Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 20 · Chapter 254

حج کے مسائل کی کتاب

حج میں نحر ( جانور قربان ) کرنے کا بیان

3 hadiths in this chapter

882

Muwatta Imam Malik #882

Sahih

[882] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ بِمِنًی: ہَذَا الْمَنْحَرُ، وَکُلُّ مِنًی مَنْحَرٌ۔ وَقَالَ فِی الْعُمْرَۃِ: ہَذَا الْمَنْحَرُ یَعْنِی الْمَرْوَۃَ وَکُلُّ فِجَاجِ مَکَّۃَ وَطُرُقِہَا مَنْحَرٌ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ رسول اللہ ﷺ نے منیٰ کے متعلق فرمایا :’’ یہ ( جمرہ کے پاس جہاں میں نے اونٹ نحر کیے ہیں ، یہ جگہ ) نحر کرنے کی جگہ ہے اور منیٰ سارے کا سارا ہی نحر کی جگہ ہے ‘‘ اور عمرہ کے موقع پر فرمایا :’’ یہ نحر کی جگہ ہے ۔‘‘ آپ ﷺ مروہ پہاڑی مراد لے رہے تھے ، پھر فرمایا :’’ مکہ کی تمام گلیاں اور راستے بھی نحر کی جگہ ہیں ۔‘‘

883

Muwatta Imam Malik #883

Sahih

[883] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ قَالَ : أَخْبَرَتْنِی عَمْرَۃُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَ نَّہَا سَمِعَتْ عَائِشَۃَ أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ تَقُولُ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ لِخَمْسِ لَیَالٍ بَقِینَ مِنْ ذِی الْقَعْدَۃِ وَلَا نُرَی إِلاَّ أَ نَّہُ الْحَجُّ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْ مَکَّۃَ، أَمَرَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ لَمْ یَکُنْ مَعَہُ ہَدْیٌ إِذَا طَافَ بِالْبَیْتِ، وَسَعَی بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ أَنْ یَحِلَّ۔ قَالَتْ عَائِشَۃُ : فَدُخِلَ عَلَیْنَا یَوْمَ النَّحْرِ بِلَحْمِ بَقَرٍ، فَقُلْتُ : مَا ہَذَا ؟ فَقَالُوا: نَحَرَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ عَنْ أَزْوَاجِہِ۔ قَالَ یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ : فَذَکَرْتُ ہَذَا الْحَدِیثَ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ فَقَالَ : أَتَتْکَ وَاللّٰہِ بِالْحَدِیثِ عَلَی وَجْہِہِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ ام المومنین رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ( اس وقت حج کے لیے ) نکلے جب ذوالقعدہ کی پانچ راتیں باقی تھیں اور ہم اس کے علاوہ اور کچھ نہیں سمجھ رہے تھے کہ یہ حج ہی ہے ( اور ہم حج مکمل کر لینے کے بعد ہی احرام کھول سکیں گے لیکن ) پھر جب ہم مکہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے ہر اس شخص کو جس کے پاس ہدی کا جانور نہ تھا یہ حکم فرمایا کہ جب وہ بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کر لے تو وہ احرام کھول دے ( اور حج تمتع ادا کرے ) ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ یوم نحر کو ہمارے پاس گائے کا گوشت لایا گیا تو میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ ( اور کدھر سے آیا ہے ؟ ) تو لوگوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں کی طرف سے بھی ( گائے کی ) قربانی کی ہے ۔ ( امام مالک رحمہ اللہ کے شیخ ) یحیی بن سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ پھر جب میں نے یہ حدیث قاسم بن محمد رحمہ اللہ کے سامنے ذکر کی تو وہ فرمانے لگے : اللہ کی قسم ! سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تمھارے پاس اس حدیث کو اس کی اصل صورت کے ساتھ لے کر آئی ہیں ۔

884

Muwatta Imam Malik #884

Sahih

[884] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ، أَ نَّہَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللّٰہِ ﷺ : مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا وَلَمْ تَحْلِلْ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِکَ ؟ فَقَالَ : إنِّی لَبَّدْتُ رَأْسِی وَقَلَّدْتُ ہَدْیِی, فَـلَا أَحِلُّ حَتَّی أَنْحَرَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ حفصہ اُم المومنین رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے ( حجۃ الوداع میں ) عرض کیا : یہ لوگوں کا کیا معاملہ ہے کہ انھوں نے تو احرام کھول دیا ہے جبکہ آپ نے اپنے عمرے سے ( فارغ ہو کر ) احرام نہیں کھولا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یقیناً میں نے اپنے بالوں کی تلبید کی ہے ( انھیں گوند یا کوئی بوٹی لگا کر آپس میں چپکا رکھا ہے ) اور اپنے ہدی کے جانوروں کو قلادہ ڈالا ہے ، اس لیے میں احرام نہیں کھول سکتا یہاں تک کہ نحر کر لوں ۔