Muslim99Muslim99

Bulugh al-Maram · Book 9 · Chapter 2

Criminal Offences

بَابُ الدِّيَاتِ · بَابُ دَعْوَى الدَّمِ وَالْقَسَامَةِ

13 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

1009

Bulugh al-Maram #1009

Da'if

عَنْ أَبِي بَكْرٍ بْنِ مُحَمَّدٍ بْنِ عَمْرِوِ بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ - رضي الله عنه - أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - كَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ ... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَفِيهِ: ((أَنَّ مَنِ اعْتَبَطَ مُؤْمِنًا قَتْلًا عَنْ بَيِّنَةٍ، فَإِنَّهُ قَوَدٌ، إِلَّا أَنْ يَرْضَى أَوْلِيَاءُ الْمَقْتُولِ، وَإِنَّ فِي النَّفْسِ الدِّيَةَ مِائَةً مِنْ الْإِبِلِ، وَفِي الْأَنْفِ إِذَا أُوعِبَ جَدْعُهُ الدِّيَةُ، وَفِي اللِّسَانِ الدِّيَةُ، وَفِي الشَّفَتَيْنِ الدِّيَةُ، وَفِي الذَّكَرِ الدِّيَةُ، وَفِي الْبَيْضَتَيْنِ الدِّيَةُ، وَفِي الصُّلْبِ الدِّيَةُ، وَفِي الْعَيْنَيْنِ الدِّيَةُ، وَفِي الرِّجْلِ الْوَاحِدَةِ نِصْفُ الدِّيَةِ، وَفِي الْمَأْمُومَةِ ثُلُثُ الدِّيَةِ، وَفِي الْجَائِفَةِ ثُلُثُ الدِّيَةِ، وَفِي الْمُنَقِّلَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي كُلِّ إِصْبَعٍ مِنْ أَصَابِعِ الْيَدِ وَالرِّجْلِ عَشْرٌ مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي السِّنِّ خَمْسٌ مِنَ الْإِبِلِ وَفِي الْمُوضِحَةِ خَمْسٌ مِنَ الْإِبِلِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ يُقْتَلُ بِالْمَرْأَةِ، وَعَلَى أَهْلِ الذَّهَبِ أَلْفُ دِينَارٍ)). أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي ((الْمَرَاسِيلِ)) وَالنَّسَائِيُّ، وَابْنُ خُزَيْمَةَ، وَابْنُ الْجَارُودِ، وَابْنُ حِبَّانَ، وَأَحْمَدُ، وَاخْتَلَفُوا فِي صِحَّتِهِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم اپنے باپ (محمد) سے اور وہ ان (ابوبکر) کے داد (عمرو بن حزم) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کو لکھا۔ پھر لمبی حدیث بیان کی۔ اس میں یہ بھی ہے: ’’جو شخص کسی بے گناہ مسلمان کو قتل کر ڈالے اور اس قتل کا ثبوت بھی ہو تو اس پر قصاص لازم ہے‘ الّا یہ کہ مقتول کے ورثاء (دیت پر) راضی ہو جائیں۔ اور ایک جان کے قتل کی دیت سو اونٹ ہے۔ اور ناک میں بھی پوری دیت ہے جبکہ اسے جڑ سے کاٹ دیا جائے۔ اور دونوں آنکھوں‘ زبان اور دونوں ہونٹوں کے عوض بھی پوری دیت ہے۔ (اسی طرح) عضو مخصوص میں پوری دیت ہے۔ اور دو خصیوں میں پوری دیت ہے۔ اور پشت میں بھی پوری دیت ہے۔ اور ایک پاؤں میں آدھی دیت ہے۔ اور دماغ اور پیٹ کے گہرے زخم میں تہائی دیت ہے۔ اور وہ زخم جس سے ہڈی ٹوٹ جائے اور اپنی جگہ سے ہٹ جائے اس میں پندرہ اونٹ دیت ہے۔ اور ہاتھ اور پاؤں کی ہر ایک انگلی میں دس دس اونٹ دیت ہے۔ اور ایک دانت کی دیت پانچ اونٹ ہے۔ اور ایسے زخم میں جس سے ہڈی نظر آنے لگے‘ پانچ اونٹ دیت ہے۔ اور مرد کو عورت کے بدلے میں قتل کیا جائے گا۔ اور جن کے پاس (اونٹ نہ ہوں اور) سونا ہو تو ان سے ایک ہزار دینار وصول کیے جائیں گے۔‘‘ (ابوداود نے اسے مراسیل میں ذکر کیا ہے اور نسائی‘ ابن خزیمہ‘ ابن جارود‘ ابن حبان اور احمد نے بھی اسے روایت کیا ہے اور اس کے صحیح ہونے میں انھوں نے اختلاف کیا ہے۔)

