Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 20 · Chapter 237

حج کے مسائل کی کتاب

طواف کے متفرق مسائل کا بیان

3 hadiths in this chapter

823

Muwatta Imam Malik #823

Sahih

[823] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ أبِی الأَسْوَدِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ، عَنْ زَیْنَبَ بِنْتِ أبِی سَلَمَۃَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ، أَ نَّہَا قَالَتْ: شَکَوْتُ إِلَی رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ إنِّی أَشْتَکِی فَقَالَ : طُوفِی مِنْ وَرَائِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاکِبَۃٌ۔ قَالَتْ : فَطُفْتُ رَاکِبَۃً بَعِیرِی، وَرَسُولُ اللّٰہِ ﷺ حِینَئِذٍ یُصَلِّی إِلَی جَانِبِ الْبَیْتِ، وَہُوَ یَقْرَأُ بِالطُّورِ وَکِتَابٍ مَسْطُورٍ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہ زوجہ رسول ﷺ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے حضور یہ شکایت کی کہ بے شک میں بیمار ہوں تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ لوگوں کے پیچھے سے اس حال میں طواف کر لے کہ تُو سوار ہو ۔‘‘ وہ کہتی ہیں کہ پھر میں نے ( سواری پر بیٹھ کر ) طواف کیا اور رسول اللہ ﷺ اس وقت بیت اللہ کے ایک جانب نماز پڑھ رہے تھے اور آپ ﷺ سورۃ وَالطُّوْرِ وَ کِتَابٍ مَّسْطُوْرٍ کی تلاوت فرما رہے تھے ۔

824

Muwatta Imam Malik #824

Zaeef

[824] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ أبِی الزُّبَیْرِ الْمَکِّیِّ : أَنَّ أَبَا مَاعِزٍ الأَسْلَمِیَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ سُفْیَانَ أَخْبَرَہُ : أَ نَّہُ کَانَ جَالِساً مَعَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، فَجَائَ تْہُ امْرَأَۃٌ تَسْتَفْتِیہِ فَقَالَتْ : إنِّی أَقْبَلْتُ أُرِیدُ أَنْ أَطُوفَ بِالْبَیْتِ، حَتَّی إِذَا کُنْتُ بِبَابِ الْمَسْجِدِ ہَرَقْتُ الدِّمَائَ، فَرَجَعْتُ حَتَّی ذَہَبَ ذَلِکَ عَنِّی، ثُمَّ أَقْبَلْتُ حَتَّی إِذَا کُنْتُ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ ہَرَقْتُ الدِّمَائَ، فَرَجَعْتُ حَتَّی ذَہَبَ ذَلِکَ عَنِّی، ثُمَّ أَقْبَلْتُ حَتَّی إِذَا کُنْتُ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ ہَرَقْتُ الدِّمَائَ۔ فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ : إِنَّمَا ذَلِکِ رَکْضَۃٌ مِنَ الشَّیْطَانِ, فَاغْتَسِلِی، ثُمَّ اسْتَثْفِرِی بِثَوْبٍ، ثُمَّ طُوفِی۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابو ماعز اسلمی عبداللہ بن سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بلاشبہ وہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ بیٹھے ہوئے تھے ، ( اتنے میں ) اُن کے پاس ایک عورت آئی ، وہ آپ سے فتوی لینا چاہتی تھی ، چنانچہ وہ کہنے لگی کہ بے شک میں ( حرم کعبہ کی طرف ) متوجہ ہوئی ، میرا ارادہ تھا کہ بیت اللہ کا طواف کروں ، یہاں تک کہ جب میں مسجد کے دروازے کے پاس پہنچی تو مجھے کافی زیادہ خون آنا شروع ہو گیا ، میں واپس لوٹ گئی ، یہاں تک کہ وہ خون مجھ سے ختم ہو گیا ، میں پھر متوجہ ہوئی یہاں تک کہ جب میں مسجد کے دروازے کے پاس آئی تو مجھے کافی خون آنے لگا ، میں پھر لوٹ گئی یہاں تک کہ وہ خون مجھ سے چلا گیا ، میں نے پھر ( مسجد کا ) رخ کیا یہاں تک کہ جب میں مسجد کے دروازے کے قریب ہوئی تو پھر مجھے بہت خون آنے لگا ، ( اب میں کیا کروں ؟ ) تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ یقیناً یہ تو شیطان کی ٹھوکر ہے ، لہٰذا تم غسل کر لو ، پھر کپڑے کے ساتھ لنگوٹ باندھ لو ، پھر طواف کر لو ۔

825

Muwatta Imam Malik #825

Zaeef

[825] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ : أَنَّ سَعْدَ بْنَ أبِی وَقَّاصٍ کَانَ إِذَا دَخَلَ مَکَّۃَ مُرَاہِقاً، خَرَجَ إِلَی عَرَفَۃَ قَبْلَ أَنْ یَطُوفَ بِالْبَیْتِ وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ، ثُمَّ یَطُوفُ بَعْدَ أَنْ یَرْجِعَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ جب مکہ میں اس حال میں آتے کہ ( 9 ذوالحج کا دن ختم ہو رہا ہوتا اور ) انھیں وقوف عرفہ کے فوت ہو جانے کا اندیشہ ہوتا تو وہ ( سیدھے ) عرفات کی طرف نکل جاتے ، پہلے اس لیے کہ بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کریں ، پھر وہ ( عرفات سے ) واپس آنے کے بعد ہی طواف کرتے ۔