Muwatta Imam Malik #797
[797] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ : أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ حَلَّ ہُوَ وَأَصْحَابُہُ بِالْحُدَیْبِیَۃِ، فَنَحَرُوا الْہَدْیَ، وَحَلَقُوا رُؤُوسَہُمْ، وَحَلُّوا مِنْ کُلِّ شَیْئٍ قَبْلَ أَنْ یَطُوفُوا بِالْبَیْتِ، وَقَبْلَ أَنْ یَصِلَ إِلَیْہِ الْہَدْیُ، ثُمَّ لَمْ یُعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ أَمَرَ أَحَداً مِنْ أَصْحَابِہِ، وَلَا مِمَّنْ کَانَ مَعَہُ أَنْ یَقْضُوا شَیْئاً وَلَا یَعُودُوا لِشَیْئٍ۔
اردو ترجمہ · Urdu
امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ بے شک رسول اللہ ﷺ خود بھی اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم بھی حدیبیہ کے مقام پر حلال ہو گئے ( سب نے احرام کھول دیا ) ، چنانچہ انھوں نے قربانی کے جانور قربان کیے ، اپنے سر منڈوا دیے اور ہر چیز سے حلال ہو گئے ، پہلے اس سے کہ وہ بیت اللہ کا طواف کرتے اور پہلے اس سے کہ قربانی بیت اللہ تک پہنچتی ، پھر ہم نہیں جانتے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ میں سے کسی کو یا ان میں سے کسی کو جو آپ ﷺ کے ہمراہ تھے ، یہ حکم دیا ہو کہ وہ کوئی قضائی دیں اور نہ یہ ( حکم دیا ) کہ وہ کسی چیز کا اعادہ کریں ۔