1010

Bulugh al-Maram #1010

Sahih

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ - رضي الله عنه - عَنِ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: ((دِيَةُ الْخَطَأَ أَخْمَاسًا: عِشْرُونَ حِقَّةً، وَعِشْرُونَ جَذَعَةً، وَعِشْرُونَ بَنَاتِ مَخَاضٍ، وَعِشْرُونَ بَنَاتِ لَبُونٍ، وَعِشْرُونَ بَنِي لَبُونٍ)). أَخْرَجَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ. وَأَخْرَجَهُ الْأَرْبَعَةُ، بِلَفْظٍ: ((وَعِشْرُونَ بِنِي مَخَاضٍ)) -، بَدَلَ: بُنِيَ لَبُونٍ. وَإِسْنَادُ الْأَوَّلِ أَقْوَى. وَأَخْرَجَهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مَوْقُوفًا، وَهُوَ أَصَحُّ مِنَ الْمَرْفُوعِ. وَأَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالتِّرْمِذِيُّ: مِنْ طَرِيقِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَفَعَهُ: ((الدِّيَةُ ثَلَاثُونَ حِقَّةً، وَثَلَاثُونَ جَذَعَةً، وَأَرْبَعُونَ خَلِفَةً، فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا)).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ نے فرمایا: ’’قتل خطا کی دیت پانچ حصوں میں ہوگی: بیس حقے ‘ بیس جذعے‘ بیس بنات مخاض‘ بیس بنات لبون اور بیس بنی لبون۔‘‘(اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے۔) اور چاروں نے ’’بنی لبون‘‘ کی بجائے ’’ بیس بنی مخاض ‘‘ کے الفاظ سے اسے ذکر کیا ہے‘ جبکہ پہلی سند زیادہ قوی ہے۔ اور ابن ابی شیبہ نے ایک اور طریق سے اسے موقوفاًروایت کیا ہے اور وہ مرفوع کی نسبت زیادہ صحیح ہے۔ اور ابوداود اور ترمذی نے اسے عمرو بن شعیب عن أبیہ عن جدہ کے طریق سے مرفوعاً نقل کیا ہے : ’’دیت میں تیس حقے‘ تیس جذعے اور چالیس حاملہ اونٹنیاں ‘ جن کے پیٹوں میں بچے ہوں‘ (وصول کیے جائیں گے۔‘‘)

1011

Bulugh al-Maram #1011

Hasan

وَعَنِ ابْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنْ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: ((إِنَّ أَعْتَى النَّاسِ عَلَى اللَّهِ ثَلَاثَةٌ: مَنْ قَتَلَ فِي حَرَمَ اللَّهِ، أَوْ قَتَلَ غَيْرَ قَاتِلِهِ، أَوْ قَتَلَ لِذَحْلِ الْجَاهِلِيَّةِ)). أَخْرَجَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي حَدِيثٍ صَحَّحَهُ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں‘ آپ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ کی سب سے زیادہ سرکشی کرنے والے لوگ تین قسم کے ہیں:(ایک وہ) جو اللہ کے حرم میں قتل کرے‘ (دوسراوہ ) جو اپنے غیر قاتل کو قتل کرے‘ اور (تیسرا وہ) جو جاہلیت کی عداوت کی بنا پر قتل کرے۔‘‘ (ابن حبان نے اسے ایک (طویل) حدیث کے ضمن میں بیان کیا ہے جسے انھوں نے صحیح قرار دیا ہے۔)

1012

Bulugh al-Maram #1012

Sahih

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا; أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: ((أَلَا إِنَّ دِيَةَ الْخَطَأِ شِبْهِ الْعَمْدِ - مَا كَانَ بِالسَّوْطِ وَالْعَصَا - مَائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ، مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا)). أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ، وَصَحَّحَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’قتل خطا‘ یعنی شبہ عمد ‘ جو کوڑے اور لاٹھی سے ہو‘کی دیت سو اونٹ ہے۔ ان میں چالیس اونٹنیاں ایسی ہوں گی جن کے پیٹوں میں ان کے بچے ہوں۔‘‘ (اسے ابوداود‘ نسائی اور ابن ماجہ نے بیان کیا ہے‘ نیز ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے۔)

