Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 20 · Chapter 249

حج کے مسائل کی کتاب

ہدی کے متعلق متفرق روایات کا بیان

3 hadiths in this chapter

869

Muwatta Imam Malik #869

Sahih

[869] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ صَدَقَۃَ بْنِ یَسَارٍ الْمَکِّیِّ : أَنَّ رَجُلاً مِنْ أَہْلِ الْیَمَنِ جَائَ إِلَی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، وَقَدْ ضَفَرَ رَأْسَہُ فَقَالَ : یَا أَ بَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إنِّی قَدِمْتُ بِعُمْرَۃٍ مُفْرَدَۃٍ۔ فَقَالَ لَہُ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ : لَوْ کُنْتُ مَعَکَ أَوْ سَأَلْتَنِی لأَمَرْتُکَ أَنْ تَقْرِنَ۔ فَقَالَ الْیَمَانِیُّ : قَدْ کَانَ ذَلِکَ۔ فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ خُذْ مَا تَطَایَرَ مِنْ رَأْسِکَ وَأَہْدِ۔ فَقَالَتِ امْرَأَۃٌ مِنْ أَہْلِ الْعِرَاقِ : مَا ہَدْیُہُ یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ؟ فَقَالَ : ہَدْیُہُ۔ فَقَالَتْ لَہُ : مَا ہَدْیُہُ ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ : لَوْ لَمْ أَجِدْ إِلاَّ أَنْ أَذْبَحَ شَاۃً، لَکَانَ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ أَنْ أَصُومَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

صدقہ بن یسار مکی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اہل یمن میں سے ایک شخص حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، اس نے اپنے بالوں کی مینڈھیاں ( اور لٹیں ) بنا رکھی تھیں ، چنانچہ وہ ( حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو ان کی کنیت سے مخاطب کر کے ) کہنے لگا : اے ابوعبدالرحمن ! بے شک میں اکیلا عمرہ کرنے کی نیت سے آیا ہوں ، تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : اگر میں ( تیرے احرام باندھنے کے وقت ) تیرے ساتھ ہوتا یا تو ( احرام باندھنے سے قبل ) مجھ سے سوال کر لیتا تو میں تجھے حکم دیتا کہ تو حج قران کر ، وہ یمنی شخص بولا کہ ( جو ہونا تھا وہ تو ) اب ہو چکا ، ( اب کیا کروں ؟ ) تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے : تیرے سر میں سے جو ادھر اُدھر بکھرے ہوئے بال ہیں انھیں کاٹ لے ( تاکہ باقی بال حج کے اخیر میں منڈوا سکے ) اور ایک ہدی قربانی کر ، اہل عراق میں سے ایک عورت کہنے لگی کہ اے عبدالرحمن ! اس کی ہدی کیا ہو گی ؟ انھوں نے فرمایا : ( جو ) اس کی ہدی ( بنتی ہے ) ، تو اس عورت نے پھر ان سے کہا کہ وہ کیا ہدی ہے ؟ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے : اگر میں اس کے علاوہ اور کوئی چارہ کار نہ پاؤں کہ بکری کو ذبح کروں تو یقیناً یہ ( بکری ذبح کرنے کا عمل ) میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہے کہ روزے رکھوں ۔

870

Muwatta Imam Malik #870

Sahih

[870] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ یَقُولُ : الْمَرْأَۃُ الْمُحْرِمَۃُ إِذَا حَلَّتْ لَمْ تَمْتَشِطْ حَتَّی تَأْخُذَ مِنْ قُرُونِ َأْسِہَا، وَإِنْ کَانَ لَہَا ہَدْیٌ لَمْ تَأْخُذْ مِنْ شَعْرِہَا شَیْئاً حَتَّی تَنْحَرَ ہَدْیَہَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ احرام والی عورت جب ( احرام کھول کر ) حلال ہو تو وہ کنگھی نہ کرے یہاں تک کہ اپنے سر کی مینڈھیوں میں سے کچھ ( بال ) کتر لے ، اور اگر اس کے پاس ہدی کا جانور ہو تو ( پھر وہ حج قران والی شمار ہو گی ۔ اسی لیے ) وہ اپنے بالوں میں سے کچھ بھی نہ کاٹے گی یہاں تک کہ اپنی ہدی کو قربان کر لے ۔

871

Muwatta Imam Malik #871

Sahih

[871] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ یَعْقُوبَ بْنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِیِّ عَنْ أبِی أَسْمَائَ مَوْلَی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَنَّہُ أَخْبَرَہُ : أَ نَّہُ کَانَ مَعَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ جَعْفَرٍ فَخَرَجَ مَعَہُ مِنَ الْمَدِینَۃِ، فَمَرُّوا عَلَی حُسَیْنِ بْنِ عَلِیٍّ وَہُوَ مَرِیضٌ بِالسُّقْیَا، فَأَقَامَ عَلَیْہِ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَتَّی إِذَا خَافَ الْفَوَاتَ خَرَجَ، وَبَعَثَ إِلَی عَلِیِّ بْنِ أبِی طَالِبٍ وَأَسْمَائَ بِنْتِ عُمَیْسٍ وَہُمَا بِالْمَدِینَۃِ، فَقَدِمَا عَلَیْہِ، ثُمَّ إِنَّ حُسَیْناً أَشَارَ إِلَی رَأْسِہِ، فَأَمَرَ عَلِیٌّ بِرَأْسِہِ فَحُلِّقَ، ثُمَّ نَسَکَ عَنْہُ بِالسُّقْیَا، فَنَحَرَ عَنْہُ بَعِیراً۔ قَالَ یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ : وَکَانَ حُسَیْنٌ خَرَجَ مَعَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فِی سَفَرِہِ ذَلِکَ إِلَی مَکَّۃَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ابواسماء رحمہ اللہ جو کہ حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں ، سے روایت ہے کہ بے شک وہ ( ابو اسماء رحمہ اللہ ) حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے ، پھر وہ ان کے ہمراہ ( خلیفہ سوئم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قافلہ حج میں ) مدینہ سے نکلے تو اُن کا گزر ( اپنے چچا زاد بھائی ، نواسۂ رسول ﷺ ) حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا ، اس حال میں کہ وہ ’’ سقیا ‘‘ مقام پر بیمار ( پڑے ہوئے ) تھے تو حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ ( ان کی دیکھ بھال کے لیے ) ان کے پاس ہی ٹھہر گئے ( جبکہ باقی قافلہ آگے روانہ ہو گیا ) یہاں تک کہ جب انھیں حج کے فوت ہو جانے کا خطرہ محسوس ہوا تو وہ ( وہاں سے ) نکل کھڑے ہوئے اور انھوں نے ( اپنے چچا ) حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور ( اپنی والدہ ) حضرت اسماء بن عمیس رضی اللہ عنہا ( جو اس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نکاح میں آ چکی تھیں ، ) کی طرف ( پیغام ) بھیج دیا ، وہ دونوں مدینہ منورہ ہی میں تھے ، چنانچہ وہ دونوں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، پھر حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے سر کی طرف اشارہ کیا تو علی رضی اللہ عنہ نے اس کے سر کے بارے میں حکم دیا تو اسے مونڈ دیا گیا ، پھر انھوں نے ( حالت احرام میں بال کٹانے کے فدیے میں ) حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی طرف سے ’’ سقیا ‘‘ مقام پر ہی ایک جانور ذبح کر دیا ، چنانچہ انھوں نے ان کی طرف سے ایک اونٹ نحر ( قربان ) فرمایا ۔