Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 20 · Chapter 245

حج کے مسائل کی کتاب

حالت احرام میں اپنی بیوی سے صحبت کرنے والے کی ہدی کا بیان

2 hadiths in this chapter

858

Muwatta Imam Malik #858

Zaeef

[858] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَعَلِیَّ بْنَ أبِی طَالِبٍ وَأَبَا ہُرَیْرَۃَ سُئِلُوا عَنْ رَجُلٍ أَصَابَ أَہْلَہُ وَہُوَ مُحْرِمٌ بِالْحَجِّ؟ فَقَالُوا : یَنْفُذَانِ، یَمْضِیَانِ، لِوَجْہِہِمَا حَتَّی یَقْضِیَا حَجَّہُمَا، ثُمَّ عَلَیْہِمَا حَجُّ قَابِلٍ وَالْہَدْیُ۔ قَالَ: وَقَالَ عَلِیُّ بْنُ أبِی طَالِبٍ : وَإِذَا أَہَلاَّ بِالْحَجِّ مِنْ عَامٍ قَابِلٍ تَفَرَّقَا حَتَّی یَقْضِیَا حَجَّہُمَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ بے شک حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے متعلق سوال کیا گیا جو حالت احرام میں اپنی بیوی سے ہم بستری کر لیتا ہے تو سب نے فرمایا : وہ دونوں ( خاوند اور بیوی ) اپنے مقصود کے لیے جاری رہیں ، یہاں تک کہ وہ اپنا حج پورا کر لیں ، پھر ان دونوں پر آئندہ سال حج اور ہدی لازم ہے ، امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے یہ بھی فرمایا کہ جب وہ آئندہ سال حج کا احرام باندھیں گے تو جدا جدا رہیں گے یہاں تک کہ اپنا حج مکمل کر لیں ۔

859

Muwatta Imam Malik #859

Sahih

[859] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، أَ نَّہُ سَمِعَ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ یَقُولُ : مَا تَرَوْنَ فِی رَجُلٍ وَقَعَ بِامْرَأَتِہِ وَہُوَ مُحْرِمٌ ؟ فَلَمْ یَقُلْ لَہُ الْقَوْمُ شَیْئاً: فَقَالَ سَعِیدٌ : إِنَّ رَجُلاً وَقَعَ بِامْرَأَتِہِ وَہُوَ مُحْرِمٌ, فَبَعَثَ إِلَی الْمَدِینَۃِ یَسْأَلُ عَنْ ذَلِکَ، فَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ: یُفَرَّقُ بَیْنَہُمَا إِلَی عَامٍ قَابِلٍ۔ فَقَالَ سَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ : لِیَنْفُذَا لِوَجْہِہِمَا فَلْیُتِمَّا حَجَّہُمَا الَّذِی أَفْسَدَاہُ، فَإِذَا فَرَغَا رَجَعَا، فَإِنْ أَدْرَکَہُمَا حَجٌّ قَابِلٌ فَعَلَیْہِمَا الْحَجُّ وَالْہَدْیُ، وَیُہِلاَّنِ مِنْ حَیْثُ أَہَلاَّ بِحَجِّہِمَا الَّذِی أَفْسَدَاہُ۔ وَیَتَفَرَّقَانِ حَتَّی یَقْضِیَا حَجَّہُمَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

یحیی بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انھوں نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : تمھارا اس شخص کے متعلق کیا خیال ہے جو محرم ہونے کی حالت میں اپنی بیوی سے مباشرت کر لے تو لوگوں ( شاگردوں ) نے انھیں کوئی جواب نہ دیا ، پھر سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے فرمایا : بے شک ایک شخص نے اپنی بیوی کے ساتھ حالت احرام میں صحبت کر لی ، پھر اس نے مدینہ منورہ میں ( کسی کو ) بھیجا کہ وہ اس مسئلے کے متعلق ( وہاں کے علمائے کرام سے ) پوچھ کر آئے ، تو ( ان علماء ) لوگوں میں سے کسی نے یہ جواب دیا تھا کہ ان دونوں میں آئندہ سال تک جدائی ڈال دی جائے گی ، ( لیکن چونکہ یہ جواب درست نہ تھا اس لیے اس کا ردّ کرتے ہوئے ) سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے فرمایا : وہ دونوں اپنے ( حج والے ) کام میں جاری رہیں اور اس حج کو پورا کریں جسے انھوں نے فاسد کر دیا ہے ، پھر جب وہ فارغ ہوں تو واپس لوٹ جائیں ، پھر اگر ان کو ( زندگی میں ) آئندہ حج پا لے تو ان پر حج کرنا اور ہدی ( قربان کرنا ) لازم ہے اور وہ وہیں سے احرام باندھیں گے جہاں سے انھوں نے اس حج کا احرام باندھا تھا جسے وہ ( پچھلے سال ) فاسد کر چکے ، اور وہ دونوں جدا جدا رہیں گے یہاں تک کہ اپنا حج مکمل کر لیں ۔