عَنِ الثَّوْرِيِّ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ :إِذَا أَصَابَ الْمُحْرِمُ الصَّيْدَ يُحْكَمُ عَلَيْهِ مَا يَعْدِلُهُ مِنَ النَّعَمِ ، فَقِيلَ لَهُ : ابْتَعْهُ ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ قُوِّمَ عَلَيْهِ قِيمَةُ ذَلِكَ طَعَامًا ، فَإِنْ كَانَ لا يَجِدُ نُظِرُ الطَّعَامُ كَمْ يَكُونُ ؟ فَصَامَ مَكَانَ كُلِّ نِصْفِ صَاعٍ يَوْمًا "، قَالَ : وَقَالَ مُجَاهِدٌ : " إِنْ وَجَدَ بَعْضَ الطَّعَامِ وَلَمْ يَجِدْ كُلَّهُ صَامَ ، وَإِنْ أَصَابَ دَابَّةً لَمْ يَكُنْ ثَمَنُهَا نِصْفَ صَاعٍ صَامَ مَكَانَهَا يَوْمًا " ، قَالَ الثَّوْرِيُّ : وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ : " إِنْ كَانَ مُوسِرًا فَهُوَ بِالْخِيَارِ إِنْ شَاءَ صَامَ ، وَإِنْ شَاءَ ذَبَحَ ، وَإِنْ شَاءَ أَطْعَمَ " ، وَقَالَ : " أَوْ عَدْلُ ذَلِكَ صِيَامًا ، قَالَ : عَدْلُ الطَّعَامِ الصِّيَامُ عَنْ كُلِّ يَوْمٍ مُدٌّ "
EnglishUnverified translation
From al-Thawri, from al-A'mash, from Ibrahim, he said: when a pilgrim in ihram strikes game, an equivalent from livestock is judged against him, and it is said to him: buy it; if he cannot find it, the value of that is assessed against him as food; if he cannot find food, they consider how much the food would be, and he fasts a day in place of every half sa'. Mujahid said: if he finds part of the food but not all of it, he fasts; and if he struck an animal whose price is not half a sa', he fasts a day in its place. Al-Thawri said: Ibn Jurayj reported from Ata: if he is well-off he has the choice, if he wishes he fasts, if he wishes he slaughters, and if he wishes he feeds; and he said about 'or its equivalent in fasting': the equivalent of the food is fasting, a mudd for every day.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
ثوری سے، اعمش سے، ابراہیم سے، انہوں نے کہا: جب محرم شکار مارے تو اس پر چوپایوں میں سے اس کے برابر کا فیصلہ کیا جائے گا، اس سے کہا جائے گا: اسے خرید، اگر نہ پائے تو اس کی قیمت کھانے سے اس پر لگائی جائے گی، اگر کھانا نہ پائے تو دیکھا جائے گا کھانا کتنا بنتا ہے، پھر ہر آدھے صاع کے بدلے ایک دن روزہ رکھے۔ اور مجاہد نے کہا: اگر کچھ کھانا پائے اور سب نہ پائے تو روزہ رکھے، اور اگر کوئی ایسا جانور مارا جس کی قیمت آدھا صاع نہ بنتی ہو تو اس کے بدلے ایک دن روزہ رکھے۔ ثوری نے کہا: ابن جریج نے عطاء سے روایت کی: اگر مالدار ہو تو اسے اختیار ہے، چاہے روزہ رکھے، چاہے ذبح کرے، چاہے کھانا کھلائے۔ اور کہا: ’یا اس کے برابر روزے‘ کا مطلب کھانے کے برابر روزے ہیں، ہر دن کے بدلے ایک مد۔