاہیں مل جائیں، تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1183]

1184

Sahih Ibn Hibban #1184

أَخْبَرَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَنَدِيُّ ، بِمَكَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زِيَادٍ اللَّحْجِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو قُرَّةَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ وَجَبَ الْغُسْلُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب شرم گاہیں مل جائیں، تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1184]

1185

Sahih Ibn Hibban #1185

أَخْبَرَنَا الْقَطَّانُ ، بِالرَّقَّةِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا سُئِلَتْ عَنِالرَّجُلِ يُجَامِعُ أَهْلَهُ فَلا يُنْزِلُ الْمَاءَ ، قَالَتْ : فَعَلْتُهُ أَنَا ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاغْتَسَلْنَا مِنْهُ جَمِيعًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ان سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا جو اپنی بیوی سے صحبت کرتا ہے، لیکن اس کی منی خارج نہیں ہوتی، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: ”میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس طرح کرتے تھے، تو ہم دونوں اس صورت میں غسل کرتے تھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1185]

1186

Sahih Ibn Hibban #1186

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا سُئِلَتْ عَنِالرَّجُلِ يُجَامِعُ فَلا يُنْزِلُ الْمَاءَ ، قَالَتْ : فَعَلْتُ أَنَا ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاغْتَسَلْنَا مِنْهُ جَمِيعًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے، ان سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا جو صحبت کرتا ہے، لیکن اس کی منی خارج نہیں ہوتی، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس طرح کرتے تھے، تو ہم دونوں اس صورت میں غسل کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1186]

1187

Sahih Ibn Hibban #1187

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، أَنَّ أَبَاهُ ، قَالَ : سَأَلْتُ وَحَرَصْتُ عَلَى أَنْ أَجِدَ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ يُخْبِرُنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّحَ سُبْحَةَ الضُّحَى ، فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا يُخْبِرُنِي عَنْ ذَلِكَ غَيْرَ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَتْنِي ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى بَعْدَمَاارْتَفَعَ النَّهَارُ يَوْمَ الْفَتْحِ ، فَأَمَرَ بِثَوْبٍ يَسْتُرُ عَلَيْهِ ، فَاغْتَسَلَ ، ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ ، لا أَدْرِي أَقِيَامُهُ فِيهَا أَطْوَلُ ، أَمْ رُكُوعُهُ ، أَمْ سُجُودُهُ ، كُلُّ ذَلِكَ مِنْهُ مُتَقَارِبَةٌ ، قَالَتْ : فَلَمْ أَرَهُ يُسَبِّحُهَا قَبْلُ وَلا بَعْدُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبیداللہ بن عبداللہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں پوچھنا چاہتا تھا اور مجھے اس بات کی شدید خواہش تھی کہ مجھے کوئی ایسا شخص مل جائے جو مجھے بتائے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی نماز ادا کی ہے، تو مجھے ایسا کوئی شخص نہیں ملا جو مجھے اس بارے میں بتاتا، صرف سیدہ ام ہانی بنت ابوطالب رضی اللہ عنہا نے یہ بات بتائی۔ انہوں نے بتایا کہ فتح مکہ کے دن وہ دن چڑھ جانے کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پردہ تان دیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھ کر آٹھ رکعات ادا کیں۔ مجھے یہ اندازہ نہیں ہو سکا کہ ان رکعات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام زیادہ طویل تھا یا رکوع زیادہ طویل تھا یا سجدہ زیادہ طویل تھا یا یہ سب ایک دوسرے کے قریب قریب تھے۔ سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے اس سے پہلے یا اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ نوافل ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1187]

