Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 20 · Chapter 275

حج کے مسائل کی کتاب

حج کے متعلق متفرق احادیث کا بیان

13 hadiths in this chapter

944

Muwatta Imam Malik #944

Sahih

[944] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ عِیسَی بْنِ طَلْحَۃَ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَ نَّہُ قَالَ : وَقَفَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ لِلنَّاسِ بِمِنًی وَالنَّاسُ یَسْأَلُونَہُ، فَجَائَ ہُ رَجُلٌ فَقَالَ لَہُ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ لَمْ أَشْعُرْ، فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : انْحَرْ وَلاَ حَرَجَ ۔، ثُمَّ جَائَہُ آخَرُ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ لَمْ أَشْعُرْ، فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِیَ قَالَ : ارْمِ وَلاَ حَرَجَ قَالَ: فَمَا سُئِلَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ عَنْ شَیْئٍ قُدِّمَ وَلاَ أُخِّرَ، إِلاَّ قَالَ : افْعَلْ وَلاَ حَرَجَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حجۃ الوداع کے موقع پر منیٰ کے میدان میں لوگوں ( کو تعلیم دینے ) کے لیے ( سواری پر ) ٹھہرے رہے اور لوگ آپ ﷺ سے سوالات کرتے رہے ، چنانچہ ایک آدمی آیا اور آپ ﷺ سے کہنے لگا کہ اے اللہ کے رسول ! بے شک مجھے علم نہ ہو سکا اور میں نے سر منڈوا لیا پہلے اس سے کہ میں نحر ( قربانی ) کرتا ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ( اب جا کر جانور ) ذبح کر لو اور کوئی حرج نہیں ہے ۔‘‘ پھر آپ ﷺ کے پاس ایک اور شخص آیا اور کہنے لگا کہ اے اللہ کے رسول ! مجھے معلوم نہ ہوا اور میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے ہی ( اونٹ کو ) نحر کر لیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کنکریاں مار لو اور کوئی حرج نہیں ۔‘‘ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ( اس دن ) رسول اللہ ﷺ سے جس چیز کے متعلق بھی سوال کیا گیا کہ وہ پہلے کر لی گئی تھی یا مؤخر کر دی گئی تھی تو آپ ﷺ نے یقیناً صرف اور صرف یہی فرمایا :’’ ( اب اسے ) کر لو اور ( اس میں ) کوئی حرج نہیں ہے ۔‘‘

945

Muwatta Imam Malik #945

Sahih

[945] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ کَانَ إِذَا قَفَلَ مِنْ غَزْوٍ، أَوْ حَجٍّ، أَوْ عُمْرَۃٍ، یُکَبِّرُ عَلَی کُلِّ شَرَفٍ مِنَ الأَرْضِ ثَلاَثَ تَکْبِیرَاتٍ، ثُمَّ یَقُولُ :لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، آیِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ سَاجِدُونَ، لِرَبِّنَا حَامِدُونَ، صَدَقَ اللّٰہُ وَعْدَہُ، وَنَصَرَ عَبْدَہُ، وَہَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺ جب کسی غزوے یا حج یا عمرے سے لوٹتے تو زمین کے ہر چڑھائی والے مقام ( گھاٹی یا ٹیلے وغیرہ ) پر تین بار اللہ اکبر کہتے پھر فرماتے :’’ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کی سب بادشاہت ہے اور اسی کے لیے سب حمد ہے ، اور وہ ہر چیز پر خوب قدرت رکھنے والا ہے ، ( ہم ) لوٹنے والے ہیں ، توبہ کرنے والے ہیں ، عبادت کرنے والے ہیں ، سجدہ کرنے والے ( اور ) اپنے رب کی حمد بیان کرنے والے ہیں ، اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اور اپنے بندے کی نصرت فرمائی اور ( تمام کافر ) لشکروں کو اکیلے ہی شکست سے دو چار فرمایا ۔‘‘

