Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 20 · Chapter 213

حج کے مسائل کی کتاب

تلبیہ منقطع کرنے کا بیان

7 hadiths in this chapter

744

Muwatta Imam Malik #744

Sahih

[744] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أبِی بَکْرٍ الثَّقَفِی، أَ نَّہُ سَأَلَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ - وَہُمَا غَادِیَانِ مِنْ مِنًی إِلَی عَرَفَۃَ - کَیْفَ کُنْتُمْ تَصْنَعُونَ فِی ہَذَا الْیَوْمِ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ ؟ قَالَ : کَانَ یُہِلُّ الْمُہِلُّ مِنَّا فَلَا یُنْکَرُ عَلَیْہِ، وَیُکَبِّرُ الْمُکَبِّرُ فَلَا یُنْکَرُ عَلَیْہِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

محمد بن ابی بکر ثقفی رحمہ اللہ سے روایت ہے ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا ، اس حال میں کہ وہ دونوں ( نو ذوالحج کی ) صبح کو منیٰ سے عرفات کی طرف جا رہے تھے ( پوچھا کہ ) آپ لوگ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ اس دن ( یعنی نو ذوالحج ، یوم عرفہ ) میں کس طرح ( کا عمل ) کرتے تھے ؟ تو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم میں سے تلبیہ پڑھنے والا لبیک پکارتا رہتا تو اس پر بھی انکار نہ کیا جاتا تھا ( کوئی بھی اُسے منع نہ کرتا ) اور تکبیر کہنے والا اللہ اکبر اللہ اکبر کہتا تو اس پر بھی انکار نہ کیا جاتا تھا ۔

745

Muwatta Imam Malik #745

Zaeef

[745] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ عَلِیَّ بْنَ أبِی طَالِبٍ کَانَ یُلَبِّی فِی الْحَجِّ، حَتَّی إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ مِنْ یَوْمِ عَرَفَۃَ قَطَعَ التَّلْبِیَۃَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

جعفر بن محمد رحمہ اللہ اپنے والد ( محمد باقر رحمہ اللہ ) سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ حج کے دوران تلبیہ کہتے رہتے تھے ، حتی کہ جب عرفہ کے دن ( نو ذوالحج کو ) سورج ڈھل جاتا تو وہ تلبیہ ختم کر دیتے ۔

746

Muwatta Imam Malik #746

Sahih

[746] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ ، أَنَّہَا کَانَتْ تَتْرُکُ التَّلْبِیَۃَ إِذَا رَجَعَتْ إِلَی الْمَوْقِفِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ رسول اللہ ﷺ سے روایت ہے کہ بلاشبہ وہ اس وقت تلبیہ ختم کرتیں جب وہ ٹھہرنے کی جگہ ( یعنی میدان عرفات ) کی طرف چل پڑتیں ۔

747

Muwatta Imam Malik #747

Sahih

[747] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ یَقْطَعُ التَّلْبِیَۃَ فِی الْحَجِّ إِذَا انْتَہَی إِلَی الْحَرَمِ، حَتَّی یَطُوفَ بِالْبَیْتِ، وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ، ثُمَّ یُلَبِّی، حَتَّی یَغْدُوَ مِنْ مِنًی إِلَی عَرَفَۃَ، فَإِذَا غَدَا تَرَکَ التَّلْبِیَۃَ، وَکَانَ یَتْرُکُ التَّلْبِیَۃَ فِی الْعُمْرَۃِ إِذَا دَخَلَ الْحَرَمَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ حج کے موقع پر ( پہلی بار ) اس وقت تلبیہ ختم کر دیتے تھے ، جب وہ حرم تک پہنچتے ( بیت اللہ والی مسجد میں داخل ہوتے ہی تلبیہ ترک کر دیتے ) یہاں تک کہ بیت اللہ کا طواف کر لیتے اور صفا مروہ کے درمیان بھی چکر لگا لیتے ، پھر ( دوبارہ ) تلبیہ شروع کر دیتے یہاں تک کہ ( نو ذوالحج کو ) منیٰ سے عرفات کی طرف صبح چل پڑتے ، چنانچہ جب وہ چل پڑتے تو ( پھر ) تلبیہ ختم کر دیتے اور عمرہ کے موقع پر تو تلبیہ اسی وقت ختم کر دیتے تھے جب حرم میں داخل ہوتے تھے ۔

