Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 1 · Chapter 4

Introduction

Hadith 75–95

21 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

75

Sahih Ibn Hibban #75

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُوَيْدٍ الرَّمْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَخِي ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلالٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ ، لِكُلِّ آيَةٍ مِنْهَا ظَهْرٌ وَبَطْنٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”قرآن کو سات حروف پر نازل کیا گیا ہے۔ ہر آیت کا ایک ظاہری مفہوم ہے، اور ایک باطنی مفہوم ہے۔“ «ذِكْرُ الزَّجْرِ عَنْ مُجَادَلَةِ النَّاسِ فِي كِتَابِ اللهِ مَعَ الْأَمْرِ بِمُجَانَبَةِ مَنْ يَفْعَلُ ذَلِكَ» اس بات کی ممانعت کا تذکرہ کہ لوگاللہ تعالیٰ کی کتاب کے بارے میں بحث مباحثہ کریں اور جو شخص ایسا کرتا ہے، اس سے لاتعلق رہنے کا حکم ہونا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 75]""

76

Sahih Ibn Hibban #76

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ الأَحْوَلُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَيُّوبَ ، يُحَدِّثُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ : قَرَأَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الآيَةَ : هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ سورة آل عمران آية 7 إِلَى قَوْلِهِ أُولُو الأَلْبَابِ سورة البقرة آية 269 ، قَالَتْ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : رَأَيْتُمُ الَّذِينَ يُجَادِلُونَ فِيهِ فَهُمُ الَّذِينَ عَنَى الِلَّهِ ، فَاحْذَرُوهُمْ "، قَالَ مَطَرٌ : حَفِظْتُ أَنَّهُ قَالَ : " لا تُجَالِسُوهُمْ فَهُمُ الَّذِينَ عَنَى الِلَّهِ فَاحْذَرُوهُمْ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ أَيُّوبُ ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ ، وَابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ جَمِيعًا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی۔ ”وہی وہ ذات ہے، جس نے تم پر کتاب نازل کی ہے، جس میں بعض محکم آیات ہیں اور دوسری متشابہ ہیں۔“ (یہ آیت یہاں تک ہے) ”سمجھدار لوگ۔“ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو اس بارے میں بحث کرتے ہیں، تو یہ وہ لوگ ہیں، جواللہ تعالیٰ نے مراد لئے ہیں، تو تم ان لوگوں سے بچو۔“ مطر نامی راوی کہتے ہیں: مجھے یہ بات یاد ہے، روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں۔ تم ان لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھنا، کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں، جواللہ تعالیٰ نے مراد لئے ہیں، تو تم ان سے بچنا۔“ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ایوب نے یہ روایت مطر وراق اور ابن ابوملیکہ دونوں سے سنی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 76]""

77

Sahih Ibn Hibban #77

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَرْوَزِيُّ بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَعَلَّمُوا الْعِلْمَ لِتُبَاهُوا بِهِ الْعُلَمَاءَ ، وَلا تُمَارُوا بِهِ السُّفهَاءَ ، وَلا تَخَيَّرُوا بِهِ الْمَجَالِسَ ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَالنَّارَ النَّارَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم علم اس لئے حاصل نہ کرو، تاکہ اس کی وجہ سے علماء کے سامنے فخر کا اظہار کرو، اور تم لوگ اس کے ذریعے بے وقوفوں کے ساتھ بحث کرو، اور اس کے ذریعے خود کو محفل میں نمایاں کرنے کی کوشش کرو، جو شخص ایسا کرے گا (تو اس کا انجام) جہنم ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 77]""

78

Sahih Ibn Hibban #78

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَخْلَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْخُزَاعِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ تَعَلَّمَ عِلْمًا مِمَّا يُبْتَغَى بِهِ وَجْهُ اللَّهِ ، لا يَتَعَلَّمُهُ إِلا لَيُصِيبَ بِهِ عَرَضًا مِنَ الدُّنْيَا ، لَمْ يَجِدْ عَرْفَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ". وَأَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص کوئی ایسا علم حاصل کرتا ہے، جس کی وجہ سےاللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کی جا سکتی ہے، لیکن وہ شخص اسے کسی دنیاوی فائدے کے لئے حاصل کرتا ہے، تو وہ شخص قیامت کے دن جنت کی خوشبو کو بھی نہیں پا سکے گا۔“ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 78]""

