Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 1 · Chapter 3

Introduction

Hadith 35–74

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

35

Sahih Ibn Hibban #35

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا سَلَمَةَ : أَيُّ الْقُرْآنِ أُنْزِلَ أَوَّلَ ؟ ، قَالَ يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ، قُلْتُ : أَوِ اقْرَأْ ، فَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ : سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : يَأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ سورة المدثر آية 1 ، فَقُلْتُ : أَوِ اقْرَأْ ، فَقَالَ : إِنِّي أُحَدِّثُكُمْ مَا حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : جَاوَرْتُ بِحِرَاءَ شَهْرًا ، فَلَمَّا قَضَيْتُ جِوَارِي نَزَلْتُ فَاسْتَبْطَنْتُ الْوَادِيَ ، فَنُودِيتُ ، فَنَظَرْتُ أَمَامِي ، وَخَلْفِي ، وَعَنْ يَمِينِي ، وَعَنْ شِمَالِي ، فَلَمْ أَرَ أَحَدًا ، ثُمَّ نُودِيتُ ، فَنَظَرْتُ إِلَى السَّمَاءِ ، فَهُوَ عَلَى الْعَرْشِ فِي الْهَوَاءِ ، فَأَخَذَتْنِي رَجْفَةٌ شَدِيدَةٌ ، فَأَتَيْتُ خَدِيجَةَ ، فَأَمَرْتُهُمْ فَدَثَّرُونِي ، ثُمَّ صَبُّوا عَلَيَّ الْمَاءَ ، وَأَنْزَلَ الِلَّهِ عَلَيَّ يَأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحیی بن ابوکثیر بیان کرتے ہیں: میں نے ابوسلمہ سے دریافت کیا: قرآن کا کون سا حصہ پہلے نازل ہوا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: «یاایھا المدثر» “” میں نے کہا: (یہ پہلے نازل ہوا تھا) یا اقراء (پہلے نازل ہوا تھا) تو ابوسلمہ نے کہا: میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں دریافت کیا: تو انہوں نے فرمایا: ( «یا ایھا المدثر») پہلے نازل ہوئی تھی، تو میں نے کہا: (یہ پہلے نازل ہوئی تھی) یا اقراء (پہلے ناز کی ہوئی تھی) تو انہوں نے کہا: میں تم لوگوں کو وہ بات بیان کروں گا، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بیان کی تھی۔ آپ نے ارشاد فرمایا تھا: ”میں نے غار حرا میں ایک مہینے تک اعتکاف کیا، جب میں نے اپنا یہ اعتکاف مکمل کر لیا، تو میں پہاڑ سے نیچے آیا۔ میں وادی کے نشیبی حصے میں پہنچا، تو مجھے آواز دے کر پکارا گیا۔ میں نے اپنے سامنے، اپنے پیچھے، اپنے دائیں طرف اور اپنے بائیں طرف دیکھا، لیکن مجھے کوئی نظر نہیں آیا، پھر مجھے پکارا گیا۔ میں نے آسمان کی طرف دیکھا، تو وہ (ایک فرشتہ) خلا میں ایک تخت پر تھا۔ اس کی وجہ سے مجھ پر شدید گھبراہٹ طاری ہو گئی۔ میں خدیجہ کے پاس آیا اور میری ہدایت پر انہوں نے مجھے اوڑھنے کے لئے چادر دی اور پھر مجھ پر پانی بہایا، تواللہ تعالیٰ نے مجھ پر یہ آیت نازل کی۔ ”اے چادر اوڑھنے والے! تم اٹھو اور ڈراؤ اور اپنے پروردگار کی کبریائی بیان کرو اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الوحي/حدیث: 35]""

36

Sahih Ibn Hibban #36

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيَمُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَضَى الِلَّهِ الأَمْرَ فِي السَّمَاءِ ، ضَرَبَتِ الْمَلائِكَةُ بِأَجْنِحَتِهَا خُضْعَانًا لِقَوْلِهِ كَأَنَّهُ سِلْسِلَةٌ عَلَى صَفْوَانٍ ، حَتَّى فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ ، قَالُوا : مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ ؟ فَيَقُولُونَ : قَالَ الْحَقَّ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ، فَيَسْتَمِعُهَا مُسْتَرِقُ السَّمْعِ ، فَرُبَّمَا أَدْرَكَهُ الشِّهَابُ قَبْلُ أَنْ يَرْمِيَ بِهَا إِلَى الَّذِي هُوَ أَسْفَلُ مِنْهُ ، وَرُبَّمَا لَمْ يُدْرِكْهُ الشِّهَابُ حَتَّى يَرْمِيَ بِهَا إِلَى الَّذِي هُوَ أَسْفَلُ مِنْهُ ، قَالَ : وَهُمْ هَكَذَا بَعْضُهُمْ أَسْفَلُ مِنْ بَعْضٍ وَوَصَفَ ذَلِكَ سُفْيَانُ بِيَدِهِ فَيَرْمِي بِهَا هَذَا إِلَى هَذَا ، وَهَذَا إِلَى هَذَا ، حَتَّى تَصِلَ إِلَى الأَرْضِ ، فَتُلْقَى عَلَى فَمِ الْكَافِرِ وَالسَّاحِرِ ، فَيَكْذِبُ مَعَهَا مِائَةَ كِذْبَةٍ ، فَيُصَدَّقُ ، وَيُقَالُ : أَلَيْسَ قَدْ قَالَ فِي يَوْمِ كَذَا وَكَذَا : كَذَا وَكَذَا ، فَصَدَقَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا پتہ چلا ہے۔ ”جباللہ تعالیٰ آسمان میں کسی معاملے کے بارے میں فیصلہ دیتا ہے، تو فرشتے اس کے فرمان کے سامنے سر جھکاتے ہوئے اپنے پر یوں مارتے ہیں، جس طرح پتھر پر زنجیر ماری جاتی ہے۔ یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ کم ہوتی ہے تو وہ دریافت کرتے ہیں: تمہارے پروردگار نے کیا ارشاد فرمایا ہے؟ تو وہ یہ کہتے ہیں: اس نے حق ارشاد فرمایا ہے، وہ سننے والا اور علم رکھنے والا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں) پھر چوری چھپے سننے والا کوئی (جن) اس بات کو سن لیتا ہے، تو بعض اوقات اس (جن) کے اسے نیچے پہنچانے سے پہلے ہی شہاب ثاقب اس تک پہنچ جاتا ہے، اور بعض اوقات شہاب ثاقب اس تک نہیں پہنچ پاتا۔ یہاں تک کہ وہ اپنے سے نیچے والے کو وہ بات بتا دیتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (یا شاید راوی) کہتے ہیں: وہ لوگ اس طرح ایک دوسرے کے اوپر نیچے ہوتے ہیں۔ سفیان نامی راوی نے اپنے ہاتھ کے ساتھ یہ کر کے دکھایا کہ وہ اس طرح ایک دوسرے کو یہ بات بتاتے ہیں، یہاں تک کہ وہ بات زمین تک پہنچ جاتی ہے، اور کافر یا جادوگر کے منہ میں ڈال دی جاتی ہے۔ وہ (شیطان) اس کے ساتھ ایک سو جھوٹ ملا دیتا ہے۔ تو کبھی ایسا ہوتا ہے، اصل بات) کی تصدیق کر دی جاتی ہے۔ (یا وہ سچ ثابت ہوتی ہے) تو یہ کہا: جاتا ہے، کیا فلاں دن اس نے یہ بات نہیں کہی تھی، تو اس نے سچ کہا: تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الوحي/حدیث: 36]""

37

Sahih Ibn Hibban #37

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ إِشْكَابٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّاللَّهَ تَكَلَّمَ بِالْوَحْيِ سَمِعَ أَهْلُ السَّمَاءِ لِلسَّمَاءِ صَلْصَلَةً كَجَرِّ السِّلْسِلَةِ عَلَى الصَّفَا ، فَيُصْعَقُونَ ، فَلا يَزَالُونَ كَذَلِكَ حَتَّى يَأْتِيَهُمْ جِبْرِيلُ فَجَاءَهُمْ فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ ، فَيَقُولُونَ : يَا جِبْرِيلُ مَاذَا قَالَ رَبُّكَ ؟ فَيَقُولُ : الْحَقَّ ، فَيُنَادُونَ : الْحَقَّ الْحَقَّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبدالله رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جباللہ تعالیٰ کسی وحی کے بارے میں کلام کرتا ہے، تو آسمان پر رہنے والے دوسرے آسمان کے رہنے والوں سے اس بات کو یوں سنتے ہیں، جس طرح گھنٹی کی آواز ہوتی ہے۔ جیسے کسی زنجیر کو پتھر پر مارا جاتا ہے۔ پھر وہ بے ہوش ہو جاتے ہیں، پھر ان کی یہی کیفیت رہتی ہے۔ یہاں تک کہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام ان کے پاس آتے ہیں، جب وہ ان کے پاس آتے ہیں، تو ان کے دلوں سے گھبراہٹ کم ہوتی ہے، تو وہ کہتے ہیں: اے جبرائیل علیہ السلام تمہارے رب نے کیا ارشاد فرمایا ہے؟ تو وہ کہتے ہیں: حق فرمایا ہے، تو وہ فرشتے بھی یہ کہتے ہیں: حق فرمایا ہے، حق فرمایا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الوحي/حدیث: 37]""

38

Sahih Ibn Hibban #38

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَحْيَانًا يَأْتِينِي فِي مِثْلِ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ ، وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ ، فَيَنْفَصِمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ مَا قَالَ ، وَأَحْيَانًا يَتَمَثَّلُ لِيَ الْمَلَكُ رَجُلا ، فَيُكَلِّمُنِي ، فَأَعِي مَا يَقُولُ "، قَالَتْ عَائِشَةُ : وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ فِي الْيَوْمِ الشَّاتِي الشَّدِيدِ الْبَرْدِ ، فَيَنْفَصِمُ عَنْهُ ، وَإِنَّ جَبِينَهُ لَيَتَفَصَّدُ عَرْقًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: حارث بن ہشام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ پر وحی کیسے آتی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بعض اوقات وہ میرے پاس گھنٹی کی آواز میں آتی ہے، اور یہ میرے لئے سب سے زیادہ شدید ہوتی ہے۔ جب میری یہ کیفیت ختم ہوتی ہے، تو فرشتے نے جو کہا: ہوتا ہے، میں اسے محفوظ کر لیتا ہوں۔ بعض اوقات فرشتہ میرے سامنے آدمی کی شکل میں آتا ہے، اور میرے ساتھ بات چیت کرتا ہے، تو اس کی کہی ہوئی بات کو میں محفوظ کر لیتا ہوں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے، ایک مرتبہ شدید سردی کے دن آپ پر وحی نازل ہوئی جب آپ کی یہ کیفیت ختم ہوئی، تو آپ کی مبارک پیشانی سے پسینہ پھوٹ رہا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الوحي/حدیث: 38]""

39

Sahih Ibn Hibban #39

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْلِهِ : لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ سورة القيامة آية 16 ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُعَالِجُ مِنَ التَّنْزِيلِ شِدَّةً ، كَانَ يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَنَا أُحَرِّكُهُمَا كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَرِّكُهُمَا ، فَأَنْزَلَ الِلَّهِ : لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ ، قَالَ : جَمْعُهُ فِي صَدْرِكَ ، ثُمَّ تَقْرَؤُهُ فَ قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَه سورة القيامة آية 18 ُ ، قَالَ : فَاسْتَمِعْ لَهُ وَأَنْصِتْ ، ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا أَنْ تَقْرَأَهُ ، قَالَ : فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ جِبْرِيلُ اسْتَمَعَ ، فَانْطَلَقَ جِبْرِيلُ قَرَأَهُ النَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا كَانَ أَقْرَأَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں: ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ”تم اس کے لئے اپنی زبان کو حرکت نہ دو، تاکہ تم اسے جلدی حاصل کر لو۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وحی کے نزول کے وقت شدت کا سامنا کرتے تھے اور اپنے ہونٹوں کو حرکت دیا کرتے تھے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں ان ہونٹوں کو حرکت دے کر دکھاتا ہوں جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حرکت دیتے تھے، تواللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی۔ ”تم اس کے لئے اپنی زبان کو حرکت نہ دو، تاکہ تم اس کو جلدی حاصل کر لو، بے شک اس کا جمع کرنا اور اس کی تلاوت ہمارے ذمے ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس کے جمع کرنے سے مراد ”تمہارے سینے میں اسے جمع کرنا ہے۔“ پھر تم اس آیت کو تلاوت کرو۔ ”ہم اسے پڑھتے ہیں: تم اس پڑھے ہوئے کی پیروی کرو۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یعنی تم اسے غور سے سنو اور خاموش رہو۔ ”پھر اس کا بیان ہمارے ذمے ہے۔“ اس سے مراد یہ ہے، پھر تمہارا تلاوت کرنا ہمارے ذمے ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پھر جب جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے غور سے سنتے تھے، جب جبرائیل علیہ السلام چلے جاتے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کو اسی طرح تلاوت کر لیتے تھے۔ جس طرح سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے آپ کے سامنے اسے پڑھا ہوتا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الوحي/حدیث: 39]""

40

Sahih Ibn Hibban #40

أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْهَرَوِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ادْعُ لِي زَيْدًا وَيَجِيءُ مَعَهُ بِاللَّوْحِ وَالدَّوَاةِ ، أَوْ بِالْكَتِفِ وَالدَّوَاةِ " ، ثُمَّ قَالَ : " اكْتُبْ : لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " ، قَالَ : وَخَلْفَ ظَهْرِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمْرُو بْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ الأَعْمَى ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَا تَأْمُرُنِي ، فَإِنِّي رَجُلٌ ضَرِيرُ الْبَصَرِ ؟ قَالَ الْبَرَاءُ : فَأُنْزِلَتْ مَكَانَهَا : غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی۔ ”اہل ایمان میں سے بیٹھے رہنے والے لوگ برابر نہیں ہیں۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے پاس زید کو بلا کر لاؤ، وہ اپنے ساتھ لوح اور دوات (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) شانے کی ہڈی اور دوات لے کر آئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا: تم یہ لکھو۔ ”اہل ایمان میں سے بیٹھے رہ جانے والے لوگ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے لوگ برابر نہیں ہیں۔“ راوی بیان کرتے ہیں: اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سیدنا عمرو بن ام مکتوم جو نابینا ہیں۔ وہ موجود تھے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! مجھے آپ کیا حکم دیتے ہیں؟ کیونکہ میں، تو نابینا شخص ہوں۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، تو اسی جگہ آیت (کے یہ الفاظ) نازل ہوئے۔ ”جنہیں کوئی ضرر لاحق نہ ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الوحي/حدیث: 40]""

