Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 20 · Chapter 212

حج کے مسائل کی کتاب

حج قران کا بیان

2 hadiths in this chapter

742

Muwatta Imam Malik #742

Zaeef

[742] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ الْمِقْدَادَ بْنَ الأَسْوَدِ، دَخَلَ عَلَی عَلِیِّ بْنِ أبِی طَالِبٍ بِالسُّقْیَا، وَہُوَ یَنْجَعُ بَکَرَاتٍ لَہُ، دَقِیقاً وَخَبَطاً، فَقَالَ : ہَذَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ یَنْہَی عَنْ أَنْ یُقْرَنَ بَیْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ۔ فَخَرَجَ عَلِیُّ بْنُ أبِی طَالِبٍ وَعَلَی یَدَیْہِ أَثَرُ الدَّقِیقِ وَالْخَبَطِ - فَمَا أَنْسَی أَثَرَ الدَّقِیقِ وَالْخَبَطِ عَلَی ذِرَاعَیْہِ - حَتَّی دَخَلَ عَلَی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَقَالَ : أَنْتَ تَنْہَی عَنْ أَنْ یُقْرَنَ بَیْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ ؟ فَقَالَ عُثْمَانُ : ذَلِکَ رَأْیِی۔ فَخَرَجَ عَلِیٌّ مُغْضَباً، وَہُوَ یَقُولُ : لَبَّیْکَ اللَّہُمَّ لَبَّیْکَ بِحَجَّۃٍ وَعُمْرَۃٍ مَعاً۔

اردو ترجمہ · Urdu

جعفر بن محمد رحمہ اللہ اپنے والد ( محمد باقر رحمہ اللہ ) سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سُقیا نامی جگہ پر حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، وہ اُس وقت اپنے نوجوان اونٹوں کو پانی میں آٹا اور پتوں کا سفوف گھول کر پلا رہے تھے ، چنانچہ حضرت مقداد رضی اللہ عنہ نے اُن سے کہا کہ یہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اس سے منع کر رہے ہیں کہ حج و عمرہ کو ملا کر کیا جائے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ ( اُسی وقت ) باہر آئے ، اس حال میں کہ ان کے ہاتھوں پر آٹے اور چارے کا نشان بھی تھا ۔ ( محمد باقر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ) میں ان کے بازوؤں پر موجود آٹے اور چارے کے نشان کو ( ابھی تک ) نہیں بھولا ہوں ، ( وہ اسی حال میں چلتے آئے ) یہاں تک کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آ گئے ، پھر فرمانے لگے : کیا آپ نے اس سے منع کیا ہے کہ حج اور عمرہ کو ملا کر ( حج قران ) ادا کیا جائے ؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ یہ میری رائے ( ہی ) ہے ، چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ غصے کی حالت میں باہر تشریف لائے ، درحالیکہ وہ ( سرعام ، علانیہ ) یہ کہہ رہے تھے : (( لَبَّیْکَ اللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ ، بِحَجَّۃٍ وَّعُمْرَۃٍ مَّعاً )) ’’ میں تیری جناب میں بار بار حاضر ہوتا ہوں ، اے اللہ ! میں بار بار تیرے پاس حاضری دیتا ہوں ، اکٹھے حج اور عمرہ کے ساتھ ۔‘‘

743

Muwatta Imam Malik #743

Sahih

[743] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ : أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ عَامَ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ، خَرَجَ إِلَی الْحَجِّ، فَمِنْ أَصْحَابِہِ مَنْ أَہَلَّ بِحَجٍّ، وَمِنْہُمْ مَنْ جَمَعَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ، وَمِنْہُمْ مَنْ أَہَلَّ بِعُمْرَۃٍ، فَأَمَّا مَنْ أَہَلَّ بِحَجٍّ، أَوْ جَمَعَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ فَلَمْ یَحْلِلْ، وَأَمَّا مَنْ کَانَ أَہَلَّ بِعُمْرَۃٍ فَحَلُّوا۔

اردو ترجمہ · Urdu

سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بلاشبہ رسول اللہ ﷺ حجۃ الوداع کے سال حج کی طرف نکلے ، آپ ﷺ کے صحابہ میں بعض وہ تھے جنھوں نے حج کا احرام باندھا تھا ، بعض وہ تھے جنھوں نے حج اور عمرہ کو جمع کیا تھا اور بعض وہ تھے جنھوں نے ( حج تمتع کے طور پر ) صرف عمرے کا احرام باندھا تھا ، چنانچہ جس نے ( حج مفرد کے لیے ) صرف حج کا احرام باندھا تھا یا ( حج قران کرنے کے لیے ) حج و عمرہ کو جمع کیا تھا تو اس نے ( قربانی کے دن سے پہلے ) احرام نہ کھولا اور رہا وہ شخص جس نے ( حج تمتع کرنے کے لیے ) صرف عمرے کا احرام باندھا تھا تو اس نے ( عمرہ کر کے ) احرام کھول دیا ( اور پھر آٹھ ذوالحج کو حج کے لیے دوبارہ احرام باندھا ) ۔