79

Sahih Ibn Hibban #79

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، وَهَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ شَرِيكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ مَيْمُونٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ رَبِيعَةَ الْجُرَشِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَنَّهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لا تُجَالِسُوا أَهْلَ الْقَدْرِ ، وَلا تُفَاتِحُوهُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”قدریہ فرقے سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ نہ بیٹھو اور انہیں پہلے مخاطب نہ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 79]""

80

Sahih Ibn Hibban #80

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا خَلِيفَةُ بْنُ خَيَّاطٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَخْوَفُ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ جِدَالُ الْمُنَافِقِ عَلِيمِ اللِّسَانِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم لوگوں کے بارے میں مجھے سب سے زیادہ اندیشہ اس بات کا ہے، تم چرب زبان منافق کے ساتھ بحث کرو گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 80]""

81

Sahih Ibn Hibban #81

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، عَنِ الصَّلْتِ بْنِ بَهْرَامَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، حَدَّثَنَا جُنْدُبٌ الْبَجَلِيُّ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ ، أَنَّ حُذَيْفَةَ حَدَّثَهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّمَا أَتَخَوَّفُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ قَرَأَ الْقُرْآنَ حَتَّى رُئِيَتْ بَهْجَتُهُ عَلَيْهِ ، وَكَانَ رِدْئًا لِلإِسْلامِ ، غَيَّرَهُ إِلَى مَا شَاءَ الِلَّهِ ، فَانْسَلَخَ مِنْهُ وَنَبَذَهُ وَرَاءَ ظَهْرِهِ ، وَسَعَى عَلَى جَارِهِ بِالسَّيْفِ ، وَرَمَاهُ بِالشِّرْكِ " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَيُّهُمَا أَوْلَى بِالشِّرْكِ ، الْمَرْمِيُّ أَمِ الرَّامِي ؟ قَالَ : " بَلِ الرَّامِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”مجھے تم لوگوں کے بارے میں یہ اندیشہ ہے، ایک شخص قرآن کا علم حاصل کرے گا۔ یہاں تک کہ جب اس کا قرآن کا عالم ہونا معروف ہو جائے گا اور وہ شخص اسلام (کی تعلیمات) کا محافظ ہو گا، تو وہ جو اللہ کو منظور ہو گا، تو وہ اس میں کوئی تبدیلی کرے گا، وہ اس سے کھسک جائے گا اور اسے اپنی پشت کے پیچھے رکھ دے گا۔ وہ اپنے پڑوسی کے پیچھے تلوار لے کر دوڑے گا اور اس پر شرک کا الزام عائد کر دے گا۔“ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! ان میں سے کون مشرک ہونے کے زیادہ قریب ہو گا، جس پر الزام عائد کیا گیا ہے؟ یا وہ شخص جو الزام عائد کر رہا ہے۔ آپ نے فرمایا: جو الزام عائد کر رہا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 81]""

82

Sahih Ibn Hibban #82

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : الِلَّهِمْ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لا يَنْفَعُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اے اللہ! میں تجھ سے نفع دینے والے علم کا سوال کرتا ہوں اور میں ایسے علم سے تیری پناہ مانگتا ہوں، جو نفع نہ دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 82]

83

Sahih Ibn Hibban #83

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : الِلَّهِمْ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لا يَنْفَعُ ، وَعَمَلٍ لا يُرْفَعُ ، وَقَلَبٍ لا يَخْشَعُ ، وَقَوْلٍ لا يُسْمَعُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے: ”اے اللہ میں ایسے علم سے تیری پناہ مانگتا ہوں، جو نفع نہ دے اور ایسے عمل سے جو بلند نہ ہو، اور ایسے دل سے، جو ڈرے نہیں اور ایسی بات سے، جو سنی نہ جائے۔ (ان سب سے تیری پناہ مانگتا ہوں)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 83]

84

Sahih Ibn Hibban #84

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيَمُ بْنُ إِسْحَاقَ الأَنْمَاطِيُّ الزَّاهِدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَطْلُبُ فِيهِ عِلْمًا ، سَهَّلَ الِلَّهِ لَهُ بِهِ طَرِيقًا مِنْ طُرُقِ الْجَنَّةِ ، وَمَنْ أَبْطَأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص علم کے حصول کے راستے پہ چلتا ہے،اللہ تعالیٰ اس شخص کے لئے جنت کے راستے کو آسان کر دیتا ہے، اور جس شخص کا عمل اسے سست کر دے۔ اس کا نسب اسے تیز نہیں کر سکتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 84]""