41

Sahih Ibn Hibban #41

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ بْنِسَا ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِيتُونِي بِالْكَتِفِ أَوِ اللَّوْحِ " ، فَكَتَبَ : لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ، وَعَمْرُو بْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ خَلْفَ ظَهْرِهِ ، فَقَالَ : هَلْ لِي مِنْ رُخْصَةٍ ؟ فَنَزَلَتْ ، غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ "

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے پاس کندھے کی ہڈی یا لوح لے کر آؤ، پھر آپ نے یہ آیت املاء کروائی۔ ”اہل ایمان میں سے بیٹھے رہ جانے والے لوگ برابر نہیں ہیں۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ کو بلایا، وہ شانے کی ہڈی لے کر آئے، انہوں نے اس پر یہ آیت تحریر کی، جب سیدنا ابن مکتوم نے اپنی معذوری کی شکایت کی تو یہ الفاظ نازل ہوئے: ”جنہیں کوئی ضرر نہ ہو۔“ «ذِكْرُ الْخَبَرِ الْمُدْحِضِ قَوْلَ مَنْ زَعَمَ أَنَّ أَبا إسحق السَّبِيعِيُّ لَمْ يَسْمَعُ هَذَا الْخَبَرَ مِنَ الْبَرَاءِ» اس روایت کا تذکرہ جو اس شخص کے موقف کو غلط ثابت کرتی ہے، جو اس بات کا قائل ہے، ابواسحاق سبیعی نامی راوی نے یہ روایت سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے نہیں سنی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الوحي/حدیث: 41]""

42

Sahih Ibn Hibban #42

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، يَقُولُ : لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ : لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدًا فَجَاءَ بِكَتِفٍ فَكَتَبَهَا فِيهِ ، فَشَكَا ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ ضَرَارَتَهُ ، فَنَزَلَتْ : غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی: ”اہل ایمان میں سے بیٹھے ہوئے لوگ برابر نہیں ہیں“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ کو بلوایا۔ وہ کندھے (کی ہڈی) لے کر آئے اور انہوں نے اس پر یہ آیت تحریر کر دی۔ سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے اپنے نابینا ہونے کی شکایت کی تو یہ آیت نازل ہوئی: ”جنہیں کوئی ضرر لاحق نہ ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الوحي/حدیث: 42]

43

Sahih Ibn Hibban #43

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْمُؤَذِّنُ ، حَدَّثَنَا عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ ، عَنْ يَزِيدَ الْفَارِسِيِّ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قُلْتُ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ :مَا حَمَلَكُمْ عَلَى أَنْ قَرَنْتُمْ بَيْنَ الأَنْفَالِ وَبَرَاءَةَ ، وَبَرَاءَةُ مِنَ الْمِئِينَ ، وَالأَنْفَالُ مِنَ الْمَثَانِي ، فَقَرَنْتُمْ بَيْنَهُمَا ؟ فَقَالَ عُثْمَانُ : كَانَ نَزَلَتْ مِنَ الْقُرْآنِ الآيَةُ دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ مَنْ يَكْتُبُ ، فَيَقُولُ لَهُ : ضَعْهُ فِي السُّورَةِ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا كَذَا ، وَأُنْزِلَتِ الأَنْفَالُ بِالْمَدِينَةِ ، وَبَرَاءَةُ بِالْمَدِينَةِ مِنْ آخِرِ الْقُرْآنِ ، فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَمْ يُخْبِرْنَا أَيْنَ نَضَعُهَا ، فَوَجَدْتُ قِصَّتَهَا شَبِيهًا بِقِصَّةِ الأَنْفَالِ ، فَقَرَنْتُ بَيْنَهُمَا ، وَلَمْ نَكْتُبْ بَيْنَهُمَا سَطْرَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ " ، فَوَضَعْتُهَا فِي السَّبْعِ الطُّوَلِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ نے کس وجہ سے سورہ انفال اور سورہ توبہ کو ایک ساتھ ملا دیا ہے؟ حالانکہ سورہ توبہ دو سو آیات والی سورت ہے، اور سورہ انفال مثانی میں سے ہے۔ آپ نے دونوں کو ملا دیا؟ تو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب بھی قرآن کی کوئی آیت نازل ہوتی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی لکھنے والے کو بلا لیتے تھے اور پھر آپ ان سے یہ فرماتے تھے، تم ان کو اس سورت میں شامل کر دو، جس میں فلاں چیز کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ تو سورہ انفال بھی مدینہ منورہ میں نازل ہوئی اور سورہ تو یہ بھی مدینہ منورہ میں نزول کے اعتبار سے آخری زمانے میں نازل ہوئی۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا، تو آپ نے یہ نہیں بتایا تھا کہ ہم انہیں کہاں رکھیں، تو میں نے یہ بابت پائی کہ اس کا واقعہ سورہ انفال کے واقعہ کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے۔ اس لئے میں نے ان دونوں کو ملا دیا ہے، اور ہم نے ان دونوں کے درمیان ” «بسم اللہ الرحمن» کی سطر نہیں لکھی ہے۔ میں نے انہیں سات طویل سورتوں میں شامل کر دیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الوحي/حدیث: 43]

44

Sahih Ibn Hibban #44

حَدَّثَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَتَاهُ رَجُلٌ ، وَأَنَا أَسْمَعُ ، فَقَالَ : يَا أَبَا بَكْرٍ : كَمِ انْقَطَعَ الْوَحْيُ عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلُ مَوْتِهِ ؟ ، فَقَالَ : مَا سَأَلَنِي عَنْ هَذَا أَحَدٌ مُذْ وَعَيْتُهَا مِنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : لَقَدْقُبِضَ مِنَ الدُّنْيَا وَهُوَ أَكْثَرُ مِمَّا كَانَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن اسحاق بیان کرتے ہیں: ایک شخص زہری کے پاس آیا میں اس وقت سن رہا تھا، اس نے کہا: اے ابوبکر! (یعنی ابن شہاب زہری) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال سے پہلے وحی کا سلسلہ کتنا عرصہ پہلے منقطع ہوا تھا؟ تو زہری نے جواب دیا: جب سے میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ بات سنی ہے، اس کے بعد کسی نے مجھ سے اس بارے میں دریافت نہیں کیا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے یہ بات بتائی تھی کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا، تو (وصال سے کچھ عرصہ پہلے) آپ پر زیادہ وحی نازل ہوتی رہی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الوحي/حدیث: 44]

45

Sahih Ibn Hibban #45

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ حُذَيْفَةَ ، فَقَالَ :مَنْ أَنْتَ يَا أَصْلَعُ ؟ قُلْتُ : أَنَا زِرُّ بْنُ حُبَيْشٍ ، حَدِّثْنِي بِصَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ الْمَقَدْسِ حِينَ أُسْرِيَ بِهِ ، قَالَ : مَنْ أَخْبَرَكَ بِهِ يَا أَصْلَعُ ؟ قُلْتُ : الْقُرْآنُ ، قَالَ : الْقُرْآنُ ؟ فَقَرَأْتُ : سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلا ، وَهَكَذَا هِيَ قِرَاءَةُ عَبْدِ اللَّهِ إِلَى قَوْلِهِ : إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ ، فَقَالَ : هَلْ تَرَاهُ صَلَّى فِيهِ ؟ قُلْتُ : لا ، قَالَ : إِنَّهُ أُتِيَ بِدَابَّةٍ ، قَالَ حَمَّادٌ : وَصَفَهَا عَاصِمٌ لا أَحْفَظُ صِفَتَهَا ، قَالَ : فَحَمَلَهُ عَلَيْهَا جِبْرِيلُ ، أَحَدُهُمَا رَدِيفُ صَاحِبِهِ ، فَانْطَلَقَ مَعَهُ مِنْ لَيْلَتِهِ حَتَّى أَتَى بَيْتَ الْمَقَدْسِ ، فَأُرِيَ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الأَرْضِ ، ثُمَّ رَجَعَا عَوْدَهُمَا عَلَى بَدْئِهِمَا ، فَلَمْ يُصَلِّ فِيهِ ، وَلَوْ صَلَّى لَكَانَتْ سُنَّةً

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زر بن حبیش بیان کرتے ہیں: میں سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے دریافت کیا: اے آگے سے گنجے! تم کون ہو؟ میں نے جواب دیا: میں زر بن حبیش ہوں۔ آپ مجھے بیت المقدس میں معراج کی رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں بتائیے، تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے آگے سے گنجے! تمہیں اس بارے میں کس نے بتایا ہے؟ میں نے جواب دیا: قرآن نے۔ انہوں نے جواب دیا: کیا قرآن نے؟ تو میں نے یہ آیت پڑھ دی: ”پاک ہے وہ ذات جو لے گئی اپنے بندے کو رات کے ایک حصے میں۔“ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت اسی طرح ہے یہ آیت یہاں تک ہے: ”بے شک وہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔“ انہوں نے دریافت کیا: کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں نماز ادا کی تھی؟ میں نے جواب دیا: جی نہیں۔ انہوں نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک جانور لایا گیا۔ یہاں حماد نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے، عاصم نامی راوی نے اس کا حلیہ بھی بیان کیا تھا، لیکن مجھے اس کا حلیہ یاد نہیں رہا۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر سوار کروایا ان دونوں میں سے ایک صاحب دوسرے کے پیچھے بیٹھ گئے۔ تو وہ جانور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لے کر اسی رات روانہ ہوا، یہاں تک کہ وہ بیت المقدس آ گیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آسمانوں اور زمین میں موجود چیزیں دکھائی گئیں، پھر یہ دونوں صاحبان واپس آ گئے، یہ جس طرح گئے تھے اسی طرح واپس آ گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں نماز ادا نہیں کی۔ اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (وہاں) نماز ادا کر لیتے، تو یہ بات سنت ہوتی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإسراء/حدیث: 45]""

46

Sahih Ibn Hibban #46

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْعَبَّاسِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أُتِيَ بِالْبُرَاقِ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ مُسْرَجًا مُلْجَمًا لِيَرْكَبَهُ ، فَاسْتَصْعَبَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ : مَا يَحْمِلُكَ عَلَى هَذَا ، فَوَاللَّهِ مَا رَكِبَكَ أَحَدٌ أَكْرَمَ عَلَى اللَّهِ مِنْهُ ، قَالَ : فَارْفَضَّ عَرَقًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جس رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کروائی گئی، اس رات آپ کے پاس براق لایا گیا، جس پر زین رکھی ہوئی تھی اور اس کی لگام ڈالی گئی تھی تاکہ آپ اس پر سوار ہو جائیں۔ اس پر سوار ہونے میں آپ کو دشواری محسوس ہوئی (یعنی براق نے اچھلنا شروع کر دیا) تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے اس سے کہا: تم ایسا کیوں کر رہے ہو؟ اللہ کی قسم! تمہارے اوپر ایسا کوئی شخص سوار نہیں ہوا، جواللہ تعالیٰ کے نزدیک ان (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) سے زیادہ معزز ہو۔ راوی بیان کرتے ہیں، تو براق کو پسینہ آ گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإسراء/حدیث: 46]""

47

Sahih Ibn Hibban #47

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ جُنَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أبيه ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَمَّا كَانَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي ، انْتَهِيَتُ إِلَى بَيْتِ الْمَقَدْسِ ، فَخَرَقَ جِبْرِيلُ الصَّخْرَةَ بِإِصْبَعِهِ وَشَدَّ بِهَا الْبُرَاقَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن بریدہ اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جس رات مجھے معراج کروائی گئی، میں بیت المقدس پہنچا، تو جبرائیل علیہ السلام نے اپنی انگلی کے ذریعے بڑے پتھر میں موجود سوراخ کو کھولا اور اس کے ساتھ براق کو باندھ دیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإسراء/حدیث: 47]""

