Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 20 · Chapter 209

حج کے مسائل کی کتاب

تلبیہ پڑھنے اور احرام باندھنے کے طریقے کا بیان

6 hadiths in this chapter

732

Muwatta Imam Malik #732

Sahih

[732] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ تَلْبِیَۃَ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ : لَبَّیْکَ اللَّہُمَّ لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ لَا شَرِیکَ لَکَ لَبَّیْکَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ، لَا شَرِیکَ لَکَ۔ قَالَ : وَکَانَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ یَزِیدُ فِیہَا : لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ، وَالْخَیْرُ بِیَدَیْکَ لَبَّیْکَ، وَالرَّغْبَائُ إِلَیْکَ وَالْعَمَلُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

نافع رحمہ اللہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ ﷺ کا تلبیہ یہ تھا : (( لَبَّیْکَ ، اللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ ، لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ ، اِنَّ الْحَمْدَوَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ ، لَا شَرِیْکَ لَکَ )) ’’ میں تیری خدمت میں بار بار حاضری دیتا ہوں ، اے اللہ ! میں تیری جناب میں بار بار حاضر ہوتا ہوں ، میں تیری خدمت میں بار بار حاضر ہوتا ہوں ، تیرا کوئی شریک نہیں ، میں تیری جناب میں بار بار حاضری دیتا ہوں ، یقیناً ہر قسم کی حمد اور نعمت و احسان تیرے ہی لیے ہے اور بادشاہت بھی ( تیرے ہی لیے ہے ) ، تیرا کوئی شریک نہیں ہے ۔‘‘ نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اس میں یہ اضافہ کیا کرتے تھے : (( لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ ، وَالْخَیْرُ بِیَدَیْکَ ، لَبَّیْکَ وَالرَّغْبَائُ اِلَیْکَ وَالْعَمَلُ )) ’’ میں تیری خدمت میں بار بار حاضر ہوتا ہوں اور بار بار تیری اطاعت کا اظہار کرتا ہوں ، اور بھلائی ( ساری کی ساری ) تیرے ہی ہاتھ میں ہے ، میں بار بار تیری جناب میں حاضری دیتا ہوں اور ( میری ) رغبت ( و توجہ بھی ) تیری طرف ہے اور ( میرے ) عمل ( کا مقصد بھی تیری ہی رضا ہے ) ۔‘‘

733

Muwatta Imam Malik #733

Sahih

[733] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ کَانَ یُصَلِّی فِی مَسْجِدِ ذِی الْحُلَیْفَۃِ رَکْعَتَیْنِ، فَإِذَا اسْتَوَتْ بِہِ رَاحِلَتُہُ أَہَلَّ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد ( عروہ بن زبیر رحمہ اللہ ) سے روایت کرتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ ﷺ ذوالحلیفہ کی مسجد میں دو رکعتیں ادا کرتے ، پھر جب آپ ﷺ کی سواری آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہو جاتی تو آپ تلبیہ پڑھنے لگتے ۔

734

Muwatta Imam Malik #734

Sahih

[734] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ،عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ، أَ نَّہُ سَمِعَ أَبَاہُ یَقُولُ : بَیْدَاؤُکُمْ ہَذِہِ الَّتِی تَکْذِبُونَ عَلَی رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ فِیہَا، مَا أَہَلَّ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ إِلاَّ مِنْ عِنْدِ الْمَسْجِدِ۔ یَعْنِی مَسْجِدَ ذِی الْحُلَیْفَۃِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ سے روایت ہے ، انھوں نے اپنے والد ( حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ) کو سنا وہ کہہ رہے تھے : تمھارا یہ جو ’’ بیداء ‘‘ کا مقام ہے اس کے متعلق تم رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ باندھتے ہو ، رسول اللہ ﷺ نے تو مسجد کے پاس ہی سے لبیک پکارنا شروع کر دیا تھا ، وہ ذوالحلیفہ والی مسجد مراد لے رہے تھے ۔

735

Muwatta Imam Malik #735

Sahih

[735] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ أبِی سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیِّ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ جُرَیْجٍ، أَنَّہُ قَالَ لِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ : یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، رَأَیْتُکَ تَصْنَعُ أَرْبَعاً، لَمْ أَرَ أَحَداً مِنْ أَصْحَابِکَ یَصْنَعُہَا۔ قَالَ : وَمَا ہُنَّ یَا ابْنَ جُرَیْجٍ ؟ قَالَ : رَأَیْتُکَ لَا تَمَسُّ مِنَ الأَرْکَانِ إِلاَّ الْیَمَانِیَّیْنِ، وَرَأَیْتُکَ تَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِیَّۃَ، وَرَأَیْتُکَ تَصْبُغُ بِالصُّفْرَۃِ، وَرَأَیْتُکَ إِذَا کُنْتَ بِمَکَّۃَ، أَہَلَّ النَّاسُ إِذَا رَأَوُا الْہِلَالَ، وَلَمْ تُہْلِلْ أَنْتَ حَتَّی یَکُونَ یَوْمُ التَّرْوِیَۃِ۔ فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ : أَمَّا الأَرْکَانُ فَإِنِّی لَمْ أَرَ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ یَمَسُّ إِلاَّ الْیَمَانِیَّیْنِ، وَأَمَّا النِّعَالُ السِّبْتِیَّۃُ فَإِنِّی رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ یَلْبَسُ النِّعَالَ الَّتِی لَیْسَ فِیہَا شَعَرٌ وَیَتَوَضَّأُ فِیہَا، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَلْبَسَہَا، وَأَمَّا الصُّفْرَۃُ فَإِنِّی رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ یَصْبُغُ بِہَا، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَصْبُغَ بِہَا، وَأَمَّا الإِہْلَالُ فَإِنِّی لَمْ أَرَ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ یُہِلُّ حَتَّی تَنْبَعِثَ بِہِ رَاحِلَتُہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