946

Muwatta Imam Malik #946

Sahih

[946] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عُقْبَۃَ، عَنْ کُرَیْبٍ مَوْلَی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ [عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ] أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ مَرَّ بِامْرَأَۃٍ وَہِیَ فِی مِحَفَّتِہَا، فَقِیلَ لَہَا : ہَذَا رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ ، فَأَخَذَتْ بِضَبْعَیْ صَبِیٍّ کَانَ مَعَہَا فَقَالَتْ : أَلِہَذَا حَجٌّ یَا رَسُولَ اللّٰہِ ؟ قَالَ : نَعَمْ وَلَکِ أَجْرٌ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺ کا ایک عورت کے پاس سے گزر ہوا جو کہ اپنی پالکی ( ڈولی ) میں تھی ، اُسے بتایا گیا کہ یہ اللہ کے رسول ﷺ ( گزر رہے ) ہیں تو وہ ( اپنے ) ایک بچے کو جو اس کے ساتھ تھا ، اُس کے دونوں بازوؤں سے پکڑ کر لے آئی اور عرض کرنے لگی کہ اے اللہ کے رسول ! کیا اس کا بھی حج ( شمار ) ہو گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں اور تیرے لیے اس کا اجر ہے ۔‘‘

947

Muwatta Imam Malik #947

Zaeef

[947] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ أبِی عَبْلَۃَ، عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ کَرِیزٍ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : مَا رُئِیَ الشَّیْطَانُ یَوْماً، ہُوَ فِیہِ أَصْغَرُ وَلاَ أَدْحَرُ وَلاَ أَحْقَرُ وَلاَ أَغْیَظُ، مِنْہُ فِی یَوْمِ عَرَفَۃَ، وَمَا ذَاکَ إِلاَّ لِمَا رَأَی مِنْ تَنَزُّلِ الرَّحْمَۃِ، وَتَجَاوُزِ اللّٰہِ عَنِ الذُّنُوبِ الْعِظَامِ، إِلاَّ مَا أُرِیَ یَوْمَ بَدْرٍ قِیلَ وَمَا رَأَی یَوْمَ بَدْرٍ یَا رَسُولَ اللّٰہِ ؟ قَالَ : أَمَا إِنَّہُ قَدْ رَأَی جِبْرِیلَ یَزَعُ الْمَلاَئِکَۃَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

طلحہ بن عبیداللہ بن کریز رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ شیطان کسی بھی دن میں اس قدر ذلیل و رسوا ، شکست خوردہ ، حقیر اور غصے میں مبتلا نہیں ہوتا جس قدر کہ وہ ، عرفہ ( 9 ذوالحج ) کے دن ہوتا ہے اور یہ کسی اور وجہ سے نہیں ہے مگر صرف اس سبب سے ہوتا ہے کہ وہ رحمت الٰہیہ کے نزول اور بڑے بڑے گناہوں سے اللہ کے درگز کرنے کو دیکھتا ہے ، سوائے اس صورتحال کے جو اسے جنگ بدر کے دن دکھائی گئی ( اور اس دن اس ملعون کا بہت برا حال ہوا ) ، عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول ! اس نے بدر کے دن کیا دیکھا تھا ؟ فرمایا :’’ آگاہ رہو ، یقیناً اس نے جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا تھا جو فرشتوں کی صف بندی فرما رہے تھے ۔‘‘

948

Muwatta Imam Malik #948

Sahih

[948] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ زِیَادِ بْنِ أبِی زِیَادٍ مَوْلَی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَیَّاشِ بْنِ أبِی رَبِیعَۃَ، عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ کَرِیزٍ : أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : أَفْضَلُ الدُّعَائِ دُعَائُ یَوْمِ عَرَفَۃَ، وَأَفْضَلُ مَا قُلْتُ أَنَا وَالنَّبِیُّونَ مِنْ قَبْلِی: لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ ۔

