Muslim99Muslim99

Bulugh al-Maram · Book 9 · Chapter 1

Criminal Offences

بَابُ الْجِنَايَاتِ

16 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

993

Bulugh al-Maram #993

Sahih

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ; يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ: الثَّيِّبُ الزَّانِي، وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ، وَالتَّارِكُ لِدِينِهِ; الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ)). مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو مسلمان آدمی اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کا رسول ہوں‘ تو تین صورتوں کے علاوہ اسے قتل کرنا جائز اور حلال نہیں: شادی شدہ زانی‘ جان کے بدلے جان اور اپنے دین کو چھوڑ کر (مسلمانوں کی) جماعت سے علیحدہ ہونے والا۔‘‘ (بخاری و مسلم)

994

Bulugh al-Maram #994

Sahih

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: ((لَا يَحِلُّ قَتْلُ مُسْلِمٍ إِلَّا فِي إِحْدَى ثَلَاثِ خِصَالٍ: زَانٍ مُحْصَنٌ فَيُرْجَمُ، وَرَجُلٌ يَقْتُلُ مُسْلِمًا مُتَعَمِّدًا فَيُقْتَلُ، وَرَجُلٌ يَخْرُجُ مِنَ الْإِسْلَامِ فَيُحَارِبُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فَيُقْتَلُ، أَوْ يُصْلَبُ، أَوْ يُنْفَى مِنَ الْأَرْضِ)). رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ، وَصَحَّحَهُ الْحَاكِمُ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تین صورتوں میں سے کسی ایک کے سوا کسی مسلمان آدمی کا قتل حلال و جائز نہیں: شادی شدہ زانی‘ اسے سنگسار کیا جائے گا۔ (دوسرا) وہ آدمی جو عمداً کسی مسلمان کو قتل کرے‘ اسے قتل کیا جائے گا۔ اور (تیسرا) وہ آدمی جو دائرۂ اسلام سے خارج ہو جائے اور اللہ اور اس کے رسول سے لڑائی شروع کر دے‘ اسے قتل کیا جائے گا یا سولی دی جائے گی یا جلا وطن کیا جائے گا۔‘‘ (اسے ابوداود اور نسائی نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔)

995

Bulugh al-Maram #995

Sahih

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((أَوَّلُ مَا يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي الدِّمَاءِ)). مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’قیامت کے روز لوگوں کے درمیان سب سے پہلے جن مقدمات کا فیصلہ کیا جائے گا وہ خون کے مقدمات ہوں گے۔‘‘ (بخاری و مسلم)

996

Bulugh al-Maram #996

Hasan

وَعَنْ سَمُرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ قَتَلْنَاهُ، وَمَنْ جَدَعَ عَبْدَهُ جَدَعْنَاهُ)). رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْأَرْبَعَةُ، وَحَسَّنَهُ التِّرْمِذِيُّ، وَهُوَ مِنْ رِوَايَةِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ عَنْ سَمُرَةَ، وَقَدِ اخْتُلِفَ فِي سَمَاعِهِ مِنْهُ. وَفِي رِوَايَةٍ لِأَبِي دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيِّ: ((وَمَنْ خَصَى عَبْدُهُ خَصَيْنَاهُ)). وَصَحَّحَ الْحَاكِمُ هَذِهِ الزِّيَادَةَ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس مالک نے اپنے غلام کو قتل کیا ہم اسے قتل کریں گے۔ اور جس نے اس کا کوئی عضو کاٹا ہم اس کا وہ عضو کاٹ دیں گے۔‘‘ (اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن کہا ہے۔ یہ سمرہ سے حسن بصری کی روایت ہے اور سمرہ سے حسن بصری کے سماع میں اختلاف ہے۔) ابوداود اور نسائی کی روایت میں ہے: ’’جس مالک نے اپنے غلام کو خصی کیا ہم اسے خصی کر دیں گے۔‘‘ (اس اضافے کو امام حاکم نے صحیح قرار دیا ہے۔)

997

Bulugh al-Maram #997

Da'if

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - رضي الله عنه - قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يَقُولُ: ((لَا يُقَادُ الْوَالِدُ بِالْوَلَدِ)). رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالتِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ، وَصَحَّحَهُ ابْنُ الْجَارُودِ وَالْبَيْهَقِيُّ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: إِنَّهُ مُضْطَرِبٌ

