Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 1 · Chapter 2

Introduction

Hadith 13–34

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

13

Sahih Ibn Hibban #13

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ وَهُوَ يَذْكُرُ النَّاقَةَ ، وَمَنْ عَقَرَهَا ، فَقَالَ : إِذِ انْبَعَثَ أَشْقَاهَا انْبَعَثَ لَهَا رَجُلٌ عَارِمٌ ، عَزِيزٌ ، مَنِيعٌ فِي رَهْطِهِ ، مِثْلُ أَبِي زَمْعَةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عامر بن سعد بن ابی وقاص اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مسلمانوں میں سب سے بڑا جرم اس شخص کا ہے، جو کسی ایسی چیز کے بارے میں دریافت کرے، جسے حرام قرار نہ دیا گیا ہو، اور پھر اس شخص کے دریافت کرنے کی وجہ سے، اسے مسلمانوں کے لئے حرام قرار دے دیا جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 110]

13

Sahih Ibn Hibban #13

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمَدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أبُو الطَّاهِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الثَّوْرِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أن رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ لَعِبَ بِالنَّرْدِ ، فَكَأَنَّمَا غَمَسَ يَدَهُ فِي لَحْمِ خِنْزِيرٍ وَدَمِهِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ اہل جنت کو جنت میں داخل کر دے گا، وہ جسے چاہے گا اپنی رحمت کی وجہ سے داخل کرے گا۔ اور وہ اہل جہنم کو جہنم میں داخل کر دے گا، پھر وہ یہ فرمائے گا: اس شخص کو جہنم سے نکال دو، جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان موجود ہے۔ تو ان لوگوں کو جہنم سے نکالا جائے گا اور وہ کوئلہ بن چکے ہوں گے۔ پھر انہیں جنت کی نہر میں ڈالا جائے گا، تو وہ اس میں سے یوں پھوٹ پڑیں گے، جس طرح سیلابی پانی کی گزرگاہ میں سے دانہ پھوٹتا ہے۔ کیا تم نے اسے دیکھا نہیں ہے، وہ زرد ہوتا ہے، اور ادھر ادھر جھکتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 182]

13

Sahih Ibn Hibban #13

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلامٍ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلا يَتْبَعُ حَمَامَةً ، فَقَالَ : شَيْطَانٌ يَتْبَعُ شَيْطَانَةً ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : اللاعِبُ بِالْحَمَامِ لا يَتَعَدَّى لَعِبُهُ مِنْ أَنْ يَتَعَقَّبَهُ بِمَا يَكْرَهُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا ، وَالْمُرْتَكِبُ لِمَا يَكْرَهُ اللَّهُ عَاصٍ ، وَالْعَاصِي يَجُوزُ أَنْ يُقَالَ لَهُ : شَيْطَانٌ ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَوْلادِ آدَمَ ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : شَيَاطِينَ الإِنْسِ وَالْجِنِّ فَسَمَّى الْعُصَاةَ مِنْهُمَا شَيَاطِينَ ، وَإِطْلاقُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَ الشَّيْطَانِ عَلَى الْحَمَامَةِ لِلْمُجَاوَرَةِ ، وَلأَنَّ الْفِعْلَ مِنَ الْعَاصِي بِلَعِبِهَا تَعَدَّاهُ إِلَيْهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب اہل جنت اور اہل جہنم کو ایک دوسرے سے نمایاں کر دیا جائے گا اور اہل جنت، جنت میں داخل ہو جائیں گے اور اہل جہنم، جہنم میں داخل ہو جائیں گے، تو رسول کھڑے ہوں گے اور وہ شفاعت کریں گے۔ تو یہ کہا: جائے گا: تم لوگ جاؤ اور جس شخص کے بارے میں تمہیں یہ لگتا ہے، اس کے دل میں ایک قیراط کے برابر ایمان ہے، تم اسے (جہنم سے نکال دو) تو وہ لوگ بہت زیادہ لوگوں کو نکال دیں گے، پھر یہ کہا: جائے گا: تم لوگ جاؤ اور جس کے بارے میں تمہیں یہ پتہ چلتا ہے، اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہے، تو تم اسے بھی نکال دو، تو وہ لوگ بہت سے لوگوں کو نکال دیں گے۔ (پھر)اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اب میں اپنی نعمت اور رحمت کی وجہ سے (لوگوں کو جہنم سے) نکالوں گا۔ تو ان رسولوں نے جتنے لوگوں کو نکالا تھا،اللہ تعالیٰ اس سے کئی گنا زیادہ لوگوں کو جہنم سے نکالے گا۔ وہ لوگ جل کر کوئلہ ہو چکے ہوں گے، انہیں نہر میں ڈالا جائے گا۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جنت کی ایک نہر میں ڈالا جائے گا، تو ان کا جلا ہوا حصہ اس نہر کے کنارے پر گر پڑے گا اور وہ لوگ ”ثعاریر“ کی مانند سفید ہو جائیں گے، ان کی گردنوں پر یہ لکھا جائے گا: یہاللہ تعالیٰ کی طرف سے آزاد کئے ہوئے ہیں اور (جنت میں) ان کا نام جہنمی ہو گا۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ثعاریر“ ایک چھوٹی قسم کا پھول ہوتا ہے۔ یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 183]

13

Sahih Ibn Hibban #13

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ الزُّهْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمِّي ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ فِي حِجْرِي جَارِيَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ ، فَزَوَّجْتُهَا ، قَالَتْ : فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عُرْسِهَا ، فَلَمْ يَسْمَعْ غِنَاءً وَلا لَعِبًا ، فَقَالَ : يَا عَائِشَةُ ، هَلْ غَنَّيْتُمْ عَلَيْهَا ؟ أَوَلا تُغَنُّونَ عَلَيْهَا ؟ " ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ هَذَا الْحَيَّ مِنَ الأَنْصَارِ يُحِبُّونَ الْغِنَاءَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

طارق بن شہاب کہتے ہیں: ایک یہودی نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر ہم یہودیوں کو یہ پتہ چل جائے کہ یہ آیت کب نازل ہوئی تھی؟ تو ہم اس دن کو عید کا دن قرار دیں۔ ”آج کے دن میں نے تمہارے دین کو تمہارے لئے مکمل کر دیا ہے۔“ اور اگر اب بھی ہمیں اس دن کا پتہ چل جائے کہ جس دن یہ آیت نازل ہوئی تھی، تو ہم اس دن کو عید کا دن قرار دیں گے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے اس دن کے بارے میں پتہ ہے، جس دن یہ آیت نازل ہوئی تھی اور اس رات کے بارے میں بھی پتہ ہے، جس میں یہ نازل ہوئی تھی: یہ جمعہ کا دن تھا، اور ہم اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عرفات میں موجود تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 185]

13

Sahih Ibn Hibban #13

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ تُغَنِّيَانِ بِدُفَّيْنِ ، وَتُغَنِّيَانِ فِي أَيَّامِهِمَا ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَتِرٌ بِثَوْبِهِ ، فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَكْرٍ ، فَكَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبَهُ وَقَالَ : دَعْهُمَا يَا أَبَا بَكْرٍ ، فَإِنَّهَا أَيَّامُ عِيدٍ "، قَالَتْ عَائِشَةُ : وَلَمَّا قَدِمَ وَفْدُ الْحَبَشَةِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَامُوا يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ ، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَهُمْ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّذِي أَسْأَمُ ، فَاقْدُرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ الْحَرِيصَةِ عَلَى اللَّهْوِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”زنا کرنے والا شخص زنا کرتے ہوئے مومن نہیں رہتا، چوری کرنے والا شخص چوری کرتے ہوئے مومن نہیں رہتا، شراب پینے والا شخص شراب پیتے ہوئے مومن نہیں رہتا، ڈاکہ ڈالنے والا شخص جو کسی کی قیمتی چیز پر ڈاکہ ڈالتا ہے، جب کہ مسلمان اس کی طرف دیکھ رہے ہوں، تو وہ ڈاکہ ڈالتے وقت مومن نہیں رہتا۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے زہری سے دریافت کیا: اس سے مراد کیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر تبلیغ کرنا لازم تھا، اور ہم پر اسے تسلیم کرنا لازم ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 186]""

13

Sahih Ibn Hibban #13

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَخِيهِ مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : نَزَلْنَا مَنْزِلا ، فَأَتَتْنَا امْرَأَةٌ ، فَقَالَتْ : إِنَّ سَيِّدَ الْحَيِّ سُلَيْمٌ لُدِغَ ، فَهَلْ فِيكُمْ مِنْ رَاقٍ ؟ فَقَالَ : فَقَامَ مَعَهَا رَجُلٌ مِنَّا ، كُنَّا نَظُنُّهُ يُحْسِنُ رُقْيَةً ، فَرَقَى بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَبَرَأَ ، فَأَعْطَوْهُ غَنَمًا ، وَسَقَوْهُ لَبَنًا ، قَالَ : فَقُلْتُ لا تُحَرِّكُوهُ حَتَّى نَأْتِيَ نَأْتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : مَا كَانَ يُدْرِيهِ أَنَّهَا رُقْيَةٌ ؟ اقْسِمُوا وَاضْرِبُوا لِي بِسَهْمٍ مَعَكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”مومن اپنے اخلاق کے ذریعے روزہ دار اور نوافل ادا کرنے والے شخص کا درجہ پا لیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 480]

