Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 17 · Chapter 161

روزوں کے متعلق کتاب

رمضان میں ( جان بوجھ کر ) روزہ توڑنے والے کا کفارہ

2 hadiths in this chapter

606

Muwatta Imam Malik #606

Sahih

[606] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أبِی ہُرَیْرَۃَ : أَنَّ رَجُلاً أَفْطَرَ فِی رَمَضَانَ، فَأَمَرَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ أَنْ یُکَفِّرَ بِعِتْقِ رَقَبَۃٍ، أَوْ صِیَامِ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ، أَوْ إِطْعَامِ سِتِّینَ مِسْکِیناً۔ فَقَالَ : لَا أَجِدُ، فَأُتِیَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ بِعَرَقِ تَمْرٍ، فَقَالَ : خُذْ ہَذَا فَتَصَدَّقْ بِہِ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ، مَا أَحَدٌ أَحْوَجَ إلَیْہِ مِنِّی۔ فَضَحِکَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ حَتَّی بَدَتْ أَنْیَابُہُ، ثُمَّ قَالَ : کُلْہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ماہِ رمضان میں روزہ توڑ ڈالا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے حکم دیا کہ وہ ایک گردن ( غلام یا لونڈی ) آزاد کر کے کفارہ دے یا دو مہینوں کے لگاتار روزے رکھے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے ، وہ آدمی کہنے لگا کہ میں ( ان میں سے کسی بھی کفارے کی ادائیگی کی طاقت ) نہیں پاتا ، ( اسی اثنا میں ) رسول اللہ ﷺ کے پاس خشک کھجوروں کا ایک ٹوکرا ( جسے عربی میں عرق کہتے ہیں ) لایا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے پکڑو اور اسے صدقہ کر دو ( تو تمھارا تیسری قسم کا کفارہ یعنی ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کی شکل میں کفارہ ادا ہو جائے گا ) ، وہ آدمی کہنے لگا کہ اے اللہ کے رسول ! مجھے تو اپنے سے زیادہ کوئی محتاج نظر نہیں آتا تو ( اس کی یہ بات سن کر ) رسول اللہ ﷺ ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ ﷺ کی انیاب ( نوکیلے دانت کچلیاں ) نظر آنے لگیں ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم ہی اسے کھا لو ۔‘‘

607

Muwatta Imam Malik #607

Zaeef

[607] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَطَائِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْخُرَاسَانِیِّ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَ نَّہُ قَالَ : جَائَ أَعْرَابِیٌّ إِلَی رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ یَضْرِبُ نَحْرَہُ وَیَنْتِفُ شَعْرَہُ وَیَقُولُ : ہَلَکَ الأَ بْعَدُ۔ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ :وَمَا ذَاکَ ؟ فَقَالَ : أَصَبْتُ أَہْلِی وَأَنَا صَائِمٌ فِی رَمَضَانَ۔ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : ہَلْ تَسْتَطِیعُ أَنْ تُعْتِقَ رَقَبَۃً ؟ فَقَالَ : لَا فَقَالَ : ہَلْ تَسْتَطِیعُ أَنْ تُہْدِیَ بَدَنَۃً ؟ قَالَ : لَا قَالَ: فَاجْلِسْ فَأُتِیَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ بِعَرَقِ تَمْرٍ، فَقَالَ : خُذْ ہَذَا فَتَصَدَّقْ بِہِ فَقَالَ : مَا أَحَدٌ أَحْوَجَ مِنِّی۔ فَقَالَ : کُلْہُ، وَصُمْ یَوْماً مَکَانَ مَا أَصَبْتَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ ایک اعرابی ( صحراء میں رہنے والا ) شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس اس حال میں آیا کہ وہ اپنے سینے کو پیٹ رہا تھا اور اپنے بال نوچ رہا تھا اور ( اپنے بارے میں ) کہہ رہا تھا کہ یہ بدنصیب تو ہلاک ہو گیا ، رسول اللہ ﷺ نے اس سے پوچھا :’’ کیا ہوا ؟‘‘ کہنے لگا کہ میں نے ماہِ رمضان میں روزے کی حالت میں اپنی بیوی سے ہم بستری کر لی ہے ، تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا :’’ کیا تو یہ استطاعت رکھتا ہے کہ ایک گردن آزاد کرے ؟‘‘ وہ کہنے لگا کہ نہیں ، پھر آپ ﷺ نے پوچھا :’’ کیا تو طاقت رکھتا ہے کہ ایک اونٹ قربانی کے لیے خانہ کعبہ کی طرف بھیجے ؟‘‘ اس نے کہا : نہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بیٹھ جا ‘‘ پھر خشک کھجوروں کا ایک ٹوکرا رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا گیا تو آپ نے فرمایا :’’ اسے لے لے اور اس کو صدقہ کر دے ۔‘‘ وہ عرض کرنے لگا کہ مجھ سے زیادہ محتاج تو کوئی بھی نہیں ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے کھا لے ( اور جس دن تم نے ہم بستری کی تھی اس کی جگہ ایک روزہ ( قضا کے طور پر ) رکھ لینا .