85

Sahih Ibn Hibban #85

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، قَالَ : أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ ، قَالَ : مَا جَاءَ بِكَ ؟ قَالَ : جِئْتُ أَنْبِطُ الْعِلْمَ ، قَالَ : فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَا مِنْ خَارِجٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ يَطْلُبُ الْعِلْمَ ، إِلا وَضَعَتْ لَهُ الْمَلائِكَةُ أَجْنِحَتَهَا ، رِضًا بِمَا يَصْنَعُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زر بیان کرتے ہیں: میں سیدنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے دریافت کیا: تم کیوں آئے؟ تو زر نے جواب دیا: میں علم حاصل کرنے کے لئے آیا ہوں، تو سیدنا صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص اپنے گھر سے علم کے حصول کے لئے نکلتا ہے، تو فرشتے اس شخص کے اس عمل سے راضی ہو کر اپنے پر اس کے لئے بچھا دیتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 85]""

86

Sahih Ibn Hibban #86

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ ، عَنْ أَبِي وَاقَدْ اللَّيْثِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ ، وَالنَّاسُ مَعَهُ ، إِذْ أَقَبْلُ ثَلاثَةُ نَفَرٍ ،فَأَقَبْلُ اثْنَانِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَذَهَبَ وَاحِدٌ ، فَلَمَّا وَقَفَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَّمَا ، فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَرَأَى فُرْجَةً فِي الْحَلْقَةِ فَجَلَسَ فِيهَا ، وَأَمَّا الآخَرُ فَجَلَسَ خَلْفَهُمْ ، وَأَمَّا الثَّالِثُ فَأَدْبَرَ ذَاهِبًا ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَلا أُخْبِرُكُمْ عَنِ النَّفَرِ الثَّلاثَةِ : أَمَّا أَحَدُهُمْ فَأَوَى إِلَى اللَّهِ ، فَآوَاهُ الِلَّهِ ، وَأَمَّا الآخَرُ فَاسْتَحْيَى الِلَّهِ مِنْهُ ، وَأَمَّا الآخَرُ فَأَعْرَضَ فَأَعْرَضَ الِلَّهِ عَنْهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے کچھ لوگ آپ کے ساتھ موجود تھے۔ تین آدمی آئے اور ان میں سے دو آدمی آپ کی طرف آ گئے اور ایک شخص چلا گیا، جب وہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے، تو ان دونوں نے سلام کیا۔ ان دونوں میں سے ایک نے حلقے میں گنجائش دیکھی تو وہاں بیٹھ گیا، جبکہ دوسرا شخص لوگوں کے پیچھے بیٹھ گیا۔ جہاں تک تیسرے شخص کا تعلق تھا، تو وہ منہ پھیر کر چلا گیا۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (اپنی گفتگو) سے فارغ ہوئے، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”کیا میں تمہیں ان تین لوگوں کے بارے میں بتاؤں؟ ان میں سے ایک شخصاللہ تعالیٰ کی پناہ میں آیا، تواللہ تعالیٰ نے اسے پناہ عطا کی۔ دوسرے شخص نے حیا کی، تواللہ تعالیٰ نے بھی اس سے حیا کی اور تیسرے شخص نے منہ پھیر لیا، تواللہ تعالیٰ نے بھی اس سے منہ پھیر لیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 86]""

87

Sahih Ibn Hibban #87

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدِّمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا حَيْوَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ ، أَنَّ سَعِيدًا الْمَقْبُرِيَّ ، أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيرَةَ ، يَقُولُ : إِنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ دَخَلَ مَسْجِدَنَا هَذَا لِيَتَعَلَّمَ خَيْرًا أَوْ يُعَلِّمَهُ ، كَانَ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَمَنْ دَخَلَهُ لِغَيْرِ ذَلِكَ كَانَ كَالنَّاظِرِ إِلَى مَا لَيْسَ لَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص ہماری اس مسجد میں بھلائی کا علم حاصل کرنے کے لئے، اس کی تعلیم دینے کے لئے آتا ہے، وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے شخص کی مانند ہے، اور جو شخص اس میں، اس کی بجائے کسی اور وجہ سے آتا ہے، تو اس کی مثال اس شخص کی مانند ہے، جو اس چیز پر نظر رکھے ہوئے ہو، جو اس کی نہ ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 87]