1188

Sahih Ibn Hibban #1188

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ ، تَقُولُ : ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ ، وَفَاطِمَةُ ابْنَتُهُ تَسْتُرُهُ بِثَوْبٍ ، قَالَتْ : فَسَلَّمْتُ ، فَقَالَ : مَنْ هَذِهِ ؟ " قُلْتُ : أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَرْحَبًا يَا أُمَّ هَانِئٍ " ،فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهِ قَامَ فَصَلَّى ثَمَانَ رَكَعَاتٍ مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَقُلْتُ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، زَعَمَ ابْنُ أُمِّي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، أَنَّهُ قَاتِلٌ رَجُلا أَجَرْتُهُ : فُلانُ ابْنُ هُبَيْرَةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِئٍ " ، وَذَلِكَ ضُحًى"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام ہانی بنت ابوطالب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں فتح مکہ کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو میں نے آپ کو غسل کرتے ہوئے پایا۔ آپ کی صاحب زادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کپڑے کے ذریعے پردہ تان رکھا تھا۔ سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے سلام کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کون ہے؟“ میں نے عرض کی: ام ہانی بنت ابوطالب۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ام ہانی کو خوش آمدید۔“ پھر جب آپ غسل کر کے فارغ ہوئے، تو آپ نے کھڑے ہو کر آٹھ رکعات نماز ادا کی جس میں آپ نے ایک ہی کپڑے کو «الْتِحَاف» کے طور پر لپیٹا ہوا تھا۔ جب آپ نے نماز مکمل کر لی تو میں نے آپ کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ! میرے ماں جائے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ یہ کہتے ہیں، وہ ایک ایسے شخص کو قتل کر دیں گے، جسے میں پناہ دے چکی ہوں یعنی فلاں بن ہبیرہ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے ام ہانی! جسے تم نے پناہ دی اسے ہم بھی پناہ دیتے ہیں۔“ (سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا) بیان کرتی ہیں، یہ چاشت کے وقت کی بات ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1188]

1189

Sahih Ibn Hibban #1189

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ ، قَالَتْ : نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِأَعْلَى مَكَّةَ ، فَأَتَيْتُهُ ، فَجَاءَهُ أَبُو ذَرٍّ بِجَفْنَةٍ فِيهَا مَاءٍ ، قَالَتْ : إِنِّي لأَرَى فِيهَا أَثَرَ الْعَجِينِ ، قَالَتْ : فَسَتَرَهُ أَبُو ذَرٍّ ، فَاغْتَسَلَ ، ثُمَّ سَتَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَبَا ذَرٍّ ، فَاغْتَسَلَ ، ثُمَّصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانَ رَكَعَاتٍ وَذَلِكَ فِي الضُّحَى ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْفَتْحِ ، سَتَرْتَهُ فَاطِمَةُ ابْنَتُهُ ، وَأَبُو ذَرٍّ جَمِيعًا بِثَوْبٍ ، فَأَدَّى أَبُو مُرَّةَ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ الْخَبَرَ بِذِكْرِ فَاطِمَةَ وَحْدَهَا ، وَأَدَّى الْمُطَّلِبُ بْنُ حَنْطَبٍ الْخَبَرَ بِذِكْرِ أَبِي ذَرٍّ وَحْدَهُ ، حَتَّى لا يَكُونَ بَيْنَ الْخَبَرَيْنِ تَضَادُّ وَلا تَهَاتُرٌ ، لأَنَّ الاغْتِسَالَ مِنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ كَانَ مَرَّةً وَاحِدَةً ، فَلَمَّا أَرَادَ أَبُو ذَرٍّ أَنْ يَغْتَسِلَ سَتَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، دُونَ فَاطِمَةَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ کے بالائی حصے میں پڑاؤ کیے ہوئے تھے۔ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ ایک بڑے برتن میں پانی لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے اس برتن میں آٹے کا نشان دیکھا۔ سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ پھر سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے آپ کے لیے پردہ تان لیا، پھر آپ نے غسل کیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے لیے پردہ تان لیا، پھر انہوں نے غسل کیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ رکعات نماز ادا کی۔ یہ چاشت کے وقت کی بات ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس بات کا امکان موجود ہے کہ فتح مکہ کے دن جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا تھا، تو آپ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ دونوں نے پردہ تان لیا ہو، جو ایک ہی کپڑے کے ذریعے ہو، تو سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کے غلام ابو مرہ نے وہ روایت نقل کر دی جس میں صرف سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا ذکر ہے اور مطلب بن حنطب نے وہ روایت نقل کر دی جس میں صرف سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کا ذکر ہے۔ اس صورت میں ان دونوں روایات میں کوئی تضاد اور اختلاف نہیں رہتا؛ کیونکہ اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ایک ہی مرتبہ غسل کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے غسل کرنے کا ارادہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے پردہ تان لیا تھا۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ایسا نہیں کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1189]

