Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 20 · Chapter 259

حج کے مسائل کی کتاب

بیت اللہ میں نماز ادا کرنے ، عرفات میں نماز قصر کرنے ( دوگانہ پڑھنے ) اور خطبہ جلدی دینے کا بیان

2 hadiths in this chapter

897

Muwatta Imam Malik #897

Sahih

[897] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ دَخَلَ الْکَعْبَۃَ، ہُوَ وَأُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ وَبِلَالُ بْنُ رَبَاحٍ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَۃَ الْحَجَبِیُّ، فَأَغْلَقَہَا عَلَیْہِ وَمَکَثَ فِیہَا۔ قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ : فَسَأَلْتُ بِلَالاً حِینَ خَرَجَ، مَا صَنَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ ؟ فَقَالَ : جَعَلَ عَمُوداً عَنْ یَمِینِہِ، وَعَمُودَیْنِ عَنْ یَسَارِہِ، وَثَـلَاثَۃَ أَعْمِدَۃٍ وَرَائَ ہُ، وَکَانَ الْبَیْتُ یَوْمَئِذٍ عَلَی سِتَّۃِ أَعْمِدَۃٍ، ثُمَّ صَلَّی۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺ ، حضرت اسامہ بن زید ، حضرت بلال بن رباح اور حضرت عثمان بن طلحہ حجبی رضی اللہ عنہم ( خانہ کعبہ کے کنجی بردار ) رضی اللہ عنہ خانہ کعبہ میں داخل ہوئے تو انھوں نے ( حضرت عثمان حجبی رضی اللہ عنہ نے ) خانہ کعبہ ( کے دروازے ) کو آپ ﷺ پر بند کر دیا اور آپ ﷺ اس میں ( کچھ دیر ) ٹھہرے رہے ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جس وقت حضرت بلال رضی اللہ عنہ باہر تشریف لائے تو میں نے اُن سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ نے کیا کیا ؟ تو انھوں نے فرمایا کہ آپ ﷺ نے ( بیت اللہ کے اگلے ستونوں میں سے ) ایک ستون کو اپنے دائیں جانب کیا ، دو ستونوں کو اپنے بائیں طرف کیا اور تین ستونوں کو اپنے پیچھے کیا - اور بیت اللہ اس وقت چھ ستونوں پر قائم تھا - پھر آپ ﷺ نے نماز ادا فرمائی ۔

898

Muwatta Imam Malik #898

Sahih

[898] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ، أَ نَّہُ قَالَ : کَتَبَ عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مَرْوَانَ إِلَی الْحَجَّاجِ بْنِ یُوسُفَ : أَنْ لَا تُخَالِفَ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ فِی شَیْئٍ مِنْ أَمْرِ الْحَجِّ۔ قَالَ : فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ عَرَفَۃَ، جَائَ ہُ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ حِینَ زَالَتِ الشَّمْسُ وَأَنَا مَعَہُ، فَصَاحَ بِہِ عِنْدَ سُرَادِقِہِ: أَیْنَ ہَذَا؟ فَخَرَجَ إلَیْہِ الْحَجَّاجُ وَعَلَیْہِ مِلْحَفَۃٌ مُعَصْفَرَۃٌ، فَقَالَ : مَا لَکَ یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ؟ فَقَالَ : الرَّوَاحَ إِنْ کُنْتَ تُرِیدُ السُّنَّۃَ۔ فَقَال: أَہَذِہِ السَّاعَۃَ ؟ قَالَ : نَعَمْ۔ قَالَ: فَأَنْظِرْنِی حَتَّی أُفِیضَ عَلَیَّ مَائً، ثُمَّ أَخْرُجَ۔ فَنَزَلَ عَبْدُ اللّٰہِ حَتَّی خَرَجَ الْحَجَّاجُ، فَسَارَ بَیْنِی وَبَیْنَ أبِی، فَقُلْتُ لَہُ : إِنْ کُنْتَ تُرِیدُ أَنْ تُصِیبَ السُّنَّۃَ الْیَوْمَ، فَاقْصُرِ الْخُطْبَۃَ وَعَجِّلِ الصَّلَاۃَ، قَالَ : فَجَعَلَ یَنْظُرُ إِلَی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ کَیْمَا یَسْمَعَ ذَلِکَ مِنْہُ، فَلَمَّا رَأَی ذَلِکَ عَبْدُ اللّٰہِ قَالَ : صَدَقَ سَالِمٌ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ( خلیفہ وقت ) عبدالملک بن مروان رحمہ اللہ نے حجاج بن یوسف کی طرف ( یہ پیغام ) لکھا کہ حج کے کسی بھی معاملے میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی مخالفت نہ کرنا ، چنانچہ جب عرفہ کا دن آیا تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اس وقت تشریف لائے جب سورج ڈھل چکا تھا ، میں ( سالم رحمہ اللہ ) بھی ان کے ہمراہ تھا ، انھوں نے حجاج کو اس کے خیمے کے پاس آ کر بلند آواز سے پکارا کہ یہ حجاج کدھر ہے ؟ پس حجاج اُن کی طرف نکل آیا ، اس پر کُسُم کی رنگی ہوئی چادر تھی ( جو کہ احرام کے علاوہ حالت میں بھی مردوں کے لیے ممنوع ہے ) پھر وہ ( حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو ان کی کنیت سے مخاطب کرتے ہوئے ) کہنے لگا کہ اے ابوعبدالرحمٰن ! کیا ہوا ؟ وہ فرمانے لگے کہ اگر سنت کی پیروی کرنا چاہتے ہو تو ( ابھی میدان عرفات کی طرف ) چلو ۔ اس نے کہا کہ کیا ابھی اسی وقت ؟ انھوں نے فرمایا : ہاں ، کہنے لگا کہ پھر مجھے تھوڑی سی مہلت دو تاکہ میں اپنے اوپر پانی بہا لوں ، پھر میں نکلتا ہوں ، چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ( سواری سے ) اتر پڑے ، یہاں تک کہ حجاج باہر آیا ، سو وہ میرے اور میرے ابا جان ( حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ) کے درمیان میں ہو گیا ۔ میں نے اُس سے کہا : اگر تم یہ چاہتے ہو کہ آج سنت طریقہ اختیار کرو تو خطبہ چھوٹا رکھنا اور نماز جلدی پڑھانا ، وہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھنے لگا تاکہ یہی بات اُن سے بھی سن لے ( اور تصدیق کر لے ) چنانچہ جب حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے یہ معاملہ دیکھا تو کہا کہ اس ( میرے بیٹے سالم ) نے سچ کہا ہے ۔