13

Sahih Ibn Hibban #13

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَتِيقٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا عَدْوَى ، وَلا طِيَرَةَ ، وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میزان میں سب سے زیادہ وزنی چیز اچھے اخلاق ہیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عطاء نامی راوی عطاء بن عبداللہ ہے، اور کیخاران یمن میں ایک جگہ کا نام ہے۔ سیده ام درداء کمسن ہیں ان کا نام ہجیمہ بنت حیی ہے، جبکہ بڑی والی سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا کا نام خیره بنت ابوحدرد انصاریہ ہے، اور وہ صحابیہ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 481]""

13

Sahih Ibn Hibban #13

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أن رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لا عَدْوَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بیشک تم میں سےاللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب اور تم میں سے، میرے سب سے زیادہ قریب وہ لوگ ہیں جو اخلاق کے اعتبار سے سب سے زیادہ اچھے ہوں اوراللہ تعالیٰ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ اور تم میں سے مجھ سے زیادہ دور وہ لوگ ہیں جو زیادہ بولتے ہوں۔ باتیں بڑھا چڑھا کر کرتے ہوں اور چبا چبا کر بولتے ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 482]

13

Sahih Ibn Hibban #13

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَضْحًى ، أَوْ فِطْرٍ إِلَى الْمُصَلَّى ، فَصَلَّى ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَقَامَ ، فَوَعَظَ النَّاسَ وَأَمَرَهُمْ بِالصَّدَقَةِ ، قَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ ،تَصَدَّقُوا " ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَمَرَّ عَلَى النِّسَاءِ فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ ، فَإِنِّي أَرَاكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ " ، فَقُلْنَ : وَلِمَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ ، وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ ، مَا رَأَيْتُ مِنَ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَذْهَبَ لِلُبِّ الرَّجُلِ الْحَازِمِ مِنْ إِحْدَاكُنَّ ، يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ " ، فَقُلْنَ لَهُ : مَا نُقْصَانُ دِينِنَا وَعَقْلِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَلَيْسَ شَهَادَةُ الْمَرْأَةِ مِثْلَ نِصْفِ شَهَادَةِ الرَّجُلِ ؟ " قُلْنَ : بَلَى ، قَالَ : " فَذَاكَ نُقْصَانُ عَقْلِهَا ، أَوَ لَيْسَتْ إِذَا حَاضَتِ الْمَرْأَةُ لَمْ تُصَلِّ وَلَمْ تَصُمْ ؟ " قُلْنَ : بَلَى ، قَالَ : " فَذَاكَ نُقْصَانُ دِينِهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”میں جنت میں داخل ہوا، وہاں سونے سے بنا ہوا ایک محل تھا۔ میں نے دریافت کیا: یہ محل کس کا ہے؟ فرشتوں نے بتایا: قریش سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کا ہے۔ میں نے سمجھا کہ شاید یہ میرا ہے، میں نے دریافت کیا: یہ کس کا ہے؟ تو بتایا گیا: یہ عمر بن خطاب کا ہے۔“ (پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا:) اے ابوحفص! مجھے تمہارے مزاج کی تیزی کا خیال نہ ہوتا، تو میں اس کے اندر چلا جاتا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں جس شخص پر بھی غصہ کر لوں لیکن آپ پر غصہ نہیں کر سکتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإسراء/حدیث: 54]""

14

Sahih Ibn Hibban #14

وَإِِنَّا كُنَّا لا نَدْرِي مَا يَقُولُ إِِذَا جَلَسْنَا فِي الصَّلاةِ حَتَّى عَلَّمَنَا ، فَقَالَ : قُولُوا :التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهَ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت نوافل ادا کرتے تھے اور اتنا طویل قیام کرتے تھے: آپ کے دونوں پاؤں ورم آلود ہو جاتے تھے آپ کی خدمت میں عرض کی گئی: یا رسول اللہ! کیا آپ ایسا کرتے ہیں؟ جبکہ آپ کے گزشتہ اور آئندہ (ذنب) کی مغفرت ہو چکی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 311]

14

Sahih Ibn Hibban #14

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلاءِ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، قَالَ : كُنَّا بِالْمِرْبَدِ ، فَإِِذَا أَنَا بِرَجُلٍ أَشْعَثَ الرَّأْسِ بِيَدِهِ قِطْعَةُ أَدِيمٍ ، فَقُلْنَا لَهُ : كَأَنَّكَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ ؟ قَالَ : أَجَلْ ، فَقُلْنَا لَهُ : نَاوِلْنَا هَذِهِ الْقِطْعَةَ الأَدِيمِ الَّتِي فِي يَدِكَ ، فَأَخْذَنَاهَا ، فَقَرَأْنَا مَا فِيهَا ، فَإِِذَا فِيهَا : مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِِلَى بَنِي زُهَيْرٍ ، أَعْطُوا الْخُمُسَ مِنَ الْغَنِيمَةِ ، وَسَهْمَ النَّبِيِّ وَالصَّفِيِّ وَأَنْتُمْ آمِنُونَ بِأَمَانِ اللَّهِ وَأَمَانِ رَسُولِهِ " ، قَالَ : فَقُلْنَا : مَنْ كَتَبَ لَكَ هَذَا ؟ ، قَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”سوار شخص کو پیدل چلنے والے کو سلام کرنا چاہئے اور پیدل چلنے والے شخص کو بیٹھے ہوئے شخص کو سلام کرنا چاہئے اور تھوڑے لوگوں کو زیادہ لوگوں کو سلام کرنا چاہئے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 497]

14

Sahih Ibn Hibban #14

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ أَتَى عَلَيْكَ يَوْمٌ كَانَ أَشَدَّ عَلَيْكَ مِنْ يَوْمِ أُحُدٍ ؟ قَالَ : لَقَدْ لَقِيتُ مِنْ قَوْمَكِ ، وَكَانَأَشَدُّ مَا لَقِيتُ مِنْهُمْ يَوْمَ الْعَقَبَةِ ، إِِذْ عَرَضْتُ نَفْسِي عَلَى ابْنِ عَبْدِ يَالِيلَ بْنِ عَبْدِ كُلالٍ ، فَلَمْ يُجِبْنِي إِِلَى مَا أَرَدْتُ ، فَانْطَلَقْتُ وَأَنَا مَهْمُومٌ عَلَى وَجْهِي ، فَرَفَعْتُ رَأْسِي ، فَإِِذَا أَنَا بِسَحَابَةٍ قَدْ أَظَلَّتْنِي ، فَنَظَرْتُ ، فَإِِذَا فِيهَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ ، فَنَادَانِي ، فَقَالَ : إِِنَّ اللَّهَ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِكَ لَكَ ، وَمَا رَدُّوا عَلَيْكَ ، وَقَدْ بَعَثَ إِِلَيْكَ مَلَكُ الْجِبَالِ لِتَأْمُرَ بِمَا شِئْتَ فِيهِمْ ، قَالَ : فَنَادَانِي مَلَكُ الْجِبَالِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ ، ثُمَّ قَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِِنَّ اللَّهَ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِكَ لَكَ ، وَأَنَا مَلَكُ الْجِبَالِ ، وَقَدْ بَعَثَنِي رَبُّكَ إِِلَيْكَ لِتَأْمُرَنِي بِأَمْرِكَ ، إِِنْ شِئْتَ أَنْ أُطْبِقَ عَلَيْهِمُ الأَخْشَبَيْنِ " ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَلْ أَرْجُو أَنْ يُخْرِجَ اللَّهُ مِنْ أَصْلابِهِمْ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ وَحْدَهُ لا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی کو ایذاء نہ پہنچائے، اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کی عزت افزائی کرے، اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ بھلائی کی بات کہے یا پھر خاموش رہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 516]

14

Sahih Ibn Hibban #14

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُحَارِبِيِّ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سُوقِ ذِي الْمَجَازِ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ ، وَهُوَ يَقُولُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ،قُولُوا لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ تُفْلِحُوا " ، وَرَجُلٌ يَتْبَعُهُ يَرْمِيهِ بِالْحِجَارَةِ ، وَقَدْ أَدْمَى عُرْقُوبَيْهِ وكعبيهِ ، وَهُوَ يَقُولُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، لا تُطِيعُوهُ ، فَإِِنَّهُ كَذَّابٌ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ قِيلَ : هَذَا غُلامُ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، قُلْتُ : فَمَنْ هَذَا الَّذِي يَتْبَعُهُ يَرْمِيهِ بِالْحِجَارَةِ ؟ قَالَ : هَذَا عَبْدُ الْعُزَّى أَبُو لَهَبٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوہیثم دخین، یہ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے دستِ راست تھے، وہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے کہا: ہمارے کچھ پڑوسی شراب پیتے ہیں، میں کوتوال کو بلانا چاہتا ہوں تاکہ وہ انہیں پکڑ لے، تو سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہارا ستیاناس ہو، تم ایسا نہ کرو، تم انہیں واضح نصیحت کرو، تم انہیں ڈراؤ، انہوں نے کہا: میں نے انہیں منع کیا ہے، لیکن وہ باز نہیں آئے، اب میں کوتوال کو بلاؤں گا تاکہ وہ انہیں پکڑ لے، تو سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تمہارا ستیاناس ہو، تم ایسا نہ کرو، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے سنا ہے: ”جو شخص کسی مومن کی پردہ پوشی کرتا ہے، تو اس کی مثال اسی طرح ہے، جیسے وہ زندہ گاڑ دی جانے والی بچی کو اس کی قبر میں سے بچا لیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 517]