88

Sahih Ibn Hibban #88

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ الْخُرَيْبِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ جَمِيلٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي الدَّرْدَاءِ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ ، إِنِّي أَتَيْتُكَ مِنْ مَدِينَةِ الرَّسُولِ فِي حَدِيثٍ بَلَغَنِي أَنَّكَ تُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : أَمَا جِئْتَ لِحَاجَةٍ ، أَمَا جِئْتَ لِتِجَارَةٍ ، أَمَا جِئْتَ إِلا لِهَذَا الْحَدِيثِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَطْلُبُ فِيهِ عِلْمًا ، سَلَكَ الِلَّهِ بِهِ طَرِيقًا مِنْ طُرُقِ الْجَنَّةِ ، وَالْمَلائِكَةُ تَضَعُ أَجْنِحَتَهَا رِضًا لِطَالِبِ الْعِلْمِ ، وَإِنَّ الْعَالِمَ يَسْتَغْفِرُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ ، وَمَنْ فِي الأَرْضِ ، وَالْحِيتَانُ فِي الْمَاءِ ، وَفَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ ، كَفَضْلِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ عَلَى سَائِرِ الْكَوَاكِبِ ، إِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الأَنْبِيَاءِ ، إِنَّ الأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَارًا وَلا دِرْهُمَا ، وَأَوْرَثُوا الْعِلْمَ ، فَمَنْ أَخَذَهُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ "قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ : فِي هَذَا الْحَدِيثِ بَيَانٌ وَاضِحٌ أَنَّ الْعُلَمَاءَ الَّذِينَ لَهُمُ الْفَضْلُ الَّذِي ذَكَرْنَا ، هُمُ الَّذِينَ يُعَلِّمُونَ عِلْمَ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، دُونَ غَيْرِهِ مِنْ سَائِرِ الْعُلُومِ ، أَلا تَرَاهُ يَقُولُ : " الْعُلَمَاءُ وَرَثَةُ الأَنْبِيَاءِ " وَالأَنْبِيَاءُ لَمْ يُوَرِّثُوا إِلا الْعِلْمَ ، وَعِلْمُ نَبِيِّنَا صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُنَّتُهُ ، فَمَنْ تَعَرَّى عَنْ مَعْرِفَتِهَا لَمْ يَكُنْ مِنْ وَرَثَةِ الأَنْبِيَاءِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

کثیر بن قیس بیان کرتے ہیں: میں مسجد دمشق میں سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ ایک شخص آیا اور بولا: اے سیدنا ابودرداء! میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر سے آپ کے پاس آیا ہوں۔ ایک حدیث کے بارے میں (دریافت کرنے کے لئے) مجھے یہ پتہ چلا ہے، آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں: سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: کیا تم کسی اور کام کے سلسلے میں نہیں آئے؟ کیا تم تجارت کے لئے نہیں آئے؟ کیا تم صرف اس حدیث کے لئے آئے ہو؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں، تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص علم کے حصول کے راستے پر چلتا ہے،اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے، اس شخص کو جنت کے راستے پر چلاتا ہے، اور طالب علم سے خوش ہو کر، فرشتے اپنے پر اس پر بچھا دیتے ہیں۔ بے شک عالم شخص کے لئے آسمانوں اور زمین میں موجود ہر چیز، یہاں تک کہ پانی میں موجود مچھلیاں، بھی دعائے مغفرت کرتی ہیں اور عالم شخص کو عبادت گزار شخص پر وہی فضیلت حاصل ہے، جو چودھویں رات کے چاند کو تمام ستاروں پر حاصل ہوتی۔ بے شک علماء، انبیاء کے وارث ہیں۔ انبیاء، وراثت میں دینار یا درہم نہیں چھوڑتے ہیں۔ وہ وراثت میں علم چھوڑتے ہیں، جو شخص اسے حاصل کر لیتا ہے۔ وہ بڑا حصہ حاصل کرتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس حدیث میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ ہم نے جس فضیلت کا ذکر کیا ہے یہ ان علماء کو حاصل ہو گی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کی تعلیم دیتے ہیں، انہیں حاصل نہیں ہو گی جو دوسرے علوم سکھاتے ہیں۔ کیا آپ نے غور نہیں کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”علماء، انبیاء کے وارث ہیں۔“ تو انبیاء وراثت میں صرف علم چھوڑتے ہیں اور ہمارے نبی کا علم آپ کی سنت ہے۔ جو شخص اس کی معرفت سے بے بہرہ ہو گا وہ انبیاء کا وارث نہیں ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 88]""