48

Sahih Ibn Hibban #48

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا هُمَامُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُمْ عَنْ لَيْلَةِ أُسْرِيَ بِهِ ، قَالَ : بَيْنَمَا أَنَا فِي الْحَطِيمِ وَرُبَّمَا ، قَالَ : فِي الْحِجْرِ إِذْ أَتَانِي آتٍ ، فَشَقَّ مَا بَيْنَ هَذِهِ إِلَى هَذِهِ فَقُلْتُ لِلْجَارُودِ وَهُوَ إِلَى جَنْبِي : " مَا يَعْنِي بِهِ ؟ " قَالَ : مِنْ ثُغْرَةِ نَحْرِهِ إِلَى شِعْرَتِهِ فَاسْتَخْرَجَ قَلْبِي ، ثُمَّ أُتِيتُ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مَمْلُوءًا إِيمَانًا وَحِكْمَةً ، فَغُسِلَ قَلْبِي ، ثُمَّ حُشِيَ ، ثُمَّ أُتِيتُ بِدَابَّةٍ دُونَ الْبَغْلِ وَفَوْقَ الْحِمَارِ أَبْيَضَ ، فَقَالَ لَهُ الْجَارُودُ : هُوَ الْبُرَاقُ يَا أَبَا حَمْزَةَ ؟ قَالَ أَنَسٌ : نَعَمْ ، يَقَعُ خَطْوُهُ عِنْدَ أَقْصَى طَرْفِهِ فَحُمِلْتُ عَلَيْهِ ، فَانْطَلَقَ بِي جِبْرِيلُ حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الدُّنْيَا ، فَاسْتَفْتَحَ ، فَقِيلَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : جِبْرِيلُ ، قِيلَ : وَمَنْ مَعَكَ ؟ قَالَ : مُحَمَّدٌ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قِيلَ : وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قِيلَ : مَرْحَبًا بِهِ ، فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ ، فَفُتِحَ ، فَلَمَّا خَلَصْتُ فِيهَا آدَمُ ، فَقَالَ : هَذَا أَبُوكَ آدَمُ ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَرَدَّ السَّلامَ ثُمَّ قَالَ : مَرْحَبًا بِالابْنِ الصَّالِحِ ، وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ ، ثُمَّ صَعِدَ بِي حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الثَّانِيَةَ ، فَاسْتَفْتَحَ ، قِيلَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : جِبْرِيلُ ، قِيلَ : وَمَنْ مَعَكَ ؟ قَالَ : مُحَمَّدٌ ، قِيلَ : وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قِيلَ : مَرْحَبًا بِهِ فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ ، فَفُتِحَ ، فَلَمَّا خَلَصْتُ يَحْيَى وَعِيسَى وَهُمَا ابْنَا خَالَةٍ ، قَالَ : هَذَا يَحْيَى وَعِيسَى ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمَا ، فَسَلَّمْتُ ، فَرَدَّا ثُمَّ قَالا : مَرْحَبًا بِالأَخِ الصَّالِحِ ، وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ ، ثُمَّ صَعِدَ بِي إِلَى السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ ، فَاسْتَفْتَحَ ، قِيلَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : جِبْرِيلُ ، قِيلَ : وَمَنْ مَعَكَ ؟ قَالَ : مُحَمَّدٌ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قِيلَ : وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قِيلَ : مَرْحَبًا بِهِ ، فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ ، فَفُتِحَ ، فَلَمَّا خَلَصْتُ يُوسُفُ ، قَالَ : هَذَا يُوسُفُ ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَرَدَّ ثُمَّ قَالَ : مَرْحَبًا بِالأَخِ الصَّالِحِ ، وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ ، ثُمَّ صَعِدَ بِي حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الرَّابِعَةَ ، فَاسْتَفْتَحَ ، قِيلَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : جِبْرِيلُ ، قِيلَ : وَمَنْ مَعَكَ ؟ قَالَ : مُحَمَّدٌ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قِيلَ : أَوَ قَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قِيلَ : مَرْحَبًا بِهِ ، فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ ، فَفُتِحَ ، فَلَمَّا خَلَصْتُ إِدْرِيسُ ، قَالَ : هَذَا إِدْرِيسُ ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَرَدَّ ثُمَّ قَالَ : مَرْحَبًا بِالأَخِ الصَّالِحِ ، وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ ، ثُمَّ صَعِدَ بِي حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الْخَامِسَةَ ، فَاسْتَفْتَحَ ، قِيلَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : جِبْرِيلُ قِيلَ : وَمَنْ مَعَكَ ؟ قَالَ : مُحَمَّدٌ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قِيلَ : وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قِيلَ : مَرْحَبًا بِهِ ، فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ ، فَفُتِحَ ، فَلَمَّا خَلَصْتُ هَارُونُ ، قَالَ : هَذَا هَارُونُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَرَدَّ ثُمَّ قَالَ : مَرْحَبًا بِالأَخِ الصَّالِحِ ، وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ ، ثُمَّ صَعِدَ بِي حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ السَّادِسَةَ ، فَاسْتَفْتَحَ ، قِيلَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : جِبْرِيلُ ، قِيلَ : وَمَنْ مَعَكَ ؟ قَالَ : مُحَمَّدٌ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قِيلَ : أَوَ قَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قِيلَ : مَرْحَبًا بِهِ ، فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ ، فَفُتِحَ ، فَلَمَّا خَلَصْتُ مُوسَى ، قَالَ : هَذَا مُوسَى ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَرَدَّ السَّلامَ ، ثُمَّ قَالَ : مَرْحَبًا بِالأَخِ الصَّالِحِ ، وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ ، فَلَمَّا تَجَاوَزْتُ بَكَى ، قِيلَ لَهُ : مَا يُبْكِيكَ ؟ قَالَ : أَبْكِي لأَنَّ غُلامًا بُعِثَ بَعْدَي يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِهِ أَكْثَرُ مِمَّنْ يَدْخُلُهَا مِنْ أُمَّتِي ، ثُمَّ صَعِدَ بِي حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ السَّابِعَةَ ، فَاسْتَفْتَحَ ، قِيلَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : جِبْرِيلُ قِيلَ : وَمَنْ مَعَكَ ؟ قَالَ : مُحَمَّدٌ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قِيلَ : وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قِيلَ : مَرْحَبًا بِهِ ، فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ ، فَفُتِحَ ، فَلَمَّا خَلَصْتُ إِبْرَاهِيَمُ ، قَالَ : هَذَا أَبُوكَ إِبْرَاهِيَمُ ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَرَدَّ السَّلامَ ثُمَّ قَالَ : مَرْحَبًا بِالابْنِ الصَّالِحِ ، وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ ، ثُمَّ رُفِعْتُ إِلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى ، فَنَبْقُهَا مِثْلُ قِلالِ هَجَرَ ، وَوَرَقُهَا مِثْلُ آذَانِ الْفِيَلَةِ ، قَالَ : هَذِهِ سِدْرَةُ الْمُنْتَهَى ، وَأَرْبَعَةُ أَنْهَارٍ ، نَهْرَانِ بَاطِنَانِ ، وَنَهْرَانِ ظَاهِرَانِ ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ ؟ قَالَ : أَمَّا الْبَاطِنَانِ ، فَنَهَرَانِ فِي الْجَنَّةِ ، وَأَمَّا الظَّاهِرَانِ ، فَالنِّيلُ وَالْفُرَاتُ ، ثُمَّ رُفِعَ لِيَ الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ " ، قَالَ قَتَادَةُ : وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ رَأَى الْبَيْتَ الْمَعْمُورَ ، وَيَدْخُلُهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ ، ثُمَّ لا يَعُودُونَ فِيهِ ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى حَدِيثِ أَنَسٍ : " ثُمَّ أُتِيتُ بِآنَاءَ مِنْ خَمْرٍ ، وَآنَاءَ مِنْ لَبَنٍ ، وَآنَاءَ مِنْ عَسَلٍ ، فَأَخَذْتُ اللَّبَنَ ، فَقَالَ : هَذِهِ الْفطْرَةِ ، أَنْتَ عَلَيْهَا وَأُمَّتُكَ ، ثُمَّ فُرِضَتْ عَلَيَّ الصَّلاةُ خَمْسِينَ صَلاةً فِي كُلِّ يَوْمٍ ، فَرَجَعْتُ فَمَرَرْتُ عَلَى مُوسَى ، فَقَالَ : بِمَ أُمِرْتَ ؟ قَالَ : أُمِرْتُ بِخَمْسِينَ صَلاةً كُلَّ يَوْمٍ ، قَالَ : إِنَّ أُمَّتَكَ لا تَسْتَطِيعُ خَمْسِينَ صَلاةً كُلَّ يَوْمٍ ، وَإِنِّي قَدْ جَرَّبْتُ النَّاسَ قَبْلُكَ ، وَعَالَجْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَشَدَّ الْمُعَالَجَةِ ، فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَسَلْهُ التَّخْفِيفَ لأُمَّتِكَ ، فَرَجَعْتُ ، فَوَضَعَ عَنِّي عَشْرًا ، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى ، فَقَالَ مِثْلَهُ ، فَرَجَعْتُ ، فَوَضَعَ عَنِّي عَشْرًا ، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَقَالَ مِثْلَهُ ، فَرَجَعْتُ ، فَوَضَعَ عَنِّي عَشْرًا ، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَقَالَ مِثْلَهُ ، فَرَجَعْتُ ، فَأُمِرْتُ بِعَشْرِ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ ، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى ، فَقَالَ مِثْلَهُ ، فَرَجَعْتُ ، فَأُمِرْتُ بِخَمْسِ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ ، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى ، فَقَالَ : بِمَ أُمِرْتَ ؟ قَالَ : أُمِرْتُ بِخَمْسِ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ ، قَالَ : إِنَّ أُمَّتَكَ لا تَسْتَطِيعُ خَمْسَ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ ، وَإِنِّي قَدْ جَرَّبْتُ النَّاسَ قَبْلُكَ ، وَعَالَجْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَشَدَّ الْمُعَالَجَةِ ، فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَسَلْهُ التَّخْفِيفَ لأُمَّتِكَ ، قَالَ : قُلْتُ : سَأَلْتُ رَبِّي حَتَّى اسْتَحْيَيْتُ ، لَكِنِّي أَرْضَى وَأُسَلِّمُ ، فَلَمَّا جَاوَزْتُ نَادَانِي مُنَادٍ : أَمْضَيْتُ فَرِيضَتِي ، وَخَفَّفْتُ عَنْ عِبَادِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سیدنا مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو واقعہ معراج کے بارے میں بتایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک دن میں حطیم میں سویا ہوا تھا۔ (راوی نے بعض اوقات حطیم کے لئے لفظ حجر استعمال کیا ہے) اسی دوران ایک شخص میرے پاس آیا اور اس نے مجھے یہاں سے لے کے یہاں تک چیر دیا۔ (راوی کہتے ہیں) جارود جو میرے پہلو میں موجود تھے۔ میں نے ان سے دریافت کیا: اس سے مراد کیا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: گلے کے نیچے سے لے کر اور زیر ناف بال اگنے کی جگہ تک (کے حصے کو چیر دیا) (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں) پھر اس نے میرا دل نکالا، پھر سونے سے بنا ہوا ایک طشت لایا گیا، جو ایمان اور حکمت سے بھرا ہوا تھا، پھر میرے دل کو دھویا گیا، پھر اسے (اپنی جگہ پر رکھ کر، سی دیا گیا)، پھر میرے پاس ایک جانور لایا گیا؟ جو خچر سے کچھ چھوٹا تھا، اور گدھے سے کچھ بڑا تھا۔ وہ سفید رنگ کا تھا، تو جارود نے ان سے کہا: اے ابوحمزہ! وہ براق تھا؟ سیدنا انس نے فرمایا: جی ہاں۔ جہاں تک نگاہ جاتی ہے، وہاں تک اس کا ایک قدم ہوتا تھا۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:) مجھے اس پر سوار کیا گیا، جبرائیل علیہ السلام مجھے ساتھ لے کر آسمان دنیا کی طرف آئے، انہوں نے دروازہ کھولنے کے لئے کہا: دریافت کیا گیا: کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جبرائیل۔ دریافت کیا گیا: آپ کے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: سیدنا محمد دریافت کیا گیا: انہیں بلایا گیا ہے؟ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا: جی ہاں۔ تو یہ کہا: گیا: انہیں خوش آمدید! وہ کتنے اچھے آنے والے ہیں، جو تشریف لائے ہیں اور دروازہ کھول دیا گیا، جب میں وہاں پہنچا، تو وہاں سیدنا آدم علیہ السلام موجود تھے، جبرائیل علیہ السلام نے بتایا: یہ آپ کے جد امجد سیدنا آدم علیہ السلام ہیں۔ آپ انہیں سلام کیجئے، میں نے انہیں سلام کیا، انہوں نے سلام کا جواب دیا اور پھر بولے: نیک بیٹے اور نیک نبی کو خوش آمدید۔ پھر جبرائیل علیہ السلام مجھے ساتھ لے کر دوسرے آسمان پر آئے، انہوں نے دروازہ کھولنے کے لئے کہا:۔ دریافت کیا گیا: کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جبرائیل۔ دریافت کیا گیا: آپ کے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ دریافت کیا گیا: کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں، تو یہ کہا: گیا: انہیں خوش آمدید یہ کتنے اچھے تشریف لانے والے شخص ہیں، جو تشریف لائے ہیں، پھر دروازہ کھول دیا گیا۔ جب میں وہاں پہنچا، تو وہاں سیدنا یحییٰ علیہ السلام اور سیدنا عیسی علیہ السلام موجود تھے یہ دونوں خالہ زاد بھائی ہیں۔ جبرائیل علیہ السلام نے بتایا: یہ سیدنا یحییٰ علیہ السلام اور یہ سیدنا عیسی علیہ السلام ہیں آپ ان دونوں کو سلام کیجئے، میں نے انہیں سلام کیا، تو ان دونوں حضرات نے جواب دیا: پھر دونوں نے کہا: نیک بھائی اور نیک نبی کو خوش آمدید۔ پھر جبرائیل علیہ السلام مجھے ساتھ لے کر تیسرے آسمان کی طرف گئے اور دروازہ کھولنے کے لئے کہا: تو دریافت کیا گیا: کون ہے۔ انہوں نے جواب دیا: جبرائیل! دریافت کیا گیا: آپ کے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم دریافت کیا گیا: کیا انہیں بلوایا گیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ تو کہا: گیا۔ انہیں خوش آمدید! یہ کتنے اچھے تشریف لانے والے ہیں، جو تشریف لائے ہیں۔ پھر دروازہ کھول دیا گیا، جب میں وہاں پہنچا، تو وہاں سیدنا یوسف علیہ السلام موجود تھے۔ جبرائیل علیہ السلام نے کہا: یہ سیدنا یوسف علیہ السلام ہیں۔ آپ انہیں سلام کیجئے، میں نے انہیں سلام کیا، انہوں نے سلام کا جواب دیا: پھر انہوں نے کہا: نیک بھائی اور نیک نبی کو سلام۔ پھر جبرائیل علیہ السلام مجھے ساتھ لے کر چوتھے آسمان پر آئے۔ انہوں نے دروازہ کھولنے کے لئے کہا: تو دریافت کیا گیا: کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جبرائیل۔ دریافت کیا گیا: آپ کے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم دریافت کیا گیا: کیا انہیں بلوایا گیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ تو یہ کہا: گیا: انہیں خوش آمدید! یہ کتنے اچھے تشریف لانے والے ہیں، جو تشریف لائے ہیں، پھر دروازہ کھول دیا گیا۔ جب میں وہاں پہنچا، تو وہاں سیدنا ادریس علیہ السلام موجود تھے، جبرائیل علیہ السلام نے بتایا: یہ سیدنا ادریس علیہ السلام ہیں، آپ انہیں سلام کیجئے۔ میں نے انہیں سلام کیا، تو انہوں نے سلام کا جواب دیا اور پھر ارشاد فرمایا: نیک بھائی اور نیک نبی کو خوش آمدید۔ پھر جبرائیل علیہ السلام مجھے ساتھ لے کر پانچویں آسمان پر آئے۔ انہوں نے دروازہ کھولنے کے لئے کہا: تو دریافت کیا گیا: کون ہے؟ میں نے جواب دیا: جبرائیل، دریافت کیا گیا: آپ کے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، دریافت کیا گیا: کیا انہیں بلوایا گیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ تو یہ کہا: گیا: انہیں خوش آمدید! یہ کتنے اچھے آنے والے ہیں، جو تشریف لائے ہیں، پھر دروازہ کھول دیا گیا، جب میں وہاں پہنچا، تو وہاں سیدنا ہارون علیہ السلام موجود تھے۔ جبرائیل علیہ السلام نے بتایا: یہ سیدنا ہارون علیہ السلام ہیں۔ آپ انہیں سلام کیجئے۔ میں نے انہیں سلام کیا، تو انہوں نے سلام کا جواب دیا، پھر انہوں نے ارشاد فرمایا: بھائی اور نیک نبی کو خوش آمدید۔ پھر جبرائیل علیہ السلام مجھے ساتھ لے کر چھٹے آسمان پر آئے، انہوں نے دروازہ کھولنے کے لئے کہا: تو دریافت کیا گیا: کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جبرائیل۔ دریافت کیا گیا: آپ کے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ دریافت کیا گیا: کیا انہیں بلوایا گیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں، تو کہا: گیا: انہیں خوش آمدید! یہ کتنے اچھے تشریف لانے والے ہیں، جو تشریف لائے ہیں، پھر دروازہ کھول دیا گیا، جب میں وہاں پہنچا، تو وہاں سیدنا موسیٰ علیہ السلام موجود تھے، جبرائیل علیہ السلام نے کہا: یہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام ہیں۔ آپ انہیں سلام کیجئے میں نے انہیں سلام کیا، تو انہوں نے سلام کا جواب دیا، پھر انہوں نے ارشاد فرمایا: نیک بھائی اور نیک نبی کو خوش آمدید۔ جب میں وہاں سے آگے بڑھا تو وہ رونے لگے، ان سے دریافت کیا گیا: آپ کیوں رو رہے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا۔ میں اس لئے رو رہا ہوں کہ یہ نوجوان جو میرے بعد مبعوث ہوئے ہیں، ان کی اُمت کے افراد، میری امت کے مقابلے میں، زیادہ تعداد میں جنت میں داخل ہوں گے۔ پھر جبرائیل علیہ السلام مجھے ساتھ لے کر ساتویں آسمان کی طرف چڑھ گئے۔ انہوں نے دروازہ کھولنے کے لئے کہا:؟ تو دریافت کیا گیا: کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جبرائیل۔ دریافت کیا گیا: آپ کے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ دریافت کیا گیا: کیا انہیں بلوایا گیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا گیا: جی ہاں! پھر یہ کہا: گیا: انہیں خوش آمدید! یہ کتنے اچھے تشریف لانے والے ہیں، جو تشریف لاتے ہیں۔ پھر دروازہ کھول دیا گیا، جب میں وہاں پہنچا، تو وہاں سیدنا ابراہیم علیہ السلام موجود تھے۔ جبرائیل علیہ السلام نے بتایا: یہ آپ کے جد امجد سیدنا ابراہیم علیہ السلام ہیں آپ انہیں سلام کیجئے۔ میں نے انہیں سلام کیا۔ انہوں نے سلام کا جواب دیا، پھر ارشاد فرمایا: نیک بیٹے اور نیک نبی کو خوش آمدید۔ پھر مجھے سدرۃ المنتہی کی طرف بلند کیا گیا، تو اس کا پھل ”حجر“ کے مٹکوں جتنا بڑا تھا، اور اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کی مانند تھے۔ جبرائیل علیہ السلام نے یہ بتایا: یہ سدرۃ المنتہی ہے۔ وہاں چار نہریں موجود تھیں دو نہریں باطنی تھیں اور دو ظاہری تھیں۔ میں نے دریافت کیا: اے جبرائیل علیہ السلام یہ کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جہاں تک دو باطنی نہروں کا تعلق ہے، تو یہ جنت کی دو نہریں ہیں اور جہاں تک دو ظاہری نہروں کا تعلق ہے، تو یہ دریائے نیل اور دریائے فرات ہیں۔ پھر مجھے بیت المعمور کی طرف اٹھایا گیا۔ یہاں قتادہ نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے: حسن نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المعمور کو دیکھا ہے۔ اس میں روزانہ ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں اور وہ دوبارہ کبھی اس میں داخل نہیں ہوتے۔ اس کے بعد قتادہ واپس سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث کی طرف آ گئے، جس میں یہ الفاظ ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر میرے سامنے شراب کا ایک برتن، دودھ کا ایک برتن اور شہد کا ایک برتن لایا گیا، تو میں نے دودھ لے لیا، تو جبرائیل علیہ السلام نے کہا: یہ وہ فطرت ہے، جس پر آپ اور آپ کی امت گامزن رہیں گے، پھر مجھ پر پچاس نمازیں فرض کی گئیں۔ جب میں واپس آیا، تو میرا گزر سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے ہوا، تو انہوں نے دریافت کیا: آپ کو کس بات کا حکم دیا گیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: مجھے روزانہ پچاس نمازیں ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: آپ کی اُمت روزانہ پچاس نمازیں ادا نہیں کر سکے گی، میں آپ سے پہلے لوگوں کا تجربہ کر چکا ہوں اور میں نے بنی اسرائیل کا پورا تجربہ کیا ہے۔ آپ اپنے پروردگار کے پاس واپس جائیے اور اپنی اُمت کے لئے تخفیف کی درخواست کیجئے، میں واپس آیا (یہ درخواست کی) تواللہ تعالیٰ نے اس میں سے دس نمازیں معاف کر دیں۔ پھر میں واپس سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو انہوں نے اس کی مانند بات کہی۔ میں پھر واپس آیا تواللہ تعالیٰ نے (مزید) دس نمازیں معاف کر دیں۔ پھر میں واپس سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو انہوں نے اسی کی مانند بات کہی۔ میں پھر واپس آیا تواللہ تعالیٰ نے (مزید) دس نمازیں معاف کر دیں۔ پھر میں واپس سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو انہوں نے اسی کی مانند بات کہی۔ میں واپس گیا تو مجھے روانہ دس نمازیں ادا کرنے کا حکم ہوا۔ میں واپس سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو انہوں نے اسی کی مانند بات کہی۔ میں پھر واپس آیا تو مجھے روزانہ پانچ نمازیں ادا کرنے کا حکم ملا۔ میں واپس سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا انہوں نے دریافت کیا: آپ کو کس بات کا حکم دیا گیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: مجھے روزانہ پانچ نمازیں ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے، تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: آپ کی اُمت روزانہ پانچ نمازیں ادا نہیں کر سکے گی۔ میں آپ سے پہلے لوگوں کو آزما چکا ہوں اور بنی اسرائیل کا پورا تجربہ کر چکا ہوں۔ آپ اپنے پروردگار کے پاس واپس جائیے اور اپنی اُمت کے لئے مزید تخفیف کی درخواست کیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: میں نے کہا: میں نے اپنے پروردگار سے اتنی درخواست کی کہ اب مجھے حیا آتی ہے۔ میں راضی ہوں اور میں اسے تسلیم کرتا ہوں۔ جب میں وہاں سے آگے گزرا تو کسی پکارنے والے نے پکار کر کہا: میں نے اپنے فریضے کو برقرار رکھا اور اپنے بندوں پر تخفیف کر دی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإسراء/حدیث: 48]""

