Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 17 · Chapter 156

روزوں کے متعلق کتاب

حالت جنابت میں صبح کرنے والے شخص کے روزہ رکھنے کا بیان

4 hadiths in this chapter

586

Muwatta Imam Malik #586

Sahih

[586] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ الْأَنْصَاری، عَنْ أبِی یُونُسَ مَوْلَی عَائِشَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ : أَنَّ رَجُلاً قَالَ لِرَسُولِ اللّٰہِ ﷺ وَہُوَ وَاقِفٌ عَلَی الْبَابِ وَأَنَا أَسْمَعُ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ إنِّی أُصْبِحُ جُنُباً وَأَنَا أُرِیدُ الصِّیَامَ ؟ فَقَالَ ﷺ : وَأَنَا أُصْبِحُ جُنُباً وَأَنَا أُرِیدُ الصِّیَامَ، فَأَغْتَسِلُ وَأَصُومُ فَقَالَ لَہُ الرَّجُلُ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ، إِنَّکَ لَسْتَ مِثْلَنَا، قَدْ غَفَرَ اللّٰہُ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ وَقَالَ : وَاللّٰہِ إنِّی لأَرْجُو أَنْ أَکُونَ أَخْشَاکُمْ لِلّٰہِ، وَأَعْلَمَکُمْ بِمَا أَ تَّقِی۔

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے کہا ، اس حال میں کہ وہ شخص دروازے پر کھڑا ہوا تھا اور میں ( گھر میں اس کی آواز ) سن رہی تھی ، ( کہنے لگا کہ ) اے اللہ کے رسول ! بے شک میں حالتِ جنابت میں صبح کرتا ہوں اور میں روزے کا ارادہ بھی رکھتا ہوں ( تو کیا حالت جنابت میں روزہ کی نیت اور اس کا آغاز درست ہے ؟ ) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اور میں بھی حالت جنابت میں صبح کرتا ہوں اور روزہ رکھنے کا ارادہ بھی کیے ہوئے ہوتا ہوں ، چنانچہ میں غسل کر لیتا ہوں اور روزہ رکھ لیتا ہوں ۔‘‘ وہ آدمی آپ ﷺ سے عرض کرنے لگا کہ اے اللہ کے رسول ! یقیناً آپ ہم جیسے تو نہیں ہیں کیونکہ اللہ نے آپ کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف فرما دیے ہیں ، تو ( یہ سن کر ) رسول اللہ ﷺ غصے میں آ گئے اور فرمانے لگے :’’ اللہ کی قسم ! بے شک میں یہ امید رکھتا ہوں کہ میں تم سب سے بڑھ کر اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور جن کاموں سے مجھے بچنا ہے ان کو تم سب سے زیادہ جاننے والا ہوں ۔‘‘

587

Muwatta Imam Malik #587

Sahih

[587] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ رَبِّہِ بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ أبِی بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ ہِشَامٍ، عَنْ عَائِشَۃَ وَأُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجَی النَّبِیِّ ﷺ ، أَنَّہُمَا قَالَتَا : کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ یُصْبِحُ جُنُباً مِنْ جِمَاعٍ غَیْرِ احْتِلَامٍ فِی رَمَضَانَ, ثُمَّ یَصُومُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہما ازواج پیغمبر ﷺ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ماہ رمضان میں حالت جنابت کے ساتھ صبح کرتے تھے ( اور ایسا بیویوں سے ) ہم بستری کی بنا پر ( ہوتا تھا ) نہ کہ احتلام کی بنا پر ( لیکن ) پھر بھی آپ ﷺ روزہ رکھ لیتے تھے ۔

