Muwatta Imam Malik #845
[845] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ : أَ نَّہُ کَانَ إِذَا أَہْدَی ہَدْیاً مِنَ الْمَدِینَۃِ قَلَّدَہُ وَأَشْعَرَہُ بِذِی الْحُلَیْفَۃِ، یُقَلِّدُہُ قَبْلَ أَنْ یُشْعِرَہُ، وَذَلِکَ فِی مَکَانٍ وَاحِدٍ، وَہُوَ مُوَجَّہٌ لِلْقِبْلَۃِ، یُقَلِّدُہُ بِنَعْلَیْنِ، وَیُشْعِرُہُ مِنَ الشِّقِّ الْأَیْسَرِ، ثُمَّ یُسَاقُ مَعَہُ، حَتَّی یُوقَفَ بِہِ مَعَ النَّاسِ بِعَرَفَۃَ، ثُمَّ یَدْفَعُ بِہِ مَعَہُمْ إِذَا دَفَعُوا، فَإِذَا قَدِمَ مِنًی غَدَاۃَ النَّحْرِ نَحَرَہُ قَبْلَ أَنْ یَحْلِقَ أَوْ یُقَصِّرَ، وَکَانَ ہُوَ یَنْحَرُ ہَدْیَہُ بِیَدِہِ یَصُفُّہُنَّ قِیَاماً، وَیُوَجِّہُہُنَّ إِلَی الْقِبْلَۃِ، ثُمَّ یَأْکُلُ وَیُطْعِمُ۔
اردو ترجمہ · Urdu
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جب ہدی کا جانور مدینہ سے لے کر جاتے تو ذوالحلیفہ مقام پر اُسے قلادہ بھی ڈالتے اور اشعار بھی کرتے ، اسے اشعار کرنے سے پہلے قلادہ ڈال دیتے تھے اور یہ دونوں کام ایک ہی جگہ پر اس حال میں کرتے کہ اس جانور کا منہ قبلہ کی سمت ہوتا تھا ، وہ اس کے گلے میں دو جوتیاں لٹکاتے اور اس کی بائیں جانب اشعار کرتے ( زخم لگا کر خون صاف کرتے ) پھر اسے ان کے ساتھ ہی لے جایا جاتا تھا یہاں تک کہ اسے لوگوں کے ساتھ میدان عرفات میں ٹھہرایا جاتا ، پھر اسے لوگوں کے ساتھ ہی واپس لایا جاتا جس وقت کہ لوگ واپس ہوتے ، پھر جب حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ یوم نحر ( 10 ذوالحج ) کی صبح کو میدان منیٰ میں آ جاتے تو وہ اپنا سر منڈوانے یا بال کتروانے سے پہلے اسے نحر کر دیتے اور وہ اپنے ہدی کے اونٹوں کو خود اپنے ہاتھ سے نحر کرتے تھے ، وہ انھیں قطار میں کھڑا کر دیتے اور ان کا منہ قبلہ کی طرف کر دیتے ، پھر خود بھی کھاتے اور دوسروں کو بھی کھلاتے ۔