Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 20 · Chapter 229

حج کے مسائل کی کتاب

اس شخص کا بیان جو دشمن کے علاوہ کسی اور سبب سے روک دیا جائے

5 hadiths in this chapter

799

Muwatta Imam Malik #799

Sahih

[799] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ, عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ : أَ نَّہُ قَالَ : الْمُحْصَرُ بِمَرَضٍ لَا یَحِلُّ حَتَّی یَطُوفَ بِالْبَیْتِ وَیَسْعَی بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ، فَإِذَا اضْطُرَّ إِلَی لُبْسِ شَیْئٍ مِنَ الثِّیَابِ الَّتِی لَا بُدَّ لَہُ مِنْہَا، أَوِ الدَّوَائِ، صَنَعَ ذَلِکَ وَافْتَدَی۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے فرمایا کہ بیماری کی وجہ سے روک دیا جانے والا شخص حلال نہیں ہو گا ( احرام نہیں کھولے گا ) یہاں تک کہ وہ بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کر لے ، اگر وہ ( احرام کے دوران سلے ہوئے ممنوع ) کپڑوں میں سے کسی کو پہننے پر یا ( ممنوع ) دوائی لینے پر مجبور کر دیا جائے جس کے بغیر کوئی چارہ کار نہ ہو تو وہ ایسا کر لے اور فدیہ دے ۔

800

Muwatta Imam Malik #800

Sahih

[800] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ، عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ ، أَ نَّہَا کَانَتْ تَقُولُ : الْمُحْرِمُ لَا یُحِلُّہُ إِلاَّ الْبَیْتُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ رسول ﷺ سے روایت ہے ، یقیناً وہ کہا کرتی تھیں کہ محرم کو بیت اللہ کے سوا کوئی چیز حلال نہیں کرتی ۔

801

Muwatta Imam Malik #801

Sahih

[801] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ أَیُّوبَ بْنِ أبِی تَمِیمَۃَ السَّخْتِیَانِیِّ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَہْلِ الْبَصْرَۃِ کَانَ قَدِیماً، أَ نَّہُ قَالَ : خَرَجْتُ إِلَی مَکَّۃَ حَتَّی إِذَا کُنْتُ بِبَعْضِ الطَّرِیقِ کُسِرَتْ فَخِذِی، فَأَرْسَلْتُ إِلَی مَکَّۃَ، وَبِہَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبَّاسٍ، وَعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ وَالنَّاسُ، فَلَمْ یُرَخِّصْ لِی أَحَدٌ أَنْ أَحِلَّ، أَقَمْتُ عَلَی ذَلِکَ الْمَائِ سَبْعَۃَ أَشْہُرٍ، حَتَّی أَحْلَلْتُ بِعُمْرَۃٍ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ایوب بن ابی تمیمہ سختیانی رحمہ اللہ ، اہل بصرہ میں سے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں ، جو ایک بوڑھا آدمی تھا ، اس ( بوڑھے بصری شخص ) نے کہا کہ میں مکہ کی طرف ( عمرہ کرنے کے لیے ) نکلا ، یہاں تک کہ جب میں راستے کے کسی مقام پر ( واقع ایک چشمے پر ) تھا تو میری ران ٹوٹ گئی ، چنانچہ میں نے مکہ پیغام بھیجا ، وہاں حضرت عبداللہ بن عباس ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم اور دوسرے لوگ بھی تھے تو ( ان میں سے ) کسی نے مجھے یہ رخصت نہ دی کہ احرام کھول دوں ، لہٰذا میں اسی پانی ( کے چشمے ) پر سات ماہ ٹھہرا رہا ، یہاں تک کہ میں نے عمرہ کر کے ہی احرام کھولا ۔

802

Muwatta Imam Malik #802

Sahih

[802] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، أَ نَّہُ قَالَ : مَنْ حُبِسَ دُونَ الْبَیْتِ بِمَرَضٍ، فَإِنَّہُ لَا یَحِلُّ حَتَّی یَطُوفَ بِالْبَیْتِ، وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے فرمایا : جو شخص کسی بیماری کی وجہ سے بیت اللہ ( تک پہنچنے ) سے پہلے ہی روک دیا جائے تو یقیناً وہ حلال نہیں ہو گا ( اور اپنا احرام نہیں کھولے گا ) یہاں تک کہ ( عذر ختم ہونے کے بعد ) بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کر لے ۔

803

Muwatta Imam Malik #803

Sahih

[803] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ : أَنَّ سَعِیدَ بْنَ حُزَابَۃَ الْمَخْزُومِیَّ صُرِعَ بِبَعْضِ طَرِیقِ مَکَّۃَ، وَہُوَ مُحْرِمٌ، فَسَأَلَ مَنْ یَلِی عَلَی الْمَائِ الَّذِی کَانَ عَلَیْہِ، فَوَجَدَ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ، وَعَبْدَ اللّٰہِ بْنَ الزُّبَیْرِ، وَمَرْوَانَ بْنَ الْحَکَمِ، فَذَکَرَ لَہُمُ الَّذِی عَرَضَ لَہُ، فَکُلُّہُمْ أَمَرَہُ أَنْ یَتَدَاوَی بِمَا لَا بُدَّ لَہُ مِنْہُ وَیَفْتَدِیَ، فَإِذَا صَحَّ اعْتَمَرَ فَحَلَّ مِنْ إِحْرَامِہِ، ثُمَّ عَلَیْہِ حَجُّ قَابِلٍ وَیُہْدِی مَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْہَدْی۔

اردو ترجمہ · Urdu

سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سعید بن حزابہ مخزوی رحمہ اللہ مکہ کے راستے میں کہیں سواری سے گر پڑے ، اس حال میں کہ وہ محرم تھے ، تو انھوں نے اسی پانی ( کے چشمے ) پر جہاں وہ ٹھہرے ہوئے تھے ۔ ان علماء کے متعلق سوال کیا جو قریب ( موجود ) تھے ، چنانچہ انھوں نے ( وہاں ) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ، حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اور مروان بن حکم کو پا لیا ، پھر ان کے سامنے وہ عذر ذکر کیا جو انھیں پیش آیا تھا تو ان سب نے انھیں یہی حکم دیا کہ اس ( ممنوع دوا ) کے ساتھ علاج کروا لیں جس کے بغیر کوئی چارہ نہیں اور ( پھر اس کا ) فدیہ ادا کر دیں ، پھر جب وہ تندرست ہوں تو عمرہ کریں ، پھر اپنے احرام سے حلال ہو جائیں ( احرام کھول دیں ) پھر ان پر آئندہ سال حج لازم ہو گا اور انھیں جو قربانی میسر ہو اسے قربان کریں ۔