Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 20 · Chapter 207

حج کے مسائل کی کتاب

حج میں خوشبو استعمال کرنے کا بیان

5 hadiths in this chapter

722

Muwatta Imam Malik #722

Sahih

[722] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ ، أَنَّہَا قَالَتْ : کُنْتُ أُطَیِّبُ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ لإِحْرَامِہِ قَبْلَ أَنْ یُحْرِمَ، وَلِحِلِّہِ قَبْلَ أَنْ یَطُوفَ بِالْبَیْتِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ رسول ﷺ سے روایت ہے ، کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کو آپ کے احرام باندھنے سے پہلے ( غسل کے موقع پر ) احرام کے لیے خوشبو لگایا کرتی تھی اور ( دس ذوالحج کو ) احرام کھولنے کے وقت بھی ( خوشبو لگاتی تھی ) ، پہلے اس سے کہ آپ بیت اللہ کا طواف فرمائیں ۔

723

Muwatta Imam Malik #723

Sahih

[723] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ قَیْسٍ، عَنْ عَطَائِ بْنِ أبِی رَبَاحٍ، أَنَّ أَعْرَابِیًّا جَائَ إِلَی رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ ، وَہُوَ بِحُنَیْنٍ، وَعَلَی الأَعْرَأبِی قَمِیصٌ وَبِہِ أَثَرُ صُفْرَۃٍ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ إنِّی أَہْلَلْتُ بِعُمْرَۃٍ، فَکَیْفَ تَأْمُرُنِی أَنْ أَصْنَعَ؟ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : انْزِعْ قَمِیصَکَ، وَاغْسِلْ ہَذِہِ الصُّفْرَۃَ عَنْکَ، وَافْعَلْ فِی عُمْرَتِکَ مَا تَفْعَلُ فِی حَجِّکَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بلاشبہ ایک اعرابی ( بدوی ) صحابی رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا ، اس حال میں کہ آپ ﷺ حنین کے مقام پر تھے اور اس اعرابی پر ایک قمیص تھی جس میں زرد رنگ کا نشان تھا ، چنانچہ وہ کہنے لگا کہ اے اللہ کے رسول ! بے شک میں نے عمرے کا احرام باندھا ہے ، تو آپ مجھے کیا حکم فرماتے ہیں کہ میں ( اُس کے مطابق عمل ) کروں ؟ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اُس سے فرمایا :’’ اپنی قمیص اتار دے اور اس زرد رنگ کو اپنے آپ سے ( اپنے بدن سے ) دھو ڈال اور اپنے عمرے میں وہی کچھ کر جو تو اپنے حج میں کرتا ہے ۔‘‘

724

Muwatta Imam Malik #724

Sahih

[724] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أَسْلَمَ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَجَدَ رِیحَ طِیبٍ وَہُوَ بِالشَّجَرَۃِ، فَقَالَ : مِمَّنْ رِیحُ ہَذَا الطِّیبِ ؟ فَقَالَ مُعَاوِیَۃُ بْنُ أبِی سُفْیَانَ : مِنِّی یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ۔ فَقَالَ: مِنْکَ لَعَمْرُ اللّٰہِ۔ فَقَالَ مُعَاوِیَۃُ : إِنَّ أُمَّ حَبِیبَۃَ طَیَّبَتْنِی یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ۔ فَقَالَ عُمَرُ : عَزَمْتُ عَلَیْکَ لَتَرْجِعَنَّ فَلْتَغْسِلَنَّہَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

اسلم رحمہ اللہ جو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں ، سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خوشبو کی مہک محسوس کی اس حال میں کہ وہ ( مدینہ منورہ سے چھ میل دور ذوالحلیفہ مقام پر موجود ببول ) درخت کے پاس تھے ، تو انھوں نے پوچھا کہ یہ خوشبو کی مہک کس شخص سے آ رہی ہے ، چنانچہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ اے امیرالمومنین ! ( یہ خوشبو ) مجھ سے ( آ رہی ہے ) تو وہ فرمانے لگے : اللہ کی بقا کی قسم ! تجھ ہی سے ( آتی ہو گی ) ، تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ( اپنا عذر بیان کرتے ہوئے ) کہنے لگے کہ اے امیرالمومنین ! بلاشبہ ( میری ہمشیرہ زوجہ رسول اللہ ﷺ ) سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے مجھے یہ خوشبو لگائی ہے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے : میں تم پر لازم قرار دیتا ہوں ( تمھیں قسم دیتا ہوں ) کہ ضرور واپس چلے جاؤ ، پھر اسے ضرور دھو ڈالو ۔

