Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 17 · Chapter 157

روزوں کے متعلق کتاب

روزے دار کے لیے بوسہ دینے کی رخصت کا بیان

5 hadiths in this chapter

590

Muwatta Imam Malik #590

Sahih

[590] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ, أَنَّ رَجُلاً قَبَّلَ امْرَأَتَہُ وَہُوَ صَائِمٌ فِی رَمَضَانَ، فَوَجَدَ مِنْ ذَلِکَ وَجْداً شَدِیداً، فَأَرْسَلَ امْرَأَتَہُ تَسْأَلُ لَہُ عَنْ ذَلِکَ، فَدَخَلَتْ عَلَی أُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ ، فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لَہَا, فَأَخْبَرَتْہَا أُمُّ سَلَمَۃَ : أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ یُقَبِّلُ وَہُوَ صَائِمٌ، فَرَجَعَتْ فَأَخْبَرَتْ زَوْجَہَا بِذَلِکَ، فَزَادَہُ ذَلِکَ شَرًّا وَقَالَ : لَسْنَا مِثْلَ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ اللّٰہُ، یُحِلُّ لِرَسُولِ اللّٰہِ ﷺ مَا شَائَ، ثُمَّ رَجَعَتِ امْرَأَتُہُ إِلَی أُمِّ سَلَمَۃَ، فَوَجَدَتْ عِنْدَہَا رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : مَا لِہَذِہِ الْمَرْأَۃِ؟ فَأَخْبَرَتْہُ أُمُّ سَلَمَۃَ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : أَلاَّ أَخْبَرْتِیہَا إنِّی أَفْعَلُ ذَلِکَ فَقَالَت :قَدْ أَخْبَرْتُہَا، فَذَہَبَتْ إِلَی زَوْجِہَا فَأَخْبَرَتْہُ، فَزَادَہُ ذَلِکَ شَرًّا وَقَال: لَسْنَا مِثْلَ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ , اللّٰہُ یُحِلُّ لِرَسُولِہِ ﷺ مَا شَائَ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ وَقَالَ : وَاللّٰہِ إنِّی لأَ تْقَاکُمْ لِلّٰہِ، وَأَعْلَمُکُمْ بِحُدُودِہِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

عطاء بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو بوسہ دیا ، اس وقت وہ ماہ رمضان میں روزہ رکھے ہوئے تھا ، اسے اپنے اس عمل پر سخت قسم کا رنج و غم لاحق ہو گیا ، اس نے اپنی اہلیہ کو بھیجا کہ اس کے لیے ( کہیں سے ) یہ مسئلہ پوچھے ، اس کی بیوی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا زوجہ پیغمبر ﷺ کی خدمت میں آئی اور ان کے سامنے یہ ماجرا ذکر کیا تو حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اسے بتایا کہ بے شک رسول اللہ ﷺ بھی حالت روزہ میں بوس و کنار فرما لیتے ہیں ۔ وہ عورت اپنے خاوند کے پاس واپس آئی اور اسے یہ خبر سنائی ، لیکن اس خبر نے اس کے رنج اور بے چینی میں اضافہ کر دیا ، وہ کہنے لگا کہ ہم تو رسول اللہ ﷺ کی طرح نہیں ہیں ، اللہ تعالیٰ اپنے رسول کے لیے جو چاہیں حلال فرما دیں ( یہ انھی کا خاصہ ہے ) ، اس کی بیوی پھر دوبارہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی تو اس نے ان کے پاس رسول اللہ ﷺ کو پا لیا ، رسول اللہ ﷺ نے دریافت کیا کہ ’’ اس عورت کو کیا مسئلہ درپیش ہے ؟‘‘ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ کو ( سارا معاملہ ) بتا دیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم نے اسے بتایا نہیں کہ میں بھی ایسا کر لیتا ہوں ؟‘‘ انھوں نے کہا کہ میں نے اسے بتا دیا تھا ، یہ ( جب ) اپنے خاوند کے پاس ( واپس ) گئی اور اسے خبر دی تو اس خبر نے اس کے رنج و الم میں مزید اضافہ کر دیا اور وہ کہنے لگا کہ ہم تو رسول اللہ ﷺ کی طرح نہیں ہیں ، ( کیونکہ ) اللہ تعالیٰ اپنے رسول کے لیے جو چاہتا ہے حلال فرما دیتا ہے ( خواہ وہ کام امت کے لیے حرام ہی ہو ، یہ سنا ) تو رسول اللہ ﷺ غصے میں آ گئے اور فرمانے لگے :’’ اللہ کی قسم ! بے شک میں تم سب سے بڑھ کر اللہ سے ڈرنے والا اور تم سب سے زیادہ اس کی حدود کا علم رکھنے والا ہوں ۔‘‘

