Muwatta Imam Malik #620
[620] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَخِیہِ خَالِدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَفْطَرَ ذَاتَ یَوْمٍ فِی رَمَضَانَ، فِی یَوْمٍ ذِی غَیْمٍ، وَرَأَی أَ نَّہُ قَدْ أَمْسَی وَغَابَتِ الشَّمْسُ، فَجَائَ ہُ رَجُلٌ فَقَالَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ طَلَعَتِ الشَّمْسُ۔ فَقَالَ عُمَرُ : الْخَطْبُ یَسِیرٌ وَقَدِ اجْتَہَدْنَا۔
اردو ترجمہ · Urdu
خالد بن اسلم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ماہِ رمضان میں ایک ایسے دن میں جو بادلوں والا تھا ، روزہ کھول دیا اور وہ سمجھ رہے تھے کہ شام ہو چکی ہے اور سورج غائب ہو چکا ہے پھر ( اسی اثناء میں ) ایک شخص ان کے پاس آ کر کہنے لگا کہ اے امیر المؤمنین ! سورج ( تو پھر ) نکل آیا ہے ، تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرمانے لگے : یہ معاملہ آسان ہی ہے ( اس کا تدارک اور تلافی کچھ مشکل نہیں ، ہم اس کی قضائی دے لیں گے ) اور ہم نے تو ( اپنی طرف سے ) کوشش ( اور غروب آفتاب کا غالب گمان رکھ کر ہی افطاری ) کی تھی ۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے اس فرمان ( اَلْخَطْبُ یَسِیْرٌ ) ( یہ معاملہ آسان ہی ہے ) سے ہماری رائے کے مطابق صرف اور صرف قضائی مراد لے رہے تھے اور ( اصل صورتحال اور حقیقت حال کو تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے اور ( وہ ان الفاظ سے ) مشقت و محنت کی کمی اور سہولت و آسانی ( مراد لے رہے تھے ، گویا کہ ) وہ کہنا چاہتے تھے کہ ہم اس کی جگہ کسی دوسرے دن روزہ رکھ لیں گے ۔