Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 20 · Chapter 202

حج کے مسائل کی کتاب

محرم ( حالت احرام والے شخص ) کے غسل کا بیان

4 hadiths in this chapter

707

Muwatta Imam Malik #707

Sahih

[707] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ حُنَیْنٍ، عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَبَّاسٍ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَۃَ اخْتَلَفَا بِالأَبْوَائِ، فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ : یَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَہُ۔ وَقَالَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَۃَ : لَا یَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَہُ۔ قَالَ : فَأَرْسَلَنِی عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبَّاسٍ إِلَی أبِی أَیُّوبَ الأَنْصَاری، فَوَجَدْتُہُ یَغْتَسِلُ بَیْنَ الْقَرْنَیْنِ، وَہُوَ یُسْتَرُ بِثَوْبٍ، فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ، فَقَالَ : مَنْ ہَذَا ؟ فَقُلْتُ : أَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ حُنَیْنٍ، أَرْسَلَنِی إِلَیْکَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبَّاسٍ أَسْأَلُکَ، کَیْفَ کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ یَغْسِلُ رَأْسَہُ وَہُوَ مُحْرِمٌ ؟ قَالَ : فَوَضَعَ أَبُو أَیُّوبَ یَدَہُ عَلَی الثَّوْبِ، فَطَأْطَأَہُ حَتَّی بَدَا لِی رَأْسُہُ، ثُمَّ قَالَ لإِنْسَانٍ یَصُبُّ عَلَیْہِ : اصْبُبْ۔ فَصَبَّ عَلَی رَأْسِہِ، ثُمَّ حَرَّکَ رَأْسَہُ بِیَدَیْہِ، فَأَقْبَلَ بِہِمَا وَأَدْبَرَ، ثُمَّ قَالَ : ہَکَذَا رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ یَفْعَلُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ابراہیم بن عبداللہ بن حنین رحمہ اللہ اپنے والد ( عبداللہ بن حنین رحمہ اللہ ) سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت مسور بن مَخْرَمہ رضی اللہ عنہ کے مابین اَبْواء کے مقام پر ( جو کہ مکہ و مدینہ کے درمیان میں ہے ) اختلاف ہو گیا ، چنانچہ حضرت عبداللہ ( بن عباس رضی اللہ عنہما ) کہنے لگے کہ احرام باندھنے والا شخص اپنا سر دھو سکتا ہے اور حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ وہ اپنا سر نہیں دھو سکتا ۔ ( عبداللہ بن حنین رحمہ اللہ ) کہتے ہیں کہ پھر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس ( یہی مسئلہ دریافت کرنے کے لیے ) بھیجا تو میں ( گیا اور میں ) نے انھیں کنویں پر لگی دو لکڑیوں کے درمیان غُسل کرتے ہوئے پایا اس حال میں کہ ایک کپڑے کے ساتھ ان کا پردہ کیا گیا تھا ، میں نے انھیں سلام کہا تو انھوں نے پوچھا کہ یہ کون ہے ؟ چنانچہ میں نے کہا کہ میں عبداللہ بن حنین ہوں ، مجھے آپ کی طرف حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بھیجا ہے ، ( اس لیے ) کہ میں آپ سے یہ پوچھوں کہ رسول اللہ ﷺ جس وقت حالت احرام میں ہوتے تو کس طرح اپنا سر مبارک دھویا کرتے تھے ؟ ( عبداللہ بن حنین رحمہ اللہ ) کہتے ہیں کہ حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ کپڑے پر رکھا ، پھر انھوں نے اس ( پردہ بنے ہوئے ) کپڑے کو ( کچھ ) نیچے کر دیا یہاں تک کہ مجھے اُن کا سر نظر آنے لگا ، پھر انھوں نے اس شخص سے کہا جو اُن پر پانی انڈیل رہا تھا کہ میرے سر پر پانی انڈیلو ، پھر انھوں نے اپنے دونوں ہاتھوں کے ساتھ اپنے سر ( کے بالوں ) کو حرکت دی ، چنانچہ وہ اپنے ہاتھوں کو ( سر پر پھیرتے ہوئے ) آگے کو بھی لائے اور پیچھے کو بھی لے گئے ، پھر فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا تھا ۔