14

Sahih Ibn Hibban #14

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَصْغَتْ إِِلَيْهِ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ ، وَهِيَ مُسْنِدَتُهُ إِِلَى صَدْرِهَا ، يَقُولُ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ، وَارْحَمْنِي ، وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ الأَعْلَى """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجالس کی تین قسمیں ہیں۔ (یعنی محفل میں تین طرح کے لوگ شریک ہوتے ہیں) سلامتی والا (یعنی جو خاموش رہتا ہے) اور غنیمت حاصل کرنے والا (یعنی جو بھلائی کا حکم دیتا ہے) اور غمگین ہونے والا (جو غلط بات کرتا ہے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 585]

14

Sahih Ibn Hibban #14

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَصَّارُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، وَعَائِشَةَ أخبراه ، أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ ، جَعَلَ يُلْقِي عَلَى وَجْهِهِ طَرَفَ خَمِيصَةٍ ، فَإِِذَا اغْتَمَّ بِهَا ، كَشَفَهَا عَنْ وَجْهِهِ ، وَهُوَ يَقُولُ : لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى ، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ "، قَالَ : تَقُولُ عَائِشَةُ : يُحَذِّرُهُمْ مِثْلَ الَّذِي صَنَعُوا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ ”ایک شخص دوسرے کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود وہاں بیٹھ جائے، بلکہ تم کشادگی اور وسعت اختیار کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 586]

14

Sahih Ibn Hibban #14

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَمِيلٍ الْمَرْوَزِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، وَيُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ الْمُسْلِمِينَ بَيْنَا هُمْ فِي صَلاةِ الْفَجْرِ يَوْمَ الاثْنَيْنِ وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِهِمْ ، لَمْ يَفْجَأْهُمْ إِِلا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ كَشَفَ سِتْرَ حُجْرَةَ عَائِشَةَ ، فَنَظَرَ إِِلَيْهِمْ وَهُمْ صُفُوفٌ فِي صَلاتِهِمْ ، ثُمَّ تَبَسَّمَ فَضَحِكَ ، فَنَكَصَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى عَقِبِهِ لِيَصِلَ الصَّفَّ ، وَظَنَّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ أَنْ يَخْرُجَ إِِلَى الصَّلاةِ ، قَالَ أَنَسٌ : وَهَمَّ الْمُسْلِمُونَ أَنْ يَفْتَتِنُوا فِي صَلاتِهِمْ فَرَحًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَأَوْهُ ، فَأَشَارَ إِِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِ اقْضُوا صَلاتَكُمْ ، ثُمَّ دَخَلَ الْحُجْرَةَ ، وَأَرْخَى السِّتْرَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ ، وَتُوُفِّيَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ الْيَوْمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی شخص کسی دوسرے کو اس کی جگہ سے ہرگز نہ اٹھائے کہ خود وہاں بیٹھ جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 587]

14

Sahih Ibn Hibban #14

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَمَّا تَغَشَّى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَرْبُ كَانَ رَأْسُهُ فِي حِجْرِ فَاطِمَةَ ، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ : وَا كَرْبَاهُ لِكَرْبِكَ الْيَوْمَ يَا أَبَتَاهُ ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ : لا كَرْبَ عَلَى أَبِيكِ بَعْدَ الْيَوْمِ يَا فَاطِمَةُ "، فَلَمَّا تُوُفِّيَ قَالَتْ فَاطِمَةُ : وَا أَبَتَاهُ أَجَابَ رَبًّا دَعَاهُ ، وَا أَبَتَاهُ مِنْ رَبِّهِ مَا أَدْنَاهُ ، وَا أَبَتَاهُ إِِلَى جَنَّةِ الْفِرْدَوْسِ مَأْوَاهُ ، وَا أَبَتَاهُ إِِلَى جِبْرِيلَ أَنْعَاهُ ، قَالَ أَنَسٌ : فَلَمَّا دَفَنَّاهُ ، مَرَرْتُ بِمَنْزِلِ فَاطِمَةَ ، فَقَالَتْ : يَا أَنَسُ ، أَطَابَتْ أَنْفُسُكُمْ أَنْ تَحْثُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ التُّرَابَ ؟"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب بھی کچھ لوگ کسی جگہ پر بیٹھتے ہیں اور وہ وہاں اللہ کا ذکر نہیں کرتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہیں بھیجتے، تو یہ چیز قیامت کے دن ان کے لیے حسرت کا باعث ہو گی، اگرچہ وہ لوگ جنت میں داخل ہو جائیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 592]

14

Sahih Ibn Hibban #14

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ عَامَ تَبُوكَ بِالْحِجْرِ عِنْدَ بُيُوتِ ثَمُودَ ، فَاسْتَقَى النَّاسُ مِنَ الآبَارِ الَّتِي كَانَتْ تَشْرَبُ مِنْهَا ثَمُودُ ، فَنَصَبُوا الْقُدُورَ ، وَعَجَنُوا الدَّقِيقَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اكْفِئُوا الْقُدُورَ ، وَاعْلِفُوا الْعَجِينَ الإِِبِلَ " ، ثُمَّ ارْتَحَلَ ، حَتَّى نَزَلَ فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي كَانَتْ تَشْرَبُ مِنْهُ النَّاقَةُ ، وَقَالَ : " لا تَدْخُلُوا عَلَى هَؤُلاءِ الْقَوْمِ الَّذِينَ عُذِّبُوا ، فَيُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے: ”اے اللہ میں ایسے علم سے تیری پناہ مانگتا ہوں، جو نفع نہ دے اور ایسے عمل سے جو بلند نہ ہو، اور ایسے دل سے، جو ڈرے نہیں اور ایسی بات سے، جو سنی نہ جائے۔ (ان سب سے تیری پناہ مانگتا ہوں)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 83]

14

Sahih Ibn Hibban #14

أَخْبَرَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَنَدِيُّ بِمَكَّةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زِيَادٍ اللَّحَجِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو قُرَّةَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اخْتَتَنَ إِِبْرَاهِيمُ بِالْقَدُومِ وَهُوَ ابْنُ عِشْرِينَ وَمِائَةِ سَنَةٍ ، وَعَاشَ بَعْدَ ذَلِكَ ثَمَانِينَ سَنَةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص علم کے حصول کے راستے پہ چلتا ہے،اللہ تعالیٰ اس شخص کے لئے جنت کے راستے کو آسان کر دیتا ہے، اور جس شخص کا عمل اسے سست کر دے۔ اس کا نسب اسے تیز نہیں کر سکتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 84]""

15

Sahih Ibn Hibban #15

قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : قَالَ سَالِمٌ : وَسَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : انْطَلَقَ بَعْدَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ إِِلَى النَّخْلِ الَّتِي فِيهَا ابْنُ صَيَّادٍ ، حَتَّى إِِذَا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ النَّخْلَ ، طَفِقَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ ، وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَسْمَعَ مِنِ ابْنِ صَيَّادٍ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ ابْنُ صَيَّادٍ ، فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشٍ فِي قَطِيفَةٍ لَهُ فِيهَا زَمْزَمَةٌ ، فَرَأَتْ أُمُّ ابْنِ صَيَّادٍ رَسُولَ اللَّهِ وَهُوَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ ، فَقَالَتْ لابْنِ صَيَّادٍ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ : لَوْ تَرَكْتِيهِ ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ : فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ فِي النَّاسِ ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ، ثُمَّ ذَكَرَ الدَّجَّالَ ، فَقَالَ : إِِنِّي أُنْذِرُكُمُوهُ ، مَا مِنْ نَبِيٍّ إِِلا قَدْ أَنْذَرَ قَوْمَهُ ، لَقَدْ أَنْذَرَ نُوحٌ قَوْمَهُ ، وَلَكِنِّي أَقُولُ لَكُمْ فِيهِ قَوْلا لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ : تَعَلَّمُوا أَنَّهُ أَعْوَرُ ، وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حدیبیہ میں صبح کی نماز پڑھائی اس سے پہلے رات کے وقت بارش ہو چکی تھی جب آپ نے نماز مکمل کی تو آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا: کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو؟ تمہارے پروردگار نے کیا بات ارشاد فرمائی ہے؟ لوگوں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ میرے کچھ بندے مجھ پر ایمان رکھتے ہیں اور کچھ بندے کافر ہیں، جو شخص یہ کہے:اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت کی وجہ سے ہم پر بارش نازل ہوئی ہے، تو وہ مجھ پر ایمان رکھتا ہے، اور ستاروں کا انکار کرتا ہے، اور جو شخص یہ کہے: فلاں اور فلاں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش نازل ہوئی ہے، تو وہ شخص میرا انکار کرتا ہے، اور ستاروں پر ایمان رکھتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 188]

