Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 20 · Chapter 246

حج کے مسائل کی کتاب

اس شخص کی ہدی کا بیان جس سے حج رہ جائے

2 hadiths in this chapter

860

Muwatta Imam Malik #860

Zaeef

[860] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، أَ نَّہُ قَالَ : أَخْبَرَنِی سُلَیْمَانُ بْنُ یَسَارٍ : أَنَّ أَ بَا أَیُّوبَ الْأَنْصَارِیَّ خَرَجَ حَاجًّا، حَتَّی إِذَا کَانَ بِالنَّازِیَۃِ مِنْ طَرِیقِ مَکَّۃَ أَضَلَّ رَوَاحِلَہُ، وَإِنَّہُ قَدِمَ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ یَوْمَ النَّحْرِ، فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ، فَقَالَ عُمَرُ : اصْنَعْ کَمَا یَصْنَعُ الْمُعْتَمِرُ، ثُمَّ قَدْ حَلَلْتَ، فَإِذَا أَدْرَکَکَ الْحَجُّ قَابِلاً فَاحْجُجْ وَأَہْدِ مَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْہَدْی۔

اردو ترجمہ · Urdu

سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ حج کرنے کے لیے نکلے یہاں تک کہ جب وہ مکہ کے راستے میں ’’ نازیہ ‘‘ نامی جگہ پر پہنچے ( جو کہ وادیٔ صفراء کے قریب ایک چشمے کا نام ہے ) تو وہ اپنی سواریاں گم کر بیٹھے ، ( چنانچہ وہ ان کو ڈھونڈنے اور پھر پیدل سفر کرنے کی وجہ سے وقت پر نہ پہنچ سکے اور 9 ذوالحج کو میدان عرفات میں نہ آ سکے ) اور بلاشبہ وہ یوم نحر ( 10 ذوالحج ) کو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ( مِنیٰ یا مکہ میں ) پہنچے اور ان کے سامنے یہ ماجرا ذکر کیا تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ( اُن سے ) فرمایا : وہی کچھ کیجیے جو عمرہ کرنے والا کرتا ہے ( یعنی طواف اور سعی ) پھر آپ کا احرام کھل جائے گا ، پھر جب آئندہ سال حج آپ کو پا لے تو حج بھی کر لیجیے گا اور جو میسر ہو ہدی کا جانور بھی لے آیئے گا ۔

861

Muwatta Imam Malik #861

Sahih

[861] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ : أَنَّ ہَبَّارَ بْنَ الأَسْوَدِ جَائَ یَوْمَ النَّحْرِ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ یَنْحَرُ ہَدْیَہُ، فَقَالَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ أَخْطَأْنَا الْعِدَّۃَ، کُنَّا نُرَی أَنَّ ہَذَا الْیَوْمَ یَوْمُ عَرَفَۃَ۔ فَقَالَ : عُمَرُ اذْہَبْ إِلَی مَکَّۃَ، فَطُفْ أَنْتَ وَمَنْ مَعَکَ، وَانْحَرُوا ہَدْیاً إِنْ کَانَ مَعَکُمْ، ثُمَّ احْلِقُوا أَوْ قَصِّرُوا وَارْجِعُوا, فَإِذَا کَانَ عَامٌ قَابِلٌ فَحُجُّوا وَأَہْدُوا، فَمَنْ لَمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلَاثَۃِ أَ یَّامٍ فِی الْحَجِّ وَسَبْعَۃٍ إِذَا رَجَعَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک ہبار بن اسود رحمہ اللہ قربانی کے دن ( 10 ذوالحج ) کو اس حال میں ( میدان منیٰ میں ) آئے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اپنی ہدی کو نحر کر رہے تھے ، عرض کرنے لگے کہ اے امیرالمومنین ! ہم نے تاریخ شمار کرنے میں غلطی کی ، ہم سمجھ رہے تھے کہ آج کا دن یوم عرفہ ( 9 ذوالحج ) ہے ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم مکہ کی طرف چلے جاؤ پھر تم اور جو لوگ تمھارے ساتھ ہیں ( سب بیت اللہ کا ) طواف کرو اور اگر تمھارے پاس ہدی ہو تو اسے نحر کر دو ، پھر سر منڈواؤ یا بال کترواؤ اور ( اپنے گھروں کو ) واپس لوٹ جاؤ ، پھر جب آئندہ سال آئے تو حج بھی کرو اور ہدی بھی لاؤ ، پھر جو شخص قربانی نہ پا سکے تو وہ تین روزے ایام حج میں رکھے اور سات روزے اس وقت رکھے جب گھر لوٹ جائے ۔