Muslim99Muslim99

Bulugh al-Maram · Book 7 · Chapter 16

Business Transactions

بَابُ الْوَقْفِ

3 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

785

Bulugh al-Maram #785

Sahih

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: ((إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ: صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالَحٍ يَدْعُو لَهُ)). رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب انسان وفات پا جاتا ہے تو تین اعمال کے سوا اس کے سارے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں‘ (اور وہ یہ ہیں:) صدقہ جاریہ‘ یا ایسا علم جس سے فائدہ اٹھایا جاتا رہے‘ یا صالح اولاد جو اس (مرنے والے) کے لیے دعا کرتی رہے۔‘‘ (اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔)

786

Bulugh al-Maram #786

Sahih

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: أَصَابَ عُمَرُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ، فَأَتَى النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - يَسْتَأْمِرُهُ فِيهَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَصَبْتُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ لَمْ أُصِبْ مَالًا قَطُّ هُوَ أَنْفَسُ عِنْدِي مِنْهُ قَالَ: ((إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا، وَتَصَدَّقْتَ بِهَا)). قَالَ: فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ، [غَيْرَ] أَنَّهُ لَا يُبَاعُ أَصْلُهَا، وَلَا يُورَثُ، وَلَا يُوهَبُ، فَتَصَدَّقَ بِهَا فِي الْفُقَرَاءِ، وَفِي الْقُرْبَى، وَفِي الرِّقَابِ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَابْنِ السَّبِيلِ، وَالضَّيْفِ، لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوفِ، وَيُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ مَالًا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ، وَاللَّفْظُ لِمُسْلِمٍ. وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ: تَصَدَّقْ بِأَصْلِهِ، لَا يُبَاعُ وَلَا يُوهَبُ، وَلَكِنْ يُنْفَقُ ثَمَرُهُ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ (میرے باپ) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں کچھ زمین ملی تھی‘ چنانچہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مشورہ طلب کرنے کے لیے حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے خیبر میں کچھ زمین حاصل ہوئی ہے۔ وہ ایسی نفیس و قیمتی ہے کہ اس سے پہلے کبھی بھی ایسی زمین مجھے نہیں ملی۔ (میں اسے صدقہ کرنا چاہتا ہوں۔ آپ کا کیا ارشاد ہے؟) آپ نے فرمایا: ’’اگر چاہو تو اس کے اصل (رقبے) کو وقف کر دو اور اس کے پھل وغیرہ کو صدقہ کر دو۔‘‘ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وہ زمین اس شرط پر صدقہ کر دی کہ اس کا اصل (رقبہ) فروخت کیا جائے گا‘ نہ میراث میں دیا جائے گا اور نہ ہبہ کیا جائے گا‘ بلکہ اسے فقیروں‘ قرابت داروں‘ غلاموں کو آزاد کرنے‘ راہ الٰہی‘ راہ چلتے مسافروں اور مہمانوں (کی مہمان نوازی) کے لیے صدقہ کر دیا۔ (اور یہ وصیت بھی کر دی کہ) اس کا منتظم و نگہبان معروف طریقے کے مطابق خود بھی کھا سکتا ہے اور احباب و رفقاء کو بھی کھلا سکتا ہے۔ مگر مال کو ذخیرہ بنا کر نہ رکھے۔ (بخاری و مسلم‘ یہ الفاظ مسلم کے ہیں۔) اور بخاری کی ایک روایت میں ہے: اس کے اصل کو صدقہ (وقف) کر دیا جو نہ فروخت کیا جائے گا اور نہ ہبہ کیا جائے گا لیکن اس کی پیداوار‘ راہ الٰہی میں خرچ کی جائے گی۔

787

Bulugh al-Maram #787

Sahih

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - عُمَرَ عَلَى الصَّدَقَةِ ... الْحَدِيثَ، وَفِيهِ: وَأَمَّا خَالِدٌ فَقَدِ احْتَبَسَ أَدْرَاعَهُ وَأَعْتَادَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو صدقات کی وصولی کے لیے بھیجا۔ (راوی نے) مکمل حدیث بیان کی اور اس میں ہے: (آپ نے فرمایا:) ’’رہا خالد ( رضی اللہ عنہ ) تو اس نے اپنی زرہیں اور سامان جنگ‘ سب کچھ اللہ کے راستے میں وقف کر دیا ہے۔‘‘ (بخاری و مسلم)