اردو ترجمہ · Urdu

طلحہ بن عبیداللہ بن کریز رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سب سے افضل دعا یوم عرفہ ( 9 ذوالحج ) کی دعا ہے اور سب سے افضل بات اس میں سے جو میں نے اور مجھ سے پہلے انبیاء نے کہی ، یہ بات ہے : ( لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہٗ ) ’’ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے ، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ۔‘‘

949

Muwatta Imam Malik #949

Sahih

[949] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ دَخَلَ مَکَّۃَ عَامَ الْفَتْحِ وَعَلَی رَأْسِہِ الْمِغْفَرُ، فَلَمَّا نَزَعَہُ جَائَ ہُ رَجُلٌ فَقَالَ لَہُ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْکَعْبَۃِ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ :اقْتُلُوہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺ فتح مکہ والے سال ( فتح مکہ کے موقع پر ) مکہ میں اس حال میں داخل ہوئے کہ آپ ﷺ کے سر مبارک پر خود تھا ، پھر جب آپ ﷺ نے اُسے ( سر سے ) اتارا تو آپ ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا اور آپ ﷺ سے کہنے لگا کہ اے اللہ کے رسول ! ابن خطل کعبہ کے پردوں کے ساتھ چمٹا ہوا ہے ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اُسے قتل کر دو ۔‘‘

950

Muwatta Imam Malik #950

Sahih

[950] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ أَقْبَلَ مِنْ مَکَّۃَ حَتَّی إِذَا کَانَ بِقُدَیْدٍ، جَائَ ہُ خَبَرٌ مِنَ الْمَدِینَۃِ، فَرَجَعَ فَدَخَلَ مَکَّۃَ بِغَیْرِ إِحْرَامٍ۔

اردو ترجمہ · Urdu

نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ مکہ سے ( مدینہ کی طرف ) متوجہ ہوئے ، یہاں تک کہ جب وہ ’’ قُدَید ‘‘ جگہ پر پہنچے تو ان کے پاس مدینہ سے ایک خبر پہنچی تو وہ ( وہیں سے ) واپس لوٹ گئے اور مکہ میں بغیر احرام کے داخل ہو گئے ۔

951

Muwatta Imam Malik #951

Sahih

[951] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ بِمِثْلِ ذَلِکَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ابن شہاب رحمہ اللہ سے بھی اسی کی مثل مروی ہے ۔

952

Muwatta Imam Malik #952

Zaeef

[952] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ : عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَۃَ الدِّیلِیِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِمْرَانَ الْأَنْصَاری، عَنْ أَبِیہِ، أَ نَّہُ قَالَ : عَدَلَ إِلَیَّ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ وَأَ نَا نَازِلٌ تَحْتَ سَرْحَۃٍ بِطَرِیقِ مَکَّۃَ، فَقَالَ مَا أَنْزَلَکَ تَحْتَ ہَذِہِ السَّرْحَۃِ ؟ فَقُلْتُ : أَرَدْتُ ظِلَّہَا۔ فَقَالَ : ہَلْ غَیْرُ ذَلِکَ ؟ فَقُلْتُ : لاَ مَا أَنْزَلَنِی إِلاَّ ذَلِکَ۔ فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : إِذَا کُنْتَ بَیْنَ الأَخْشَبَیْنِ مِنْ مِنًی، وَنَفَخَ بِیَدِہِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ، فَإِنَّ ہُنَاکَ وَادِیاً یُقَالُ لَہُ السُّرَرُ، بِہِ شَجَرَۃٌ سُرَّ تَحْتَہَا سَبْعُونَ نَبِیًّا۔