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’باپ سے بیٹے کا قصاص نہیں لیا جائے گا۔‘‘ (اسے احمد‘ ترمذی اور ابن ما جہ نے روایت کیا ہے‘ ابن جارود اور بیہقی نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور ترمذی نے کہا ہے کہ اس حدیث میں اضطراب ہے۔)

998

Bulugh al-Maram #998

Sahih

وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ: قُلْتُ لَعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ مِنَ الْوَحْيِ غَيْرَ الْقُرْآنِ؟ قَالَ: لَا، وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النِّسْمَةَ، إِلَّا فَهْمٌ يُعْطِيهِ اللَّهُ رَجُلًا فِي الْقُرْآنِ، وَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ. قُلْتُ: وَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ؟ قَالَ: الْعَقْلُ، وَفِكَاكُ الْأَسِيرِ، وَلَا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَأَخْرَجَهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ: مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عَلِيٍّ وَقَالَ فِيهِ: ((الْمُؤْمِنُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ، وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ، وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ، وَلَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ، وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ)). وَصَحَّحَهُ الْحَاكِمُ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : کیا آپ لوگوں کے پاس قرآن کے علاوہ وحی کے ذریعے سے نازل شدہ کوئی اور چیز بھی ہے؟ انھوں نے جواب دیا: نہیں‘ اس ذات کی قسم جس نے دانہ اگایا اور جان کو پیدا فرمایا! سوائے اس فہم کے جو اللہ تعالیٰ کسی انسان کو قرآن کے بارے میں عطا فرماتا ہے‘ اور جو کچھ اس صحیفے میں تحریر ہے۔ میں نے سوال کیا کہ اس صحیفے میں کیا ہے؟ انھوں نے بتایا کہ دیت کے احکام‘ قیدی کو آزاد کرنے کا حکم اور یہ کہ کسی مسلمان کو کافر کے بدلے میں قتل نہیں کیا جائے گا۔(اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔) اس روایت کو احمد‘ ابوداود اور نسائی نے ایک دوسری سند سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے واسطے سے بیان کیا ہے اور اس میں یہ قول ہے: ’’سب مومنوں کے خون برابر ہیں۔ اور ان میں سے ادنیٰ آدمی بھی ان کی طرف سے امان دے سکتا ہے۔ اور وہ غیروں کے مقابلے میں ایک ہاتھ ہیں۔ اور کوئی مومن کسی کافر کے بدلے میں قتل نہیں کیا جائے گا اور نہ کسی معاہد (ذمی) کو اس کے زمانۂ عہد میں قتل کیا جا سکتا ہے۔‘‘ (اس روایت کو حاکم نے صحیح قرار دیا ہے۔)

999

Bulugh al-Maram #999

Sahih

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رضي الله عنه: أَنَّ جَارِيَةً وُجِدَ رَأْسُهَا قَدْ رُضَّ بَيْنَ حَجَرَيْنِ، فَسَأَلُوهَا: مَنْ صَنَعَ بِكِ هَذَا? فُلَانٌ. فُلَانٌ. حَتَّى ذَكَرُوا يَهُودِيًّا. فَأَوْمَأَتْ بِرَأْسِهَا، فَأُخِذَ الْيَهُودِيُّ، فَأَقَرَّ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - أَنْ يُرَضَّ رَأْسُهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ، وَاللَّفْظُ لِمُسْلِمٍ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک لونڈی ایسی حالت میں پائی گئی کہ اس کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا گیا تھا۔ لوگوں نے اس سے دریافت کیا کہ تمھارے ساتھ ایسا کس نے کیا ہے؟ فلاں نے؟ فلاں نے؟ یہاں تک کہ انھوں نے ایک یہودی کا ذکر کیا تو اس نے سر سے اشارہ کیا: (ہاں۔) چنانچہ یہودی گرفتار کر لیا گیا‘ پھر اس نے اقرار بھی کر لیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دینے کا حکم دیا۔ (بخاری و مسلم۔ یہ الفاظ مسلم کے ہیں۔)