15

Sahih Ibn Hibban #15

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا يَزَالُ هَذَا الأَمْرُ فِي قُرَيْشٍ مَا بَقِيَ فِي النَّاسِ اثْنَانِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: وحی کے آغاز میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سچے خواب دکھائی دینے لگے، جو آپ نیند کی حالت میں دیکھتے تھے۔ آپ جو بھی خواب دیکھتے تھے، وہ صبح کے نمودار ہونے کی مانند پورا ہو جاتا تھا، پھر آپ کی طبیعت خلوت کی طرف مائل کر دی گئی۔ آپ غار حرا تشریف لے جاتے تھے اور وہاں تحنث“ کرتے تھے۔ (راوی کہتے ہیں) یعنی آپ وہاں متعدد راتوں تک عبادت کرتے رہتے تھے۔ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا زادراہ ساتھ لے جایا کرتے تھے، پھر واپس سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آتے تھے۔ وہ اسی کی مانند مزید زادراہ تیار کر دیتی تھیں۔ یہاں تک کہ اچانک ایک دن حق آپ کے پاس آ گیا۔ آپ اس وقت غار حرا میں موجود تھے۔ وہاں فرشتہ آپ کے پاس آیا اور بولا: آپ پڑھئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: میں نے جواب دیا میں نہیں پڑھوں گا۔ نبی اکرم فرماتے ہیں: اس نے مجھے پکڑ لیا۔ اس نے مجھے بھینچ لیا۔ یہاں تک کہ مجھے دقت کا سامنا کرنا پڑا۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا، پھر اس نے مجھ سے کہا: آپ پڑھئے۔ میں نے کہا: میں نہیں پڑھوں گا۔ اس نے پھر مجھے پکڑ لیا اور دوسری مرتبہ مجھے بھینچ لیا۔ یہاں تک کہ مجھے دقت کا سامنا کرنا پڑا پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور بولا: آپ پڑھیے! میں نے کہا: میں نہیں پڑھوں گا۔ پھر اس نے مجھے پکڑ لیا اور مجھے تیسری مرتبہ بھینچ لیا۔ یہاں تک کہ مجھے دقت کا سامنا کرنا پڑا۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور بولا: ”آپ اپنے پروردگار کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے پڑھئے، جس نے پیدا کیا ہے۔“ یہ آیات یہاں تک ہیں: ”جو وہ نہیں جانتا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (یا راوی کہتے ہیں) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس واپس تشریف لائے، تو آپ کے جسم پر کپکپی طاری تھی۔ آپ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: مجھے اوڑھنے کے لئے کچھ دو! انہوں نے آپ کو اوڑھنے کے لئے کوئی چیز دے دی۔ یہاں تک کہ جب آپ کی یہ کیفیت ختم ہو گئی، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”اے خدیجہ! میرے ساتھ کیا ہوا ہے؟ پھر آپ نے انہیں پوری بات بتائی۔ آپ نے ارشاد فرمایا: مجھے اپنی ذات کے بارے میں اندیشہ ہے، تو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہرگز نہیں۔ آپ کے لئے خوشخبری ہے، اللہ کی قسم!اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی بھی رسوا نہیں کرے گا۔ بے شک آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں، بوجھ اٹھاتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں، حق کے کاموں میں مدد کرتے ہیں۔“ پھر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لے کر ورقہ بن نوفل کے پاس آئیں، جو ان کے چچا تھے، یہ صاحب زمانہ جاہلیت میں عیسائی ہو گئے تھے اور عربی میں تحریر کیا کرتے تھے۔ انہوں نے انجیل کا کچھ حصہ عربی میں نوٹ کیا ہوا تھا۔ یہ ایک بڑی عمر کے صاحب تھے، جو نابینا ہو چکے تھے۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: اے میرے چچا! آپ اپنے بھتیجے کی بات سنئے ورقہ نے کہا: اے میرے بھتیجے! تم نے کیا دیکھا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات دیکھی تھی اس کے بارے میں انہیں بتایا تو ورقہ نے کہا: یہ وہ ناموس (فرشتہ) ہے، جو سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوا تھا۔ اے کاش کہ میں اس وقت موجود ہوتا، یا اس وقت زندہ ہوتا جب آپ کی قوم آپ کو (مکہ سے) نکال دیتی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا وہ لوگ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے جواب دیا: جی ہاں۔ آپ جو چیز لے کر آئے ہیں، اس طرح کی چیز جو بھی (نبی) لے کر آیا، تو اس سے دشمنی کی گئی اور اسے اذیت پہنچائی گئی۔ اگر مجھے وہ دن دیکھنے کو ملا، تو میں (اس موقعہ پر) آپ کی بھرپور مدد کروں گا۔ (راوی کہتے ہیں) اس کے کچھ عرصے کے بعد ورقہ کا انتقال ہو گیا۔ پھر وحی کے نزول کا سلسلہ منقطع ہو گیا۔ یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غمگین ہو گئے۔ آپ کی یہ کیفیت اتنی شدید ہوئی کہ آپ کئی مرتبہ پہاڑ سے چھلانگ لگانے کے ارادے سے تشریف لے گئے۔ جب بھی آپ پہاڑ کی چوٹی سے خود کو نیچے گرانے کا ارادہ کرتے تو جبرائیل علیہ السلام آپ کے سامنے آ جاتے اور آپ سے یہ کہتے: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ اس وجہ سے آپ کی بے چینی کو سکون آ جاتا اور آپ کی جان کو قرار آ جاتا۔ اور آپ واپس تشریف لے آتے، جب وحی کے انقطاع کا سلسلہ طویل ہو گیا، تو ایک مرتبہ آپ اس کی مانند تشریف لے گئے۔ جب آپ پہاڑ کی چوٹ پر پہنچے تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ کے سامنے آئے اور انہوں نے آپ کے سامنے اسی کی مانند بات کہی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الوحي/حدیث: 33]""

15

Sahih Ibn Hibban #15

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَن رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : سَيَكُونُ بَعْدِي خُلَفَاءُ يَعْمَلُونَ بِمَا يَعْلَمُونَ ، وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ ، ثُمَّ يَكُونُ مِنْ بَعْدِهِمْ خُلَفَاءُ يَعْمَلُونَ بِمَا لا يَعْلَمُونَ ، وَيَفْعَلُونَ مَا لا يُؤْمَرُونَ ، فَمَنْ أَنْكَرَ عَلَيْهِمْ فَقَدْ بَرِئَ ، وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی: ”اہل ایمان میں سے بیٹھے ہوئے لوگ برابر نہیں ہیں“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ کو بلوایا۔ وہ کندھے (کی ہڈی) لے کر آئے اور انہوں نے اس پر یہ آیت تحریر کر دی۔ سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے اپنے نابینا ہونے کی شکایت کی تو یہ آیت نازل ہوئی: ”جنہیں کوئی ضرر لاحق نہ ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الوحي/حدیث: 42]

15

Sahih Ibn Hibban #15

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ الْجَوْهَرِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ خَيْثَمَةَ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : يَكُونُ بَعْدِي اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ " ، فَلَمَّا رَجَعَ إِِلَى مَنْزِلِهِ ، أَتَتْهُ قُرَيْشٌ ، قَالُوا : ثُمَّ يَكُونُ مَاذَا ؟ قَالَ : " ثُمَّ يَكُونُ الْهَرْجُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ نے کس وجہ سے سورہ انفال اور سورہ توبہ کو ایک ساتھ ملا دیا ہے؟ حالانکہ سورہ توبہ دو سو آیات والی سورت ہے، اور سورہ انفال مثانی میں سے ہے۔ آپ نے دونوں کو ملا دیا؟ تو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب بھی قرآن کی کوئی آیت نازل ہوتی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی لکھنے والے کو بلا لیتے تھے اور پھر آپ ان سے یہ فرماتے تھے، تم ان کو اس سورت میں شامل کر دو، جس میں فلاں چیز کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ تو سورہ انفال بھی مدینہ منورہ میں نازل ہوئی اور سورہ تو یہ بھی مدینہ منورہ میں نزول کے اعتبار سے آخری زمانے میں نازل ہوئی۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا، تو آپ نے یہ نہیں بتایا تھا کہ ہم انہیں کہاں رکھیں، تو میں نے یہ بابت پائی کہ اس کا واقعہ سورہ انفال کے واقعہ کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے۔ اس لئے میں نے ان دونوں کو ملا دیا ہے، اور ہم نے ان دونوں کے درمیان ” «بسم اللہ الرحمن» کی سطر نہیں لکھی ہے۔ میں نے انہیں سات طویل سورتوں میں شامل کر دیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الوحي/حدیث: 43]

15

Sahih Ibn Hibban #15

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَمْدَانَ بْنِ مُوسَى التُّسْتَرِيُّ بِعَبَّدَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يُوشِكُ الْفُرَاتُ أَنْ يَحْسِرَ عَنْ كَنْزٍ مِنْ ذَهَبٍ ، فَمَنْ حَضَرَهُ فَلا يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا "، حَدَّثَنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ حَمْدَانَ ، فِي عَقِبِهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ إِِلا أَنَّهُ ، قَالَ : " يَحْسِرُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص ہماری اس مسجد میں بھلائی کا علم حاصل کرنے کے لئے، اس کی تعلیم دینے کے لئے آتا ہے، وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے شخص کی مانند ہے، اور جو شخص اس میں، اس کی بجائے کسی اور وجہ سے آتا ہے، تو اس کی مثال اس شخص کی مانند ہے، جو اس چیز پر نظر رکھے ہوئے ہو، جو اس کی نہ ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 87]

