Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 20 · Chapter 248

حج کے مسائل کی کتاب

اس ہدی کا بیان جو میسر ہو

4 hadiths in this chapter

865

Muwatta Imam Malik #865

Zaeef

[865] وَحَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِیہِ، أنَّ عَلِیِّ بْنِ أبِی طَالِبٍ کَانَ یَقُولُ : مَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْہَدْی شَاۃٌ۔

اردو ترجمہ · Urdu

جعفر ( صادق ) بن محمد رحمہ اللہ اپنے والد ( محمد باقر رحمہ اللہ ) سے روایت کرتے ہیں کہ بے شک حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے : ( مَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْھَدْیِ ) سے مراد ایک بکری ہے ۔

866

Muwatta Imam Malik #866

Sahih

[866] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَبَّاسٍ کَانَ یَقُولُ : مَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْہَدْی شَاۃٌ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ یقیناً حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے : ( مَااسْتَیْسَرَ مِنَ الْھَدْیِ ) ’’ وہ ہدی جو میسر ( اور آسانی سے مہیا ) ہوتی ہے ۔‘‘ سے مراد ایک بکری ہے ۔

867

Muwatta Imam Malik #867

Sahih

[867] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ،عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ یَقُولُ:مَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْہَدْی بَدَنَۃٌ أَوْ بَقَرَۃٌ۔

اردو ترجمہ · Urdu

نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ ( مَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْہَدْی ) سے مراد اونٹ یا گائے ہے ۔

868

Muwatta Imam Malik #868

Zaeef

[868] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أبِی بَکْرٍ، أَنَّ مَوْلَاۃً لِعَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ یُقَالُ لَہَا رُقَیَّۃُ، أَخْبَرَتْہُ : أَ نَّہَا خَرَجَتْ مَعَ عَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِلَی مَکَّۃَ، قَالَتْ : فَدَخَلَتْ عَمْرَۃُ مَکَّۃَ یَوْمَ التَّرْوِیَۃِ وَأَ نَا مَعَہَا، فَطَافَتْ بِالْبَیْتِ وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ، ثُمَّ دَخَلَتْ صُفَّۃَ الْمَسْجِدِ فَقَالَتْ : أَمَعَکِ مِقَصَّانِ ؟ فَقُلْتُ : لَا۔فَقَالَتْ فَالْتَمِسِیہِ لِی، فَالْتَمَسْتُہُ حَتَّی جِئْتُ بِہِ، فَأَخَذَتْ مِنْ قُرُونِ رَأْسِہَا، فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ النَّحْرِ ذَبَحَتْ شَاۃً۔

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن ابی بکر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عمرہ بنت عبدالرحمن کی آزاد کردہ لونڈی جسے رُقیہ کہا جاتا تھا ، نے انھیں بتایا کہ بے شک وہ ( اپنی مالکن ) عمرہ بنت عبدالرحمن رحمہ اللہ کے ہمراہ مکہ کی طرف نکلی ، اس نے بتایا کہ عمرہ مکہ میں یوم ترویہ ( آٹھ ذوالحج ) کو داخل ہوئیں ، میں بھی ان کے ہمراہ تھی ، چنانچہ انھوں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کے درمیان بھی چکر لگائے ، پھر وہ مسجد کے ( چھت دار ) پچھلے حصے میں داخل ہوئیں ، پھر ( مجھ سے ) کہنے لگیں کہ کیا تمھارے پاس قینچی ہے ؟میں نے کہا کہ نہیں ، تو وہ کہنے لگیں کہ پھر اُسے تلاش کر کے میرے لیے لے کر آؤ ، میں نے اُسے ڈھونڈا یہاں تک کہ میں اُسے لے آئی ، پھر میں نے اُن کے سر کی مینڈھیوں میں سے کچھ کاٹ دیا ، پھر جب یوم نحر ( 10 ذوالحج ) آیا تو انھوں نے ایک بکری ذبح کی ۔