Muwatta Imam Malik #707
[707] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ حُنَیْنٍ، عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَبَّاسٍ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَۃَ اخْتَلَفَا بِالأَبْوَائِ، فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ : یَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَہُ۔ وَقَالَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَۃَ : لَا یَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَہُ۔ قَالَ : فَأَرْسَلَنِی عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبَّاسٍ إِلَی أبِی أَیُّوبَ الأَنْصَاری، فَوَجَدْتُہُ یَغْتَسِلُ بَیْنَ الْقَرْنَیْنِ، وَہُوَ یُسْتَرُ بِثَوْبٍ، فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ، فَقَالَ : مَنْ ہَذَا ؟ فَقُلْتُ : أَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ حُنَیْنٍ، أَرْسَلَنِی إِلَیْکَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبَّاسٍ أَسْأَلُکَ، کَیْفَ کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ یَغْسِلُ رَأْسَہُ وَہُوَ مُحْرِمٌ ؟ قَالَ : فَوَضَعَ أَبُو أَیُّوبَ یَدَہُ عَلَی الثَّوْبِ، فَطَأْطَأَہُ حَتَّی بَدَا لِی رَأْسُہُ، ثُمَّ قَالَ لإِنْسَانٍ یَصُبُّ عَلَیْہِ : اصْبُبْ۔ فَصَبَّ عَلَی رَأْسِہِ، ثُمَّ حَرَّکَ رَأْسَہُ بِیَدَیْہِ، فَأَقْبَلَ بِہِمَا وَأَدْبَرَ، ثُمَّ قَالَ : ہَکَذَا رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ یَفْعَلُ۔
اردو ترجمہ · Urdu
ابراہیم بن عبداللہ بن حنین رحمہ اللہ اپنے والد ( عبداللہ بن حنین رحمہ اللہ ) سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت مسور بن مَخْرَمہ رضی اللہ عنہ کے مابین اَبْواء کے مقام پر ( جو کہ مکہ و مدینہ کے درمیان میں ہے ) اختلاف ہو گیا ، چنانچہ حضرت عبداللہ ( بن عباس رضی اللہ عنہما ) کہنے لگے کہ احرام باندھنے والا شخص اپنا سر دھو سکتا ہے اور حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ وہ اپنا سر نہیں دھو سکتا ۔ ( عبداللہ بن حنین رحمہ اللہ ) کہتے ہیں کہ پھر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس ( یہی مسئلہ دریافت کرنے کے لیے ) بھیجا تو میں ( گیا اور میں ) نے انھیں کنویں پر لگی دو لکڑیوں کے درمیان غُسل کرتے ہوئے پایا اس حال میں کہ ایک کپڑے کے ساتھ ان کا پردہ کیا گیا تھا ، میں نے انھیں سلام کہا تو انھوں نے پوچھا کہ یہ کون ہے ؟ چنانچہ میں نے کہا کہ میں عبداللہ بن حنین ہوں ، مجھے آپ کی طرف حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بھیجا ہے ، ( اس لیے ) کہ میں آپ سے یہ پوچھوں کہ رسول اللہ ﷺ جس وقت حالت احرام میں ہوتے تو کس طرح اپنا سر مبارک دھویا کرتے تھے ؟ ( عبداللہ بن حنین رحمہ اللہ ) کہتے ہیں کہ حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ کپڑے پر رکھا ، پھر انھوں نے اس ( پردہ بنے ہوئے ) کپڑے کو ( کچھ ) نیچے کر دیا یہاں تک کہ مجھے اُن کا سر نظر آنے لگا ، پھر انھوں نے اس شخص سے کہا جو اُن پر پانی انڈیل رہا تھا کہ میرے سر پر پانی انڈیلو ، پھر انھوں نے اپنے دونوں ہاتھوں کے ساتھ اپنے سر ( کے بالوں ) کو حرکت دی ، چنانچہ وہ اپنے ہاتھوں کو ( سر پر پھیرتے ہوئے ) آگے کو بھی لائے اور پیچھے کو بھی لے گئے ، پھر فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا تھا ۔