16

Sahih Ibn Hibban #16

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أَصَابَنِي جَهْدٌ شَدِيدٌ ، فَلَقِيتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَاسْتَقْرَأْتُهُ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ ، فَدَخَلَ دَارَهُ وَفَتَحَهَا عَلَيَّ ، قَالَ : فَمَشَيْتُ غَيْرَ بَعِيدٍ ، فَخَرَرْتُ لِوَجْهِي مِنَ الْجَهْدِ ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِي ، فَقَالَ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ " ، قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ ، قَالَ :فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَقَامَنِي وَعَرَفَ الَّذِي بِي ، فَانْطَلَقَ إِلَى رَحْلِهِ ، فَأَمَرَ لِي بِعُسٍّ مِنْ لَبَنٍ ، فَشَرِبْتُ ، ثُمَّ قَالَ : " عُدْ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ " ، فَعُدْتُ ، فَشَرِبْتُ حَتَّى اسْتَوَى بَطْنِي وَصَارَ كَالْقِدْحِ ، قَالَ : وَرَأَيْتُ عُمَرَ فَذَكَرْتُ الَّذِي كَانَ مِنْ أَمْرِي ، وَقُلْتُ لَهُ : مَنْ كَانَ أَحَقَّ بِهِ مِنْكَ يَا عُمَرُ ؟ وَاللَّهِ لَقَدِ اسْتَقْرَأْتُكَ الآيَةَ ، وَلأَنَا أَقْرَأُ لَهَا مِنْكَ ، قَالَ عُمَرُ : وَاللَّهِ لأَنْ أَكُونَ أَدْخَلْتُكَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَكُونَ لِي حُمْرُ النَّعَمِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: ایک مرتبہ ان کی اور حر بن قیس فزاری کی سیدنا موسی علیہ السلام کے ساتھی کے بارے میں ملاقات ہو گئی (یعنی جن سے ملنے کے لئے سیدنا موسیٰ علیہ السلام گئے تھے)۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا کہنا تھا: وہ سیدنا خضر علیہ السلام تھے۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ دونوں صاحبان کے پاس سے گزرے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے انہیں بلایا اور بولے: اے ابوطفیل! آپ ہمارے پاس تشریف لائے۔ میری اور میرے اس ساتھی کی سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے واقعے والے ان صاحب کے بارے میں بحث ہو گئی ہے، جس کے بارے میں سیدنا موسی علیہ السلام نے یہ دعا مانگی تھی کہ ان سے ملاقات کا راستہ مل جائے، تو کیا آپ نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”ایک مرتبہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام، بنی اسرائیل کے ایک گروہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اسی دوران ایک شخص ان کے پاس آیا اور ان سے دریافت کیا: کیا آپ کسی ایسے شخص سے واقف ہیں؟ جو آپ سے زیادہ علم رکھتا ہو؟ تو سیدنا موسی علیہ السلام نے جواب دیا: جی نہیں۔ تواللہ تعالیٰ نے سیدنا موسی علیہ السلام کی طرف وحی کی (ایسا نہیں ہے) بلکہ ہمارا بندہ خضر (تم سے زیادہ علم رکھتا ہے) تو سیدنا موسی علیہ السلام نے ان سے ملاقات کی دعا مانگی،اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو ان کے لئے نشانی قرار دیا ان سے یہ کہا: گیا: جب تم مچھلی کو گم کرو گے، تو تم واپسی کی طرف آنا تمہاری اس سے ملاقات ہو جائے گی۔ تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام روانہ ہوئے اور جتنا اللہ کو منظور تھا وہ چلتے رہے۔ انہوں نے اپنے ساتھی سے کہا: ہمارا کھانا ہمارے پاس لے کر آؤ، تو اس نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے کہا: اس وقت جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کھانا طلب کیا تھا، کیا آپ نے یہ بات ملاحظہ فرمائی؟ جب ہم چٹان کے سائے میں آئے تھے، تو میں مچھلی کو بھول گیا تھا۔ اور اس کا ذکر کرنا مجھے شیطان نے ہی بھلایا تھا۔ تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اپنے ساتھی سے کہا: یہ وہ جگہ ہے، جسے ہم تلاش کر رہے تھے، تو وہ دونوں اپنے قدموں کے نشانات پر چلتے ہوئے واپس آئے، تو ان دونوں نے سیدنا خضر علیہ السلام کو پا لیا، پھر ان دونوں کا وہ واقعہ ہے، جواللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 102]

16

Sahih Ibn Hibban #16

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : أَلا يُعْجِبُكَ أَبُو هُرَيْرَةَ ؟ جَاءَ فَجَلَسَ إِلَى بَابِ حُجْرَتِي يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْمِعُنِي ذَلِكَ ، وَكُنْتُ أُسَبِّحُ ، فَقَامَ قَبْلَ أَنْ أَقْضِيَ سُبْحَتِي ، وَلَوْ أَدْرَكْتُهُ لَرَدَدْتُ عَلَيْهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَلَمْ يَكُنْ يَسْرُدُ الْحَدِيثَ كَسَرْدِكُمْ

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے۔ ایک دیہاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے دریافت کیا: قیامت کب آئے گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات جاری رکھی۔ حاضرین میں سے بعض حضرات نے یہ سمجھا کہ اس دیہاتی نے جو کہا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سن لی ہے، اور آپ نے اس کے سوال کو پسند نہیں کیا۔ جبکہ بعض نے یہ سمجھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بات سنی ہی نہیں ہے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات مکمل کر لی تو آپ نے دریافت کیا: قیامت کے بارے میں دریافت کرنے والا شخص کہاں ہے؟ اس نے عرض کی: میں یہاں ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امانت کو ضائع کیا جائے، تو تم قیامت کا انتظار کرو۔ اس نے دریافت کیا: اس کو ضائع کرنے سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب معاملہ شدید ہو جائے، تو تم قیامت کا انتظار کرو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 104]

16

Sahih Ibn Hibban #16

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، عَنِ ابْنِ شَفِيعٍ وَكَانَ طَبِيبًا قَالَ : دَعَانِي أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ ، فَقُطَعْتُ لَهُ عِرْقَ النَّسَا ، فَحَدَّثَنِي بِحَدِيثَيْنِ ، قَالَ : أَتَانِي أَهْلُ بَيْتَيْنِ مِنْ قَوْمِي : أَهْلُ بَيْتٍ مِنْ بَنِي ظَفَرٍ ، وَأَهْلُ بَيْتٍ مِنْ بَنِي مُعَاوِيَةَ ، فَقَالُوا : كَلِّمِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمْ لَنَا أَوْ يُعْطِينَا ، فَكَلَّمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : نَعَمْ ،أَقْسِمُ لأَهْلِ كُلِّ بَيْتٍ مِنْهُمْ شَطْرًا ، وَإِنْ عَادَ اللَّهُ عَلَيْنَا عُدْنَا عَلَيْهِمْ " ، قَالَ : قُلْتُ : جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " وَأَنْتُمْ فَجَزَاكُمُ اللَّهُ خَيْرًا ، فَإِنَّكُمْ مَا عَلِمْتُكُمْ أَعِفَّةٌ صُبُرٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی الله عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جہنم میں لوگوں کو ڈالا جائے گا، تو جہنم کہے گی: کیا اور لوگ ہیں؟ یہاں تک کہ پروردگار اپنا قدم اس پر رکھ دے گا، تو وہ کہے گی: بس، بس۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ ان روایات میں سے ایک ہے، جس میں مجاور ت کی مثال کا اطلاق کیا گیا ہے، اور اس کی صورت یہ ہے: قیامت کے دن کچھ لوگوں اور جگہوں کو جہنم میں ڈال دیا جائیگا وہ جگہیں جہاںاللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جاتی تھی جہنم مزید کے حصول کا تقاضا کرتی رہے گی، یہاں تک کہ پروردگار کفار اور جگہوں میں سے ایک جگہ جہنم میں ڈال دے گا، تو وہ بھر جائے گی۔ تو جہنم کہے گی: بہت ہے بہت ہے اس سے مراد یہ ہے: یہ میرے لئے کافی ہے یہ میرے لیے کافی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے: عرب بعض اوقات لفظ ”قدم“ کو اپنی لغت میں ”جگہ“ کے لئے استعمال کرتے ہیں جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ”ان کے لئے ان کے پروردگار کی بارگاہ میں سچائی کا مقام ہو گا“ اس سے مراد سچائی کا مقام ہے اس سے یہ مراد نہیں ہے کہاللہ تعالیٰ اپنا پاؤں جہنم میں رکھ دے گا۔ ہمارا پروردگار اس سے اور اس جیسی دیگر چیزوں سے بلند و برتر ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 268]

