Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 20 · Chapter 270

حج کے مسائل کی کتاب

حیض والی عورت کے طواف افاضہ کا بیان

6 hadiths in this chapter

928

Muwatta Imam Malik #928

Sahih

[928] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ : أَنَّ صَفِیَّۃَ بِنْتَ حُیَیٍّ حَاضَتْ، فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِلنَّبِیِّ ﷺ فَقَالَ: أَحَابِسَتُنَا ہِیَ؟ فَقِیلَ : إِنَّہَا قَدْ أَفَاضَتْ۔ فَقَالَ : فَلاَ إِذاً۔

اردو ترجمہ · Urdu

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ بے شک ام المومنین سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا حیض میں مبتلا ہو گئیں ، چنانچہ میں نے نبی کریم ﷺ کے حضور اس کا تذکرہ کیا ، تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا وہ ہمیں روکنے والی ہیں ؟‘‘ تو آپ ﷺ کو بتایا گیا کہ یقیناً وہ طواف افاضہ کر چکی ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تو پھر ( رُکنے کی کوئی بات ) نہیں ۔‘‘

929

Muwatta Imam Malik #929

Sahih

[929] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أبِی بَکْرِ بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِیہِ, عَنْ عَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ، أَ نَّہَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللّٰہِ ﷺ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ، إِنَّ صَفِیَّۃَ بِنْتَ حُیَیٍّ قَدْ حَاضَتْ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : لَعَلَّہَا تَحْبِسُنَا، أَلَمْ تَکُنْ طَافَتْ مَعَکُنَّ بِالْبَیْتِ ؟ قُلْنَ : بَلَی۔ قَالَ : فَاخْرُجْنَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

اُمّ المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! یقیناً سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو حیض آ گیا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ شاید کہ وہ ہمیں روک دے ، کیا اس نے تمھارے ساتھ بیت اللہ کا طواف ( افاضہ ) نہیں کیا ؟‘‘ عورتوں نے جواب دیا کہ کیوں نہیں ( وہ طوافِ افاضہ کر چکی ہیں ) تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ پھر نکل پڑو ۔‘‘

930

Muwatta Imam Malik #930

Sahih

[930] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ أبِی الرِّجَالِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ : أَنَّ عَائِشَۃَ أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ کَانَتْ إِذَا حَجَّتْ، وَمَعَہَا نِسَائٌ تَخَافُ أَنْ یَحِضْنَ، قَدَّمَتْہُنَّ یَوْمَ النَّحْرِ فَأَفَضْنَ، فَإِنْ حِضْنَ بَعْدَ ذَلِکَ لَمْ تَنْتَظِرْہُنَّ، فَتَنْفِرُ بِہِنَّ وَہُنَّ حُیَّضٌ، إِذَا کُنَّ قَدْ أَفَضْنَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

عمرہ بنت عبدالرحمن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک اُم المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جب حج کرتیں اور ان کے ساتھ عورتیں ہوتیں ، ( پھر اگر ) انھیں خطرہ ہوتا کہ اُن کو حیض شروع ہو جائے گا تو انھیں یوم نحر 10 ذوالحج کو ( باقی لوگوں سے ) پہلے ہی ( مکہ کی طرف ) بھیج دیتیں ، چنانچہ وہ ( حیض شروع ہونے سے پہلے پہلے طواف افاضہ کر لیتیں ، پھر اگر اس کے بعد ان کو حیض شروع ہو جاتا تو وہ ان ) ( کے حیض رُکنے ) کا انتظار نہ کرتیں اور ان کو لے کر ( مدینہ کی طرف ) چل پڑتیں ، اس حال میں کہ وہ حیض میں مبتلا ہوتی تھیں ، ( اور یہ روانگی تبھی ہوتی تھی ) جب کہ وہ عورتیں طواف افاضہ کر چکی ہوتیں ۔