1190

Sahih Ibn Hibban #1190

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي خَالَتِي مَيْمُونَةُ ، قَالَتْ : أَدْنَيْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسْلَهُ مِنَ الْجَنَابَةِ ، قَالَتْ : فَغَسَلَ كَفَّيْهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاثًا ، ثُمَّ أَدْخَلَ كَفَّهُ الْيُمْنَى فِي الإِنَاءِ ، فَأَفْرَغَ بِهَا عَلَى فَرْجِهِ فَغَسَلَهُ بِشِمَالِهِ ، ثُمَّ ضَرَبَ بِشِمَالِهِ الأَرْضَ فَدَلَكَهَا دَلْكًا شَدِيدًا ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلاةِ ، ثُمَّ أَفْرَغَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلاثَ حَفَنَاتٍ مِلْءَ كَفَّيْهِ ، ثُمَّ تَنَحَّى غَيْرَ مَقَامِهِ ذَلِكَ ، فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِالْمِنْدِيلِ فَرَدَّهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میری خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے مجھے یہ بات بتائی، وہ بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غسلِ جنابت کے لیے پانی رکھا۔ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ دو مرتبہ یا تین مرتبہ دھوئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ پانی میں داخل کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شرم گاہ کو صاف کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بائیں ہاتھ پر پانی انڈیل کر اسے دھویا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے وضو کی طرح وضو کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا بایاں ہاتھ زمین پر رکھ کر اسے اچھی طرح ملا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے وضو کی طرح وضو کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر پر دونوں ہاتھ ملا کر پانی بہایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ سے ایک طرف ہٹ گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں پاؤں دھو لیے، پھر میں رومال لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول نہیں کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1190]

1191

Sahih Ibn Hibban #1191

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : وَصَفَتْ عَائِشَةُ غُسْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْجَنَابَةِ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَغْسِلُ يَدَيْهِ ثَلاثًا ، ثُمَّ يُفِيضُ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى ، فَيَغْسِلُ فَرْجَهُ وَمَا أَصَابَهُ ، ثُمَّ يُمَضْمِضُ وَيَسْتَنْشِقُ ثَلاثًا ، وَيَغْسِلُ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ثَلاثًا ثَلاثًا ، ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلاثًا ، ثُمَّ يَصُبُّ عَلَيْهِ الْمَاءَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوسلمہ بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل جنابت کا طریقہ بیان کیا، وہ بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھ تین مرتبہ دھوتے تھے، اپنے دائیں ہاتھ کے ذریعے اپنے بائیں ہاتھ پر پانی بہاتے تھے اور اپنی شرم گاہ پر لگی چیز کو دھوتے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین مرتبہ کلی کرتے تھے، ناک میں پانی ڈالتے تھے، پھر اپنے بازوؤں اور چہرے کو تین تین مرتبہ دھوتے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر پر پانی بہاتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پورے جسم پر پانی بہا لیتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1191]

1192

Sahih Ibn Hibban #1192

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ ، قَالَتْ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ : أَتَغْتَسِلُ الْمَرْأَةُ مَعَ زَوْجِهَا مِنَ الْجَنَابَةِ مِنَ الإِنَاءِ الْوَاحِدِ جَمِيعًا ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، الْمَاءُ طَهُورٌ لا يَجْنُبُ ، وَلَقَدْ كُنْتُأَغْتَسِلُ أَنَا ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الإِنَاءِ الْوَاحِدِ ، أَبْدَأُهُ فَأُفْرِغُ عَلَى يَدِهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَغْمِسَهُمَا فِي الْمَاءِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

معاذہ عدویہ رحمہا اللہ بیان کرتی ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: کیا کوئی عورت اپنے شوہر کے ہمراہ ایک ہی برتن کے ساتھ غسل جنابت کر سکتی ہے، جبکہ وہ دونوں ایک ساتھ غسل کریں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: ”جی ہاں، پانی پاک ہوتا ہے، اسے جنابت لاحق نہیں ہوتی، میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن میں غسل کیا کرتے تھے۔ میں پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر پانی بہاتی تھی، اس سے پہلے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ہاتھ پانی میں داخل کریں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1192]