16

Sahih Ibn Hibban #16

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُصْعَبٍ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : رَأَيْتُ الْحَجَّاجَ يَضْرِبُ عَبَّاسَ بْنَ سَهْلٍ فِي إِمْرَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ ، فَأَتَاهُ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ ، لَهُ ضَفِيرَتَانِ ، وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ إِزَارٌ وَرِدَاءٌ ، فَوَقَفَ بَيْنَ السِّمَاطَيْنِ ، فَقَالَ : يَا حَجَّاجُ ، أَلا تَحْفَظُ فِينَا وَصِيَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : وَمَا أَوْصَى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيكُمْ ؟ قَالَ : أَوْصَى أَنْ يُحْسَنَ إِلَى مُحْسِنِ الأَنْصَارِ ، وَيُعْفَى عَنْ مُسِيئِهِمْ"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص لوگوں کی ناراضگی کے ہمراہاللہ تعالیٰ کی رضا مندی تلاش کرتا ہےاللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو جاتا ہے، اور لوگوں کو اس سے راضی کر دیتا ہے، اور جو شخصاللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے ساتھ، لوگوں کی رضامندی تلاش کرتا ہے، تواللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہوتا ہے، اور لوگوں کو بھی اس سے ناراض کر دیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 276]

16

Sahih Ibn Hibban #16

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِغِفَارٍ : غَفَرَ اللَّهُ لَهَا ، وَأَسْلَمَ سَالَمَهَا اللَّهُ ، وَعُصَيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”لوگوں کا خوف کسی بھی شخص کو حق بات کہنے سے منع نہ کرے، جب آدمی اسے دیکھے یا یہ بات جان لے کہ (یہاں حق بات کہنا بنتا ہے)“ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم پر مسلسل آزمائشیں وارد ہوتی رہیں۔ یہاں تک کہ ہم سے کوتاہی ہوئی۔ اب ہم بری صورتحال کا شکار ہو چکے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 278]

16

Sahih Ibn Hibban #16

قَالَ شُعْبَةُ : وَحَدَّثَنِي سَيِّدُ بَنِي تَمِيمٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ الضَّبِّيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَتْ أَسْلَمُ ، وَغِفَارُ ، وَجُهَيْنَةُ ، وَمُزَيْنَةُ خَيْرًا مِنْ بَنِي تَمِيمٍ ، وَبَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ ، وَأَسَدٍ ، وَغَطَفَانَ أَخَابُوا وَخَسِرُوا ؟ " ، قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : " فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُمْ خَيْرٌ مِنْهُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم نو افراد تھے، جن میں سے پانچ ایک قسم کے تھے اور چار دوسری قسم کے تھے۔ ان دونوں میں سے ایک گروہ عربی تھا، اور دوسرے عجمی تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ”تم لوگ غور سے سنو (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) کیا تم لوگ سن رہے ہو؟ میرے بعد حکمران آئیں گے، جو شخص ان کے پاس جائے گا اور ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے گا اور ان کے ظلم میں ان کی مدد کرے گا، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔ میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔ وہ میرے حوض پر نہیں آ سکے گا۔ اور جو شخص ان کے جھوٹ کی تصدیق نہیں کرے گا، ان کے ظلم میں ان کی مدد نہیں کرے گا، اس کا مجھ سے تعلق ہو گا اور میرا اس سے تعلق ہو گا اور وہ میرے حوض پر میرے پاس آ سکے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 279]

16

Sahih Ibn Hibban #16

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَامِرٍ الأَحْوَلِ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّالْمُؤْمِنَ إِذَا اشْتَهَى الْوَلَدَ فِي الْجَنَّةِ ، كَانَ حَمْلُهُ ، وَوَضْعُهُ ، وَشَبَابُهُ ، كَمَا يَشْتَهِي فِي سَاعَةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف خود کو منسوب کرے یا اپنے آزاد کرنے والے آقا کے علاوہ کسی اور کی طرف خود کو منسوب کرے، تو ایسے شخص پراللہ تعالیٰ، تمام فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 417]

16

Sahih Ibn Hibban #16

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ دَرَّاجًا حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : وَفُرُشٍ مَرْفُوعَةٍ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنَّ ارْتِفَاعَهَا لَكَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ ، وَإِنَّ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ لِمَسِيرَةِ خَمْسِ مِئَةِ سَنَةٍ"""

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: بنو سلمہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ انتقال کر چکے ہیں۔ کیا ان کے انتقال کے بعد ان کے ساتھ نیکی کرنے کی کوئی صورت ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں! تم ان کے لئے دعائے رحمت کرو ان کے لئے دعائے مغفرت کرو اور ان کے بعد ان کے کئے ہوئے عہد کو پورا کرو۔ ان کے دوستوں کی عزت افزائی کرو ان کے رشتے داروں کے حقوق کا خیال رکھو وہ رشتے دار جن کے ساتھ تمہارا رشتہ صرف انہی کے حوالے سے ہے۔ اس شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ کتنی زبردست اور عمدہ بات ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس پر عمل کرو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 418]

16

Sahih Ibn Hibban #16

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي خُزَيْمَةُ بْنُ ثَابِتِ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الَّذِي جَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهَادَتَهُ بِشَهَادَةِ رَجُلَيْنِ ، أَنَّ خُزَيْمَةَ بْنَ ثَابِتٍأُرِيَ فِي النَّوْمِ أَنَّهُ سَجَدَ عَلَى جَبْهَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَى خُزَيْمَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَحَدَّثَهُ ، قَالَ : فَاضْطَجَعَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : صَدِّقْ رُؤْيَاكَ " ، فَسَجَدَ عَلَى جَبْهَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مدینہ منورہ کے ایک کھیت سے گزر رہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کی ایک شاخ سے ٹیک لگا کر (چل رہے تھے) کچھ یہودی وہاں سے گزرے، تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: اگر تم ان سے کوئی سوال کرو (تو یہ مناسب ہو گا) تو ایک نے کہا: تم ان سے سوال نہ کرو، کیونکہ وہ تمہیں کوئی ایسا جواب بھی دے سکتے ہیں، جو تمہیں پسند نہ آئے۔ پھر ان لوگوں نے کہا: اے سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ہمیں روح کے بارے میں بتائیے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر تک کھڑے ہو کر وحی کا انتظار کرتے رہے۔ مجھے اندازہ ہو گیا کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ اس لئے میں آپ سے پیچھے ہٹ گیا۔ یہاں تک کہ جب وحی نازل ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی۔ ”لوگ تم سے روح کے بارے میں دریافت کرتے ہیں: تم فرما دو! روح میرے پروردگار کے امر کا نتیجہ ہے، اور تم لوگوں کو تھوڑا سا علم دیا گیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 98]

22

Sahih Ibn Hibban #22

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : قَالَ اللَّهُ : يَسُبُّ ابْنُ آدَمَ الدَّهْرَ ، وَأَنَا الدَّهْرُ ، بِيَدِي اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ آوازیں سنیں۔ آپ نے دریافت کیا: یہ کس بات کی آوازیں ہیں؟ لوگوں نے عرض کی: لوگ کھجوروں کی پیوند کاری کر رہے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر وہ ایسا نہ کریں، تو یہ زیادہ بہتر ہو گا۔ (راوی کہتے ہیں) تو وہ لوگ اس عمل سے باز آ گئے۔ انہوں نے اس سال پیوندکاری نہیں کی تو پیداوار ٹھیک نہیں ہوئی۔ اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: اگر تمہارا کوئی دنیاوی معاملہ ہو، تو اسے تم خود سنبھالو اور اگر کوئی دینی معاملہ ہو، تو وہ میری طرف آئے گا۔ [صحیح ابن حبان/المقدمة/حدیث: 22]""

23

Sahih Ibn Hibban #23

قَالَ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : يَقُولُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا : يُؤْذِينِي ابْنُ آدَمَ ، يَسُبُّ الدَّهْرَ ، وَأَنَا الدَّهْرُ ، بِيَدِي الأَمْرُ ، أُقَلِّبُ لَيْلَهُ وَنَهَارَهُ ، فَإِذَا شِئْتُ قَبَضْتُهُمَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے، تو لوگ کھجوروں کی پیوندکاری کیا کرتے تھے۔ لوگ اسے پیوندکاری کا نام دیتے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا۔ تم لوگ کیا کرتے ہو؟ لوگوں نے عرض کی: یہ ایک ایسا طریقہ ہے، جو وہ لوگ پہلے استعمال کیا کرتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تم یہ نہ کرو، تو یہ زیادہ بہتر ہے، تو لوگوں نے اسے ترک کر دیا، تو پیداوار کم ہو گئی۔ لوگوں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں ایک انسان ہوں، جب میں تمہارے سامنے کسی دینی معاملے کے بارے میں کوئی چیز بیان کروں، تو تم اسے اختیار کر لو اور جب میں تمہارے سامنے کسی دنیاوی معاملے کے بارے میں کوئی چیز بیان کروں، تو میں ایک انسان ہوں۔“ عکرمہ کہتے ہیں: یہ یا اس کی مانند الفاظ ہیں۔ ابونجاشی (نامی راوی) سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کا غلام ہے اور اس کا نام عطاء بن صہیب ہے۔ یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/المقدمة/حدیث: 23]""