748

Muwatta Imam Malik #748

Zaeef

[748] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، أَ نَّہُ کَانَ یَقُولُ : کَانَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ لَا یُلَبِّی وَہُوَ یَطُوفُ بِالْبَیْتِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ابن شہاب رحمہ اللہ سے روایت ہے ، وہ کہتے تھے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جب بیت اللہ کا طواف کر رہے ہوتے تھے تو تلبیہ نہیں پڑھا کرتے تھے ۔

749

Muwatta Imam Malik #749

Sahih

[749] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ أبِی عَلْقَمَۃَ، عَنْ أُمِّہِ، عَنْ عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ، أَنَّہَا کَانَتْ تَنْزِلُ مِنْ عَرَفَۃَ بِنَمِرَۃَ، ثُمَّ تَحَوَّلَتْ إِلَی الأَرَاکِ۔ قَالَتْ : وَکَانَتْ عَائِشَۃُ تُہِلُّ مَا کَانَتْ فِی مَنْزِلِہَا وَمَنْ کَانَ مَعَہَا، فَإِذَا رَکِبَتْ فَتَوَجَّہَتْ إِلَی الْمَوْقِفِ، تَرَکَتِ الإِہْلَالَ۔ قَالَتْ : وَکَانَتْ عَائِشَۃُ تَعْتَمِرُ بَعْدَ الْحَجِّ مِنْ مَکَّۃَ فِی ذِی الْحِجَّۃِ، ثُمَّ تَرَکَتْ ذَلِکَ، فَکَانَتْ تَخْرُجُ قَبْلَ ہِلَالِ الْمُحَرَّمِ، حَتَّی تَأْتِیَ الْجُحْفَۃَ فَتُقِیمَ بِہَا، حَتَّی تَرَی الْہِلَالَ، فَإِذَا رَأَتِ الْہِلَالَ أَہَلَّتْ بِعُمْرَۃٍ۔

اردو ترجمہ · Urdu

علقمہ بن ابی علقمہ اپنی والدہ ( اُم علقمہ ، مرجانہ رحمۃ اللہ علیہما ) سے روایت کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ اُم المومنین رضی اللہ عنہا عرفات کے میدان کے پاس نمرہ کے مقام پر پڑاؤ کرتی تھیں ، پھر وہ لوگوں کا ہجوم بڑھ جانے کی وجہ سے وادی اراک میں منتقل ہو گئیں ( اور وہاں پڑاؤ کرنے لگیں ، حدیث کی راویہ اُم علقمہ رحمہ اللہ ) کہتی ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جب تک اپنے پڑاؤ میں رہتیں تلبیہ پڑھتی رہتیں اور وہ لوگ بھی ( تلبیہ کہتے رہتے ) جو ان کے ہمراہ ہوتے ، پھر جب وہ سوار ہو کر موقف ( میدان عرفات میں ٹھہرانے کے مقام ) کی طرف رُخ کر لیتیں تو لبیک پڑھنا ترک کر دیتی تھیں ، وہ ( اُم علقمہ رحمہ اللہ ) کہتی ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حج کرنے کے بعد ذوالحج ( ہی کے مہینہ ) میں مکہ مکرمہ ہی سے عمرہ کیا کرتی تھیں ، پھر انھوں نے اسے ترک کر دیا ، چنانچہ وہ محرَّم الحرام کا چاند نکلنے سے پہلے پہلے ( مکہ مکرمہ سے ) نکل جاتیں ، یہاں تک کہ ( ملک شام کے راستے والے میقات ) جُحفہ پر آ جاتیں ، پھر وہاں قیام کیے رکھتیں یہاں تک کہ ( محرَّم کا ) چاند دیکھ لیتیں ، چنانچہ جب وہ ( اس ) چاند کو دیکھ لیتیں تو عمرے کا احرام باندھ لیتیں ۔

750

Muwatta Imam Malik #750

Sahih

[750] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ غَدَا یَوْمَ عَرَفَۃَ مِنْ مِنًی، فَسَمِعَ التَّکْبِیرَ عَالِیاً، بَعَثَ الْحَرَسَ یَصِیحُونَ فِی النَّاسِ أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّہَا التَّلْبِیَۃُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

یحیی بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ ( اپنے دور خلافت میں حج کے دوران ) یوم عرفہ کو صبح کے وقت منیٰ سے چلے تو انھوں نے ( لوگوں کی طرف سے ) بلند آواز والی تکبیر کی آواز سنی تو انھوں نے اپنے پہرے داروں ( گارڈز ) کو بھیجا کہ وہ لوگوں میں اعلان کریں کہ لوگو ! بلاشبہ یہ وقت تلبیہ کہنے کا ( بھی ) ہے ۔