Muwatta Imam Malik #611
[611] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ ، أَ نَّہَا قَالَتْ : کَانَ یَوْمُ عَاشُورَائَ یَوْماً تَصُومُہُ قُرَیْشٌ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ، وَکَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ یَصُومُہُ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ الْمَدِینَۃَ صَامَہُ، وَأَمَرَ بِصِیَامِہِ، فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ کَانَ ہُوَ الْفَرِیضَۃَ، وَتُرِکَ یَوْمُ عَاشُورَائَ، فَمَنْ شَائَ صَامَہُ، وَمَنْ شَائَ تَرَکَہُ۔
اردو ترجمہ · Urdu
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ پیغمبر ﷺ سے روایت ہے ، کہتی ہیں کہ دورِ جاہلیت میں عاشوراء کے دن قریش مکہ بھی روزہ رکھا کرتے تھے اور رسول اللہ ﷺ بھی زمانۂ جاہلیت میں ( نبوت سے پہلے ) یہ روزہ رکھا کرتے تھے ، پھر جب آپ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو ( یہاں بھی ) آپ ﷺ نے یہ روزہ رکھا اور اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی اس کا روزہ رکھنے کا حکم دیا ، پھر جب رمضان فرض کر دیا گیا تو صرف وہی فرض ٹھہرا اور یوم عاشور ( کی فرضیت ) کو ترک کر دیا گیا ، پھر جو چاہتا اس کا روزہ رکھ لیتا اور جو چاہتا اسے چھوڑ دیتا ۔