عبید بن جُریج رحمہ اللہ سے روایت ہے ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ( کو ان کی کنیت سے مخاطب کرتے ہوئے ان ) سے کہا کہ اے ابوعبدالرحمن ! میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ چار ایسے کام کرتے ہیں کہ میں نے آپ کے ساتھیوں میں سے کسی کو بھی وہ کام کرتے ہوئے نہیں دیکھا ۔ انھوں نے فرمایا کہ اے ابن جریج ! ( بھلا ) وہ کون سے کام ہیں ؟ تو انھوں نے کہا کہ میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ ( طواف کرتے وقت بیت اللہ کے چاروں ) کونوں میں سے دو یمانی کونوں ( حجر اسود اور اس سے پچھلے کونے رکن یمانی ) کے سوا کسی کو ہاتھ نہیں لگاتے ، اور میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ سبتی جوتے ( صاف رنگے ہوئے چمڑے کے جوتے جن پر بال نہیں ہوتے ) پہنتے ہیں اور میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ زرد رنگ ( کا خضاب ) لگاتے ہیں ، اور میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ جب آپ ( حج کے موقع پر ) مکہ میں ہوتے ہیں تو لوگ تو اُسی وقت تلبیہ شروع کر دیتے ( اور احرام باندھ لیتے ) ہیں جب وہ ( یکم ذوالحج کا ) چاند دیکھ لیتے ہیں اور ( لیکن ) آپ احرام و تلبیہ شروع نہیں کرتے یہاں تک کہ یوم تَرْوِیہَ ( ذوالحج کا آٹھواں دن ) آ جاتا ہے ( جس میں حاجیوں نے مکہ سے نکل کر میدان منیٰ میں جانا ہوتا ہے ) تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ( جواب میں ) فرمایا : رہے بیت اللہ کے کونے تو بلاشبہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ان میں سے یمانی کونوں کے سوا کسی کو بھی ہاتھ لگاتے ہوئے نہیں دیکھا ، رہے سبتی جوتے تو یقیناً میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ وہ جوتے پہنا کرتے تھے جن میں بال نہیں ہوتے تھے ( کیونکہ ان کا چمڑا اچھی طرح صاف شدہ ہوتا تھا ، ) اور آپ ﷺ ان میں وضو بھی فرمایا کرتے تھے لہٰذا میں بھی پسند کرتا ہوں کہ انھیں پہنوں ، رہا زرد رنگ ( کا خضاب ) تو یقیناً میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ اس کے ساتھ ( اپنے بالوں اور کپڑوں کو ) خضاب لگاتے تھے ، اور رہا تلبیہ پکارنا تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو تلبیہ پکارتے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ ( آٹھ ذوالحج یوم ترویہ کو منیٰ روانگی کے وقت ) آپ ﷺ کی سواری آپ کو لے کر اٹھ کھڑی ہوتی ۔

736

Muwatta Imam Malik #736

Sahih

[736] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ یُصَلِّی فِی مَسْجِدِ ذِی الْحُلَیْفَۃِ، ثُمَّ یَخْرُجُ فَیَرْکَبُ، فَإِذَا اسْتَوَتْ بِہِ رَاحِلَتُہُ أَحْرَمَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ذوالحلیفہ کی مسجد میں نماز پڑھتے ، پھر باہر نکل کر سوار ہو جاتے ، پھر جب ان کا اونٹ انھیں لے کر سیدھا کھڑا ہو جاتا تو وہ احرام کا تلبیہ پکارتے ۔

737

Muwatta Imam Malik #737

Sahih

[737] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ : أَنَّ عَبْدَ الْمَلِکِ بْنَ مَرْوَانَ أَہَلَّ مِنْ عِنْدِ مَسْجِدِ ذِی الْحُلَیْفَۃِ، حِینَ اسْتَوَتْ بِہِ رَاحِلَتُہُ، وَأَنَّ أَبَانَ بْنَ عُثْمَانَ أَشَارَ عَلَیْہِ بِذَلِکَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ ( خلیفہ وقت ) عبدالملک بن مروان رحمہ اللہ نے ذوالحلیفہ کی مسجد کے پاس اس وقت لَبَّیک کہنا شروع کیا جب اُن کا اونٹ انھیں اٹھا کر سیدھا کھڑا ہو گیا اور بلاشبہ ابان بن عثمان رحمہ اللہ نے انھیں ایسا کرنے کا اشارہ کیا تھا ۔