29

Sahih Ibn Hibban #29

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ مُسَافِعٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو بَكْرَةَ : أَكْثَرَ النَّاسِ فِي شَأْنِ مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ، ثُمَّ قَالَ : أَمَّا بَعْدُ ، فِيشَأْنِ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي قَدْ أَكْثَرْتُمْ فِي شَأْنِهِ ، فَإِِنَّهُ كَذَّابٌ مِنْ ثَلاثِينَ كَذَّابًا يَخْرُجُونَ قَبْلَ الدَّجَّالِ ، وَإِِنَّهُ لَيْسَ بَلَدٌ إِِلا يَدْخُلُهُ رُعْبُ الْمَسِيحِ ، إِِلا الْمَدِينَةَ عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْ أَنْقَابِهَا مَلَكَانِ يَذُبَّانِ عَنْهَا رُعْبَ الْمَسِيحِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص کوئی بات بیان کرے اور وہ یہ بات جانتا ہو کہ یہ بات جھوٹ ہے، تو وہ شخص بھی جھوٹوں میں سے ایک ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/المقدمة/حدیث: 29]""

30

Sahih Ibn Hibban #30

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : رَأَيْتُ فِيَ يَدَيَّ سِوَارَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ ، فَنَفَخْتُهُمَا ، فَطَارَا ، فَأَوَّلْتُهُمَا الْكَذَّابَيْنِ : مُسَيْلِمَةَ وَالْعَنْسِيَّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے ارشاد فرمایا ہے: ”آدمی کے گناہ گار ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے، وہ ہر سنی ہوئی بات کو (آگے) بیان کر دے۔ [صحیح ابن حبان/المقدمة/حدیث: 30]""

31

Sahih Ibn Hibban #31

فَحَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ ، أُرِيتُ كَأَنَّ فِي يَدَيَّ سِوَارَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ ، فَأَهَمَّنِي شَأْنُهُمَا ، فَأُوحِيَ إِِلَيَّ أَنِ انْفُخْهُمَا ، فَنَفَخْتُهُمَا ، فَطَارَا ، فَأَوَّلْتُهُمَا الْكَذَّابَيْنِ يَخْرُجَانِ بَعْدِي : الْعَنْسِيَّ صَاحِبَ صَنْعَاءَ ، وَمُسَيْلِمَةَ صَاحِبَ الْيَمَامَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص جان بوجھ کر میری طرف جھوٹی بات منسوب کرے، وہ جہنم میں اپنی مخصوص جگہ پر پہنچنے کے لئے تیار رہے۔“ [صحیح ابن حبان/المقدمة/حدیث: 31]""

33

Sahih Ibn Hibban #33

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ :أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّادِقَةُ يَرَاهَا فِي النَّوْمِ ، فَكَانَ لا يَرَى رُؤْيَا إِلا جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ ، ثُمَّ حُبِّبَ لَهُ الْخَلاءُ ، فَكَانَ يَأْتِي حِرَاءَ ، فَيَتَحَنَّثُ فِيهِ وَهُوَ التَّعَبُّدُ اللَّيَالِيَ ذَوَاتِ الْعِدَّةِ وَيَتَزَوَّدُ لِذَلِكَ ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى خَدِيجَةَ ، فَتُزَوِّدُهُ لِمِثْلِهَا ، حَتَّى فَجِئَهُ الْحَقُّ وَهُوَ فِي غَارِ حِرَاءَ ، فَجَاءَهُ الْمَلَكُ فِيهِ ، فَقَالَ : اقْرَأْ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَقُلْتُ : " مَا أَنَا بِقَارِئٍ " ، قَالَ : " فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ لِي : اقْرَأْ ، فَقُلْتُ : " مَا أَنَا بِقَارِئٍ " ، فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّانِيَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي ، فَقَالَ : اقْرَأْ ، فَقُلْتُ : " مَا أَنَا بِقَارِئٍ " ، فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّالِثَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي ، فَقَالَ : اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ حَتَّى بَلَغَ مَا لَمْ يَعْلَمْ ، قَالَ : فَرَجَعَ بِهَا تَرْجُفُ بَوَادِرُهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى خَدِيجَةَ ، فَقَالَ : " زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي " ، فَزَمَّلُوهُ حَتَّى ذَهَبَ عَنْهُ الرَّوْعُ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا خَدِيجَةُ مَا لِي ؟ " وَأَخْبَرَهَا الْخَبَرَ وَقَالَ : " قَدْ خَشِيتُهُ عَلَيَّ " ، فَقَالَتْ : كَلا أَبْشِرْ ، فَوَاللَّهِ لا يُخْزِيكَ الِلَّهِ أَبَدًا ، إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ ، وَتَصْدُقُ الْحَدِيثَ ، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ ، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ ، ثُمَّ انْطَلَقَتْ بِهِ خَدِيجَةُ حَتَّى أَتَتْ بِهِ وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلٍ ، وَكَانَ أَخَا أَبِيهَا ، وَكَانَ امْرَأً تَنَصَّرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، وَكَانَ يَكْتُبُ الْكِتَابَ الْعَرَبِيَّ ، فَيَكْتُبُ بِالْعَرَبِيَّةِ مِنَ الإِنْجِيلِ مَا شَاءَ أَنْ يَكْتُبَ ، وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ عَمِيَ ، فَقَالَتْ لَهُ خَدِيجَةُ : أَيْ عَمِّ ، اسْمَعْ مِنِ ابْنِ أَخِيكَ ، فَقَالَ وَرَقَةُ : ابْنَ أَخِي ، مَا تَرَى ؟ فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا رَأَى ، فَقَالَ وَرَقَةُ : هَذَا النَّامُوسُ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَى مُوسَى ، يَا لَيْتَنِي أَكُونُ فِيهَا جَذَعًا ، أَكُونُ حَيًّا حِينَ يُخْرِجُكَ قَوْمُكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمُخْرِجِيَّ هُمْ ؟ ! " قَالَ : نَعَمْ ، لَمْ يَأْتِ أَحَدٌ قَطُّ بِمَا جِئْتَ بِهِ إِلا عُودِيَ وَأُوذِيَ ، وَإِنْ يُدْرِكْنِي يَوْمُكَ أَنْصُرْكَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا ، ثُمَّ لَمْ يَنْشَبْ وَرَقَةُ أَنْ تُوُفِّيَ ، وَفَتَرَ الْوَحْيُ فَتْرَةً حَتَّى حَزِنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا بَلَغَنَا حُزْنًا غَدَا مِنْهُ مِرَارًا لِكَيْ يَتَرَدَّى مِنْ رُءُوسِ شَوَاهِقِ الْجِبَالِ ، فَكُلَّمَا أَوْفَى بِذِرْوَةِ جَبَلٍ كَيْ يُلْقِيَ نَفْسَهُ مِنْهَا تَبَدَّى لَهُ جِبْرِيلُ ، فَقَالَ لَهُ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ حَقًّا ، فَيَسْكُنُ لِذَلِكَ جَأْشُهُ ، وَتَقَرُّ نَفْسُهُ ، فَيَرْجِعُ ، فَطَالَ عَلَيْهِ فَتْرَةُ الْوَحْيِ غَدَا لِمِثْلِ ذَلِكَ ، فَأَوْفَى بِذِرْوَةِ الْجَبَلِ تَبَدَّى لَهُ جِبْرِيلُ فَيَقُولُ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: وحی کے آغاز میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سچے خواب دکھائی دینے لگے، جو آپ نیند کی حالت میں دیکھتے تھے۔ آپ جو بھی خواب دیکھتے تھے، وہ صبح کے نمودار ہونے کی مانند پورا ہو جاتا تھا، پھر آپ کی طبیعت خلوت کی طرف مائل کر دی گئی۔ آپ غار حرا تشریف لے جاتے تھے اور وہاں تحنث“ کرتے تھے۔ (راوی کہتے ہیں) یعنی آپ وہاں متعدد راتوں تک عبادت کرتے رہتے تھے۔ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا زادراہ ساتھ لے جایا کرتے تھے، پھر واپس سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آتے تھے۔ وہ اسی کی مانند مزید زادراہ تیار کر دیتی تھیں۔ یہاں تک کہ اچانک ایک دن حق آپ کے پاس آ گیا۔ آپ اس وقت غار حرا میں موجود تھے۔ وہاں فرشتہ آپ کے پاس آیا اور بولا: آپ پڑھئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: میں نے جواب دیا میں نہیں پڑھوں گا۔ نبی اکرم فرماتے ہیں: اس نے مجھے پکڑ لیا۔ اس نے مجھے بھینچ لیا۔ یہاں تک کہ مجھے دقت کا سامنا کرنا پڑا۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا، پھر اس نے مجھ سے کہا: آپ پڑھئے۔ میں نے کہا: میں نہیں پڑھوں گا۔ اس نے پھر مجھے پکڑ لیا اور دوسری مرتبہ مجھے بھینچ لیا۔ یہاں تک کہ مجھے دقت کا سامنا کرنا پڑا پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور بولا: آپ پڑھیے! میں نے کہا: میں نہیں پڑھوں گا۔ پھر اس نے مجھے پکڑ لیا اور مجھے تیسری مرتبہ بھینچ لیا۔ یہاں تک کہ مجھے دقت کا سامنا کرنا پڑا۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور بولا: ”آپ اپنے پروردگار کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے پڑھئے، جس نے پیدا کیا ہے۔“ یہ آیات یہاں تک ہیں: ”جو وہ نہیں جانتا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (یا راوی کہتے ہیں) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس واپس تشریف لائے، تو آپ کے جسم پر کپکپی طاری تھی۔ آپ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: مجھے اوڑھنے کے لئے کچھ دو! انہوں نے آپ کو اوڑھنے کے لئے کوئی چیز دے دی۔ یہاں تک کہ جب آپ کی یہ کیفیت ختم ہو گئی، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”اے خدیجہ! میرے ساتھ کیا ہوا ہے؟ پھر آپ نے انہیں پوری بات بتائی۔ آپ نے ارشاد فرمایا: مجھے اپنی ذات کے بارے میں اندیشہ ہے، تو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہرگز نہیں۔ آپ کے لئے خوشخبری ہے، اللہ کی قسم!اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی بھی رسوا نہیں کرے گا۔ بے شک آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں، بوجھ اٹھاتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں، حق کے کاموں میں مدد کرتے ہیں۔“ پھر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لے کر ورقہ بن نوفل کے پاس آئیں، جو ان کے چچا تھے، یہ صاحب زمانہ جاہلیت میں عیسائی ہو گئے تھے اور عربی میں تحریر کیا کرتے تھے۔ انہوں نے انجیل کا کچھ حصہ عربی میں نوٹ کیا ہوا تھا۔ یہ ایک بڑی عمر کے صاحب تھے، جو نابینا ہو چکے تھے۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: اے میرے چچا! آپ اپنے بھتیجے کی بات سنئے ورقہ نے کہا: اے میرے بھتیجے! تم نے کیا دیکھا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات دیکھی تھی اس کے بارے میں انہیں بتایا تو ورقہ نے کہا: یہ وہ ناموس (فرشتہ) ہے، جو سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوا تھا۔ اے کاش کہ میں اس وقت موجود ہوتا، یا اس وقت زندہ ہوتا جب آپ کی قوم آپ کو (مکہ سے) نکال دیتی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا وہ لوگ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے جواب دیا: جی ہاں۔ آپ جو چیز لے کر آئے ہیں، اس طرح کی چیز جو بھی (نبی) لے کر آیا، تو اس سے دشمنی کی گئی اور اسے اذیت پہنچائی گئی۔ اگر مجھے وہ دن دیکھنے کو ملا، تو میں (اس موقعہ پر) آپ کی بھرپور مدد کروں گا۔ (راوی کہتے ہیں) اس کے کچھ عرصے کے بعد ورقہ کا انتقال ہو گیا۔ پھر وحی کے نزول کا سلسلہ منقطع ہو گیا۔ یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غمگین ہو گئے۔ آپ کی یہ کیفیت اتنی شدید ہوئی کہ آپ کئی مرتبہ پہاڑ سے چھلانگ لگانے کے ارادے سے تشریف لے گئے۔ جب بھی آپ پہاڑ کی چوٹی سے خود کو نیچے گرانے کا ارادہ کرتے تو جبرائیل علیہ السلام آپ کے سامنے آ جاتے اور آپ سے یہ کہتے: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ اس وجہ سے آپ کی بے چینی کو سکون آ جاتا اور آپ کی جان کو قرار آ جاتا۔ اور آپ واپس تشریف لے آتے، جب وحی کے انقطاع کا سلسلہ طویل ہو گیا، تو ایک مرتبہ آپ اس کی مانند تشریف لے گئے۔ جب آپ پہاڑ کی چوٹ پر پہنچے تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ کے سامنے آئے اور انہوں نے آپ کے سامنے اسی کی مانند بات کہی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الوحي/حدیث: 33]""