89

Sahih Ibn Hibban #89

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ يُرِدِ الِلَّهِ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ جس شخص کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لے، اسے دین کی سمجھ بوجھ عطا کر دیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 89]

90

Sahih Ibn Hibban #90

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَالِدٍ ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقَدْامِ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ الطَّائِيُّ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا حَسَدَ إِلا فِي اثْنَتَيْنِ : رَجُلٌ آتَاهُ الِلَّهِ مَالا ، فَسَلَّطَهُ عَلَى هَلَكَتِهِ فِي الْحَقِّ ، وَرَجُلٌ آتَاهُ الِلَّهِ حِكْمَةً ، فَهُوَ يَقْضِي بِهَا وَيُعَلِّمُهَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”صرف دو طرح کے لوگوں پر رشک کیا جا سکتا ہے، ایک وہ شخص جسےاللہ تعالیٰ نے مال عطا کیا ہو، اور اسے حق کے راستے میں خرچ کرنے کی توفیق دی ہو۔ ایک وہ شخص جسےاللہ تعالیٰ نے حکمت عطا کی ہے، اور وہ اس کے مطابق فیصلے کرتا ہو، اور اس کی تعلیم دیتا ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 90]

91

Sahih Ibn Hibban #91

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنُ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : خَيْرُكُمْ أَحَاسِنُكُمْ أَخْلاقًا ، فَقُهُوا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”تم لوگوں میں سے سب سے زیادہ بہتر وہ لوگ ہیں، جن کے اخلاق سب سے اچھے ہوں، جبکہ وہ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کر لیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 91]

92

Sahih Ibn Hibban #92

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : النَّاسُ مَعَادِنُ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ ، خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الإِسْلامِ ، فَقُهُوا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریره رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”لوگ بھلائی یا برائی کی کان (یعنی معدن) ہوتے ہیں۔ زمانہ جاہلیت میں جو لوگ ان میں بہتر تھے، وہ اسلام میں بھی بہتر شمار ہوں گے، جبکہ وہ (دین کی سمجھ بوجھ) حاصل کر لیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 92]

93

Sahih Ibn Hibban #93

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ هُوَ الْحَرَّانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أبيه L1190 ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : خَيْرُ مَا يَخْلُفُ الرَّجُلَ بَعْدَهُ ثَلاثٌ : وَلَدٌ صَالِحٌ يَدْعُو لَهُ ، وَصَدَقَةٌ تَجْرِي يَبْلُغُهُ أَجْرُهَا ، وَعِلْمٌ يُنْتَفَعُ بِهِ مِنْ بَعْدَهِ "قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ : قَدْ بَقِيَ مِنْ هَذَا النوعِ أَكْثَرُ مِنْ مِائَةِ حَدِيثٍ بَدَّدْنَاهَا فِي سَائِرِ الأَنْوَاعِ مِنْ هَذَا الْكِتَابِ ، لأَنَّ تِلْكَ الْمَوَاضِعِ بِهَا أَشْبَهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبیداللہ بن ابوقتادہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”آدمی اپنے بعد جو چیزیں چھوڑ کر جاتا ہے، ان میں تین چیزیں سب سے بہتر ہیں، وہ نیک اولاد، جو اس کے لئے دعا کرتی رہے۔ وہ صدقہ جاریہ، جس کا اجر اس تک پہنچتا رہے، اور وہ علم جس کے ذریعے اس شخص (کے مرنے) کے بعد بھی نفع حاصل کیا جا سکے۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس نوع میں سے ایک سو احادیث باقی ہیں، جنہیں ہم نے اس کتاب کی مختلف انواع (یعنی ابواب) میں ذکر کیا ہے، کیونکہ وہ مقام (ان احادیث کے مضمون) سے زیادہ مناسبت رکھتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 93]

94

Sahih Ibn Hibban #94

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعُمَرِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَقِيلُوا ذَوِيِ الْهِيَئَاتِ زَلاتِهِمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا، روایت کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”نیک لوگوں کی کو تاہیوں سے در گزر کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 94]

95

Sahih Ibn Hibban #95

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ كَتَمَ عِلْمًا تَلَجَّمَ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص علم کو چھپاتا ہے، قیامت کے دن اسے آگ سے بنی ہوئی لگام ڈالی جائے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 95]