Muwatta Imam Malik #829
[829] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ أَبِیہِ أَ نَّہُ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ وَأَنَا یَوْمَئِذٍ حَدِیثُ السِّنِّ: أَرَأَیْتِ قَوْلَ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی : {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَـلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ أَنْ یَطَّوَّفَ بِہِمَا} [البقرۃ : 158] فَمَا عَلَی الرَّجُلِ شَیْئٌ أَنْ لَا یَطَّوَّفَ بِہِمَا۔ فَقَالَتْ عَائِشَۃُ : کَلاَّ، لَوْ کَانَ کَمَا تَقُولُ، لَکَانَتْ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ أَنْ لَا یَطَّوَّفَ بِہِمَا، إِنَّمَا أُنْزِلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ فِی الْأَنْصَارِ، کَانُوا یُہِلُّونَ لِمَنَاۃَ، وَکَانَتْ مَنَاۃُ حَذْوَ قُدَیْدٍ، وَکَانُوا یَتَحَرَّجُونَ أَنْ یَطُوفُوا بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ، فَلَمَّا جَائَ الإِسْلَامُ سَأَلُوا رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ عَنْ ذَلِکَ، فَأَنْزَلَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی : {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ أَنْ یَطَّوَّفَ بِہِمَا}۔
اردو ترجمہ · Urdu
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد ( عروہ رحمہ اللہ ) سے روایت کرتے ہیں ، انھوں نے کہا کہ میں نے ( اپنی خالہ ) اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا ، اس حال میں کہ میں ان دنوں نو عمر ہی تھا ، ( میں نے کہا کہ ) مجھے اس فرمان الٰہی کے متعلق بتائیے : { اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِاعْتَمَرَ فَــلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِہِمَا } ( البقرۃ 2 : 158 ) ’’ بے شک صفا و مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ، پس جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف کرے ۔‘‘ ( یعنی ان دونوں کے درمیان سعی کے چکر لگائے … تو کیا اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ) آدمی پر اس میں ( بھی ) کچھ گناہ نہیں ہو گا کہ ان دونوں کے درمیان چکر نہ لگائے ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : ہرگز نہیں ، اگر اس کا مفہوم اس طرح ہوتا جیسا کہ تو کہہ رہا ہے تو آیت یوں ہوتی : (( فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ اَنْ لَّایَطَّوَّفَ بِھِمَا )) ’’ اس پر کوئی گناہ نہ ہو گا اس میں کہ وہ ان دونوں کے درمیان چکر نہ لگائے ۔‘‘ ( دراصل بات یہ ہے کہ ) بلاشبہ یہ آیت تو صرف اور صرف انصار کے متعلق نازل ہوئی تھی جو ( اسلام سے قبل ) مَنَاۃ بت کے نام کا احرام باندھتے ( اور اس کا حج کرتے تھے ) اور مناۃ بت قُدید جگہ کے سامنے تھا اور وہ ( انصار دورِ جاہلیت میں ) صفا و مروہ کے درمیان چکر لگانے میں حرج ( اور گناہ ) محسوس کرتے تھے ، چنانچہ جب اسلام آیا تو انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق سوال کیا تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی : { اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِاعْتَمَرَ فَــلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِہِمَا } ( البقرۃ 2 : 158 )