Muslim99Muslim99

Bulugh al-Maram · Book 7 · Chapter 17

Business Transactions

بَابُ الْهِبَةِ وَالْعُمْرَى وَالرُقبَي

11 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

788

Bulugh al-Maram #788

Sahih

عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ أَبَاهُ أَتَى بِهِ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - فَقَالَ: إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلَامًا كَانَ لِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((أَكُلُّ وَلَدِكَ نَحَلْتَهُ مِثْلَ هَذَا؟)). فَقَالَ: لَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((فَارْجِعْهُ)). وَفِي لَفْظٍ: فَانْطَلَقَ أَبِي إِلَى النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - لِيُشْهِدَهُ عَلَى صَدَقَتِي. فَقَالَ: ((أَفَعَلْتَ هَذَا بِوَلَدِكَ كُلِّهِمْ؟)). قَالَ: لَا. قَالَ: ((اتَّقُوا اللَّهَ، وَاعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ)). فَرَجَعَ أَبِي، فَرَدَّ تِلْكَ الصَّدَقَةَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ قَالَ: ((فَأَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي)) ثُمَّ قَالَ: ((أَيَسُرُّكَ أَنْ يَكُونُوا لَكَ فِي الْبِرِّ سَوَاءً؟)) قَالَ: بَلَى. قَالَ: ((فَلَا إِذًا)).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کے والد (بشیر) انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ میں نے اپنا ذاتی غلام اپنے اس بیٹے کو ہبہ کر دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا تو نے اپنی ساری اولاد کو اس طرح ہبہ کیا ہے؟‘‘ انھوں نے کہا: نہیں! چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تو پھر اسے واپس کر لو۔‘‘ اور ایک روایت کے الفاظ ہیں: میرے والد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ میرے صدقہ (ہبہ) پر آپ کو گواہ بنائیں۔ آپ نے فرمایا: ’’کیا تو نے اپنی ساری اولاد کے ساتھ ایسا کیا ہے؟‘‘ انھوں نے جواب دیا: نہیں! آپ نے فرمایا: ’’اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان عدل و انصاف کرو۔‘‘ چنانچہ میرے والد واپس آئے اور انھوں نے وہ صدقہ (ہبہ) واپس لے لیا۔ (بخاری و مسلم) اور مسلم کی ایک روایت میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تو پھر میرے سوا اس پر کسی اور کو گواہ بنا لو۔‘‘ پھر فرمایا: ’’کیا تجھے یہ پسند ہے کہ تیری ساری اولاد تیرے ساتھ یکساں بھلائی کا سلوک کرے؟‘‘ انھوں نے کہا: کیوں نہیں! آپ نے فرمایا: ’’پھر تو ایسا مت کر۔‘‘

789

Bulugh al-Maram #789

Sahih

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ - صلى الله عليه وسلم: ((الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَقِيءُ، ثُمَّ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ)). مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ: ((لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السَّوْءِ، الَّذِي يَعُودُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَرْجِعُ فِي قَيْئِهِ)).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہبہ کر کے اسے واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کرتا ہے اور پھر خود اپنی قے چاٹ لیتا ہے۔‘‘ (بخاری و مسلم) اور بخاری کی ایک روایت میں ہے: ’’بری مثال ہمارے شایان شان نہیں‘ جو شخص ہبہ کر کے واپس لیتا ہے وہ اس کتے کی مانند ہے جو قے کرتا ہے اور پھر خود ہی اسے چاٹ لیتا ہے۔‘‘

790

Bulugh al-Maram #790

Sahih

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ-، عَنِ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: ((لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ مُسْلِمٍ أَنْ يُعْطِيَ الْعَطِيَّةَ، ثُمَّ يَرْجِعَ فِيهَا; إِلَّا الْوَالِدُ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهُ)). رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْأَرْبَعَةُ، وَصَحَّحَهُ التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ حِبَّانَ، وَالْحَاكِمُ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عمر اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی ہے‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کسی مسلمان مرد کے لیے جائز نہیں ہے کہ عطیہ دے کر واپس لے لے‘ سوائے والد کے جو وہ اپنی اولاد کو دیتا ہے۔ (اسے وہ واپس لے سکتا ہے)۔‘‘ (اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے اور ترمذی‘ ابن حبان اور حاکم نے صحیح قرار دیا ہے۔)