591

Muwatta Imam Malik #591

Sahih

[591] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ رضی اللہ عنہا ، أَنَّہَا قَالَتْ إِنْ کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ لَیُقَبِّلُ بَعْضَ أَزْوَاجِہِ وَہُوَ صَائِمٌ۔، ثُمَّ ضَحِکَتْ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، کہتی ہیں کہ بے شک رسول اللہ ﷺ اپنی ازواجِ مطہرات میں سے کسی کو بوسہ دیتے تھے ، حالانکہ آپ ﷺ روزہ دار ہوتے تھے ، ( یہ بیان کر کے ) پھر وہ مسکرا دیں ۔

592

Muwatta Imam Malik #592

Zaeef

[592] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ : أَنَّ عَاتِکَۃَ ابْنَۃَ زَیْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَیْلٍ، امْرَأَۃَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، کَانَتْ تُقَبِّلُ رَأْسَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَہُوَ صَائِمٌ، فَـلَا یَنْہَاہَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

یحیی بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی اہلیہ حضرت عاتکہ بنت زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہا ( اپنے خاوند ) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے سر کو بوسہ دیتیں ، اس حال میں کہ وہ روزہ دار ہوتے تھے لیکن وہ بیگم کو اس سے منع نہ فرماتے ۔

593

Muwatta Imam Malik #593

Sahih

[593] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ أبِی النَّضْرِ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ عُبَیْدِ اللّٰہِ، أَنَّ عَائِشَۃَ بِنْتَ طَلْحَۃَ أَخْبَرَتْہُ، أَ نَّہَا کَانَتْ عِنْدَ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ ، فَدَخَلَ عَلَیْہَا زَوْجُہَا ہُنَالِکَ، وَہُوَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ، وَہُوَ صَائِمٌ، فَقَالَتْ لَہُ عَائِشَۃُ : مَا یَمْنَعُکَ أَنْ تَدْنُوَ مِنْ أَہْلِکَ فَتُقَبِّلَہَا وَتُـلَاعِبَہَا، فَقَالَ أُقَبِّلُہَا وَأَنَا صَائِمٌ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ۔

اردو ترجمہ · Urdu

عائشہ بنت طلحہ سے روایت ہے کہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ پیغمبر ﷺ کے پاس تھیں ، ( اتنے میں ) ان کے پاس وہیں اس ( عائشہ بنت طلحہ رحمۃ اللہ علیہما ) کے خاوند بھی آ گئے اور وہ عبداللہ رحمہ اللہ بن عبدالرحمن بن ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہ ( سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھتیجے ) تھے ، وہ اس وقت روزے کی حالت میں تھے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے فرمایا : تمھیں اس سے کون سی چیز روکتی ہے کہ اپنی بیوی کے قریب جاؤ ، اسے بوسہ دو اور اس سے کھیلو ؟ وہ کہنے لگے کہ کیا میں روزے کی حالت میں اسے بوسہ دے سکتا ہوں ؟ تو انھوں نے فرمایا : ہاں ۔

594

Muwatta Imam Malik #594

Sahih

[594] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ : أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ وَسَعْدَ بْنَ أبِی وَقَّاصٍ کَانَا یُرَخِّصَانِ فِی الْقُبْلَۃِ لِلصَّائِمِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

زید بن اسلم سے روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہما روزے دار کے لیے بوسہ دینے کی رخصت دیتے تھے ۔