1000

Bulugh al-Maram #1000

Da'if

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ - رضي الله عنه: أَنَّ غُلَامًا لِأُنَاسٍ فُقَرَاءَ قَطَعَ أُذُنَ غُلَامٍ لِأُنَاسٍ أَغْنِيَاءَ، فَأَتَوا النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - فَلَمْ يَجْعَلْ لَهُمْ شَيْئًا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالثَّلَاثَةُ، بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ فقیر لوگوں کے ایک لڑکے نے مال دار لوگوں کے لڑکے کا کان کاٹ دیا تو یہ (امیر) لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ آپ نے ان کے لیے کوئی چیز مقرر نہ فرمائی۔ (اسے احمد اور تینوں نے صحیح سند سے روایت کیا ہے۔)

1001

Bulugh al-Maram #1001

Da'if

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ; - رضي الله عنه: أَنَّ رَجُلًا طَعَنَ رَجُلًا بِقَرْنٍ فِي رُكْبَتِهِ، فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - فَقَالَ: أَقِدْنِي. فَقَالَ: ((حَتَّى تَبْرَأَ)). ثُمَّ جَاءَ إِلَيْهِ. فَقَالَ: أَقِدْنِي، فَأَقَادَهُ، ثُمَّ جَاءَ إِلَيْهِ. فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! عَرِجْتُ، فَقَالَ: ((قَدْ نَهَيْتُكَ فَعَصَيْتَنِي، فَأَبْعَدَكَ اللَّهُ، وَبَطَلَ عَرَجُكَ)). ثُمَّ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - ((أَنْ يُقْتَصَّ مِنْ جُرْحٍ حَتَّى يَبْرَأَ صَاحِبُهُ)). رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالدَّارَقُطْنِيُّ، وَأُعِلَّ بِالْإِرْسَالِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن شعیب نے اپنے والد سے اور انھوں نے اپنے دادا سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے دوسرے کے گھٹنے میں سینگ چبھو دیا۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: مجھے اس سے قصاص دلوائیں۔ آپ نے فرمایا: ’’(نہیں!) حتیٰ کہ تو شفایاب ہو جائے۔‘‘ وہ پھر آپ کے پاس آیا اور بولا: مجھے قصاص دلوائیں۔ آپ نے اسے قصاص دلوا دیا۔ اس کے بعد وہ پھر آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! میں لنگڑا ہوگیا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ’’میں نے تجھے منع کیا تھا لیکن تو نے میری نافرمانی کی۔ اللہ تعالیٰ تجھے دور کرے اور تیرا لنگڑا پن باطل ہو گیا۔‘‘ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زخمی کے شفایاب ہونے سے پہلے زخم کا قصاص لینے سے منع فرما دیا۔ (اس روایت کو احمد اور دارقطنی نے روایت کیا ہے اور اسے مرسل ہونے کی وجہ سے معلول کہا گیا ہے۔)

1002

Bulugh al-Maram #1002

Sahih

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: اقْتَتَلَتِ امْرَأَتَانِ مِنْ هُذَيْلٍ، فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِحَجَرٍ، فَقَتَلَتْهَا وَمَا فِي بَطْنِهَا، فَاخْتَصَمُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - أَنَّ دِيَةَ جَنِينِهَا: غُرَّةٌ; عَبْدٌ أَوْ وَلِيدَةٌ، وَقَضَى بِدِيَةِ الْمَرْأَةِ عَلَى عَاقِلَتِهَا. وَوَرَّثَهَا وَلَدَهَا وَمَنْ مَعَهُمْ. فَقَالَ حَمَلُ بْنُ النَّابِغَةِ الْهُذَلِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ يَغْرَمُ مَنْ لَا شَرِبَ، وَلَا أَكَلَ، وَلَا نَطَقَ، وَلَا اسْتَهَلَّ، فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((إِنَّمَا هَذَا مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ)) ; مِنْ أَجْلِ سَجْعِهِ الَّذِي سَجَعَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَأَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ: مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ; أَنَّ عُمَرَ - رضي الله عنه - سَأَلَ مَنْ شَهِدَ قَضَاءَ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - فِي الْجَنِينِ؟ قَالَ: فَقَامَ حَمَلُ بْنُ النَّابِغَةِ، فَقَالَ: كُنْتُ بَيْنَ امْرَأَتَيْنِ، فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى ... فَذَكَرَهُ مُخْتَصَرًا. وَصَحَّحَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَالْحَاكِمُ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہُذَیل قبیلے کی دو عورتیں آپس میں لڑ پڑیں تو ایک نے دوسری کو پتھر دے مارا اور اس عورت کو اور جو اس کے پیٹ میں (حمل) تھا ‘ اسے قتل کر ڈالا۔ تو وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھگڑالائے‘ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایاکہ جنین کی دیت غرّہ‘ یعنی ایک غلام یا لونڈی ہے۔ اور (قاتلہ) عورت کی (طرف سے) دیت اس کے ورثاء کے ذمے قرار دی۔ اور اس (دیت) کا وارث مقتولہ کی اولاد اور ان کے ساتھ دیگر وارث بننے والوں کو ٹھہرایا۔ حمل بن نابغہ ہذلی نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ہم ایسے بچے کا تاوان کیسے دیں جس نے نہ پیا‘ نہ کھایا‘ نہ وہ بولا اور نہ چیخا؟ ایسا تو رائیگاں جائے گا۔ آپ نے فرمایا: ’’یہ اس قافیہ دار کلام کی وجہ سے‘ جو اس نے کہا ہے‘ یہ کاہنوں کے بھائیوں میں سے لگتا ہے۔‘‘ (بخاری و مسلم) اسے ابوداود اور نسائی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث سے بیان کیا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: جنین کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے موقع پر کون حاضر تھا؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ حمل بن نابغہ کھڑا ہوا اور اس نے بیان کیا کہ میں دو عورتوں کے درمیان تھا کہ ایک نے دوسری کو مارا۔ (انھوں نے اسے اختصار سے بیان کیا ہے اور ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔)

1003

Bulugh al-Maram #1003

Sahih

وَعَنْ أَنَسٍ - رضي الله عنه: أَنَّ الرُّبَيِّعَ بِنْتَ النَّضْرِ - عَمَّتَهُ - كَسَرَتْ ثَنِيَّةَ جَارِيَةٍ، فَطَلَبُوا إِلَيْهَا الْعَفْوَ، فَأَبَوْا، فَعَرَضُوا الْأَرْشَ، فَأَبَوْا، فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - وَأَبَوْا إِلَّا الْقِصَاصَ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - بِالْقِصَاصِ، فَقَالَ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَتُكْسَرُ ثَنِيَّةُ الرُّبَيِّعِ؟ لَا، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، لَا تُكْسَرُ ثَنِيَّتُهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((يَا أَنَسُ! كِتَابُ اللَّهِ: الْقِصَاصُ)). فَرَضِيَ الْقَوْمُ، فَعَفَوْا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ)). مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ، وَاللَّفْظُ لِلْبُخَارِيِّ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی پھوپھی رُبَیِّع بنت نضر نے ایک لڑکی کا سامنے والا دانت توڑ دیا۔ رُبَیِّع کے رشتہ داروں نے اس سے معافی طلب کی تو لڑکی والوں نے انکار کر دیا۔ پھر انھوں نے دیت دینے کی پیش کش کی تو اسے بھی انھوں نے رد کر دیا‘ چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور قصاص کے سوا کسی بھی چیز کو لینے سے انکار کر دیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاص کا حکم فرما دیا۔ یہ سن کر حضرت انس بن نضر نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا رُبَیِّعکا دانت توڑا جائے گا؟ نہیں‘ اس ذات اقدس کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر مبعوث فرمایا ہے! اس کا دانت نہیں توڑا جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے انس! اللہ کا فیصلہ تو قصاص ہی ہے۔‘‘ اتنے میں وہ لوگ رضامند ہوگئے اور انھوں نے معافی دے دی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ کے کچھ بندے ایسے بھی ہیں کہ اگر وہ اللہ کی قسم کھا لیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم کو پورا فرما دیتا ہے۔‘‘ (بخاری و مسلم۔ اور یہ الفاظ بخاری کے ہیں۔)

