Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 17 · Chapter 167

روزوں کے متعلق کتاب

رمضان ( کے روزوں ) کی قضا اور کفاروں کے روزوں کا بیان

6 hadiths in this chapter

620

Muwatta Imam Malik #620

Sahih

[620] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَخِیہِ خَالِدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَفْطَرَ ذَاتَ یَوْمٍ فِی رَمَضَانَ، فِی یَوْمٍ ذِی غَیْمٍ، وَرَأَی أَ نَّہُ قَدْ أَمْسَی وَغَابَتِ الشَّمْسُ، فَجَائَ ہُ رَجُلٌ فَقَالَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ طَلَعَتِ الشَّمْسُ۔ فَقَالَ عُمَرُ : الْخَطْبُ یَسِیرٌ وَقَدِ اجْتَہَدْنَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

خالد بن اسلم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ماہِ رمضان میں ایک ایسے دن میں جو بادلوں والا تھا ، روزہ کھول دیا اور وہ سمجھ رہے تھے کہ شام ہو چکی ہے اور سورج غائب ہو چکا ہے پھر ( اسی اثناء میں ) ایک شخص ان کے پاس آ کر کہنے لگا کہ اے امیر المؤمنین ! سورج ( تو پھر ) نکل آیا ہے ، تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرمانے لگے : یہ معاملہ آسان ہی ہے ( اس کا تدارک اور تلافی کچھ مشکل نہیں ، ہم اس کی قضائی دے لیں گے ) اور ہم نے تو ( اپنی طرف سے ) کوشش ( اور غروب آفتاب کا غالب گمان رکھ کر ہی افطاری ) کی تھی ۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے اس فرمان ( اَلْخَطْبُ یَسِیْرٌ ) ( یہ معاملہ آسان ہی ہے ) سے ہماری رائے کے مطابق صرف اور صرف قضائی مراد لے رہے تھے اور ( اصل صورتحال اور حقیقت حال کو تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے اور ( وہ ان الفاظ سے ) مشقت و محنت کی کمی اور سہولت و آسانی ( مراد لے رہے تھے ، گویا کہ ) وہ کہنا چاہتے تھے کہ ہم اس کی جگہ کسی دوسرے دن روزہ رکھ لیں گے ۔

621

Muwatta Imam Malik #621

Sahih

[621] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ یَقُولُ : یَصُومُ قَضَائَ رَمَضَانَ مُتَتَابِعاً, مَنْ أَفْطَرَہُ مِنْ مَرَضٍ أَوْ فِی سَفَرٍ۔

اردو ترجمہ · Urdu

نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے : وہ شخص ماہِ رمضان ( کی قضائی ) کے روزے لگاتار رکھے جو کسی بیماری کی وجہ سے یا کسی سفر میں اس مہینے کے روزے چھوڑ دے ۔

622

Muwatta Imam Malik #622

Zaeef

[622] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَبَّاسٍ وَأَبَا ہُرَیْرَۃَ اخْتَلَفَا فِی قَضَائِ رَمَضَانَ، فَقَالَ أَحَدُہُمَا : یُفَرِّقُ بَیْنَہُ۔ وَقَالَ الآخَرُ : لَا یُفَرِّقُ بَیْنَہُ۔ لَا أَدْرِی أَ یَّہُمَا قَالَ : یُفَرِّقُ بَیْنَہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ابن شہاب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا رمضان کی قضا کے متعلق اختلاف رائے ہو گیا ، ان میں سے ایک نے کہا کہ اس کے درمیان جدائی کی جا سکتی ہے اور دوسرے نے کہا کہ اس ( قضا کے روزوں ) کو الگ الگ نہیں رکھا جا سکتا ، مجھے علم نہیں رہا کہ ان میں سے کسی نے الگ الگ ( روزے ) رکھ لینے کا کہا اور کس نے یہ کہا تھا کہ اسے الگ الگ نہ کرے ۔

623

Muwatta Imam Malik #623

Sahih

[623] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ : مَنِ اسْتَقَائَ وَہُوَ صَائِمٌ فَعَلَیْہِ الْقَضَائُ، وَمَنْ ذَرَعَہُ الْقَیْئُ فَلَیْسَ عَلَیْہِ الْقَضَائُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ کہا کرتے تھے کہ جس شخص نے قصداً قے کی اس حال میں کہ وہ روزہ دار ہو تو اس پر قضائی دینا لازم ہے اور جس کو خود بخود قے آ جائے اس پر قضا نہیں ہے ۔

624

Muwatta Imam Malik #624

Sahih

[624] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، أَ نَّہُ سَمِعَ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ یُسْأَلُ عَنْ قَضَائِ رَمَضَانَ ؟ فَقَالَ سَعِیدٌ : أَحَبُّ إِلَیَّ أَنْ لَا یُفَرَّقَ قَضَائُ رَمَضَانَ، وَأَنْ یُوَاتَرَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

یحیی بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انھوں نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ کو سنا ، جن سے ماہِ رمضان ( کے روزوں ) کی قضائی کے متعلق سوال کیا جا رہا تھا ، تو سعید رحمہ اللہ نے فرمایا : میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ یہ ہے کہ رمضان کی قضا ( کے روزوں ) کو الگ الگ نہ کیا جائے بلکہ متواتر رکھا جائے ۔

625

Muwatta Imam Malik #625

Sahih

[625] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ قَیْسٍ الْمَکِّیِّ، أَ نَّہُ أَخْبَرَہُ قَالَ : کُنْتُ مَعَ مُجَاہِدٍ وَہُوَ یَطُوفُ بِالْبَیْتِ، فَجَائَ ہُ إِنْسَانٌ فَسَأَلَہُ عَنْ صِیَامِ أَ یَّامِ الْکَفَّارَۃ ِ, أَمُتَتَابِعَاتٌ أَمْ یَقْطَعُہَا ؟ قَالَ حُمَیْدٌ : فَقُلْتُ لَہُ نَعَمْ یَقْطَعُہَا إِنْ شَائَ۔ قَالَ مُجَاہِدٌ : لَا یَقْطَعُہَا، فَإِنَّہَا فِی قِرَائَ ۃِ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ثَلَاثَۃِ أَ یَّامٍ مُتَتَابِعَاتٍ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حمید بن قیس مکی رحمہ اللہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ میں مجاہد رحمہ اللہ کے ہمراہ تھا اور وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے ، ان کے پاس ایک شخص آ کر ( قسم کے ) کفارے کے روزوں کے متعلق پوچھنے لگا کہ آیا آدمی ان کو لگاتار رکھے یا جدا جدا ؟ ( مجاہد رحمہ اللہ کے شاگرد ) حمید مکی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ( استاد محترم کے بولنے سے پہلے ہی ) میں نے اس شخص سے کہا کہ ہاں ، اگر چاہے تو ان کو جدا جدا رکھ سکتا ہے ( لیکن ) مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا : وہ انھیں جدا جدا نہیں رکھ سکتا کیونکہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی قراءت میں وہ ( کفارہ قسم والی ) آیت یوں ہے : (( ثَـلَاثَۃِ اَیَّامٍ مُتَتَابِعَاتٍ )) ’’ تین پے در پے دنوں ( کے روزے اس پر لازم ہیں ) ۔‘‘