Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 20 · Chapter 239

حج کے مسائل کی کتاب

سعی کے بارے میں متفرق احادیث کا بیان

3 hadiths in this chapter

829

Muwatta Imam Malik #829

Sahih

[829] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ أَبِیہِ أَ نَّہُ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ وَأَنَا یَوْمَئِذٍ حَدِیثُ السِّنِّ: أَرَأَیْتِ قَوْلَ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی : {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَـلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ أَنْ یَطَّوَّفَ بِہِمَا} [البقرۃ : 158] فَمَا عَلَی الرَّجُلِ شَیْئٌ أَنْ لَا یَطَّوَّفَ بِہِمَا۔ فَقَالَتْ عَائِشَۃُ : کَلاَّ، لَوْ کَانَ کَمَا تَقُولُ، لَکَانَتْ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ أَنْ لَا یَطَّوَّفَ بِہِمَا، إِنَّمَا أُنْزِلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ فِی الْأَنْصَارِ، کَانُوا یُہِلُّونَ لِمَنَاۃَ، وَکَانَتْ مَنَاۃُ حَذْوَ قُدَیْدٍ، وَکَانُوا یَتَحَرَّجُونَ أَنْ یَطُوفُوا بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ، فَلَمَّا جَائَ الإِسْلَامُ سَأَلُوا رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ عَنْ ذَلِکَ، فَأَنْزَلَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی : {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ أَنْ یَطَّوَّفَ بِہِمَا}۔

اردو ترجمہ · Urdu

ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد ( عروہ رحمہ اللہ ) سے روایت کرتے ہیں ، انھوں نے کہا کہ میں نے ( اپنی خالہ ) اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا ، اس حال میں کہ میں ان دنوں نو عمر ہی تھا ، ( میں نے کہا کہ ) مجھے اس فرمان الٰہی کے متعلق بتائیے : { اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِاعْتَمَرَ فَــلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِہِمَا } ( البقرۃ 2 : 158 ) ’’ بے شک صفا و مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ، پس جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف کرے ۔‘‘ ( یعنی ان دونوں کے درمیان سعی کے چکر لگائے … تو کیا اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ) آدمی پر اس میں ( بھی ) کچھ گناہ نہیں ہو گا کہ ان دونوں کے درمیان چکر نہ لگائے ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : ہرگز نہیں ، اگر اس کا مفہوم اس طرح ہوتا جیسا کہ تو کہہ رہا ہے تو آیت یوں ہوتی : (( فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ اَنْ لَّایَطَّوَّفَ بِھِمَا )) ’’ اس پر کوئی گناہ نہ ہو گا اس میں کہ وہ ان دونوں کے درمیان چکر نہ لگائے ۔‘‘ ( دراصل بات یہ ہے کہ ) بلاشبہ یہ آیت تو صرف اور صرف انصار کے متعلق نازل ہوئی تھی جو ( اسلام سے قبل ) مَنَاۃ بت کے نام کا احرام باندھتے ( اور اس کا حج کرتے تھے ) اور مناۃ بت قُدید جگہ کے سامنے تھا اور وہ ( انصار دورِ جاہلیت میں ) صفا و مروہ کے درمیان چکر لگانے میں حرج ( اور گناہ ) محسوس کرتے تھے ، چنانچہ جب اسلام آیا تو انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق سوال کیا تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی : { اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِاعْتَمَرَ فَــلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِہِمَا } ( البقرۃ 2 : 158 )

830

Muwatta Imam Malik #830

Sahih

[830] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ : أَنَّ سَوْدَۃَ بِنْتَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ کَانَتْ عِنْدَ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ، فَخَرَجَتْ تَطُوفُ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ فِی حَجٍّ أَوْ عُمْرَۃٍ مَاشِیَۃً، وَکَانَتِ امْرَأَۃً ثَقِیلَۃً، فَجَائَ تْ حِینَ انْصَرَفَ النَّاسُ مِنَ الْعِشَائِ، فَلَمْ تَقْضِ طَوَافَہَا حَتَّی نُودِیَ بِالأُولَی مِنَ الصُّبْحِ، فَقَضَتْ طَوَافَہَا فِیمَا بَیْنَہَا وَبَیْنَہُ، وَکَانَ عُرْوَۃُ إِذَا رَآہُمْ یَطُوفُونَ عَلَی الدَّوَابِّ یَنْہَاہُمْ أَشَدَّ النَّہْیِ، فَیَعْتَلُّونَ بِالْمَرَضِ حَیَائً مِنْہُ، فَیَقُولُ لَنَا فِیمَا بَیْنَنَا وَبَیْنَہُ : لَقَدْ خَابَ ہَؤُ لَائِ وَخَسِرُوا۔

اردو ترجمہ · Urdu

ہشام بن عروہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی بیٹی ’’ سودہ رحمہ اللہ ‘‘ ( میرے والد ) عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کے نکاح میں تھیں ، وہ حج یا عمرہ میں صفا و مروہ کے درمیان میں پیدل چکر لگانے کے لیے نکلیں ، وہ بھاری بدن والی عورت تھیں ، چنانچہ وہ ( سعی کے لیے اس وقت ) آئیں جب لوگ نماز عشاء سے فارغ ہوئے ، پھر وہ اپنے ( سعی والے ) یہ چکر پورے نہ کر پائیں یہاں تک کہ فجر کی پہلی اذان ہو گئی ، یوں انھوں نے نماز عشاء سے لے کر اذان فجر تک کے درمیان میں اپنی سعی کو پورا کیا ( بھاری بدن اور پیدل چلنے کی دشواری کے باوجود ان کے خاوند عروہ رحمہ اللہ نے انھیں سواری کی اجازت نہ دی ) اور عروہ رحمہ اللہ جب لوگوں کو دیکھتے کہ وہ جانوروں پر سعی کر رہے ہیں تو وہ انھیں بہت سختی سے منع کرتے تو وہ ( لوگ ) ان سے حیا کرتے ہوئے بیماری کا عذر پیش کرتے تو عروہ رحمہ اللہ ہمارے اور اپنے درمیان ( بات کو خاص رکھتے ہوئے اور خاص ہم ہی کو مخاطب کرتے ہوئے ) ہم سے کہتے کہ یقیناً یہ لوگ ناکام ہو گئے اور گھاٹے میں رہے ۔

831

Muwatta Imam Malik #831

Sahih

[831] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ :أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ کَانَ إِذَا نَزَلَ مِنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ مَشَی، حَتَّی إِذَا انْصَبَّتْ قَدَمَاہُ فِی بَطْنِ الْوَادِی سَعَی، حَتَّی یَخْرُجَ مِنْہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بلاشبہ رسول اللہ ﷺ جب صفا و مروہ کے درمیان ( پہاڑی سے ) اُترنے لگتے تو پیدل ( معمول کے مطابق ) چلتے یہاں تک کہ جب آپ ﷺ کے مبارک قدم وادی کے نشیب میں پڑتے تو آپ ﷺ دوڑنے لگتے ، یہاں تک کہ اس وادی سے نکل جاتے ( اور دوسری پہاڑی پر چڑھنے لگتے تو پھر پیدل چلنے لگتے ) ۔