Muwatta Imam Malik #860
[860] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، أَ نَّہُ قَالَ : أَخْبَرَنِی سُلَیْمَانُ بْنُ یَسَارٍ : أَنَّ أَ بَا أَیُّوبَ الْأَنْصَارِیَّ خَرَجَ حَاجًّا، حَتَّی إِذَا کَانَ بِالنَّازِیَۃِ مِنْ طَرِیقِ مَکَّۃَ أَضَلَّ رَوَاحِلَہُ، وَإِنَّہُ قَدِمَ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ یَوْمَ النَّحْرِ، فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ، فَقَالَ عُمَرُ : اصْنَعْ کَمَا یَصْنَعُ الْمُعْتَمِرُ، ثُمَّ قَدْ حَلَلْتَ، فَإِذَا أَدْرَکَکَ الْحَجُّ قَابِلاً فَاحْجُجْ وَأَہْدِ مَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْہَدْی۔
اردو ترجمہ · Urdu
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ حج کرنے کے لیے نکلے یہاں تک کہ جب وہ مکہ کے راستے میں ’’ نازیہ ‘‘ نامی جگہ پر پہنچے ( جو کہ وادیٔ صفراء کے قریب ایک چشمے کا نام ہے ) تو وہ اپنی سواریاں گم کر بیٹھے ، ( چنانچہ وہ ان کو ڈھونڈنے اور پھر پیدل سفر کرنے کی وجہ سے وقت پر نہ پہنچ سکے اور 9 ذوالحج کو میدان عرفات میں نہ آ سکے ) اور بلاشبہ وہ یوم نحر ( 10 ذوالحج ) کو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ( مِنیٰ یا مکہ میں ) پہنچے اور ان کے سامنے یہ ماجرا ذکر کیا تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ( اُن سے ) فرمایا : وہی کچھ کیجیے جو عمرہ کرنے والا کرتا ہے ( یعنی طواف اور سعی ) پھر آپ کا احرام کھل جائے گا ، پھر جب آئندہ سال حج آپ کو پا لے تو حج بھی کر لیجیے گا اور جو میسر ہو ہدی کا جانور بھی لے آیئے گا ۔