اردو ترجمہ · Urdu

محمد بن عمران انصاری رحمہ اللہ اپنے والد عمران رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں ، انھوں نے کہا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ( راستے سے ) ہٹ کر میری طرف آئے ، اس حال میں کہ میں مکہ کے راستے میں ایک بڑے درخت کے نیچے پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا ، پھر وہ مجھ سے فرمانے لگے کہ تجھے کس چیز نے اس درخت کے نیچے اتارا ، ( اور اُترنے پر آمادہ کیا ) ہے ؟ میں نے کہا کہ میں نے اس کے سائے کا ارادہ کیا تھا ، وہ فرمانے لگے کہ کیا اس کے علاوہ کوئی اور سبب بھی ہے ؟ میں نے کہا کہ نہیں ، اس ( بیان کردہ ) مقصد کے علاوہ کسی اور سبب نے مجھے یہاں نہیں اتارا ، چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا :’’ جب تو منیٰ کے دو پہاڑوں کے درمیان میں ہو ۔‘‘ اور فرماتے ہوئے آپ ﷺ نے مشرق کی طرف اشارہ کیا ، ( پھر فرمایا ) ’’ تو بلاشبہ وہاں ایک وادی سے جسے ’’ سرر ‘‘ کہا جاتا ہے ، اس میں ایک بڑا درخت ہے جس کے نیچے ستر نبیوں کی نال کاٹی گئی تھی ( اور وہاں ان کی ولادت ہوئی تھی ) ۔‘‘

953

Muwatta Imam Malik #953

Zaeef

[953] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أبِی بَکْرِ بْنِ حَزْمٍ، عَنِ ابْنِ أبِی مُلَیْکَۃَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ مَرَّ بِامْرَأَۃٍ مَجْذُومَۃٍ، وَہِیَ تَطُوفُ بِالْبَیْتِ فَقَالَ لَہَا: یَا أَمَۃَ اللّٰہِ لَا تُؤْذِی النَّاسَ، لَوْ جَلَسْتِ فِی بَیْتِکِ۔ فَجَلَسَتْ، فَمَرَّ بِہَا رَجُلٌ بَعْدَ ذَلِکَ فَقَالَ لَہَا: إِنَّ الَّذِی کَانَ قَدْ نَہَاکِ قَدْ مَاتَ فَاخْرُجِی۔ فَقَالَتْ : مَا کُنْتُ لأُطِیعَہُ حَیًّا وَأَعْصِیَہُ مَیِّتاً۔

اردو ترجمہ · Urdu

ابن بی ملیکہ سے روایت ہے کہ بے شک حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کوڑھ کے مرض میں مبتلا ایک عورت کے پاس سے گزرے جو بیت اللہ کا طواف کر رہی تھی تو انھوں نے اس سے فرمایا : اے اللہ کی بندی ! لوگوں کی اذیت کا سبب نہ بن ، اگر تو گھر میں بیٹھی رہے ( تو یہ تیرے لیے بہتر ثابت ہو گا اور محض خالص نیت ہی سے تجھے اجر مل جائے گا ) ، چنانچہ وہ ( گھر ہی میں ) بیٹھ گئی ( اور دوبارہ کبھی طواف کے لیے نہ آئی تاکہ لوگ پریشان نہ ہوں ) پھر اس کے ( کچھ عرصہ ) بعد ایک آدمی اس عورت کے پاس سے گزرا اور اس سے کہنے لگا کہ یقیناً جس شخص نے تجھے منع کیا تھا وہ تو فوت ہو چکا ہے ، لہٰذا ( اب طواف کے لیے ) نکل آؤ ، تو وہ کہنے لگی کہ میں ایسی نہیں ہوں کہ اس کی زندگی میں تو اس کی اطاعت کروں اور اس کی موت کے بعد اس کی نافرمانی کروں ۔

954

Muwatta Imam Malik #954

Zaeef

[954] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ، أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَبَّاسٍ کَانَ یَقُولُ : مَا بَیْنَ الرُّکْنِ وَالْبَابِ الْمُلْتَزَمُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبری پہنچی کہ بے شک حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ رُکن یمانی یعنی حجر اسود اور دروازے کے درمیان کی جگہ ملتزم ہے ۔

