Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 20 · Chapter 267

حج کے مسائل کی کتاب

جمروں کو رمی کرنے میں ایک رخصت کا بیان

3 hadiths in this chapter

920

Muwatta Imam Malik #920

Sahih

[920] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أبِی بَکْرِ بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِیہِ، أَنَّ أَبَا الْبَدَّاحِ بْنَ عَاصِمِ بْنِ عَدِیٍّ أَخْبَرَہُ، عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ أَرْخَصَ لِرِعَائِ الإِبِلِ فِی الْبَیْتُوتَۃِ خَارِجِینَ عَنْ مِنًی، یَرْمُونَ یَوْمَ النَّحْرِ، ثُمَّ یَرْمُونَ الْغَدَ، وَمِنْ بَعْدِ الْغَدِ لِیَوْمَیْنِ، ثُمَّ یَرْمُونَ یَوْمَ النَّفْرِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ابوالبداح ( عدی ) بن عاصم بن عدی رحمہ اللہ اپنے والد حضرت عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے اونٹوں کے چرواہوں کو ( منیٰ سے باہر ) رات گزارنے میں رخصت عطا فرمائی ( اور یہ بھی کہ ) وہ یوم نحر 10 ذوالحج کو کنکریاں مار لیں ، پھر اس سے اگلے دن 11 ذوالحج یا اس سے بھی اگلے دن 12 ذوالحج ( میں سے کسی ایک دن ) میں دو دنوں کی ( اکٹھی ) کنکریاں مار لیں ، پھر یوم نفر ( کوچ والے دن 13 ذوالحج ) میں ( آ کر ) رمی کر لیں ۔

921

Muwatta Imam Malik #921

Sahih

[921] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ عَطَائِ بْنِ أبِی رَبَاحٍ, أَ نَّہُ سَمِعَہُ یَذْکُرُ : أَ نَّہُ أُرْخِصَ لِلرِّعَائِ أَنْ یَرْمُوا بِاللَّیْلِ، یَقُولُ فِی الزَّمَانِ الْأَوَّلِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

یحیی بن سعید رحمہ اللہ ، عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے عطا کو یہ تذکرہ کرتے ہوئے سنا کہ چرواہوں کو یہ رخصت دی گئی تھی کہ وہ رات کو آ کر رمی کر لیں ، وہ مراد لے رہے تھے کہ ( یہ رخصت ) پہلے زمانے ( یعنی عہد صحابہ رضی اللہ عنہم ) میں تھی ۔

922

Muwatta Imam Malik #922

Sahih

[922] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ أبِی بَکْرِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِیہِ، أَنَّ ابْنَۃَ أَخٍ لِصَفِیَّۃَ بِنْتِ أبِی عُبَیْدٍ نُفِسَتْ بِالْمُزْدَلِفَۃِ، فَتَخَلَّفَتْ ہِیَ وَصَفِیَّۃُ حَتَّی أَتَتَا مِنًی، بَعْدَ أَنْ غَرَبَتِ الشَّمْسُ مِنْ یَوْمِ النَّحْرِ، فَأَمَرَہُمَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ أَنْ تَرْمِیَا الْجَمْرَۃَ حِینَ أَ تَتَا, وَلَمْ یَرَ عَلَیْہِمَا شَیْئاً۔

اردو ترجمہ · Urdu

ابوبکر بن نافع رحمہ اللہ اپنے والد ( نافع رحمہ اللہ ) سے روایت کرتے ہیں کہ ( حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ ) صفیہ بنت ابی عبید رحمہ اللہ کی ایک بھتیجی کو مزدلفہ میں نفاس شروع ہو گیا ( اور اس کے ہاں ولادت ہو گئی ) ، تو وہ ( بھتیجی ) اور صفیہ رحمہ اللہ پیچھے ( مزدلفہ ہی میں ) ٹھہر گئیں ، یہاں تک کہ وہ ( اگلے دن 10 ذوالحج ) یوم نحر کا سورج غروب ہونے کے بعد منیٰ میں آئیں ، تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ، جس وقت وہ دونوں منیٰ میں آئیں ، اُسی وقت انھیں حکم دیا کہ جمرہ عقبہ کو کنکریاں مار لیں اور انھوں نے ان دونوں پر کچھ ( جرمانہ ) لازم نہ سمجھا ۔