1013

Bulugh al-Maram #1013

Sahih

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنْ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: ((هَذِهِ وَهَذِهِ سَوَاءٌ)). يَعْنِي: الْخُنْصَرَ وَالْإِبْهَامَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ. وَلِأَبِي دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيَّ: ((دِيَةُ الْأَصَابِعِ سَوَاءٌ، وَالْأَسْنَانُ سَوَاءٌ: الثَّنِيَّةُ وَالضِّرْسُ سَوَاءٌ)). وَلِابْنِ حِبَّانَ: ((دِيَةُ أَصَابِعِ الْيَدَيْنِ وَالرِّجْلَيْنِ سَوَاءٌ، عَشَرَةٌ مِنَ الْإِبِلِ لِكُلِّ إصْبَعٍ)).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ اور یہ‘ یعنی چھنگلی اور انگوٹھا برابر ہیں۔‘‘ (اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔) ابوداود اور ترمذی کی روایت میں ہے: ’’سب انگلیوں کی دیت برابر ہے‘ سارے دانت برابرہیں اور ثنیہ (سامنے والا دانت) اور ڈاڑھ برابر ہیں۔‘‘ اور ابن حبان کی روایت میں ہے: ’’ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کی دیت برابر ہے‘ یعنی ہر انگلی کے بدلے میں دس اونٹ۔‘‘

1014

Bulugh al-Maram #1014

Da'if

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَفَعَهُ قَالَ: ((مَنْ تَطَبَّبَ - وَلَمْ يَكُنْ بِالطِّبِّ مَعْرُوفًا - فَأَصَابَ نَفْسًا فَمَا دُونَهَا، فَهُوَ ضَامِنٌ)). أَخْرَجَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ، وَصَحَّحَهُ الْحَاكِمُ، وَهُوَ عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيِّ وَغَيْرِهِمَا; إِلَّا أَنَّ مَنْ أَرْسَلَهُ أَقْوَى مِمَّنْ وَصَلَهُ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن شعیب نے اپنے باپ سے اور انھوں نے اپنے دادا (عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما ) سے روایت کیا ہے‘ وہ مرفوعاً بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس شخص نے علاج کیا‘ حالانکہ وہ طب میں معروف نہیں ہے‘ پس کسی جان کو ہلاک کر ڈالا یا کوئی اور نقصان کر دیاتو وہ ذمہ دار ٹھہرے گا۔‘‘ (اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ ابوداود اور نسائی وغیرہ کے ہاں بھی یہ روایت منقول ہے مگر جس نے اس روایت کو مرسل بیان کیا ہے وہ ان راویوں سے زیادہ قوی ہے جنھوں نے اسے موصول بیان کیا ہے۔)

1015

Bulugh al-Maram #1015

Hasan

وَعَنْهُ رضي الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: ((فِي الْمَوَاضِحِ خَمْسٌ، خَمْسٌ مِنْ الْإِبِلِ)). رَوَاهُ أَحْمَدُ. وَالْأَرْبَعَةُ. وَزَادَ أَحْمَدُ: ((وَالْأَصَابِعُ سَوَاءٌ، كُلُّهُنَّ عَشْرٌ، عَشْرٌ مِنَ الْإِبِلِ)). وَصَحَّحَهُ ابْنُ خُزَيْمَةَ، وَابْنُ الْجَارُودِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما ہی سے روایت ہے‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جن زخموں میں ہڈی سے گوشت ہٹ جائے ان میں پانچ پانچ اونٹ (دیت) ہے۔‘‘ (اسے امام احمد رحمہ اللہ اور چاروں نے روایت کیا ہے) اور امام احمد رحمہ اللہ نے یہ اضافہ نقل کیا ہے: ’’تمام انگلیاں برابر ہیں‘ یعنی ان کی دیت دس دس اونٹ ہے۔‘‘ (اس روایت کو ابن خزیمہ اور ابن جارود نے صحیح قرار دیا ہے۔)

