Muwatta Imam Malik #742
[742] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ الْمِقْدَادَ بْنَ الأَسْوَدِ، دَخَلَ عَلَی عَلِیِّ بْنِ أبِی طَالِبٍ بِالسُّقْیَا، وَہُوَ یَنْجَعُ بَکَرَاتٍ لَہُ، دَقِیقاً وَخَبَطاً، فَقَالَ : ہَذَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ یَنْہَی عَنْ أَنْ یُقْرَنَ بَیْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ۔ فَخَرَجَ عَلِیُّ بْنُ أبِی طَالِبٍ وَعَلَی یَدَیْہِ أَثَرُ الدَّقِیقِ وَالْخَبَطِ - فَمَا أَنْسَی أَثَرَ الدَّقِیقِ وَالْخَبَطِ عَلَی ذِرَاعَیْہِ - حَتَّی دَخَلَ عَلَی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَقَالَ : أَنْتَ تَنْہَی عَنْ أَنْ یُقْرَنَ بَیْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ ؟ فَقَالَ عُثْمَانُ : ذَلِکَ رَأْیِی۔ فَخَرَجَ عَلِیٌّ مُغْضَباً، وَہُوَ یَقُولُ : لَبَّیْکَ اللَّہُمَّ لَبَّیْکَ بِحَجَّۃٍ وَعُمْرَۃٍ مَعاً۔
اردو ترجمہ · Urdu
جعفر بن محمد رحمہ اللہ اپنے والد ( محمد باقر رحمہ اللہ ) سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سُقیا نامی جگہ پر حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، وہ اُس وقت اپنے نوجوان اونٹوں کو پانی میں آٹا اور پتوں کا سفوف گھول کر پلا رہے تھے ، چنانچہ حضرت مقداد رضی اللہ عنہ نے اُن سے کہا کہ یہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اس سے منع کر رہے ہیں کہ حج و عمرہ کو ملا کر کیا جائے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ ( اُسی وقت ) باہر آئے ، اس حال میں کہ ان کے ہاتھوں پر آٹے اور چارے کا نشان بھی تھا ۔ ( محمد باقر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ) میں ان کے بازوؤں پر موجود آٹے اور چارے کے نشان کو ( ابھی تک ) نہیں بھولا ہوں ، ( وہ اسی حال میں چلتے آئے ) یہاں تک کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آ گئے ، پھر فرمانے لگے : کیا آپ نے اس سے منع کیا ہے کہ حج اور عمرہ کو ملا کر ( حج قران ) ادا کیا جائے ؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ یہ میری رائے ( ہی ) ہے ، چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ غصے کی حالت میں باہر تشریف لائے ، درحالیکہ وہ ( سرعام ، علانیہ ) یہ کہہ رہے تھے : (( لَبَّیْکَ اللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ ، بِحَجَّۃٍ وَّعُمْرَۃٍ مَّعاً )) ’’ میں تیری جناب میں بار بار حاضر ہوتا ہوں ، اے اللہ ! میں بار بار تیرے پاس حاضری دیتا ہوں ، اکٹھے حج اور عمرہ کے ساتھ ۔‘‘