708

Muwatta Imam Malik #708

Sahih

[708] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ قَیْسٍ، عَنْ عَطَائِ بْنِ أبِی رَبَاحٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ لِیَعْلَی ابْنِ مُنْیَۃَ، وَہُوَ یَصُبُّ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مَائً، وَہُوَ یَغْتَسِلُ : اصْبُبْ عَلَی رَأْسِی۔ فَقَالَ یَعْلَی : أَتُرِیدُ أَنْ تَجْعَلَہَا بِی إِنْ أَمَرْتَنِی صَبَبْتُ۔ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : اصْبُبْ، فَلَنْ یَزِیدَہُ الْمَائُ إِلاَّ شَعَثاً۔

اردو ترجمہ · Urdu

عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت یعلیٰ بن منیہ ( یعنی حضرت یعلیٰ بن اُمَیہّ رضی اللہ عنہ ) سے کہا ، جس وقت کہ وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے سر پر پانی انڈیل رہے تھے اور وہ ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ ) غُسل فرما رہے تھے ، ( کہا ) کہ میرے سر پر پانی انڈیلو ، تو حضرت یعلیٰ رضی اللہ عنہ کہنے لگے : کیا آپ چاہتے ہیں کہ اس جرم کو میرے ساتھ ( وابستہ ) کریں ( کیا آپ حالت احرام میں سر دھونے کے جرم کا ذمہ دار مجھے ٹھہرانا چاہتے ہیں ، لیکن میں ایسا نہیں چاہتا ، ہاں ) اگر آپ مجھے حکم دیں گے تو میں پانی انڈیل دوں گا ( تاکہ قصور وار آپ ہی ٹھہریں ) ، تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ پانی انڈیلو کیونکہ پانی سر کو بالوں کی پراگندگی ہی میں بڑھاتا ہے ۔

709

Muwatta Imam Malik #709

Sahih

[709] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ إِذَا دَنَا مِنْ مَکَّۃَ بَاتَ بِذِی طُوًی بَیْنَ الثَّنِیَّتَیْنِ، حَتَّی یُصْبِحَ، ثُمَّ یُصَلِّی الصُّبْحَ، ثُمَّ یَدْخُلُ مِنَ الثَّنِیَّۃِ الَّتِی بِأَعْلَی مَکَّۃَ، وَلَا یَدْخُلُ إِذَا خَرَجَ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِراً، حَتَّی یَغْتَسِلَ قَبْلَ أَنْ یَدْخُلَ مَکَّۃَ، إِذَا دَنَا مِنْ مَکَّۃَ بِذِی طُوًی، وَیَأْمُرُ مَنْ مَعَہُ فَیَغْتَسِلُونَ قَبْلَ أَنْ یَدْخُلُوا مَکَّۃَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب ( حج و عمرہ کے سفر میں ) مکہ کے قریب پہنچتے تو وادی ذِی طُوٰی میں دو گھاٹیوں کے درمیان میں رات گزارتے حتی کہ ( وہیں ) صبح کرتے ، پھر نماز فجر ادا کرتے ، پھر اُس گھاٹی سے مکہ میں داخل ہوتے جو مکہ کی بالائی جانب ہے اور وہ جب بھی حج یا عمرہ کرتے ہوئے ( مدینہ سے ) نکلتے تو ( مکہ میں ) داخل نہ ہوتے یہاں تک کہ مکہ میں داخل ہونے سے پہلے غسل کر لیتے جس وقت کہ مکہ کے قریب وادی ذی طوی میں پہنچتے اور ان لوگوں کو بھی ( غسل کرنے کا ) حکم دیتے جو ان کے ہمراہ ہوتے ، چنانچہ وہ بھی مکہ میں داخل ہونے سے پہلے غسل کر لیتے ۔

710

Muwatta Imam Malik #710

Sahih

[710] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ لَا یَغْسِلُ رَأْسَہُ وَہُوَ مُحْرِمٌ، إِلاَّ مِنَ الاِحْتِلَامِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بلاشبہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ( اس وقت ) اپنا سر نہیں دھوتے تھے جب وہ حالت احرام میں ہوتے ، سوائے احتلام کے ۔