Muwatta Imam Malik #869
[869] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ صَدَقَۃَ بْنِ یَسَارٍ الْمَکِّیِّ : أَنَّ رَجُلاً مِنْ أَہْلِ الْیَمَنِ جَائَ إِلَی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، وَقَدْ ضَفَرَ رَأْسَہُ فَقَالَ : یَا أَ بَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إنِّی قَدِمْتُ بِعُمْرَۃٍ مُفْرَدَۃٍ۔ فَقَالَ لَہُ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ : لَوْ کُنْتُ مَعَکَ أَوْ سَأَلْتَنِی لأَمَرْتُکَ أَنْ تَقْرِنَ۔ فَقَالَ الْیَمَانِیُّ : قَدْ کَانَ ذَلِکَ۔ فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ خُذْ مَا تَطَایَرَ مِنْ رَأْسِکَ وَأَہْدِ۔ فَقَالَتِ امْرَأَۃٌ مِنْ أَہْلِ الْعِرَاقِ : مَا ہَدْیُہُ یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ؟ فَقَالَ : ہَدْیُہُ۔ فَقَالَتْ لَہُ : مَا ہَدْیُہُ ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ : لَوْ لَمْ أَجِدْ إِلاَّ أَنْ أَذْبَحَ شَاۃً، لَکَانَ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ أَنْ أَصُومَ۔
اردو ترجمہ · Urdu
صدقہ بن یسار مکی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اہل یمن میں سے ایک شخص حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، اس نے اپنے بالوں کی مینڈھیاں ( اور لٹیں ) بنا رکھی تھیں ، چنانچہ وہ ( حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو ان کی کنیت سے مخاطب کر کے ) کہنے لگا : اے ابوعبدالرحمن ! بے شک میں اکیلا عمرہ کرنے کی نیت سے آیا ہوں ، تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : اگر میں ( تیرے احرام باندھنے کے وقت ) تیرے ساتھ ہوتا یا تو ( احرام باندھنے سے قبل ) مجھ سے سوال کر لیتا تو میں تجھے حکم دیتا کہ تو حج قران کر ، وہ یمنی شخص بولا کہ ( جو ہونا تھا وہ تو ) اب ہو چکا ، ( اب کیا کروں ؟ ) تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے : تیرے سر میں سے جو ادھر اُدھر بکھرے ہوئے بال ہیں انھیں کاٹ لے ( تاکہ باقی بال حج کے اخیر میں منڈوا سکے ) اور ایک ہدی قربانی کر ، اہل عراق میں سے ایک عورت کہنے لگی کہ اے عبدالرحمن ! اس کی ہدی کیا ہو گی ؟ انھوں نے فرمایا : ( جو ) اس کی ہدی ( بنتی ہے ) ، تو اس عورت نے پھر ان سے کہا کہ وہ کیا ہدی ہے ؟ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے : اگر میں اس کے علاوہ اور کوئی چارہ کار نہ پاؤں کہ بکری کو ذبح کروں تو یقیناً یہ ( بکری ذبح کرنے کا عمل ) میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہے کہ روزے رکھوں ۔