931

Muwatta Imam Malik #931

Sahih

[931] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ : أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ ذَکَرَ صَفِیَّۃَ بِنْتَ حُیَیٍّ فَقِیلَ، لَہُ : إنَّہَا قَدْ حَاضَتْ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : لَعَلَّہَا حَابِسَتُنَا ؟ فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللّٰہِ، إِنَّہَا قَدْ طَافَتْ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : فَلاَ إِذاً۔

اردو ترجمہ · Urdu

اُم المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ یقیناً رسول اللہ ﷺ نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ فرمایا ، تو آپ ﷺ کو بتایا گیا کہ بے شک وہ تو حیض سے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ممکن ہے کہ وہ ہمیں ( روانگی سے ) روک دے ۔‘‘ تو گھر والوں نے بتایا کہ بلاشبہ وہ طواف افاضہ کر چکی ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ پھر ( ہم ) نہیں ( رکیں گے ) ۔‘‘

932

Muwatta Imam Malik #932

Sahih

[932] قَالَ مَالِکٌ : قَالَ ہِشَامٌ : قَالَ عُرْوَۃُ : قَالَتْ عَائِشَۃُ : وَنَحْنُ نَذْکُرُ ذَلِکَ، فَلِمَ یُقَدِّمُ النَّاسُ نِسَائَ ہُمْ، إِنْ کَانَ ذَلِکَ لاَ یَنْفَعُہُنَّ، وَلَوْ کَانَ الَّذِی یَقُولُونَ، لأَصْبَحَ بِمِنًی أَکْثَرُ مِنْ سِتَّۃِ آلاَفِ امْرَأَۃٍ حَائِضٍ، کُلُّہُنَّ قَدْ أَفَاضَتْ۔

اردو ترجمہ · Urdu

عروہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ، عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں اس حال میں کہ ہم ( آپس میں ) اس ( مسئلے ) کا تذکرہ کر رہے تھے ( کہ کیا عورت طواف الوداع کے لیے انتظار کرے گی یا نہیں ؟ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : ) تو پھر لوگ اپنی عورتوں کو ( حیض کی آمد کے خطرے کے پیش نظر 10 ذوالحج کو عام لوگوں سے ) پہلے ہی کیوں آگے ( مکہ کی طرف طواف افاضہ کے لیے ) بھیج دیتے ہیں ؟ اگر یہ عمل ان عورتوں کو نفع نہیں دیتا ( تو پھر لوگ ایسا کیوں کرتے ہیں ؟ ) اور اگر وہی بات ہوتی جو یہ ( چند ) لوگ کہہ رہے ہیں ( کہ طواف الوداع کیے بغیر عورتیں نہیں جا سکتیں ) تو پھر چھ ہزار سے زائد حیض والی عورتیں منیٰ میں پڑی رہتیں جو سب کی سب طواف افاضہ بھی کر چکی ہوتیں ۔

933

Muwatta Imam Malik #933

Zaeef

[933] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أبِی بَکْرٍ، عَنْ أَبِیہِ، أَنَّ أَبَا سَلَمَۃَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَہُ : أَنَّ أُمَّ سُلَیْمٍ بِنْتَ مِلْحَانَ اسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ وَحَاضَتْ، أَوْ وَلَدَتْ، بَعْدَ مَا أَفَاضَتْ یَوْمَ النَّحْرِ، فَأَذِنَ لَہَا رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ ، فَخَرَجَتْ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ابوسلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت اُمِّ سلیم بنت مِلحان رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ سے فتویٰ پوچھا ، اس حال میں کہ یوم نحر 10 ذوالحج کو طواف افاضہ کر لینے کے بعد انھیں حیض شروع ہو گیا تھا ، یا اُن کے ہاں ولادت ہو گئی تھی ( اور نفاس کا خون آنے لگا تھا اور خون حیض اور خون نفاس مسجد میں جا کر طواف الوداع کرنے میں رکاوٹ تھے ) تو رسول اللہ ﷺ نے انھیں اجازت دے دی ( کہ بغیر طواف الوداع کے وہ واپس جا سکتی ہیں ) ، چنانچہ وہ ( مدینہ کی طرف ) نکل کھڑی ہوئیں ۔