1016

Bulugh al-Maram #1016

Hasan

وَعَنْهُ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((عَقْلُ أَهْلِ الذِّمَّةِ نِصْفُ عَقْلِ الْمُسْلِمِينَ)). رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْأَرْبَعَةُ. وَلَفْظُ أَبِي دَاوُدَ: ((دِيَةُ الْمُعَاهِدِ نِصْفُ دِيَةِ الْحُرِّ)). وَلِلنِّسَائِيِّ: ((عَقْلُ الْمَرْأَةِ مِثْلُ عَقْلِ الرَّجُلِ، حَتَّى يَبْلُغَ الثُّلُثَ مِنْ دِيَتِهَا)). وَصَحَّحَهُ ابْنُ خُزَيْمَةَ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما ہی سے مروی ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ذمیوں کی دیت مسلمانوں کی دیت سے آدھی ہے۔‘‘ (اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے۔) اور ابوداود کے الفاظ ہیں: ’’ذمی کی دیت آزاد کی دیت سے آدھی ہے‘‘ اور نسائی کی روایت میں ہے: ’’عورت کی دیت مرد کی دیت کی مانند ہے یہاں تک کہ وہ اس کی دیت کے تہائی تک پہنچے۔‘‘ (اسے ابن خزیمہ نے صحیح قرار دیا ہے۔)

1017

Bulugh al-Maram #1017

Hasan

وَعَنْهُ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((عَقْلُ شِبْهِ الْعَمْدِ مُغَلَّظٌ مِثْلُ عَقْلِ الْعَمْدِ، وَلَا يَقْتَلُ صَاحِبُهُ، وَذَلِكَ أَنْ يَنْزُوَ الشَّيْطَانُ، فَتَكُونُ دِمَاءٌ بَيْنَ النَّاسِ فِي غَيْرِ ضَغِينَةٍ، وَلَا حَمْلِ سِلَاحٍ)). أَخْرَجَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ وَضَعَّفَهُ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

انھی (حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما ) سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’قتل شبہ عمد کی دیت قتل عمد کی طرح مغلظہ ہے۔ لیکن (شبہ عمد کے) قاتل کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ وہ (شبہ عمد) یوں ہے کہ (لوگوں میں) شیطان کود پڑتا ہے (اور انھیں قتل و قتال پر آمادہ اور برانگیختہ کرتا ہے) جس کے نتیجے میں بغیر کسی عداوت اور ہتھیار اٹھانے کے خون خرابا ہوجاتا ہے۔‘‘ (اسے دارقطنی نے روایت کیاہے اور اسے ضعیف قرار دیا ہے۔)

1018

Bulugh al-Maram #1018

Hasan

عَنْ اِبْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَتَلَ رَجُلٌ رَجُلًا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم. فَجَعَلَ النَّبِيُّ - صلى الله عليه وسلم - دِيَتَهُ اِثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا. رَوَاهُ الْأَرْبَعَةُ، وَرَجَّحَ النَّسَائِيُّ وَأَبُو حَاتِمٍ إِرْسَالَهُ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ایک آدمی نے دوسرے آدمی کو قتل کردیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت بارہ ہزار (درہم) مقرر فرمائی۔ (اسے چاروں نے روایت کیا ہے۔ اورنسائی اور ابوحاتم نے اس روایت کے مرسل ہونے کو ترجیح دی ہے۔)

1019

Bulugh al-Maram #1019

Sahih

وَعَنْ أَبِي رِمْثَةَ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - وَمَعِي ابْنِي فَقَالَ: ((مَنْ هَذَا؟)) قُلْتُ: ابْنِي. أَشْهَدُ بِهِ. قَالَ: ((أَمَّا إِنَّهُ لَا يَجْنِي عَلَيْكَ، وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ)). رَوَاهُ النَّسَائِيُّ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَصَحَّحَهُ ابْنُ خُزَيْمَةَ، وَابْنُ الْجَارُودِ

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابو رمثہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ میرے ساتھ میرا بیٹا بھی تھا۔ آپ نے دریافت فرمایا: ’’یہ کون ہے؟‘‘ میں نے عرض کیا: میرا بیٹا ہے۔ میں (کھلم کھلا) اس بات کی گو اہی دیتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ’’بے شک تو اس کے جرم کا ذمہ دار نہیں اور نہ یہ تیرے جرم کا ذمہ دار ہے۔‘‘ (اسے نسائی اور ابوداود نے روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ اور ابن جارود نے اسے صحیح کہا ہے۔)