34

Sahih Ibn Hibban #34

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا سَلَمَةَ : أَيُّ الْقُرْآنِ أُنْزِلَ أَوَّلَ ؟ ، قَالَ : يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ، قُلْتُ : إِنِّي نُبِّئْتُ أَنَّ أَوَّلَ سُورَةٍ أُنْزِلَتْ مِنَ الْقُرْآنِ : اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ : سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ : أَيُّ الْقُرْآنِ أُنْزِلَ أَوَّلَ ؟ قَالَ : يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ، فَقُلْتُ لَهُ : إِنِّي نُبِّئْتُ أَنَّ أَوَّلَ سُورَةٍ نَزَلَتْ مِنَ الْقُرْآنِ : اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ قَالَ جَابِرٌ : لا أُحَدِّثُكَ إِلا مَا حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : جَاوَرْتُ فِي حِرَاءَ ، فَلَمَّا قَضَيْتُ جِوَارِي نَزَلْتُ فَاسْتَبْطَنْتُ الْوَادِيَ ، فَنُودِيتُ ، فَنَظَرْتُ أَمَامِي ، وَخَلْفِي ، وَعَنْ يَمِينِي ، وَعَنْ شِمَالِي ، فَلَمْ أَرَ شَيْئًا ، فَنُودِيتُ ، فَنَظَرْتُ فَوْقِي ، فَأَنَا بِهِ قَاعِدٌ عَلَى عَرْشٍ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ ، فَجُئِثْتُ مِنْهُ ، فَانْطَلَقْتُ إِلَى خَدِيجَةَ ، فَقُلْتُ : دَثِّرُونِي دَثِّرُونِي ، وَصَبُّوا عَلَيَّ مَاءً بَارِدًا ، فَأُنْزِلَتْ عَلَيَّ : يَأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : فِي خَبَرِ جَابِرٍ هَذَا : إِنَّ أَوَّلَ مَا أُنْزِلَ مِنَ الْقُرْآنِ : يَأَيُّهَا الْمُدَّثِّر سورة المدثر آية 1 ُ ، وَفِي خَبَرِ عَائِشَةَ : اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ ، وَلَيْسَ بَيْنَ هَذَيْنِ الْخَبَرَيْنِ تَضَادٌّ ، إِذِ الِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْزَلَ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ وَهُوَ فِي الْغَارِ بِحِرَاءَ ، فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ دَثَّرَتْهُ خَدِيجَةُ وَصَبَّتْ عَلَيْهِ الْمَاءَ الْبَارِدَ ، وَأُنْزِلَ عَلَيْهِ فِي بَيْتِ خَدِيجَةَ : يَأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونَ بَيْنَ الْخَبَرَيْنِ تَهَاتُرٌ أَوْ تَضَادٌّ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحیی بن ابوکثیر بیان کرتے ہیں: میں نے ابوسلمہ سے دریافت کیا: سب سے پہلے قرآن کا کون سا حصہ نازل ہوا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: ” «یا ایھا المدثر» “ میں نے کہا: مجھے، تو پتہ چلا ہے، سب سے پہلے قرآن میں سے یہ سورت نازل ہوئی تھی: ”تم اپنے پروردگار کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے پڑھو، جس نے پیدا کیا ہے۔“ تو ابوسلمہ نے کہا: میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: سب سے پہلے قرآن کا کون سا حصہ نازل ہوا تھا؟ انہوں نے جواب دیا ” «یا یھا المدثر» “” میں نے ان سے کہا: مجھے تو یہ پتہ چلا ہے، سب سے پہلے قرآن میں سے یہ آیت نازل ہوئی تھی: تم اپنے پروردگار کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے، یہ پڑھو۔“ تو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہیں وہی بات بتاؤں گا، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتائی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا: ”میں نے غار حرا میں اعتکاف کیا ہوا تھا، جب میرا یہ اعتکاف مکمل ہوا، تو میں نماز سے نیچے اترا، اور وادی کے نشیبی حصے میں آ گیا، تو مجھے پکار کر بلایا گیا، میں نے اپنے سامنے اپنے پیچھے، اپنے دائیں طرف اور بائیں طرف دیکھا، لیکن مجھے کوئی چیز نظر نہیں آئی۔“ پھر مجھے پکارا گیا، میں نے اپنے اوپر دیکھا، تو میرے سامنے فرشتہ آسمان اور زمین کے درمیان ایک تخت پر بیٹھا ہوا تھا، تو میں اس سے گھبرا گیا اور میں خدیجہ کے پاس آ گیا۔ میں نے کہا: تم مجھے اوڑھنے کے لئے کچھ دو، تم مجھے اوڑھنے کے لئے کچھ دو، تم مجھ پر ٹھنڈا پانی بہاؤ۔ پھر مجھ پر یہ آیت نازل ہوئی: ”اے چادر اوڑھنے والے! تم اٹھو اور ڈراؤ اور اپنے پروردگار کی کبریائی بیان کروں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے منقول اس روایت میں یہ مذکور ہے کہ قرآن میں سب سے پہلے «يا ايها المدثر» نازل ہوئی جبکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول روایت میں یہ مذکور ہے۔ «اقرا باسم ربك» ۔ سب سے پہلے نازل ہوئی۔ ان دونوں روایات میں تضاد نہیں ہے کیونکہاللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر «اقرأ باسم ربك» اس وقت نازل کی جب آپ غار حرا میں تھے۔ پھر آپ واپس گھر تشریف لے آئے اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو چادر اوڑھنے کے لئے دی اور آپ پر ٹھنڈا پانی ڈالا، تو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر «یا ایھا المدثر» نازل ہو گئی، تو ان دو روایات کے درمیان کوئی اختلاف یا تضاد نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الوحي/حدیث: 34]""