Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 20 · Chapter 266

حج کے مسائل کی کتاب

کنکریاں مارنے کا بیان

7 hadiths in this chapter

913

Muwatta Imam Malik #913

Zaeef

[913] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ کَانَ یَقِفُ عِنْدَ الْجَمْرَتَیْنِ الأُولَیَیْنِ وُقُوفاً طَوِیلاً، حَتَّی یَمَلَّ الْقَائِمُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ بے شک حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ( پہلے ) دو جمروں کے پاس اتنا لمبا وقوف ( اور قیام ) فرماتے کہ ( ان کے ساتھ ) کھڑا ہونے والا شخص تھک جاتا تھا ۔

914

Muwatta Imam Malik #914

Sahih

[914] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ یَقِفُ عِنْدَ الْجَمْرَتَیْنِ الأُولَیَیْنِ وُقُوفاً طَوِیلاً، یُکَبِّرُ اللَّہَ، وَیُسَبِّحُہُ وَیَحْمَدُہُ، وَیَدْعُو اللَّہَ، وَلَا یَقِفُ عِنْدَ جَمْرَۃِ الْعَقَبَۃِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ پہلے دو جمروں کے پاس لمبی دیر ٹھہرے رہتے ، اللہ کی کبریائی ، تسبیح اور حمد بیان کرتے رہتے اور اللہ سے دعا مانگتے رہتے اور وہ ( تیسرے یعنی آخری اور بڑے ستون ) جمرہ عقبہ کے پاس نہیں ٹھہرتے تھے ۔

915

Muwatta Imam Malik #915

Sahih

[915] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ یُکَبِّرُ عِنْدَ رَمْی الْجَمْرَۃِ، کُلَّمَا رَمَی بِحَصَاۃٍ۔

اردو ترجمہ · Urdu

نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جمروں کو کنکریاں مارتے وقت جب بھی کوئی کنکری پھینکتے تو اللہ اکبر کہتے تھے ۔

916

Muwatta Imam Malik #916

Sahih

[916] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ یَقُولُ : مَنْ غَرَبَتْ لَہُ الشَّمْسُ مِنْ أَوْسَطِ أَ یَّامِ التَّشْرِیقِ وَہُوَ بِمِنًی، فَـلَا یَنْفِرَنَّ حَتَّی یَرْمِی الْجِمَارَ مِنَ الْغَدِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے : وہ شخص کہ ایام تشریق کے درمیانے دن ( 12 ذوالحج ) کا سورج اس حال میں غروب ہو کہ وہ منیٰ ہی میں موجود ہو تو وہ ( اس دن ) ہرگز کوچ نہ کرے گا یہاں تک کہ اگلے دن بھی جمروں کو رمی کر لے ۔

917

Muwatta Imam Malik #917

Sahih

[917] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ النَّاسَ کَانُوا إِذَا رَمَوُا الْجِمَارَ مَشَوْا، ذَاہِبِینَ وَرَاجِعِینَ، وَأَوَّلُ مَنْ رَکِبَ مُعَاوِیَۃُ بْنُ أبِی سُفْیَانَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

عبدالرحمن بن قاسم رحمہ اللہ اپنے والد ( قاسم بن محمد رحمہ اللہ ) سے روایت کرتے ہیں کہ بے شک لوگ جب جمروں کو کنکریاں مارتے تھے تو وہ جاتے ہوئے اور واپس آتے ہوئے پیدل ہی چلا کرتے تھے اور سب سے پہلا وہ شخص جس نے سواری کی ( سوار ہو کر کنکریاں ماریں ) وہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ تھے ۔

918

Muwatta Imam Malik #918

Sahih

[918] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ : أَ نَّہُ سَأَلَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ مِنْ أَیْنَ کَانَ الْقَاسِمُ یَرْمِی جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِ ؟ فَقَالَ : مِنْ حَیْثُ تَیَسَّرَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ سے روایت ہے ، انھوں نے عبدالرحمن بن قاسم رحمہ اللہ سے پوچھا کہ ( تمھارے والد ) قاسم رحمہ اللہ کہاں سے ( کھڑے ہو کر ) جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارتے تھے ؟ تو انھوں نے فرمایا : جہاں سے آسان ہوتا ۔

919

Muwatta Imam Malik #919

Sahih

[919] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ یَقُولُ : لَا تُرْمَی الْجِمَارُ فِی الْأَیَّامِ الثَّـلَاثَۃِ حَتَّی تَزُولَ الشَّمْسُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے : ( ایام تشریق کے ) تین دنوں میں جمروں کی رمی نہ کی جائے یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے ۔