Muwatta Imam Malik #944
[944] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ عِیسَی بْنِ طَلْحَۃَ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَ نَّہُ قَالَ : وَقَفَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ لِلنَّاسِ بِمِنًی وَالنَّاسُ یَسْأَلُونَہُ، فَجَائَ ہُ رَجُلٌ فَقَالَ لَہُ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ لَمْ أَشْعُرْ، فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : انْحَرْ وَلاَ حَرَجَ ۔، ثُمَّ جَائَہُ آخَرُ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ لَمْ أَشْعُرْ، فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِیَ قَالَ : ارْمِ وَلاَ حَرَجَ قَالَ: فَمَا سُئِلَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ عَنْ شَیْئٍ قُدِّمَ وَلاَ أُخِّرَ، إِلاَّ قَالَ : افْعَلْ وَلاَ حَرَجَ۔
اردو ترجمہ · Urdu
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حجۃ الوداع کے موقع پر منیٰ کے میدان میں لوگوں ( کو تعلیم دینے ) کے لیے ( سواری پر ) ٹھہرے رہے اور لوگ آپ ﷺ سے سوالات کرتے رہے ، چنانچہ ایک آدمی آیا اور آپ ﷺ سے کہنے لگا کہ اے اللہ کے رسول ! بے شک مجھے علم نہ ہو سکا اور میں نے سر منڈوا لیا پہلے اس سے کہ میں نحر ( قربانی ) کرتا ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ( اب جا کر جانور ) ذبح کر لو اور کوئی حرج نہیں ہے ۔‘‘ پھر آپ ﷺ کے پاس ایک اور شخص آیا اور کہنے لگا کہ اے اللہ کے رسول ! مجھے معلوم نہ ہوا اور میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے ہی ( اونٹ کو ) نحر کر لیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کنکریاں مار لو اور کوئی حرج نہیں ۔‘‘ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ( اس دن ) رسول اللہ ﷺ سے جس چیز کے متعلق بھی سوال کیا گیا کہ وہ پہلے کر لی گئی تھی یا مؤخر کر دی گئی تھی تو آپ ﷺ نے یقیناً صرف اور صرف یہی فرمایا :’’ ( اب اسے ) کر لو اور ( اس میں ) کوئی حرج نہیں ہے ۔‘‘