1193

Sahih Ibn Hibban #1193

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كُنْتُأَغْتَسِلُ أَنَا ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ مِنَ الْجَنَابَةِ ، نَشْرُعُ فِيهِ جَمِيعًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل جنابت کیا کرتے تھے، ہم اس میں سے ایک ساتھ غسل شروع کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1193]

1194

Sahih Ibn Hibban #1194

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : كُنْتُأَغْتَسِلُ أَنَا ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ ، نَغْتَرِفُ مِنْهُ جَمِيعًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسلِ جنابت کیا کرتے تھے، ہم دونوں اس میں سے چلو سے پانی لیا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1194]

1195

Sahih Ibn Hibban #1195

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : كُنْتُأَنَا ، وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نغتسل من إناء واحد ، يبتدر فيقول : أَبَقِي لِي ، أَبَقِي لِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک برتن سے غسل کیا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم آغاز کرتے ہوئے فرماتے تھے: «أَبْقِي لِي، أَبْقِي لِي» ”میرے لیے بھی باقی رہنے دینا، میرے لیے بھی باقی (پانی) رہنے دینا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1195]

1196

Sahih Ibn Hibban #1196

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَااغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ ، بَدَأَ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ تَوَضَّأَ كَمَا يَتَوَضَّأُ لِلصَّلاةِ ، ثُمَّ يُدْخِلُ أَصَابِعَهُ فِي الْمَاءِ ، فَيُخَلِّلُ بِهَا أُصُولَ شَعْرِهِ ، ثُمَّ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ ثَلاثَ غَرَفَاتٍ بِيَدِهِ ، ثُمَّ يُفِيضُ الْمَاءَ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کرتے تھے، تو سب سے پہلے دونوں ہاتھ دھوتے تھے پھر وضو کرتے تھے جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے وضو کرتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ہاتھ پانی میں داخل کرتے تھے اس کے ذریعے اپنے بالوں کی جڑوں کا خلال کرتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر پر تین لپ پانی کے بہا لیتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پورے جسم پر پانی بہا لیتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1196]

1197

Sahih Ibn Hibban #1197

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ الْبَزَّارُ ، بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَغْتَسِلُ فِي حِلابٍ مِثْلَ هَذِهِ ، وَأَشَارَ أَبُو عَاصِمٍ بِكَفَّيْهِ ، يَصُبُّ عَلَى شِقِّ الأَيْمَنِ ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِكَفَّيْهِ يَصُبُّ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم «الْحِلَابِ» سے غسل فرماتے تھے (اس سے مراد وہ برتن ہے جس میں اونٹنی کا دودھ آ جاتا ہے)، وہ اتنا ہوتا تھا، ابوعاصم رحمہ اللہ نے اپنے دونوں ہاتھوں کے ذریعے اشارہ کر کے یہ بات بتائی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دائیں پہلو پر پانی انڈیلتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ہاتھوں میں پانی لے کر اسے جسم پر بہا لیتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1197]

1198

Sahih Ibn Hibban #1198

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي امْرَأَةٌ أَشُدُّ ضَفْرَ رَأْسِي ، أَفَأَحُلُّهُ لِغُسْلِ الْجَنَابَةِ ؟ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّمَايَكْفِيكِ أَنْ تَحْثِي عَلَى رَأْسِكِ ثَلاثَ حَثَيَاتٍ مِنْ مَاءٍ ، ثُمَّ تُفِيضِي عَلَيْكِ الْمَاءَ ، فَإِذَا أَنْتِ قَدْ طَهُرْتِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: میں ایسی خاتون ہوں جس نے اپنے بالوں کی مینڈھیاں کی ہوتی ہیں، یا باندھی ہوتی ہیں، تو کیا میں جنابت کے لیے انہیں کھول لیا کروں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہارے لیے اتنا کافی ہے، تم اپنے سر پر تین لپ بہا لیا کرو، پھر اپنے پورے جسم پر پانی بہا لو، اس طرح تم پاک ہو جاؤ گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1198]