725

Muwatta Imam Malik #725

Zaeef

[725] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنِ الصَّلْتِ بْنِ زُیَیْدٍ، عَنْ غَیْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَہْلِہِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَجَدَ رِیحَ طِیبٍ وَہُوَ بِالشَّجَرَۃِ، وَإِلَی جَنْبِہِ کَثِیرُ بْنُ الصَّلْتِ، فَقَالَ عُمَرُ : مِمَّنْ رِیحُ ہَذَا الطِّیبِ ؟ فَقَالَ کَثِیرٌ : مِنِّی یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ، لَبَّدْتُ رَأْسِی وَأَرَدْتُ أَنْ لَا أَحْلِقَ۔ فَقَالَ عُمَرُ : فَاذْہَبْ إِلَی شَرَبَۃٍ، فَادْلُکْ رَأْسَکَ حَتَّی تُنَقِّیَہُ۔ فَفَعَلَ کَثِیرُ بْنُ الصَّلْتِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

صلت بن زُیید رحمہ اللہ اپنے گھر والوں میں سے کئی ایک افراد سے روایت کرتے ہیں کہ بلاشبہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک خوشبو کی مہک محسوس کی ، اس حال میں کہ وہ ( ذوالخلیفہ کے ) درخت کے پاس تھے ، ان کے پہلو میں کثیر بن صلت ( بھی موجود ) تھے ، چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ اس خوشبو کی مہک کس سے آ رہی ہے ؟ تو کثیر رحمہ اللہ نے بتایا کہ مجھ سے ( آ رہی ہے ) ، میں نے اپنے سر کی تلبید کی تھی ( اپنے سر کے بالوں میں کوئی بُوٹی یا گوند کی طرح کی کوئی چیز لگا کر انھیں آپس میں چپکایا تھا ) اور میں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ سر نہ منڈواؤں گا ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : شَرَبَہ گڑھے کی طرف چلے جاؤ ، پھر اپنے سر کو ملو ( اور مل مل کر دھو ڈالو ) یہاں تک کہ اُس ( خوشبو ) کو صاف کر دو ، چنانچہ کثیر بن صلت نے ایسا ہی کیا ۔

726

Muwatta Imam Malik #726

Sahih

[726] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، وَعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أبِی بَکْرٍ، وَرَبِیعَۃَ بْنِ أبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ : أَنَّ الْوَلِیدَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِکِ، سَأَلَ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ، وَخَارِجَۃَ بْنَ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ، بَعْدَ أَنْ رَمَی الْجَمْرَۃَ وَحَلَقَ رَأْسَہُ، وَقَبْلَ أَنْ یُفِیضَ عَنِ الطِّیب ؟ِ فَنَہَاہُ سَالِمٌ، وَأَرْخَصَ لَہُ خَارِجَۃُ بْنُ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ۔

اردو ترجمہ · Urdu

یحیی بن سعید رحمہ اللہ ، عبداللہ بن ابی بکر رحمہ اللہ اور ربیعہ بن ابی عبدالرحمن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ( خلیفہ وقت ) ولید بن عبدالملک رحمہ اللہ نے ( دسویں ذوالحج کو ) جمرہ عقبہ کو کنکریاں مار لینے اور اپنا سر منڈوا لینے کے بعد اور طواف افاضہ کرنے سے پہلے ( مدینہ منورہ کے دو فقیہوں ) سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ اور خارجہ بن زید رحمہ اللہ سے خوشبو ( لگانے ) کے متعلق سوال کیا تو سالم رحمہ اللہ نے تو انھیں روک دیا اور ( جبکہ ) خارجہ بن زید بن حارث رحمہ اللہ نے اُسے رخصت دے دی ۔