1020

Bulugh al-Maram #1020

Sahih

عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، عَنْ رِجَالٍ مِنْ كُبَرَاءِ قَوْمِهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ ومُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودٍ خَرَجَا إِلَى خَيْبَرَ مِنْ جَهْدٍ أَصَابَهُمْ، فَأُتِيَ مَحَيِّصَةُ فَأُخْبِرَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنِ سَهْلِ قَدْ قُتِلَ، وَطُرِحَ فِي عَيْنٍ، فَأَتَى يَهُودَ، فَقَالَ: أَنْتُمْ وَاللَّهِ قَتَلْتُمُوهُ. قَالُوا: وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ، فَأَقْبَلَ هُوَ وَأَخُوهُ حُوَيِّصَةُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ، فَذَهَبَ مُحَيِّصَةُ لَيَتَكَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((كَبِّرْ كَبِّرْ)) يُرِيدُ: السِّنَّ، فَتَكَلَّمَ حُوَيِّصَةُ، ثُمَّ تَكَلَّمَ مُحَيِّصَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((إِمَّا أَنْ يَدُوا صَاحِبَكُمْ، وَإِمَّا أَنْ يَأْذَنُوا بِحَرْبٍ)). فَكَتَبَ إِلَيْهِمْ فِي ذَلِكَ [كِتَابًا]. فَكَتَبُوا: إِنَّا وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ، فَقَالَ لِحُوَيِّصَةَ، وَمُحَيِّصَةُ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنَ سَهْلٍ: ((أَتَحْلِفُونَ، وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبَكُمْ؟)) قَالُوا: لَا. قَالَ: ((فَتَحْلِفُ لَكُمْ يَهُودُ؟)) قَالُوا: لَيْسُوا مُسْلِمِينَ فَوَدَاهُ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - مِنْ عِنْدِهِ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ مَائَةَ نَاقَةٍ. قَالَ سَهْلٌ: فَلَقَدْ رَكَضَتْنِي مِنْهَا نَاقَةٌ حَمْرَاءُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن ابو حثمہ اپنی قوم کے بعض بزرگوں سے روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ بن سہل اور حضرت مُحَیِّصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اپنی تنگ دستی کی وجہ سے خیبر کی طرف نکلے‘ چنانچہ حضرت مُحَیِّصہ رضی اللہ عنہ کو اطلاع دی گئی کہ عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا گیا ہے اور اسے ایک چشمے میں پھینک دیا گیا ہے۔ مُحَیِّصہ رضی اللہ عنہ یہودیوں کے پاس آئے اور کہا : اللہ کی قسم! تم لوگوں نے اسے قتل کیا ہے۔ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم نے اسے قتل نہیں کیا۔ پھر محیصہ اور ان کا بھائی حُوَیِّصہ اور عبدالرحمن بن سہل رضی اللہ عنہم تینوں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس) آئے اور مُحَیِّصـہ نے گفتگو کرنی چاہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بڑے کو بات کرنے دو اور اس کے حق کا لحاظ کرو۔‘‘ آپ کی مراد تھی کہ جو تم میں عمر میں بڑا ہے وہ بات کرے‘ چنانچہ حویصہ رضی اللہ عنہ نے گفتگو کی‘ پھر محیصہ نے بات کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’وہ لوگ یا تو تمھارے صاحب اور ساتھی کی دیت ادا کریں گے یا اعلانِ جنگ کریں گے۔‘‘ پھر اس سلسلے میں آپ نے ان کے نام ایک خط تحریر فرمایا جس کے جواب میں انھوں نے لکھا: اللہ کی قسم! ہم نے اسے قتل نہیں کیا۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حُوَیِّصہ‘ مُحَیِّصہ اور عبدالرحمن بن سہل رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ’’کیا تم لوگ قسم کھا کر اپنے صاحب کے خون کے حق دار بنو گے؟‘‘ انھوں نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: ’’تو پھر تم کو یہودی قسم دیں؟‘‘ انھوں نے کہا کہ وہ تو مسلمان نہیں ہیں (اس لیے ان کی قسم کا کوئی اعتبار نہیں۔) چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ ) کی دیت اپنے پاس (بیت المال) سے دی اور ان کی طرف سو اونٹنیاں بھیج دیں۔ حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ان میں سے ایک سرخ رنگ کی اونٹنی نے مجھے لات ماری تھی۔(بخاری و مسلم)

1021

Bulugh al-Maram #1021

Sahih

وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - أَقَرَّ الْقَسَامَةَ عَلَى مَا كَانَتْ عَلَيْهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَقَضَى بِهَا رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - بَيْنَ نَاسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فِي قَتِيلٍ ادَّعَوْهُ عَلَى الْيَهُودِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمانۂ جاہلیت کے طریقۂ قسامت کو برقرار رکھا۔ اور آپ نے اسی کے مطابق انصار کے کچھ لوگوں کے درمیان ایک مقتول کے بارے میں فیصلہ کیا جس کا انھوں نے یہودیوں کے خلاف دعویٰ کیا تھا۔ (اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔)