Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 20 · Chapter 271

حج کے مسائل کی کتاب

اُن پرندوں اور جنگلی جانوروں کے فدیے کا بیان جو ( شکار میں ) مارے جائیں

4 hadiths in this chapter

934

Muwatta Imam Malik #934

Sahih

[934] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ أبِی الزُّبَیْرِ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَضَی فِی الضَّبُعِ بِکَبْشٍ، وَفِی الْغَزَالِ بِعَنْزٍ، وَفِی الأَرْنَبِ بِعَنَاقٍ، وَفِی الْیَرْبُوعِ بِجَفْرَۃٍ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ابوزبیر مکی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بجو ( کے شکار کے فدیے ) میں ایک مینڈھے کا ، ہرن میں ایک بکری کا ، خرگوش میں تقریباً ایک سالہ بھیڑیا بکری کے مادہ بچے کا اور جنگلی چوہے میں چار ماہ کے بکری کے مادہ بچے کا فیصلہ کیا ۔

935

Muwatta Imam Malik #935

Sahih

[935] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ قُرَیْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ، أَنَّ رَجُلاً جَائَ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ : إنِّی أَجْرَیْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِی فَرَسَیْنِ، نَسْتَبِقُ إِلَی ثُغْرَۃِ ثَنِیَّۃٍ، فَأَصَبْنَا ظَبْیاً وَنَحْنُ مُحْرِمَانِ، فَمَاذَا تَرَی ؟ فَقَالَ عُمَرُ لِرَجُلٍ إِلَی جَنْبِہِ : تَعَالَ حَتَّی أَحْکُمَ أَ نَا وَأَنْتَ، قَالَ : فَحَکَمَا عَلَیْہِ بِعَنْزٍ، فَوَلَّی الرَّجُلُ وَہُوَ یَقُولُ: ہَذَا أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ لاَ یَسْتَطِیعُ أَنْ یَحْکُمَ فِی ظَبْیٍ، حَتَّی دَعَا رَجُلاً یَحْکُمُ مَعَہُ۔ فَسَمِعَ عُمَرُ قَوْلَ الرَّجُلِ، فَدَعَاہُ فَسَأَلَہُ : ہَلْ تَقْرَأُ سُورَۃَ الْمَائِدَۃِ ؟ قَالَ : لاَ۔ قَالَ فَہَلْ تَعْرِفُ ہَذَا الرَّجُلَ الَّذِی حَکَمَ مَعِی ؟ فَقَالَ : لاَ۔ فَقَالَ لَوْ أَخْبَرْتَنِی أَ نَّکَ تَقْرَأُ سُورَۃَ الْمَائِدَۃِ لأَوْجَعْتُکَ ضَرْباً، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی یَقُولُ فِی کِتَابِہِ : {یَحْکُمُ بِہِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْکُمْ ہَدْیاً بَالِغَ الْکَعْبَۃِ} [المائدۃ : 95] وَہَذَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ۔

اردو ترجمہ · Urdu

محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، کہنے لگا کہ بے شک میں نے اور میرے ایک ساتھی نے ( پہاڑ کی ) ایک تنگ گھاٹی کی طرف گھوڑے دوڑائے ، ( ہم ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے تھے ، تو ( وہاں ) ہم نے ایک ہرن شکار کر لیا اس حال میں کہ ہم دونوں حالتِ احرام میں تھے ، لہٰذا آپ ( اس بارے میں ) کیا خیال کرتے ہیں ؟ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص سے کہا جو اُن کے پہلو میں تھا کہ آؤ تاکہ میں اور تم ( اس شکار کی جزا اور فدیے کا ) فیصلہ کر دیں ، ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اُن دونوں نے ایک بکری کا فیصلہ کیا ، پس وہ آدمی اس حال میں مڑا کہ کہہ رہا تھا : یہ امیرالمومنین ہیں کہ ایک ہرن کے متعلق ( خود اکیلے ) فیصلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے ، یہاں تک کہ انھوں نے ایک اور شخص کو بلایا جو ان کے ساتھ ( مل کر ) فیصلہ کرتا ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس آدمی کی یہ بات سن لی تو اسے بلا لیا پھر فرمایا کہ کیا تو سورۂً مائدہ پڑھتا ہے ؟ اس نے کہا نہیں ، پھر فرمایا کہ کیا تو اس شخص کو پہچانتا ہے جس نے میرے ساتھ فیصلہ کیا ہے ؟ اس نے کہا کہ نہیں تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے : اگر تو مجھے یہ بتاتا کہ تو سورۂ مائدہ پڑھتا ہے تو میں تجھے مار کر تکلیف پہنچاتا ( اور سخت سزا دیتا ) ، پھر فرمایا کہ یقیناً اللہ تعالیٰ اپنی کتاب ( قرآن مجید کی سورۂ مائدہ میں محرم شخص کے شکار کے تذکرے ) میں فرماتے ہیں : { یَحْکُمُ بِہِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْکُمْ ہَدْیاً بَالِغَ الْکَعْبَۃِ } ( المائدۃ 95 : 5 ) ’’ اس کا فیصلہ تم میں سے دو انصاف والے شخص کریں گے ، یہ ( فدیہ ) ہدی کے طور پر کعبہ تک پہنچایا جائے گا ۔‘‘ اور یہ ( میرے ساتھ مل کر فیصلہ کرنے والی شخصیت ) حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ( ہیں جو کہ عشرہ مبشرہ میں سے اور بدری صحابہ میں سے ) ہیں ۔

936

Muwatta Imam Malik #936

Sahih

[936] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ : أَنَّ أَ بَاہُ کَانَ یَقُولُ : فِی الْبَقَرَۃِ مِنَ الْوَحْشِ بَقَرَۃٌ، وَفِی الشَّاۃِ مِنَ الظِّبَائِ شَاۃٌ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ہشام بن عروہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک ان کے والد ( عروہ بن زبیر رحمہ اللہ ) فرمایا کرتے تھے : جنگلی گائے ( نیل گائے کے شکار کے فدیے ) میں ایک گائے اور ہرنیوں میں سے ایک بکری ( یعنی ایک عدد ہرنی کے قتل ) میں ایک بکری واجب ہے ۔

937

Muwatta Imam Malik #937

Sahih

[937] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ، أَ نَّہُ کَانَ یَقُولُ : فِی حَمَامِ مَکَّۃَ إِذَا قُتِلَ شَاۃٌ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے ، وہ فرمایا کرتے تھے کہ مکہ کے کبوتر میں ، جب اُسے قتل کر دیا جائے ، ایک بکری ہے ۔