791

Bulugh al-Maram #791

Sahih

وَعَنْ عَائِشَةَ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا- قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يَقْبَلُ الْهَدِيَّةَ، وَيُثِيبُ عَلَيْهَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے‘ وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ و تحفہ قبول فرما لیتے تھے اور اس کے بدلے میں کچھ عنایت بھی فرمایا کرتے تھے۔ (اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔)

792

Bulugh al-Maram #792

Sahih

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا- قَالَ: وَهَبَ رَجُلٌ لِرَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - نَاقَةً، فَأَثَابَهُ عَلَيْهَا، فَقَالَ: ((رَضِيتَ؟)) قَالَ: لَا. فَزَادَهُ، فَقَالَ: ((رَضِيتَ؟)) قَالَ: لَا. فَزَادَهُ. قَالَ: ((رَضِيتَ؟)) قَالَ: نَعَمْ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَصَحَّحَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے‘ وہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اونٹنی ہبہ کی۔ آپ نے اس کے بدلے میں اسے کچھ ہدیہ دیا اور فرمایا: ’’کیا تو راضی ہے؟‘‘ اس نے کہا: نہیں! پھر مزید کچھ مرحمت فرما کر پوچھا: ’’اب تو خوش ہے؟‘‘ اس نے پھر یہی کہا کہ نہیں۔ پھر آپ نے اسے مزید براں دے کر دریافت فرمایا: ’’اب تو راضی ہے؟‘‘ وہ بولا ہاں! (اسے احمد نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے۔)

793

Bulugh al-Maram #793

Sahih

وَعَنْ جَابِرٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((الْعُمْرَى لِمَنْ وُهِبَتْ لَهُ)). مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَلِمُسْلِمٍ: ((أَمْسِكُوا عَلَيْكُمْ أَمْوَالَكُمْ وَلَا تُفْسِدُوهَا، فَإِنَّهُ مَنْ أَعْمَرَ عُمْرَى فَهِيَ لِلَّذِي أُعْمِرَهَا حَيًا وَمَيِّتًا، وَلِعَقِبِهِ)). وَفِي لَفْظٍ: ((إِنَّمَا الْعُمْرَى الَّتِي أَجَازَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - أَنْ يَقُولَ: هِيَ لَكَ وَلِعَقِبِكَ، فَأَمَّا إِذَا قَالَ: هِيَ لَكَ مَا عِشْتَ، فَإِنَّهَا تَرْجِعُ إِلَى صَاحِبِهَا)). وَلِأَبِي دَاوُدَ وَالنَّسَائِيِّ: ((لَا تُرْقِبُوا، وَلَا تُعْمِرُوا، فَمَنْ أُرْقِبَ شَيْئًا أَوْ أُعْمِرَ شَيْئًا فَهُوَ لِوَرَثَتِهِ)).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’عمریٰ اسی کا ہے جسے ہبہ کیا گیا ہے۔‘‘ (بخاری و مسلم) اور مسلم کی روایت میں ہے: ’’تم اپنے اموال کو اپنے پاس محفوظ رکھو۔ انھیں ضائع نہ کرو کیونکہ جس شخص نے کسی کو عمریٰ دیا تو وہ عمریٰ اسی کا ہے جسے وہ دیا گیا ہے‘ زندگی میں اور موت کے بعد بھی‘ اور اس کی وفات کے بعد اس کی اولاد کے لیے ہے۔‘‘ایک اور روایت کے الفاظ ہیں: جس عمریٰ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جائز قرار دیا ہے وہ یہ ہے کہ عمریٰ دینے والا یہ کہے: یہ تیرے لیے ہے اور تیرے بعد تیری اولاد کے لیے ہے۔ لیکن جب یہ کہے کہ جب تک تو زندہ ہے اس وقت تک تیرے لیے ہے‘ تو وہ (عمریٰ) اپنے دینے والے کی طرف پلٹ جائے گا۔ ابوداود اور نسائی کی روایت میں ہے: ’’تم رقبیٰ اور عمریٰ کے انداز میں ہدیہ مت دو۔ چنانچہ جو شخص کوئی رقبیٰ دیا گیا یا عمریٰ دیا گیا تو وہ اس کے ورثاء کے لیے ہے۔‘‘