49

Sahih Ibn Hibban #49

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدَ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”معراج کی رات جب میرا گزر سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے ہوا، تو وہ اپنی قبر میں نماز ادا کر رہے تھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإسراء/حدیث: 49]""

50

Sahih Ibn Hibban #50

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ ، وَشَيْبَانُ ، قَالا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَرَرْتُ بِمُوسَى لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ عِنْدَ الْكَثِيبِ الأَحْمَرِ "قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الِلَّهِ جَلَّ وَعَلا قَادِرٌ عَلَى مَا يَشَاءُ ، رُبَّمَا يَعِدُ الشَّيْءَ لِوَقْتٍ مَعْلُومٍ ، ثُمَّ يَقْضِي كَوْنَ بَعْضِ ذَلِكَ الشَّيْءِ قَبْلُ مَجِيءِ ذَلِكَ الْوَقْتِ ، كَوَعْدِهِ إِحْيَاءَ الْمَوْتَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَجَعْلِهِ مَحْدُودًا ، ثُمَّ قَضَى كَوْنَ مِثْلِهِ فِي بَعْضِ الأَحْوَالِ ، مِثْلَ مَنْ ذَكَرَهُ الِلَّهِ وَجَعَلَهُ الِلَّهِ جَلَّ وَعَلا فِي كِتَابِهِ ، حَيْثُ يَقُولُ : أَوْ كَالَّذِي مَرَّ عَلَى قَرْيَةٍ وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَا قَالَ أَنَّى يُحْيِي هَذِهِ اللَّهُ بَعْدَ مَوْتِهَا فَأَمَاتَهُ اللَّهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ قَالَ لَبِثْتُ يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ قَالَ بَلْ لَبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ إِلَى آخِرِ الآيَةِ ، وَكَإِحْيَاءِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا لِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ بَعْضَ الأَمْوَاتِ ، فَلَمَّا صَحَّ وجودُ كَوْنِ هَذِهِ الْحَالَةِ فِي الْبَشَرِ ، أَرَادَهُ الِلَّهِ جَلَّ وَعَلا قَبْلُ يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، لَمْ يُنْكَرْ أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا أَحْيَا مُوسَى فِي قَبْرِهِ حَتَّى مَرَّ عَلَيْهِ الْمُصْطَفَى صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ ، وَذَاكَ أَنَّ قَبْرَ مُوسَى بِمُدَّيْنِ بَيْنَ الْمَدِينَةِ وَبَيْنَ بَيْتِ الْمَقَدْسِ ، فَرَآهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو فِي قَبْرِهِ إِذِ الصَّلاةُ دُعَاءٌ ، فَلَمَّا دَخَلَ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَ الْمَقَدْسِ وَأُسْرِيَ بِهِ ، أُسْرِيَ بِمُوسَى حَتَّى رَآهُ فِي السَّمَاءِ السَّادِسَةِ ، وَجَرَى بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ مِنَ الْكَلامِ مَا تَقَدْمَ ذِكْرُنَا لَهُ ، وَكَذَلِكَ رُؤْيَتُهُ سَائِرَ الأَنْبِيَاءِ الَّذِينَ فِي خَبَرِ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ ، فَأَمَّا قَوْلُهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَبَرِ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ : " بَيْنَمَا أَنَا فِي الْحَطِيمِ إِذْ أَتَانِي آتٍ ، فَشَقَّ مَا بَيْنَ هَذِهِ إِلَى هَذِهِ " ، فَكَانَ ذَلِكَ لَهُ فَضِيلَةٌ فُضِّلَ بِهَا عَلَى غَيْرِهِ ، وَأَنَّهُ مِنْ مُعْجِزَاتِ النُّبُوَّةِ ، إِذِ الْبَشَرُ شُقَّ عَنْ مَوْضِعِ الْقَلْبِ مِنْهُمْ ، ثُمَّ اسْتُخْرِجَ قُلُوبُهُمْ مَاتَوا ، وَقَوْلُهُ : " ثُمَّ حُشِيَ " يُرِيدُ : أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا حَشَا قَلْبَهُ الْيَقِينَ وَالْمَعْرِفَةَ ، الَّذِي كَانَ اسْتِقْرَارُهُ فِي طَسْتِ الذَّهَبِ ، فَنُقِلَ إِلَى قَلْبِهِ ، ثُمَّ أُتِيَ بِدَابَّةٍ يُقَالُ لَهَا : الْبُرَاقُ ، فَحُمِلَ عَلَيْهِ مِنَ الْحَطِيمِ أَوِ الْحِجْرِ ، وَهُمَا جَمِيعًا فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ، فَانْطَلَقَ بِهِ جِبْرِيلُ حَتَّى أَتَى بِهِ عَلَى قَبْرِ مُوسَى عَلَى حَسَبِ مَا وَصَفْنَاهُ ، ثُمَّ دَخَلَ مَسْجِدَ بَيْتِ الْمَقَدْسِ ، فَخَرَقَ جِبْرِيلُ الصَّخْرَةَ بِإِصْبَعِهِ ، وَشَدَّ بِهَا الْبُرَاقَ ، ثُمَّ صَعِدَ بِهِ إِلَى السَّمَاءِ ، ذِكْرُ شَدِّ الْبُرَاقِ بِالصَّخْرَةِ فِي خَبَرِ بُرَيْدَةَ ، وَرُؤْيَتِهِ مُوسَى صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ لَيْسَا جَمِيعًا فِي خَبَرِ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ ، فَلَمَّا صَعِدَ بِهِ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا ، اسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ ، قِيلَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : جِبْرِيلُ ، قِيلَ : وَمَنْ مَعَكَ ؟ قَالَ : مُحَمَّدٌ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قِيلَ : وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ ؟ يُرِيدُ بِهِ : وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ لِيُسْرَى بِهِ إِلَى السَّمَاءِ ، لا أَنَّهُمْ لَمْ يَعْلَمُوا بِرِسَالَتِهِ إِلَى ذَلِكَ الْوَقْتِ ، لأَنَّ الإِسْرَاءَ كَانَ بَعْدَ نُزُولِ الْوَحْيِ بِسَبْعِ سِنِينَ ، فَلَمَّا فُتِحَ لَهُ فَرَأَى آدَمَ عَلَى حَسَبِ مَا وَصَفْنَا قَبْلُ ، وَكَذَلِكَ رُؤْيَتُهُ فِي السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ يَحْيَى بْنَ زَكَرِيَّا ، وَعِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ ، وَفِي السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ يُوسُفَ بْنَ يَعْقُوبَ ، وَفِي السَّمَاءِ الرَّابِعَةِ إِدْرِيسَ ، ثُمَّ فِي السَّمَاءِ الْخَامِسَةِ هَارُونَ ، ثُمَّ فِي السَّمَاءِ السَّادِسَةِ مُوسَى ، ثُمَّ فِي السَّمَاءِ السَّابِعَةِ إِبْرَاهِيَمَ ، إِذْ جَائِزٌ أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا أَحْيَاهُمْ لأَنْ يَرَاهُمُ الْمُصْطَفَى صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ ، فَيَكُونُ ذَلِكَ آيَةً مُعْجِزَةً يُسْتَدَلُّ بِهَا عَلَى نُبُوَّتِهِ عَلَى حَسَبِ مَا أَصَّلْنَا قَبْلُ ، ثُمَّ رُفِعَ لَهُ سِدْرَةُ الْمُنْتَهَى ، فَرَآهَا عَلَى الْحَالَةِ الَّتِي وَصَفَ ، ثُمَّ فُرِضَ عَلَيْهِ خَمْسُونَ صَلاةً ، وَهَذَا أَمْرُ ابْتِلاءٍ أَرَادَ الِلَّهِ جَلَّ وَعَلا ابْتِلاءَ صَفِيِّهِ مُحَمَّدٍ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ فَرَضَ عَلَيْهِ خَمْسِينَ صَلاةً ، إِذْ كَانَ فِي عِلْمِ اللَّهِ السَّابِقِ أَنَّهُ لا يَفْرِضُ عَلَى أُمَّتِهِ إِلا خَمْسَ صَلَوَاتٍ فَقَطْ ، فَأَمَرَهُ بِخَمْسِينَ صَلاةً أَمْرَ ابْتِلاءٍ ، وَهَذَا كَمَا نَقُولُ : إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا قَدْ يَأْمُرُ بِالأَمْرِ يُرِيدُ أَنْ يَأْتِيَ الْمَأْمُورُ بِهِ إِلَى أَمْرِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُرِيدَ وُجُودَ كَوْنِهِ ، كَمَا أَمَرَ الِلَّهِ جَلَّ وَعَلا خَلِيلَهُ إِبْرَاهِيَمَ بِذَبْحِ ابْنِهِ ، أَمَرَهُ بِهَذَا الأَمْرِ أَرَادَ بِهِ الانْتِهَاءَ إِلَى أَمْرِهِ دُونَ وُجُودِ كَوْنِهِ ، فَلَمَّا أَسْلَمَا ، وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ ، فَدَاهُ بِالذِّبْحِ الْعَظِيمِ ، إِذْ لَوْ أَرَادَ الِلَّهِ جَلَّ وَعَلا كَوْنَ مَا أَمَرَ ، لَوَجَدَ ابْنَهُ مَذْبُوحًا ، فَكَذَلِكَ فَرَضَ الصَّلاةَ خَمْسِينَ أَرَادَ بِهِ الانْتِهَاءَ إِلَى أَمْرِهِ دُونَ وُجُودِ كَوْنِهِ ، فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى مُوسَى ، وَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ أُمِرَ بِخَمْسِينَ صَلاةً كُلَّ يَوْمٍ ، أَلْهُمُ الِلَّهِ مُوسَى أَنْ يَسْأَلَ مُحَمَّدًا صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِمَا وَسَلَّمَ بِسُؤَالِ رَبِّهِ التَّخْفِيفَ لأُمَّتِهِ ، فَجَعَلَ جَلَّ وَعَلا قَوْلَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ لَهُ سَبَبًا لِبَيَانِ الْوُجُودِ لِصِحَّةِ مَا قُلْنَا : إِنَّ الْفَرْضَ مِنَ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ أَرَادَ إِتْيَانَهُ خَمْسًا لا خَمْسِينَ ، فَرَجَعَ إِلَى اللَّهِ جَلَّ وَعَلا فَسَأَلَهُ ، فَوَضَعَ عَنْهُ عَشْرًا ، وَهَذَا أَيْضًا أَمْرُ ابْتِلاءٍ أُرِيدَ بِهِ الانْتِهَاءُ إِلَيْهِ دُونَ وُجُودِ كَوْنِهِ ، ثُمَّ جَعَلَ سُؤَالَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ إِيَّاهُ سَبَبًا لِنَفَاذِ قَضَاءِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا فِي سَابِقِ عِلْمِهِ ، أَنَّ الصَّلاةَ تُفْرَضَ عَلَى هَذِهِ الأُمَّةِ خَمْسًا لا خَمْسِينَ ، حَتَّى رَجَعَ فِي التَّخْفِيفِ إِلَى خَمْسِ صَلَوَاتٍ ، ثُمَّ أَلْهُمُ الِلَّهِ جَلَّ وَعَلا صَفِيَّهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَئِذٍ حَتَّى قَالَ لِمُوسَى : " قَدْ سَأَلْتُ رَبِّي حَتَّى اسْتَحْيَيْتُ ، لَكِنِّي أَرْضَى وَأُسَلِّمُ " ، فَلَمَّا جَاوَزَ نَادَاهُ مُنَادٍ : أَمْضَيْتُ فَرِيضَتِي ، أَرَادَ بِهِ الْخَمْسَ صَلَوَاتٍ ، وَخَفَّفْتُ عَنْ عِبَادِي ، يُرِيدُ : عَنْ عِبَادِي مِنْ أَمْرِ الابْتِلاءِ الَّذِي أَمَرْتُهُمْ بِهِ مِنْ خَمْسِينَ صَلاةٍ الَّتِي ذَكَرْنَاهَا ، وَجُمْلَةُ هَذِهِ الأَشْيَاءِ فِي الإِسْرَاءِ رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِسْمِهِ عِيَانًا دُونَ أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ رُؤْيَا أَوْ تَصْوِيرًا صُوِّرَ لَهُ ، إِذْ لَوْ كَانَ لَيْلَةَ الإِسْرَاءِ وَمَا رَأَى فِيهَا نَوْمًا دُونَ الْيَقَظَةِ ، لاسْتَحَالَ ذَلِكَ ، لأَنَّ الْبَشَرَ قَدْ يَرَوْنَ فِي الْمَنَامِ السَّمَاوَاتِ وَالْمَلائِكَةَ وَالأَنْبِيَاءَ وَالْجَنَّةَ وَالنَّارَ وَمَا أَشْبَهَ هَذِهِ الأَشْيَاءَ ، فَلَوْ كَانَ رُؤْيَةُ الْمُصْطَفَى صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا وَصَفَفِي لَيْلَةِ الإِسْرَاءِ فِي النَّوْمِ دُونَ الْيَقَظَةِ ، لَكَانَتْ هَذِهِ حَالَةٌ يَسْتَوِي فِيهَا مَعَهُ الْبَشَرُ ، إِذْ هُمْ يَرَوْنَ فِي مَنَامَاتَهُمْ مِثْلَهَا ، وَاسْتَحَالَ فَضْلُهُ ، وَلَمْ تَكُنْ تِلْكَ حَالَةً مُعْجِزَةً يُفَضَّلُ بِهَا عَلَى غَيْرِهِ ، ضِدَّ قَوْلِ مَنْ أَبْطَلَ هَذِهِ الأَخْبَارَ ، وَأَنْكَرَ قَدْرَةَ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا وَإِمْضَاءَ حُكْمِهِ لِمَا يُحِبُّ كَمَا يُحِبُّ ، جَلَّ رَبُّنَا وَتَعَالَى عَنْ مِثْلِ هَذَا وَأَشْبَاهِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”معراج کی رات میرا گزر سیدنا موسیٰ علیہ السلام (کی قبر) کے پاس سے ہوا، تو وہ سرخ ٹیلے کے پاس اپنی قبر میں کھڑے ہو کر نماز ادا کر رہے تھے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:)اللہ تعالیٰ جو چاہے اس پر قدرت رکھتا ہے۔ بعض اوقات وہ کسی چیز کے بارے میں کسی متعین وقت کا وعدہ کر لیتا ہے پھر وہ یہ فیصلہ دیتا ہے کہ اس چیز کا کچھ حصہ اس مخصوص وقت کے آنے سے پہلے رونما ہو جائے۔ جس طرح اس نے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ قیامت کے دن مردوں کو زندہ کرے گا، اور اس نے اس کے لئے ایک حد مقرر کی ہے۔ پھر اس نے یہ فیصلہ دیا کہ بعض حالتوں میں اس کی مانند صورتحال ہو سکتی ہے۔ اس طرحاللہ تعالیٰ نے اس بات کا ذکر کیا ہے، اور اپنی کتاب میں یہ بات بیان کی ہے، وہ فرماتا ہے: ”یا پھر اس شخص کی مانند جو اس بستی کے پاس سے گزرا، جو ویران ہو چکی تھی، تو اس نے کہا:اللہ تعالیٰ اس کے مر جانے کے بعد اسے کیسے زندہ کرے گا، تواللہ تعالیٰ نے اسے ایک سو سال کے لئے موت دے دی پھر اس نے اسے زندہ کیا اور دریافت کیا تم کتنے عرصے تک (سوئے رہے) اس نے جواب دیا: میں نے ایک دن یا ایک دن کا کچھ حصہ گزارا ہے، تو فرمایا: نہیں بلکہ تم نے ایک سو سال گزار دیے ہیں۔“ یہ آیت کے آخر تک ہے یا جس طرحاللہ تعالیٰ نے سیدنا عیسی بن مریم علیہ السلام کے لئے بعض مردوں کو زندہ کر دیا تھا۔ تو جب بشر میں اس طرح کی حالت کا موجود ہونا صیح ہو، جباللہ تعالیٰ قیامت سے پہلے اس چیز کا ارادہ کرے، تو اب اس بات کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہاللہ تعالیٰ نے سیدنا موسی علیہ السلام کو ان کی قبر میں زندہ کیا یہاں تک کہ معراج کی رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے۔ اس کی وجہ یہ ہے، سیدنا موسی علیہ السلام کی قبر مدینہ منورہ اور بیت المقدس کے درمیان ہے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی قبر میں دعا مانگتے ہوئے دیکھا، کیونکہ ”الصلوۃ“ سے مراد دعا مانگنا ہے تو جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بيت المقدس میں معراج کی رات داخل ہوئے، تو اسی رات سیدنا موسی علیہ السلام کو بھی سفر کروایا گیا یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا موسی علیہ السلام کو چھٹے آسمان پر دیکھا ان کے اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے درمیان بات چیت بھی ہوئی جسے ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں۔ اسی طرح سیدنا مالک بن صعصہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں بھی جن تمام انبیاء کو دیکھنے کا تذکرہ ہے (اس سے بھی یہی مراد ہو گا)۔ جہاں تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا تعلق ہے جو سیدنا مالک بن صعصہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں ہے۔ ”ایک مرتبہ میں حطیم میں موجود تھا اس دوران ایک شخص میرے پاس آیا اس نے یہاں سے لے کر یہاں تک چیر دیا۔“ تو یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ایسی فضیلت ہے، جس کے حوالے سے آپ کو تمام دیگر لوگوں پر فضیلت دی گئی ہے، اور یہ نبوت کے معجزات میں سے ہے۔ کیونکہ جب کسی انسان کے دل کی جگہ کو چیر دیا جائے، اور اگر لوگوں کے دل کو نکال دیا جائے، تو وہ مر جاتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”پھر اسے سی دیا گیا“ اس سے مراد یہ ہے:اللہ تعالیٰ نے آپ کے دل کو یقین اور معرفت کے ساتھ سی دیا۔، جو سونے کے طشت میں موجود تھے اور انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب مبارک کی طرف منتقل کیا گیا۔ پھر ایک جانور لایا گیا جس کا نام براق تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ”حطیم“ یا ”حجر“ سے اس پر سوار کیا گیا یہ دونوں جگہیں مسجد حرام میں موجود نہیں۔ تو جبرائیل علیہ السلام آپ کو ساتھ لے کر آئے یہاں تک کہ وہ سیدنا موسی علیہ السلام کی قبر کے پاس سے گزرے جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد بیت المقدس میں داخل ہوئے، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے اپنی انگلی کے ذریعے اس پتھر کے (سوراخ کو کھول دیا) اور براق کو اس کے ساتھ باندھ دیا پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لے کر آسمان کی طرف بلند ہو گئے۔ بریدہ کے حوالے سے منقول روایت میں پتھر کے ساتھ براق کو باندھنے کا تذکرہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا موسی علیہ السلام کو اپنی قبر میں نماز ادا کرتے ہوئے دیکھنے کا تذکرہ، یہ دونوں چیزیں سیدنا مالک بن صعصہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں نہیں ہیں۔ پھر جب سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لے کر آسمان دنیا کی طرف بلند ہوئے، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے دروازہ کھولنے کے لئے کہا: تو دریافت کیا گیا: کون ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: جبرائیل۔ دریافت کیا گیا آپ کے ساتھ کون ہے۔ انہوں نے جواب دیا: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم دریافت کیا گیا کیا انہیں بلایا گیا ہے اس سے مراد یہ ہے: کیا انہیں یہ پیغام بھجوایا گیا ہے؟ تاکہ انہیں آسمان کی سیر کروائی جائے۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ وہ لوگ اس وقت تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت سے واقف نہیں تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے: واقعہ معراج، وحی کے نزول کے سات سال بعد پیش آیا تھا۔ جب دروازہ کھول دیا گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا آدم علیہ السلام کو دیکھا جس کا ذکر ہم پہلے کر چکے ہیں۔ اسی طرح آپ کا دوسرے آسمان میں سیدنا یحیی بن زکریا علیہ السلام یا اور سیدنا عیسی بن مریم علیہ السلام کو دیکھنا۔ تیسرے آسمان میں سیدنا یوسف بن یعقوب علیہ السلام کو دیکھنا۔ چوتھے آسمان میں سیدنا ادریس علیہ السلام کو، پانچویں آسمان میں سیدنا ہارون علیہ السلام کو، چھٹے آسمان میں سیدنا موسی علیہ السلام کو، ساتویں آسمان میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو دیکھنا یہ سب روایات میں مذکور ہے۔ ممکن ہے کہاللہ تعالیٰ نے ان حضرات کو زندہ کیا ہو، تاکہ مصطفی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس رات میں ان لوگوں کو دیکھ لیں اور یہ چیز ایک معجزے والی نشانی بن جائے جس کے ذریعے آپ کی نبوت پر استدلال کیا جائے جس کا اصول ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سدرۃ المنتہی تک بلند کیا گیا، تو آپ نے اس کو اس حالت میں دیکھا جس کا ذکر آپ نے کیا ہے۔ پھر آپ پر پچاس نمازیں فرض ہوئیں۔ یہ ایک حکم تھا، جو آزمائش میں مبتلا کرنے کے حوالے سے ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک آزمائش میں مبتلا کیا کہ آپ پر پچاس نمازیں فرض کی گئیں، کیونکہاللہ تعالیٰ کے علم سابق میں یہ بات موجود تھی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر صرف پانچ نمازیں فرض کرے گا، لیکن اس نے آپ کو آزمائش کے حکم کے طور پر پچاس نمازوں کا حکم دیا۔ بالکل اسی طرح جس طرح ہم یہ کہتے ہیں:اللہ تعالیٰ ایک حکم دیتا ہے اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ اس مامور بہ کام کو بجا لایا جائے۔ اس سے یہ مراد نہیں ہوتی کہ وہ موجود بھی ہو گا، جس طرحاللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم دیا، تو انہیں اس بات کا حکم دیا گیا تھا۔ اس سے مراد اس کی انتہا تھی کہ اس کے حکم کی پیروی کی جائے اس سے یہ مراد نہیں تھا کہ حقیقی طور پر بھی ایسا ہی ہو جائے گا۔ تو جب ان دونوں نے اس حکم کو قبول کیا اور سیدنا اسماعیل علیہ السلام نے اپنی پیشانی رکھ دی، تواللہ تعالیٰ نے اس کے فدیے کے طور پر ایک عظیم ذبیحہ دے دیا۔ کیونکہ اگراللہ تعالیٰ اس چیز کے ہونے کا ارادہ کرے جس کا اس نے حکم دیا ہے، تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے کو ذبح شدہ پاتے۔ اسی طرح پچاس نمازیں فرض کرنے کا حکم ہے کہ اس کے ذریعے حکم کی طرف رجوع کرنا مراد ہے اس کا موجود ہونا مراد نہیں ہے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا موسی علیہ السلام کے پاس واپس تشریف لائے اور انہیں اس بارے میں بتایا کہ آپ پر روزانہ پچاس نمازیں پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے، تواللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو یہ الہام کیا کہ وہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ درخواست کریں کہ وہ اپنے پروردگار سے اپنی امت کے لیے تخفیف کی درخواست کریں، تواللہ تعالیٰ نے سیدنا موسی علیہ السلام کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہی گئی بات کو اس چیز کا سبب قرار دیا۔ تو اس سے ہماری کہی ہوئی یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہاللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ پچاس نمازیں فرض کرنے کا ارادہ نہیں کیا تھا۔ پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپساللہ تعالیٰ کے پاس گئے اوراللہ تعالیٰ سے یہ درخواست کی، تواللہ تعالیٰ نے دس نمازیں معاف کر دیں، تو یہ حکم بھی آزمائش کا حکم تھا، جس کے ذریعے مراد یہ تھی کہاللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف رجوع کیا جائے، اس سے یہ مراد نہیں تھی کہ یہ عملی طور پر موجود بھی ہو گا۔ پھر سیدنا موسی علیہ السلام کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرنا اس بات کا سبب بنا کہاللہ تعالیٰ کے فیصلے کو نافذ کیا جائے وہ فیصلہ جو اس کے علم میں پہلے سے تھا کہ نمازیں اس امت پر پانچ فرض ہوں گی۔ پچاس نمازیں فرض نہیں ہوں گی، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پانچ نمازوں کی تخفیف کا حکم لے کر واپس تشریف لائے۔ تواللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں یہ بات ڈال دی۔ یہاں تک کہ انہوں نے سیدنا موسی علیہ السلام سے کہا: میں نے اپنے پروردگار سے اتنی مرتبہ سوال کیا ہے: اب مجھے حیا آتی ہے۔ اب میں راضی ہوں اور اب میں تسلیم کرتا ہوں جب آپ آگے بڑھ گئے، تو ایک منادی نے یہ اعلان کیا۔ میں نے اپنے فریضے کو جاری کر دیا ہے، اس سے مراد پانچ نمازیں تھیں۔ اور میں نے اپنے بندوں پر تخفیف کر دی ہے اس سے مراد یہ ہے: میں نے اپنے بندوں سے آزمائش کے حکم کے حوالے سے تخفیف کر دی ہے، جو میں نے انہیں یہ حکم دیا تھا کہ ان پر پچاس نمازیں فرض ہوں گی، جس کا ذکر ہم پہلے کر چکے ہیں، تو یہ تمام صورتیں معراج کی رات پیش آئیں، جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جسم کے ساتھ دیکھا۔ یہ کوئی خواب یا تصویر نہیں تھی، جو آپ کے سامنے پیش کی گئی ہو۔ کیونکہ اگر معراج کی رات اور اس دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ دیکھا یہ نیند کی حالت میں ہوتا، بیداری کی حالت میں نہ ہوتا، تو یہ بات ناممکن ہے، (کہ اسے معجزہ قرار دیا جائے) کیونکہ لوگ خواب میں آسمان، فرشتے، انبیاء، جنت، جہنم اور ان جیسی چیزوں کو دیکھ لیتے ہیں۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر یہ سب چیزیں خواب میں دیکھی ہوتیں بیداری کے عالم میں نہ دیکھی ہوتیں، تو اس حالت کے حوالے سے دوسرے لوگ بھی آپ کے ساتھ برابر کی حیثیت رکھتے۔ اور وہ بھی اس طرح کی چیزیں اپنے خواب میں دیکھ سکتے ہیں، تو اب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کا اظہار ممکن نہیں ہوتا۔ اور یہ حالت معجزہ شمار نہ ہوتی جس کے حوالے سے آپ کو دوسرے لوگوں پر فضیلت دی گئی ہے یہ بات اس شخص کے موقف کے خلاف ہے، جس نے ان روایات کو غلط قرار دیا ہے اس نےاللہ تعالیٰ کی قدرت کا انکار کیا ہے، اوراللہ تعالیٰ کے اپنے فیصلے کو نافذ کرنے کا انکار کیا ہے کہ وہ جس طرح چاہے، جو چاہے کر سکتا ہے۔ ہمارا پروردگار اس جیسی اور اس کے ساتھ مشابہت رکھنے والی چیزوں سے بلند و بالا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإسراء/حدیث: 50]""

51

Sahih Ibn Hibban #51

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي لَقِيتُ مُوسَى رَجِلَ الرَّأْسِ ، كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ ، وَلَقِيتُ عِيسَى ، فَرَجُلٌ أَحْمَرُ ، كَأَنَّهُ خَرَجَ مِنْ دِيمَاسٍ يَعْنِي مِنْ حَمَّامٍ وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيَمَ وَأَنَا أَشْبَهُ وَلَدِهِ بِهِ ، فَأُتِيتُ بِآنَاءَيْنِ : أَحَدُهُمَا خَمْرٌ ، وَالآخَرُ لَبَنٌ ، فَقِيلَ لِي : خُذْ أَيَّهُمَا شَئْتَ ، فَأَخَذْتُ اللَّبَنَ ، فَقِيلَ لِي : هُدِيتَ الْفطْرَةِ ، أَمَا إِنَّكَ لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جس رات مجھے معراج کروائی گئی، میری ملاقات سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے ہوئی، وہ ایک ایسے فرد تھے، جن کے بال گھنگھریالے نہیں تھے۔ یوں لگتا تھا، جیسے ان کا تعلق شنوءہ قبیلے سے ہو (یعنی وہ لمبے قد کے آدمی تھے) میری ملاقات سیدنا عیسی علیہ السلام سے ہوئی، تو وہ سرخ رنگ کے مالک شخص تھے، یوں جیسے وہ ابھی حمام سے باہر آئے ہوں یعنی ان کا جسم اور بال وغیرہ بھیگے ہوئے تھے) میں نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا تو ان کی اولاد میں، میں سب سے زیادہ ان سے مشابہت رکھتا ہوں۔ میرے پاس دو برتن لائے گئے، جن میں ایک میں شراب تھی اور دوسرے میں دودھ تھا۔ مجھے کہا: گیا: آپ ان دونوں میں سے جسے چاہے پی لیں، میں نے دودھ کو لے لیا، تو مجھ سے کہا: گیا: آپ کی فطرت کی طرف رہنمائی کی گئی ہے۔ اگر آپ شراب لے لیتے، تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإسراء/حدیث: 51]""

52

Sahih Ibn Hibban #52

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ بِحِمْصَ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمَذْحِجِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيرَةَ ، يَقُولُ : أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ بِقَدْحَيْنِ مِنْ خَمْرٍ وَلَبَنٍ ، فَنَظَرَ إِلَيْهُمَا ، ثُمَّ أَخَذَ اللَّبَنَ ، فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ : هُدِيتَ الْفطْرَةِ ، وَلَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جس رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کروائی گئی، اس رات آپ کی خدمت میں شراب اور دودھ کے دو پیالے پیش کئے گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کی طرف دیکھا، پھر آپ نے دودھ لے لیا، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے آپ سے کہا: آپ کی فطرت کی طرف رہنمائی کی گئی ہے، اگر آپ شراب لے لیتے، تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإسراء/حدیث: 52]

53

Sahih Ibn Hibban #53

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ خَتَنُ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي رِجَالا تُقْرَضُ شِفَاهُهُمْ بِمَقَارِضَ مِنْ نَارٍ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَؤُلاءِ يَا جِبْرِيلُ ؟ " ، فَقَالَ : الْخُطَبَاءُ مِنْ أُمَّتِكَ ، يَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَيَنْسَوْنَ أَنْفُسَهُمْ ، وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَابَ أَفَلا يَعْقِلُونَقَالَ الشَّيْخُ : رَوَى هَذَا الْخَبَرَ أَبُو عَتَّابٍ الدَّلالُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ ثُمَامَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَوَهُمْ فِيهِ لأَنَّ يَزِيدَ بْنَ زُرَيْعٍ أَتْقَنُ مِنْ مِائَتَيْنِ مِنْ مِثْلِ أَبِي عَتَّابٍ وَذَوِيهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جس رات مجھے معراج کروائی گئی اس رات میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ آگ کی قینچیوں کے ذریعے ان کے ہونٹ کاٹے جا رہے ہیں۔ میں نے دریافت کیا: اے جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: یہ آپ کی اُمت کے خطیب ہیں، جو لوگوں کو نیکی کی دعوت دیتے تھے اور خود کو بھول جاتے تھے، حالانکہ وہ لوگ کتاب کی تلاوت کرتے تھے، تو کیا یہ لوگ عقل نہیں رکھتے تھے؟ شیخ فرماتے ہیں: یہ روایت ابوعتاب نے ہشام کے حوالے سے مغیرہ کے حوالے سے مالک بن دینار کے حوالے سے ثمامہ کے حوالے سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے، اور انہیں اس میں وہم ہوا ہے، کیونکہ یزید بن زریع نامی راوی ابوعتاب جیسے دو سو آدمیوں سے زیادہ ”متقن“ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإسراء/حدیث: 53]""

54

Sahih Ibn Hibban #54

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : دَخَلْتُ الْجَنَّةَ ، فَأَنَا بِقَصْرٍ مِنْ ذَهَبٍ ، فَقُلْتُ : لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ ؟ " فَقَالُوا : لِفَتًى مِنْ قُرَيْشٍ ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ لِي ، قُلْتُ : " مَنْ هُوَ ؟ " قِيلَ : عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَا أَبَا حَفْصٍ لَوْلا مَا أَعْلَمُ مِنْ غَيْرَتِكَ لَدَخَلْتُهُ " ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ كُنْتُ أَغَارُ عَلَيْهِ ، فَإِنِّي لَمْ أَكُنْ أَغَارُ عَلَيْكَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”میں جنت میں داخل ہوا، وہاں سونے سے بنا ہوا ایک محل تھا۔ میں نے دریافت کیا: یہ محل کس کا ہے؟ فرشتوں نے بتایا: قریش سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کا ہے۔ میں نے سمجھا کہ شاید یہ میرا ہے، میں نے دریافت کیا: یہ کس کا ہے؟ تو بتایا گیا: یہ عمر بن خطاب کا ہے۔“ (پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا:) اے ابوحفص! مجھے تمہارے مزاج کی تیزی کا خیال نہ ہوتا، تو میں اس کے اندر چلا جاتا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں جس شخص پر بھی غصہ کر لوں لیکن آپ پر غصہ نہیں کر سکتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإسراء/حدیث: 54]""

55

Sahih Ibn Hibban #55

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لَمَّا كَذَّبَتْنِي قُرَيْشٌ ، قُمْتُ فِي الْحِجْرِ ، فَجَلَّى الِلَّهِ لِي بَيْتَ الْمَقَدْسِ ، فَطَفِقْتُ أُخْبِرُهُمْ عَنْ آيَاتِهِ وَأَنَا أَنْظُرُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: جب قریش نے مجھے جھٹلایا تو میں حطیم میں کھڑا ہو گیا۔اللہ تعالیٰ نے میرے سامنے بیت المقدس کو ظاہر کر دیا، تو میں ان لوگوں کو اس کی نشانیاں اسے دیکھ، دیکھ کر بیان کرنے لگا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإسراء/حدیث: 55]""

56

Sahih Ibn Hibban #56

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ ، أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ الطَّائِيُّ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلا فِتْنَةً لِلنَّاسِ ، قَالَ : هِيَ رُؤْيَا عَيْنٍ أُرِيَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہاللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں: ارشاد باری تعالیٰ ہے) ”ہم نے جو خواب تمہیں دکھائے ہیں، ہم نے انہیں لوگوں کے لئے آزمائش بنایا ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: یہ وہ خواب ہیں، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس رات دکھائے گئے، جب آپ کو معراج کروائی گئی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإسراء/حدیث: 56]""

57

Sahih Ibn Hibban #57

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْمُعَدَّلُ بِوَاسِطَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَدْرَأَى مُحَمَّدٌ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبَّهُ "قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : مَعْنَى قَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ : قَدْ رَأَى مُحَمَّدٌ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبَّهُ ، أَرَادَ بِهِ بِقَلْبِهِ فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي لَمْ يَصْعَدْهُ أَحَدٌ مِنَ الْبَشَرِ ارْتِفَاعًا فِي الشَّرَفِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پروردگار کو دیکھا ہے۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے یہ الفاظ: ”سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پروردگار کو دیکھا ہے۔“ اس سے مراد یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قلب کے ذریعے پروردگار کو ایسے مقام پر دیکھا جہاں تک کسی بشر کی رسائی نہیں ہو سکتی، کیونکہ وہ مقام و مرتبہ بہت بلند ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإسراء/حدیث: 57]""