955

Muwatta Imam Malik #955

Zaeef

[955] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ، أَ نَّہُ سَمِعَہُ یَذْکُرُ : أَنَّ رَجُلاً مَرَّ عَلَی أبِی ذَرٍّ بِالرَّبَذَۃِ، وَأَنَّ أَ بَا ذَرٍّ سَأَلَہُ : أَیْنَ تُرِیدُ ؟ فَقَالَ : أَرَدْتُ الْحَجَّ۔ فَقَالَ : ہَلْ نَزَعَکَ غَیْرُہُ ؟ فَقَالَ لاَ۔ قَالَ فَأْتَنِفِ الْعَمَلَ۔ قَالَ الرَّجُلُ : فَخَرَجْتُ حَتَّی قَدِمْتُ مَکَّۃَ، فَمَکَثْتُ مَا شَائَ اللّٰہُ، ثُمَّ إِذَا أَ نَا بِالنَّاسِ مُنْقَصِفِینَ عَلَی رَجُلٍ، فَضَاغَطْتُ عَلَیْہِ النَّاسَ، فَإِذَا أَ نَا بِالشَّیْخِ الَّذِی وَجَدْتُ بِالرَّبَذَۃِ, یَعْنِی أَبَا ذَرٍّ، قَالَ : فَلَمَّا رَآنِی عَرَفَنِی فَقَالَ : ہُوَ الَّذِی حَدَّثْتُکَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

محمد بن یحیی بن حبان رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک ایک آدمی ’’ ربذہ ‘‘ مقام پر حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا اور یقیناً حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے اس سے سوال کیا کہ تم کہاں کا ارادہ رکھتے ہو ؟ اس نے کہا کہ میں نے حج کا ارادہ کیا ہے تو وہ فرمانے لگے کہ کیا اس کے علاوہ کسی اور مقصد نے ( تو ) تمھیں ( نہیں ) نکالا ؟ اس نے کہا کہ نہیں تو فرمانے لگے : پھر تم ازسرنو ( اپنے ) عمل ( کا سلسلہ ) شروع کرو ( کیونکہ اخلاص والا حج مبرور گزشتہ گناہوں کا خاتمہ کر دیتا ہے اور برائیوں کا نامہ اعمال صاف ہو جاتا ہے اور پھر حج کے بعد کوئی گناہ آدمی سے سرزد ہو تو وہ گویا گناہوں کا نیا سلسلہ شروع ہوتا ہے ) ، اس آدمی نے کہا کہ میں ( وہاں سے ) نکل آیا ، یہاں تک کہ مکہ آ گیا ، پھر جتنی دیر اللہ نے چاہا میں وہاں ٹھہرا رہا ، پھر ( ایک دن ) اچانک میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ کسی شخص پر ہجوم کر رہے ہیں ( اور جم گھٹا باندھے اس کی زیارت اور اس سے سوال و جواب کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں ) ، چنانچہ میں نے اس پر ( یعنی اس تک پہنچنے کے لیے ) لوگوں پر ہجوم کیا ( اپنی طاقت سے ان کے مجمع کو چیر کر راستہ بناتا ہوا اس آدمی تک پہنچ گیا ) تو اچانک وہی بزرگ موجود تھے جنھیں میں نے ربذہ مقام پر پایا تھا یعنی حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ ، پھر جب انھوں نے مجھے دیکھا تو پہچان گئے اور فرمانے لگے کہ تم وہی ہونا جسے میں نے حدیث بیان کی تھی ۔

956

Muwatta Imam Malik #956

Sahih

[956] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ : أَ نَّہُ سَأَلَ ابْنَ شِہَابٍ عَنْ الاِسْتِثْنَائِ فِی الْحَجِّ ؟ فَقَالَ : أَوَیَصْنَعُ ذَلِکَ أَحَدٌ۔ وَأَنْکَرَ ذَلِکَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ نے ابن شہاب رحمہ اللہ سے حج میں استثناء یعنی شرط لگا لینے کے متعلق سوال کیا تو وہ فرمانے لگے کہ کیا بھلا کوئی شخص ایسا کرتا ہے اور انھوں نے اس کا انکار کیا ۔