Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 20 · Chapter 228

حج کے مسائل کی کتاب

اس شخص کا بیان جو دشمن کی وجہ سے ( حج یا عمرے سے ) روک دیا جائے

2 hadiths in this chapter

797

Muwatta Imam Malik #797

Sahih

[797] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ : أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ حَلَّ ہُوَ وَأَصْحَابُہُ بِالْحُدَیْبِیَۃِ، فَنَحَرُوا الْہَدْیَ، وَحَلَقُوا رُؤُوسَہُمْ، وَحَلُّوا مِنْ کُلِّ شَیْئٍ قَبْلَ أَنْ یَطُوفُوا بِالْبَیْتِ، وَقَبْلَ أَنْ یَصِلَ إِلَیْہِ الْہَدْیُ، ثُمَّ لَمْ یُعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ أَمَرَ أَحَداً مِنْ أَصْحَابِہِ، وَلَا مِمَّنْ کَانَ مَعَہُ أَنْ یَقْضُوا شَیْئاً وَلَا یَعُودُوا لِشَیْئٍ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ بے شک رسول اللہ ﷺ خود بھی اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم بھی حدیبیہ کے مقام پر حلال ہو گئے ( سب نے احرام کھول دیا ) ، چنانچہ انھوں نے قربانی کے جانور قربان کیے ، اپنے سر منڈوا دیے اور ہر چیز سے حلال ہو گئے ، پہلے اس سے کہ وہ بیت اللہ کا طواف کرتے اور پہلے اس سے کہ قربانی بیت اللہ تک پہنچتی ، پھر ہم نہیں جانتے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ میں سے کسی کو یا ان میں سے کسی کو جو آپ ﷺ کے ہمراہ تھے ، یہ حکم دیا ہو کہ وہ کوئی قضائی دیں اور نہ یہ ( حکم دیا ) کہ وہ کسی چیز کا اعادہ کریں ۔

798

Muwatta Imam Malik #798

Sahih

[798] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، أَ نَّہُ قَالَ حِینَ خَرَجَ إِلَی مَکَّۃَ مُعْتِمَراً فِی الْفِتْنَۃِ : إِنْ صُدِدْتُ عَنِ الْبَیْتِ، صَنَعْنَا کَمَا صَنَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ ، فَأَہَلَّ بِعُمْرَۃٍ، مِنْ أَجْلِ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ أَہَلَّ بِعُمْرَۃٍ عَامَ الْحُدَیْبِیَۃِ۔ ثُمَّ إِنَّ عَبْدَ اللّٰہِ نَظَرَ فِی أَمْرِہِ فَقَالَ: مَا أَمْرُہُمَا إِلاَّ وَاحِدٌ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَی أَصْحَابِہِ فَقَالَ : مَا أَمْرُہُمَا إِلاَّ وَاحِدٌ، أُشْہِدُکُمْ إنِّی قَدْ أَوْجَبْتُ الْحَجَّ مَعَ الْعُمْرَۃِ، ثُمَّ نَفَذَ حَتَّی جَائَ الْبَیْتَ، فَطَافَ طَوَافاً وَاحِداً، وَرَأَی ذَلِکَ مُجْزِیاً عَنْہُ وَأَہْدَی۔

اردو ترجمہ · Urdu

نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جب فتنہ کے زمانے میں ( مدینہ سے ) مکہ کی طرف نکلے ، اس حال میں کہ وہ عمرہ کرنا چاہتے تھے ( اور اس وقت حجاج بن یوسف نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے خلاف مکہ مکرمہ کا محاصرہ کر رکھا تھا اور وہ سنگ باری بھی کرتا رہتا تھا ) تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر میں بیت اللہ ( تک پہنچنے ) سے روک دیا گیا تو ہم وہی کریں گے جو ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ کیا تھا ، چنانچہ انھوں نے عمرے کا احرام باندھ لیا ، اس وجہ سے کہ حدیبیہ والے سال رسول اللہ ﷺ نے بھی عمرے کا احرام باندھا تھا ، پھر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے معاملے میں نظر دوڑائی تو فرمانے لگے کہ ان دونوں ( حج و عمرے ) کا معاملہ تو بالکل ایک جیسا ہی ہے ، میں تم سب کو گواہ بناتا ( ہوں اور تمھارے سامنے یہ نیت کرتا ) ہوں کہ بے شک میں نے حج کو عمرے کے ساتھ واجب کر لیا ہے ، پھر وہ چلتے رہے ( یہاں تک کہ ) بیت اللہ کے پاس آئے ، پھر اس کا ایک بار طواف کیا اور خیال کیا کہ یہی ( ایک طواف ) ان ( کے حج و عمرہ ) کی طرف سے کافی ہو جائے گا اور انھوں نے قربانی بھی کی ۔