58

Sahih Ibn Hibban #58

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذْ بْنُ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ ، قَالَ : قُلْتُ لأَبِي ذَرٍّ : لَوْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَسَأَلْتُهُ عَنْ كُلِّ شَيْءٍ ، فَقَالَ : عَنْ أَيِّ شَيْءٍ كُنْتَ تَسْأَلُهُ ؟ قَالَ : كُنْتُ أَسْأَلُهُ :هَلْ رَأَيْتَ رَبَّكَ ؟ فَقَالَ : سَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : رَأَيْتُ نُورًا "قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : مَعْنَاهُ أَنَّهُ لَمْ يَرَ رَبَّهُ ، وَلَكِنْ رَأَى نُورًا عُلْوِيًّا مِنَ الأَنْوَارِ الْمَخْلُوقَةِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالله بن شقیق عقیلی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کرتا تو آپ سے ہر چیز کے بارے میں دریافت کرتا، تو انہوں نے دریافت کیا: تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کرنا تھا؟ تو عبداللہ نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دریافت کرنا تھا کہ کیا آپ نے اپنے پروردگار کو دیکھا ہے؟ تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا میں نے ایک نور کو دیکھا ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس سے مراد یہ ہے کہ آپ نے اپنے پروردگار کو نہیں دیکھا بلکہ آپ نے وہ انوار جو مخلوق ہیں، ان میں سے ”علوی نور“ (یعنی جو مخلوقات سے بلند تر انوار ہیں) اسے دیکھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإسراء/حدیث: 58]""

59

Sahih Ibn Hibban #59

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ذَرِيحٍ بِعَكْبَرَا حَدَّثَنَا مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى ، قَالَ : رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلَ فِي حُلَّةٍ مِنْ يَاقُوتٍ ، قَدْ مَلأَ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ "قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَدْ أَمَرَ الِلَّهِ تَعَالَى جِبْرِيلَ لَيْلَةَ الإِسْرَاءِ أَنْ يُعَلِّمَ مُحَمَّدًا صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَجِبُ أَنْ يَعْلَمَهُ كَمَا قَالَ : عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَى ، ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَى ، وَهُوَ بِالأُفُقِ الأَعْلَى يُرِيدُ بِهِ جِبْرِيلَ ثُمَّ دَنَا ، فَتَدَلَّى يُرِيدُ بِهِ جِبْرِيلَ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى يُرِيدُ بِهِ جِبْرِيلَ ، فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى بِجِبْرِيلَ مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى يُرِيدُ بِهِ رَبَّهُ بِقَلْبِهِ فِي ذَلِكَ الْمَوْضِعِ الشَّرِيفِ ، وَرَأَى جِبْرِيلَ فِي حُلَّةٍ مِنْ يَاقُوتٍ ، قَدْ مَلأَ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ عَلَى مَا فِي خَبَرِ ابْنِ مَسْعُودٍ الَّذِي ذَكَرْنَاهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہاللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں: (ارشاد باری تعالیٰ ہے): ”اس نے جو دیکھا، اس کے دل نے اسے جھٹلایا نہیں۔“ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جبرائیل علیہ السلام کو یاقوت سے بنے ہوئے حلے میں دیکھا تھا، اس وقت سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے آسمان اور زمین کی درمیانی جگہ کو بھر دیا تھا۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) معراج کی راتاللہ تعالیٰ نے سیدنا جبرائیل کو یہ حکم دیا کہ وہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان چیزوں کے بارے میں بتائیں جن کا جاننا آپ کے لئے ضروری ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”شدید قوت والے نے اُسے تعلیم دی، جو زبردست ہے، پھر اس نے استواء کیا اور وہ (اس وقت) افق اعلیٰ میں تھا۔“ اس سے مراد سیدنا جبرائیل ہیں۔ (ارشاد باری تعالیٰ ہے:) ”پھر وہ قریب ہوا اور زیادہ قریب ہوا۔“ اس سے مراد سیدنا جبرائیل ہیں۔ (ارشاد باری تعالیٰ ہے:) ”تو وہ دو کمانوں کے کناروں کی مانند یا اس سے بھی زیادہ قریب ہو گیا۔“ اس سے مراد سیدنا جبرائیل ہیں۔ (ارشاد باری تعالیٰ ہے:) تو اس نے اپنے بندے کی طرف وہ چیز وحی کی جو اس نے وحی کی۔“ اس سے مراد سیدنا جبرائیل ہیں۔ (ارشاد باری تعالیٰ ہے:) ”اُس نے جو دیکھا (اس کے) دل نے جھٹلایا نہیں۔“ اس سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے اس معزز مقام پر اپنے قلب کے ذریعے اپنے پروردگار کو دیکھا اور سیدنا جبرائیل کو یاقوت سے بنے ہوئے حلے میں دیکھا، انہوں نے اس وقت آسمان اور زمین کے درمیان موجود خلاء کو بھر دیا تھا، جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ سے منقول اس روایت میں یہ بات مذکور ہے، جسے ہم ذکر کر چکے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإسراء/حدیث: 59]""

60

Sahih Ibn Hibban #60

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ دَاوُدَ بْنَ أَبِي هِنْدٍ حَدَّثَهُ ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ الأَجْدَعِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ ، تَقُولُ :أَعْظَمُ الْفِرْيَةِ عَلَى اللَّهِ مَنْ قَالَ : إِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَبَّهُ ، وَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَمَ شَيْئًا مِنَ الْوَحْيِ ، وَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ ، قِيلَ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، وَمَا رَآهُ ؟ قَالَتْ : لا ، إِنَّمَا ذَلِكَ جِبْرِيلُ رَآهُ مَرَّتَيْنِ فِي صُورَتِهِ : مَرَّةً مَلأَ الأُفُقَ ، وَمَرَّةً سَادًّا أُفُقَ السَّمَاءِ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَدْ يَتَوَهُمْ مَنْ لَمْ يُحْكِمْ صِنَاعَةَ الْحَدِيثِ أَنَّ هَذَيْنِ الْخَبَرَيْنِ مُتَضَادَّانِ ، وَلَيْسَا كَذَلِكَ ، إِذِ الِلَّهِ جَلَّ وَعَلا فَضَّلَ رَسُولَهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى غَيْرِهِ مِنَ الأَنْبِيَاءِ ، حَتَّى كَانَ جِبْرِيلُ مِنْ رَبِّهِ أَدْنَى مِنْ قَابِ قَوْسَيْنِ ، وَمُحَمَّدٌ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُ جِبْرِيلُ حِينَئِذٍ ، فَرَآهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَلْبِهِ كَمَا شَاءَ ، وَخَبَرُ عَائِشَةَ وَتَأْوِيلُهَا أَنَّهُ لا يُدْرِكُهُ ، تُرِيدُ بِهِ فِي النَّوْمِ وَلا فِي الْيَقَظَةِ ، وَقَوْلُهُ : لا تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ فَإِنَّمَا مَعْنَاهُ : لا تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ ، يُرَى فِي الْقِيَامَةِ وَلا تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ رَأَتْهُ ، لأَنَّ الإِدْرَاكَ هُوَ الإِحَاطَةُ ، وَالرُّؤْيَةُ هِيَ النَّظَرُ ، وَالِلَّهِ يُرَى وَلا يُدْرَكُ كُنْهُهُ ، لأَنَّ الإِدْرَاكَ يَقَعُ عَلَى الْمَخْلُوقِينَ ، وَالنَّظَرُ يَكُونُ مِنَ الْعَبْدِ رَبَّهُ ، وَخَبَرُ عَائِشَةَ أَنَّهُ لا تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ ، فَإِنَّمَا مَعْنَاهُ : لا تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ فِي الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ ، إِلا مَنْ يَتَفَضَّلُ عَلَيْهِ مِنْ عِبَادِهِ بِأَنْ يُجْعَلَ أَهْلا لِذَلِكَ ، وَاسْمُ الدُّنْيَا قَدْ يَقَعُ عَلَى الأَرَضِينَ وَالسَّمَاوَاتِ وَمَا بَيْنَهُمَا ، لأَنَّ هَذِهِ الأَشْيَاءَ بِدَايَاتٌ خَلَقَهَا الِلَّهِ جَلَّ وَعَلا لِتُكْتَسَبَ فِيهَا الطَّاعَاتُ لِلآخِرَةِ الَّتِي بَعْدَ هَذِهِ الْبِدَايَةِ ، فَالنَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَبَّهُ فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي لا يُطْلَقُ عَلَيْهِ اسْمُ الدُّنْيَا ، لأَنَّهُ كَانَ مِنْهُ أَدْنَى مِنْ قَابِ قَوْسَيْنِ حَتَّى يَكُونَ خَبَرُ عَائِشَةَ ، أَنَّهُ لَمْ يَرَهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الدُّنْيَا مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونَ بَيْنَ الْخَبَرَيْنِ تَضَادٌّ أَوْ تَهَاتُرٌ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مسروق بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ فرماتے ہوئے سنا: وہ شخصاللہ تعالیٰ کی طرف سب سے بڑی جھوٹی بات منسوب کرتا ہے، جو یہ کہتا ہے، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پروردگار کو دیکھا ہے، یا جو یہ کہتا ہے، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی میں سے کوئی چیز چھپائی تھی۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری باتیں بیان نہیں کی ہیں) یا جو شخص کہتا ہے، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ جانتے تھے کہ کل کیا ہو گا؟ ان سے دریافت کیا گیا: اے ام المؤمنین پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسے دیکھا تھا؟ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: وہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام تھے، جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصل صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ ایک مرتبہ اس وقت جب انہوں نے افق کو بھر دیا تھا، اور ایک مرتبہ اس وقت جب انہوں نے آسمان کے افق کو گھیرا ہوا تھا۔ امام ابوحاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جو شخص علم حدیث میں مہارت نہیں رکھتا وہ اس غلط فہمی کا شکار ہوتا ہے کہ یہ دو روایات باہم متضاد ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ کیونکہاللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو دیگر تمام انبیاء پر فضیلت عطا کی ہے۔ یہاں تک کہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام اپنے پروردگار کے اتنا قریب ہو گئے جتنا دو کمانوں کا فاصلہ ہوتا ہے اور اس وقت سیدنا جبرائیل علیہ السلام صلی اللہ علیہ وسلم کو تعلیم دی۔ اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (یا شایداللہ تعالیٰ کو) دل کی آنکھ سے دیکھ لیا جیسے اس نے چاہا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول اس روایت، کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کا ادراک نہیں کر سکتے، کا مفہوم یہ ہے: آپ نیند کے عالم میں اور بیداری کے عالم میں ایسا نہیں کر سکتے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: ”بصارت اس کا ادراک نہیں کر سکتی“ سے مراد یہ ہے: بصارت اس کا ادراک نہیں کر سکتی، اس کا دیدار قیامت کے دن ہو گا لیکن بصارت جب اس کا دیدار کرے گی تو اس کا ادراک نہیں کر سکے گی، کیونکہ ادراک کا مطلب احاطہ کرنا ہے اور دیدار کا مطلب دیکھنا ہے اوراللہ تعالیٰ کا دیدار ہو سکتا ہے لیکن اس کی حقیقت کا ادراک نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ ادراک مخلوق کا ہو سکتا ہے اور بندے کی طرف سے پروردگار کو دیکھنا (ممکن) ہو سکتا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول یہ روایت کہ بصارت اس کا ادراک نہیں کر سکتی، اس سے مراد یہ ہے کہ بصارت دنیا اور آخرت میں اس کا ادراک نہیں کر سکتی لیکن اپنے بندوں میں سے وہ جس پر چاہے فضل کر کے اس کا اہل بنا سکتا ہے۔ لفظ دنیا کا اطلاق کبھی زمینوں اور آسمانوں اور ان کے درمیان موجود جگہ پر ہوتا ہے، کیونکہ ان اشیاء سے آغاز ہوا تھا۔اللہ تعالیٰ نے انہیں اس لئے پیدا کیا تھا تاکہ ان میں آخرت کے لئے نیکیاں کمائی جائیں جو اس آغاز کے بعد گی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پروردگار کا دیدار اس مقام پر کیا ہے جہاں لفظ دنیا کا اطلاق نہیں ہوتا۔ کیونکہ وہ اس وقت دو کمانوں کے درمیان فاصلے سے بھی زیادہ قریب تھے۔ اس لئے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول روایت کا مطلب یہ ہو گا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا میں اس کا دیدار نہیں کیا۔ اس لئے ان دونوں روایات کے درمیان کوئی تضاد اور اختلاف نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإسراء/حدیث: 60]""

61

Sahih Ibn Hibban #61

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أبيه ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي مَنْصُورِينَ لا يَضُرُّهُمْ خِذْلانُ مَنْ خَذَلَهُمْ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

معاویہ بن قرہ اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میری اُمت کے ایک گروہ کی ہمیشہ مدد ہوتی رہے گی اور جو شخص انہیں رسوا کرنے کی کوشش کرے گا، اس کی یہ کوشش انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی۔ یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے گی۔“ یعنی قیامت تک ان لوگوں کی مدد ہوتی رہے گی) [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 61]""

62

Sahih Ibn Hibban #62

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْبَرْمَكِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَيْبَانَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : تَسْمَعُونَ وَيُسْمَعُ مِنْكُمْ ، وَيُسْمَعُ مِمَّنْ يَسْمَعُ مِنْكُمْ "عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّازِيُّ ثِقَةٌ كُوفِيٌّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تم لوگ مجھ سے (احادیث) سنتے ہو (آگے آنے والے وقت میں یہ احادیث تم سے سنی جائیں گی) اور پھر ان لوگوں سے سنی جائیں گی، جنہوں نے تم سے سنی تھیں۔“ عبدالله بن عبدالله رازی نامی راوی ثقہ ہے، اور کوفہ کا رہنے والا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 62]""

63

Sahih Ibn Hibban #63

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ ، وأَبِي أُسَيْد أن النَّبِيَّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : سَمِعْتُمُ الْحَدِيثَ عَنِّي تَعْرِفُهُ قُلُوبُكُمْ ، وَتَلِينُ لَهُ أَشْعَارُكُمْ وَأَبْشَارُكُمْ ، وَتَرَوْنَ أَنَّهُ مِنْكُمْ قَرِيبٌ ، فَأَنَا أَوْلاكُمْ بِهِ ، وَسَمِعْتُمُ الْحَدِيثَ عَنِّي تُنْكِرُهُ قُلُوبُكُمْ ، وَتَنْفِرُ عَنْهُ أَشْعَارُكُمْ وَأَبْشَارُكُمْ ، وَتَرَوْنَ أَنَّهُ مِنْكُمْ بَعِيدٌ ، فَأَنَا أَبَعْدَكُمْ مِنْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب تم میرے حوالے سے کوئی بات سنو، جو تمہاری عقل میں آئے اور تمہارے بال اور تمہاری جلد اس کے لئے نرم ہو جائیں اور تم یہ سمجھو کہ یہ بات تمہارے قریب ہے، تو میں اس کے بارے میں تم سب سے زیادہ حق رکھتا ہوں اور جب تم میرے حوالے سے کوئی ایسی بات سنو، جس کا تمہارا ذہن انکار کرے اور تمہارے بال اور تمہاری جلد اس سے تنفر محسوس کریں، اور تم یہ سمجھو کہ تم اس سے دور ہو، تو میں اس بات سے تم سب سے زیادہ دور ہوں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 63]""