1004

Bulugh al-Maram #1004

Sahih

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((مَنْ قُتِلَ فِي عِمِّيَّا أَوْ رِمِّيَّا بِحَجَرٍ، أَوْ سَوْطٍ، أَوْ عَصًا، فَعَلَيْهِ عَقْلُ الْخَطَإِ، وَمِنْ قُتِلَ عَمْدًا فَهُوَ قَوَدٌ، وَمَنْ حَالَ دُونَهُ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ)). أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ، بِإِسْنَادٍ قَوِيٍّ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص کسی بلوے میں مارا گیا ہو (کہ اس کے قاتل کے بارے میں پتہ نہ چلے) یا پتھر‘ کوڑے یا لاٹھی سے اس طرح مارا گیا ہو کہ مارنے والے کا علم نہ ہو تو اس کی دیت‘ قتل خطا کی دیت ہوگی۔ اور جو شخص عمداً قتل کیا جائے گا تو اس کا قصاص ہے۔ جو شخص قصاص لینے میں حائل ہوا تو اس پر اللہ کی لعنت ہے۔‘‘ (اس حدیث کو ابوداود‘نسائی اور ابن ماجہ نے قوی سند سے روایت کیا ہے۔)

1005

Bulugh al-Maram #1005

Da'if

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: ((إِذَا أَمْسَكَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ، وَقَتَلَهُ الْآخَرُ، يُقْتَلُ الَّذِي قَتَلَ، وَيُحْبَسُ الَّذِي أَمْسَكَ)). رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيُّ مَوْصُولًا وَمُرْسَلًا، وَصَحَّحَهُ ابْنُ الْقَطَّانِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، إِلَّا أَنَّ الْبَيْهَقِيَّ رَجَّحَ الْمُرْسَلَ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب ایک آدمی کسی آدمی کو پکڑے رکھے اور کوئی دوسرا پکڑے ہوئے آدمی کو قتل کر ڈالے تو قاتل کو قتل کیا جائے گا اور پکڑنے والے کو قید کیا جائے گا۔‘‘(اسے دارقطنی نے موصولاً اور مرسلا ً روایت کیا ہے اور ابن قطان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ اس کے راوی ثقہ ہیں مگر بیہقی نے اس کے مرسل ہونے کو ترجیح دی ہے۔)

1006

Bulugh al-Maram #1006

Da'if

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ; أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - قَتَلَ مُسْلِمًا بِمَعَاهِدٍ. وَقَالَ: ((أَنَا أَوْلَى مَنْ وَفَى بِذِمَّتِهِ)). أَخْرَجَهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ هَكَذَا مُرْسَلًا. وَوَصَلَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ، بِذِكْرِ اِبْنِ عُمَرَ فِيهِ، وَإِسْنَادُ الْمَوْصُولِ وَاهٍ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن بیلمانی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک معاہد (ذمی) کے بدلے میں ایک مسلمان کو قتل کیا اور فرمایا: ’’میں اس شخص کے زیادہ قریب ہوں جو اپنے عہد کو پورا کرتا ہے۔‘‘ (اسے عبدالرزاق نے اسی طرح مرسل روایت کیا ہے اور دارقطنی نے اس میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کا ذکر کرکے اسے موصول بیان کیا ہے لیکن موصول کی سند کمزور ہے۔)

1007

Bulugh al-Maram #1007

Sahih

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قُتِلَ غُلَامٌ غِيلَةً، فَقَالَ عُمَرُ: ((لَوِ اشْتَرَكَ فِيهِ أَهْلُ صَنْعَاءَ لَقَتَلْتُهُمْ بِهِ)). أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک غلام دھوکے سے قتل کر دیا گیا تو (اس پر) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر اس کے قتل میں سارے اہل صنعاء شریک ہوتے تو میں اس کے بدلے میں ان سب کو قتل کر ڈالتا۔ (اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔)

1008

Bulugh al-Maram #1008

Sahih

وَعَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((فَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ بَعْدَ مَقَالَتِي هَذِهِ، فَأَهْلُهُ بَيْنَ خِيَرَتَيْنِ: إِمَّا أَنْ يَأْخُذُوا الْعَقْلِ أَوْ يَقْتُلُوا)). أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ. وَأَصْلُهُ فِي ((الصَّحِيحَيْنِ)) مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ بِمَعْنَاهُ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوشریح خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میرے اس خطبے کے بعد اگر کسی کا کوئی آدمی مارا جائے تو اس کے ورثاء کو دو اختیار ہیں: یا تو دیت لے لیں یا قاتل کو مقتول کے بدلے میں قتل کر دیں۔‘‘ (اسے ابوداود اور نسائی نے روایت کیا ہے اور اس روایت کی اصل صحیحین میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم میں مروی ہے۔)