1199

Sahih Ibn Hibban #1199

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي مَنْصُورُ بْنُ صَفِيَّةَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَتْهُ عَنْ غُسْلِ الْحَيْضِ ، فَأَمَرَهَا أَنْتَغْتَسِلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ ، وَتَأْخُذُ فِرْصَةً فَتَوَضَّأَ بِهَا ، وَتَطْهُرَ بِهَا ، قَالَتْ : كَيْفَ أَتَطَهَّرُ بِهَا ؟ قَالَ : تَطَهَّرِي بِهَا " . قَالَتْ : كَيْفَ أَتَطَهَّرُ بِهَا ؟ فَاسْتَتَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ، وَقَالَ : " سُبْحَانَ اللَّهِ ! اطَّهَّرِي بِهَا " . قَالَتْ عَائِشَةُ : فَاجْتَذَبْتُ الْمَرْأَةَ ، وَقُلْتُ : تَتْبَعِينَ بِهَا أَثَرَ الدَّمِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے غسلِ حیض کے بارے میں دریافت کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ ہدایت کی: ”پانی اور بیری کے پتوں کے ذریعے غسل کرے، پھر وہ روئی لے کر اس کے ذریعے پاکیزگی حاصل کرے“ اس نے عرض کی: میں کیسے پاکیزگی حاصل کروں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اس کے ذریعے پاکیزگی حاصل کرو۔“ اس نے عرض کی: میں اس کے ذریعے کیسے پاکیزگی حاصل کروں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک چہرے پر رکھ لیا اور فرمایا: ” «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ“ تم اس کے ذریعے پاکیزگی حاصل کرو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے اس عورت کو اپنی طرف کھینچا اور میں نے اسے بتایا کہ تم اس کے ذریعے خون کے نشانات صاف کرو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1199]

1200

Sahih Ibn Hibban #1200

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، خَبَّرَتْنِي أُمِّي ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : إِنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ الْحَيْضِ كَيْفَ تَغْتَسِلُ مِنْهُ ؟ قَالَ : تَأْخُذِي فِرْصَةً مُمَسَّكَةً ، فَتَتَوَضَّئِينَ بِهَا " . قَالَتْ : كَيْفَ أَتَوَضَّأُ بِهَا ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَوَضَّئِينَ بِهَا " . قَالَتْ : كَيْفَ أَتَوَضَّأُ بِهَا ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَوَضَّئِينَ بِهَا " . قَالَتْ عَائِشَةُ : فَعَرَفْتُ الَّذِي يُرِيدُ ، فَجَبَذْتُهَا إِلَيَّ ، فَعَلَّمْتُهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک خاتون نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حیض کے بارے میں دریافت کیا کہ وہ اس کے بعد غسل کیسے کرے گی؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم مشک لگا ہوا روئی کا ٹکڑا لو اور اس کے ذریعے وضو کرو۔“ اس نے عرض کی: میں اس کے ذریعے کیسے وضو کروں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کے ذریعے وضو کرو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد کا پتہ چل گیا تھا، اس لیے میں نے اس عورت کو اپنی طرف کھینچا اور اسے طریقہ بتایا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1200]

1201

Sahih Ibn Hibban #1201

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيَغْتَسِلُ مِنْ إِنَاءٍ ، وَهُوَ الْفَرَقُ مِنَ الْجَنَابَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک برتن کے ذریعے غسل کرتے تھے جو «فَرَقٍ» ”فرق“ تھا، آپ غسل جنابت کیا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1201]

1202

Sahih Ibn Hibban #1202

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ حَفْصَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ كَانَتْ تَحْتَ الْمُنْذِرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، وَأَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهَا ، أَنَّهَا كَانَت تَغْتَسِلُ هِيَ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ يَسَعُ ثَلاثَةَ أَمْدَادٍ ، أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حفصہ بنت عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما، جو منذر بن زبیر کی اہلیہ تھیں، وہ بیان کرتی ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ وہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن میں سے غسل کیا کرتے تھے جس میں تین مد کے قریب پانی آ جاتا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1202]

1203

Sahih Ibn Hibban #1203

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرِ بْنِ عَتِيكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَتَوَضَّأُ المكوك ، وَيَغْتَسِلُ بِخَمْسِ مَكَاكِيٍّ ". قَالَ أَبُو خَيْثَمَةَ : الْمَكُّوكُ : الْمُدُّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک «مَكُوك» ”مکوک“ کے ذریعے وضو کر لیتے تھے اور پانچ «مَكُوك» ”مکوک“ (پانی) سے غسل کر لیتے تھے۔ ابو خیر سماء نامی راوی بیان کرتے ہیں: یا «مَكُوك» ”مکوک“ سے مراد «مُدّ» ”مد“ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1203]