588

Muwatta Imam Malik #588

Sahih

[588] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ سُمَیٍّ مَوْلَی أبِی بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ ہِشَامٍ، أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا بَکْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ ہِشَامٍ یَقُولُ : کُنْتُ أَنَا وَأبِی عِنْدَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ، وَہُوَ أَمِیرُ الْمَدِینَۃِ، فَذُکِرَ لَہُ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ : مَنْ أَصْبَحَ جُنُباً أَفْطَرَ ذَلِکَ الْیَوْمَ۔ فَقَالَ مَرْوَانُ : أَقْسَمْتُ عَلَیْکَ یَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ لَتَذْہَبَنَّ إِلَی أُمَّی الْمُؤْمِنِینَ عَائِشَۃَ وَأُمِّ سَلَمَۃَ، فَلَتَسْأَلَنَّہُمَا عَنْ ذَلِکَ، فَذَہَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَذَہَبْتُ مَعَہُ، حَتَّی دَخَلْنَا عَلَی عَائِشَۃَ، فَسَلَّمَ عَلَیْہَا، ثُمَّ قَالَ : یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ إِنَّا کُنَّا عِنْدَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ، فَذُکِرَ لَہُ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ : مَنْ أَصْبَحَ جُنُباً أَفْطَرَ ذَلِکَ الْیَوْمَ۔ قَالَتْ عَائِشَۃُ : لَیْسَ کَمَا قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ یَا عَبْدَ الرَّحْمَن، أَتَرْغَبُ عَمَّا کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ یَصْنَعُ ؟ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : لَا وَاللّٰہِ۔ قَالَتْ عَائِشَۃُ: فَأَشْہَدُ عَلَی رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ أَ نَّہُ کَانَ یُصْبِحُ جُنُباً، مِنْ جِمَاعٍ غَیْرِ احْتِلَامٍ، ثُمَّ یَصُومُ ذَلِکَ الْیَوْمَ۔ قَالَ : ثُمَّ خَرَجْنَا حَتَّی دَخَلْنَا عَلَی أُمِّ سَلَمَۃَ، فَسَأَلَہَا عَنْ ذَلِکَ، فَقَالَتْ مِثْلَ مَا قَالَتْ عَائِشَۃُ۔ قَالَ : فَخَرَجْنَا حَتَّی جِئْنَا مَرْوَانَ بْنَ الْحَکَمِ، فَذَکَرَ لَہُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مَا قَالَتَا، فَقَالَ مَرْوَانُ : أَقْسَمْتُ عَلَیْکَ یَا أَبَا مُحَمَّدٍ، لَتَرْکَبَنَّ دَابَّتِی، فَإِنَّہَا بِالْبَابِ، فَلْتَذْہَبَنَّ إِلَی أبِی ہُرَیْرَۃَ، فَإِنَّہُ بِأَرْضِہِ بِالْعَقِیقِ فَلْتُخْبِرَنَّہُ ذَلِکَ۔ فَرَکِبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَرَکِبْتُ مَعَہُ، حَتَّی أَتَیْنَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ، فَتَحَدَّثَ مَعَہُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ سَاعَۃً، ثُمَّ ذَکَرَ لَہُ ذَلِکَ، فَقَالَ لَہُ أَبُو ہُرَیْرَۃَ : لَا عِلْمَ لِی بِذَاکَ، إِنَّمَا أَخْبَرَنِیہِ مُخْبِرٌ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ابوبکر بن عبدالرحمن رحمہ اللہ ( بن حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ ) سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ میں ( ابوبکر رحمہ اللہ ) اور میرے والد ( عبدالرحمن رضی اللہ عنہ ) مروان بن حکم رحمہ اللہ کے پاس موجود تھے ، مروان ( ان دنوں ) مدینہ منورہ کے امیر ( گورنر ) تھے ، انھوں نے ( میرے والد عبدالرحمن نے ) مروان رحمہ اللہ کے سامنے یہ تذکرہ کیا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ کہتے ( اور فتویٰ دیتے ) ہیں کہ جو شخص حالتِ جنابت میں صبح کرے تو اس دن اس کا روزہ نہیں ہو گا ، تو مروان رحمہ اللہ نے ( میرے والد سے ) کہا کہ اے عبدالرحمن ! میں تمھیں قسم دیتا ہوں کہ مومنوں کی دو ماؤں سیدہ عائشہ اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہن کے پاس ضرور جاؤ اور پھر ان سے ضرور اس بارے میں سوال کرو ، چنانچہ ( والد محترم ) عبدالرحمن گئے اور میں بھی ان کے ساتھ گیا ، یہاں تک کہ ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے ، عبدالرحمن نے ان کو سلام عرض کیا ، پھر کہا کہ اے ام المومنین ! بے شک ہم مروان بن حکم کے پاس تھے ، ان کے سامنے یہ تذکرہ ہوا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جو شخص حالت جنابت کے ساتھ صبح میں داخل ہو تو وہ اس دن روزہ چھوڑ دے گا ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ اے عبدالرحمن ! یہ بات اس طرح نہیں جیسے کہ ابوہریرہ ( رضی اللہ عنہ ) کہتے ہیں ، کیا تم اس عمل سے بے رغبتی ( اور اعراض ) کر سکتے ہو جو خود رسول اللہ ﷺ کیا کرتے تھے ، عبدالرحمن نے کہا کہ اللہ کی قسم ! نہیں ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں : میں اللہ کے رسول ﷺ کے متعلق گواہی دیتی ہوں کہ آپ ﷺ جماع کے ساتھ ، نہ کہ محض احتلام سے ، جنبی ہو کر صبح میں داخل ہوتے پھر اس دن کا روزہ بھی رکھتے ۔ ابوبکر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ پھر ہم ( ان کے پاس سے ) نکلے یہاں تک کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے ، انھوں نے ( میرے والد نے ) ان سے بھی اس بارے میں سوال کیا تو انھوں نے بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی کے قول کی طرح جواب دیا … ابوبکر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ پھر ہم ( ان کے پاس سے بھی ) نکلے حتیٰ کہ ( واپس ) مروان بن حکم کے پاس آ گئے ، ( میرے والد ) عبدالرحمن نے انھیں وہ جواب بتا دیا جو دونوں ( امہات المومنین ) نے دیا تھا ، تو مروان ( میرے والد کو ان کی کنیت سے پکار کر ) کہنے لگے کہ اے ابومحمد ! میں ( دوبارہ پھر ) تمھیں قسم دیتا ہوں کہ تم ضرور میری سواری پرسوار ہو جاؤ جو کہ دروازے ہی پر کھڑی ہے ، پھر تم حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس ضرور جاؤ جو کہ ( تھوڑی دور ) ’’ عقیق ‘‘ کے مقام پر اپنی زمین میں ( موجود ) ہیں ، پھر تم ضرور انھیں بھی یہ خبر سناؤ ، چنانچہ عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سوار ہو گئے ، میں بھی ان کے ہمراہ سواری پر چڑھ گیا ، یہاں تک کہ ہم حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، عبدالرحمٰن نے کچھ دیر ان سے ( ادھر ادھر کی ) باتیں کیں ، پھر یہ ( سارا ماجرا ) ان کے سامنے ذکر کر دیا تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ اس کا تو مجھے کوئی علم نہ تھا ، ( بلکہ ) مجھے تو ایک خبر دینے والے نے خبر دی تھی ( جس کی بنا پر میں اپنا فتویٰ دیتا رہا ) ۔

589

Muwatta Imam Malik #589

Sahih

[589] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ سُمَیٍّ مَوْلَی أبِی بَکْرٍ، عَنْ أبِی بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَۃَ وَأُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجَی النَّبِیِّ ﷺ ، أَنَّہُمَا قَالَتَا : إِنْ کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ لَیُصْبِحُ جُنُباً، مِنْ جِمَاعٍ غَیْرِ احْتِلَامٍ، ثُمَّ یَصُومُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا دو ازواج پیغمبر ﷺ روایت کرتی ہیں کہ بے شک رسول اللہ ﷺ جماع کی وجہ سے ، نہ کہ احتلام سے ، حالتِ جنابت میں صبح کرتے ، پھر آپ روزہ رکھ لیتے تھے ۔