64

Sahih Ibn Hibban #64

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ يَحْيَى صَاحِبُ الْبَصْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُمَامٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَكْتُبُوا عَنِّي إِلا الْقُرْآنَ ، فَمَنْ كَتَبَ عَنِّي شَيْئًا فَلْيَمْحُهُ "قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ : زَجْرُهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكِتْبَةِ عَنْهُ سِوَى الْقُرْآنِ ، أَرَادَ بِهِ الْحَثَّ عَلَى حِفْظِ السُّنَنِ دُونَ الاتِّكَالِ عَلَى كِتْبَتِهَا وَتَرْكِ حِفْظِهَا وَالتَّفَقُّهِ فِيهَا ، وَالدَّلِيلُ عَلَى صِحَّةِ هَذَا إِبَاحَتُهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَبِي شَاهٍ كَتْبَ الْخُطْبَةِ الَّتِي سَمِعَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِذْنُهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بِالْكِتْبَةِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”میرے حوالے سے صرف قرآن کو نوٹ کیا کرو۔ جس شخص نے میری کوئی بات نوٹ کی ہو، وہ اسے مٹا دے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قرآن کے علاوہ کسی بھی چیز کو نوٹ کرنے سے منع کرنا، اس سے مراد یہ ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم احادیث کو یاد رکھنے کی ترغیب دیں، ایسا نہ ہو کہ احادیث نوٹ کر لیں اور انہیں یاد نہ کریں اور ان میں غور و فکر نہ کریں۔ اس موقف کے درست ہونے کی دلیل یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوشاہ یمنی کو حجتہ الوداع کا خطبہ نوٹ کرنے کی اجازت دی تھی، جو خطبہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنا تھا۔ اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو بھی احادیث نوٹ کرنے کی اجازت دی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 64]""

65

Sahih Ibn Hibban #65

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ بِالأُبُلَّةِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ فِطْرٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : تَرَكَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَا طَائِرٌ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلا عِنْدَنَا مِنْهُ عِلْمٌ "قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : مَعْنَى " عِنْدَنَا مِنْهُ " يَعْنِي بِأَوَامِرِهِ وَنَوَاهِيَهِ ، وَأَخْبَارِهِ ، وَأَفْعَالِهِ ، وَإِبَاحَاتِهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے رخصت ہوئے، تو پروں کے ساتھ اڑنے والے ہر پرندے، کے بارے میں بھی ہمارے پاس کوئی نہ کوئی علم تھا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) روایت کے یہ الفاظ ”کے بارے میں بھی ہمارے پاس کوئی نہ کوئی علم تھا“ سے مراد یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوامر، نواہی، اطلاعات، افعال اور مباح قرار دینے کے حوالے سے (ہمیں علم مل چکا تھا)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 65]""

66

Sahih Ibn Hibban #66

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَضَّرَ الِلَّهِ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِيثًا فَبَلَّغَهُ كَمَا سَمِعَهُ ، فَرُبَّ مُبَلَّغٍ أَوْعَى مِنْ سَامِعٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ اس شخص کو خوش رکھے، جو ہم سے بات کوئی بات سنے اور پھر اسی طرح آگے پہنچا دے، جس طرح اسے سنا تھا، کیونکہ بعض اوقات (براہ راست) سننے والے کے مقابلے میں، وہ شخص اس کو زیادہ بہتر محسوس کرتا ہے، جس تک وہ بات پہنچائی گئی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 66]""

67

Sahih Ibn Hibban #67

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ هُوَ ابْنُ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبَانَ هُوَ ابْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : خَرَجَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ مِنْ عِنْدِ مَرْوَانَ قَرِيبًا مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ ، فَقُلْتُ : مَا بَعَثَ إِلَيْهِ إِلا لِشَيْءٍ سَأَلَهُ ، فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : أَجَلْ ، سَأَلَنَا عَنْ أَشْيَاءَ سَمِعْنَاهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : رَحِمَ الِلَّهِ امْرَأً سَمِعَ مِنِّي حَدِيثًا فَحَفِظَهُ ، حَتَّى يُبَلِّغَهُ غَيْرَهُ ، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ لَيْسَ بِفَقِيهٍ ، ثَلاثُ خِصَالٍ لا يَغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ مُسْلِمٍ : إِخْلاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ ، وَمُنَاصَحَةُ أُولاةِ الأَمْرِ ، وَلُزُومُ الْجَمَاعَةِ ، فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تُحِيطُ مِنْ وَرَائِهِمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن ابان (اپنے والد، جو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ہیں) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ دوپہر کے وقت مروان کے پاس سے باہر نکلے، تو میں نے سوچا اس وقت مروان نے انہیں کسی چیز کے بارے میں دریافت کرنے کے لئے ہی بلوایا ہو گا۔ میں سیدنا زید رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا: تو انہوں نے فرمایا: ایسا ہی ہے۔ اس نے ہم سے کچھ ایسی چیزوں کے بارے میں دریافت کیا تھا: جو ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہیں۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:) ”اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو مجھ سے کوئی بات سنے اور اسے محفوظ کر لے۔ یہاں تک کہ دوسرے تک اسے پہنچا دے۔ کیونکہ بعض اوقات فقہ (یعنی دینی علم) کی کوئی بات سننے والا شخص، اس شخص تک منتقل کر دیتا ہے، جو اس سے زیادہ دین کی سمجھ بوجھ رکھتا ہے۔“ بعض اوقات دینی بات کا علم حاصل کرنے والا شخص عالم نہیں ہوتا۔ تین خصوصیات ایسی ہیں، جن کے بارے میں کسی مسلمان کا دل خیانت کا شکار نہیں ہوتا۔ عمل کااللہ تعالیٰ کے لئے خالص ہونا، حکمرانوں کے لئے خیر خواہی رکھنا اور (مسلمانوں کی) جماعت کے ساتھ رہنا۔ کیونکہ ان لوگوں کی دعا غیر موجود افراد تک بھی پہنچتی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 67]""

68

Sahih Ibn Hibban #68

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : رَحِمَ الِلَّهِ مَنْ سَمِعَ مِنِّي حَدِيثًا ، فَبَلَّغَهُ ، كَمَا سَمِعَهُ ، فَرُبَّ مُبَلَّغٍ أَوْعَى لَهُ مِنْ سَامِعٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن عبداللہ اپنے والد سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے، جو مجھ سے کوئی بات سنے اور پھر اسے آگے پہنچا دے۔ اسی طرح جیسے اس نے اسے سنا تھا، کیونکہ بعض اوقات (براہ راست) سننے والے کے مقابلے میں، وہ شخص اسے زیادہ بہتر طور پر محفوظ کرتا ہے، جس تک وہ بات پہنچائی گئی ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 68]""

69

Sahih Ibn Hibban #69

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أبيه ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : نَضَّرَ الِلَّهِ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِيثًا ، فَبَلَّغَهُ كَمَا سَمِعَهُ ، فَرُبَّ مُبَلَّغٍ أَوْعَى مِنْ سَامِعٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن عبداللہ بن مسعود اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ اس شخص کو خوش رکھے، جو ہم سے کوئی بات سنے اور جس طرح اسے سنا تھا، اسی طرح آگے پہنچا دے، کیونکہ بعض اوقات (براہ راست) سننے والے کے مقابلے میں وہ شخص زیادہ بہتر طور پر محسوس کر سکتا ہے، جس تک وہ بات پہنچائی گئی ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 69]""

70

Sahih Ibn Hibban #70

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيَمَ ، مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الدُّورِيُّ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَفَاتِيحُ الْغَيْبِ خَمْسٌ : لا يَعْلَمُ مَا تَضَعُ الأَرْحَامُ أَحَدٌ إِلا الِلَّهِ ، وَلا يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ إِلا الِلَّهِ ، وَلا يَعْلَمُ مَتَى يَأْتِي الْمَطَرُ إِلا الِلَّهِ ، وَلا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ ، وَلا يَعْلَمُ مَتَى تَقُومُ السَّاعَةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”غیب کی کنجیاں پانچ ہیں۔اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی اس بات کا علم نہیں رکھتا کہ رحم کس چیز کو جنم دے گا (یعنی لڑکا پیدا ہو گا یا لڑکی پیدا ہو گی) اوراللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی اس بات کا علم نہیں رکھتا کہ کل کیا ہو گا؟ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی اس بات کا علم نہیں رکھتا کہ بارش کب ہو گی؟ اور کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ وہ کون سی سرزمین پر مرے گا؟ اور کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ قیامت کب قائم ہو گی؟“ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 70]""

71

Sahih Ibn Hibban #71

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَفَاتِيحُ الْغَيْبِ خَمْسٌ لا يَعْلَمُهَا إِلا الِلَّهِ : لا يَعْلَمُ مَا تَغِيضُ الأَرْحَامُ أَحَدٌ إِلا الِلَّهِ ، وَلا مَا فِي غَدٍ إِلا الِلَّهِ ، وَلا يَعْلَمُ مَتَى يَأْتِي الْمَطَرُ إِلا الِلَّهِ ، وَلا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ ، وَلا يَعْلَمُ مَتَى تَقُومُ السَّاعَةُ أَحَدٌ إِلا الِلَّهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن دینار بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”غیب کی کنجیاں پانچ ہیں۔ ان کا علم صرفاللہ تعالیٰ کو ہے۔اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا کہ رحم کس چیز کو جنم دے گا؟ اور نہ ہیاللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی اور یہ بات جانتا ہے، کل کیا ہو گا؟“اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی یہ بات نہیں جانتا کہ بارش کب آئے گی؟ کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ وہ کون سی جگہ پر فوت ہو گا؟ اوراللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی یہ نہیں جانتا کہ قیامت کب آئے گی؟ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 71]""

72

Sahih Ibn Hibban #72

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّاللَّهَ يُبْغِضُ كُلَّ جَعْظَرِيٍّ جَوَّاظٍ سَخَّابٍ بِالأَسْوَاقِ ، جِيفَةٍ بِاللَّيْلِ ، حِمَارٍ بِالنَّهَارِ ، عَالِمٍ بِأَمْرِ الدُّنْيَا ، جَاهِلٍ بِأَمْرِ الآخِرَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بے شکاللہ تعالیٰ ہر سخت مزاج، متکبر، کنجوس اور بازاروں میں چیخ کر بولنے والے شخص کو ناپسند کرتا ہے، جو رات کو مردار (کی طرح) سوتا ہے، اور دن کے وقت گدھے (کی طرح وقت گزارتا ہے)۔ وہ دنیاوی امور کے بارے میں واقفیت رکھتا ہے، لیکن آخرت کے بارے میں جاہل ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 72]""

73

Sahih Ibn Hibban #73

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَبَّانُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ التُّسْتَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلا قَوْلَ اللَّهِ : هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ إِلَى آخِرِهَا ، فَقَالَ : رَأَيْتُمُ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ، فَاعْلَمُوا أَنَّهُمُ الَّذِينَ عَنَى الِلَّهِ ، فَاحْذَرُوهُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےاللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تلاوت کی۔ ”وہی وہ ذات ہے، جس نے تم پر کتاب نازل کی ہے، جس میں سے بعض محکم آیات ہیں۔“ یہ آیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخر تک تلاوت کی پھر ارشاد فرمایا: ”جب تم ان لوگوں کو دیکھو، جو اس کی متشابہ آیات کی تلاوت کرتے ہیں، تو تم یہ بات جان لو! یہ وہ لوگ ہیں، جواللہ تعالیٰ نے مراد لئے ہیں، تو تم ان سے بچو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 73]""

74

Sahih Ibn Hibban #74

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ ، وَالْمِرَاءُ فِي الْقُرْآنِ كُفْرٌ ثَلاثًا ، مَا عَرَفْتُمْ مِنْهُ ، فَاعْمَلُوا بِهِ ، وَمَا جَهِلْتُمْ مِنْهُ ، فَرُدُّوهُ إِلَى عَالِمِهِ "قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا عَرَفْتُمْ مِنْهُ فَاعْمَلُوا بِهِ " أَضْمَرَ فِيهِ الاسْتِطَاعَةَ ، يُرِيدُ : اعْمَلُوا بِمَا عَرَفْتُمْ مِنَ الْكِتَابِ مَا اسْتَطَعْتُمْ ، وَقَوْلُهُ : " وَمَا جَهِلْتُمْ مِنْهُ فَرُدُّوهُ إِلَى عَالِمِهِ " فِيهِ الزَّجْرُ عَنْ ضِدِّ هَذَا الأَمْرِ ، وَهُوَ أَنْ لا يَسْأَلُوا مَنَ لا يَعْلَمُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مجھ پر قرآن سات حروف میں نازل کیا گیا ہے۔“ قرآن کے بارے میں بحث کرنا کفر ہے۔ (یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی، پھر فرمایا:) ”تمہیں اس میں سے جو چیز سمجھ آ جائے، تم اس پر عمل کرو اور جس چیز کے بارے میں تمہیں علم حاصل نہ ہو سکے، تم اسے اس کے عالم کی طرف لوٹا دو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”تمہیں اس میں سے جو چیز سمجھ آ جائے، تم اس پر عمل کرو۔“ اس میں استطاعت کا ذکر پوشیدہ ہے۔ آپ کی مراد یہ ہے: کتاب کے حوالے سے تم جس حکم کو شناخت کر لو، اس پر اپنی استطاعت کے مطابق عمل کرو۔ روایت کے یہ الفاظ: ”اور جس چیز کے بارے میں تمہیں علم حاصل نہ ہو سکے، تم اسے اس کے عالم کی طرف لوٹا دو۔“ اس میں اس حکم کی خلاف ورزی کی ممانعت ہے اور وہ حکم یہ ہے: لوگ ایسے شخص سے مسائل دریافت نہ کریں جو علم نہیں رکھتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 74]""