Muwatta Imam Malik #586
[586] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ الْأَنْصَاری، عَنْ أبِی یُونُسَ مَوْلَی عَائِشَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ : أَنَّ رَجُلاً قَالَ لِرَسُولِ اللّٰہِ ﷺ وَہُوَ وَاقِفٌ عَلَی الْبَابِ وَأَنَا أَسْمَعُ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ إنِّی أُصْبِحُ جُنُباً وَأَنَا أُرِیدُ الصِّیَامَ ؟ فَقَالَ ﷺ : وَأَنَا أُصْبِحُ جُنُباً وَأَنَا أُرِیدُ الصِّیَامَ، فَأَغْتَسِلُ وَأَصُومُ فَقَالَ لَہُ الرَّجُلُ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ، إِنَّکَ لَسْتَ مِثْلَنَا، قَدْ غَفَرَ اللّٰہُ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ وَقَالَ : وَاللّٰہِ إنِّی لأَرْجُو أَنْ أَکُونَ أَخْشَاکُمْ لِلّٰہِ، وَأَعْلَمَکُمْ بِمَا أَ تَّقِی۔
اردو ترجمہ · Urdu
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے کہا ، اس حال میں کہ وہ شخص دروازے پر کھڑا ہوا تھا اور میں ( گھر میں اس کی آواز ) سن رہی تھی ، ( کہنے لگا کہ ) اے اللہ کے رسول ! بے شک میں حالتِ جنابت میں صبح کرتا ہوں اور میں روزے کا ارادہ بھی رکھتا ہوں ( تو کیا حالت جنابت میں روزہ کی نیت اور اس کا آغاز درست ہے ؟ ) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اور میں بھی حالت جنابت میں صبح کرتا ہوں اور روزہ رکھنے کا ارادہ بھی کیے ہوئے ہوتا ہوں ، چنانچہ میں غسل کر لیتا ہوں اور روزہ رکھ لیتا ہوں ۔‘‘ وہ آدمی آپ ﷺ سے عرض کرنے لگا کہ اے اللہ کے رسول ! یقیناً آپ ہم جیسے تو نہیں ہیں کیونکہ اللہ نے آپ کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف فرما دیے ہیں ، تو ( یہ سن کر ) رسول اللہ ﷺ غصے میں آ گئے اور فرمانے لگے :’’ اللہ کی قسم ! بے شک میں یہ امید رکھتا ہوں کہ میں تم سب سے بڑھ کر اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور جن کاموں سے مجھے بچنا ہے ان کو تم سب سے زیادہ جاننے والا ہوں ۔‘‘