794

Bulugh al-Maram #794

Sahih

وَعَنْ عُمَرَ - رضي الله عنه - قَالَ: حَمَلْتُ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَأَضَاعَهُ صَاحِبُهُ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ بَائِعُهُ بِرُخْصٍ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - عَنْ ذَلِكَ. فَقَالَ: ((لَا تَبْتَعْهُ، وَإِنْ أَعْطَاكَهُ بِدِرْهَمٍ …)) الْحَدِيثَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے ایک آدمی کو اللہ کے راستے میں ایک گھوڑا سواری کے لیے دیا۔ اس نے اسے ناکارہ کر دیا۔ میں نے خیال کیا کہ وہ اسے سستے داموں بیچنے والا ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں دریافت کیا (کیا میں اسے خرید سکتا ہوں؟) تو آپ نے فرمایا: ’’وہ تمھیں اگر یہ (گھوڑا) ایک درہم کے عوض بھی دے‘ تب بھی نہ خریدو۔‘‘ (راوی نے) مکمل حدیث بیان کی۔ (بخاری و مسلم)

795

Bulugh al-Maram #795

Hasan

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - عَنِ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: ((تَهَادُوْا تَحَابُّوا)). رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي ((الأَدَبِ الْمُفْرَدِ)) وَأَبُو يَعْلَى بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ایک دوسرے کو ہدیہ دیا کرو اس سے باہمی محبت پیدا ہوتی ہے۔‘‘ (اسے بخاری نے ’’الادب المفرد ‘‘میں روایت کیا ہے اور ابویعلیٰ نے حسن سند سے نقل کیاہے۔)

796

Bulugh al-Maram #796

Da'if

وَعَنْ أَنَسٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((تَهَادَوْا، فَإِنَّ الْهَدِيَّةَ تَسُلُّ السَّخِيمَةَ)). رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تحفے تحائف کا باہمی تبادلہ کیا کرو کیونکہ ہدیہ بغض و کینے کو کھینچ نکالتا ہے۔‘‘ (اسے بزار نے ضعیف سند سے روایت کیا ہے۔)

797

Bulugh al-Maram #797

Sahih

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((يَا نِسَاءَ الْمُسْلِمَاتِ! لَا تَحْقِرَنَّ جَارَةٌ لِجَارَتِهَا وَلَوْ فِرْسِنَ شَاةٍ)). مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے مسلمان عورتو! کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن (کے لیے ہدیہ بھیجنے) کو ہرگز حقیر نہ سمجھے‘ خواہ وہ (ہدیہ) بکری کا کھر ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ (بخاری و مسلم)

798

Bulugh al-Maram #798

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا-، عَنْ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: ((مَنْ وَهَبَ هِبَةً، فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا، مَا لَمْ يُثَبْ عَلَيْهَا)). رَوَاهُ الْحَاكِمُ وَصَحَّحَهُ، وَالْمَحْفُوظُ مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ قَوْلُهُ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص کوئی چیز ہبہ کرے وہی اس کا زیادہ حقدار ہے جب تک کہ اس کا بدلہ نہ دیا جائے۔‘‘ (اسے حاکم نے روایت کیا ہے اور اسے صحیح قرار دیا ہے اور صحیح یہ ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔)